میانوالی کے رسم و رواج
ویسے تو کئی پرانے رسم و رواج شادی بیاہ و دیگر ختم ہو چکے ہیں لیکن انکی یاد انے سے آج بھی انسان اسی پرانے دور میں چلا جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ کتنا سادہ ۔ہمدردی اور پیار و موہبت سے بھرا دور تھا ان رسم و رواج میں سے چند کا ذکر کروں گا
ونگار ۔ میرے خیال میں کسی اجتمائی کام کو بلا معاوضہ مل جل کر کرنے کو ونگار کہتے ہیں جیسا کہ اج سے .40/45 سال پلہے اکثر لوگو کے گھر کچے ہوتے تھے تو بارشوں کے موسم یا ویسے ان کی لپائی کرنی ہوتی تو اڑوس پڑوس۔موحلہ اور یار دوست اکھتے ہہو جاتے۔ایک دن پلہے مٹی کا گارہ(گانڑی) بناتے دوسرے دن تھال کوپرے لیکر اور ایک مستری جو کہ ہمارا چاچا عطو گھڑمالہ اور کرندی کے ساتھ آ جاتے۔ دو جوان گھانڑی میں گھس جاتے اور گارہ بناتے ایک پہوڑی(سیڑی) کے ساتھ ایک پہوڑی کے درمیان میں ایک اوپر چھت پر کھڑے ہو کر چا چا عطو کو گارہ دیتے اور چا چا عطو گھڑملہ اور کرنڈی سے لپائی کرتا جاتا ۔اس ترہ ایک دن میں کئی کھوٹھے اور دیواریں لپائی ہو جاتیں۔اور بعد میں سب روٹی مل جل کر کھا لتے آجکل کے نوجوان بازار سے سے گھر کا سودا بھی نہیں لاتے ۔اسی طرح گھر کی معزز خواتین بھی گھر میں مٹی کی چیزوں جیسے گندم کی کلوٹی۔اٹے کا دبرہ۔چولہے وغیرہ خود لپائی کرتی تھیں آجکل کی عورت اپنی روٹی بھی نہیں پکا سکتی۔دوسرا جب فصل خاصکر گندم کی کٹائی کا سیزن ہوتا تو زنیندار شہر اور مضافات سے زمینداروں کو ونگار کی دعوت دیتے جو آ کر کندم کا ٹتے اس ترہ ہفتوں کا کام ایک دن میں ہو جاتا۔ کبھی کبھی زمیندار گروپ بنا کر موقابلہ دھول کی تھاپ ہوتا تھا۔ صبح زمینداروں کو تندور کی دیسی گھی یا مکھن سے چوپڑی لسی کے ساتھ اور شام کو دیسی گھی اور روٹی کی چوری وہ چوری حلوہ کی طرح مزہ آ جاۓ ہمارے دادا کی کچا۔ پکا اور تھل میں زمیں تھی جس کی 5/6 وانگاریں ہوتی جوس ہم سارا سال انتظار کرتے تھے۔ اسی طرح اور بھی کئی کام وانگار سے کئے جاتے تھے
لاؤ۔ فصل خاصکر گندم چنا۔مونگی کے لاؤ ہوتے لہار مزدوری پر لاؤ کرتے ۔لہار 20 گڈی کاٹتا تو ہک گڈی لیھار کو دے جاتی۔آخر پر پسا لگایا جاتا یعنی ڈھیر لگا کر مالک ٹھپا لاگتا تہکہ چوری نہ ہو۔ اسکے بعد غائے گھئاے ہوتے یعنی جانوروں کے زریعہ گندم صف کی جاتی تیز ہوا کا انتظار کرنا پڑتا تاکہ گندم سے بھوسہ الگ ہو جاۓ اس طرح بڑی مشقت سے زمیندار کو فصل حاصل ہوتی تھی۔ تھل کے علاقہ میں پہنے کا صاف پانی بھی نہ ہوتا تھا بارشی پانی کے تالاب ہوتے انہی سے جانور بھی اور بندے پانی پتے۔تھے اس کے باوجود لوگوں میں صبر شکر تھا پیار۔ ہمدردی اور محبت تھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے۔ علاج کے لیے دوائی ۔پننہے کے کپڑے ۔سفر کیلئے سواری نہ تھی لوگ میلوں پیدل چلتے۔ سائکل بھی کسی کے پاس تھا۔ کھانے کو صرف روٹی وہ چٹنی ۔لسی۔پیاز وغیرہ کے ساتھ کھا کر اللّه کا شکر ادا کرتے۔آج اتنی بے حساب سہولتیں اور مشینری ہونے کے باوجود انسان تنگ نظر ۔نا شکرا ہو گیا ہےآج ہم نے صرف پیسے کو ایمان بنا لیا ہے۔ اسلئے ہرس لالچ میں کسی رشتے کا لحاظ نہیں رہا خود غرضی بڑھ گئی ہے اللّه تعالیٰ ہم پر اپنا فضل فرماۓ۔ امین
آج بچپن کے دن ۔وہ سنہر ے دن ۔بھٹھے بٹھائے یاد آ گے
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
