قابلِ احترام اور مثالی اساتذہ
اس کالم میں آپ کو عیسیٰ خیل اور اس کے مضافات کے اچھی شہرت رکھنے والے اساتذہ سے روشناس کرانے کی کوشش کروں گا۔
میں چھ سال کا تھا جب گورنمنٹ پرائمری اسکول عیسیٰ خیل (جو اب ہائی اسکول نمبر 2 ہو چکا ہے) میں داخل ہوا۔ جب ہم پہلی سے دوسری جماعت میں گئے تو ماسٹر عبدالکریم کنڈی ہم تین لڑکوں کو لے کر محلہ عیسب خیل میں آئے اور وہاں ‘ایم۔ بی۔ پرائمری جدید اسکول’ کی بنیاد رکھی۔ میں نے یہاں پانچویں تک تعلیم حاصل کی۔ اس دوران ہیڈ ماسٹر عبدالکریم کنڈی، عبدالغفار خان مقرب خیل، خان محمد بیرم خیل اور محمد بشیر قریشی ہمارے اساتذہ تھے، جو کہ سب انتہائی شریف، قابل اور محنتی تھے۔
پنجم پاس کرنے کے بعد میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول عیسیٰ خیل (جو اس وقت گرلز ہائی اسکول ہے) میں داخلہ لیا۔ اس وقت عاشق حسین شاہ ہیڈ ماسٹر، فیض محمد خان سیکنڈ ماسٹر، جبکہ ظفر اللہ خان، سرفراز خان، محمد اکرم شاہ، نصیر الدین، غلام حسین شاہ، غلام محمد خان، نور محمد، قاضی ابو بکر (فارسی ٹیچر)، شیر محمد (عربی ٹیچر)، رحمت اللہ (ڈرائنگ ٹیچر) اور غلام رسول (ڈرل ٹیچر) اساتذہ تھے۔ ان میں فیض محمد خان اور ظفر اللہ خان زیادہ تعلیم یافتہ تھے، مگر پڑھاتے کم اور مارتے یا رعب زیادہ ڈالتے تھے۔ سرفراز خان میانوالی کے رہائشی تھے، جو نہایت لائق، محنتی، کم گو اور شریف انسان تھے؛ وہ زیادہ تر نہم اور دہم کو ریاضی اور ساتھ انگلش بھی پڑھاتے تھے۔ غلام محمد خان کا تعلق کمر مشانی سے تھا، یہ مڈل کلاس تک ریاضی پڑھاتے تھے اور کافی محنت کرتے تھے، وہ ریاضی اور الجبرا کے ماہر تھے۔ وہ محلہ بمبرا میں رہتے تھے اور ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے، جن میں سے ایک حسنین خان اب ڈاکٹر ہیں۔ نصیر الدین مڈل تک انگریزی پڑھاتے تھے، جبکہ غلام حسین شاہ اور نور محمد وغیرہ اردو، اسلامیات اور معاشرتی علوم پڑھاتے تھے۔ اس وقت عیسیٰ خیل میں ترگ کے لڑکے (جو سائیکل پر آتے تھے) اور لکی مروت کے لڑکے نہم اور دہم میں پڑھنے آتے تھے، باہر کے اساتذہ اور لڑکوں کی رہائش کے لیے بورڈنگ (ہاسٹل) قائم تھا۔
جب ہم جماعت نہم میں گئے تو موجودہ گورنمنٹ ہائی اسکول کی نئی عمارت بن چکی تھی، چنانچہ ہم 1964 میں وہاں شفٹ ہوئے اور 1965 میں میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد میں حصولِ روزگار کے لیے فوج میں بھرتی ہو گیا۔ 1985 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد، مارچ 1986 میں، میں نے محکمہ تعلیم میں بطور پی۔ ٹی۔ سی ملازمت اختیار کر لی۔ اس دوران میرا مختلف اسکولوں میں تبادلہ ہوتا رہا، جہاں ساتھی اساتذہ کے علاوہ علاقے کے دوسرے اساتذہ سے بھی واسطہ اور تعلق رہا۔ اس عرصے میں میری نظر میں جو اچھے اور مثالی اساتذہ آئے، وہ درج ذیل ہیں:
1۔ محمد ارشد ہاشمی: ان کا تعلق عیسیٰ خیل کے قریشی خاندان سے ہے اور وہ حافظِ قرآن بھی ہیں۔ وہ گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول شیخ آباد، بھور شریف اور عیسیٰ خیل میں ہیڈ ماسٹر رہے ہیں۔ ان کو علم سے بے حد لگاؤ تھا، خود بھی محنت سے پڑھاتے تھے اور اسٹاف کو بھی پابند رکھتے تھے، اور انہوں نے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا۔ گرمیوں کی چھٹیوں اور سالانہ امتحانات کے دوران، خصوصاً بورڈ امتحانات کے لیے، وہ اضافی کلاسیں لگا کر اسٹوڈنٹس پر محنت کرتے تھے۔ وہ نہایت شریف اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں۔ میں بھی ان کی زیرِ نگرانی اوپر مذکورہ تینوں اسکولوں میں ان کے ساتھ رہا۔
2۔ عبدالعزیز شاہ: ان کا تعلق عیسیٰ خیل کے گیلانی سادات خاندان سے ہے۔ یہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں ٹیچر اور ایلیمنٹری اسکول عیسیٰ خیل میں بطور ہیڈ ماسٹر رہے ہیں۔ وہ اچھے، محنتی اور بااخلاق انسان ہیں، ان کا پڑھانے کا انداز ایسا تھا جس سے اسٹوڈنٹس جلد سمجھ جاتے تھے۔ وہ ایک ہمدرد اور غریب پرور شخص ہیں، ان کے ساتھ بھی میں نے ملازمت کی ہے۔
3۔ ملک ضیاء الحق: ان کا شمار اچھے اساتذہ اور بہترین منتظمین میں ہوتا ہے۔ ان کا اسٹاف پر مکمل کنٹرول رہتا تھا اور وہ میرٹ کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر اور مختلف مڈل اسکولوں کے ہیڈ رہے ہیں اور علاقے میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔
4۔ محمد نصیر چشتی: ان کا شمار بھی ایک اچھے اور مثالی اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کا خاندان محنت کش تھا، لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنا ایک مقام بنایا۔ آپ نے ہائی اسکول کے ٹیچر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا، اور پھر اپنی محنت سے پرائیویٹ ایجوکیشن کا ہائی کلاسز تک ایک بہترین سیٹ اپ بنایا جس کا معیار بہت اچھا ہے۔ آپ مختلف ہائی اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور تحصیل عیسیٰ خیل کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر بھی رہے ہیں۔
5۔ ظفر اللہ خان شیخ: ان کا تعلق شیخ موسیٰ خیل کی شیخ پٹھان فیملی سے ہے۔ ان کی فیملی اتنی پڑھی لکھی نہیں تھی، لیکن انہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے تعلیم حاصل کر کے ہائی اسکول میں بطور ٹیچر کیریئر کا آغاز کیا۔ آپ گورنمنٹ ہائی اسکول کہگلنوالا اور عیسیٰ خیل کے ہیڈ ماسٹر رہے ہیں۔ آپ ایک اچھے، قابل ٹیچر اور بہترین منتظم تھے جنہوں نے ہمیشہ میرٹ اور قانون کے مطابق کام کیا۔ انہوں نے اسٹاف کے ساتھ ایک اچھا ماحول پیدا کیا اور سب سے اخلاق سے پیش آتے تھے۔ ان کے بھائی حبیب اللہ خان بھی ہائی اسکول کے ٹیچر رہے ہیں، اب دونوں ریٹائر ہو چکے ہیں۔
6۔ مس نسیم بیگم: آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں، آپ کا تعلق عیسیٰ خیل کے کہانی خیل قبیلے سے تھا۔ آپ کی پوری فیملی پڑھی لکھی ہے؛ آپ کے دو بھائی رفعت حیات اور لیاقت حیات ہائی اسکول کے ٹیچر ہیں اور ایک بھائی شوکت حیات امریکہ میں ڈاکٹر ہیں۔ آپ ایک بہترین اور مثالی ٹیچر اور ہیڈ مسٹریس تھیں۔ آپ کا اسٹاف اور طالبات پر مکمل کنٹرول تھا، وہ سخت طبیعت رکھتی تھیں اور ہمیشہ میرٹ، قانون اور اصول کے مطابق کام کرتی تھیں، انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی اور نہ ہی سفارش مانی۔ ان کی 30-35 سالہ مدتِ ملازمت میں میٹرک کا رزلٹ ہمیشہ 100% رہا۔ انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر شادی نہیں کی تھی، چنانچہ آپ لاولد وفات پا گئیں۔ ان کی قابلیت، میرٹ اور بہترین انتظام کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔
7۔ ملک صوفیانہ: آپ کا تعلق ایک کھڈیر خاندان سے ہے۔ آپ نے ‘نئی روشنی اسکول’ سے بطور سپروائزر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے پرائیویٹ ‘سن شائن ماڈل اسکول’ کی بنیاد رکھی، جو عیسیٰ خیل میں پہلا پرائیویٹ اسکول تھا اور اس وقت ہائی کلاس تک پہنچ چکا ہے اور اس کا معیار بہت بہتر ہے۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کر لی اور Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔ آپ بھی نہایت محنتی اور قابلِ مثال شخصیت ہیں، آپ نے بھی ابھی تک شادی نہیں کی۔ ان کے والد غلام اکبر کھڈیر بھی ہائی اسکول کے ٹیچر تھے۔
ویسے تو تمام اساتذہ قابلِ احترام اور لائقِ عزت ہیں، اور کئی دوسرے ٹیچرز بھی اس معیار کے ہوں گے، لیکن میری نظر میں جو اساتذہ اس اہمیت کے حامل تھے، میں نے ان کا ذکر کر دیا۔
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
