CHACHA AKBAR CYCLEON WALA… AIK YAADGAR KIRDAR

 

چاچا اکبر سائیکلوں والا ۔۔۔ایک یادگار کردار

میں 1971 سے 1976 تک سنڑل ماڈل ہائی سکول میں پڑھتا رہا ہوں ۔یہ ایک ایسا دور تھا جہاں پڑھائی اور امتحانات کی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی مار کا خوف اور سکول کے ڈسپلن کی پابندی ہر وقت ملحوظ خاطر رہتی ۔بہت کم مواقع ایسے میسر ہوتے کہ ہم انجوائے کر سکتے۔کسی دن چار آنے کی بجائے آٹھ آنے کا جیب خرچ مل جاتا،سکول میں کوی غیر متوقع چھٹی ہو جاتی،استاد صاحب غیر حاضر ہو جاتے اور گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ایسے حسین مواقع ہوتے کہ جیسے ہمیں دنیا جہان کی خوشیاں مل گئی ہیں ۔
البتہ سکول کے اندر اور سکول سے باہر کچھ ایسے کردار تھے جن سے ناقابل فراموش یادیں وابستہ ہیں۔اور جنھیں اب یاد کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ معصومیت کا وہ دور کتنا حسین اور پر سکون تھا ۔
سکول سے غیر متعلقہ کچھ ایسے کردار تھے جو ہمارے معمولات کے ساتھ ایسے جڑے تھے کہ ان کا ذکر کئے بغیر سکول کی یادیں ادھوری رہ جاتی ہیں جیسے تفریح کے وقت سکول میں چھولے بیچنے والے منشی جی جو سائیکل سٹینڈ کے نزدیک “مٌوڑے” کے اوپر ایک بڑے تھال میں چھولے لگاتے تھے۔
چار آنے کی ایک پلیٹ ہوتی ۔ان چھولوں کا ذائقہ آج تک نہیں بھولا ۔
ایک کردار جو آج تک مجھے یاد ہے وہ چاچا اکبر سائیکلوں والا تھا جو کچہری پل کے ساتھ نہر کے غربی کنارے اور سڑک کے شمالی فٹ پاتھ کے ساتھ کھگل کے درخت کے نیچے سائیکلوں کی مرمت کا کام کرتا تھا(اس سے شمال میں کچھ فاصلے پر میانوالی کا گاڑیوں کا اکلوتا سروس سٹیشن ہوتا تھا جہاں ایک صاحب “لانڈری” پہن کر بیٹھے ہوتے تھے۔وہ سروس سٹیشن شیخ شاھد مرحوم المعروف شدا بھائی لوگوں کا تھا۔پتہ نہیں ابھی تک ہے بھی سہی یا نہیں)۔اس دور میں دیہاتوں کے تمام بچے پیدل یا سائیکلوں پر اور میانوالی شہر کے بچے ٹانگے اور سائیکلوں پر اور تمام اساتذہ بھی سائیکلوں پر سکول آتے تھے ۔دو تین بچے جن کے والد ٹھیکیدار یا وکیل تھے، انھیں “پھٹکڑیں (سکوٹر)” پر سکول چھوڑ جاتے تھے ۔ اس دور میں سہراب اور ایگل کمپنی کے سائیکل ہوتے تھے ۔
کچھ بچوں کے سائیکل تو بہت سجے سجاے ہوتے تھے مثلا ہینڈل کے ساتھ بید کی ٹوکری،ہینڈل پر دائیں “مٌٹھ” کے ساتھ گھنٹی،ہینڈل کے نیچے گول سی لائیٹ،ڈنڈے کے ساتھ کلپوں کے ساتھ چمٹا ہؤا ٹائروں میں ھوا بھرنے والا پمپ، پیڈلوں پر پلاسٹک کے کور،پچھلے ٹائر کے ساتھ لگا ڈائنمو ،پچھلے مڈگاڑڈ پر لال بتی اور کاٹھی کے پیچھے نیچے تالا لگا ہوتا ۔
لیکن ہماری طرح کی ایک بڑی اکثریت بچوں کے سائیکل “یتیم” ہوتے.ڈائنمو،لائیٹ،ٹوکری اور تالے والے “مذاق” کو تو چھوڑیں، ان کے ضروری “”اعضاء ” بھی ناکارہ ہو چکے ہوتے اور یوں لگتا کہ یہ سائیکل “مرزا کی بائیسکل” کی نسل سے ہیں ۔
ہر فرلانگ کے بعد چین اتر جاتی،پیڈلوں میں صرف سٹیل کی چمکتی ہوی ایک “”کِلی” موجودہ ہوتی جو سائیکل کے پیڈل ہونے کا احساس دلاتی۔کاٹھی کے آدھے سپرنگ غائب اور آدھے ٹوٹے ہوتے چناچہ کاٹھی پر کپاس کی پوٹلی کو”سِیڑھ “کے ساتھ باندھا ہوتا۔پچھلی کاٹھی پر بستہ رسی سے باندھ دیتے۔۔
ایسے حالات میں ہماری سائیکلوں کا آخری آسرا اور سہارا چاچا اکبر سائیکلوں والے ہوتے۔ہفتے میں ایک دو دفعہ حاضری تو ضروری ہوتی۔
چاچا اکبر گرمیوں سردیوں میں کالے ملیشئیے کے لباس میں ملبوس ہوتے ۔کپڑوں پر جگہہ جگہہ”گریس ” کے نشان لگے ہوتے ۔ان کی اس دوکان یا”ڈھابے ” کی کل کائنات ایک لکڑی کا”بکسا ” تھا جس میں سائیکلوں کی مرمت اور” پنچر” لگانے والے ضروی”آلات “رکھے ہوتے تھے اور ایک پانی والی بالٹی تھی جس میں”پنچر (پنکچر)” چیک کرتے۔جونہی ہم سائیکل لے کر ان کے پاس پہنچتے،وہ فوراً باقی کام چھوڑ کر ہمارے پاس پہنچ جاتے ۔
اگر ہم کہتے چاچا سائیکل چلتے ہوئے”” تمکدا “ہے (مطلب بیلینس نہیں ہے) ،تو وہ فوراً “رینچ” لے کر اور سائیکل کے اگلے پہییے کو اپنی ٹانگوں میں پھنسا کر،پیچوں کو کبھی کستے کبھی ڈھیلا کرتے ۔یہ کھیل دس پندرہ منٹ جاری رہتا ۔پھر اعلان فرماتے کہ لے جائیں نہیں “تمکے”گا ۔وہ علیحدہ بات ہے کہ دو تین بعد پھر وہی حالات ہوتے.
جب کبھی ہم شکایت کرتے “”چاچا ۔اس دی چین وت وت لاہ ویندی ہے،کوئ پکا بندوبست کریں ہا “”
چاچا اکبر گریس والے ہاتھ سے سر کے بالوں میں کٌھجلی کرتے،چہرے پر دانشورانہ سنجیدگی لاتے جیسے کسی گہری سوچ میں چلے گئے ہوں.پھر قمیض کو الٹا کرکے ناک صاف کرتے اور پھر گویا ہوتے ۔””پٌتر اِس دے کٌتے فیل ہِن ۔۔ کم نِن کریںندے پئیے ۔نویں پوا چا “”
پھر ہم منت سماجت کرتے تو چین میں سے ایک آدھ “”گٌھری” نکالتے۔”کٌتوں” کو گریس کرتے اور چین چڑھا کر سائیکل ہمارے حوالے کر دیتے ۔
اگر ٹائیر میں ہوا کم ہوتی تو غور سے ہسٹری لیتے اور پھر فیصلہ کرتے کہ ہوا بھرنی ہے یا پنچر لگانا ہے .ان کی طائرانہ نظر فوراً کسی””بکھڑے دے کنڈے” یا “”میخ (کیل)” کو دیکھ لیتی ۔سائیکل کو زمین پر لٹا دیتے ۔ہوا نکالتے ۔ٹیوب کو ٹائر سے نکالتے ۔ٹیوب میں ہوا بھرتے ۔ٹیوب کو پانی والی بالٹی میں غوطے دیتے ۔جونہی پنچر نظر آتا،کان پر لٹکی نیلے سکے والی پینسل سے پنچر کے گرد دائرہ لگاتے ۔پھر ٹیوب کے اس حصے کو “ہوائی “سے خوب رگڑتے ۔ساتھ بکسے سے کسی پرانی ٹیوب کا ایک ٹکڑا کاٹتے اور اسے بھی ہوائی سے خوب رگڑتے ۔پھر بکسے سے ایک مخصوص ڈبی نکالتے اور اس میں سے لال رنگ کا “سلوشن” انگلی کے ذریعے نکال کر رگڑے ہوے ٹیوب کے ٹکڑے اور ٹیوب والے حصے پر اچھی طرح لگاتے ۔کچھ دیر کے لئے دونوں کو خشک کرنے کے لیے رکھ دیتے ۔باقی کاموں سے فارغ ہو کر دوبارہ رخ کرتے ۔اگر سلوشن خشک نہ ہوا ہوتا تو اسے مونہہ سے “پٌھکارے” مار کر خشک کرتے اور پھر ٹکڑے کو ٹیوب پر چمٹا دیتے ۔
ہوا بھر کر ٹیوب کو چیک کرتے اور پھر آخر کار ٹیوب کو ٹائر میں ڈال کر اور ہوا بھر کر اپنی مزدوری لیتے اور ہم گھر کو روانہ ہوتے۔
انھوں نے ایک بڑا”پمپ “رکھا ہؤا تھا ۔ جسے چوری ہونے کے ڈر سے رسی سے باندھ رکھا تھا ۔ہوا بھرنے کے پیسے نہیں لیتے تھے ۔۔بلکہ اگر کوئ بچہ چھوٹا ہوتا اور اس سے ھوا نہ بھری جا رہی ہوتی تو چاچا اکبر خود آ جاتے۔قمیض کے اگلے حصے کو “کھاڈی”(ٹھوڑی) تلے دبا کر،پمپ کی ہتھی کو دونوں ہاتھوں سے دبا کر پورا زور لگا کر ہوا بھرتے ۔کئی دفعہ زور لگاتے لگاتے پھسل بھی جاتے لیکن ہوا بھر کر چھوڑتے ۔اگر بچہ پیسے دینے کی کوشش کرتا تو کہتے
“”خیر ہے پٌتر۔۔وت سہی””

چاچا اکبر کی کل کائنات وہ ایک بکسا،پنچر لگانے کے لئے پانی والی بالٹی اور پمپ تھے ۔”کھگل دی ٹینڑیاں”( کھگل کی شاخوں) تے سائیکل کے پرانے ٹائیر اور ٹیوبیں لٹکی ہوتیں جو دور سے ان کی دوکان کا تعارف کرا رہی ہوتیں ۔

۔اسی کی دھائی کے شروع تک تو آتے جاتے چاچا اکبر کا دیدار ہو جاتا تھا ۔۔لیکن کافی عرصہ ہوا ان کی دوکان ختم ہو چکی ۔۔
پتہ نہیں اب چاچا اکبر زندہ بھی ہیں یا نہیں ۔
ہماری زندگیوں میں اب ایسے کردار بہت کم رہ گئے جو حق حلال کا رزق کمانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مدد کا وسیلہ بھی بنیں ۔

دعاؤں کا طالب!

ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی

شہباز خیل

CHACHA AKBAR CYCLEON WALA… AIK YAADGAR KIRDAR

CHACHA AKBAR CYCLEON WALA… AIK YAADGAR KIRDAR

  چاچا اکبر سائیکلوں والا ۔۔۔ایک یادگار کردار میں 1971 سے 1976 تک سنڑل ماڈل ہائی سکول میں پڑھتا رہا...
Read More
DR. WILAYAT KHAN NIAZI OF TRAG KI YAAD MEIN

DR. WILAYAT KHAN NIAZI OF TRAG KI YAAD MEIN

ڈاکٹر ولایت خان نیازی آف ترگ کی یاد میں : آج چھٹی تھی ۔پرانی تصویریں دیکھ رہا تھا تو اچانک...
Read More
“MIANWALI KE MAREEZAN DA SAB TON VADDA MASLA: ‘IS NOON PINDI GHIN VANJO.'”

“MIANWALI KE MAREEZAN DA SAB TON VADDA MASLA: ‘IS NOON PINDI GHIN VANJO.'”

میانوالی کے مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ:"اس نوں پنڈی گھن ونجو"   میں اس نازک موضوع پر شاید قلم...
Read More
“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

اماں گھماں : لوک پیا اج عید مناوے میں وی عید مسیتی پڑھی ڈیکھنڑ اچ تاں کٌجھ نیں بدلا ہر...
Read More
TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

DOCTOR  TARIQ MASOOD KHAN NIAZI DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI WAS  BORN ON MAY 16, 1961 .HE PASSED HIS PRIMARY...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top