Salagar Ki Raat (Afsane)

سلاگر کی رات — وسیب، انسان اور زندگی کی کہانی

کتاب:سلاگر کی رات
صنف: افسانے
مصنف: لہرؔ نیازی
ناشر: سرکار پبلشرز، ملتان

لہرؔ نیازی بنیادی طور پر تعلیم سے وابستہ شخصیت اور انگریزی کے شاعر ہیں، مگر سلاگر کی رات ان کی تخلیقی صلاحیت کا ایک نیا اور اہم پہلو سامنے لاتی ہے۔ یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جس میں میانوالی کے وسیب، اس کے لوگوں، رشتوں، محرومیوں، خواہشوں اور روزمرہ زندگی سے اخذ کیے گئے تجربات کو افسانوی قالب دیا گیا ہے۔

اس مجموعے کی اصل قوت اس کا زندہ مشاہدہ ہے۔ لہرؔ نیازی نے کردار گھڑے نہیں بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی زندگی سے اٹھایا ہے؛ اسی لیے ان کے افسانوں کے کردار اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ وہ ہمارے گھروں، گلیوں، بازاروں اور معاشرتی رویوں میں سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

“جوتے”، “قسمت کا پتھر”، “جیون ساتھی”، “ہوا کی مجبور بیٹی”، “ناخلف”، “اماں ابا کا کمرہ”، “آدھی عورت”، “احساس”، “المیہ”، “پیار جو بیت گیا”، “گھاٹے کا سودا”، “چراغ بجھ گئے”، “ریڑھی والا” اور “سلاگر کی رات” جیسے افسانوں کے عنوانات ہی اس کتاب کے وسیع موضوعاتی دائرے کی خبر دیتے ہیں۔ کہیں رشتوں کی کسک ہے، کہیں معاشرتی ناانصافی، کہیں محرومی کا دکھ، کہیں انسانی کمزوری اور کہیں وقت کے ہاتھوں بدلتی زندگی۔

مصنف کے اپنے الفاظ میں، انہوں نے شاعری سے پہلے کہانی لکھی اور اپنے مشاہدات و تصورات کو افسانے کا روپ دینے کا خیال ہمیشہ ان کے اندر موجود رہا۔ 2026ء کو افسانے اور ناول کا سال قرار دے کر انہوں نے اس تخلیقی سفر کو باقاعدہ سمت دی۔ یہ مجموعہ اسی فیصلے کا پہلا نمایاں ثمر ہے۔

سلاگر کی رات کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ ایک نئے افسانہ نگار کی کتاب ہے؛ اس کی اہمیت یہ ہے کہ ایک استاد اور شاعر نے اپنے مشاہدے کو نثر میں منتقل کرتے ہوئے اپنے وسیب کے عام انسان کو ادبی مرکز بنا دیا ہے۔ یہاں مقامی زندگی محض پس منظر نہیں بلکہ خود کہانی کا ایک زندہ کردار بن جاتی ہے۔

یہ کتاب قاری کو صرف کہانیاں نہیں سناتی؛ اسے اپنے معاشرے کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ بعض افسانے شاید ختم ہو جائیں، مگر ان کے کردار اور سوال ذہن میں باقی رہتے ہیں۔

اگر آپ اردو افسانے میں مصنوعی پیچیدگی کے بجائے زندگی سے نکلے ہوئے کردار، انسانی جذبات اور ہمارے اپنے معاشرے کی سچی تصویریں پڑھنا چاہتے ہیں تو سلاگر کی رات آپ کے مطالعے کی فہرست میں ضرور ہونی چاہیے۔ کتاب اٹھانے کے بعد اصل سوال یہ نہیں رہے گا کہ اسے پڑھنا ہے یا نہیں—بلکہ یہ ہوگا کہ اگلا افسانہ کون سا ہے۔

مجموعی رائے — ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ

ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ کے نزدیک سلاگر کی رات محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ میانوالی کے وسیب کی معاشرتی زندگی، انسانی نفسیات اور بدلتے ہوئے رشتوں کی ایک ادبی دستاویز ہے۔ لہرؔ نیازی نے اپنے مشاہدے کو تخلیقی قوت کے ساتھ برتا ہے اور مقامی کرداروں و تجربات کو ایسی انسانی معنویت دی ہے جو وسیب کی حدود سے نکل کر ہر حساس قاری سے مکالمہ کرتی ہے۔ یہ کتاب لہرؔ نیازی کے ادبی سفر میں ایک قابلِ ذکر اضافہ اور اردو افسانے میں سنجیدہ مطالعے کی مستحق کاوش ہے۔

جدید اردو ادب اور افسانہ نگاری کا ایک شاہکار!

 کتاب: سلاگر کی رات (افسانے)

 مصنف: لہر نیازی

 ناشر: سرکار پبلشرز، ملتان

 کتاب کے بارے میں: “سلاگر کی رات” انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کی ایک خوبصورت اور مؤثر عکاسی ہے۔ لہر نیازی صاحب نے اپنے منفرد اسلوبِ بیان اور گہرے مشاہدے سے ایسے افسانے تخلیق کیے ہیں جو قاری کو اول سے آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتے ہیں۔

 مصنف کا مختصر تعارف: لہر نیازی اردو ادب کی دنیا میں ایک نمایاں نام ہیں۔ ان کی تحریروں میں مٹی کی سوندھی خوشبو، انسانی احساسات کی گہرائی اور معاشرتی مسائل کی جاندار عکاسی ملتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر ہے جو ہر سطح کے قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ 

تبصرہ:

“کتاب کا ہر افسانہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑتا ہے اور کتاب ختم ہونے کے بعد بھی ایک گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ فکشن کے شائقین کے لیے یہ مجموعہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اور نہایت دلکش اضافہ ہے۔” — صاحبزادہ روفی سرکار، ملتان

 ابھی آرڈر کریں:

 رابطہ نمبر / واٹس ایپ: +92 300 4228864

 ای میل: sarkarpublishers@gmail.com

 سرکار پبلشرز، ملتان، پاکستان

سلاگر کی رات ..مصنف ۔لہر نیازی
تبصرہ—–حاجی محمد یونس باھی–03060647079

موچھ کی مٹی سے پروان چڑھتا قلم کار گلستان خان جس کا قلمی نام لہر نیازی ہے۔ اپنی دھرتی کی کہانیوں کو افسانے کے روپ میں پیش کرنے کا ید طولی رکھتا ہے۔ اس کا عنقریب ناول ۔۔۔۔
“خان بابا” بھی اسی دھرتی سے نمو پانے کو ہے۔
جس طرح زندگی کے پاؤں میں سفر باندھ دیا جاتا ہے ۔اسی طرح ادب کی زمین پر قلم کی نوک ،لفظوں کی کاٹ ،جذبوں کی آنچ،خیالات کی بلندی،
تحقیق اور پڑتال سے آبیاری کا آغاز ہوتا ہے اور نوخیز گلستان ادب کو سیرابی کے سفر پہ قلمکار لے نکلتا ہے ۔منزل کا تعین کرنا اس میں نا ممکن ہے ۔خزاں رسیدہ زرد موسم میں بسیرا کرنا پڑتا ہے ۔یا پھر سرد موسم کی ٹھٹھرتی شاموں میں نثر کی چادر اوڑھے کسی غزل کا مقطع،حسن خیال کو زنجیر تنہائی میں قید ملتا ہے ۔یا پھر نثری قلم کی زلفوں کی گنجلک میں دم سادھے کنائیے،استعاروں کے ہجوم میں ردیف،قافیے کے پیوند لگانے میں ناکام،بدحواس، بے نور اور بیقرار تڑپتے لرزتے لفظ اور لفظوں کے ٹوٹے ہوئے جملے قلمکار کی ذات بن کر آئینے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ۔سچائی تک رسائی قلم کا پہلا سبق ہے ۔مگر اس تک رسائی پاتے پاتے انسان کی اکثر موت ہو جاتی ہے ۔مگر قلم اور لفظ کبھی نہیں مرتا ۔کتاب زندہ رہتی ہے ۔کہی ہوئی بات کی باز گشت صدیوں سنائی دیتی ہے۔مگر کہنے والا نہیں رہتا اور پڑھنے والا اور سے اور ہوتا چلا جاتا ہے ۔تاریخ کی زندگی کا موجب بھی قلم ،سیاہی،الفاظ اور قرطاس ہوا کرتے ہیں ۔ادب کی امانتوں کا امین ایک ادیب و شاعر ہوا کرتا ہے ۔
حرف شناس آنکھوں کے لئے ذوق کے رنگین آنگن سے معنی کی تابش سے خود کو روشن قندیل کرنا بہت آسان ہے ۔کیونکہ دل کے کشکول میں سکون کی جھنکار کا اعزاز جذب و کیف میں ڈوبے لفظوں یا پیرایہ کو حاصل ہے ۔چھن چھن کی پازیبی صدا یا کنگن کی کلائی سے مل کر صندل سی مہک ہواؤں کے دوش کرنا،ادب کو رنگینی ء جاں کا اذن بخشتا ہے ۔ شوق کی راہداریاں،ہمارے ذوق کی مرہون بھی ہوتی ہیں ۔لکھنے والے اپنے سجادے پہ آسودہ نفس نہیں ہو پاتے ۔کیونکہ انہوں نے محبتوں کے چراغ روشن کر کے رشتوں کو منور کرنا ہوتا ہے ۔قرطاس پہ سیاہی کے نقش و نگار،تزئین و آرائش کے محتاج کہاں ہوتے ہیں ۔جس طرح جناب گلستان خان لہر نیازی نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار “سلاگر کی رات ” میں افسانوں کی سانچے و ڈھانچے میں پیش کر کے معاشرے و سماج کے چہرے سے گھونگھٹ سرکا کر اہل دل واہل ہوش کے دل و سوچ میں ہلچل مچانے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے ۔
آج نگینہ بوٹ ھاؤس مین بازار میانوالی میں،جو کہ میری دوکان بھی، دفتر بھی، سیاسی و ادبی و مذہبی گفتگو کا اکھاڑہ بھی ،مزہبی لوگوں سے معذرت کے ساتھ سٹیج ہے وہاں اپنے ببلو بیٹے کے ہمراہ تشریف لائے اور کالاباغ کی سنگلاخ پہاڑوں کے نام کردہ افسانوں پر مشتعمل” سلاگر کی رات “سرکار پبلشرز ملتان”کے صاحبزادہ روفی سرکار کی برکات کے لبادے میں 144
صفحات اور 23افسانوں پر خوبصورت صفحات پر مشتعمل کتاب دیتے ہوئے کہا کہ باہی صاحب آپ صاحب کتاب بن چکے ہیں ۔۔یہ بھی پڑھیں اور اس پر لکھیں ۔۔جیسے میں کوئی زبردستی بنا ہوں حالانکہ بہت سارے دوستوں کے بار بار کے اسرار لیکن لہر نیازی اور منشا خان کے پر زور ،زور پر یہ چھوٹا سا ،”صاحب کتاب”کا لقب حاصل کرنے کے قابل ہوا ۔لہر نیازی خوبصورت شاعر ،
افسانہ نگار اور آنے والے اردو ناول “خان بابا”کے تخلیق کار کا تعلق موچھ سے ہے اور انہیں پہلی بار محمود ہاشمی مرحوم کے مشاعرے میں لیکر گیا اور پڑھوایا تھا ۔خوبصورت لفظ ہوں ، تحریر و تقریر ہو، ادائیگی ہو ،گائیکی ہو ، میری کمزوری ہیں۔چاہے وہ مقرر کا انداز ہو، قاری کی لے ہو، ثناء خوان کی تاثیر ہو، ڈھول کی تھاپ ہو،ہارمونیم کی کشش ہو
،سارنگی کی سر ہو، بھنگڑے کا انداز ہو،پائل کی جھنکار ہو،
ساقی کی تیر نظر ہو ،جام کا خمار ہو ،پڑھنے والے کے رخسار ہوں، سننے والی کی پلکیں ہوں، دیکھنے والے ہونٹوں کی لغزش ہو، بیٹھنے کا انداز ہو، کمر کی انگڑائی ہو، آنکھوں کی آنکھ مچولی ہو، آبرو کا اشارہ ہو ،ادائے بے نیازی ہو، محبت بھرا نگاہوں کا سلام ہو،حیا کی ادا ہو ،ادب کا سلیقہ ہو، جبین کا سجدہ ہو ،باپ کا روپ ہو ،ماں کی محبت ہو ،بیوی کی خدمت ہو ،بہن کی نسبت ہو ،بیٹی کے بے ساختگی ہو ،

یہ ادائے بے نیازی تجھے اے بے وفا مبارک
ایسی بے رخی کیا جو سلام تک نہ پہنچے
میری کمزوری ہیں میں داد دینا فرض عین سمجھتا ہوں کیوں جو بھی ہنر و عقیدت ہے وہ رب کی نعمت ہے ۔
اور لہر نیازی کی پہلی English Poetry book جو انہوں نے Dreams in Desert کے نام سے تہلکہ خیز انداز میں پیش کی میں نے اس وقت بھی فوراً تبصرہ اخبارات کی نذر کیا ۔اج انہوں نے افسانے “سلاگر کی رات “
رات جب جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم
لوگ اس وقفہ ء ماتم کو سحر کہتے ہیں
حوالے کی آج ہی ایک ہی نشست میں مکمل کتاب پڑھنے کے بعد اب واٹس اپ پر انگلیاں چلانے کی مشق کر رہا ہوں۔

میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
غور سے جو دیکھا تو تیری تصویر بن گئی
دکھ, درد, محبت, پیار ,غرض یہ کہ ہر انداز کے جذبات واحساسات کو کوئی قلمکار ہی بامعنی الفاظ کو موتیوں کی صورت میں لڑیوں میں پرو سکتا ہے ۔جس سے ایسی روشنی نکلتی ہے کہ ہر طرح کا موسم سہانا ہو جاتا ھے درد میں ڈوبا ہوا سسکیوں کی شکل میں،دکھی آنسوں کی شکل میں، خوشگوار موڈ میں مسکراہٹ کے ذریعے، پڑھ کر سلام عقیدت پیش کرتا ہے جس طرح “سلاگر کی رات ” کو پڑھتے وقت متعد بار قمیض کو آنچل بناتے ہوئے آنکھوں کو تسلی دیتا رہا.تاکہ دل مطمئن رہے کہ افسانے ہیں۔حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے۔لیکن حقیقت کا اظہار یہی لفظ،شعرو نثر کے جملوں کے ذریعے اندر جا کر ” مظاہرہ کرنے میں منہ زور ہو جاتے ہیں”
وہ رویا بہت مگر مجھ سے منہ موڑ کر رویا
کوئی مجبوری ہو گی جو دل توڑ کر رویا
میرے سامنے کر دیا میری تصویر کے ٹکڑے
پتا لگا میرے پیچھے وہ ان کو جوڑ کر رویا
جو مسکرایا تھا میری موت کا سن کر
لاش دیکھ کر وہ میری جان دل توڑ کر رویا
جناب صاحبزادہ روفی سرکار نے سرکار پبلشرز ملتان کی طرف سے کتاب نہیں دی سماج و معاشرت کے لئے پہلو وا کئے ہیں لہر نیازی کی یہ کتاب زندگی کی حقیقتوں کی ترجمان دراصل ان کی افسانوی زندگی کا رخ نہیں دیکھا رہی بلکہ یہ لفظوں کا مجموعہ چاند کی صورت ہے۔جو بھی،جس انداز سے جس ڈھنگ میں ،جس رنگ میں ،جس ادا میں ،جس طرح سے ،جیسے چاہے اس سے اپنے اندر کے موسم کے مطابق لطف اندوز ہو سکتا ہےکہ موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
کتاب کا نام کالا باغ کے پہاڑوں کے نام “سلاگر “افسانے کے ٹائٹل پر رکھ کر دریا کی لہروں کی طرح ہر افسانے میں نشیب و فراز دیکر قاری کو ایک ہی نشست میں مکمل کتاب پڑھنے پر قفس میں صیاد(لہر نیازی) کے حوالے کر دیا ہے
صیاد تیرے حکم رہائی کا شکریہ
ہم تو قفس میں کاٹ چکے دن بہار کے
پہلا افسانہ شاید اس لئے میری نوک قلم پر سبقت لے رہا ہے کہ میں خود جوتوں کی دوکان ۔۔نگینہ بوٹ ھاؤس کا مالک ہوں جو1950سے اسی مقام پر ہے ۔انہوں نے “جوتے” سے آغاز کتاب کیا اور صدر بش کو جوتا مارنے پر میں نے بھی “جھکانا “آرٹیکل لکھا تھا یاد آ گیا.. پہلے ہی افسانے میں غربت کی چیخیں آسمان تک سنائی دینے لگیں “قسمت کا پتھر “مذھبی لبادے میں موجودہ جہالت کی جھلک دکھائی ہے ۔کہ قلندر بابا پر۔ کس طرح اسلم شاہ اپنی زندگی کو توہم پرستی کی نذر کرتا رہا “حوا کی مجبور بیٹی” اسلام کی اس حقیقت سے روگردانی کی بھی کہانی ہے جس میں بیٹی سے جیون کا ساتھی پوچھنے کی پابندی ہے پر عمل نہ کر کے زندگی کو مسائل کی دلدل میں دھکیلا جاتا ہے “ناخلف” باپ تو باپ ہوتا ہے وہ کیسے گھر کی زندگی کی تلخیاں لوگوں کے سامنے پیش کرتا “لیکن “انجام “کا آخری جملہ”کہنے کو تو باپ حوصلے کا پہاڑ ہوتا ہے لیکن اپنی ہی اولاد کے لگائے زخم اس کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں ” “حوصلے کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو چکا تھا ” یہ جملہ قاری کے حوصلے کو ریزہ ریزہ کرتا نظر آتا ہے ۔۔”یاد رفتہ” میں حقائق سے چشم پوشی اور خیالوں کی دنیا کا نتیجہ پیش کرتا افسانہ ہے ۔”اماں ابا کا کمرہ “والدین سے زیادہ کوئی کم ہی مخلص ہوتا ہے ۔سب کچھ مل سکتا ہے مگر والدین دوبارہ نہیں ملتے۔” اس حقیقت سے دنیا کی کوئی بھی سوچ انکار نہیں کر سکتی۔”یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو ماں باپ کی
یادوں کو دل سے لگائے رکھتی ہیں ۔بیٹے تو اپنی ہی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں “۔ ۔۔”گردش ایام “
مایوسیاں تو کفر ہیں لا تقنطو کے بعد
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
“پتھر دل ” میں خدا کا انتقام بھی کہہ کر تبصرہ کر سکتے ہیں خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے بھی کہہ سکتے ہیں ۔”نصیب اپنا اپنا “میں خونی رشتوں کی لاج کی حقیقت کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے”آدھی عورت “میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اولاد کے بغیر عورت واقعی آدھی ہوتی ہے اور یہ ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے ۔
کہا جاتا ہے بے حسی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے جو بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو جائے وہ ہر قسم کے غم ،سوچ و بچار سے ماورا ہو جاتا ہے بے حسی کا متضاد احساس ہوتا ہے ۔افسانہ “احساس”میں گلستان خان لہر نیازی کے موتیوں کی چمک کو دیکھیں “ہمارا زمانہ تو لد گیا۔اب جو سانسیں بچی ہیں تو یہ بچوں کے حساب سے ہی لینا ہوں گی۔ارد گرد کا جو ماحول ہوتا ہے یہ ہمیں بہت کچھ سکھا تاہےاگر ہم موسم بدلنا نہ سکھیں تو کئی معاملات میں ہم الجھ کر رہ جائیں گے ۔اس الجھنے سے بہتر ہے ہم تھوڑا سا حالات کو دیکھ کر اپنے اندر تبدیلی لے آئیں۔”آج کا المیہ یہی ہے کہ”آج کا نوجوان سمجھتا ہے کہ وہ حادثاتی طور پر اس دنیا میں آ گیا ہے ۔اس کی نظر میں والدین صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں ۔”یہ لہر نیازی کے خوبصورت افسانہ “المیہ” کا آغاز ہے ۔”پیار جو ںیت گیا “و دیگر میں سرزمین میانوالی بالخصوص موچھ سے میانوالی ہجرت کا مکمل اظہار ۔کچہری بازار ،رابی سنٹر ،مسلم بازار
،مسلم کالونی ،شہزاد ہوٹل ماڑی انڈس ریل گاڑی کا ذکر کیا ہے اور میانوالی سے وابستگی کا حق ادا کر دیا ہے ۔”۔ گھاٹے کا سودا” میں دیکھیں “محبت ملتی نہیں ،محبت حاصل کی جاتی ہے “۔ آج نوجوان دنیاوی محبت میں کس طرح دھوکا کھا کر اپنی اپنے والدین کی زندگی کو تباہ کر دیتے ہیں اس حقیقت پر خوبصورت تحریر ہے ۔”چراغ بجھ گئے “
شب انتظار کی کشمکش میں مت پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی ایک چراغ جلا دیا،کبھی ایک چراغ بجھا دیا
زمینی حقائق کو امر ربی نہ سمجھنا اور اپنے غصہ پر قابو نہ پانے کے نتیجہ جو ہم اکثر معاشرے میں دیکھتے ہیں اس کی عکاسی خوبصورت انداز میں “چراغ بجھ گئے “میں کی گئی ہے ۔ رب کو خاوند نے مجازی خدا کا رتبہ دے رکھا ھے بغیر خاوند کی اجازت کے بیوی خانہ کعبہ طواف کعبہ کے لئے بھی نہیں جا سکتی ۔”بدلتے موسم “میں رب کائنات نے خاوند کو جو ترجیح دی ہے اس پر پہنچایا گیا ہے ۔ “انگاروں سے کھیلنے والے اپنے ہاتھ ضرور جلا بیٹھتے ہیں ۔ہمیں کل کی فکر تھی شکر اللہ کا ہم وقت پر ان دھکتے انگاروں سے دور چلے گئے ہیں۔””کل کی فکر “دنیاوی لالچ کاانجام ۔۔۔۔انسان کچھ کبھی کبھی بہت خطرناک ہو جاتا ہے ۔یہ “جلد باز “فسانے کی جلد بازی پر اظہار خیال ہے “ریڑھی والا ” گورنمنٹ جامع ہائی سکول کے کنٹین والے نے غربت و ادھار کی وجہ سے واپڈا افس کے نزدیک آڈی پل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی تھی اور راقم نے “غربت “کے نام پر آرٹیکل لکھا تھا ریڑھی والا آرٹیکل نے دلخراش واقعہ یاد دلا دیا ۔۔۔ بھائی بھائی ہوتے ہیں مرحوم بھائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اہمیت پر خوبصورت افسانہ “زندگی افسانہ ہے “لکھ کر تمام جذبات تمام احساسات تمام خراج تحسین کے جملے دلوں سے چھین کر لہر نیازی نے اپنی مُٹھی میں کر لئے ہیں درمیان میں” گمراہ “نمبر 13پر تھا پر۔۔۔ یا اللہ مجھے گمراہی سے بچا ۔۔خود آخیر پر لایا ہوں ۔ شاید قلمکار نے ن لیگی ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ اگر وہ سی پیک روڈ بلاک کا ،9مئ کا ذکر نہ کرتے تو پھر اپنے نمبر پر ذکر ہوتا ہے,،یا ازاد جیوڈیشل کمیشن بنا کر انکوائری کا ذکر کرتے۔یاپھر ۔ساتھ آرمی پبلک سکول سے ڈیڈھ سو بچوں کی لاشوں کا ذکر کرتے۔ افغانستان کی صہیونی جنگ میں لاکھ سے زائد میتوں کا ذکر کیا جاتا ۔عمران خان دور میں لاھور میں لبیک کا حوالہ دیا جاتا ۔مریدکے کے واقعہ کا ذکر کر دیا جاتا ۔فاطمہ جناح پر کس نے گمراہ کیا تھا بجلی چوری کا پرچہ کرانے کا۔۔۔ کس نے گمراہ کیا تھا ایٹمی ہیرو کو ٹی وی پر معافی منگوانے کا۔۔میری ذاتی رائے میں افسانہ تھا جماعت کا حوالہ نہ دیا جاتا۔ آرٹیکل ہوتا تو پھر بالکل ٹھیک تھا ۔انہوں نے ایک جماعت ایک شخصیت کو قاتل جب کہ قاتل حکومت کی حمایت دیکھا کر تنقیدکاموقعہ دیا ہے میں کوئی باقاعدہ قلمکار نہیں ہوں۔ ہو سکتا ہے میری سوچ غلط ہو کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں نے کبھی بھی ن لیگ کو ووٹ نہیں دئیے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ، غاصب، قبضہ، مافیاز،سیاسی جماعتوں کی حمایت نہیں کی ہے ۔۔۔بہرحال اسلام و شریعت مدینے جانے طواف کعبہ ،نماز،
روزہ ،حج ،زکوۃ میں نہیں۔ نظام کو انسانیت کو بچانے کے لئے مدینہ چھوڑ کر کربلا کو بسانے کی حقیقت اصلیت ہے ۔
بہرحال گلستان خان لہر نیازی نے ادب سے وابستہ اہل ذوق کو میانوالی کی سر زمین کے اہل شعور و ذوق کو ایک خوبصورت تحفہ دیا ہے
بہت مدت کے بعد ان کی “سلاگر کی رات “پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ کسی صاحب میں سوجھ بوجھ ہے ۔ان کے لفظوں کی ادائیگی سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ لہر نیازی صاحب کا ذوق بھی بہت اچھا ہے ۔اور یہ بچپن سے آ رہا ہو گا ۔یعنی ان کے پاس اچھی کتب کا ذخیرہ بھی ضرور ہو گا ۔جن کے مطالعے نے ان کے الفاظ کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کتاب کیا تھی۔ لگ رہا تھا جیسے بہار کے موسم میں نئی کونپلیں کھل رہی ہیں ۔پھول جھڑ رہے ہیں ۔شائستگی ء آداب اور تہذیب سے ہم آہنگ ایک ایسا انسان جو میانوالی کی مٹی سے مکمل طور پر جڑا ہوا ہے، ایک ایسا بندہ جسے وسائل اور مسائل کا ادراک ہے، ایک ایسا بندہ جسے احساس ہے کہ کسی بھی قوم کا کلچر اسے نہ صرف دنیا میں پہنچان دیتا ہے بلکہ کلچر کی ترقی اصل میں قوم کی ترقی بن جاتی ہے۔ خدائی رشتوں کے تقدس میں کتنی تقدیس پائی جاتی ہے۔ گلستان خان لہر نیازی نے زندگی کے ہر پہلو کی تصویر افسانوی رنگ میں کھینچی ہے ۔اگر عشق و محبت کی رویداد میں حسن و رعنائی کا اظہار کیا ہے تو وہیں گھریلو زندگی کے روز مرہ واقعات کی حکایت بیان کی ہے ۔اخلاق وپند میں اظہار خیال سے اپنے نقش بٹھانے میں سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں الغرض ان کے افسانوں کے موضوع ہمہ گیر ہیں بقول لہر نیازی
ہر حال میں ہر دور میں تابندہ رہوں گا
میں زندہ جاوید ہوں پائندہ رہوں گا
تاریخ میرے نام کی تعظیم کرئے گی
تاریخ کے اوراق میں آئندہ رہوں گا
۔رب تعالیٰ ان کی قلم کو مزید عروج سے نوازے
بڑھ بڑھ کر چلی آتی ہیں لہریں میری جانب
سمندر کو میری پیاس نے بے چین کیا ہے

   افسانہ نگار: لہر نیازی

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN WRITERS CLUB POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works THE SOUL OF THE DESERT: EXPLORING THE POETIC JOURNEY OF LEHR NIAZI WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)

THE LITERARY VOICE OF MIANWALI: A PROFILE OF GULISTAN KHAN (LEHR NIAZI)   Gulistan Khan, known widely by his pen...
Read More
UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

UDAS KAKRI-AFSANA BY LEHR NIAZI

     "اداس ککری"    افسانہ نگار: لہر نیازی جوں جوں ریل گاڑی آگے بڑھتی جاتی تھی منظر بدلتا جاتا تھا۔...
Read More
YAAD-E-RAFTA  -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

YAAD-E-RAFTA -AFSANA BY LEHR NIAZI

افسانہ۔ "یاد رفتہ" شہرت، دولت اور جوانی سب ڈھلتی چھاؤں ہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی زوال کی طرف بڑھنے لگ...
Read More
LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI

LITERARY PERSPECTIVES: FELLOW WRITERS ON THE WORK OF LEHR NIAZI   The literary contributions of Lehr Niazi have garnered deep...
Read More
AMEERZADA AFSANA   -AFSANA BY LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

AMEERZADA AFSANA -AFSANA BY LEHR NIAZI

  امیر زادہ   -  افسانہ نگار: لہر نیازی   جھاڑیوں میں الجھتا گرتا پڑتا امیر زادہ اندھا دھند دوڑے جا رہا...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai
EDUCATIONAL PIONEERS OF MIANWALI – Shaping Minds, Building Futures LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS

Muhammad Ashfaq Chughtai

محمد اشفاق چغتائیؔ     احوالِ ملازمت و خانگی زندگی   مضمون نگار: لہرؔ نیازی محمد اشفاق چغتائیؔ کا اصل نام...
Read More
Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Muhammad Ashfaq Chughtai ki Shaairi mein Tasawwuf, Falsafa-e-Khudi aur Wujoodi Fikr

محمد اشفاق چغتائیؔ کی شاعری میں تصوف، فلسفۂ خودی اور وجودی فکر اشعار، رباعیات اور فکری و فنی جائزہ محمد...
Read More
Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Maa -“Mere bachay aabad o shaad hain. Bas dua hai woh aabad rahein.”

افسانہ ۔۔۔ ماں "میرے بچے آباد و شاد ہیں۔ بس دعا ہے وہ آباد رہیں۔" جب بھی زینت خاتون اپنے...
Read More
PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER Professor Rais Ahmad Arshi — A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI SAHAB SE MULAQAT – OCTOBER 2025

پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب سے ملاقات  -(10 ستمبر 2025ء)   ابتدائی زندگی پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب کا اصل...
Read More
Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI KI SHAYARI:

Saleeb-e-Waqt (Urdu Shaairi Majmua)

صلیبِ وقت (اردو شعری مجموعہ) از: رئیس احمد عرشی، میانوالی اشاعت: اول، اگست 2004ء ناشر: محمد عنصر خان کاکڑ (مدیر...
Read More
“Darya Kandhi” Afsana
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Darya Kandhi” Afsana

 افسانہ "دریا کندھی"  - افسانہ نگار: لہر نیازی "وقت پر لگایا گیا مرہم زخم کو ناسور بننے نہیں دیتا۔ بہتر ہوگا...
Read More
Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

Mutiullah Khan: Sahafat mein Nafasat aur Waqar ka Alam Bardar

مطیع اللہ خان: صحافت میں نفاست اور وقار کا علم بردار مطیع اللہ خان کا شمار ضلع میانوالی کے اُن...
Read More
Afsana: Baba Jand Peer
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Baba Jand Peer

افسانہ ۔۔۔بابا جنڈ پیر۔۔۔افسانہ نگار: لہر نیازی   داراں مائی گاؤں والوں سے چھپتی چھپاتی چادر کے نیچے بغل میں...
Read More
Salagar Ki Raat (Afsane)
FICTION BOOKS BY MIANWALIAN LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Salagar Ki Raat (Afsane)

سلاگر کی رات — وسیب، انسان اور زندگی کی کہانی کتاب:سلاگر کی راتصنف: افسانےمصنف: لہرؔ نیازیناشر: سرکار پبلشرز، ملتان لہرؔ...
Read More
Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Ehsaas Tanhai – Afsana By Lehr Niazi

افسانہ ۔۔۔احساس تنہائی    -افسانہ نگار: لہر نیازی  "انسان کے اندر کی تنہائی آسیب کی طرح ہوتی ہے جو دن...
Read More
“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“WOH AIK LAGHZISH” AFSANA NIGAR: LEHR NIAZI

"وہ ایک لغزش"  افسانہ نگار : لہر نیازی  "جوانی کی بھول زندگی کا روگ بن جائے گی، کبھی سوچا بھی...
Read More
Afsana: Haaye Ghurabat
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Afsana: Haaye Ghurabat

افسانہ   --ہائے غربت ۔۔۔۔ "پیٹ خالی ہو تو انسان کو اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔" خالق ادھر ادھر...
Read More
“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

“Afsana: Gori Gai” By Lehr Niazi

افسانہ۔. گوری گائے اپنوں کی یادیں تو کسی چیز کے ساتھ جب منسلک ہو جاتی ہیں تو وہ پھر یادیں...
Read More
Qurbani Ka Bakra AFSANA BY LEHNIAZI
LEHR NIAZI'S LITERARY CORNER

Qurbani Ka Bakra AFSANA BY LEHNIAZI

"اماں! ہم کب قربانی کریں گے؟" معصومہ نے حسرت بھرے لہجے میں ماں سے سوال کیا تو ماں کچھ دیر...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top