شاکر خان بلَچ
میانوالی کی مٹی سے اٹھنے والی ایک ہمہ جہت ادبی آواز
ایک شخص، کئی جہتیں
کسی شہر کی شناخت صرف اس کی عمارتوں، بازاروں، دریاؤں اور راستوں سے نہیں بنتی؛ اس کی اصل پہچان وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے علم، فن، کردار اور تخلیقی صلاحیت سے اس شہر کے نام کو اپنے ساتھ آگے لے جاتے ہیں۔ میانوالی کی ادبی زندگی میں شاکر خان بلَچ ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جنہوں نے شعر، فکشن، تدریس، تحقیق، ریڈیو، صحافت، تقریر اور مطالعے کو اپنی زندگی کے مختلف مگر باہم مربوط حوالوں کے طور پر اختیار کیا۔
وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں، مگر ان کی شناخت صرف شاعر کی حد تک محدود نہیں۔ وہ کہانی کار ہیں، اردو کے معلم ہیں، محقق ہیں، مقرر ہیں، ریڈیو سے وابستہ ادبی شخصیت ہیں، فوٹو جرنلسٹ رہے ہیں اور کتابوں سے گہری محبت رکھنے والے صاحبِ مطالعہ انسان ہیں۔ ان کی شخصیت کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان تمام شعبوں میں ان کا مرکزی رشتہ لفظ اور انسان سے قائم رہتا ہے۔
ان کا اپنا یہ جملہ ان کے فکری مزاج کو مختصر مگر بھرپور انداز میں بیان کرتا ہے:
“میں ایک شاعر ہوں، میرا مذہب انسانیت ہے اور ہر ٹوٹا ہوا دل میرا وطن ہے۔”
یہ صرف تعارف کا جملہ نہیں بلکہ ان کے ادبی مزاج کی ایک واضح ترجمانی ہے۔
________________________________________
میانوالی: جہاں شخصیت نے پہلی سانس لی
شاکر خان بلَچ کا تعلق میانوالی سے ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس کی زبان، ثقافت، سخت جغرافیہ، سادہ معاشرت، زندہ دلی اور روایتی اقدار یہاں کے لوگوں کی شخصیت میں ایک خاص رنگ پیدا کرتی ہیں۔ شاکر خان بلَچ بھی اسی ماحول میں پروان چڑھے جہاں مقامی زندگی کے تجربات اور ادبی ذوق ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔
ان کی شخصیت میں میانوالی صرف ایک آبائی نسبت نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری حوالہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کی گفتگو، مقامی محفلیں، ادبی نشستیں، زبان کی شیرینی، زندگی کی سختیاں اور انسانی تعلقات ان کے مشاہدے کا حصہ بنتے رہے۔ یہی مشاہدہ بعد میں ان کے شعر، فکشن اور گفتگو میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوا۔
ان کی ادبی زندگی کا ابتدائی ماحول ایجوکیشن سوسائٹی کی سرگرمیوں اور میانوالی کی ادبی محفلوں سے جڑا رہا۔ اسی زمانے میں انہوں نے شہر کے اہلِ قلم اور شعراء کی صحبت اختیار کی۔ ادبی محفلیں ان کے لیے محض شعر سننے کی جگہ نہیں تھیں؛ وہیں شعر کا ذوق پیدا ہوا، اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی اور ادب کو زندگی کے سنجیدہ تجربے کے طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
________________________________________
طالب علم سے صاحبِ علم تک
شاکر خان بلَچ نے 2001ء سے 2003ء تک گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی میں تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کا یہ دور ان کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی زمانہ تھا جب علم کے ساتھ ادبی دلچسپی نے زیادہ واضح شکل اختیار کی۔
کالج کا ماحول نوجوان ذہن کو صرف نصابی تعلیم نہیں دیتا؛ وہ اسے دوستوں، اساتذہ، کتابوں، بحثوں اور مختلف خیالات سے متعارف کراتا ہے۔ شاکر خان بلَچ نے بھی اسی دور میں مطالعے اور اظہار کے ذوق کو آگے بڑھایا۔ ان کے اندر موجود شاعر آہستہ آہستہ ایک ایسے شخص میں تبدیل ہونے لگا جو صرف شعر کہنے کے بجائے ادب کو سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی خواہش بھی رکھتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بعد کے برسوں میں ان کی زندگی کا بڑا حصہ درس گاہ، کتاب، ادبی محفل اور ابلاغ سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔
________________________________________
فیروز بخاری کی صحبت — شعر کی باقاعدہ تربیت
ہر شاعر کے سفر میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب ذوق کو فن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ شاکر خان بلَچ کے شعری سفر میں فیروز بخاری کی حیثیت اسی مرحلے پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے ان سے شاعری سیکھی اور اصلاح حاصل کی۔
استاد کی رہنمائی شاعر کو صرف بحر اور قافیہ نہیں سکھاتی؛ وہ اسے شعر کے اندر موجود غیر محسوس موسیقیت، لفظ کی معنوی قوت، اظہار کی تہذیب اور خیال کی ترتیب سے آشنا کرتی ہے۔ شاکر خان بلَچ کے لیے یہ تعلق ان کے شعری سفر کی باقاعدہ تربیت کا مرحلہ بنا۔
میانوالی کی ادبی محفلوں سے حاصل ہونے والے تجربے اور فیروز بخاری کی رہنمائی نے ان کے اندر موجود تخلیقی صلاحیت کو زیادہ واضح سمت دی۔ اب شاعری محض ایک ذاتی جذبہ نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ ادبی سفر بن گئی۔
________________________________________
“خواب میں بہتی آنکھ” — جب شعر کتاب بن گیا
شاکر خان بلَچ کے ادبی سفر کا سب سے نمایاں ابتدائی سنگِ میل ان کا شعری مجموعہ “خواب میں بہتی آنکھ” ہے۔
کسی شاعر کے لیے پہلا شعری مجموعہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہ اس کے کئی برسوں کے احساس، مطالعے، تجربے اور تخلیقی ریاضت کو ایک کتابی وجود دیتا ہے۔ شاعر کی آواز جو پہلے محفل میں سنائی دیتی تھی، کتاب کے ذریعے ایک مستقل ادبی دستاویز بن جاتی ہے۔
“خواب میں بہتی آنکھ” کا عنوان خود ایک مکمل شعری کیفیت پیدا کرتا ہے۔ خواب میں آرزو ہے، مستقبل ہے، امید ہے اور وہ دنیا ہے جسے انسان حقیقت بنانا چاہتا ہے۔ آنکھ میں مشاہدہ ہے، جذبات ہیں اور زندگی کی وہ حقیقتیں ہیں جنہیں دیکھ کر دل خاموش نہیں رہتا۔ دونوں کو ایک ساتھ رکھا جائے تو ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس میں امید اور درد، خواب اور حقیقت، خواہش اور تجربہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔
شاکر خان بلَچ کی شاعری میں محبت، احساس، یاد، تنہائی، انسانی تعلقات، امید اور داخلی کیفیات نمایاں رہتی ہیں۔ ان کا شعری مزاج زندگی سے کٹا ہوا نہیں بلکہ زندگی کے قریب ہے۔ یہی قرب ان کے اظہار کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ احساس بناتا ہے۔
________________________________________
شاعر جس کے لیے انسان سب سے اہم ہے
شاکر خان بلَچ کے ادبی تصور میں انسان بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک شاعری صرف الفاظ کا حسن نہیں بلکہ دل کی کیفیت کو دوسرے دل تک منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ان کا یہ جملہ:
“میں ایک شاعر ہوں، میرا مذہب انسانیت ہے اور ہر ٹوٹا ہوا دل میرا وطن ہے”
ان کے فکری رجحان کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتا ہے۔
انسانی دکھ ان کے لیے اجنبی موضوع نہیں۔ محبت، جدائی، یاد، امید، تنہائی اور زندگی کی کشمکش جیسے موضوعات اسی انسانی تجربے سے نکلتے ہیں۔ ان کے ہاں درد صرف رونے کی کیفیت نہیں بنتا بلکہ احساس اور شعور میں تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح امید محض خوش گمانی نہیں بلکہ زندگی کے ساتھ وابستہ رہنے کا حوصلہ ہے۔
یہی انسانی مرکز ان کی شاعری کو محض ذاتی اظہار سے آگے لے جاتا ہے۔
________________________________________
شاعری سے فکشن تک — اظہار کا دائرہ وسیع ہوتا گیا
شاکر خان بلَچ کی تخلیقی شخصیت شاعری تک محدود نہیں رہی۔ اردو فکشن میں ان کی دلچسپی نے ان کے ادبی دائرے کو مزید وسیع کیا۔
شاعری ایک لمحے، ایک احساس اور ایک کیفیت کو مختصر الفاظ میں گرفت میں لیتی ہے، جبکہ فکشن انسان کو اس کے ماحول، کردار، مکالمے، ماضی اور نفسیاتی کیفیت کے ساتھ دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ شاکر خان بلَچ نے اس وسیع میدان کی طرف بھی توجہ کی اور اردو فکشن میں جدید طرزِ اظہار سے اپنی الگ شناخت قائم کی۔
یہی تنوع ان کے مزاج کی خصوصیت ہے۔ وہ کسی ایک ادبی صنف کے اندر محدود رہنے کے بجائے مختلف راستوں سے انسانی تجربے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
________________________________________
تین زبانوں میں ایک تخلیقی ذہن
شاکر خان بلَچ اردو، پنجابی اور انگریزی میں شاعری کرتے ہیں۔ زبان ان کے لیے صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور فکری دنیا بھی ہے۔
اردو کے ذریعے وہ کلاسیکی اور جدید ادبی روایت سے جڑے رہتے ہیں۔ پنجابی انہیں مقامی احساس، تہذیبی رنگ اور عوامی زبان کے قریب لے جاتی ہے۔ انگریزی انہیں ایک مختلف لسانی اور عالمی تناظر سے جوڑتی ہے۔
ایک سے زیادہ زبانوں میں تخلیقی اظہار کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کا مشاہدہ ایک ہی لسانی دائرے میں قید نہیں۔ مختلف زبانوں کے الفاظ، لہجے اور تہذیبی حوالہ جات ان کے تخلیقی شعور کو مزید وسعت دیتے ہیں۔
________________________________________
شاعر سے محقق تک — ادب کا دوسرا چہرہ
شاعری کے ساتھ شاکر خان بلَچ کی دلچسپی تحقیق اور تنقید میں بھی رہی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سرگودھا سے اردو ادب میں ایم فل کیا۔یہ مرحلہ ان کے ادبی سفر میں ایک نئی فکری منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تخلیق کار جب تحقیق کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو اسے اپنی ہی ادبی روایت کو ایک فاصلے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ شعر کیسا محسوس ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ شعر کی ساخت کیسے بنتی ہے، ادبی روایت کہاں سے آتی ہے اور زمانہ فن کے مزاج کو کس طرح بدلتا ہے۔
شاکر خان بلَچ کے لیے تحقیق نے شاعری اور مطالعے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کیا۔ یوں ان کی ادبی شخصیت میں تخلیقی احساس کے ساتھ علمی شعور بھی شامل ہوا۔
________________________________________
استاد شاکر خان بلَچ — کلاس روم سے زندگی تک
ان کی عملی زندگی میں تدریس ایک مستقل اور اہم باب ہے۔2014ء میں پنجاب گروپ آف کالجز سے بطور لیکچرر وابستگی نے ان کے تدریسی سفر کو باقاعدہ پیشہ ورانہ شکل دی۔ 2016ء میں وہ آل صفہ کالج میانوالی سے وابستہ ہوئے اور اردو کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔
استاد کے طور پر ان کے پاس صرف کتاب کا علم نہیں تھا؛ وہ خود ادب کے عملی میدان سے آئے تھے۔ ان کے سامنے شعر بھی تھا، کتاب بھی، ریڈیو بھی، محفل بھی اور زندگی کے مختلف تجربات بھی۔ اسی لیے کلاس روم میں اردو ان کے لیے محض ایک مضمون نہیں رہی بلکہ ایک زندہ تجربہ بن گئی۔
طلبہ کو ادب پڑھانے والا استاد جب خود شاعر ہو تو شعر کی تشریح صرف کتابی تعریفوں تک محدود نہیں رہتی۔ لفظ کے پیچھے موجود کیفیت، شاعر کا زمانہ، انسانی جذبہ اور زبان کی موسیقیت بھی گفتگو کا حصہ بن جاتی ہے۔
________________________________________
RGC میانوالی — تدریس سے تعلیمی قیادت تک
2020ء میں شاکر خان بلَچ نے RGC میانوالی میں شعبۂ اردو کے سربراہ اور Admission Incharge کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔یہ مرحلہ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں ایک اہم تبدیلی کی علامت تھا۔ اب ان کی ذمہ داری صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہی تھی۔ شعبے کی نگرانی، طلبہ کی رہنمائی، تعلیمی انتظام اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں نے ان کے کردار کو ایک وسیع تر شکل دی۔
ایک استاد کا شعبہ سربراہ بننا اس کی تدریسی صلاحیت کے ساتھ انتظامی اعتماد کی بھی علامت ہوتا ہے۔ شاکر خان بلَچ نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور تعلیمی ماحول میں اپنا کردار ادا کیا۔
________________________________________
دی ریڈر گروپ آف کالجز — تعلیم اور انتظام کا امتزاج
2018ء میں شاکر خان بلَچ دی ریڈر گروپ آف کالجز سے اردو لیکچرر کے طور پر وابستہ ہوئے، جبکہ 2020ء میں وہاں Admissions Officer کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔یہاں ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آیا۔ ایک طرف اردو ادب کی تدریس تھی اور دوسری طرف طلبہ سے متعلق انتظامی معاملات۔ یوں ان کا تعلیمی کردار کلاس روم سے نکل کر ادارے کے وسیع تر ماحول تک پہنچا۔
یہ تجربہ ان کے لیے نوجوانوں کے قریب رہنے اور ان کے تعلیمی مسائل کو زیادہ وسیع زاویے سے سمجھنے کا ذریعہ بنا۔
________________________________________
لاہور — نئے شہر، نئی ذمہ داریاں
2022ء شاکر خان بلَچ کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا سال ثابت ہوا۔ انہوں نے میانوالی سے لاہور کا رخ کیا۔لاہور میں ان کی پیشہ ورانہ وابستگی KIPS College اور Punjab Group of Colleges کے ساتھ قائم ہوئی۔ KIPS میں وہ لیکچرر کے طور پر وابستہ ہوئے جبکہ پنجاب گروپ آف کالجز میں سینئر لیکچرر کی حیثیت سے اپنی تدریسی خدمات جاری رکھیں۔
میانوالی سے لاہور تک کا سفر محض جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا۔ ایک مقامی ادبی ماحول میں تربیت پانے والا شاعر اب ملک کے بڑے تعلیمی اور ثقافتی مرکز میں اپنی علمی اور پیشہ ورانہ شناخت کو آگے بڑھا رہا تھا۔
________________________________________
ریڈیو — جب تحریر نے آواز اختیار کی
شاکر خان بلَچ کی شخصیت میں ریڈیو کا باب خاص اہمیت رکھتا ہے۔2013ء سے ان کی FM 93 سے وابستگی قائم ہوئی اور کمپیئرنگ کے ذریعے انہوں نے ریڈیو کی دنیا میں قدم رکھا۔ ادبی پروگراموں میں شرکت اور گفتگو نے ان کے اظہار کو ایک نئی جہت دی۔
کتاب کا قاری اپنے ہاتھ میں موجود صفحے کے ساتھ ہوتا ہے، مگر ریڈیو کا سامع صرف آواز کے ساتھ جڑتا ہے۔ آواز میں لہجہ ہوتا ہے، وقفہ ہوتا ہے، جذبہ ہوتا ہے اور ایک ایسا انسانی قرب ہوتا ہے جو تحریر سے مختلف تجربہ پیدا کرتا ہے۔
شاکر خان بلَچ نے ریڈیو کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ادبی رابطے کے وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ شعر، ادب، گفتگو اور سماجی موضوعات ان کے ریڈیو تجربے کے مختلف حصے رہے۔
________________________________________
فوٹو جرنلزم — آنکھ جو لفظ سے پہلے دیکھتی ہے
2018ء میں ان کی وابستگی MUSAS موساز کے ساتھ بطور فوٹو جرنلسٹ سامنے آئی۔یہ کردار بظاہر شاعری سے مختلف دکھائی دیتا ہے، مگر دونوں کے درمیان ایک بنیادی رشتہ موجود ہے: مشاہدہ۔
شاعر کسی منظر کو دیکھ کر اس میں چھپی کیفیت تلاش کرتا ہے۔ فوٹو جرنلسٹ اسی منظر کو ایک لمحے میں محفوظ کرتا ہے۔ ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور دوسرا تصویر۔
شاکر خان بلَچ کی شخصیت میں کیمرے اور قلم کا یہ امتزاج ان کے مشاہداتی مزاج کو نمایاں کرتا ہے۔ زندگی کے معمولی مناظر بھی حساس نظر کے لیے معنی رکھتے ہیں اور ایک ادیب کے لیے یہی معمولی منظر اکثر بڑے خیال کا دروازہ بن جاتا ہے۔
________________________________________
مقرر اور موٹیویشنل اسپیکر
2012ء سے شاکر خان بلَچ کی موٹیویشنل اسپیکنگ سے وابستگی بھی سامنے آتی ہے۔استاد اور شاعر دونوں کے لیے گفتگو ایک بنیادی صلاحیت ہے۔ استاد علم منتقل کرتا ہے اور مقرر خیال۔ شاکر خان بلَچ نے دونوں کرداروں کو اپنی شخصیت میں یکجا کیا۔
نوجوانوں کے ساتھ ان کا مسلسل تعلق انہیں ان کے خواب، تعلیمی مسائل، خود اعتمادی اور مستقبل کے سوالات سے جوڑتا رہا۔ اسی تجربے نے انہیں موٹیویشنل اسپیکنگ کے میدان میں بھی فعال رکھا۔
ان کے لیے نوجوان محض طلبہ نہیں بلکہ ایک ایسی نسل ہیں جس کے اندر مستقبل کی تعمیر کی صلاحیت موجود ہے۔ استاد کا کام اس صلاحیت کو پہچاننا اور اسے درست سمت دینا ہے۔
________________________________________
دبئی اور العین — وطن سے باہر کا تجربہ
شاکر خان بلَچ کی زندگی میں دبئی اور العین سے وابستگی بھی ایک اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے۔وطن سے باہر زندگی انسان کو اپنے ماحول، معاشرے اور شناخت کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ مختلف قوموں، زبانوں، ثقافتوں اور طرزِ زندگی سے واسطہ پڑتا ہے تو مشاہدے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔
ایک شاعر کے لیے یہ تجربات خاموشی سے اس کی شخصیت میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ بعض تجربات براہِ راست شعر بن جاتے ہیں اور بعض صرف سوچ کا انداز بدل دیتے ہیں۔
________________________________________
کتابوں کا عاشق — گھر میں قائم ایک ذاتی کتب خانہ
شاکر خان بلَچ کی شخصیت کا سب سے خوبصورت نجی پہلو ان کی کتاب دوستی ہے۔انہوں نے اپنے گھر میں ذاتی لائبریری قائم کر رکھی ہے اور کتابیں خریدنے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ایک ایسے دور میں جب مطالعے کی جگہ مختصر ڈیجیٹل مواد تیزی سے لے رہا ہے، کسی ادیب کا کتاب خریدنا، اسے سنبھالنا اور گھر میں محفوظ کرنا ایک خاص فکری وابستگی کی علامت ہے۔
ان کے لیے کتاب محض کاغذ کے صفحات نہیں۔ کتاب خاموش استاد بھی ہے، دوست بھی اور مسلسل مکالمہ بھی۔شاید اسی لیے ان کی شخصیت میں شاعر، استاد اور محقق تینوں کردار ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ شاعری کو احساس چاہیے، تدریس کو علم اور تحقیق کو مطالعہ؛ اور یہ تینوں راستے آخرکار کتاب کی طرف جاتے ہیں۔
________________________________________
ادب اور جدید میڈیا کا ملاپ
شاکر خان بلَچ نے اپنے ادبی سفر کو صرف کتاب اور مشاعرے تک محدود نہیں رکھا۔ ان کی موجودگی جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔
YouTube، TikTok اور Instagram جیسے ذرائع نے موجودہ دور کے ادیب کو براہِ راست اپنے قارئین اور سامعین تک پہنچنے کا موقع دیا ہے۔ شاکر خان بلَچ نے بھی اس بدلتے ہوئے ابلاغی ماحول میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
یہ تبدیلی اس لحاظ سے اہم ہے کہ آج کا شاعر صرف کتاب کا شاعر نہیں رہا۔ وہ کیمرے کے سامنے بھی آتا ہے، آواز میں شعر پڑھتا ہے، مختصر ویڈیو میں گفتگو کرتا ہے اور ایک ہی دن میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔شاکر خان بلَچ کی شخصیت میں روایتی ادب اور جدید ابلاغ کا یہی امتزاج انہیں اپنے عہد سے مربوط رکھتا ہے۔
________________________________________
زندگی کی ترتیب — چند اہم سنگِ میل
• 2001ء — گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی میں تعلیم کا آغاز۔
• 2003ء — گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی کا تعلیمی مرحلہ مکمل۔
• 2008ء — شعری مجموعہ “خواب میں بہتی آنکھ” منظرِ عام پر آیا۔
• 2012ء — موٹیویشنل اسپیکنگ سے وابستگی۔
• 2013ء — FM 93 سے کمپیئرنگ کا آغاز۔
• 2014ء — پنجاب گروپ آف کالجز سے بطور لیکچرر وابستگی۔
• 2016ء — آل صفہ کالج میانوالی کے شعبۂ اردو سے وابستگی۔
• 2018ء — MUSAS موساز سے بطور فوٹو جرنلسٹ وابستگی۔
• 2018ء — دی ریڈر گروپ آف کالجز میں اردو لیکچرر کی حیثیت سے خدمات۔
• 2020ء — RGC میانوالی میں شعبۂ اردو کے سربراہ اور Admission Incharge مقرر ہوئے۔
• 2020ء — دی ریڈر گروپ آف کالجز میں Admissions Officer کی ذمہ داری سنبھالی۔
• 2022ء — RGC میانوالی سے علیحدگی اور لاہور منتقلی۔
• 2022ء — KIPS College سے بطور لیکچرر وابستگی۔
• 2022ء — پنجاب گروپ آف کالجز میں سینئر لیکچرر کی حیثیت سے خدمات۔
• بعد کے مرحلے میں — یونیورسٹی آف سرگودھا سے اردو ادب میں ایم فل کیا۔
• مسلسل — شاعری، فکشن، تحقیق، تدریس، ریڈیو، موٹیویشنل اسپیکنگ، فوٹو جرنلزم اور ادبی سرگرمیوں سے وابستگی برقرار رہی۔
________________________________________
شاکر خان بلَچ کی شخصیت کا اصل حسن
کسی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس کے عہدوں کی فہرست کافی نہیں ہوتی۔ اصل شخصیت اس وقت سامنے آتی ہے جب مختلف کرداروں کے درمیان موجود تعلق کو دیکھا جائے۔
شاکر خان بلَچ کو صرف شاعر کہا جائے تو ان کے استاد کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ صرف استاد کہا جائے تو شاعر، فکشن نگار اور محقق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ انہیں صرف ریڈیو سے جوڑا جائے تو ان کی کتابوں سے محبت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ اور اگر انہیں صرف میانوالی کا ادیب کہا جائے تو لاہور سمیت وسیع تر تعلیمی اور ابلاغی سفر نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
ان کی شخصیت دراصل ان تمام حوالوں کا مجموعہ ہے۔
وہ کتاب سے نکل کر کلاس روم میں آتے ہیں، کلاس روم سے ریڈیو تک جاتے ہیں، ریڈیو سے ادبی محفل میں پہنچتے ہیں، کیمرے کے ذریعے منظر محفوظ کرتے ہیں اور پھر واپس کتابوں کی دنیا میں لوٹ آتے ہیں۔
یہی گردش ان کی شخصیت کو زندہ رکھتی ہے۔
________________________________________
میانوالی کی ادبی روایت کا ایک جدید چہرہ
میانوالی کی ادبی روایت قدیم بھی ہے اور زندہ بھی۔ یہاں شاعری محض کتابوں میں نہیں رہتی؛ محفل، گفتگو، زبان اور روزمرہ زندگی میں سانس لیتی ہے۔
شاکر خان بلَچ اسی روایت کے ایک جدید نمائندہ ہیں۔ انہوں نے مقامی ادبی ماحول سے تربیت حاصل کی، اسے اپنی شاعری میں جذب کیا، پھر تعلیم، ریڈیو، تحقیق، فکشن اور جدید میڈیا کے ذریعے اس دائرے کو وسیع کیا۔
ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ماضی کی ادبی روایت اور موجودہ دور کے اظہار کے درمیان فاصلہ پیدا نہیں کرتے۔ ان کے ہاں کتاب بھی موجود ہے اور سوشل میڈیا بھی، مشاعرہ بھی ہے اور ریڈیو بھی، کلاس روم بھی ہے اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی۔
یہی امتزاج انہیں اپنے عہد کے تناظر میں قابلِ توجہ بناتا ہے۔
________________________________________
ایک سفر جو ابھی مکمل نہیں ہوا
شاکر خان بلَچ کی زندگی کو اگر ایک مسلسل داستان سمجھا جائے تو اس کے کئی ابواب مکمل ہو چکے ہیں، مگر کتاب ابھی بند نہیں ہوئی۔
میانوالی کے طالب علم سے شاعر تک کا سفر، شاعر سے مصنف تک کا مرحلہ، استاد سے شعبہ سربراہ تک کی ذمہ داری، ریڈیو سے عوامی رابطہ، کیمرے سے مشاہدہ، تحقیق سے علمی گہرائی اور کتابوں سے مسلسل رشتہ—یہ سب ان کی زندگی کے الگ الگ ابواب ہیں، مگر ان سب کا مرکزی کردار ایک ہی ہے: شاکر خان بلَچ۔
ان کی ادبی زندگی کا اصل حسن یہی تسلسل ہے۔ انہوں نے ایک راستہ اختیار کر کے باقی راستے بند نہیں کیے بلکہ ہر نئے تجربے کو اپنی شخصیت میں شامل کیا۔شاید اسی لیے ان کی شخصیت کو کسی ایک عنوان میں قید کرنا مشکل ہے۔
وہ شاعر بھی ہیں اور استاد بھی، محقق بھی اور کہانی کار بھی، مقرر بھی اور ریڈیو سے وابستہ آواز بھی، فوٹو جرنلسٹ بھی اور کتابوں کے عاشق بھی۔
اور ان سب شناختوں کے پیچھے ایک ایسا انسان کھڑا ہے جس کے لیے ادب کا آخری مخاطب انسان ہے۔
________________________________________
لفظوں سے انسانوں تک
شاکر خان بلَچ کا سفر میانوالی کی ادبی فضا سے شروع ہوا اور مختلف شہروں، اداروں، محفلوں اور ابلاغی ذرائع سے گزرتا ہوا ایک وسیع تخلیقی دائرے میں تبدیل ہوا۔ اس سفر میں شعر نے انہیں اظہار دیا، کتاب نے علم دیا، استادوں نے سمت دی، تحقیق نے گہرائی عطا کی، تدریس نے نوجوانوں سے جوڑا، ریڈیو نے آواز دی، فوٹو جرنلزم نے مشاہدہ دیا اور زندگی کے تجربات نے ان سب کو ایک دوسرے سے ملا دیا۔
“خواب میں بہتی آنکھ” ان کے شعری سفر کا ایک روشن حوالہ ہے، لیکن شاکر خان بلَچ کی پوری شخصیت کسی ایک کتاب کے صفحات میں سما جانے والی چیز نہیں۔ ان کی اصل داستان ان صفحات کے باہر بھی لکھی جا رہی ہے—کلاس روم میں، کتابوں کے درمیان، ریڈیو کے مائیکروفون کے سامنے، ادبی محفلوں میں، کیمرے کے پیچھے اور ان نوجوان ذہنوں میں جنہیں وہ علم اور حوصلے کا راستہ دکھاتے ہیں۔
ایک ادیب کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس کا نام کتنی جگہ لکھا گیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے لفظ کتنے دلوں میں جگہ بنا سکے۔
شاکر خان بلَچ کی شخصیت اسی امکان کی نمائندگی کرتی ہے۔
میانوالی کی مٹی سے اٹھنے والی یہ آواز شعر سے شروع ہوئی، علم سے مضبوط ہوئی، تجربے سے وسیع ہوئی اور انسانیت تک پہنچ کر اپنی اصل معنویت حاصل کرتی ہے۔

Bahut shukria … Dili taor par mamnoon hun