Shakir Khan Blach – Selected Poetry – Collection 1

 

مجموعہ اول — شاکر خان بلَچ کے منتخب اشعار

 

شاکر خان بلَچ — شاعرِ احساس، مشاہدے اور انسانی تجربے کی آواز

 

شاکر خان بلَچ میانوالی سے تعلق رکھنے والے شاعر، کہانی کار، معلم اور ادبی شخصیت ہیں۔ ان کی شعری دنیا میں انسانی رشتے، محبت، جدائی، تنہائی، باپ کی ذمہ داری، سماجی بے حسی، داخلی کشمکش، یاد، خاموشی اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات مختلف رنگوں میں سامنے آتے ہیں۔ ان کے ہاں شعر محض لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ مشاہدے اور احساس سے پیدا ہونے والی ایک کیفیت ہے۔

شاکر خان بلَچ کے شعری مزاج میں ایک طرف مختصر اشعار کی برجستگی ہے تو دوسری طرف طویل نظم نما اظہار میں معاشرتی رویوں اور انسانی فطرت کو دیکھنے کی صلاحیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کی زبان عمومی طور پر سادہ، رواں اور روزمرہ کے قریب ہے، تاہم کئی مقامات پر وہ اچانک ایک ایسی تصویری یا فکری سطح پیدا کرتے ہیں جہاں ایک مختصر شعر وسیع معنی اختیار کر لیتا ہے۔

زیرِ نظر انتخاب میں ان کے متعدد اشعار اور ایک طویل نظم نما متن شامل ہے۔ ذیل میں فراہم کردہ متن کو اسی ترتیب اور اصل الفاظ کے ساتھ مرتب کیا جا رہا ہے۔ جس مقام پر اصل متن میں کسی دوسرے شاعر کا نام موجود ہے، اسے بھی بغیر تبدیلی کے برقرار رکھا گیا ہے۔

شاکر خان بلَچ — منتخب شاعری

دل کے قریب لوگوں کا دکھ

 

آج تک سیکھ نہیں پائے جو ہیں دل کے قریب
ان کا اپنا کوئی مر جائے تو کیا کہتے ہیں ؟

 

تنہائی کا تجربہ

 

اکیلے رہتے ہوئے ہم نے خوب جان لیا
اداسیاں کبھی جاتی نہیں لطیفوں سے

 

 

باپ کی ذمہ داری

 

کس قدر لاڈ سے ہر خواب کو تعبیر کیا
باپ کا کرب ہے کیا ، آپ کمانے سے کھُلا !

 

خاموش بستی

 

ایک بستی تھی گونگے لوگوں کی
اور وہ لوگ شور کرتے تھے

 

عشق اور حسن

 

عشق والے وہی بہتر ہیں جو ہیں زیرزمیں
حسن والے وہی اچھے ہیں ہیں جو کم بولتے ہیں

 

اشک اور انتظار

 

اشک آۓ مجھے منانے کو
ہاتھ باندھے ہوۓ قطاروں میں

 

خود پر توجہ

 

ایک دن خود پہ کیا توجہ دی
کوئی برہم دکھائی دیتا ہے

اجنبیت کا اطمینان

 

کوئی بھی خوف , کوئی رنج , کوئی درد نہیں
یہ اطمینان ہے میں اس جہاں کا فرد نہیں

یاد اور وجود

 

ایک اس دل میں میری یادیں تھیں
اور اس دل میں دوسرا تھا میں

 

جسم اور محبت

 

وہ میرے زانوں پہ سر رکھ کے مجھ سے پوچھتی تھی
یہ جسم کی جو پرستش ہے کیا محبت ہے

 

قبر کی خاموش بیٹھک

 

آپ کو دعوت نہیں دیتا خود آ سکتا نہیں
معذرت ! یارو یہ میری قبر ہے بیٹھک نہیں

 

یاد کرنے کی بے بسی

 

میں اسے یاد کر نہیں سکتا
وہ مری بے بسی سمجھ لے گا

 

دو طرفہ شکوہ

 

ایک کا میں تھا ایک میری تھی
مجھ کو شکوہ ہے آج دونوں سے

لفظ اور انتظار

 

نحیف لفظ مرے کن کے منتظر ہیں کہ یوں
بامر ربی میں کار یسوع کرتا ہوں

 

خاموشی کا کلام

 

میرے لفظوں کی سانس رک جاۓ
جب تری خامشی کلام کرے

منت کی گلی

 

اس گلی جائیں اس کی منت کو
یار ! تو ہم کو جانتا تو ہے

 

غریب باپ اور لحاف کا قصہ

 

ٹھٹھرتے جسم کو لفظوں سے گرم کرتا ہوا
غریب باپ سناۓ لحاف کا قصہ

 

زلفوں کا حصار

 

قید ہیں کتنے دل ان میں
زلفیں کھول کے دیکھا کر

 

جوانی میں خود کی تلاش

 

اب خود کو ڈھونڈتا ہوں کہانی میں یار میں
بوڑھا ہوا ہوں عین جوانی میں یار میں

 

مسجد اور لہو

جس کی اینٹوں پہ نمازی کا لہو چیختا ہو
ایسی مسجد میں تو محراب کا دم گھٹتا ہے

 

الماری اور یادیں

یہاں پہ وہ ہے اور ہیں اس کی یادیں
خزانہ ہے یہ الماری نہ سمجھو

 

اہلِ دل کی کیفیت

ہیں ہفت افلاک اپنی دسترس میں پر دکھی ہیں
ہم اہل دل کا شاید نفسیاتی مسئلہ ہے

 

دوست اور مماثلت

 

جیسے ہوتے ہیں ٹھیک ہوتے ہیں
میرے احباب میرے جیسے ہیں

 

پیڑوں سے گفتگو

 

میں نے پیڑوں کو دکھ سنایا تھا
اور پتے گرا دیے سب نے

الماری سے بچی ہوئی خوشبو

 

اترے ناخن,خط, کچھ باتوں کی خوشبو
اور بھلا کیا نکلے گا الماری سے

تنہائی اور وہ لڑکی

 

اس کے آنسو پونچھ کے کمرے کی دیوار بھی روتی ہے
میں تو ویسے تنہا ہوں پر وہ لڑکی اکلوتی ہے

چاندنی اور ناخن

 

چاند سے چاندنی ٹپکتی ہے
اس کو ناخن سے جب کھرچتا ہوں

محبت اور سکون

 

اس پہ کیا بحث کہ یوں چھن گیا یوں چھین لیا
سچ یہی ہے کہ محبت نے سکوں چھین لیا

بے وفائی اور راز

 

وہ بے وفا تھے جنھیں راستے میں چھوڑ دیا
تمھیں بتایا مگر تم انھیں بتانا نہیں

یاد کا ہاتھ

 

اس کی یادوں نے سر پہ ہاتھ رکھا
تھوڑا مایوس ہو رہا تھا میں

وہ کشمیری چائے کیطرح گلابی ۔۔۔

کوئی سمجھے گا مرا درد مرے یار نہیں
ایک بیٹا ہے مرا وہ بھی عزادار نہیں

 

زندگی دھوپ ہے ، اور روشنی دھڑکن ہے اسے
پیڑ تو آج بھی سائے کا طرف دار نہیں

اپنے کھیتوں سے پرندوں کو اڑاتا ہی نہیں
ایک شاعر بھی ہوں میں صرف زمیندار نہیں

کن ستاروں پہ تری بخت خماری لائی
میں بظاہر تمھیں لگتا ہے کہ بیدار نہیں

بے خودی صرف مداوائے غمِ ہجر مگر
معذرت ! نیند کی گولی مجھے درکار نہیں

 

نام غازی کا جو آئے تو چھلک جاتا ہے
کیسے تسلیم کروں بندہ وفادار نہیں !

 

گاہک اچھے جو ملیں حِرص کبھی اچھا نہیں
روز ہوتی بھی یہاں گرمی ء بازار نہیں !

 

اب خود کو ڈھونڈتا ہوں کہانی میں یار ، مَیں
بوڑھا ہوا ہوں عین جوانی میں یار ، مَیں !

 

شاعری کا فکری و فنی مطالعہ

 

شاکر خان بلَچ کے فراہم کردہ اس شعری انتخاب کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سب سے پہلے انسانی تجربہ سامنے آتا ہے۔ ان کے ہاں محبت صرف رومانوی جذبہ نہیں، بلکہ یاد، محرومی، خاموشی، بے بسی اور تعلق کی پیچیدگیوں سے عبارت ایک وسیع تجربہ ہے۔

“آج تک سیکھ نہیں پائے جو ہیں دل کے قریب” میں قریبی رشتوں کے دکھ کو سمجھنے کی انسانی ناکامی بیان ہوتی ہے۔ شعر کا سوال دراصل موت سے زیادہ اس بے بسی کے بارے میں ہے جو کسی عزیز کے دکھ میں الفاظ کو بے معنی کر دیتی ہے۔

اسی کیفیت کو “اکیلے رہتے ہوئے ہم نے خوب جان لیا” میں تنہائی کے تجربے سے جوڑا گیا ہے۔ یہاں لطیفہ اداسی کا علاج نہیں بنتا۔ مختصر شعر میں ایک ایسی نفسیاتی حقیقت بیان ہوتی ہے کہ کچھ غم ظاہری مسکراہٹ یا وقتی تفریح سے ختم نہیں ہوتے۔

 

خاموشی، تنہائی اور داخلی کشمکش

 

شاکر خان بلَچ کے کئی اشعار میں خاموشی ایک فعال کردار بن کر سامنے آتی ہے۔
“میرے لفظوں کی سانس رک جاۓ / جب تری خامشی کلام کرے” میں خاموشی کو کلام کی قوت دی گئی ہے۔ یہ شعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات الفاظ کے مقابلے میں خاموشی زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے۔

“میں اسے یاد کر نہیں سکتا / وہ مری بے بسی سمجھ لے گا” میں یاد اور بے بسی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں یاد کرنا بھی ایک اعتراف بن جاتا ہے اور شاعر اسی اعتراف سے گریز کرتا ہے۔

محبت کا رومانوی نہیں، پیچیدہ چہرہ

 

محبت کے حوالے سے ان کے ہاں سادہ خوشی سے زیادہ پیچیدگی ہے۔
“اس پہ کیا بحث کہ یوں چھن گیا یوں چھین لیا / سچ یہی ہے کہ محبت نے سکوں چھین لیا” محبت کو ایسی کیفیت کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں حصول سے زیادہ اس کے اثرات اہم ہو جاتے ہیں۔

اسی سلسلے میں “وہ میرے زانوں پہ سر رکھ کے مجھ سے پوچھتی تھی / یہ جسم کی جو پرستش ہے کیا محبت ہے” جسم، محبت اور انسانی تعلق کے درمیان موجود سوال کو سامنے لاتا ہے۔ شعر کا اصل زور جواب پر نہیں بلکہ سوال پر ہے، اور یہی اسے فکری سطح عطا کرتا ہے۔

باپ، غربت اور ذمہ داری

 

اس انتخاب کا ایک اہم پہلو باپ کی شخصیت ہے۔
“کس قدر لاڈ سے ہر خواب کو تعبیر کیا / باپ کا کرب ہے کیا ، آپ کمانے سے کھُلا !” میں باپ کے کردار کو معاشی ذمہ داری اور قربانی کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح:

“ٹھٹھرتے جسم کو لفظوں سے گرم کرتا ہوا
غریب باپ سناۓ لحاف کا قصہ”

ایک پورا معاشرتی منظر دو مصرعوں میں قائم کر دیتا ہے۔ یہاں غربت صرف مالی حالت نہیں بلکہ باپ کی بے بسی، اولاد کے سامنے اس کی ذمہ داری اور محبت کے درمیان پیدا ہونے والی کشمکش بن جاتی ہے۔

سماجی شعور

 

شاکر خان بلَچ کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو معاشرتی مشاہدہ ہے۔
“ایک بستی تھی گونگے لوگوں کی / اور وہ لوگ شور کرتے تھے” ایک مختصر مگر طنزیہ اور معنی خیز تصویر ہے۔ گونگے لوگوں کا شور دراصل ایسے معاشرے کی علامت بن جاتا ہے جہاں آواز بہت ہے مگر بامعنی اظہار کم۔

“جس کی اینٹوں پہ نمازی کا لہو چیختا ہو / ایسی مسجد میں تو محراب کا دم گھٹتا ہے” مذہبی علامت کو انسانی خون اور اخلاقی سوال کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس شعر کا بنیادی سوال عمارت سے زیادہ اس اخلاقی تضاد پر ہے جہاں مقدس جگہ انسانی ظلم کی گواہ بن جائے۔

قدرت بطور آئینہ

“میں نے پیڑوں کو دکھ سنایا تھا / اور پتے گرا دیے سب نے” میں قدرت انسانی احساس کی شریک بن جاتی ہے۔ شاعر اپنے دکھ کو پیڑوں سے بیان کرتا ہے اور پتوں کا گرنا ایک خاموش جواب بن جاتا ہے۔

اسی طرح “چاند سے چاندنی ٹپکتی ہے / اس کو ناخن سے جب کھرچتا ہوں میں ایک انتہائی بصری اور تخیلی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ چاندنی کو کسی جسمانی شے کی طرح محسوس کرنا اور اسے ناخن سے کھرچنے کا تصور شعر کو تجریدی کیفیت سے نکال کر ایک محسوس منظر میں بدل دیتا ہے۔

یاد اور اشیا کی معنویت

“یہاں پہ وہ ہے اور ہیں اس کی یادیں / خزانہ ہے یہ الماری نہ سمجھو” اور

“اترے ناخن,خط, کچھ باتوں کی خوشبو / اور بھلا کیا نکلے گا الماری سے”

میں الماری ایک عام گھریلو چیز نہیں رہتی بلکہ یادوں کا محفوظ خانہ بن جاتی ہے۔ خط، ناخن اور خوشبو ماضی کے مادی آثار بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہاں شاعر یہ دکھاتا ہے کہ انسان چلا جاتا ہے مگر اس کی چیزیں اس کی موجودگی کا ایک نیا روپ بن جاتی ہیں۔

عمر، شناخت اور خود کی تلاش

“اب خود کو ڈھونڈتا ہوں کہانی میں یار میں / بوڑھا ہوا ہوں عین جوانی میں یار میں”

اور غزل کے اختتام پر:

“اب خود کو ڈھونڈتا ہوں کہانی میں یار ، مَیں
بوڑھا ہوا ہوں عین جوانی میں یار ، مَیں !”

خود شناسی اور عمر کے داخلی احساس کو سامنے لاتے ہیں۔ یہاں بڑھاپا صرف جسمانی عمر نہیں بلکہ تجربات کا بوجھ ہے۔ انسان بظاہر جوان رہتے ہوئے بھی اپنے اندر ایک طویل زندگی گزار سکتا ہے۔

شاعر اور زمیندار — شناخت کی وسعت

 

“اپنے کھیتوں سے پرندوں کو اڑاتا ہی نہیں
ایک شاعر بھی ہوں میں صرف زمیندار نہیں”

شاعر کی شناخت کو ایک ہی پیشے یا سماجی کردار میں محدود کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہاں شاعر اپنی دوہری شناخت کو سامنے لاتا ہے: زمین سے تعلق بھی اور تخلیق سے وابستگی بھی۔ یہ شعر شاکر خان بلَچ کے مجموعی مزاج سے بھی ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ان کی شاعری میں زندگی کے مختلف طبقات اور تجربات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

مجموعی ادبی تاثر

 

فراہم کردہ شاعری کی مجموعی قرأت سے شاکر خان بلَچ کا ایک ایسا شعری مزاج سامنے آتا ہے جس میں محبت کے ساتھ تنہائی، رشتوں کے ساتھ بے بسی، ذاتی تجربے کے ساتھ سماجی مشاہدہ، اور روزمرہ زندگی کے ساتھ گہری داخلی فکر موجود ہے۔

ان کی خاص خوبی مختصر منظر کو معنی خیز بنا دینا ہے۔ ایک الماری یادوں کا خزانہ بن جاتی ہے، پیڑ دکھ سننے لگتے ہیں، خاموشی کلام کرتی ہے، چاندنی کو کھرچا جا سکتا ہے اور باپ کا لحاف غربت کی پوری داستان بن جاتا ہے۔

ان کے ہاں شعر کا مرکز صرف عاشق اور محبوب نہیں بلکہ باپ، غریب، نمازی، دوست، تنہا انسان، شہر، بازار، زمین، پرندے، درخت اور یادوں سے بھری اشیا بھی ہیں۔ یہی وسعت ان کی شاعری کو ایک شخصی تجربے سے نکال کر انسانی تجربے کے وسیع دائرے میں لے جاتی ہے۔

البتہ فراہم کردہ مواد کی ادبی ترتیب میں ایک ضروری امتیاز برقرار رکھنا چاہیے: “سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے” کے آخر میں اصل متن میں “زہرا نگاہ” درج ہے، اس لیے اسے شاکر خان بلَچ کی شاعری کے طور پر منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔ باقی متن جہاں نام کے بغیر دیا گیا ہے، اسے یہاں کسی اضافی نسبت کے بغیر اسی طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔

یوں شاکر خان بلَچ کے اس انتخاب میں ایک ایسا شاعر سامنے آتا ہے جو محبت کو صرف وصل میں نہیں، جدائی میں بھی دیکھتا ہے؛ تنہائی کو خاموشی میں نہیں، یاد میں محسوس کرتا ہے؛ معاشرے کو صرف ہجوم میں نہیں، فرد کے دکھ میں پڑھتا ہے؛ اور زندگی کو صرف گزرنے والے وقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل کہانی کے طور پر دیکھتا ہے۔

 

 

Shakir Khan Blach – Selected Poetry – Collection 1

Shakir Khan Blach – Selected Poetry – Collection 1

  مجموعہ اول — شاکر خان بلَچ کے منتخب اشعار   شاکر خان بلَچ...
Read More
Shakir Khan Blach – Mianwali ki mitti se uthne wali aik hama-jehat adabi aawaz

Shakir Khan Blach – Mianwali ki mitti se uthne wali aik hama-jehat adabi aawaz

  شاکر خان بلَچ میانوالی کی مٹی سے اٹھنے والی ایک ہمہ جہت ادبی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top