قدیمی اور تاریخی تحصیل عیسیٰ خیل
تحصیل عیسیٰ خیل ایک قدیمی اور تاریخی تحصیل ہے۔ اس علاقہ کو عیسیٰ خان اور ہیبت خان نیازی پشتون (پٹھانوں) کی نسل نے 1425ء میں اس علاقہ میانوالی (کچھی) پر قبضہ کر کے آباد کیا۔
بعد ازاں سکھوں اور انگریزی دور میں بھی ان کی سرداری قائم رہی اور اپنی روایات اور ثقافت برقرار رکھی۔
ہندوستان پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد 1849ء میں ضلع بنوں میں شامل کرکے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ علاقہ کی خود مختیار ریاست کی حیثیت تھی۔ 1901ء میں تحصیل عیسیٰ خیل کو بنوں سے علیحدہ کرکے ضلع میانوالی میں شامل کرکے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔
تحصیل عیسیٰ خیل جغرافیائی لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے شمال میں صوبہ خیبرپختونخوا کا ضلع کوہاٹ، مغرب میں کرک اور لکی مروت کے اضلاع، جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان اور مشرق میں دریائے سندھ سے پار میانوالی ہے۔
تحصیل عیسیٰ خیل قدرتی وسائل، معدنیات، نباتات و دیگر نعمتوں سے مالامال ہے۔ اس کے شمالی پہاڑی علاقہ کالاباغ میں نمک، لوہا، تانبا اور شکردرہ میں قدرتی گیس، کمرمشانی میں کوئلے اور سلکان کی کانیں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔
جبکہ مغرب اور جنوب میں اعلیٰ قسم کی ریت اور یورینیم کے ذخائر موجود ہیں۔ اس طرح جنوب مغرب دریائے کرم اور مشرق میں دریائے سندھ بہتے ہیں۔ عیسیٰ خیل سے کالا باغ تک میدانی علاقے ہیں جہاں ہر قسم کی فصلیں اور باغات پائے جاتے ہیں۔
اس تحصیل میں نیازی پٹھانوں کے علاوہ کافی تعداد میں خٹک اور ملک برادری سمیت بہت سی قومیں بھی آباد ہیں۔ اس کے مکین جفاکش اور دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہیں جو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور دفاع میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس تحصیل کے زیادہ تر جوان ملک کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زراعت، تعلیم اور دوسرے شعبہ جات میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے اتنے وسائل ہونے کے باوجود کچھ علاقے بنیادی سہولیات، خاص کر صحت، تعلیم اور پینے کے پانی و دیگر سہولیات سے محروم ہیں اور روزگار کے مواقع محدود ہیں، جس کی وجہ سے دیہی علاقہ کے لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
علاقہ کے جاگیرداروں اور سیاسی نمائندوں نے عوام کی فلاح و بہبود، علاقہ کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اتنا خاص کردار ادا نہیں کیا۔
لیکن اب نئی نسل میں اپنی اور علاقہ کی خوشحالی اور ترقی کے لیے شعور بیدار ہو رہا ہے، جس سے تعلیم اور کاروبار میں اضافہ سے لوگوں کی زندگی بسر کرنے میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں اور علاقہ کی خوشحالی و ترقی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کی زندگی گزارنے میں آسانیاں فراہم کرے۔ آمین۔

