میانوالی کے مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ:”اس نوں پنڈی گھن ونجو”
میں اس نازک موضوع پر شاید قلم نہ اٹھاتا لیکن سوشل میڈیا پر اس خبر نے کہ میانوالی میں لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوندکاری) کا ڈیپارٹمنٹ کھلنے جا رہا ہے ۔۔
میں نے محسوس کیا کہ میں وہ ضرور عرض کر دوں جو میرے نزدیک میانوالی کے عوام کے لئے زیادہ ضروری اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے اور جو اس وقت میانوالی کے مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن ہے ۔۔۔۔۔
اور یہ بڑا مسئلہ ہے میانوالی کے سیریس مریضوں کو راولپنڈی اور دوسرے بڑے شہروں میں بغرض علاج ریفر کرنا ہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں اس فوری توجہ طلب مسئلہ اور اس کے حل کی طرف آؤں ،میں مختصراً میانوالی میں صحت کی سہولیات کی تاریخ بتانا چاہتا ہوں ۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی پچاس کی دھائی میں بنا ۔اس سے پہلے پرانے ڈی ایچ او آفس نزد عید گاہ سول ہسپتال ہوتا تھا۔ جو قیام پاکستان سے پہلے سے قائم تھا ۔پچاس کی دھائی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بن گیا ۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پرائیوٹ سیکٹر میں صرف مرحوم ڈاکٹر نور محمد خان خنکی خیل بلوخیل روڈ پر واحد ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے ۔اس دور میں حکیم عبد الرحیم خان خنکی خیل اور ان کے بھائی ڈاکٹر محمد عظیم خان کے ہسپتال بھی تھے ۔ڈاکٹر محمد عظیم خان ایل ایس ایم ایف ڈاکٹر تھے (اس زمانے چونکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بہت کم تھے ۔چنانچہ میٹرک کے بعد چار سال کا کورس کرنے کے بعد اپ کو ایل ایس ایم ایف کی ڈگری مل جاتی تھی اور اگر آپ بعد میں صرف سرجری کا امتحان پاس کر لیتے تو آپ کو ایم بی بی ایس کی ڈگری مل جاتی تھی).بچوں کے امراض کے لئے حکیم شاہ جہان خان خنکی خیل کا کلینک مشہور تھا ۔۔ بلو خیل روڈ پر حاجی محمد بھروں ایک سیانے تھے ،جو ڈاکٹر یا ڈسپینسر نہیں تھے لیکن ہڈی اور جوڑوں کے فریکچر کے علاج کے لیے مشہور تھے۔بعد میں ان کا ایک شاگرد لال مسیح یہی کام کرتا تھا
ستر کی دہائی میں ڈاکٹر شیر افگن مرحوم ،ڈاکٹر کیپٹن انور شیرمان خیل مرحوم ، ڈاکٹر عطا اللہ خاں مرحوم آف موچھ اور بعد میں ڈاکٹر اسلم خان مرحوم تری خیل پرائیوٹ سیکٹر میں آئے اور اپنے ہسپتال بناے ۔۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ستر کی دھائی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی میں ایم ایس کے علاوہ صرف دو ڈاکٹر ہوتے تھے۔ ڈاکٹر عاشق صاحب مرحوم اور ڈاکٹر اکرم عالم خیل مرحوم ۔پہلی لیڈی ڈاکٹر ڈاکٹر ساجدہ صاحبہ اف موچھ تھیں ساٹھ کی دھائی میں ۔۔پھر ستر کی دہائی میں سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میانوالی ظہیر یوسفی صاحب کی اہلیہ ویمن میڈیکل آفیسر کے طور پر کچھ عرصہ تعینات رہیں ۔۔۔
آج 2026 میں ماشاءاللہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بہت سارے ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ لیڈی ڈاکٹرز اور بہت سارے ڈاکٹر اور سپیشلسٹ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں ۔اور ماشاءاللہ کافی ڈاکٹروں کو اپنے شعبے میں مہارت حاصل ہے ۔ہیں سی ٹی سکین لگ چکا ہے ۔وینٹیلیٹر تک موجود ہیں ۔۔
پرائیویٹ سیکٹر میں بھی بہترین ڈاکٹر ،ہسپتال اور تشخیص کے سنٹر موجود ہیں ۔
میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی میں 1998سے لے کر 2001 تک تقریباً تین سال سے زیادہ عرصہ ایم ایس تعینات رہا ہوں ۔۔۔
آج کل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی اور اس میں مہیا کی گئی سہولتوں اور ہسپتال کی کارکردگی پر سوشل میڈیا پر کافی خبریں آتی رہتی ہیں جو مثبت اور منفی دونوں طرح کی ہوتی ہیں ۔۔
ویسے تو پاکستان کے تمام ہسپتالوں میں وہاں کے مریضوں کے بے شمار مسائل ہیں ۔ ہماری آبادی زیادہ ہے وسائل محدود ہیں ۔لیکن صحت اور تعلیم کبھی بھی ہماری حکومتوں کی ترجیح نہیں رہے ۔۔ہر دور میں حکمران اپنی عیش و عشرت کے لئے پیسے نکال لیتے ہیں لیکن ہمارے جیسے پسماندہ علاقوں کے لیے ان کے پاس فنڈ ہوتے نہیں اور اگر اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوں تو وہ صحت کی غلط پالیسیوں اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والی نوکر شاہی کی غلط منصوب بندیوں کی نذر ہو جاتے ہیں ۔جن کا کام حکومت کو صحیح مشورہ دینے کی بجائے خوشامد اور واہ جی واہ اور کیا بات ہے اور کیا ویژن ہے کہہ کہہ کر اپنی نوکری پکی کرتے ہیں..
میرے خیال میں اسوقت میانوالی کے لوگوں کو جگر کی پیوندکاری جیسا مہنگا اور ناقابل عمل منصوبہ دینے کی بجائے ، مریضوں کے اصل مسئلہ کی طرف توجہ دی جاے اور وہ ہے میانوالی میں نیورو سرجن اور نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے سیریس مریضوں خاص طور پر لڑائی جھگڑے اور ایکسیڈینٹ والے مریضوں کا ہسپتال کے اندر علاج نہ ہونا اور انھیں دوسرے شہروں کے ہسپتالوں میں ریفر کرنا ہے ۔جس کو سوشل میڈیا کی زبان اور اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ “”مریض نوں پنڈی گھن ونجو “۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ایسے اکثریت کیسز میں ڈاکٹروں کا قصور نہیں ہوتا ۔بلکہ اکثر ایسے کیسز میں سر کی چوٹ لگی ہوتی ہے جس کے لئے مریض کو نیورو سرجن کی رائے اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔لیکن چونکہ میانوالی میں نیورو سرجن تعینات نہیں ہے ۔ اس لئے ایسے مریض ریفر کرنا مجبوری ہوتی ہے اور مریض کے مفاد میں کیا جاتا ہے
اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ میانوالی کے پالیسی سازوں جن میں اہل اقتدار سیاست دان،با اختیار بیوروکریسی اور سول سوسائٹی شامل ہیں ، صوبائی حکومت پر زور دیں کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نیورو سرجن تعینات کیا جائے اور ایک نیورو سرجری وارڈ بنایا جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھا سرجیکل آئ سی یو ہو جہاں نیورو سرجن،ارتھو پیڈک سرجن ،جنرل سرجن اور انستھزیا کے سپیشلسٹ کی ایک ٹیم ہو جو اس سرجیکل ای سی یو کا انتظام چلاے۔اور یہ ای سی یو تمام ضروری طبی آلات سے لیس اور آراستہ ہو جیسے ایم آر آئی ،سی ٹی سکین ،کارڈیک مانیٹر اور وینٹیلیٹر وغیرہ (ان میں سے اکثریت آلات موجود ہیں).
جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ اکثریت مریض تو جینیوئین بنیادوں پر دوسرے شہروں میں علاج کے لئے ریفر کئے جاتے ہیں ۔۔
لیکن اب ہم اس کا دوسرا پہلو بھی دیکھتے ہیں ۔
مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ کیسز ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف جان چھڑانے کے لئے ریفر کئے جاتے ہیں ( میرے ساتھی ڈاکٹروں کو یہ بات بری لگے گی لیکن یہ نہ صرف میرا مشاہدہ ہے بلکہ ذاتی تلخ تجربہ بھی ہے)۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی کے اکثر ڈاکٹر میرے چھوٹے بھائیوں اور بچوں کی طرح ہیں اور بہت بڑی اکثریت اچھے اور اپنے شعبے سے مخلص ہیں ۔ لیکن ان کو ایک بات ذھن میں رکھنی چاہیے کہ جب وہ مریض راولپنڈی یا کسی دوسرے شہر میں ریفر کرتے ہیں تو وہاں جب مریض جاتا ہے (کچھ مریض تو راستے میں فوت ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں جلدی میں اور بغیر stable کئے ریفر کر دیا جاتا ہے) تو وہاں اس ریفر کئے گئے ہسپتال میں اکثریت مریضوں کو ہاؤس آفیسرز اٹینڈ کرتے ہیں۔ یعنی میانوالی کے ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر کا ریفر کیا ہؤا مریض وہاں ایک نا تجربہ کار ہاؤس جاب والا ڈاکٹر دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔اس لئے میری گزارش ہے کہ جن مریضوں کو ریفر کرنا مقصود ہو انھیں stable کر کے اور اچھی طرح سوچ بچار کے بعد ریفر کرنا چاہیے ۔۔
اب میں اپنا تلخ تجربہ بتا دوں ۔ یہ پانچ چھ سال پہلے کی بات ہے ۔میں ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں تعینات تھا ۔میرے ایک جاننے والے کو پیٹ میں گولی لگ گئی ۔میرے عزیز نے مجھے فون کیا کہ ہمیں میانوالی سے پنڈی ریفر کیا جا رہا ہے ۔خیر میں نے ہولی فیملی ہسپتال میں سرجیکل ای سی یو میں ایک بیڈ اور وینٹیلیٹر اس کے لیے مختص کرا دیا ۔پھر میں نے میانوالی اپنے جاننے والے سرجن کو فون کیا کہ مریض کی کیا حالت ہے اور اسے stable کرکے بھیجنا ۔سرجن نے مجھے جو جواب دیا ،میں ہو بہو نقل کر رہا ہوں ۔۔”””سر میں آپ کا مریض اپریشن تھیٹر میں شفٹ کرا رہا ہوں ۔میں نے انیستھٹیث کو فون کیا ہے کہ فوراً پہنچو ایک مریض ہے تو انیستھٹیث نے آگے سے کہا ۔۔۔”””یار میں تاں انھاں نوں پنڈی واسطے راضی کر گدا ھئیی ۔شہبازخیلاں توں جان چٌھڑوا ۔۔وڈلے پچھاں ہاں کھا وے سٌن”””۔۔۔۔سرجن نے انیستھٹیث کو بولا۔۔ “”سر طارق کا مریض ہے ۔اپ جلدی پہنچیں”””
اس مریض کی پیٹ کی سرجری کی گئی ۔ ایک خون کی رگ سے خون بہہ رہا تھا ۔اس کو بند کیا گیا ۔۔دوسرے دن جب وہ stable ہو گیا تو پھر ہولی فیملی ہسپتال ریفر کر دیا گیا ۔۔الحمدللہ وہ مریض بعد میں ٹھیک ہو کر گھر واپس آیا۔۔۔
بہرحال میری میانوالی کے اربابِ اختیار سے یہی گزارش ہو گی کہ میانوالی میں نیورو سرجن کو تعینات کر کے ایک اچھا نیورو سرجری وارڈ اور سرجیکل آئ سی یو بنایا جائے تاکہ مریض دوسرے شہروں میں ریفر اور ذلیل ہونے سے بچ جائیں اور جہاں ان کا علاج معالجے پر خرچ کے علاوہ آنے جانے ،رہائش اور کھانے پینے اور مہمانوں کی خاطر مدارت پر اچھا خاصا پیسہ خرچ ہو جاتا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی انتظامیہ سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ ایک ایسا میکانزم بنائیں کہ کوی مریض غیر ضروری ریفر نہ ہو بلکہ صرف جینوئن مریض اور وہ بھی stable ہونے کے بعد مکمل ریفرل پروٹوکول کو فالو کرتے ہوئے دوسرے شہروں کے ہسپتالوں میں ریفر کئے جائیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ میانوالی کے ارباب اختیار اپنی ترجیحات مقرر کریں ۔لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوندکاری)( یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ میرے علم کے مطابق پنجاب میں صرف چند مخصوص ادارے ہیں جہاں پروفیسر حضرات کی موجودگی میں لیور ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے۔۔راولپنڈی کے تینوں ہسپتالوں میں لیور ٹرانسپلانٹ کی سہولت موجود نہیں),میڈیکل کالج کا قیام اور دوسرے شعبوں کا قیام ضرور کریں۔۔ لیکن پہلے اس نیورو سرجری اور ریفرل والے مسئلے کو حل کریں جو سب سے زیادہ ضروری اور حل طلب ہے اور جس سے ہزاروں مریضوں کا نہ صرف ایمرجنسی علاج ممکن ہو سکے گا بلکہ دوسرے شہروں میں ریفرل سے جو خواری ہوتی ہے اور جو اضافی اخراجات ہوتے ہیں ،مریض ان سے بچ جائیں گے اور جو کریٹیکل یا ابتدائی نازک وقت ہوتا ہے جو کہ ایمبولینس کا انتظام کرنے ،مریض کو شفٹ کرنے اور سفر میں ضائع ہو جاتا ہے، وہ بچ جانے گا۔۔اور مریضوں کا بہتر طور پر علاج ہو سکے گا ۔۔
ایک طرز تغافل ہے سو ان کو مبارک
ایک عرض تمنا ہے ہم کرتے رہیں گے
دعاؤں کا طالب!
ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی
شہباز خیل
میانوالی ڈاٹ آرگ ٹیم کا تجزیہ
محترم ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی صاحب!
آپ کا میانوالی میں طبی سہولیات اور مریضوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تحریر کردہ مضمون پڑھنے کا موقع ملا۔ اس اہم موضوع کو جس درد مندی، حقیقت پسندی اور اخلاص کے ساتھ آپ نے اجاگر کیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میانوالی کے عوام کی ایک بڑی تعداد روزانہ ان مسائل کا سامنا کرتی ہے، لیکن ان کی آواز شاذ و نادر ہی اس انداز میں سامنے آتی ہے۔
میں بالخصوص آپ کی اس خواہش اور یادداشت کو سراہتا ہوں کہ آپ نے صرف موجودہ مسائل کی نشاندہی نہیں کی بلکہ میانوالی میں طبی خدمات کی تاریخ، قدیم طبی مراکز، اور ان ڈاکٹروں کی خدمات کو بھی یاد کیا جنہوں نے مختلف ادوار میں اس خطے کے عوام کی خدمت کی۔ میری خواہش ہے کہ آپ مستقبل میں میانوالی کی طبی تاریخ، یہاں کے نمایاں ڈاکٹروں، ہسپتالوں اور طبی اداروں کے ارتقاء پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالیں۔ یہ معلومات نئی نسل کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوں گی۔
جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مریضوں کو معمولی یا درمیانے درجے کی بیماریوں کے لیے بھی دوسرے شہروں میں ریفر کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف مریض ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کے تیمارداروں کو بھی شدید مالی، سفری اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ علاج کی تلاش میں دوسرے شہروں کے چکر اکثر مریض اور اس کے خاندان کے لیے ایک اضافی آزمائش بن جاتے ہیں۔
تاہم اس صورتحال کی ذمہ داری صرف ایک فریق پر عائد نہیں ہوتی۔ اس میں ہم سب کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں۔ سب سے پہلے میں خود کو اور میانوالی کے عوام کو ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے بنیادی حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اجتماعی آواز بلند نہ کر سکے۔ اسی طرح ہمارے سیاسی نمائندے بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکے جو ضلع میانوالی کو جدید اور مکمل طبی سہولیات فراہم کرنے کے پابند تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ بعض طبی اداروں اور چند ڈاکٹروں کا رویہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ عوام کی شکایت یہ ہے کہ بعض اوقات مریض کے مکمل علاج اور تشخیص کی بجائے اسے جلد از جلد دوسرے مراکز کی طرف ریفر کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ بہت سے ڈاکٹر انتہائی دیانت داری اور خلوص سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن مجموعی نظام میں موجود کمزوریاں عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب میانوالی میں بعض اہم طبی سہولیات قائم ہوئیں اور بعد ازاں ان کی نوعیت تبدیل ہوئی یا وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہو گئیں، تو ہم بحیثیت معاشرہ ان کے تحفظ کے لیے مؤثر جدوجہد نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر ماں اور بچے کے لیے قائم خصوصی طبی سہولیات کے خاتمے یا تبدیلی کے وقت اگر عوامی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی جاتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔
آخر میں، میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ایک نہایت اہم اور حساس عوامی مسئلے کو اجاگر کیا۔ ایسی تحریریں نہ صرف شعور بیدار کرتی ہیں بلکہ متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ امید ہے کہ آپ مستقبل میں بھی میانوالی کے سماجی، تعلیمی اور طبی مسائل پر اسی جرات اور خلوص کے ساتھ قلم اٹھاتے رہیں گے۔
والسلام
