ٹولہ منگلی کی غربی جانب دو کلومیٹر کے فاصلے پر چاپری جانے والی سڑک پر محبت خیل کا گاؤں واقع ہے، جس کا پرانا نام متو کلہ تھا ، یہ گاؤں پہاڑی کے دامن میں بلندی پر واقع ہے ۔یہاں سے نیچے علاقے کا منظر انتہائی خوبصورت نظر اتا ہے، اس گاؤں کی آبادی تھوڑی سی ہے اور زیادہ تر خاندان ٹولہ منگلی کی برادریوں کے بھائی بند آباد ہیں، سب سے بڑا قبیلہ خود محبت خیل ہے جس کی ذیلی شاخیں ٹنڈوری ، اونٹھوال اور منجھا خیل ہیں ان کے علاوہ لوسی خیل اور قرار خیل قبیلے کے خاندان بھی آباد ہیں۔جن کا اصل تعلق ٹولہ منگلی سے ھے۔۔ پیشہ ور اقوام میں موچی اور درکھان چاپری سے اٹھ کر یہاں آباد ہوئے ہیں دیگر پیشہ ور ذاتوں میں تھوڑے سے حجاموں کے گھرانے ہیں اور زیادہ تر مراسی برادری سے تعلق رکھنے والے یہاں پہ آباد ہیں۔ اس گاؤں کا زیادہ تر رقبہ بارانی ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے پانی گہرائی میں ہے اور زرعی مقاصد کے لیے ٹیوب ویل لگوانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، پھر بھی زرعی آبپاشی کے لئے دو ٹیوب ویل لگ چکے ہیں ۔ایک مرحوم عبد الستار خان سابقہ ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ٹولہ کا ھے ۔اور دوسرا ٹیوب ویل یوسف گل خان نے لگوایا ہوا ہے ۔پینے کے پانی کا یہاں مسئلہ نہیں ہے واٹر سپلائی تھی جو اب بند پڑی ہے اور لوگوں نے اپنے گھروں میں ہینڈ پمپ لگوا لیۓ ہیں۔جو مالی حیثیت سے کمزور لوگ ہیں وہ دو تین خاندان مل کر بور کروا لیتے ہیں اور تقریبا ہر گھر میں ہینڈ پمپ لگ چکے ہیں
مذہبی لحاظ سے پختہ عقیدے کے مسلمان ہیں ۔یہاں کی تمام ابادی اہل سنت کی ہے جن میں اب عقیدہ دیوبند سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے بریلوی مسلک کے لوگ بھی موجود ہیں، جو زیادہ تر پیر آف کربوغہ کے مرید ہیں ۔محبت خیل میں اہل حدیث یا اہل تشیع نہیں ہے ۔یہاں کل تین مساجد ہیں جن میں سے دو مساجد میں نماز جمعہ و عیدین ادا کی جاتی ہے۔ مولانا حفیظ الدین صاحب یہاں کے مشہور عالم دین ہیں اور ایک عالم مفتی محمد نبیل صاحب ہیں جبکہ تیسرے بلند پایہ عالم دین مولانا زاہد گل صاحب کا تعلق بھی محبت خیل کی مٹی سے ہے اور اس وقت واہ کینٹ ٹیکسلا میں مقیم ہیں ۔ ایک حافظ قران امام غفران صاحب ہیں جن کا تعلق تخت ریشوڑا سے ہے، وہ مقامی مسجد میں نماز وعیدین پڑھاتے ہیں اور بچوں کو قران کریم بھی پڑھا رہے ہیں یہاں پہ کوئی دینی مدرسہ نہیں ہے مساجد میں ہی بچوں کو قران مجید کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے ۔
یہ لوگ بچیوں کی تعلیم کو معیوب نہیں سمجھتے ہیں لیکن بچیوں کی تعلیم کے لیے گاؤں ایک ہی سرکاری پرائمری سکول تھا وہ سکول بھی اب پرائیویٹائزیشن کی زد میں آ چکا ہے، جبکہ لڑکوں کا پرائمری سکول کو گورنمنٹ انصاف ایلیمنٹری سکول آفٹر نون شفٹ کے تحت اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ ایلیمنٹری تک گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے بچوں کو قریبی گاؤں ٹولہ منگلی ،چاپری یا کالاباغ کا رخ کرنا پڑتا ھے ۔ناکافی تعلیمی سہولیات کے باوجود ان جفا کش لوگوں نے حصول تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا ۔یہاں کا زیادہ پڑھا لکھا قبیلہ صوبیدار سناب گل مرحوم کا ھے ۔ جن کے پوتے شاہد وقاص نے پیاس یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اب خود بھی کندیاں میں انجینیئر ہیں اور ان کے چھوٹے بھائی اظہر وقاص نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر ڈگری حاصل کی ہے اور اب اسلام آباد میں جاب کر رہےہیں ۔ہیں ان کے علاوہ محبت خیل سے تعلق رکھنے والے عرفان الدین صاحب لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پہ فائض ہیں جبکہ ایک اور کرنل ڈاکٹر سعید صاحب ہیں جن کے ایک بھائی حمید خٹک پاکستان نیوی میں لیفٹیننٹ تھے ۔برین ٹیومر کی وجہ سے دوران سروس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔۔پاک آرمی کے میجر انجم اقبال بھی اسی مٹی کے جم پل ہیں ۔
رضا خان کے پوتے ،زییر خان کا بیٹا زوہیب خان میڈیکل ڈپلومہ کے حصول کے لیے جرمنی میں ہیں۔
محبت خیل سے تعلق رکھنے والے حفیظ اللہ خان
اسلام آباد پولیس میں سب انسپکٹر ہیں جبکہ ا کا بڑا بیٹا نجیب اللہ خان گریڈ 16 کے آفیسر اور چھوٹا بیٹا سوفٹ وئیر انجنئیر ہے جس نے اپنا ذاتی سوفٹ وئیر ہاؤس بنایا ہے۔
اس کے علاؤہ برقی خیل قبیلے سے صاحب دین کا بڑا بیٹا ائیر پورٹ سیکورٹی فورس میں انسپکٹر ہے
پشاور آرمی گیریژن سکول میں گزیٹڈ پوسٹ پر فائز سدا خان بھی محبت خیل کے ہیں ۔ عبد الستار خان کے والد نظام خان گاؤں کے پہلے میٹرک پاس جوان تھے جو پاک آرمی سے صوبیدار کے عہدے پر پہنچ کر پاک آرمی سے ریٹائر ھوئے تھے ۔عبد الستار خان مرحوم کے بیٹے عبد الغفار خان نے ایرڈ یونیورسٹی راولپنڈی سے ایگریکلچر میں پی ایچ ڈی کی ھے اب سینئر سائنٹسٹ کا جاب کر رہےہیں۔ جبکہ مرحوم عبد الستار خان کی بیٹی ایم فل باٹنی ہیں اور پاکستان ٹوبیکو میں اٹھارویں گریڈ کی گزیٹڈ پوسٹ پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔ان کے بھائی اختر نواز خان سینیئر آڈٹ آفیسر ہیں ۔ ایک اور آڈٹ آفیسر طارق محمود خان بھی اسلام آباد میں ہیں۔جبکہ محبت خیل سے تعلق رکھنے والے اسلام دین اور نواب دین اسلام آباد میں منسٹریز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ کر ریٹائر ھو چکے ہیں۔اس کے علاوہ محکمہ تعلیم میں ایس ایس ٹی اسماعیل صاحب ہیں جو کہ گورنمنٹ ایلیمنٹ سکول کوٹکی بیرونی میں ہیڈ ماسٹر ہیں جبکہ دوسرے ایس ایس ٹی عزیز الرحمن صاحب ہیں اور ایک تیسرے ٹیچر محمد طفیل صاحب ہیں جو اپنے ہی گاؤں میں اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں لیکن یہ بھی اڑان بھرنے کو تیار بیٹھے ہیں کیونکہ انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں پاکستان آرمی کے سکولز میں گریڈ سولہ کی پوسٹ پر امتحان میں پاکستان بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی ھے انٹرویو کا مرحلہ باقی ہے ۔اللہ کرے کامیاب ہو جائیں اس گاؤں میں تعلیمی سہولیات نہ ھونے کی وجہ اکثر بچیاں پرائمری تک تعلیم حاصل کر کے سکول چھوڑ دیتی ہیں ۔چند بچیاں پڑھ گئی ہیں جن میں دو تین ٹیچرز ہیں ۔بیس پچیس کے قریب جوان پاک آرمی میں ملازم ہیں ۔اس گاؤں کے جوانوں کو حصول علم کی راہ پر گامزن کرنے میں ریٹائر ٹیچر لال خان صاحب کا بھی حصہ ھے کیونکہ یہ سب کسی نہ کسی درجے میں ان کے شاگرد رہےہیں۔۔پشاور آرمی پبلک سکول میں دہ شت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے حامد سیف کا تعلق محبت خیل سے ہے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے گورنمنٹ نے ہائی سکول ٹولہ منگلی کو حامد سیف شہید کے نام سے موسوم کر دیا ہے ۔اصل میں یہ لوگ چونکہ ارمی اور دیگر پیراملٹری فورسز میں ملازمت اختیار کرتے ہیں تو اپنے بچوں کو ساتھ لے جاتے ہیں جہاں سے وہ اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں ۔نجی محفلوں میں سیاسی بحث مباحثہ تو کر لیتے ہیں لیکن عملی سیاست سے دور رہتے ہیں ایک بار سرفراز خان نے یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن لڑا لیکن قسمت کی دیوی مہربان نہ ھوئی ۔ہار گۓ ۔شاید مستقبل میں کوئی سیاسی شخصیت سامنے آ جاۓ ۔ محبت خیل کے لوگوں کے شادی بیاہ و فوتگی کے رسم و رواج قریبی خٹک آبادیوں سے ملتے جلتے ہیں ۔کوئ فرق نہیں ۔یہاں منشیات کا استعمال کم ھے ۔اس پیارے سے گاؤں کا ایک پیارا سا لڑکا شکیل خان ولد سید رسول خان قرار خیل تقریباً سہہ پہر کے بعد گھر سے نکلا اور تین سال سے زائد عرصہ ھونے کو ھے لوٹ کر نہیں آیا ۔بوڑھے والدین ابھی بھی اپنے بیٹے کی راہیں تکتے رہتے ہیں ۔اس انتظار میں ہیں کہ ان کا لخت جگر اچانک گھر لوٹ آئے گا ۔
محبت خیل کی پہاڑیوں میں سے کوئلہ کی کان بھی ہے جہاں سے کوئلہ نکالا جارہا ہے لیکِن محبت خیل کے باسیوں کی قسمت بھی کوئلے کی طرح کالی رکھی گئی ھے کیونکہ اس ک کوئلہ سے کارخانے اور فیکٹریاں تو چلائی جا رہی ہیں لیکن اس گاؤں کی فلاح و بہبود پر رائلٹی کی رقم سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا جارہا ۔
بالاج جیسل (محمد اقبال حجازی) راجپوت بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار استاد، حساس قلمکار، اور تہذیبی ورثے کے سچے محافظ ہیں۔ انہوں نے تین دہائیوں تک تدریس سے وابستہ رہتے ہوئے علم کی روشنی پھیلائی، اور ساتھ ہی ساتھ کالاباغ، کوٹ چاندنہ اور میانوالی کی ثقافت، یادیں اور تاریخ اپنے سادہ مگر پُراثر انداز میں قلمبند کیں۔ ان کی تحریریں خلوص، سچائی اور دیہی زندگی کے جذبے سے لبریز ہوتی ہیں۔ وہ فیس بک پر فعال ادیب ہیں اور اپنی زمین، لوگوں اور ماضی سے جڑے تجربات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل لکھ رہے ہیں۔۔ اُن کا قلم مقامی زبان، محبت اور روایت کا ترجمان ہے
