آج کل غصب کی گرمی پڑ رہی ہے ۔راولپنڈی کا مزاج اتنا گرم تو کبھی نہیں تھا ۔چھٹی کا دن تھا ۔ناشتہ دیر سے کیا۔روٹین کا سودا سلف خرید کر واپس ایا تو شدت سے پیاس لگی ہوئی تھی ۔نمکیں لسی کے دو “مٰنگرے “چِِھک جانے کے بعد ایسا سویا کہ چار بجے آنکھ کھلی ۔گھر والوں کو کہا
” بًھک لگی ہے ۔کوئی پچھائیں دا بندوبست کرو ہا”
بچوں نے پوچھا کہ “پچھائیں ” کس ڈش کا نام ہے ۔بچوں کو پچھائیں سمجھائی اور میں چالیس پچاس سال پیچھے چلا گیا ۔
گاؤں میں زندگی کا اغاز “دھمی ایلے نال (اسٌور ایلے نال،چِٹی نماز ایلے نال)” ہو جاتا تھا ۔ایک طرف گھر کے مرد و خواتین (اکثریت) نماز پڑھتے ۔خواتین گاں منجھ(گاے بھینس) دی دھار کڈھیندیاں ہن (دودھ چوہنا) اور پھر کِھرکا کِھر کھیندی ہن (مدھانی سے دودھ سے لسی اور مکھن بنانا) اور اس کے بعد چوکھراں(جانوروں)دیاں اٌکھراڑیاں (کھرلیاں) اِچ گٌتاوہ گھتے دیاں ھن ( کھل بنولہ والی خوراک جانوروں کو دی جاتی)۔
گھر کے مرد بیلوں کی جوڑی کو پانی پلاتے۔اپنی جھاری میں پینے کا پانی ڈالتے ۔پنجالی کے ذریعے دونوں بیلوں کو جکڑتے ۔پھر “ھلبٌڑ” کے ذریعے ھل کو پنجالی سے جوڑتے ۔”چھمٌک” ہاتھ میں لیتے اور کھیتوں کو نکل جاتے ۔
صبح ناشتے کا کؤی بندوبست نہیں ہوتا تھا ۔
جڈاں چار پنج کانے ڈہیں چڑھدا ہئئی (جب سورج طلوع ہونے کے بعد دو تین گھنٹے کا وقت ہوتا) تو خواتین روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہو کر تندور کو گرم کرتیں (اس کو تندور میں جٌھلکا گھتڑاں کہتے). جب تندور”بکھ” جاتا (گرم ہو کر سرخ ہو جانا) تو روٹیاں لگائی جاتیں۔تندور کو گرم دیکھ کر “اوانڈھ گوانڈھ”( پڑوس) کی خواتین بھی “سانڑکیوں”(پراتیں) میں “ملا (گوندھا)ہوا آٹا” لے کر پہنچ جاتیں ۔تندور میں روٹیاں بھی لگائی جاتیں اور محلے کی نئی تازی خبروں پر بحث کی جاتی اور نمک مسالحہ لگا کر تبصرہ کیا جاتا ۔۔
خاتون خانہ تندور والی روٹیوں پر دیسی گھی لگاتیں (گوگیاں نوں گھیو نال چٌپڑیں دیاں ہن)اور ان چوپڑی ہوئ روٹیوں کو کپڑے کے چکالے میں لپیٹ کر اور اس میں دو تین روڑیاں گٌڑ کی رکھ دیتیں اور ماٹی میں لسی ڈال کر یہ “برنچ” لے کر کھیتوں کو روانہ ہو جاتیں۔علی الصبح سے ہل چلا چلا کر اور “تتا تتا”اور” پالی پالی”کی آوازیں لگا لگا کر کسان بھوک سے نڈھال ہو چکے ہوتے ۔وہ ہل روک دیتے ۔بیلوں کو درخت کی چھاؤں میں کھڑا کرتے اور ادھر ہی چھاؤں کے نیچے زمین پر بیٹھ جاتے اور سیر ہو کر لسی اور چوپڑی ہوئ روٹیوں اور گڑ کا برنچ کرتے۔کسان تازہ دم ہوکر دو تین “کِیلے keelay” زمین پر مزید ہل چلاتے اور پھر آرام کرنے کے لئے گھر کی راہ لیتے ۔
گرمیوں میں گاؤں میں دوپہر کو ھٌو کا عالم ہوتا ۔تمام گھر والے کسی ڈھیڈی یا پراھاں یا چھپر میں آرام کرتے ۔ہر ایک چارپائی پر ایک سرہانہ اور ہاتھ والا پنکھا ہوتا۔
“جِھکی پیشیں ایلے” ( ظہر کا پچھلا وقت ) جب لوگ اٹھتے تو بھوک لگی ہوتی ۔اس وقت صبح کی بچی ہوی روٹی کو وصٌل (پیاز) ، گڑ یا چٹڑیں(چٹنی )،ساوی مرٌچ(سبز مرچ) یا چائے کے ساتھ کھایا جاتا ۔اس کو پچھائیں کہا جاتا ۔
پچھائیں کا لفظ پچھاویں سے نکلا ہے جس کا مطلب مکان یا دیوار کا سایہ ہوتا ہے ۔چونکہ اس وقت پچھاویں آ چکے ہوتے اور اکثر لوگ پچھائیں ان پچھانووں کے سائے میں یا درخت کے سائے میں کرتے ۔ اس لئے اس کو پچھائیں کہتے ۔
اس دور میں گھڑیاں نہیں تھیں ۔لوگ پچھاووں کا سائز دیکھ کر وقت کا اندازہ لگاتے ۔
پچھائیں کرنے کے بعد کسان دوبارہ کھیتوں کا رخ کرتے اور خواتین گھر کے کام کاج اور ہانڈی بنانے میں مصروف ہو جاتیں ۔اس دور میں ہانڈی یا کھانا صرف شام کو ہی بنتا تھا ۔۔
جب پچھائیں پیاز سے کی جاتی تو پہلے پیاز کو چارپائی کے “پاوے” پر رکھ کر اُوپر سے ہاتھ سے زور سے “مٌک” ماری جاتی ۔اس طرح پیاز ڈھیلا ہو جاتا۔پھر اس کا اوپر کا چھلکا اتارا جاتا اور پھر اس پر “لٌونڑ”(نمک) لگا کر پانی میں دھویا جاتا تاکہ اس کی “کڑکانڑ”( کڑواہٹ) ختم ہو جائے اور روٹی کے ساتھ پچھائیں میں کھایا جاتا ۔
اس زمانے میں چونکہ شہباز خیل کا کچہ (کیلا اور نارواں) خوب آباد تھا اور لوگ “ککٌش”( زمین پر سے غیر ضروری اور خودرو ہودوں کو صاف کر کے زمین کو آباد کرنا) کے ذریعے تھل کی زمینوں کو بھی اباد کر رہے تھے ۔چنانچہ اکثر دوپہر کو کچے یا تھل کے کؤی مہمان ا جاتے ۔ایسے میں ان کی تواضع گڑ والی شربت سے کی جاتی ۔ہمارے گاؤں میں ایک ہی “ھٹی” تھی جہاں “ورٌف”(برف) ملتی تھی۔ وہاں سے برف منگائ جاتی۔۔
جو برف ف شربت سے بچ جاتی اسے کپڑے میں لپیٹ کر “بھٌوں”( بھوسے) میں رکھ دیتے تاکہ گھل نہ جاے ۔
اگر” مزمانڑ “(مہمان) پچھائیں تک رک جاتے تو انھیں چاے کے ساتھ گھر کے دیسی انڈے بھی کھلاے جاتے ۔
گرمیوں کی شام کو گاؤں میں عجیب منظر ہوتا ۔کوئی “”گھا کپیندا ودا ہوندا ہئی (کؤی گھاس کاٹ رہا ہوتا) تو کوئ “واڑی”(خربوزوں اور تربوزوں کی فصل) سے خربوزے اور تربوز توڑ رہا ہوتا ۔کچھ لوگ فصل کو پانی لگا رہے ہوتے تو کہیں کچھ شکاری بارہ بور بندوق سے چڑیوں ،تلِوروں اور دوسرے پرندوں کا شکار کر رہے ہوتے۔
ہم بچے والی بال ،کھباکھنڈوری،مار تراڑ ،باڈی باڈ اور لٌونڑ پٹراں کھیلنے میں مصروف ہوتے ۔ہمارے گاؤں کی نہر اور سرکاری ٹیوب ویل پر نہانے والوں کا بہت رش ہوتا۔
جب سارا دن آگ برسا کر سورج کا غصہ کچھ کم ہوتا اور وہ لال رنگ لئے وقتی زوال کی طرف گامزن ہوتا تو ہمارے گاؤں کے “آجڑی “اور “چھیڑو ” ہاتھوں میں لاٹھیاں لئے اور “ٹٌبوں “(نیفوں) میں بانسریاں اور الغوزے لئے اپنے اپنے مال ( جانور) کے ساتھ کچے سے واپس آ رہے ہوتے ۔ آجڑیوں اور چھیڑیوں کے “کِھے”(مٹی) سے اٹے لیکن مخصوص اطمینان لئے چہرے اور”او گٌل مارتے” (جگالی کرتے) جانور اور ان کے گلے میں لٹکی گھنٹیوں کی آوازیں دراصل تابعداری ،تشکر کے اظہار ، توکل ،قناعت اور وصال کا اظہار ہوتا ۔
کسان اور گاؤں کے دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے کام نپٹا کر گھروں کو واپس آ رہے ہوتے ۔ “نِماشاں”(مغرب) کا وقت ہو جاتا۔ گھر کی بزرگ خاتون بھاجی آلی کٹوی (ہانڈی )کو ایک چارپائی کی “وڈانڑیں” پر رکھ دیتیں اور “تھالیوں”(پلیٹوں) میں “بھاجی”(سالن) ڈال کر اور چھکوریوں میں روٹی رکھ کر گھر کے تمام افراد کو جو چارپائیوں پر بیٹھے ہوتے،کو دی جاتی اور اس طرح مغرب کی نماز سے پہلے پہلے رات کا کھانا کھا لیا جاتا ۔
یوں موسم گرما کے دن کی سرگرمیوں کا اختتام ہوتا۔
دعاؤں کا طالب!
ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی
شہباز خیل
TARIQ MASOOD KHAN NIAZI
DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI WAS BORN ON MAY 16, 1961 .HE PASSED HIS PRIMARY...
Read More
Mianwali Da Culture
"میانوالی دا کلچر" ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کی تحریروں اور پوسٹس کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے، جو میانوالی کی...
Read More
MAAZI KE JHAROKOON SE
ماضی کے جھروکوں سے : آج شام کو واک کرکے گھر پہنچا تو تھکاوٹ کی وجہ سے برا حال تھا۔...
Read More
Mianwali Da Culture Vedios
Mianwali Da Culture is the collection of videos by DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI. In these videos he himself narrated...
Read More
chacha Niba Jat-chacha Nawab Baloch
چاچا نِبا جت "(چاچا نواب بلوچ) اپنے گاؤں شہباز خیل میں بھرپور عید گذاری ۔دوست احباب اور رشتہ داروں سے...
Read More
HAMARAY BACHPAN KA MAH RAMADAAN
ہمارے بچپن کا ماہ رمضان ۔ کل جب افطاری کرنے بیٹھا تو مجھے اپنے بچپن کا ماہ رمضان یاد آ...
Read More
HITO’s KA YADGAR SAFAR
ھیتو کا یادگار سفر پچھلے دنوں چھوٹے بھائی اور میانوالی کے نامور صحافی محترم عبد الرؤف شاہ صاحب نے کسی...
Read More
BACHPAN KE YAAR AUR” JAMATI” SE MULAQAAT :
بچپن کے یار اور "جماعتی" سے ملاقات: پچھلا ہفتہ بڑا مصروف گزرا ۔فیملی میں دو شادیاں تھیں ۔ایک ننھیالوں کی...
Read More
JETH DI GARMI TE CHACHE DULE ALA KUHO
جیٹھ دی گرمی تے : دُنی کراڑ آلی کھوئی تے چاچے دُلے آلا کُھو: آج جب دفتر سے باہر نکلا...
Read More
Meri Saqafat, Meri Zuban Meri Pehchan
میری ثقافت ،میری زبان ۔۔۔میری پہچان "میں اور میرا میانوالی " کے بعد میری خواہش ہے کہ ایک اور ایسی...
Read More
Aajri Naal Gal Baat | Dialogue with a Shepherd |Mianwali Cultural Life
آجڑی نال گل بات میری ثقافت ،میری زبان ۔۔میری پہچان نوٹ: میری میانوالی کی علاقائی زبان کے کئی الفاظ آہستہ...
Read More
“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL
اماں گھماں : لوک پیا اج عید مناوے میں وی عید مسیتی پڑھی ڈیکھنڑ اچ تاں کٌجھ نیں بدلا ہر...
Read More
PICHHAAI – پِچھائیں
پِچھائیں : آج کل غصب کی گرمی پڑ رہی ہے ۔راولپنڈی کا مزاج اتنا گرم تو کبھی نہیں تھا ۔چھٹی...
Read More
