افسانہ ۔۔۔بابا جنڈ پیر۔۔۔افسانہ نگار: لہر نیازی
داراں مائی گاؤں والوں سے چھپتی چھپاتی چادر کے نیچے بغل میں گٹھڑی دبائے موسی خیل کے پہاڑی سلسلے میں پگڈنڈی پر چلی آ رہی تھی۔ گاؤں سے کچھ فاصلے پر پہاڑی ککری اور جنڈ کی جھاڑیوں کا جنگل تھا۔ سورج کی پہلی کرن پہاڑی سلسلے سے ٹکراتی ہوئی زمین پر پڑنے لگی۔ پہاڑی لومڑیاں ایک ٹیلے سے نکل کر دوسرے ٹیلے کی اوٹ میں چھپتی دکھائی دیں۔ داراں مائی ان پہاڑی جانوروں سے خوب واقف تھی۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی داراں مائی ایک گھنے جنڈ کے نیچے اپنی گٹھڑی رکھتی ہے اور پہلے سے پڑی گٹھڑی اٹھاتے ہوئے اسے کھول کر دیکھتی ہے تو برتنوں میں کچھ رقم پر نظر پڑتی ہے۔ داراں مائی جلدی جلدی گھٹڑی لپیٹ کر وہاں سے نکل آتی ہے۔ گاؤں کی داخلی مسجد سے کچھ نمازی مسجد میں تسبیح پڑھ کر ابھی نکل رہے ہوتے ہیں۔ وہ نمازی داراں مائی کو واپس آتا دیکھتے ہیں۔ وہ داراں مائی کا روز کا معمول دیکھ کر تجسس میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ بات پاس پڑوس کی عورتوں کے کانوں میں پڑتی ہے تو کچھ بے باک عورتوں نے اگلی صبح واپسی پر داراں مائی کو روک کر پوچھ ہی لیا، “مائی یہ صبح صبح کہاں سے لوٹ رہی ہو؟” داراں مائی نے اپنے راز پر پردہ ڈالنے کے لئے یونہی کہا، “موسی خیل کی پہاڑیوں میں جنڈ کے نیچے ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی قبر پر جا کر اپنے بیٹے شیرو کے لیے دعا مانگتی ہوں۔ تبھی تو میرا شیرو دشمنوں کے وار سے محفوظ ہے۔” عورتیں داراں مائی کی بات سن کر حیران ہوگئیں۔ ان عورتوں کی حیرانی میں افسوس بھی تھا۔ ایک ادھیڑ عمر عورت بولی، “ہائے ربا! اللہ کے ولی ہمارے گاؤں میں آ کر گزر بھی گئے اور ہمیں علم ہی نہ ہوا۔” ابھی داراں مائی کچھ اور کہتی اتنے میں ایک اور عورت جھٹ سے بولی، “میں بھی اپنے بچے کو اس ڈھیری پر سے چکر لگوا لاؤں گی۔ میرا بیٹا بیمار جو رہتا ہے۔” اس صبح داراں مائی نے گاؤں کی عورتوں میں ایسی بات پھیلا دی جو جنگل کی آگ کی طرح سارے گاؤں میں پھیل گئی۔ داراں مائی نے ان سب عورتوں کو ہر جمعرات والے دن سہ پہر کو جانے پر پابند کردیا تاکہ اس کا اپنا راز کسی پر نہ کھل سکے۔ وقت گزرتا رہا۔ ایک دن کسی کی مخبری پر داراں مائی کا اشتہاری بیٹا شیرو پولیس کی ناکہ بندی پر پکڑا گیا۔ جس کا علم داراں مائی کو چند دنوں بعد ہوا۔ مگر داراں مائی کو اس بات پر یقین نہ آیا۔ وہ حسبِ معمول اپنی گٹھڑی جس میں اصلی گھی کی چوری ہوتی تھی وہ رکھتی رہی۔ اور واپسی پر خالی گٹھڑی میں کچھ رقم اٹھا کر لاتی رہی۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا شیرو اشتہاری ابھی آزاد ہے۔ مگر گاؤں والوں کو علم تھا کہ شیرو اشتہاری پکڑا جا چکا ہے۔ شیرو کی گرفتاری کے بعد اس کا ایک ساتھی اس جنڈ کے نیچے سے وہ گٹھڑی حسب معمول اٹھاتا رہا۔ ادھر گاؤں کی عورتیں بڑی عقیدت سے ہر جمعرات باقاعدگی سے جنڈ پیر کی ڈھیری کا چکر کاٹتی رہیں اور اپنی مرادیں پاتی رہیں۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن شیرو گواہوں کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رہا ہوگیا۔ مگر اپنے دشمنوں کے ڈر سے اپنے گھر نہ آیا۔ دشمنوں کو اس کے پہاڑی ٹھکانے کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس پر شب خون مارا مگر شیرو بچ نکلا۔ اب کے بھی وہی ساتھی اس جنڈ کا چکر منہ اندھیرے لگاتا رہا۔ گاؤں میں مشہور ہوگیا کہ جنڈ پیر کی کرامت سے شیرو پولیس کے شکنجے سے بچ نکلا ہے۔ کچھ عورتوں نے جنڈ پیر کے قریب جھاڑیوں پر رنگ برنگے کپڑے بطور منت باندھ دیئے۔ گاؤں کی بانجھ عورتوں نے چھوٹے چھوٹے پنگھوڑے اس جنڈ کی شاخوں میں لٹکا دیئے۔ کچھ عرصہ بعد عقیدت مندوں نے جنڈ پیر کی ڈھیری پر باقاعدہ قبر بنا کر مدینے سے لائی گئی سبز چادر چڑھا دی۔ اس چادر پر کڑھائی کی گئی آیات قرآنی کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور روح کو تسکین ملنے لگی۔ اب کچھ گاؤں والوں نے اس مزار اقدس پر باقاعدگی سے پرندوں کے لئے دانا بکھیرنے کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہر جمعرات اس ویرانے میں جنگل میں منگل کا سماں بندھ گیا۔ عاشق نامراد بھی اب اس مزار سے لو لگا بیٹھے۔ کئی دل جلے ہر جمعرات یہاں آکر آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل بے قرار کا اہتمام کرنے لگے۔ الغرض عاشقوں کی ملاقاتوں کا یہاں پر سلسلہ بھی چل نکلا۔ وقت گزرتا رہا۔ وقت کی چکی گردش میں رہی اور ایک دن داراں مائی نے بھی آخری سانسیں لے لیں۔ ایک رات تنہائی میں اپنے گھر
داراں مائی فوت ہو گئی۔ شیرو اشتہاری بالآخر اپنے دشمنوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اسے جنڈ پیر کے تھلے سے دشمنوں نے دبوچ لیا۔ اور اسے بے دردی سے مار کر اپنے رشتہ دار کے قتل کا بدلہ لے لیا۔ اس دنیا میں نہ داراں مائی رہی اور نہ ہی اس کا بیٹا شیرو۔ مگر داراں مائی کے جنڈ والے پیر کے تھلے پر خوب رونق جمی رہی جو آج تک برقرار ہے۔
افسانہ نگار: لہر نیازی
