چاچا  نِبا  جت “chacha Niba Jat-chacha Nawab Baloch(چاچا نواب بلوچ)

اپنے گاؤں شہباز خیل میں بھرپور عید گذاری ۔دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ایک شام محفل لگی ہوئی تھی تو باتوں باتوں میں پرانے لوگوں کا ذکرچھڑ گیا تو چاچے نواب بلوچ کا ذکر بھی ہؤا جس کو ہم “چاچا نِبا جت ” کہتے تھے۔
ہمارے گاؤں میں بلوچ قبیلے کے لوگ رہتے ہیں جو “اٌٹھ”(اونٹ) رکھتے اور باربرداری کا کام کرتے ہیں ۔ہم ان لوگوں کو”جت ” کہتے ہیں۔چاچے نبے جت نے بھی اونٹ رکھے ہوئے تھے۔انھیں اچھی نسل کے اونٹ رکھنے کا بہت شوق تھا.
چاچا نِبا ہر سال باقاعدگی سے شاہ عنایت کے میلے پر جاتے تھے ۔( بھکر کے نزدیک فتح پور کا علاقہ ہے جہاں مشہور بزرگ عنایت شاہ کے مزار پر ہر سال میلہ لگتا ہے)۔
چاچا نِبا میلے پر جانے سے پہلے میرے ماموں کی دوکان پر تشریف لاتے اور کہتے
“”شِرخان بھتریجا شاہ سوھنڑے دے میلے تے ونجڑاں ہِم ،سودا ڈیویں”””
پھروہ ایک پلاسٹک والی چھوٹی بوتل جیب سے نکالتے اور کہتے
“” اے بِیڑے (نسوار) دی بھر ڈے۔۔ہک نکا ڈبہ چاہ دے ڈے چا ۔ہک سیر گًڑ دا تول چا۔ہِک نلی سوئ دھاگے آلی ڈے چا جو لوڑ پو ویندی ہے “””
ایک دفعہ میں نے پوچھ لیا ۔۔
“””چاچا۔۔کھاوئٹڑ پکاونڑ دا کے کریندے ہو ۔۔بھاجی تے ٹّکٌر کتھوں گھندے ہو ؟””
چاچے نِبے نے مونہہ میں انگلی ڈال کر نسوار کو نکالا،انگلی کو تہمند سے صاف کیا اور بولا:
“”پٌتر جیہڑے سوہنڑے دے مِزمانڑ ہاں ،ٹکٌر پانڑیں اس دے ذمے ۔او سانوں بٌھکا نیں سمًنڑ ڈیندا “”
پھر سودا سلف پوٹلی میں باندھا اور دوکان سے روانہ ہو گیا ۔
روانہ ہوتے وقت ان کے چہرے پر عجیب خوشی اور اطمینان ہوتا.
چاچے نِبے نے بھیڑوں کا””اجٌڑ”” (ریوڑ) پال رکھا تھا. معاوضے پر محلے کے لوگوں کی بھیڑ بکریاں بھی چراتے تھے ۔
“”اجٌڑ اس دے پتر غلابا تے ککٌو چریندے ہن “”(ریوڑ آسکے بیٹے گلاب اور ککو چراتے تھے )
ان کے صحن میں ایک طرف””واڑا “”تھا جہاں وہ رات کو بھیڑ بکریاں بند کر دیتے۔دوسری طرف اونٹوں کی “”اٰکھراڑیاں”” تھیں جہاں وہ کِلے پر بندھے ہوتے ۔
آگر شام کو کسی کی بھیڑ گھر نہ پہنچتی تو چاچے نبے کو اطلاع دی جاتی۔
“”چاچا نِبا آپڑیں کندھ تے چڑ کے ہوکا ڈیندے ہن “” اس ہوکے(اعلان) کے الفاظ کچھ اس طرح ہوتے تھے۔””خیر ہونیں ۔۔ہوکا سٌنڑائے۔ہِک بھیڈ پِھٹ گئی ہے ۔نال چھتری ہِس۔ (مکمل بھیڑ ہونے سے پہلے مادہ بھیڑ چھتری کہلاتی ہے)۔بھیڈ دا خاکی رنگ دا جالنٌگ چڑا ہویا ہے۔ کالے کن ہِس ۔کیندے گھر آئ ہو وے تاں لا کرائے۔ خیر ہونے شالا ۔ہوکا مٌک گیا ہے “”
ہم نے بھی ایک بھیڑ پالی ہوئی تھی ۔جب اس کے جسم پر موجود اٌن (اوٌن) بڑھ جاتی تو “”پوتھی “” اتارنے کے لئے چاچے نِبے کو بلایا جاتا ۔۔چاچانبا ایک خاص سٹائل میں بڑی سی قینچی کو گردن کے پیچھے قمیض کی “”,گلاٹی “” میں لٹکائے حاضر ہو جاتے ۔ان کے ہاتھ میں ایک چرخی ہوتی(جس کو ڈھیرا ،گھیرڑیں یا چار جنگھی بھی کہا جاتا)جس کو وہ بار بار گھما رہے ہوتے..اور دونوں ہاتھوں کی تلیوں سے اوٌن مل کر اسے موٹے دھاگے کی شکل میں ڈھالتے جاتے اور اس دھاگے کو اس چرخی یا ڈھیرے پر لپیٹتے جاتے اور ڈھیرے یا چرخی کو زور سے لٹٰو کی طرح گھماتے رہتے۔
اس زمانے میں دروازے اور ڈور بیل کا کوئی رواج نہیں تھا ۔چاچا نبا دور سے آواز لگاتے “”ڈیکھاں کؤی گھر ودے ہوو ۔بھیڈ چھوڑ اڑائیں ۔پوتھی لواھنس تے وت میں ونجاں “”۔
چاچے نِبے کے اونٹ بڑے اعلیٰ ہوتے ۔شادی بیاہ کے موقع پر “کٌڑی”(دلہن) کی سواری کے لیے اونٹ کو خاص طور پر تیار کرتا۔اونٹ پر رنگین “”پلانڑاں “” رکھا جاتا جس کے اوپر “کچاوہ ” ڈالا جاتا ۔اونٹ کے گلے اور گھٹنوں کے گرد رنگین پراندے اور گھنگرو باندھے جاتا۔جب اونٹ چلتا تو چھڑنگ چھڑنگ کی آوازیں آتیں ۔
اونٹ کے بیٹھنے اور اٹھنے کا خاص سٹائل ہوتا ہے۔ ایسے میں چاچا نِبا اپنی مخصوص”ھٌش”” ھٌش””کی آواز اور کمال مہارت سے اونٹ کو بٹھاتا ۔۔
چاچے نبے کی یاد آتے ہی سارے مناظر کی فلم آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی ۔۔
واپسی پر میں نے سوچا چاچے نِبے کے گھر کو دیکھتا جاؤں تو پتہ چلا کہ چاچے نبے کی وفات کے بعد اس کے بچے یہ محلہ چھوڑ گئے ہیں اور کچھ تو شہر ہی چھوڑ گئے ہیں اور نہ ہی وہ اونٹ رکھتے ہیں اور نہ اجڑ ہے۔۔
کیسے کیسے کردار تھے۔پورے محلے کواپنے گھر کے افراد کی طرح سمجھنا ۔۔بغیر مطلب کے لوگوں کی خدمت کرنا ۔۔قناعت پسند ۔حلال کی روزی کمانے والے۔۔ ۔۔
افسوس ہماری نئی نسل ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں ۔۔۔
جا او سجڑاں حوالے رب دے ،تے میلے چار دناں دے ۔۔۔
اس دن عید مبارک ہو سی جس دن فر ملاں گے ۔۔
اللہ تعالیٰ چاچا نواب بلوچ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

“ڈاکٹر طارق مسعود خان شہباز خیل کا تہہِ دل سے شکریہ کہ آپ نے اپنی قیمتی سوچوں کو الفاظ کی صورت میں ہم تک پہنچایا۔ آپ کی تحریر نہایت متاثر کن اور بصیرت افروز ہے۔””

TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

DOCTOR  TARIQ MASOOD KHAN NIAZI DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI WAS  BORN ON MAY 16, 1961 .HE PASSED HIS PRIMARY...
Read More
Mianwali Da Culture

Mianwali Da Culture

"میانوالی دا کلچر" ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کی تحریروں اور پوسٹس کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے، جو میانوالی کی...
Read More
MAAZI KE JHAROKOON SE

MAAZI KE JHAROKOON SE

ماضی کے جھروکوں سے : آج شام کو واک کرکے گھر پہنچا تو تھکاوٹ کی وجہ سے برا حال تھا۔...
Read More
Mianwali Da Culture

Mianwali Da Culture Vedios

Mianwali Da Culture is the collection of videos by DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI. In these videos he himself narrated...
Read More
chacha Niba Jat-chacha Nawab Baloch

chacha Niba Jat-chacha Nawab Baloch

چاچا  نِبا  جت "(چاچا نواب بلوچ) اپنے گاؤں شہباز خیل میں بھرپور عید گذاری ۔دوست احباب اور رشتہ داروں سے...
Read More
HAMARAY BACHPAN KA MAH RAMADAAN

HAMARAY BACHPAN KA MAH RAMADAAN

ہمارے بچپن کا ماہ رمضان ۔ کل جب افطاری کرنے بیٹھا تو مجھے اپنے بچپن کا ماہ رمضان یاد آ...
Read More
HITO’s KA YADGAR SAFAR

HITO’s KA YADGAR SAFAR

ھیتو کا یادگار سفر پچھلے دنوں چھوٹے بھائی اور میانوالی کے نامور صحافی محترم عبد الرؤف شاہ صاحب نے کسی...
Read More
BACHPAN KE YAAR AUR” JAMATI” SE MULAQAAT :

BACHPAN KE YAAR AUR” JAMATI” SE MULAQAAT :

بچپن کے یار اور "جماعتی" سے ملاقات: پچھلا ہفتہ بڑا مصروف گزرا ۔فیملی میں دو شادیاں تھیں ۔ایک ننھیالوں کی...
Read More
JETH DI GARMI TE CHACHE DULE ALA KUHO

JETH DI GARMI TE CHACHE DULE ALA KUHO

جیٹھ دی گرمی تے : دُنی کراڑ آلی کھوئی تے چاچے دُلے آلا کُھو: آج جب دفتر سے باہر نکلا...
Read More
Meri Saqafat, Meri Zuban Meri Pehchan

Meri Saqafat, Meri Zuban Meri Pehchan

میری ثقافت ،میری زبان ۔۔۔میری پہچان "میں اور میرا میانوالی " کے بعد میری خواہش ہے کہ ایک اور ایسی...
Read More
Aajri Naal Gal Baat | Dialogue with a Shepherd |Mianwali Cultural Life

Aajri Naal Gal Baat | Dialogue with a Shepherd |Mianwali Cultural Life

آجڑی نال گل بات میری ثقافت ،میری زبان ۔۔میری پہچان نوٹ: میری میانوالی کی علاقائی زبان  کے کئی الفاظ آہستہ...
Read More
“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

اماں گھماں : لوک پیا اج عید مناوے میں وی عید مسیتی پڑھی ڈیکھنڑ اچ تاں کٌجھ نیں بدلا ہر...
Read More
PICHHAAI – پِچھائیں

PICHHAAI – پِچھائیں

پِچھائیں : آج کل غصب کی گرمی پڑ رہی ہے ۔راولپنڈی کا مزاج اتنا گرم تو کبھی نہیں تھا ۔چھٹی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top