سلاگر کی رات — وسیب، انسان اور زندگی کی کہانی
کتاب:سلاگر کی رات
صنف: افسانے
مصنف: لہرؔ نیازی
ناشر: سرکار پبلشرز، ملتان
لہرؔ نیازی بنیادی طور پر تعلیم سے وابستہ شخصیت اور انگریزی کے شاعر ہیں، مگر سلاگر کی رات ان کی تخلیقی صلاحیت کا ایک نیا اور اہم پہلو سامنے لاتی ہے۔ یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جس میں میانوالی کے وسیب، اس کے لوگوں، رشتوں، محرومیوں، خواہشوں اور روزمرہ زندگی سے اخذ کیے گئے تجربات کو افسانوی قالب دیا گیا ہے۔
اس مجموعے کی اصل قوت اس کا زندہ مشاہدہ ہے۔ لہرؔ نیازی نے کردار گھڑے نہیں بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی زندگی سے اٹھایا ہے؛ اسی لیے ان کے افسانوں کے کردار اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ وہ ہمارے گھروں، گلیوں، بازاروں اور معاشرتی رویوں میں سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
“جوتے”، “قسمت کا پتھر”، “جیون ساتھی”، “ہوا کی مجبور بیٹی”، “ناخلف”، “اماں ابا کا کمرہ”، “آدھی عورت”، “احساس”، “المیہ”، “پیار جو بیت گیا”، “گھاٹے کا سودا”، “چراغ بجھ گئے”، “ریڑھی والا” اور “سلاگر کی رات” جیسے افسانوں کے عنوانات ہی اس کتاب کے وسیع موضوعاتی دائرے کی خبر دیتے ہیں۔ کہیں رشتوں کی کسک ہے، کہیں معاشرتی ناانصافی، کہیں محرومی کا دکھ، کہیں انسانی کمزوری اور کہیں وقت کے ہاتھوں بدلتی زندگی۔
مصنف کے اپنے الفاظ میں، انہوں نے شاعری سے پہلے کہانی لکھی اور اپنے مشاہدات و تصورات کو افسانے کا روپ دینے کا خیال ہمیشہ ان کے اندر موجود رہا۔ 2026ء کو افسانے اور ناول کا سال قرار دے کر انہوں نے اس تخلیقی سفر کو باقاعدہ سمت دی۔ یہ مجموعہ اسی فیصلے کا پہلا نمایاں ثمر ہے۔
سلاگر کی رات کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ ایک نئے افسانہ نگار کی کتاب ہے؛ اس کی اہمیت یہ ہے کہ ایک استاد اور شاعر نے اپنے مشاہدے کو نثر میں منتقل کرتے ہوئے اپنے وسیب کے عام انسان کو ادبی مرکز بنا دیا ہے۔ یہاں مقامی زندگی محض پس منظر نہیں بلکہ خود کہانی کا ایک زندہ کردار بن جاتی ہے۔
یہ کتاب قاری کو صرف کہانیاں نہیں سناتی؛ اسے اپنے معاشرے کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ بعض افسانے شاید ختم ہو جائیں، مگر ان کے کردار اور سوال ذہن میں باقی رہتے ہیں۔
اگر آپ اردو افسانے میں مصنوعی پیچیدگی کے بجائے زندگی سے نکلے ہوئے کردار، انسانی جذبات اور ہمارے اپنے معاشرے کی سچی تصویریں پڑھنا چاہتے ہیں تو سلاگر کی رات آپ کے مطالعے کی فہرست میں ضرور ہونی چاہیے۔ کتاب اٹھانے کے بعد اصل سوال یہ نہیں رہے گا کہ اسے پڑھنا ہے یا نہیں—بلکہ یہ ہوگا کہ اگلا افسانہ کون سا ہے۔
مجموعی رائے — ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ
ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ کے نزدیک سلاگر کی رات محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ میانوالی کے وسیب کی معاشرتی زندگی، انسانی نفسیات اور بدلتے ہوئے رشتوں کی ایک ادبی دستاویز ہے۔ لہرؔ نیازی نے اپنے مشاہدے کو تخلیقی قوت کے ساتھ برتا ہے اور مقامی کرداروں و تجربات کو ایسی انسانی معنویت دی ہے جو وسیب کی حدود سے نکل کر ہر حساس قاری سے مکالمہ کرتی ہے۔ یہ کتاب لہرؔ نیازی کے ادبی سفر میں ایک قابلِ ذکر اضافہ اور اردو افسانے میں سنجیدہ مطالعے کی مستحق کاوش ہے۔
جدید اردو ادب اور افسانہ نگاری کا ایک شاہکار!
کتاب: سلاگر کی رات (افسانے)
مصنف: لہر نیازی
ناشر: سرکار پبلشرز، ملتان
کتاب کے بارے میں: “سلاگر کی رات” انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کی ایک خوبصورت اور مؤثر عکاسی ہے۔ لہر نیازی صاحب نے اپنے منفرد اسلوبِ بیان اور گہرے مشاہدے سے ایسے افسانے تخلیق کیے ہیں جو قاری کو اول سے آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتے ہیں۔
مصنف کا مختصر تعارف: لہر نیازی اردو ادب کی دنیا میں ایک نمایاں نام ہیں۔ ان کی تحریروں میں مٹی کی سوندھی خوشبو، انسانی احساسات کی گہرائی اور معاشرتی مسائل کی جاندار عکاسی ملتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر ہے جو ہر سطح کے قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔
تبصرہ:
“کتاب کا ہر افسانہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑتا ہے اور کتاب ختم ہونے کے بعد بھی ایک گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ فکشن کے شائقین کے لیے یہ مجموعہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اور نہایت دلکش اضافہ ہے۔” — صاحبزادہ روفی سرکار، ملتان
ابھی آرڈر کریں:
رابطہ نمبر / واٹس ایپ: +92 300 4228864
ای میل: sarkarpublishers@gmail.com
سرکار پبلشرز، ملتان، پاکستان
THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
