DR. WILAYAT KHAN NIAZI OF TRAG KI YAAD MEIN
ڈاکٹر ولایت خان نیازی آف ترگ کی یاد میں :
آج چھٹی تھی ۔پرانی تصویریں دیکھ رہا تھا تو اچانک ایک تصویر میں ڈاکٹر ولایت خان مرحوم نظر آ گئے اور پھر ذہن میں یادوں کا سلسلہ چل پڑا ۔۔سوچا آج ولایت خان پر کچھ لکھوں اور ان کے زندگی کے اس پہلو پر لکھوں جس کو بہت کم لوگ جانتے ہیں
ڈاکٹر ولایت خان مرحوم ترگ تحصیل عیسیٰ خیل کے رہائشی تھے ۔سنٹرل ماڈل سکول ہائی سکول سے میٹرک،سرگودھا سے ایف ایس سی اور نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ایم بی بی ایس کیا ۔
وہ میرے سکول فیلو لیکن مجھ سے کافی سینئر تھے۔ میرے ایک بھائی کے کلاس فیلو اور دوسرے بڑے بھائی کے میڈیکل کالج فیلو تھے ۔لیکن میرے ساتھ ان کا ایک تعلق قائم ہو گیا اور جب میں میانوالی میں ایم ایس تعینات ہؤا تو یہ تعلق اور گہرا ہو گیا ۔۔
۔وہ ایک،خدا ترس،نیک دل،انتہائی سوشل اور بہت ہی اعلیٰ حس مزاح کے مالک تھے۔وہ جس محفل میں بیٹھے ہوتے، قہقہے بکھیر رہے ہوتے ۔وہ محفل کی جان ہوتے ۔ وہ محفل کو کشت زعفران بنانے کے ماہر تھے ۔وہ یاروں کے یار تھے۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے ۔یوں لگتا کہ پریشانیاں ان کو چٌھو کر نہیں گزریں ۔
وہ ایک انتہائی قابل اور اپنے شعبے کے ماہر ڈاکٹر تھے ۔گنگا رام ہسپتال میں پروفیسر زرینہ عباس نیازی سے انھوں نے آرتھوپیڈک کی ٹریننگ لی تھی ۔
اج میں ان کی پروفیشنل زندگی اور ڈاکٹری شعبے سے ہٹ کر ان سے وابستہ کچھ دلچسپ واقعات کا ذکر آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں
میں سنٹرل جیل میانوالی میں میڈیکل افسر تھا۔میں کام کے سلسلے میں اپنے دوست محمود مرحوم حق برادرز کچہری روڈ کو ملنے گیا ۔وہاں ڈاکٹر ولایت خان بھی موجود تھے ۔محمود مرحوم ہمارے مشترکہ دوست تھے ۔ہم گپ شپ میں مصروف تھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب (وہ بھی اب اس جہان میں نہیں رہے) آ گئے جن کی نئی نئی بی ایچ یو بالا (وچویں بالا) پر تعیناتی ہوئی تھی ۔وہ ولایت خان سے کہنے لگے “” لالہ تٌوں وی کوئ ڈیں اٌتھے کڈھے ہِن۔ہر پاسے ٹِبے تے ریت ہے ۔آونڑ ونجٌنر توں بہوں اوکھا تھینداں ہاں ۔۔تٌوں کنجیں اندا ویندا ھئیں “( آپ نے بھی کچھ دن ادھر گزارے تھے ۔ہر طرف ٹیلے اور ریت ہے ۔انے جانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے ۔اپ کیسے آتے جاتے تھے)۔۔
اس پر ڈاکٹر ولایت خان چانے کی لمبی سی چٌسکی لے۔پھر پیالی کو میز پر رکھا۔کرسی سے ٹیک لگائی۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھی اور سنجیدہ چہرہ بنا کر اس ڈاکٹر کو کہنے لگے”” لالا گل سٌنڑ۔میں تاں مھرے اٌٹھاں دی جوڑی رکھی ہوئی ھئی ۔اٌٹھاں تے پلانڑیں گھت کے تے اٌتے باھ کے آندا ویندا ہم ۔۔””( میں نے تو مھرے نسل کے اونٹوں کی جوڑی رکھی ہوئی تھی ۔انھیں کے اوپر پلانڑیں ڈال کر سوار ہو کر آتا جاتا تھا)۔۔پہلے تو وہ ڈاکٹر صاحب مسکرائے کہ مذاق کر رہے ہیں لیکن جب میں نے بھی سنجیدہ منہ بنا کر گواھی دے دی اور ساتھ لقمہ دیا کہ یاد ہے ایک دفعہ ہم نے اونٹوں پر اوٹھیوں (جو لوگ اونٹ پر باربرداری کا کام کرتے ہیں) کے ساتھ بیٹھ کر اونٹوں کی دوڑ بھی لگائی تھی اور آپ کا اونٹ جیت گیا تھا۔اس پر وہ ڈاکٹر صاحب شاید سنجیدہ ہو گئے
پھر تھوڑی دیر گپ شپ لگانے کے بعد وہ ڈاکٹر صاحب رخصت ہو گئے ۔۔دو دن بعد اتوار تھی ۔وہ ڈاکٹر صاحب منڈی مویشیاں میں اونٹ خریدنے پہنچ گئے ۔وہاں انھیں محکمہ صحت کا ایک ملازم مل گیا۔اس نے پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ ادھر اونٹوں کی منڈی میں کیا کر رہے ہیں ۔انھوں نے سارا ماجرہ سنایا ۔اس ملازم نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ ڈاکٹر ولایت خان نے مذاق کیا ہے اور آپ نے سچ مان لیا۔
وہ ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر ولایت خان سے ناراض ہو گئے ۔جب ڈاکٹر ولایت خان کو پتہ چلا تو بڑے ہنسے اور پھر اس ڈاکٹر کے گھر جا کر انھیں منایا ۔۔۔
دوسرا دلچسپ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب مجھ سے بڑے بھائی انجینئر محمد اسلم خان کی شادی ہوئی۔تو ہم لوگ ڈاکٹر ولایت خان کو دعوت دینا بھول گئے ۔مرحوم ایکسینن عبیداللہ خان ترگ سرگودھا سے شادی میں شرکت کے لئے پہنچے تو وہ ولایت خان کو بھی لینے چلے گئے ۔ولایت خان نے کہا کہ مجھے دعوت تو نہیں ملی لیکن آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔شام کو شہباز خیل پہنچ گئے ۔
اسوقت گاؤں میں شادی بیاہ پر جب باراتی اور مہمان بظاہرا تمام لوگ کھانا کھا لیتے تھے تو مراثی شادی والے گھر کے بڑے کی طرف سے انتہائی بلند آواز میں کچھ اس طرح “ھوکا (اعلان)” دیتا تھا
“” خلقت خدا دی اے ہوکا سنڑائے ۔۔ڈاکٹر زمان خان آدھا پیا کوئی مِزمانڑ یا کانڈھی یا اللہ واسطے آلا کھاوئنڑ تٌوں رہ گیا تاں آونجیں تے ٹٌکر کھا گِھنے “”(تمام لوگوں کے لئے ڈاکٹر زمان خان کا پیغام ہے کہ کوی مہمان یا باراتی یاں مسکین محتاج کھانے سے رہ گیا تو دعوت ہے کہ کھانا کھا لے)۔۔
یہ اعلان سن کر ڈاکٹر ولایت خان نے بڑے مزاحیہ انداز میں عبیداللہ خان کو کہا کہ”” لالہ تٌساں تاں مِزمانڑ ہوو تے میں اللہ واسطے الاں اچ ہاں “””(آپ پہلی کیٹیگری (مہمان) ہیں اور میں اللہ واسطے والی کیٹیگری میں ہوں)۔۔جس پر بڑا زبردست قہقہہ پڑا ۔۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک مشترکہ دوست تھے لیکن ان کی ایک بٌری عادت تھی کہ جب بھی کسی کے گھر کھانے کی دعوت ہوتی وہ کھانے میں عیب نکالتے ۔ سب دوستوں نے انھیں بڑا سمجھایا کہ اس طرح نہ کیا کرو لیکن وہ اپنی عادت سے مجبور تھے ۔۔خدا کا کرنا ایسا ھوا کہ ان صاحب کے چھوٹے بھائی کی شادی طے پا گئی ۔بارات والے دن ہم سب دوست مدعو تھے ۔ہمارے ساتھ داؤد خان خنکی خیل مرحوم بھی تھے۔وہ صاحب جو ہر شادی بیاہ کے کھانے اور دعوتوں پر نقص نکالتے تھے اور شیخیاں مارتے تھے،بھائ کی شادی پر حلوہ اور آلو گوشت تیار کیا ہؤا تھا۔آلو گوشت میں “”شورا””(شوربہ) ہی شورا اور آلو تھے اور کہیں برائے نام گوشت تھا ۔ بہرحال ہم لوگ کھانا کھانا شروع ہو گئے ۔۔داود خان اور ڈاکٹر ولایت خان اکٹھے بیٹھے تھے اور میں سامنے ۔۔وہ میزبان صاحب آ گئے اور پوچھا کہ “”کھانا کیسا ہے ۔اور کوئ چیز چاہیے “” ۔ہم سب خاموش رہے کہ داؤد خان یا ولایت خان جواب دیں ۔۔پھر تھوڑی دیر بعد میزبان نے آ کر اور چوڑے ہو کر پوچھا کہ کھانا کیسا ہے؟؟ ۔۔ ہم سب خاموش ۔۔پھر وہ بولا ” ولایت خان ۔بول نہیں رہے ۔۔بتاو کھانا کیسا ہے””
ولایت خان بڑی سنجیدگی سے بولے””لالہ کھانڑیں دیاں ریساں کونِن۔۔میں چٌپ اس گلوں ہم جو ڈونگے اِچ ٹٌبی ماری پیاہم ۔کٌتریاں نِن پیاں لبھیندیاں””( بھائی جان ۔کھانے کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ۔۔میں خاموش اس لئے تھا کہ میں نے سالن میں ڈبکی لگائی ہوئی تھی کہ شاید کوئی بوٹی مل جاے بوٹی نہیں مل رہی)..
بس پھر کیا تھا میزوں کے گرد بیٹھے سب لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ گئے ۔ہنسی کے مارے ہم سب لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور ولایت خان سنجیدگی سے کھانا کھا رہے تھے ۔داود خان مرحوم تو اتنے ہنسے اتنے ہنسے کہ کرسی سے اٹھ کر باہر چلے گئے ۔۔میزبان صاحب ہم سب دوستوں سے ناراض ہوگئے ۔لیکن پھر ہم نے انھیں منا لیا ۔اس کے بعد وہ صاحب کسی بھی دعوت میں نقص نہیں نکالتے تھے ۔
ڈاکٹر ولایت خان ایک عظیم انسان تھے ۔ موت کا ایک دن مقرر ہے لیکن ان کی موت میں ہمارے شعبے کی کوتاہی بھی شامل تھی ۔وہ رات کے وقت سینے میں درد کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی کی ایمرجنسی میں آئے ۔۔ان کے خاندان میں دل کے عارضے کی بڑی سٹرانگ فیملی ہسٹری موجود تھی ۔اور ای سی جی میں بھی بہت ہی واضح تبدیلیاں موجود تھیں ۔لیکن اس وقت کے میڈیکل سپیشلسٹ نے انھیں معدے کی دوائ کے ساتھ گھر بھیج دیا۔ دوسرے دن وہ ای سی جی لے کر میرے دفتر ائے ۔میں ای سی جی دیکھ کر بہت پریشان ہو گیا ۔انھیں اسی وقت داخل کیا ۔
لیکن اس دوران وہ اتنی فزیکل ایگزرشن کر چکے تھے کہ بیڈ پر لیٹتے ہی ان کو دوبارہ ہارٹ اثیک ہؤا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے ۔۔
آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ولایت خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

دعاؤں کا طالب!

ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی

شہباز خیل

DR. WILAYAT KHAN NIAZI OF TRAG KI YAAD MEIN

DR. WILAYAT KHAN NIAZI OF TRAG KI YAAD MEIN

ڈاکٹر ولایت خان نیازی آف ترگ کی یاد میں : آج چھٹی تھی ۔پرانی تصویریں دیکھ رہا تھا تو اچانک...
Read More
“MIANWALI KE MAREEZAN DA SAB TON VADDA MASLA: ‘IS NOON PINDI GHIN VANJO.'”

“MIANWALI KE MAREEZAN DA SAB TON VADDA MASLA: ‘IS NOON PINDI GHIN VANJO.'”

میانوالی کے مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ:"اس نوں پنڈی گھن ونجو"   میں اس نازک موضوع پر شاید قلم...
Read More
“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

“AMMAN GHUMAN” DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI SHAHBAZ KHEL

اماں گھماں : لوک پیا اج عید مناوے میں وی عید مسیتی پڑھی ڈیکھنڑ اچ تاں کٌجھ نیں بدلا ہر...
Read More
TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

TARIQ MASOOD KHAN NIAZI

DOCTOR  TARIQ MASOOD KHAN NIAZI DOCTOR TARIQ MASOOD KHAN NIAZI WAS  BORN ON MAY 16, 1961 .HE PASSED HIS PRIMARY...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top