منورعلی ملک کے اگست 2025کے فیس بک پرخطوط
میانوالی کے نثر نگار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحمد اللہ تعالٰی مری کا دورہ بخیرو عافیت تمام ہوا۔ مری روانگی سے پہلے میانوالی کے نثر نگاروں کے بارے میں پوسٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب اسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔
افسانہ نگاری میں میانوالی ملک کی ادبی تاریخ میں نمایاں ہے۔
انڈیا کے دو چوٹی کے افسانہ نگاروں، ہرچرن چاولہ اور رام لعل کا آبائی وطن میانوالی ہی تھا۔
موجودہ ادبی منظرنامے میں مرحوم حامد سراج ، حمید قیصر اور وقار احمد ملک قومی سطح پر معروف افسانہ نگار ہیں۔ سماجی معاملات اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ،ان کے افسانے بہت موثرہیں ۔
مرحوم سید نصیر شاہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے ۔ ان کے افسانے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور غریب طبقے کے استحصال کے خلاف زوردار احتجاج ہیں ۔ ان تمام افسانہ نگاروں کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3 اگست 2025
میانوالی کے نثر نگار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحوم ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اگرچہ بہت اچھے شاعر بھی تھے لیکن وہ بنیادی طور پر ایک صاحب طرڑ نثر نگار تھے۔ صاحب طرز نثر نگار وہ ہوتا ہے جس کا اپنامنفرد انداز تحریر ہو ۔اچھے نثر نگار تو بہت ہیں مگر صاحب طرز نثر نگار بہت کم ۔ڈاکٹر اجمل نیازی بلاشبہ ایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔ ان کی تحریر کا ایک اپنا ذائقہ ہے۔سادہ الفاظ اور مختصر جملوں میں بہت بڑی بڑی باتیں کہہ دیتے تھے ۔ مندر میں محراب کے عنوان سے ان کا بھارت کا سفرنامہ عمدہ نثر کا شاہکار کہلا سکتا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کی زیادہ تر تحریریں روزنامہ نوائے وقت میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالموں کی صورت میں منظر عام پر آتی رہیں ۔ ان کالموں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ اچانک تقدیر نے یہ چراغ گل کر دیا۔ڈاکٹر اجمل نیازی نظریاتی صحافی تھے ۔ اپنے کالموں میں سیاست کی منافقتوں کو بے رحمی سے بے نقاب کرتے رہے۔
ادبی منظر نامے میں ڈاکٹر اجمل نیازی ملک بھر میں میانوالی کی پہچان تھے۔ چاروں صوبوں کے بلند پایہ اہل قلم سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔لباس اور وضع قطع میں بھی وہ سراپا میانوالیین تھے ۔پشاوری طرز کی پگڑی ان کے لباس کا مستقل حصہ تھی۔ تقریبات میں ان کی گفتگو بھی سننے کے لائق ہوتی تھی ۔بہت ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔ 4 اگست 2025
فیس بک کے قلمکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک دل کی باتیں شیئر ، کرنے کا بہت اچھا وسیلہ ہے اس وقت بہت سے لوگ فیس بک پر اپنے خیالات احساسات معلومات ، تجربات اور مشاہدات منظرعام پر لارہے ہیں۔ فیس بک کے قارئین ان پوسٹس سے محظوظ اور مستفید ہو رہے ہیں۔ دوستی کے پائدار رشتے بن رہے ہیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ان رشتوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔دنیا کے ہر کونے سے ان پوسٹس پر رسپانس آتا ہے۔ پوسٹ فیس بک پر آتے ہی کمنٹس ، تنقید، تجاویز اور مشوروں کی صورت میں رسپانس موصول ہونے لگتا ہے۔ کتنی دلچسپ بات ہے کہ ادھر آپ کی پوسٹ فیس بک پر نمودار ہوتی ہے اور ادھر فی الفور اپنے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی قارئین کا رسپانس آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ میرے بعض مہربان قارئین آسٹریلیا ، فرانس ، برطانیہ، کینیڈا ، چین اور جاپان سے میری تحریروں پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ جرمنی سے بھی ڈاکٹر نائیٹ رائڈر کے نام سے میرے ایک مستقل قاری میری پوسٹس پر اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ بہت عرصہ سے وہ شریک محفل نہیں ہو رہے ۔ اللہ کرے بخیریت ہوں ۔تمہید خاصی طویل ہو گئ ۔کل سے انشااللہ فیس بک کے نمایاں قلمکاروں کا مختصر تعارف لکھنا شروع کروں گا۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔6 اگست 2025
آج سے دس سال پہلے جب میں نے فیس بک کی وادی میں قدم رکھا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا میرا کوئی ہم عمر ہم مشرب بندہ بھی یہاں موجود ہے یا میں اکیلا ہی بچوں کی اس محفل کے رنگ میں بھنگ ڈالنے آگیا۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہو گیا کہ میرے دو ہم عمر ہم ذوق دوست پروفیسر اشرف علی کلیار اور ظفر خان نیازی اس محفل میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں۔
ظفر خان نیازی تو آج سے چند سال قبل سرحد حیات کے اس پار جا بسے ۔ظفر خان بہت معروف شاعر اور افسانہ نگار بھی تھے ۔ فیس بک پر وہ میانوالی کے کلچر اور نمائندہ شخصیات کے بارے میں بہت عمدہ پوسٹس لکھا کرتے تھے ۔پروفیسر اشرف علی کلیار عربی کے پروفیسر ہیں۔ فیس بک پر زیادہ تر عربی کے اقوال زریں قسم کی چیزیں اور اپنی پسند کی پکچرز لگاتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ اپنے تجربات اور مشاہدات بھی مختصر پوسٹس کی شکل میں شیئر کر رہے ہیں ۔ ذرا زیادہ مفصل لکھیں تو لوگ زیادہ مستفید ہوں گے۔
عصمت گل خٹک شاعر اور ادیب کے علاوہ ایک سینیئر صحافی بھی ہیں۔ مقامی اور قومی اخبارات میں سماجی اور سیاسی مسائل پر فکر انگیز کالم لکھتے رہے۔ فیس بُک پر اندر کی بات اور باہر کی بات کے عنوان سے اقوال زریں قسم کی دو سطری تحریریں لکھتے رہتے ہیں ۔ کھل کر نہ لکھنے کی ایک وجہ تو ان کی کاروباری مصروفیات ہو سکتی ہیں، دوسری وجہ بڑھاپے کا ضرورت سے زیادہ احساس ہے۔ پتہ نہیں ان کا یہ احساس اتنا شدید کیوں ہےحالانکہ کالج میں یہ ہمارے سٹوڈنٹ تھے۔ جب اساتذہ بڑھاپے کے آگے ہتھیار نہیں ڈال رہے تو سٹوڈنٹس کیوں بڑھاپے کا رونا روئیں ۔
کبھی کبھار عصمت گل خٹک اپنے آبائی علاقے کے حوالے سے کسی قدر مفصل پوسٹس لکھتے ہیں تو پڑھ کر مزا آجاتا ہے۔ اس موثر انداز تحریر کے استعمال میں کنجوسی نہ کریں تو لوگ بہت دعائیں دیں گے ۔
ابھی فیس بُک کے بہت سے قابل قدر قلمکاروں کا تذکرہ باقی ہے۔ اس لیئے یہ سلسلہ ایک دو دن مزید چلتا رہے گا ۔7 اگست 2025
فیس بُک کے اہل قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بُک کے اہل قلم میں وہ لوگ مقبولیت کے لحاظ سے نمایاں ہیں جو میری طرح اپنے ماضی کی یادیں شیئر کرتے ہیں ۔
آج کل فیروزاحمد خان ترین، سید عقیل شاہ ، اور عبد المجید تلوکر صاحب یہ کام بہت خوبصورت انداز میں کر رہے ہیں ۔
فیروز احمد ترین صاحب نے مرحوم پروفیسر محمد فیروز شاہ کی صحبت میں رہ کرلکھنے کاہنر سیکھا۔ آج کل اپنے بچپن کی یادیں بہت دلنشیں انداز میں لکھ رہے ہیں۔نورنگہ کے سید عقیل شاہ فرانسیسی سفارت خانے میں اہم منصب پر فائز ہیں۔ نورنگہ کی مردم خیز سر زمین نے علم و ادب کی کئی قدآور شخصیات کو جنم دیا ۔ سید عقیل شاہ ان شخصیات کے بارے میں لکھتے ہیں۔۔ ہر شخصیت اپنی جگہ باکمال ہے۔
دریائے سندھ کی دست درازیوں کے باعث نورنگہ کی بستی کا تو اب نام و نشان بھی باقی نہیں ۔ محکمہ مال کے کاغذات میں ایسی بستیوں کو بے چراغ لکھا جاتاہے۔ مگر علم و ادب کے حوالے سے نورنگہ بے چراغ نہیں۔ گلزار بخاری ، ستار سید ، علی اعظم بخاری ، خاور نقوی جیسے درجنوں چراغ لازوال روشنی ملک بھر میں بکھیر رہے ہیں۔
عبد المجید تلوکر صاحب ریٹائرڈ اعلی سرکاری افسر ہیں کندیاں کے نواحی علاقے ڈنگ کھولہ کی بے چراغ بستی کے روشن چراغ ہیں، جو اپنی معدوم بستی کے دریا برد آثار سے خوبصورت موتی چن چن کر فیس بُک کی زینت بنا رہے ہیں ۔ دل کو چھو لینے والا انداز تحریر سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔
سید عقیل شاہ اور ملک عبد المجید تلوکر صاحب کا دکھ مشترک ہے ۔ دونوں حضرات دریا کے ہاتھوں اپنی اپنی اجڑی بستیوں کی یادیں فیس بُک کی وساطت سےمنظر عام پر لا رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے اپنا یہ شعر بار بار یاد آتا ہے
دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا
فیس بُک کے قلمکاروں کا تذکرہ ابھی دو تین دن مزید چلے گا۔ میری لسٹ میں ابھی دس نام موجود ہیں جن کا ذکر ضروری ہے۔ نہ کروں تو بد دیانتی ہوگی –9 اگست 2025
فیس بُک کے اہل قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایبٹ آباد کے علاقے سے شکیل اعوان صاحب کالم شالم کے عنوان سے بہت خوبصورت تحریریں فیس بُک کی وساطت سے شیئر کرتے ہیں ۔
شکیل اعوان عوامی سطح پر ایک بہت مقبول گلوکار کی حیثیت میں منظر عام پر متعارف ہوئے۔ قلم ہاتھ میں لیا تو دلکش تحریریں بھی ان کی پہچان بن گیئں۔کالم شالم سماجی، سیاسی تجزیئے پر مبنی فکر انگیز تحریروں کا ایک دلچسپ سلسلہ ہے۔ان تحریروں کی زبان بھی شکیل اعوان کی اپنی ایجاد ہے۔ اردو میں پہاڑی/ہندکو کا تڑکہ اور طنزو مزاح کی ہلکی سی چاشنی ان تحریروں کی منفرد خوبی ہے۔
ترگ تحصیل عیسیٰ خیل کے معروف افسانہ نگار امداد حسین نیازی فیس بک پر اپنے علاقے کی نامور علمی شخصیات کا تعارف بہت خوب لکھتے ہیں ۔ترگ ہی کے ظہور احمد بھی فیس بک پر خاصے متحرک رہتےہیں۔ وہ ایک عمدہ خطاط بھی ہیں۔ آج کل اپنی زبان کے گم شدہ الفاظ منظر عام پر لارہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان میانوالی کے سٹیشن ڈائریکٹر احمد آفتاب خان نیازی بھی بہت خوبصورت اور دلچسپ نثر لکھتے ہیں ۔ ان سے فرمائش ہے کہ زیادہ لکھاکریں۔ ہفتے عشرے میں کم ازکم ایک تحریر فیس بک کی زینت بننی چاہیئے۔ابھی چھ سات اہم ناموں کا تذکرہ باقی ہے۔ ان شاءاللہ کچھ لوگوں کا ذکر کل ہوگا ۔ منگل کو حسب معمول انگریزی میں پوسٹ لکھوں گا اور بدھ کو یہ سلسلہ مزید آگے چلے گا ۔10 اگست 2025
ابھی کچھ دیر پہلے اسلام آباد سے کرنل شیر بہادر خان نیازی نے مطلع کیا ہے کہ انہوں نے میری جنوری 2016 سے دسمبر 2024 تک کی تمام پوسٹس اپنی ویب سائٹ پر محفوظ کر دی ہیں۔ ان پوسٹس کو دیکھنے کے لیئے لنک یہ ہے mianwali.com/mera-mianwali
کرنل صاحب کی اس مہربانی کے لیئے ہم سب ان کے ممنون ہیں۔ 10 اگست 2025
فیس بک کے اہل قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤدخیل سے ہمارے بیٹے میرے چھوٹے بھائی مظفر علی ملک کے صاحبزادے رضواںن علی ملک فیس بک کی وساطت سے اچھے خاصے صحافی کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔
داؤدخیل کی اہم خبروں کے علاوہ حالات حاضرہ کا تجزیہ
بھی بہت خوب کرتے ہیں۔ خالص صحافیانہ زبان میں لکھنا بچے نے پتہ نہیں کہاں سے سیکھا۔ بہت خوبصورت لکھتے ہیں۔
افضل عاجز موسیقی اور شاعری کے میدان کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ فیس بک پر ان کی مختصر تحریریں بھی بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ زیادہ تر اپنی فیلڈ موسیقی اور شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔
بہادر جنجوعہ برطانیہ میں رہتے ہیں ۔ میانوالی کالج میں ہمارے سٹوڈنٹ بھی رہے۔ کبھی کبھار ذاتی حوالے سے پوسٹس لکھتے ہیں ۔ میری پوسٹس پر ان کا کمنٹ بھی ایک مکمل پوسٹ سے کم نہیں ہوتا ۔ بہت خوبصورت لکھتے ہیں۔ نامور افسانہ نگار مرحوم ممتاز مفتی نے ایک ملاقات میں مجھ سے کہا تھا منور، مجھے تمہاری تحریر میں ایک چمک سی نظر آتی ہے جو بہت کم لوگوں کی تحریروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ کچھ ایسی ہی چمک مجھے بہادر جنجوعہ کے انداز تحریر میں نظر آتی ہے ۔
چکوال کے وسیم سبطین پوسٹس تو نہیں لکھتے مگر میری پوسٹس پر ان کے کمنٹ بھی مکمل پوسٹ سے کم نہیں ہوتے۔ بہت خوبصورت لکھتے ہیں ۔ ان کے لیئے میرا مشورہ ہے کہ باقاعدہ پوسٹس لکھنا شروع کر دیں۔ بقیہ قلم کاروں کا تذکرہ ان شاءاللہ پرسوں ہو گا ۔ 11 اگست 2025
فیس بک کے اہل قلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کندیاں کے نواح سے نعیم تلوکر اور مختار تلوکر بھی فیس بک پر خاصے معروف ہیں۔ نعیم منظر کشی میں باکمال ہیں۔ لفظوں سے رنگا رنگ تصویر بنتی نظر آتی یے۔ موسموں اور ماحول سے متعلق پوسٹس ان کی شاہکار تحریریں ہوتی ہیں۔ مختار تلوکر بھی خوب لکھتے ہیں ۔ آج کل حالات حاضرہ کے بارے میں لکھ رہے ہیں ۔
وادی سون کی بیٹی سائرہ اعوان صاحبہ روزمرہ کے گھریلو معاملات کے حوالے سے بہت دلچسپ تحریریں لکھتی ہیں۔ ان کا منفرد انداز تحریر بہت بھلا لگتا ہے ۔
ظفر اقبال وٹو بھی فیس بک کی معروف شخصیت ہیں۔ ماضی کی یادیں بہت دلچسپ انداز میں لکھتے ہیں ۔
میانوالی سے ڈاکٹر محمد ثقلین شاہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دور کی سہانی یادیں دلچسپ پوسٹس کی شکل میں شیئر کرتے رہتے ہیں ۔۔ کبھی کبھار کی بجائے اکثر لکھا کریں تو لوگ بہت دعائیں دیں گے ۔ ماہر تعلیم مجیب اللہ خان نیازی بہت اچھا لکھ لیتے ہیں ۔ لیکن بہت کم لکھتے ہیں۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ رب نے قلم دیا ہے تو اس سے لوگوں کو مستفید کریں۔ اللہ کی اس عنایت کا بہترین شکر یہی ہے۔13 اگست 2025
یوم آزادی مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمت کا در کھلا تو رہا اور کچھ نہ یاد
میں نے خدا سے مانگ لی اپنے وطن کی خیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منور علی ملک—-14 اگست 2025
میانوالی کے نثر نگار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصہ قبل “میں اور میرا میانوالی” کے عنوان سے ڈاکٹر طارق مسعود خان شہباز خیل کی کتاب موصول ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب سینیئر ڈاکٹر ہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے ایم ایس بھی رہے۔ ان کی کتاب “میں اور میرا میانوالی” ان کی آپ بیتی بھی ہے ، جگ بیتی بھی ۔موقع محل کے مطابق انداز تحریر کہیں شگفتہ کہیں آزردہ ہے۔ بہت خوبصورت رواں دواں تحریر ہے۔
ملک سیف اعوان چکڑالہ ضلع میانوالی سے ہیں۔ لاہور کے ایمپوریم مال میں ملازم ہیں۔ دوستوں سے میل ملاقات کی داستانیں فیس بک پر پوسٹ کی شکل میں لکھتے رہتے ہیں۔اس دور میں دوستوں سے ملنے ملانے کے لیئے لوگوں کو وقت ہی نہیں ملتا۔ زیادہ تر لوگ واٹس ایپ کے ذریعے رابطے سے کام چلا لیتے ہیں ۔ ملک سیف اعوان کا کمال ہے کہ انہوں نے میل ملاپ کی رسم کو برقرار رکھا ہواہے۔
سیف اعوان بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔ اپنے علاقے میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئیے کوشاں رہتے ہیں۔میانوالی سے ہمارے جگر حاجی اکرام اللہ نیازی زیادہ تر تو کھانوں کی پکچرز پوسٹ کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی کبھار بہت کام کی باتیں بھی لکھ دیتے ہیں ۔
میرے بیٹے مظہر علی ملک اور محمد اکرم علی ملک بھی فیس بک پر لکھتے رہتے ہیں۔ مظہر آج کل مذہب کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ اکرم زیادہ تر انگلش میں لکھتے ہیں ۔کبھی کبھار سماجی مسائل پر اردو میں بھی مختصر موثر پوسٹس لکھتے رہتے ہیں ۔15 اگست 2025
تقریبا دو ہفتے فیس بک کے قلمکاروں کا تذکرہ چلتا رہا۔ میں نے کوشش تو کی ہے کہ کوئی اہم نام رہ نہ جائے۔ پھر بھی اگر کوئی نام رہ گئے ہوں تو ان سے معذرت۔ لکھنے کی صلاحیت اللہ کی بہت بڑی عنایت ہے۔ یہ عنایت کسی پر بھی ہو سکتی ہے۔ اپنی تحریر کی قدرو قیمت کا پتہ قارئین کے رسپانس سے چلتا ہے۔ انسان تو اپنا مقررہ وقت اس دنیا میں گذار کر چلا جاتا ہے، مگر اس کی تحریریں اس کا نام زندہ رکھتی ہیں۔ ایم اے انگلش کو ہم قدیم یونانی ڈراما نگار سوفوکلیزکا ایک ڈراما پڑھاتے رہے ہیں۔
یہ ڈراما تقریبا2500 سال قبل ، عیسی علیہ السلام سے بھی تقریباً 500 سال پہلے لکھا گیا مگر آج بھی دنیا بھر میں پڑھا اور پڑھایا جا رہاہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتاہے کہ سوفوکلیزکی تحریر نے اڑھائ ہزار سال بعد بھی اسے مرنے نہیں دیا۔اسی طرح شیکسپیئر ، ملٹن، جان ڈن وغیرہ کو اس دنیا سے گئے ہوئے چار پانچ سو سال ہو گئے مگر ان کی تحریریں آج بھی دنیا بھر میں پڑھی اور پڑھائی جا رہی ہیں ۔
ناولوں کادور گذر گیا ۔ آج کا دور آپ بیتی کا دور ہے۔ لوگ قصے کہانیوں کی بجائے سچی داستانیں پڑھنا چاہتے ہیں ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہر انسان ایک چلتی پھرتی کتاب ہے۔ یہ کتاب اگر تحریر کی شکل میں منظر عام پر آجائے تو بہت سے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں۔ لکھنے والے کو عزت محبت اور شہرت بھی ملتی ہے ۔
فیس بک تحریروں کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اشاعت کے لیئے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی ۔ کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ زیادہ وقت بھی نہیں لگتا۔ میں اپنی روزانہ پوسٹ دس پندرہ منٹ میں لکھ لیتا ہوں ۔بس لکھنا شروع کیجیئے اور لکھتے رہیئے ۔ 16 اگست 2025
کل کی پوسٹ کاکچھ اثر تو ہوا۔ ڈاکٹر محمد ثقلین شاہ نے پنجاب میڈیکل کالج کی یادوں کا سریلا ساز کل سے پھر چھیڑ دیا۔ بہت دلچسپ پوسٹ لکھی۔دو چار نئے لوگ بھی میدان میں آگئے ۔فیس بک پر روزانہ پوسٹ صرف میں ہی لکھتا ہوں۔ الحمد للہ لوگ پسند کرتے ہیں ۔ پوسٹ لکھنے کا جنون اپنے تعارف کے لیئے نہیں۔ کئی حوالوں سے میرا تعارف تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت پہلے سے ہو چکا تھا۔ ٹیچر کی حیثیت سے میرے ہزاروں سٹوڈنٹس ، لالا عیسی خیلوی کے حوالے سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں پاکستانی اور ایم اے انگلش کے لیئے میری لکھی ہوئی کتابوں کے حوالے سے ملک بھر میں ایم اے انگلش کے سٹوڈنٹس اور ٹیچرز بہت پہلے سے مجھے جانتے تھے۔
فیس بک پر روزانہ لکھنے کا مقصد اپنی پہچان نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے لوگوں کو مستفید کرنا ہے۔ اردو انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتاہوں۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ان نعمتوں سے لوگوں کو مستفید کیاجائے ۔ میری تحریروں سے لوگوں کی معلومات میں بھی اِضافہ ہوتا ہے ، کردار کی تربیت بھی ہوتی ہے ۔ اس لیئے جب تک اس دنیامیں موجود ہوں لکھتا رہوں گا ۔ موضوع کا انتخاب میں خود کرتا ہوں۔ آپ نے بس میری انگلی پکڑ کر میرے ساتھ چلتے رہنا ہے ۔ ان شاءاللہ سفر خاصا دلچسپ ہو گا۔17 اگست 2025
جب میں سکول کی پہلی دوسری کلاس میں تھا تو مجھے سکول جانا زہر لگتا تھا۔ماسٹر نواب خان صاحب نے میرے کزن ملک ریاست علی اور میرے دوست محمد صدیق خان بہرام خیل کی ڈیوٹی لگا دی کہ اس کو روزانہ پکڑ کر سکول لانا ہے۔ یہ دونوں میرے کلاس فیلو تھے –ٹنگا ٹوری (اٹھا کر لے جانے) کی نوبت تو نہ آئی کہ یہ دو تھے میں ایک۔۔عمر میں بھی یہ دونوں مجھ سے ایک دو سال بڑے تھے۔ یہ مردود صبح سویرے نازل ہو جاتے اور مجھے ان کے ساتھ جانا پڑتا۔
راستے میں کسانوں کو کھیتوں میں ہل چلاتے دیکھ کر میں ان سے رشک کیا کرتا کہ کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ ، جب جی چاہے کام چھوڑ کر گھر جا سکتے ہیں ۔ ایک ہم بدنصیب ہیں کہ روزانہ پانچ گھنٹے سکول کے پنجرے میں بند رہتے ہیں۔ سکول ٹائیم میں سکول کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں ۔
اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھ کر بھی میں سوچتا کتنے خوش قسمت ہیں یہ پرندے ۔ ان کا کوئی سکول نہیں۔ سارا دن اپنی مرضی سے ادھر ادھر آتے جاتے رہتے ہیں۔پانچ گھنٹے کی قید سے آزاد ہو کر جب میں گھر واپس آتا تو موڈ خاصا خراب ہوتا۔ آتے ہی امی سے پوچھتا دوپہر کے کھانے کے لیئے کیا بنایاہے۔ جو سالن بھی بنا ہوتامیں کہتا نہیں کھانا ۔امی بچاری فٹافٹ خالص گھی کی چوری، انڈے کا حلوہ یامیٹھی روٹی بنا دیتی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ میں میٹھی چیزیں پسند کرتا ہوں۔سکول میں پہلے دو سال میرا یہی رویہ رہا۔ گھر والوں کا ڈر نہ ہوتا تو میں نے پڑھنا لکھنا نہیں تھا۔کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے——-18 اگست 2025
دوسری کلاس میں ہمارے ٹیچر ماسٹر سردار خان تھے۔ وہ حاضری کے معاملے میں ماسٹر نواب خان کے طرح سخت نہ تھے ۔ میں نے ان کی اس نرمی سے بھرپور فایدہ اٹھایا۔ صبح سویرے بستہ ( سکول بیگ) اٹھا کر سیدھا چاچاشادی بیگ کمہار کی کارگاہ جاپہنچتا۔ گیلی مٹی کے لوتھڑوں کو چاچای شادی بیگ کے ہاتھوں خوبصورت برتنوں کی شکل اختیار کرتے دیکھ کر عجیب سا سکون محسوس ہوتا۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ بڑا ہو کر میں بھی کمہار بنوں گا۔۔کیا خبر تھی کہ میں نے تو پروفیسر بننا ہے ، وہ بھی انگلش کا۔
ایک دن چاچا شادی بیگ کی بیوی ماسی جوائی نے کہا “وے ، تو سکول کیوں نہیں جاتا۔ میں ابھی جاکر تیرےگھر والوں کو بتاتی ہوں کہ یہ سکول نہیں جاتا، سارا دن ادھر ہی بیٹھا رہتا ہے-چاچا شادی بیگ نے کہا ” رہنے دے جوائی ۔ پڑھے لکھے گھر کا بچہ ہے، ساری عمر پڑھتا ہی رہے گا۔ ذرا دل بہلانے کے لیئے یہاں آ جاتاہے تو اس میں ہمارا کیا نقصان ہوتا ہے”۔یوں میں روزانہ پانچ گھنٹے چاچا شادی بیگ کی کاریگری کا تماشا دیکھتا رہتا ، اور سکول کی چھٹی کے وقت گھر واپس آ جاتا۔ گھر کے لوگ سمجھتے میں سکول ہی سے آ رہا ہوں ۔20 اگست 2025
تعلیم کی فضاؤں میں میری پرواز کا آغاز چوتھی کلاس سے ہوا۔ تیسری کلاس تک تو میں بھگوڑا ہی رہا۔ تعلیم سے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی۔چوتھی کلاس میں ہمارے ٹیچر ماسٹر عبدالحکیم صاحب بہت لائق, محنتی اور سخت گیر تھے۔ مجھ پر انہوں نے خصوصی توجہ دی کیونکہ میں محکمہ تعلیم کے افسر کا بیٹا تھا۔ ماسٹر صاحب ہمارے ہمسائے بھی تھے ، اور ان کی ایک بہن ہماری امی کی منہ بولی بہن بھی تھیں ۔اس زمانے میں چوتھی کلاس پرائمری لیول کی آخری کلاس تھی ۔ کلاس کے لائق بچوں کو وظیفے کے امتحان میں شامل کیاجاتا تھا۔ یہ ضلع بھر کے منتخب بچوں کا مقابلے کا امتحان تھا،جو محکمہ تعلیم کے ضلعی دفتر میں منعقد ہوتا تھا۔
ماسٹر عبدالحکیم صاحب کی محنت سے میں کلاس میں پہلے دوسرے نمبر پر آگیا تھا ۔اس لیئے ماسٹر صاحب نے مجھے بھی وظیفے کے امتحان میں بٹھا دیا۔ داؤدخیل سے ہم چار لڑکے اس امتحان میں شامل ہوئے۔ چاروں کامیاب ہو کر وظیفے کے مستحق قرار پائے۔چار روپے ماہوار وظیفہ چار سال تک چلتا تھا۔ اس زمانے میں چار روپے بھی اچھی خاصی رقم تھی ۔ پہلی بار جب میں نے وظیفہ کی رقم لا کر امی کو دی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ کہنے لگیں لوگو دیکھو ، اور لوگوں کے جوان بیٹے بے روزگار پھر رہے ہیں مگر میرے لال نے دس سال کی عمر میں اپنی کمائی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دی ہے۔اس ماہ کی رقم تو امی نے وہیں کھڑے کھڑے صدقہ کے طور پر تقسیم کردی۔ اس کے بعد جب بھی مجھے وظیفہ ملتا اس سے میری ضرورت کی چیزیں خرید لیتی تھیں۔ماسٹر عبدالحکیم صاحب کی مہربانی سے میں تعلیم میں دلچسپی لینے لگا اور میری تعلیم کی اگلی منزلیں آسان ہو گئیں ۔ 21 اگست 2025
کبھی کبھی تنہائی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ والدین کے علاوہ تینوں بھائی, ملک محمد انور علی، محمد سرور علی، مظفرعلی، اکلوتی بہن غلام زھرا , چاروں چچا، ملک برکت علی, ,ملک اصغر علی ، ملک ظفرعلی، ملک محمد صفدر علی، دونوں خالائیں، اکلوتے ماموں ملک منظور حسین منظور اور ان کے پانچوں بچے میرا پوتا محمد علی ملک ، میرے ہم عمر کزن ریاست علی ملک اور غلام حبیب ہاشمی , میرے بچپن کے دوست محمد صدیق خان، گل جہان خان ، سب سرحد حیات کے اس پار جاچکے ۔ یہ سب لوگ میری زندگی کا حصہ تھے۔ ہر ایک سے بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں ۔ سب چلے گئے ۔
رشتوں کا ایک ہنستا بستا شہر اجڑ گیا۔۔۔میں جب تک اللہ چاہے گا ادھر پھرتا رہوں گا۔ دعا ہے کہ جو دن باقی ہیں ان میں خلق خدا کی خدمت کر سکوں۔اور تو کوئی نیک عمل اپنے پلے ہے نہیں اپنے علم اور قلم سےخلق خدا کی خدمت ہی کر سکتا ہوں ۔ یہی قبول ہو جائے تو بڑی بات ہے۔22 اگست 2025
چھوٹی چھوٹی بڑی نیکیاں۔۔۔۔۔
ایک بزرگ نے ڈاکٹر سے کہا
ڈاکٹر صاحب مجھے ایسی دوا دینا کہ مجھے دوبارہ آپ کے پاس نہ آنا پڑے کیونکہ مجھے بیٹے سے پیسے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے ۔
ایسے کئی مجبور اور بے بس بابے ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ سڑک کے کنارے سبزی اور چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والے بابوں سے کچھ نہ کچھ ضرور خرید لیا کریں کیونکہ وہ یہ چھوٹا سا کاروبار کروڑ پتی بننے کے لیئے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیئے کرتے ہیں۔کچھ بابے تسںبیحیں اور دوسری چھوٹی موٹی چیزیں اٹھائے گلیوں میں پھر رہے ہوتے ہیں۔ ان سے چیز بے شک نہ لیں انہیں سو پچاس روپے دے دیا کریں ۔
ایسے بے سہارا لوگ امداد کے مستحق ہوتے ہیں ۔اللہ کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں دیتا بلکہ کسی انسان کو وسیلہ بنا دیتا ہے۔ آیئے آپ بھی اللہ کا ہاتھ بن جائیں۔ اس کے صلے میں رب کریم آپ کی تمام مشکلات آسان کر دے گا ۔23 اگست 2025
میں نے گورنمنٹ ہائی سکول داؤدخیل سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ فرسٹ ڈویژن اس زمانے میں بڑی چیز ہوتی تھی۔ بابا جی کے بعد خاندان میں دوسرا فرسٹ ڈویژن میں ہی تھا۔ بزرگوں نے مجھے ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ کیا۔ بابا جی اس زمانے میں راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سکولز تھے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ راولپنڈی لے گئے اور مجھے گارڈن کالج کی فرسٹ ایئر پری میڈیکل کلاس میں داخل کرا دیا ۔
سائنس کے مضامین میں مجھے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی ۔ میں نے محسوس کیا کہ سائنس میں تو میں نہیں چل سکتا ۔ اس لیئے میں نے دسمبر ٹیسٹ کے بعد پرنسپل صاحب کو مضامین تبدیل کرنےدرخواست دے دی۔ پرنسپل پروفیسرجے بی کمنگز صاحب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے مجھے مضامین تبدیل کرنے کی ا جازت دے دی۔ میں نے فزکس کیمسٹری اور بیالوجی کی بجائے سیاسیات ، معاشیات اور فارسی کے مضامین رکھ لیئے ۔
گارڈن کالج اس زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور کے برابر کا تعلیمی ادارہ تھا۔ یہ ادارہ امریکہ کی ایک مشنری تنظیم نے قائم کیا تھا۔ پرنسپل اور تقریبا آدھا ٹیچنگ اسٹاف بھی امریکن تھا۔ نظم و نسق کے لحاظ سے یہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ تھا۔
امریکی پروفیسر جان وائلڈر صاحب ہمیں انگلش پڑھاتے تھے ۔۔ انگلش میں میری خصوصی دلچسپی اور کارکردگی دیکھ کر وہ مجھ پر بہت مہربان تھے۔ ایک کلاس ٹیسٹ میں مجھے 100 میں سے 98.5 نمبر دیئے ۔ پیپر واپس دیتے ہوئے ہنس کر کہا آپ کے نمبر تو پورے 100 بنتے تھے ، مگر آپ کے پاکستان میں انگلش میں پورے نمبر دینے کا رواج نہیں ، اس لیئے میں نے ڈیڑھ نمبر کاٹ لیا ۔ 24 اگست 2025
میرے بی اے کے امتحان سے دو ماہ پہلے بابا جی ملازمت سے ریٹائر ہو گئے ۔ رہائش اور اخراجات کے مسائل کی وجہ سے مجھے ان کے ساتھ گھر واپس جانا پڑا۔
پروفیسر جان وائلڈر صاحب کو بتایا کہ میں کالج چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ یہ سن کر وہ خاصے پریشان ہو گئے ۔ کہنے لگے چلو میرے ساتھ ۔ امریکی پروفیسرز کی رہائش گاہیں کالج کیمپس کے اندر ہی تھیں۔ گھر پہنچ کر انہوں نے بیگم کو چائے بنانے کا کہا ۔ پھر مجھ سے کہنے لگے دیکھیں آپ کالج چھوڑ کر نہ جائیں ۔ والد صاحب کے جانے کے بعد میرے گھر میں رہیں۔ آپ کے تمام اخراجات بھی میں ادا کروں گا ۔اگلے سال واپس امریکہ جاؤں گا تو آپ کو ساتھ لے جا کر وہاں سے ایم اے انگلش کرواؤں گا۔اتنے میں ان کی بیگم صاحبہ چائے لے آئیں ۔انہوں نے بھی مجھ سے کہا
Yes, Munawar, why not be a son to us ?
۔۔۔۔ ہاں منور ، آپ ہمارے بیٹے بن جائیں نا۔ ان میاں بیوی کا خلوص دیکھ کر میری آنکھیں بھیگنے لگیں۔ بھرائی ہوئی آواز میں کہا سر فی الحال تو مجھے بابا جی کے ساتھ جاناہو گا۔ اگر فیملی نے آپ کے ساتھ رہنے اور امریکہ جانے کی اجازت دے دی تو واپس آ جاؤں گا ۔واپس نہ آؤں تو سمجھ لینا کہ اجازت نہیں ملی ۔یہ کہہ کر میں انسو پونچھتا ہوا وہاں سے واپس آ گیا ۔
اجازت کہاں ملنی تھی۔ گھر والوں نے صاف انکار کردیا ۔امی بیمار رہتی تھیں اس لیئے بھی میرا گھر سے باہر جانا مناسب نہ تھا۔حالات میں کئی موڑ آئے ۔ شادی ہو گئی ۔ دو تین بچے بھی ہو گئے۔ میں بی اے کے بعد بی ایڈ کرکے ایک سکول میں سینیئر انگلش ٹیچر بن گیا۔ مگر پروفیسر جان وائلڈر نے ایم اے انگلش کرنے کا جو خواب دکھایا تھا وہ میری نظر سے اوجھل نہ ہوا –بالآخر 1970 میں میں نے ایم اے انگلش کر لیا۔دل میں ایک حسرت باقی رہ گئی کہ کاش سر جان وائلڈر کہیں مل جاتے تو میں ان کے پاؤں چھو کر کہتا
Sir, I’ve done it۔۔۔۔۔۔۔۔ سر ، میں نے ایم اے انگلش کر لیا۔25 اگست 2025
صلواعلیہ و آلہ۔۔۔۔۔۔
بی اے کرنے کے بعد میں نے اور میرے ماموں زاد بھائی ممتاز حسین ملک نے سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں بی ایڈ کلاس میں داخلہ لیا ۔۔ اس سال سنٹرل ٹریننگ کالج میں ہم میانوالی کے جوانوں کا اچھا خاصا گروپ تھا۔ یہ گروپ کالاباغ سے کرم اللہ پراچہ ، میانوالی شہر سے ملک مشتاق اور مخدوم عبدالرزاق, قتالی خیلانوالہ سے نور خان المعروف لالو، موسی خیل سے محمد عظیم خان ، نانگنی سے سائنس ٹیچر ملک رب نواز ، کندیاں سے ملک عطا اللہ اور پپلاں سے ملک محمد خان پر مشتمل تھا۔
ممتاز بھائی ، میں کرم اللہ پراچہ اور ملک مشتاق نئے ہاسٹل میں رہتے تھے۔ باقی لوگ نئے ہاسٹل سے ملحق پرانے ہاسٹل میں رہتے تھے ۔ممتاز بھائی ، میں ، لالو نور خان اور کرم اللہ پراچہ پڑھنے لکھنے کے معاملے میں بالکل سیریئس نہ تھے ۔ بقیہ لوگ خاصے پڑھوکے تھے۔ دراصل بی ایڈ کے کورس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس لیئے محنت کی کوئی خاص ضرورت بھی نہ تھی۔ ایک دو ماہ میں آسانی سے کورس مکمل ہو سکتا تھا۔ اس لیئے ہم چار لوگ پڑھنے لکھنے کی بجائے سیرو تفریح اور کھانے پینے میں مشغول رہے-–27 اگست 2025
سنٹرل ٹریننگ کالج میں ہمیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہت مواقع ملے اور ہم نے ان سے بھرپور فایدہ اٹھایا۔ممتاز بھائی زبردست مقرر تھے۔۔ انہوں نے ہمارے مشورے پر ہاسٹل کے چیف پریفیکٹ کے انتخاب میں حصہ لیا ۔ انتخاب کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہر امیدوار دیئے ہوئے موضوع پر ہاسٹل کے مکینوں سے خطاب کرتا تھا ۔ آخر میں امیدوار کے بارے میں ہاسٹل کے مکینوں کی رائے لی جاتی تھی۔ رائے کا اظہار ہاتھ کھڑے کر کے کیاجاتا تھا۔
ہاسٹل سپرنٹینڈنٹ پروفیسرسعید خان صاحب کی صدارت میں سٹوڈنٹس کا اجلاس ہاسٹل کےصحن میں منعقد ہوا ۔ممتاز بھائی بھاری اکثریت سے چیف پریفیکٹ منتخب ہو گئے ۔ایک دن کالج سے فارغ ہو کر ہم لوگ مال روڈ کی طرف جا رہے تھے ۔ اسلامیہ کالج سول لائنز کے سامنے آل پاکستان سٹوڈنٹس مباحثہ کا بینر لگا دیکھ کر رک گئے۔ مباحثہ اس وقت کالج کے ہال میں جاری تھا۔ ممتاز بھائی نے کہا آو اندرجا کر دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ہال میں داخل ہونے تو ممتاز بھائی نے اپنا کالج کا شناختی کارڈ سٹیج سیکرٹری کو دکھا کر مقررین میں اپنا نام لکھوا دیا۔ مباحثے کا موضوع تھا نوجوان نسل کے مسائل ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق اور سینیئر سیاسی رہنماخواجہ صفدر ۔۔۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے والد ۔۔۔اس مباحثے کے جج تھے۔ ممتاز بھائی نے اپنی باری پر اجلاس سے دھواں دھار خطاب کر کے سماں باندھ دیا ۔ جج صاحبان کی متفقہ رائے کے مطابق ممتاز بھائی مباحثے کے بہترین مقرر قرار پائے ۔انعام میں ایک خوبصورت چمکتی دمکتی ٹرافی اور سند ملی۔28 اگست 2025
پشاور کے عبدالرحمن خان المعروف خان چاچا ہاسٹل کی محبوب ترین شخصیت تھے۔ تھے تو ہمارے کلاس فیلو ، مگر عمر میں ہم سب سے بڑے تھے اس لیئے ہم لوگ انہیں خان چاچا کہتے تھے ۔ بہت خوش مزاج، زندہ دل اور شغلی انسان تھے۔ ہاسٹل میں کمرہ نمبر 120 میں رہتے تھے۔ ہر سنیچر کی رات خان چاچا کے کمرے میں موسیقی کی محفل برپا ہوتی تھی۔ ان کے ساتھ والے کمرے میں ہمارے دو کرسچیئن ساتھیوں مائیکل اور سیموئل کے پاس ہارمونیم اور طبلہ بھی تھا۔ دونوں بہت اچھا گا بھی لیتے تھے۔۔ ان کے علاوہ چکوال کے قاضی غلام مرتضی اور پنڈی کے راجہ عبدالرحمن المعروف راجہ مانی بھی سنیچر کی شام خان چاچا کی محفل میں آواز کا جادو جگایا کرتے تھے۔راجہ مانی کی آواز مشہور انڈین سنگر مکیش سے ملتی جلتی تھی۔ قاضی مرتضی بھی بہت سریلے گلوکار تھے ۔
پیار دے بھلیکے کنے سوہنے سوہنے کھا گئے
ان کا پسندیدہ گیت تھا۔
میں نے خان چاچا کی محفل موسیقی کا نام خان چاچا کا عرس تجویز کیا تو خان چاچا سمیت سب لوگوں نے بہت پسند کیا۔
محفل میں چائے پانی کا اہتمام خان چاچا اپنی جیب سے کرتے تھے ۔ایک دفعہ ہم نے کہاچاچا جی آپ یہ تکلف نہ کیا کریں کیونکہ عرس میں کھانے پینے کا بندوبست تو مریدین کرتے ہیں ۔آئںندہ یہ بندوبست ہم کریں گے۔۔خان چاچا نے کہا ، یارا، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرے کمرے میں کھانے پینے کا انتظام مہمان خود کریں۔۔اللہ رحم کرے میں اتنا بھی غریب نہیں ہوں۔ چائے پانی کا بندو بست میں خود کروں گا ۔29 اگست 2025
ایک رات خان چا چا کی محفل میں ممتاز بھائی نے مجھ سے کہا تم بھی کچھ سناو۔ میں نے اس پر بہت احتجاج کیا مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ یار لوگ بضد ہوگئے کہ کچھ سنانا پڑے گا مجھے محمد رفیع اور طلعت محمود کے بہت سے گیت یاد تھے۔ ایک آدھ سنادیا ۔ بہت داد ملی۔خان چاچا نے انعام کے طور پر مجھے چائے کے ساتھ ایک پیسٹری زائد دی۔ اس دن سے میں بھی اس محفل کا مستقل گلوکار شمار ہونے لگا ۔اکتوبر میں شاہدرہ میں ملکہ نور جہاں کے مزار کے لان میں سٹوڈنٹس کا گلوکاری کا سالانہ مقابلہ ہوا۔بہت سے سٹوڈنٹس اس مقابلے میں شریک ہوئے ۔۔ پروفیسر شمشاد محمد خان لودھی ، پروفیسر مختار قریشی اور قاضی احمد یار صاحب اس مقابلے کے جج صاحبان تھے ۔
میں نے محمد رفیع کا گیت
یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں پیش کیا۔ مقابلے کے اختتام پر پروفیسر لودھی صاحب نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا، سب نوجوانوں نے بہت اچھا گایا ، تاہم ہماری متفقہ رائے یہ ہے کہ
Mr Munawar Ali Malik is the best singer of the college.
اس اعلان پر پنڈال میانوالی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ۔انعام میں مجھے ایک خوبصورت ٹرافی ، جارج ایلیئٹ کا مشہور ناول Mill on the Floss
اور ایک سند ملی۔۔۔۔کیا زمانہ تھا۔۔۔۔۔ 30 اگست 2025
پرنسپل صاحب کے زیر صدارت کالج کی مجلس ادب کے اجلاس میں میں نے ایک مزاحیہ مضمون پڑھا جس میں میں نے کالج میں اپنے پہلے دن کے تاثرات بیان کیئے تھے۔مضمون پڑھنے سے پہلے میں نے کہا افسوس کی بات ہے کہ مجلس ادب کے اجلاس میں مجلس کے مہتمم پروفیسر محمد اسحاق جلالپوری صاحب کے سوا ادب سے متعلق کوئی پروفیسر صاحب بھی شریک نہیں ہوئے۔پرنسپل صاحب نے اپنے خطاب میں میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کم ازکم اردو اور انگلش کے پروفیسر صاحبان کو اس اجلاس میں حاضر ہونا چاہیئے تھا۔
دوسرے دن کالج کے سٹاف روم میں میری اس گستاخی پر گرما گرم بحث ہوئی۔ شعبہ اردواور انگریزی کے پروفیسر صاحبان نے مجھے کالج سے نکالنے کامطالبہ کیا۔وائس پرنسپل صاحب نے کہا حضرات اس لڑکے نے جو کچھ کہا اصولی طور پر ٹھیک تھا۔ اور پھر پرنسپل صاحب نے اس کی بات کی تائید بھی کر دی ۔ اس لیئے لڑکے کے خلاف کسی قسم کا ایکشن تو وہ نہیں ہونے دیں گے ۔۔ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ اسے بلا کر اس غلطی پر لعنت ملامت کردیں۔
اس سے اگلے دن میں اپنی کلاس کی طرف جاتے ہوئے ایک کمرے کے سامنے سے گذرا تو شاید اس وقت کلاس میں میرا ہی ذکر ہو رہا تھا۔یہ کلاس انگلش کے پروفیسر شیخ نذیر احمد صاحب کی تھی۔ لڑکوں نے پروفیسر صاحب سے کہا سر ، وہ جا رہا ہے ۔پروفیسر صاحب نے مجھے بلا لیا۔ بہت غصے میں تھے۔ کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی ٹیچرز پر تنقید کرتے ہوئے ۔
میں نے کہا سر ، میں نے توکوئی تنقید نہیں کی۔۔
پروفیسر صاحب نے کہا –
– Do-you know where you stand
میں نے کہا
Yes, Sir
پروفیسر صاحب نے کہا
Get lost
دفع ہو جاؤ
وہاں سے دفع ہو کر میں اپنی کلاس کی جانب چل دیا۔
دوسرے دن برآمدے میں پروفیسر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ کہنے لگے ہاں بھئی مجلس ادب کے اجلاس میں آپ نے جو مضمون پڑھا تھا ذرا مجھے دکھانا۔
مضمون فائیل میں میرے پاس موجود تھا۔ میں نے فائیل انہیں دے دی ۔
مجھے ساتھ لے کر پروفیسر صاحب اپنے کمرے میں آئے اور مجھے سامنے بٹھا کر مضمون پڑھنا شروع کیا ۔۔
مضمون پڑھنے کے بعد مسکرا کر کہا بہت خوب ۔ مجھے تو اس میں کوئی دل آزار بات نظر نہیں آئی۔
It’s a nice piece of literature.
یہ تو ایک عمدہ ادب پارہ ہے۔
میرے ساتھی ویسے ہی شور مچا رہے ہیں۔
Well done
شاباش
آنسو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے میں وہاں سے نکل آیا ۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 30 اگست 2025
