عاصم بخاری کی شاعری میں طنز کی کاٹ
مضمون نگار – راحت امیر نیازی
اگر اردو شاعری میں طنز کے آغاز و ارتقا اور روایت کی بات کی جائے تو یہ روایت بہت قدیم اور مضبوط ہے۔ طنز ایک انتہائی طاقتور اور موثر ہتھکنڈا ہے جو ایک ماہر لکھاری اپنی مہارت کے ذریعے برت کے معاشرتی برائیوں، سیاسی ناانصافیوں ، اخلاقی کمزوریوں، طبقاتی تفاوت اور انسانی منافقت کو نشانہ بناتا ہے۔ اردو
اردو شاعری کے ابتدائی زمانے میں طنزیہ عناصر زیادہ تر ہجو اور شخصی تنقید کی صورت میں ملتے ہیں۔ جن میں مخالفین، معاشرتی رویوں اور بعض شخصی کمزوریوں نشانہ بنایا جات۔
یہ سلسلہ دہلی اور لکھنؤ
کلاسیکی دور سے نظیر اکبرآبادی تک پہچتا ہے۔جس نے عام زندگی، معاشرتی طبقات اور انسانی عادات و اطوار کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
غالب کی اگر بات کی جائےتو غالب کا طنزیہ اسلوب واقعی غالب ہے۔
مرزا غالب کے کلام میں ظرافت اور معاشرتی شعور نمایاں ہے۔
اکبر الٰہ آبادی کو طنزیہ شاعری میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، معاشرتی تبدیلیوں، سیاسی رویوں اور نام نہاد جدیدیت کو طنز کے راستے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔
بعد ازاں دور ِجدید میں حسرت موہانی، اقبال، فیض، جمیل الدین عالی، ابنِ انشا اور دوسرے شعراء کے ہاں مختلف صورتوں میں طنزیہ و مزاحیہ شعری اظہار ملتا ہے۔
اسی سلسلہ کی اگلی کڑی آج کے طنز نگاروں میں ایک اہم اور نمایاں نام عاصم بخاری کا ہے۔بخاری صاحب میانوالی سے ہیں۔قدرت نے یہ ملکہ انہیں خوب ودیعت کیا ہے۔غیر محسوس انداز میں انتہائی شگفتہ انداز میں طنز کا کمال نشتر چلاتے ہیں۔ جشن ِ آزادی کے پُر مسرت موقع پر طنز کی کیا خفیف انداز میں چوٹ کرتے ہیں۔
شعر ملاحظہ ہو
باجا ہے اور ساوا چولا بھی
جشن ِ آزادی اب کے ، خوب ہو گا
بخار کے ہاں خوب برجستگی پائی جاتی ہے۔
سماجی و معاشرتی شعور پر یوم ِ پاکستان 14 اگست کے موقع پر اس انداز سےطنز کرتے ہیں۔شعر
باجے ہی دیکھے میں نے چودہ کو
تھامے پرچم تو کوئی کم دیکھا
بخاری عمومی معصومیت اور سادگی پر محدود سوچ پر کچھ اس انداز سے چوٹ کرتے ہیں۔شعر
ہم نے چودہ اگست پر عاصم
ساوے چولے ہی صرف پائے
معاشرے اور معاشرتی بے حسی کے رویوں پر بھی بخاری کا قلم تلوار کے جیسے چلتے ہوئے خوب جراحی کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں عموما” یہ تصویر بہ کثرت پائی جای ہے کہ والدینجساولاد پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں خرچ کرتے ہیں زندگی کے آخری موڑ پر وہی اولاد کام۔نہیں آتی جب کہبے کار اولاد جس سے توقع نہیں ہوتی وہی اس موقع پر کام۔آتی ہے۔بخاری کے طنزکا خفیف نشتر اسے کچھ یوں تاڑتا ہے۔شعر
کار والوں کی تو قسمت میں سعادت یہ نہ تھی
کام آیا باپ کے بے کار بیٹا ہی فقط
بخاری صاحب میانوالی کی سماجی و جذباتی تربیت کی تصویر کشی پر کچھ اس انداز سے طنز کا تیر چلاتے ہیں۔شعر
سختیاں جیل کی تو سہہ لیتی
بات سہتی نہیں میاں والی
عاصم بخاری کاتخیل بیدار ہے۔ان کامشاہدہ بہت گہرا ہے۔جشن ِ آزادی کے موقع پر جوانوں کی جذباتی صورت حالی کو فکری اور تقابلی انداز میں کچھ یوں نبھاتے ہیں۔شعر
کیا مناتا ہے کوئی دنیا میں
ہم مناتے ہیں جیسے آزادی
حیرت ہے دنیاکسانداز میں اپنے قومی دن مناتی ہے او ہمکن چکروں میں پڑ جاتے ہیں۔شعر
جشن ِ آزادی اب کے ، خوب ہو گا
“باجا ” ہے اور ، “ساوا “چولا بھی
ہم مسلمان ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے پر ہمارا مکمل یقین ہے۔ مگر کتنے دکھ کی بات ہے کہ اور کہیں تو کجا مسجد میں بھی کیمروں کےنصب ہونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہےتاکہ نمازی چوری سے محفوظ رہ سکیں۔شعر
مسجد میں نصب ہوتے اگر سی سی کیمرے
جوتے نہ اٹھتے حاضر و ناظر کے گھر سے بھی
تصنع بناوٹ اور دکھاوے کا دور دورہ ہے۔اعمال میں وہ خلوص نظر نہیں آتا۔حالاں کہ یہ سب عبادات خالصتا” اور قُربتا” الا اللہ تھیں مگر ان میں بھی دکھاوا اور دنیا داری در آئی۔شعر
کون ، مانے گا ، تیری قربانی
اک نہ تصویر ساتھ ، بکرے کے
سحری کا وقت عبادات کاوقت تھا لیکن آج کل اس وقت بھی سب کو سحری مبارک کا میسج کرکے دنیا کو یہ بتانا اور دکھانا ہےکہ میں روزہ رکھ رہا ہوں ۔جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”الصومُ لی۔۔۔ ” روزہ میرے لیے ہےاور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔شعر
آیا میسج نہ وقت سحری کے
کون مانے گا ، روزہ رکھا ہے
خانہ کعبہ میں ہم عبادات بجا لانے جاتے ، مگر صد افسوس وہاں بھی ہمیں دنیا داری اور دکھاوا یاد ہوتا ہے۔نمود و نمائش لاحق ہوتی ہے۔شعر
حاجی تبھی کہیں گے تجھے واپسی پہ سب
عاصم طواف ِ کعبہ کی تصویر لوڈ کر
سماجی معاشرتی اور روحانی کرب اور ناہمواریوں کا ہمدردانہ شعور بخاری کے اشعار میں بہ کثرت ملتا ہے۔
بخاری کی نگاہ عقابی ہے۔معاشرے میں دکھاوا کتنا برت گیا ہے مدد کرتے وقت تصویر بنا کر دنیا کو دکھانا کتنا لازم سمجھا جاتا ہے۔شعر
تو مدد کا ہے مستحق لیکن
کیمرے بن مدد کروں کیسے
ہمارےاطوار میں نمائش کسقدر عود کرگئی ہے کہ ہر عمل ہم دنیا کو دکھانےکی غرض سے کتے ہیں۔ حالاں کہ یہ عمل بھی صرف اور صرفرب کی رضا کے لیے ہی تھا۔شعر
سلسلہ امداد کا جاری رہا
آن جب تک کیمرے سارے رہے
اسلامی تعلیمات میں نماز روزہ حج اور زکات کا فلسفہ شاید ہم صحیح طور پ نہیں سمجھ پائے۔ عبادات اور معاملات کی صحیح تفہیمنہ ہوئی۔متعدد حج اور عمرے کرنے کے باوجود حقوق العباد کی پرواہ کیے بغیر اس عمل پر بھی غور و خوض کی دعوت دی جات ہے۔شعر
عمرے کو وہ ہوا روانہ جب
گاؤں ڈوبا ہوا تھا پانئ میں
تمام اعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہوں تونامکےساتھ حاجی کاسابقہ ہم کیوں لازمی سمجھتے ہیں بخاری صاحب کہتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں تو اگر لازمہیں تو حاجی کی طرح وہ بھی ساتھ لکھوائیں۔شعر
صومی بھی ہو صلاتی بھی عاصم
نام کے ساتھ صرف حاجی کیوں
زمانے کے تغیر وبدل پربخاری حیراں دکھائی دیتے ہیں کہ بھلائی اور اچھائی تو ہر دور میں ہوتی تھی مگر پرانے لوگوں میں اخلاص تھا مگربڑے افسوس ک ساتھ آج ریا کاری ہے۔شعر
نیکی دریا میں اب کہاں ڈلتی
ڈالی جاتی ہے فیس بک پر ہی
اسی باتکا ایکاور انداز دیکھیں
شعر
نیکی دریا میں اب کہاں ڈلتی
ڈالی جاتی ہے میڈیا پر ہی
کیا خوب طنزیہ اندازہے دور ِ حاضر پر
شعر
کتنے سادہ تھے لوگ پہلےبھی
نیکی دریا میں ڈال دیتے تھے
رشوت سناتی کامرض بھی قوم کو دیمک کی طرح چاٹے جا رہا ہے اسی بات کو کیا خوب صورتی سے بخاری نے طنزیہ پیرائے میں لیا ہے۔شعر
پہلے اک آدھ ، کوئی لیتا تھا
رشوت اک آدھ ، اب نہیں لیتا
راحت امیر خان تری خیلوی: صحافی اور کالم نگار
