سید خورشید شاہ بخاری — سرائیکی درد، لوک شاعری اور گیت نگاری کا خاموش درویش
سرائیکی وسیب کی دھرتی نے ہمیشہ ایسے فنکار پیدا کیے ہیں جنہوں نے شہرت سے زیادہ اپنے فن کی سچائی کو اہمیت دی۔ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں ایک نام سید خورشید شاہ بخاری کا بھی ہے، جو صرف ایک شاعر نہیں بلکہ سرائیکی احساس، لوک روایت اور درد کی آواز تھے۔ ان کا شمار اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے لفظوں کو صرف لکھا نہیں بلکہ اپنی روح کے لہو سے سینچا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی سننے والوں کے دلوں میں ایک مستقل کسک اور عجیب سی اداسی چھوڑ جاتا ہے۔
سید خورشید شاہ بخاری کا تعلق ضلع میانوالی کے نواحی علاقے ڈھیر اُمید علی شاہ کے ایک معزز سادات گھرانے سے تھا۔ اس خطے کی مٹی میں درویشی، سادگی، وضع داری اور روحانیت صدیوں سے رچی بسی ہے۔ خورشید شاہ نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی، اسی ثقافت میں شعور پایا اور اسی دھرتی کے دکھ، محبتیں، محرومیاں اور روحانی روایتیں ان کی شاعری کا حصہ بنتی چلی گئیں۔
وہ بنیادی طور پر سرائیکی ڈوھڑے، ماہیے اور لوک گیت کے شاعر تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا کلام محض لوک شاعری نہیں بلکہ ایک مکمل جذباتی و تہذیبی دستاویز ہے۔ ان کے اشعار میں عشق کی ٹوٹ پھوٹ بھی ہے، ہجر کی اذیت بھی، دھرتی کی خوشبو بھی اور کربلا کا سوز بھی۔ یہی امتزاج انہیں عام شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔
سرائیکی موسیقی کی تاریخ میں 1980ء اور 1981ء کا زمانہ ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ دور تھا جب آڈیو کیسٹ ثقافت نے دیہات سے لے کر شہروں تک موسیقی اور شاعری کو گھروں میں پہنچایا۔ انہی دنوں فیصل آباد کی معروف کمپنی رحمت گراموفون نے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کا مشہور “والیوم 14” جاری کیا، جو بعد ازاں سرائیکی لوک موسیقی کا ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔
اس والیوم کی غیرمعمولی مقبولیت کے پسِ منظر میں صرف عطااللہ خان کی درد بھری آواز نہیں تھی بلکہ سید خورشید شاہ بخاری کے لکھے ہوئے وہ لازوال ڈوھڑے اور ماہیے تھے جنہوں نے سننے والوں کے دل چیر کر رکھ دیے۔ لوک راگ “جوگ” کی المیہ دھن، عطااللہ خان کی گمبھیر اور پرسوز آواز، اور خورشید شاہ کے دل میں اتر جانے والے الفاظ — یہ تینوں مل کر ایسا سوگوار اور روحانی امتزاج پیدا کرتے تھے جو آج بھی سامع کو بے اختیار خاموش کر دیتا ہے۔
والیوم 14 کا پہلا ڈوھڑا سرائیکی ادب اور موسیقی کی تاریخ میں ایک مستقل حوالہ بن چکا ہے:
سید خورشید شاہ بخاری کی شاعری عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز میں سننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
تُساں کَنڈ کیتی میتھوں، سنگتی پُچھدِن ڈَس کِتھ گیا تیڈا سائیں
کیہڑے مُنہ نال آکھاں رُس گیا ہے، تنگ کردن شام صباحیں
کر سِر نِیواں ودا وقت نِبھینداں او نِت آلیندن بھائیں
جِتھے خوش وسدایں خورشید بے کَس کوں بُنڑن گھِن ونج یار اُتھائیں
یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ شکستہ دل انسان کی وہ چیخ تھی جو موسیقی کے پردوں میں ڈھل کر لاکھوں دلوں تک پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس برس گزر جانے کے باوجود یہ ڈوھڑے آج بھی سرائیکی وسیب کے گلی کوچوں، محفلوں اور تنہائیوں میں زندہ ہیں۔
خورشید شاہ بخاری کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کی زبان بھی ہے۔ ان کے کلام میں وہ سرائیکی بولی ملتی ہے جو ذاکروں، مرثیہ خوانوں اور روایتی لوک فنکاروں کی زبان کہلاتی ہے۔ اس زبان میں سرائیکی کے ساتھ اردو اور فارسی الفاظ کا نہایت خوبصورت اور تہذیبی استعمال دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں ایک خاص وقار، سوز اور روحانی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
ان کی شاعری میں محبت صرف رومان نہیں بلکہ ایک داخلی اذیت ہے۔ وہ عشق کو دکھ، صبر اور خاموشی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف کربلا کا استعارہ ان کے ہاں بار بار ابھرتا ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی، جدائی، وفا اور بے بسی کا سوز ان کے لہجے میں گہری تاثیر پیدا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے ڈوھڑے صرف سنے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان کے چند اشعار تو ایسے ہیں جو گویا اجتماعی دکھ کی علامت بن چکے ہیں:
خیال رکھائے میڈی میت اتے، میڈا کوئی لگدا نہ رووے
کرو کفن دفن دی باؤں جلدی، نہ خبر سجنڑ کو پووے
متاں لا کے مہندی شگناں دی، آ میت دے کول کھلووے
خورشید دا باقی کے راہسی، جے اوندا ہک اتھرو ڈگ پووے
یہ اشعار پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر زندگی کے آخری لمحوں میں بھی محبت کے احترام اور ہجر کے دکھ کو سینے سے لگائے ہوئے ہے۔
خورشید شاہ بخاری کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح منفرد تھی۔ وہ قلندر منش، انتہائی ذہین مگر غیرمعمولی حد تک سادہ انسان تھے۔ شہرت ان کے قدموں تک آئی، مگر انہوں نے کبھی شہرت کا پیچھا نہیں کیا۔ آج کے دور میں جب فنکار اپنی پہچان کے لیے مسلسل شور مچاتے ہیں، خورشید شاہ نے خاموش رہ کر امر ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ یہی خاموشی ان کی اصل طاقت بن گئی۔
وہ کئی برس گوشہ نشین رہے۔ دل میں یہ شکوہ ضرور رکھتے تھے کہ ان کے فن کی وہ قدر نہ کی گئی جس کے وہ مستحق تھے، مگر اس محرومی کے باوجود ان کے لہجے میں کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنے دکھ کو بھی شاعری میں ڈھال دیا۔
ان کے انتقال کے بعد سرائیکی ادب اور موسیقی کا ایک روشن چراغ بجھ گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں۔ جب بھی عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز میں خورشید شاہ کے ڈوھڑے گونجتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر خود بول رہا ہو۔
مرحوم خورشید شاہ بخاری اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے فن سے ثابت کیا کہ سچا ادب اور اصل شاعری وقت کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ آج بھی سرائیکی وسیب کے دل کی دھڑکن ہیں، اور رہیں گے۔
ناصر کاظمی کا یہ شعر واقعی ان ہی کے لیے محسوس ہوتا ہے:
وہ ہجر کی رات کا ستارا، وہ ہم نفس، ہم سخن ہمارا
سدا رہے اُس کا نام پیارا، سُنا ہے کل رات مر گیا وہ
سید خورشید شاہ صاحب. ..
آپ کا تعلق میانوالی کے نواحی علاقے ڈھیراُمیدعلی شاہ کے سادات گھرانہ سے تھا شاہ صاحب سرائیکی ڈوھڑے کے باکمال شاعر تھے آپ کے شہرہ آفاق دوھڑے عطا اللہ خان عیسی خیلوی کی مترنم آواز سے لوگوں کی سماعت سے ٹکرائے تو زبان زدعام ہوئے 1980-81 میں رحمت گراموفون فیصل آباد نے لالا عیسی خیلوی کے نغمات کا والیوم 14 جاری کیا – یہ والیوم لالا کے مقبول ترین والیومز میں شمار ہوتا ہے – اس کی مقبولیت کی وجہ لوک راگ جوگ میں گائے ہوئے خورشید شاہ کے لکھے ڈوھڑے اور ماہیے ہیں – جوگ کی المیہ دُھن ، لالا کی گمبھیر پُرسوز آواز اور خورشید شاہ کا درد بھرے کلام نے ایک عجیب سوگوار امتزاج تخلیق کیا –
اللہ کریم شاہ صاحب کی مغفرت فرمائے . …آمین.خورشیدشاہ کے دو شعری مجموعے ۔تساں کنڈ کیتی اور رداۓ زینب ۔شائع ھوۓ ۔یہ دونوں کتابیں جن کی اشاعت کا اعزاز مجھے حاصل ھے-راحت امیرخان بلچ
شاعر : سید خورشید حسنین بخاری —وہ ستارہ جو کبھی ڈوبتا نہیں
میانوالی کی دھرتی، اپنی بے باکی، بے لوثی اور درویشی کے لیے جانی جاتی ہے۔ اور اس دھرتی کا وہ حسین گاؤں ڈھیر امید علی شاہ، جس کی مٹی نے ایک ایسا وجود پیدا کیا جو آج بھی سرائیکی ادب اور عزاداری حسینؑ کی فضا میں سورج کی طرح روشن ہے—سید خورشید حسنین بخاری۔
نام میں “خورشید” تھا اور وہ واقعی روشنی تھے۔ وہ روشنی جو کبھی غروب نہیں ہوتی۔ پانچ برس پہلے جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو یوں لگا جیسے کوئی کہکشاں اپنا ایک روشن ترین ستارہ کھو بیٹھی ہو۔ لیکن کیا ستارے کبھی مرتے ہیں؟ وہ تو بس بدل جاتے ہیں، ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو کر نورِ ازل میں گم ہو جاتے ہیں۔
خورشید حسنین بخاری محض ایک شاعر نہ تھے۔ وہ دردِ عشقِ حسینؑ کے ترجمان تھے۔ ان کی شاعری میں سرائیکی مٹی کی خوشبو بھی تھی اور کربلا کی تپتی ریت کا سوز بھی۔ ان کا کلام عزاداری کی اس روحانی تربیت کا نتیجہ تھا جو انہیں ماں کے دودھ کے ساتھ ملی تھی۔ امام حسینؑ کی محبت نے ان کے دوہڑے اور ماہیے کو وہ گہرائی عطا کی کہ ہر لفظ میں سوز پیدا ہو گیا، ہر مصرع دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
وہ روایتی سرائیکی گداز کے ساتھ جدید لفظیات کا حسین امتزاج تھے۔ ان کا قلم جب بھی چلا، یا تو مٹی کی محبت نکلی یا آل محمدﷺ کا غم۔ عزاداری کے حوالے سے ان کا کام انتہائی وسیع تھا۔ ان کے نوحے اور مرثیے صرف شعر نہیں تھے، بلکہ کربلا کے مصائب کا ایسا مرقع تھے جسے سن کر آنکھیں اشکبار ہو جاتیں اور دل امام مظلومؑ کے غم میں جلنے لگتا۔ یہ وہی سوز تھا جس کی خوشبو آج کے مادی دور میں نایاب ہو چکی ہے۔
پھر آیا وہ لمحہ جب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی جیسے جادوئی آواز کے مالک نے ان کے دوہڑے گائے۔ کیسٹوں کی وہ لہریں جب دنیا میں پھیلیں تو سرحدیں مٹ گئیں۔ پنجاب سے لے کر سندھ تک، بلوچستان سے لے کر خیبر تک، اور پھر پوری دنیا میں جہاں بھی سرائیکی دل دھڑکتا تھا، وہاں خورشید کا کلام گونجنے لگا۔ ہر صاحبِ دل نے انہیں اپنا سمجھا، کیونکہ وہ محبت اور درویشی کی زبان بولتے تھے۔
اور یہ درویشی ہی ان کی اصل شناخت تھی۔ وہ اپنے گاؤں ڈھیر امید علی شاہ میں، شہرت اور ستائش سے دور، ایک گوشہ نشین درویش کی طرح رہتے۔ شہرت خود ان کے دروازے پر دستک دیتی تھی، مگر وہ اس سے بے نیاز، بس سخن کی سرشاری اور عزاداری کی محبت میں گم رہتے۔
ان کا کلام “تساں کنڈ کیتی” کے نام سے کتابی شکل میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر منور علی ملک جیسی معتبر شخصیت نے لکھا، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ خورشید حسنین بخاری کا ادبی مرتبہ کیا تھا۔
آئیے، ان کے ہی ایک دوہڑے میں کھو جائیں:
تساں کنڈ کیتی میں توں سنگتی پچھدن کتھ ٹر گیا تیڈا سائیں۔
کیہڑے منہ نال آکھاں رس گیا ہے تنگ کردن شام صباحیں۔
کر سر نیواں ودا وقت نبھینداں او تاں نت آ لیندن بھائیں۔
پیا جتھ وسدائیں خورشید بے کس کوں ہنڑ گھن ونج یار اتھائیں۔
یہ صرف دوہڑا نہیں، یہ دردِ فراق کی داستان ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو بتاتی ہے کہ جب کوئی سچا عاشق، سچا شاعر، اور سچا انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے پیچھے کون کون سے دکھ رہ جاتے ہیں۔
میرا اور جمال احسانی کا دکھ واقعی سانجھا ہے۔ ہم اپنے وقت کے وہ مسافر ہیں جو دیکھ رہے ہیں کہ کیسے چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ مگر خورشید حسنین بخاری جیسے لوگ کبھی نہیں بجھتے۔ وہ تو فنا سے ماورا ہوتے ہیں۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا کلام، ان کا سوز، اور آل محمدﷺ سے ان کی محبت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
خدا کرے کہ خطیبِ منبرِ سلونی، جن کے لیے انہوں نے لکھا اور جن کے غم میں جیا، انہیں اپنے جوارِ قرب میں جگہ دیں۔ وہ جہاں بھی ہیں، ہمارے دلوں پر حکمراں ہیں۔
وہ سرائیکی ثقافت کا فخر تھے، عزاداری حسینؑ کا معمار تھے، اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
“چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار،
میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے۔”
ملک ثمر عباس
راحت امیر تری خیلوی صاحب اور موچھ کے عاقل خان صاحب نے فون پر ڈوھڑے کے بے مثال شاعر سید خورشید شاہ بخاری سے بات کرائی- شاہ جی نے بتایا کہ ان کی شاعری کا مجموعہ عنقریب راحت تری خیلوی صاحب اپنے ادارے سے شائع کر رھے ھیں-
شاہ جی نے اپنی کتاب کاعنوان تجویز کرنے اور اس کتاب کاتعارف لکھنے کی فرمائش کی- میں نے کتاب کا عنوان ‘ تساں کنڈ کیتی‘ تجویز کردیا ، جو شاہ صاحب، راحت اور عاقل خان کو بہت پسند آیا- یہ میرے لیے ایک اعزاز ھے-
کتاب کا عنوان، آپ لوگوں کو یاد ھوگا ‘ میں نے شاہ جی کے ایک ڈوھڑے سے لیا ھے- منور علی ملک
‘ تساں کنڈ کیتی‘ -Tusan Kundh Keeti
اظہار تشکر
تساں کنڈھ کیتی کی اشاعت کے پر مسرت موقع پر جون احباب محترم اور عزیزان گرامی نے اپنے خلوص اور ہمدردیوں سے مجھے نوازا ہے میں اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
سید خورشید شاہ
میں سب سے پہلے عطاء اللہ خان عیسی خیلوی ، مجبور عیسی خیلوی ( مرحوم ) جناب منور علی ملک صاحب اور جناب سونا خان بے وس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے لیے خوبصورت مضامین قلمبند کیے، یہ مضامین ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں بندہ کے کلام کی مقبولیت کا سہرا اپنے دوست اور نامور فنکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے سر ہے جس نے ریڈیو اور ٹی وی سکرین پر میرے الفاظ کو اپنی جادوئی آواز میں پیش کر کے انہیں دنیا بھر میں متعارف کروایا ، اور اس قابل رشک مقام تک پہنچایا۔
جناب محمد عاقل خان ( موچھ ) اور پروفیسر مسرور جاوید کا بھی ممنون احسان ہوں اپنے جنہوں نے اس بکھرے ہوئے کلام کو کتابی شکل میں لانے پر مجھے ذہبی طور پر تیار کیا پر انہوں نے ہر موقع پر مجھے محبت اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔
اس کے علاوہ جناب عبید اللہ خان اراب ذائی ( مرحوم ) جناب ظفر کمال، ماسٹر ظفر عباس شاہ، شفقت اللہ خان موچھ ، ملک محمد اسلم حیدری ڈھیر اُمید علی شاہ، ملک محمود باجوہ ، ملک محمد حنیف ، ظفر تاباں کی محبتیں بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔
آخر میں اپنے محترم راحت امیر نیازی کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں جس کی مخلصانہ کوشش، دانشمندانہ مشوروں سے کتاب کی اشاعت انتہائی کم وقت میں ممکن ہوسکی۔
وگرنه من همه خاکم که بستم سید خورشید شاہ ڈھیر امید علی شاہ
گیت
چیڑیاں دے نیکیاں دا کراں کی شمار میں عمراں گوا ہوتی تھی بہار میں نہ
ٹر گلیوں ساکوں ماہی جھوٹے لارے لا اے اللہ جائے کھیں کیانی اینڈا گمراہ اے یکھ گدائے ماہی جیڑا اصلی پیار میں
میڈے جینداں غیراں نال بخشیاں مناویں توں سازی گلی میڈا ماہی پھیرا وی نہ پاویں توں سدا پاس کیویں پیاں غماں دا اے زاہر میں
تیرے ماہی عارضی خلوص آتے نکل گئی
بن کے دیوانی جیڑے راہوں آتے رل گئی
ساری ساری رات کیتا تیرا انتظار میں
اس خورشید من پہلے کہہ کیا غیراں دے اشارے آتے بچٹاں وی پیر کیا سوہنیاں تے کیویں کراں اس اعتبار میں
شالا رب اقدس وچ دنیا دے
نہ کہیں توں سجن نکھیڑے
ڈَنگ اوکھے نِبھدن ڈُکھیاں دے
بُھل ویندن اپنے ویہڑے
ڈینہہ گزر ویندا ساری رات خدا دی
ہوندے نال نصیب دے جھیڑے
خورشید جنہاں توں سجن جُدا ہن
اوہے ہن مَقصوم دے بھیڑے
سرائیکی کے نامور شاعر سید خورشید شاہ پرسوں انتقال کر گئے
کل ملک سونا خان بےوس صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا
سن کر بہت افسوس ہوا
پچھلی بار جب ہم میانوالی گئے تھے تو شاہ صاحب بہت علیل تھے
دعا ہے کے اللہ تعالی مرشد پاک کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
