ASAD MUSTAFA

تعارف

اسد مصطفی

(بطور شاعر اور ادیب)

۱۰جولائی ۱۹۷۰ء کو میانوالی شہر میں پیدا ہوا۔میرا آبائی گاؤں ٹبی شریف ہے ۔ننہال میانوالی شہر میں ہے۔منصور آفاق اور اشفاق چغتائی مرحوم میرے سگے ماموں ہیں۔میرے دادا نے دریا خان میں کچھ زرعی زمین خریدی تو والد صاحب اور والدہ دونوں جو سکو ل ٹیچر تھے،انہوں نے دریاخان تبادلہ کرا لیاا ور وہیں ذاتی مکان بنا کر سکونت اختیار کر لی۔میٹرک تک تعلیم دریاخان میں اور بی اے گورنمنٹ کالج بھکر سے کیا ۔ایم اے اردو اورئینٹل کالج لاہور سے اور ایم فل اردو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ۲۰۰۱ء میں کیا۔اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔۱۹۹۹ء میں ایف جی قائد اعظم ڈگری کالج چکلالہ سکیم ۱۱۱ راولپنڈی میں لیکچرر متعین ہوا۔۲۰۰۸ء میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ترقی ہوئی تو ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ میں تبادلہ ہو گیا۔آجکل اپنی فیملی کے ساتھ اسی شہر میں آباد ہوں۔بطور کالم نگار روزنامہ جنگ ، روزنامہ ایکسپریس ،روزنامہ خبریں،روزنامہ پاکستان اور روزنامہ جناح میں میرے کالم شایع ہوتے رہے ہیں۔روزنامہ جناح میں۲۰۰۴ء سے کچھ عرصہ قبل تک باقاعدگی سے کالم لکھتا رہا ہوں۔ روزنامہ جناح ،اسلام آباد کے ادبی صفحے کا بھی کچھ عرصہ انچارج رہا ہوں۔بطور شاعر اور ادیب ملک کے معروف ادبی جریدوں میں کلام اور مضامین شایع ہو چکے ہیں۔’’ان کوٹ‘‘ برطانیہ کا پاکستان میں مدیر ہوں۔’’ان کوٹ ‘‘کے محمد اشفاق چغتائی اور احمد فراز نمبر بھی میں نے مرتب کئے تھے۔اپنے کالجز کے متعدد رسائل مرتب کرچکا ہوں۔سید نصیر شاہ پر میری کتاب ’’سید نصیر شاہ بطور پاکستانی اد ب کا معمار ‘‘اکادمی ادبیات پاکستان شایع کر رہی ہے ،جس کی تسوید مکمل ہو چکی ہے اور مسودہ اکادمی کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔

Your words for Mianwali and Mianwalians