SYED KHURSHEED SHAH BUKHARI — SARAIKI DARD, LOK SHAAIRI AUR GEET NIGARI KA KHAMOSH DARVESH

سید خورشید شاہ بخاری — سرائیکی درد، لوک شاعری اور گیت نگاری کا خاموش درویش

 

سرائیکی وسیب کی دھرتی نے ہمیشہ ایسے فنکار پیدا کیے ہیں جنہوں نے شہرت سے زیادہ اپنے فن کی سچائی کو اہمیت دی۔ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں ایک نام سید خورشید شاہ بخاری کا بھی ہے، جو صرف ایک شاعر نہیں بلکہ سرائیکی احساس، لوک روایت اور درد کی آواز تھے۔ ان کا شمار اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے لفظوں کو صرف لکھا نہیں بلکہ اپنی روح کے لہو سے سینچا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی سننے والوں کے دلوں میں ایک مستقل کسک اور عجیب سی اداسی چھوڑ جاتا ہے۔

سید خورشید شاہ بخاری کا تعلق ضلع میانوالی کے نواحی علاقے ڈھیر اُمید علی شاہ کے ایک معزز سادات گھرانے سے تھا۔ اس خطے کی مٹی میں درویشی، سادگی، وضع داری اور روحانیت صدیوں سے رچی بسی ہے۔ خورشید شاہ نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی، اسی ثقافت میں شعور پایا اور اسی دھرتی کے دکھ، محبتیں، محرومیاں اور روحانی روایتیں ان کی شاعری کا حصہ بنتی چلی گئیں۔

وہ بنیادی طور پر سرائیکی ڈوھڑے، ماہیے اور لوک گیت کے شاعر تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا کلام محض لوک شاعری نہیں بلکہ ایک مکمل جذباتی و تہذیبی دستاویز ہے۔ ان کے اشعار میں عشق کی ٹوٹ پھوٹ بھی ہے، ہجر کی اذیت بھی، دھرتی کی خوشبو بھی اور کربلا کا سوز بھی۔ یہی امتزاج انہیں عام شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔

سرائیکی موسیقی کی تاریخ میں 1980ء اور 1981ء کا زمانہ ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ دور تھا جب آڈیو کیسٹ ثقافت نے دیہات سے لے کر شہروں تک موسیقی اور شاعری کو گھروں میں پہنچایا۔ انہی دنوں فیصل آباد کی معروف کمپنی رحمت گراموفون نے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کا مشہور “والیوم 14” جاری کیا، جو بعد ازاں سرائیکی لوک موسیقی کا ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔

اس والیوم کی غیرمعمولی مقبولیت کے پسِ منظر میں صرف عطااللہ خان کی درد بھری آواز نہیں تھی بلکہ سید خورشید شاہ بخاری کے لکھے ہوئے وہ لازوال ڈوھڑے اور ماہیے تھے جنہوں نے سننے والوں کے دل چیر کر رکھ دیے۔ لوک راگ “جوگ” کی المیہ دھن، عطااللہ خان کی گمبھیر اور پرسوز آواز، اور خورشید شاہ کے دل میں اتر جانے والے الفاظ — یہ تینوں مل کر ایسا سوگوار اور روحانی امتزاج پیدا کرتے تھے جو آج بھی سامع کو بے اختیار خاموش کر دیتا ہے۔

والیوم 14 کا پہلا ڈوھڑا سرائیکی ادب اور موسیقی کی تاریخ میں ایک مستقل حوالہ بن چکا ہے:

 

سید خورشید شاہ بخاری کی شاعری عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز میں سننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

تُساں کَنڈ کیتی میتھوں، سنگتی پُچھدِن ڈَس کِتھ گیا تیڈا سائیں
کیہڑے مُنہ نال آکھاں رُس گیا ہے، تنگ کردن شام صباحیں
کر سِر نِیواں ودا وقت نِبھینداں او نِت آلیندن بھائیں
جِتھے خوش وسدایں خورشید بے کَس کوں بُنڑن گھِن ونج یار اُتھائیں

یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ شکستہ دل انسان کی وہ چیخ تھی جو موسیقی کے پردوں میں ڈھل کر لاکھوں دلوں تک پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس برس گزر جانے کے باوجود یہ ڈوھڑے آج بھی سرائیکی وسیب کے گلی کوچوں، محفلوں اور تنہائیوں میں زندہ ہیں۔

خورشید شاہ بخاری کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کی زبان بھی ہے۔ ان کے کلام میں وہ سرائیکی بولی ملتی ہے جو ذاکروں، مرثیہ خوانوں اور روایتی لوک فنکاروں کی زبان کہلاتی ہے۔ اس زبان میں سرائیکی کے ساتھ اردو اور فارسی الفاظ کا نہایت خوبصورت اور تہذیبی استعمال دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں ایک خاص وقار، سوز اور روحانی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔

ان کی شاعری میں محبت صرف رومان نہیں بلکہ ایک داخلی اذیت ہے۔ وہ عشق کو دکھ، صبر اور خاموشی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف کربلا کا استعارہ ان کے ہاں بار بار ابھرتا ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی، جدائی، وفا اور بے بسی کا سوز ان کے لہجے میں گہری تاثیر پیدا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے ڈوھڑے صرف سنے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔

ان کے چند اشعار تو ایسے ہیں جو گویا اجتماعی دکھ کی علامت بن چکے ہیں:

خیال رکھائے میڈی میت اتے، میڈا کوئی لگدا نہ رووے
کرو کفن دفن دی باؤں جلدی، نہ خبر سجنڑ کو پووے
متاں لا کے مہندی شگناں دی، آ میت دے کول کھلووے
خورشید دا باقی کے راہسی، جے اوندا ہک اتھرو ڈگ پووے

یہ اشعار پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر زندگی کے آخری لمحوں میں بھی محبت کے احترام اور ہجر کے دکھ کو سینے سے لگائے ہوئے ہے۔

خورشید شاہ بخاری کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح منفرد تھی۔ وہ قلندر منش، انتہائی ذہین مگر غیرمعمولی حد تک سادہ انسان تھے۔ شہرت ان کے قدموں تک آئی، مگر انہوں نے کبھی شہرت کا پیچھا نہیں کیا۔ آج کے دور میں جب فنکار اپنی پہچان کے لیے مسلسل شور مچاتے ہیں، خورشید شاہ نے خاموش رہ کر امر ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ یہی خاموشی ان کی اصل طاقت بن گئی۔

وہ کئی برس گوشہ نشین رہے۔ دل میں یہ شکوہ ضرور رکھتے تھے کہ ان کے فن کی وہ قدر نہ کی گئی جس کے وہ مستحق تھے، مگر اس محرومی کے باوجود ان کے لہجے میں کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنے دکھ کو بھی شاعری میں ڈھال دیا۔

ان کے انتقال کے بعد سرائیکی ادب اور موسیقی کا ایک روشن چراغ بجھ گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں۔ جب بھی عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز میں خورشید شاہ کے ڈوھڑے گونجتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بول رہا ہو۔

مرحوم خورشید شاہ بخاری اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے فن سے ثابت کیا کہ سچا ادب اور اصل شاعری وقت کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ آج بھی سرائیکی وسیب کے دل کی دھڑکن ہیں، اور رہیں گے۔

ناصر کاظمی کا یہ شعر واقعی ان ہی کے لیے محسوس ہوتا ہے:

وہ ہجر کی رات کا ستارا، وہ ہم نفس، ہم سخن ہمارا

سدا رہے اُس کا نام پیارا، سُنا ہے کل رات مر گیا وہ

 

 

سید خورشید شاہ صاحب. ..
آپ کا تعلق میانوالی کے نواحی علاقے ڈھیراُمیدعلی شاہ کے سادات گھرانہ سے تھا شاہ صاحب سرائیکی ڈوھڑے کے باکمال شاعر تھے آپ کے شہرہ آفاق دوھڑے عطا اللہ خان عیسی خیلوی کی مترنم آواز سے لوگوں کی سماعت سے ٹکرائے تو زبان زدعام ہوئے 1980-81 میں رحمت گراموفون فیصل آباد نے لالا عیسی خیلوی کے نغمات کا والیوم 14 جاری کیا – یہ والیوم لالا کے مقبول ترین والیومز میں شمار ہوتا ہے – اس کی مقبولیت کی وجہ لوک راگ جوگ میں گائے ہوئے خورشید شاہ کے لکھے ڈوھڑے اور ماہیے ہیں – جوگ کی المیہ دُھن ، لالا کی گمبھیر پُرسوز آواز اور خورشید شاہ کا درد بھرے کلام نے ایک عجیب سوگوار امتزاج تخلیق کیا –
اللہ کریم شاہ صاحب کی مغفرت فرمائے . …آمین.خورشیدشاہ کے دو شعری مجموعے ۔تساں کنڈ کیتی اور رداۓ زینب ۔شائع ھوۓ ۔یہ دونوں کتابیں جن کی اشاعت کا اعزاز مجھے حاصل ھے-راحت امیرخان بلچ

Rahat Ameer Khan Niazi Trikhelvi — Life, Personality, Literary Services, and Intellectual Legacy

 

شاعر : سید خورشید حسنین بخاری    —وہ ستارہ جو کبھی ڈوبتا نہیں

میانوالی کی دھرتی، اپنی بے باکی، بے لوثی اور درویشی کے لیے جانی جاتی ہے۔ اور اس دھرتی کا وہ حسین گاؤں ڈھیر امید علی شاہ، جس کی مٹی نے ایک ایسا وجود پیدا کیا جو آج بھی سرائیکی ادب اور عزاداری حسینؑ کی فضا میں سورج کی طرح روشن ہے—سید خورشید حسنین بخاری۔

نام میں “خورشید” تھا اور وہ واقعی روشنی تھے۔ وہ روشنی جو کبھی غروب نہیں ہوتی۔ پانچ برس پہلے جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو یوں لگا جیسے کوئی کہکشاں اپنا ایک روشن ترین ستارہ کھو بیٹھی ہو۔ لیکن کیا ستارے کبھی مرتے ہیں؟ وہ تو بس بدل جاتے ہیں، ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو کر نورِ ازل میں گم ہو جاتے ہیں۔

خورشید حسنین بخاری محض ایک شاعر نہ تھے۔ وہ دردِ عشقِ حسینؑ کے ترجمان تھے۔ ان کی شاعری میں سرائیکی مٹی کی خوشبو بھی تھی اور کربلا کی تپتی ریت کا سوز بھی۔ ان کا کلام عزاداری کی اس روحانی تربیت کا نتیجہ تھا جو انہیں ماں کے دودھ کے ساتھ ملی تھی۔ امام حسینؑ کی محبت نے ان کے دوہڑے اور ماہیے کو وہ گہرائی عطا کی کہ ہر لفظ میں سوز پیدا ہو گیا، ہر مصرع دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔

وہ روایتی سرائیکی گداز کے ساتھ جدید لفظیات کا حسین امتزاج تھے۔ ان کا قلم جب بھی چلا، یا تو مٹی کی محبت نکلی یا آل محمدﷺ کا غم۔ عزاداری کے حوالے سے ان کا کام انتہائی وسیع تھا۔ ان کے نوحے اور مرثیے صرف شعر نہیں تھے، بلکہ کربلا کے مصائب کا ایسا مرقع تھے جسے سن کر آنکھیں اشکبار ہو جاتیں اور دل امام مظلومؑ کے غم میں جلنے لگتا۔ یہ وہی سوز تھا جس کی خوشبو آج کے مادی دور میں نایاب ہو چکی ہے۔

پھر آیا وہ لمحہ جب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی جیسے جادوئی آواز کے مالک نے ان کے دوہڑے گائے۔ کیسٹوں کی وہ لہریں جب دنیا میں پھیلیں تو سرحدیں مٹ گئیں۔ پنجاب سے لے کر سندھ تک، بلوچستان سے لے کر خیبر تک، اور پھر پوری دنیا میں جہاں بھی سرائیکی دل دھڑکتا تھا، وہاں خورشید کا کلام گونجنے لگا۔ ہر صاحبِ دل نے انہیں اپنا سمجھا، کیونکہ وہ محبت اور درویشی کی زبان بولتے تھے۔

اور یہ درویشی ہی ان کی اصل شناخت تھی۔ وہ اپنے گاؤں ڈھیر امید علی شاہ میں، شہرت اور ستائش سے دور، ایک گوشہ نشین درویش کی طرح رہتے۔ شہرت خود ان کے دروازے پر دستک دیتی تھی، مگر وہ اس سے بے نیاز، بس سخن کی سرشاری اور عزاداری کی محبت میں گم رہتے۔

ان کا کلام “تساں کنڈ کیتی” کے نام سے کتابی شکل میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر منور علی ملک جیسی معتبر شخصیت نے لکھا، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ خورشید حسنین بخاری کا ادبی مرتبہ کیا تھا۔

آئیے، ان کے ہی ایک دوہڑے میں کھو جائیں:

تساں کنڈ کیتی میں توں سنگتی پچھدن کتھ ٹر گیا تیڈا سائیں۔

کیہڑے منہ نال آکھاں رس گیا ہے تنگ کردن شام صباحیں۔

کر سر نیواں ودا وقت نبھینداں او تاں نت آ لیندن بھائیں۔

پیا جتھ وسدائیں خورشید بے کس کوں ہنڑ گھن ونج یار اتھائیں۔

یہ صرف دوہڑا نہیں، یہ دردِ فراق کی داستان ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو بتاتی ہے کہ جب کوئی سچا عاشق، سچا شاعر، اور سچا انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے پیچھے کون کون سے دکھ رہ جاتے ہیں۔

میرا اور جمال احسانی کا دکھ واقعی سانجھا ہے۔ ہم اپنے وقت کے وہ مسافر ہیں جو دیکھ رہے ہیں کہ کیسے چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ مگر خورشید حسنین بخاری جیسے لوگ کبھی نہیں بجھتے۔ وہ تو فنا سے ماورا ہوتے ہیں۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا کلام، ان کا سوز، اور آل محمدﷺ سے ان کی محبت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔

خدا کرے کہ خطیبِ منبرِ سلونی، جن کے لیے انہوں نے لکھا اور جن کے غم میں جیا، انہیں اپنے جوارِ قرب میں جگہ دیں۔ وہ جہاں بھی ہیں، ہمارے دلوں پر حکمراں ہیں۔

وہ سرائیکی ثقافت کا فخر تھے، عزاداری حسینؑ کا معمار تھے، اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

“چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار،

میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے۔”

ملک ثمر عباس

 

 

 

 راحت امیر تری خیلوی صاحب اور موچھ کے عاقل خان صاحب نے فون پر ڈوھڑے کے بے مثال شاعر سید خورشید شاہ بخاری سے بات کرائی- شاہ جی نے بتایا کہ ان کی شاعری کا مجموعہ عنقریب راحت تری خیلوی صاحب اپنے ادارے سے شائع کر رھے ھیں-

شاہ جی نے اپنی کتاب کاعنوان تجویز کرنے اور اس کتاب کاتعارف لکھنے کی فرمائش کی- میں نے کتاب کا عنوان ‘ تساں کنڈ کیتی‘ تجویز کردیا ، جو شاہ صاحب، راحت اور عاقل خان کو بہت پسند آیا- یہ میرے لیے ایک اعزاز ھے-

کتاب کا عنوان، آپ لوگوں کو یاد ھوگا ‘ میں نے شاہ جی کے ایک ڈوھڑے سے لیا ھے- منور علی ملک 

 

‘ تساں کنڈ کیتی-Tusan Kundh Keeti

اظہار تشکر

تساں کنڈھ کیتی کی اشاعت کے پر مسرت موقع پر جون احباب محترم اور عزیزان گرامی نے اپنے خلوص اور ہمدردیوں سے مجھے نوازا ہے میں اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

سید خورشید شاہ

میں سب سے پہلے عطاء اللہ خان عیسی خیلوی ، مجبور عیسی خیلوی ( مرحوم ) جناب منور علی ملک صاحب اور جناب سونا خان بے وس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے لیے خوبصورت مضامین قلمبند کیے، یہ مضامین ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں بندہ کے کلام کی مقبولیت کا سہرا اپنے دوست اور نامور فنکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے سر ہے جس نے ریڈیو اور ٹی وی سکرین پر میرے الفاظ کو اپنی جادوئی آواز میں پیش کر کے انہیں دنیا بھر میں متعارف کروایا ، اور اس قابل رشک مقام تک پہنچایا۔

جناب محمد عاقل خان ( موچھ ) اور پروفیسر مسرور جاوید کا بھی ممنون احسان ہوں اپنے جنہوں نے اس بکھرے ہوئے کلام کو کتابی شکل میں لانے پر مجھے ذہبی طور پر تیار کیا پر انہوں نے ہر موقع پر مجھے محبت اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔

اس کے علاوہ جناب عبید اللہ خان اراب ذائی ( مرحوم ) جناب ظفر کمال، ماسٹر ظفر عباس شاہ، شفقت اللہ خان موچھ ، ملک محمد اسلم حیدری ڈھیر اُمید علی شاہ، ملک محمود باجوہ ، ملک محمد حنیف ، ظفر تاباں کی محبتیں بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔

آخر میں اپنے محترم راحت امیر نیازی کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں جس کی مخلصانہ کوشش، دانشمندانہ مشوروں سے کتاب کی اشاعت انتہائی کم وقت میں ممکن ہوسکی۔

وگرنه من همه خاکم که بستم سید خورشید شاہ ڈھیر امید علی شاہ

گیت
چیڑیاں دے نیکیاں دا کراں کی شمار میں عمراں گوا ہوتی تھی بہار میں نہ
ٹر گلیوں ساکوں ماہی جھوٹے لارے لا اے اللہ جائے کھیں کیانی اینڈا گمراہ اے یکھ گدائے ماہی جیڑا اصلی پیار میں
میڈے جینداں غیراں نال بخشیاں مناویں توں سازی گلی میڈا ماہی پھیرا وی نہ پاویں توں سدا پاس کیویں پیاں غماں دا اے زاہر میں
تیرے ماہی عارضی خلوص آتے نکل گئی
بن کے دیوانی جیڑے راہوں آتے رل گئی
ساری ساری رات کیتا تیرا انتظار میں
اس خورشید من پہلے کہہ کیا غیراں دے اشارے آتے بچٹاں وی پیر کیا سوہنیاں تے کیویں کراں اس اعتبار میں

 

شالا رب اقدس وچ دنیا دے

نہ کہیں توں سجن نکھیڑے

ڈَنگ اوکھے نِبھدن ڈُکھیاں دے

بُھل ویندن اپنے ویہڑے

ڈینہہ گزر ویندا ساری رات خدا دی

ہوندے نال نصیب دے جھیڑے

خورشید جنہاں توں سجن جُدا ہن

اوہے ہن مَقصوم دے بھیڑے

سرائیکی کے نامور شاعر سید خورشید شاہ پرسوں انتقال کر گئے

کل ملک سونا خان بےوس صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا

سن کر بہت افسوس ہوا

پچھلی بار جب ہم میانوالی گئے تھے تو شاہ صاحب بہت علیل تھے

دعا ہے کے اللہ تعالی مرشد پاک کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

AAJ KA SHAIR… ASIM BUKHARI

AAJ KA SHAIR… ASIM BUKHARI

آج کا شاعر۔۔۔ عاصم بخاری تجزیہ کار (راحت امیر نیازی میانوالی) عاصم بخاری میانوالی کے معروف اور متحرک کثیر الجہات...
Read More
Aatish-e-Zer-e-Pa! -Rahat Ameer Khan Niazi Trikhelvi

Aatish-e-Zer-e-Pa! -Rahat Ameer Khan Niazi Trikhelvi

آتش زیر پا !  تحریر-  حریر- ادیب و شاعر پروفیسر رئیّس احمد عرشی   مجھے اپنے دوسرے شعری مجموعے "ساکت لمحے"...
Read More
AFZAL AJIZ

AFZAL AJIZ

AFZAL AJIZ  WAS BORN ON 7 JANUARY 1967 . HE IS FROM MIANWALI AND WELL KNOWN FAMOUS POET , LYRICIST...
Read More
AKRAM ZAHID NIAZI-LYRICIST

AKRAM ZAHID NIAZI-LYRICIST

AKRAM ZAHID NIAZI IS  ONE OF THE POPULAR LYRICISTS OF  MIANWALI FOLK MUSIC .HE HAS LOT OF SONGS AT HIS...
Read More
Asad Imran Shah – A Journey of Literary Passion, Resilience, and Inspiration

Asad Imran Shah – A Journey of Literary Passion, Resilience, and Inspiration

ASAD AMRAN SHAH A native of Pakki Shah Mardan and now a proud resident of Mianwali, is a symbol of...
Read More
ASAD MUSTAFA

ASAD MUSTAFA

تعارف اسد مصطفی (بطور شاعر اور ادیب) ۱۰جولائی ۱۹۷۰ء کو میانوالی شہر میں پیدا ہوا۔میرا آبائی گاؤں ٹبی شریف ہے...
Read More
EHSAN KALEEM NIAZI

EHSAN KALEEM NIAZI

EHSAN NIAZI, KNOWN AS EHSAN KALEEM NIAZI,IS ONE OF THE EDUCATED AND EXCELLENT POET, WHO PRODUCED GOOD POETRY IN URDU,PUNJABI...
Read More
FAROOQ ROKHRI

FAROOQ ROKHRI

SARDAR UMER FAROOQ KNOWN AS FAROOQ ROKHRI WAS BORN IN ROKHRI MIANWALI, ON MAY 29, 1929. HE GREW UP IN...
Read More
HABIB KHAN ROKHRI

HABIB KHAN ROKHRI

HABIB KHAN ROKHRI WAS BORN ON 12  APRIL 1982 .HE IS WELL KNOWN POET FROM ROKHRI  MIANWALI . HE STUDIED...
Read More
HAMIDULLAH KHAN MARUF AS ZIA ISLAMPURI

HAMIDULLAH KHAN MARUF AS ZIA ISLAMPURI

حمید اللہ خان معروف بہ ضیاء اسلام پوری   بہت سیر کی باغ و راغ جہاں کی ضیاء تھک گئے...
Read More
Imdad Hussain Khan

Imdad Hussain Khan

امداد حسین خان کی سوانح عمری میں امداد نیازی  ایک باصلاحیت اور پرجوش مصنف ہے جو اپنی مادر وطن کی...
Read More
JAGAN NATH AZAD(ISA KHELVI)

JAGAN NATH AZAD(ISA KHELVI)

CREATOR OF PAKISTAN’S FIRST NATIONAL ANTHEM JAGAN NATH AZAD WAS BORN IN 1918 IN ISA KHEL IN THE PUNJAB .HE...
Read More
MAJBOOR ISA KHELVI

MAJBOOR ISA KHELVI

MAJBOOR ESA KHELVI WAS BORN IN ESA KHEL ON 01 JAN 1935. HE GOT INTERMEDIATE IN FINE ARTS AFTER GETTING...
Read More
MALIK MUHAMMAD SALEEM AHSAN

MALIK MUHAMMAD SALEEM AHSAN

  PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN THE PRIDE OF MIANWALI EARLY LIFE & EDUCATION Prof. Muhammad Saleem Ahsan,  is a distinguished...
Read More
MANSOOR AFAQ

MANSOOR AFAQ

 MANSOOR AFAQ,S WAS BORN ON JANUARY 17, 1962. HE PASSED HIS HIGH SCHOOL EDUCATION FROM JAMIA HIGH SCHOOL MIANWALI. HE DID...
Read More
Muhammad Akram (Ateel Isa Khelvi) – Poet & Writer from Isa Khel

Muhammad Akram (Ateel Isa Khelvi) – Poet & Writer from Isa Khel

Muhammad Akram, widely known by his pen name Ateel Isa Khelvi (April 4, 1942 – December 2012), was a renowned...
Read More
Muhammad Iqbal Shah Advocate (Na-Shanaas) — A Literary Overview of His Life, Personality, and Poet

Muhammad Iqbal Shah Advocate (Na-Shanaas) — A Literary Overview of His Life, Personality, and Poet

محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ (ناشناس) — زندگی، شخصیت اور شاعری کا ادبی جائزہ میانوالی کی تاریخ اور تہذیب ہمیشہ سے...
Read More
MUHAMMAD MAHMOOD AHMAD

MUHAMMAD MAHMOOD AHMAD

MUHAMMAD MAHMOOD AHMAD WAS BORN ON  12 NOVEMBER  IN MIANWALI .MUHAMMAD MAHMOOD AHMAD  IS POET OF URDU , SERAIKI, PERSIAN...
Read More
MUHAMMAD MAZHAR NIAZI

MUHAMMAD MAZHAR NIAZI

THE FINEST CONTEMPORARY SERAIKI POET FROM MIANWALI MUHAMMAD MAZHAR NIAZI IS A VERY FAMOUS POET OF MIANWALI DISTRICT. HE BELONGS...
Read More
MUHAMMAD NAJAF ALI

MUHAMMAD NAJAF ALI

MUHAMMAD NAJAF ALI WAS BORN ON JULY 3, 1989 IN MIANWALI ,PAKISTAN. HE ATTENTEDD AND COMPLETED HIS STUDIES FROM VIRTUAL...
Read More
MURID ABBAS QAMAR NAQVI

MURID ABBAS QAMAR NAQVI

MURID ABBAS QAMAR WAS BORN IN VILLAGE NAURANGA  SIFTED TO PAKKI SHAH MARDAN (DISTT MIANWALI. AS POET HE IS KNOWN...
Read More
Naatiya o Hamdiya Shayari ka Roohani Safar -Muhammad Saleem Ahsan

Naatiya o Hamdiya Shayari ka Roohani Safar -Muhammad Saleem Ahsan

محمد سلیم احسن – نعتیہ و حمدیہ شاعری کا روحانی سفر   اردو ادب میں نعت اور حمد کی صنف...
Read More
NASIR ABBAS

NASIR ABBAS

POET/WRITTER /COLUMNIST NASIR ABBAS IS THE MAN OF MANY QUALITIES. HE IS FROM MARI INDUS MIANWALI. HE WAS BORN ON...
Read More
Nasir Abbas Poetry

Nasir Abbas Poetry

==
Read More
NOOR TARI KHELVI

NOOR TARI KHELVI

Noor Tarikhelvi was born on 11 may 1984 in mianwali . he joined Govt.comprehensive high school mianwali and passed matric...
Read More
PERSONAL QUALITIES OF PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN

PERSONAL QUALITIES OF PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN

PERSONAL QUALITIES OF PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN FROM THE PEN OF CELEBRITIES پروفیسر ملک محمد سلیم احسن کے بارے میں ...
Read More
شاعر پروفیسر محمد سلیم احسن میانوالی سے پہلا قومی صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر

POET PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN – THE FIRST NATIONAL PRESIDENTIAL AWARD-WINNING POET

شاعر پروفیسر محمد سلیم احسن ---میانوالی سے پہلا قومی صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر شاعر پروفیسر محمد سلیم احسن کی شاعری...
Read More
POETs

POETs FROM MIANWALI – Literary Heritage of Mianwali District

Poets of Mianwali – A Legacy of Words and Emotions “Poetry is the language in which man explores his own...
Read More
PROFESSOR GULZAR BUKHARI

PROFESSOR GULZAR BUKHARI

نورنگا کا روشن دمکتا ستارہ پروفیسر گلزار بخاری کھڑکیاں جاگتی آنکھوں کی کھلی رہنے دو چاند کو دل میں اترنا...
Read More
PROFESSOR GULZAR BUKHARI

PROFESSOR GULZAR BUKHARI POETRY –

خیر کا اجر تیرے شہر میں کیا دیتے ہیں غزل پروفیسر گلزار بخاری خیر کا اجر تیرے شہر میں کیا...
Read More
MUNAWAR ALI MALIK

Professor Munawar Ali Malik: Life and Contributions

  Professor Munawar Ali Malik: Life and Contributions Professor Munawar Ali Malik (b. 1930) is a prominent Pakistani scholar, educator,...
Read More
PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI – A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

PROFESSOR RAEES AHMED ARSHI – A Distinguished Scholar, Teacher, and Poet from Mianwali

پروفیسر رئیس احمد عرشی    پیدائش اور ذاتی پس منظر پروفیسر رئیس احمد عرشی (اصل نام: احمد خان نیازی) یکم...
Read More
Professors Syed Asim Bukhari — A versatile literary figure

Professors Syed Asim Bukhari — A versatile literary figure

پروفیسر عاصم بخاری — ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ادب کے افق پر کچھ نام ایسے طلوع ہوتے ہیں جو...
Read More
Rahat Ameer Khan Niazi Trikhelvi — Life, Personality, Literary Services, and Intellectual Legacy

Rahat Ameer Khan Niazi Trikhelvi — Life, Personality, Literary Services, and Intellectual Legacy

  راحت امیر خان نیازی تری خیلوی — حیات، شخصیت، خدماتِ ادب اور فکری ورثہ   پاکستان کے ادبی سماں...
Read More
SABIR BHARION

SABIR BHARION

A POET FROM THE SOIL OF MIANWALI. HE WAS BORN ON 19 DECEMBER 1977. HE ATTENDED GOVERNMENT COMPREHENSIVE HIGH SCHOOL...
Read More
SHAKIR KHAN BLACH

SHAKIR KHAN BLACH

  SHAKIR KHAN NIAZI IS A URDU POET. HE WAS BORN ON 6 DEC 1987 . HE PASSED HIS MATRIC...
Read More
SYED KHURSHEED SHAH BUKHARI — SARAIKI DARD, LOK SHAAIRI AUR GEET NIGARI KA KHAMOSH DARVESH

SYED KHURSHEED SHAH BUKHARI — SARAIKI DARD, LOK SHAAIRI AUR GEET NIGARI KA KHAMOSH DARVESH

سید خورشید شاہ بخاری — سرائیکی درد، لوک شاعری اور گیت نگاری کا خاموش درویش   سرائیکی وسیب کی دھرتی...
Read More
SYED NASEER SHAH

SYED NASEER SHAH

آسمانِ ادب کا شہابِ ثاقب۔۔سید نصیر شاہ حدِ ادب انوار حسین حقی  سید نصیر شاہ18 دسمبر کی شام اپنے خالقِ...
Read More
ZAFAR KHAN NIAZI

ZAFAR KHAN NIAZI

Zafar Khan Niazi , Station Director Rted Radio Pakistan Islamabad (Grade 20) from Radio Pakistan in 2006  . He  was...
Read More
ZAFAR KHAN NIAZI POETRY

ZAFAR KHAN NIAZI POETRY

Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top