KHATTAK BELT KE GAON TOLH MANGALI KI MUKHTASIR TAREEKH O TAARUFTOLA MANGALI

 خٹک بیلٹ کے گاؤں ٹولہ منگلی کی مختصر تاریخ و تعارف

 

کوٹ چاند سے شمال مغربی جانب سات کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑ کے دامن میں واقعہ گاؤں ٹولہ منگلی ہے ،جو مکمل طور پر بانگی خیل خٹک قبیلہ کی ذیلی شاخوں کا گاؤں ہے۔ سینکڑوں سال قبل بانگی خیل خٹک کی شاخ شہباز خیل کا ایک بزرگ منگلائے خان اپنے قبیلے کے دیگر افراد کے ساتھ جب چونترہ (کرک )کی پہاڑیوں سے نیچے پنجاب کی جانب ا تر کر ایا تو اس نے چشمے کے کنارے پہاڑی کی ڈھلوانوں پر ڈیرا ڈالا ،چشموں کے پانی کی فراوانی اور پہاڑی جنگلات کی کثرت نے بانگی خیل قبیلہ کی دیگر شاخوں کو بھی اس طرف متوجہ کر دیا جو چونترہ سے نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہونے لگے اور منگلائے خان کا ڈیرا   آباد ہونے لگا اور ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گیا ..

شہباز خیلوں کے ساتھ ساتھ جن دن دیگر قبیلوں نے اس مقام کا رخ کیا ان میں خدرخیل ،فیروز خیل، قطب خیل اور لوسی خیل تھے، یہاں ورود کے ابتدائی سالوں میں تو یہ سارے قبیلے پیار و محبت سے گزر بسر کرتے رہے جب ان قبیلوں کے بزرگ ایک ایک کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہونے لگے تو ان قبیلوں کا پیار اور محبت بھی رخصت ہونے لگا ، نا اتفاقی کا یہ دور جب اس گاؤں پر آیا،تو شہباز خیلوں کی سربراہی سرور خان کے ہاتھ میں پہنچ چکی تھی اور لوسی خیلوں کے سربراہ بردور خان اور گلمیر خان دو بھائی بن چکے تھے۔ بردور خان اور گل میر کسی قدر جھگڑالو طبیعت کے مالک تھے، مزاج کا یہ فسادی پن انہیں کب ارام سے بیٹھنے دیتا، سامنے شہباز خیل تھے اب دو قبیلوں کا ٹکراؤ شروع ہوا تو گاؤں کا امن و سکون برباد ہو گیا۔ یہاں پر آباد دیگر قبیلے فیروخیل، قلندو خیل ، صاحب خیل اور قطب خیل جو اب اپنی انفرادی شناخت بنا چکے تھے اور مگلائے خان کے ڈیرے کے باشندے تھے ان دو بڑے قبیلوں کی کش مکش سے سخت نالاں رہنے لگے ،شہباز خیلوں اور لوسی خیلوں کے آئے روز کے لڑائی جھگڑوں نے منگلائے کے ڈیرے کا سکون غارت کر دیا تھا خود شہباز خیل کے اکابر نے جب دیکھا کہ یہ جگہ بھی تنگ ہے اور امن سے گزارا بھی مشکل ہے تو اپنے ہم خیال قبائل کے ساتھ وہاں سے رخت سفر باندھا اور مختلف قبائل ایک ٹولہ کی شکل میں اپنی پہلی آبادی سے نقل مکانی کی اور موجودہ جگہ پر ڈیرے ڈال دیے ۔ان قبائل کی اس طرح آمد نے اس مقام کو ایک نیا نام ٹولہ منگلاۓ دیا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹولہ منگلی کے نام سے مشہور ہوا۔

 ٹولہ منگلی کے درمیان میں جو برساتی نالہ گزرتا ہے اس کے مشرقی جانب شہباز خیلوں نے اولین آباد کاری کی اور پتھروں کے جھونپڑے بنائے اور ان کے ساتھ کچھ دیگر ہم خیال قبائل بھی اس جگہ آباد ہو گئے۔ پرانی جگہ پر صرف لوسی خیال رہ گئے تھے انہیں بھی آبادی کے قریب آنے کا شوق چرایا تو وہاں سے اٹھ کر ٹولہ منگلی کی طرف رخ کیا مگر شہباز خیلو ں نے آگے نہ بڑھنے دیا تو اس قبیلے نے برساتی نالے کے غربی کنارے پر اپنی جھونپڑیوں کی بنیادوں کے پتھر رکھنے شروع کر دیے اور ٹولہ منگلی کے مکین بن گئے۔ الگ الگ آباد ہو جانے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے بھی کم ہوئے تو بردور اور گلمیرکو کب آرام آتا انہوں نے میدانی علاقوں میں ڈاکے ڈالنے ڈالنے شروع کر دیے، کنڈل کے علاقے میں ڈاکہ زنی کی ایک واردات میں دونوں بھائی مارے گئے ۔
ٹولہ منگلی ی کے اولین آباد کاروں کا پیشہ گلہ بانی تھا مگر اب لوگوں کو کاشتکاری کی ضرورتوں کا احساس ہوا تو زمین آباد کرنے لگے تو زیادہ تر رقبے پر شہباز خیلو نے حق جتا لیا، موجودہ دور میں بھی زیادہ رقبوں کے مالکان شہباز خیل ہیں مگر دیگر قبیلوں لوسی خیل ،خدر خیل فیروز خیل ،قطب خیل ،قلندو خیل ،صاحب خیل اور خان خیل بھی زرعی رقبے کے مالکان ہیں ان قبیلوں کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی ٹولہ منگلی میں آباد ہیں تھوڑی سی آبادی اعوان قبیلہ کی ہے مگر پیشہ ور اقوام جن میں لوہار درکھان ،حجام ،اور موچی ٹولہ منگلی کی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ ہیں ۔یہاں ذات پات کا امتیاز نہیں برتا جاتا اور اپنے قبیلے سے باہر بھی رشتے ناطے کر لیتے ہیں۔مرا ثی، قریشی اور سید اقوام یہاں بالکل اباد نہیں ہیں۔

ٹولہ منگلی کے سارے باشندے پشتو بولتے ہیں اور اس لیے ایک ہی نام خٹک سے اپنی پہچان کراتے ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل ان خٹک کے ساتھ ہندو بھی آباد تھے جو اکثر غریب تھے، کچھ دکانداری اور چند کاشتکاری کر تے۔ ریمل اور کوکا دو بھائی تھے جو دکانداری کرتےتھے اور ان کی ماں کا نام نیالی تھا۔ قیام پاکستان کے وقت ٹولہ منگلی سے یہ ہندو بحفاظت نکل گئے مگر کالا باغ کے مقام پر ان ہندوؤں پر حملہ کرنے والوں میں ٹولہ منگلی کے لوگ نہ صرف سر فہرست تھے حملہ کرتے وقت ٹولہ منگلی کے خوش باتو قلندو خیل نے نعرہ تکبیر لگایا تھا تو حملہ شروع ہو گیا تھا اور کوٹ چاندنہ کا موسیٰ خان اور ٹولہ منگلی کا محمد گل در کھان پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے تھے

لوٹنے اور لٹنے کی رسم پرانی ہے اور خود ٹولہ منگلی کے لوگ اس کا شکار رہے ہیں خصوصا سکھہ شاہی دور میں سکھ جب گھوڑوں پر سوار آ جاتے تھے تو ٹولہ منگلی کے باشندے پہاڑ پر چڑھ جاتے اور اپنا ترکہ اور مال مویشی بھی ساتھ لے جاتے تھے، سکھوں کا دور ختم ہوا اور انگریز نئے حکمران بن گئے تو ٹولہ منگلی کےغفورہ اور پائیو،( شہباز خیل )، نور زمان اور گل میر انگریزی دور میں اشتہاری قرار پائے اور لوٹ مار کر تے لڑتے جھگڑتے ایک ایک کر کے انگریزی سپاہ کی گولی کا نشانہ بنتے گئے پائیوں انگریزی لیوی کے گھیرے میں آ کر گولی کا نشانہ بنا ،تو گل میر بھی انگریزوں کی پولیس کے ہاتھوں انجام کو پہنچا اب چونکہ امن ہو چکا ہے.

 ٹولہ منگلی کے لوگ امن پسند ہیں، قتل و غارت اور لڑائی جھگڑا ان کا عمومی پیشہ نہیں ہے یہ امن پسند اور محنت کش لوگ ہیں قدیم وقتوں سے اکثریت گلہ بانی اور کھیتی باڑی کرتی تھی پہاڑی گھاس اور لکڑی کاٹ کر کالا باغ لے جاتے تھے جسے بیچ کر ضرورت کا سامان لے اتے تھے کوٹ چاندنہ کہ ملیار سبزی اور قصائی گوشت بیچنا ٹولہ منگلی لے جایا کرتے تھے کیونکہ ٹولہ منگلی میں نہ تو سبزیوں کی کاشتکاری ہوتی تھی اور نہ وہاں پہ کوئی گوشت کا جانور ذبح کیا جاتا تھا آبادی کم تھی، اس لیے یہ ضرورتیں کوٹ چاندنہ سے پوری ہوتی تھیں اب بھی ضرورت کا زیادہ تر سامان کو ٹ چاندنہ سے لے کر جاتے ہیں

ٹولہ منگلی کے باسی کھیل کے میدان میں قدیم وقتوں سے انتہائی جوش و جذبہ دکھاتے بزرگ کبڈی اور تودھ کے شوقین تھے لیکن سارے مقامی سطح کے کھلاڑی تھے ، تاریخ میں کوئی نامور کھلاڑی سامنے نہ آ یا اکثر مقابلے چاپری والوں سے ہوتے لیکن ہر کھیل کا اختتام لڑائی جھگڑے پر ہوتا کھیل کھیلنے کے بعد ایک جھگڑے میں مینا روز نامی شخص فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوا تھا ۔نہ جانے کھیل کو جھگڑے اڑا لے گئے یا جھگڑوں کو کھیل ساتھ لے گئے کیونکہ نہ اب کبڈی ہے نہ چاپری والوں سے لڑائی جھگڑے ہیں ۔کبڈی اور تودھ جیسے کھیل تو عرصہ ہوا لیکن موجودہ دور تک تیر کمان سے پرندوں کا شکار کھیلا جاتا رہا ہے شاید تحصیل عیسیٰ خیل میں یہ واحد گاؤں ہو یہاں تیر کمان کو شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کبھی کبھی انسانوں کا شکار بھی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں ۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک تقریبا ڈیڑھ درجن افراد قتل ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی قاتل پھانسی نہیں لگا تھوڑی مدت قید بگھتنے کے بعد صلح ہو جاتی ہے اور قاتل پھر زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں ۔
پرانے وقتوں میں پرانے منگلی پر صحت عام کے لیے شفا خانہ نہیں تھا بلکہ خان گل فیر وز خیل کچھ حکمت جانتا تھا اور کچھ اپنی حکمت عملی سے کام لے کر مریضوں کا علاج معالجہ کرتا جب مرض اس کے ہاتھوں سے کنٹرول نہ ہو پاتا تو اہل خانہ مریض کی چارپائی کندھوں پر اٹھاکر یا مریض کو گدھے پر بٹھا کر کالا باغ لے جاتے تھے یہ مریض کی اپنی قسمت تھی اور ہسپتال پہنچ جاۓ یا قبرستان پہنچ جاۓ لیکن یہ تو پرانا دور تھا ،اب کے جدید دور میں بھی ٹولہ منگلی میں سرکاری ہسپتال نہیں ہے اور مریض عطائی قسم کے ڈاکٹروں یا میڈیکل کور سے ریٹائرڈ ڈسپنسروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔

بھلا ہو حکومت کا ، کہ یہاں ایک گرلز پرائمری سکول اور ایک ایلیمنٹری سکول کھول دیا تھا جس سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھا رہے ہیں ۔2008 ء میں اس بوائز ایلیمنٹری سکول کو ہائی سکول کا درجہ مل گیا جس کی ایک وسیع عمارت تعمیر ہو چکی ہے اور کلاسز کا اغاز بھی ہو چکا ہے ۔تعلیمی سہولتوں کی محرومی نے ان لوگوں میں علم سے محبت کی ایسی جوت جگائی ہے کہ ان لوگوں نے کیڈٹ کالج کی تعمیر کے لیے سینکڑوں کنال اراضی عطیہ کی ہے جس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ۔

تعلیم کی اس کمی نے سول ملازمتوں سے تو محروم رکھا تو لوگوں نے فوج میں بھرتی ہونے کا راستہ ڈھونڈنے ڈالا انگریزی دور سے اب تک دھڑا دھڑ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں اور کوئی ایسا گھر نہ ہوگا جس کے اکثر مرد فوجی نہ ہوں لیکن صوبےدار میجر کے عہدے سے آگے نہیں جا سکے حالانکہ سپاہیانہ جذبہ ان لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے .1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں ٹولہ منگلی کے بہت سے فوجی قیدی بن گئے تھے مگر میر دل نامی جوان بنگال سے واپس نہ آسکا اور لاپتہ ہو گیا۔ کھیتی باڑی کے ساتھ سب سے بڑا پیشہ فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی ملازمت ہے ۔

ٹولہ منگلی کی قبرستان میں جانا ہو تو تو درجنوں قبروں پر قومی پرچم یوں لہراتے نظر آئیں گے جیسے عدم آباد کے مکین یوم ازادی منا رہے ہوں مگر یہ ان شہداء کی قبور ہیں جنہوں نے مادر وطن کے لیے جانوں کے نذرانے بلوچستان وزیرستان اور دیگر علاقوں میں پیش کیے ہیں اس قربانیوں کے باوجود اس گاؤں میں نہ تو کوئی فوجی فاؤنڈیشن کا ہسپتال ہے اور نہ کوئی سکول ہے۔ البتہ فوجی میں بھرتی ہونے والے جوان شہری ماحول اور چھاونیوں کی تہذیب کے طور طریقوں کے جلوے اپنے گاؤں میں بھی دکھاتے ہیں بڑے بوڑھے اپنی ثقافت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور نوجوان نئی تہذیب کے دلدادہ ہیں۔

ٹولہ منگلی کے ایلمنٹری سکول کو ہائی سکول کا درجہ ملنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے نوجوان مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل ہونے لگے ۔علاوہ ازیں ٹولہ منگلی کے سینکڑوں جوان فوج و مختلف پیرا ملٹری فورسز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔اس کا فائدہ یہ بھی ملا ھے کہ یہ لوگ گاؤں چھوڑ کر فوجی چھاؤنیوں میں رہائش پذیر ھو جاتے ھیں اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے اب بہت سے نوجوان اعلیٰ عہدوں پر فائز ھو چکے ھیں ۔جن میں عبدالسلام انسپکٹر پنجاب پولیس میانوالی ،عمر یوسف سب انسپکٹر پنجاب پولیس لاھور ،کیپٹن حارث خان فیروز خیل، میجر ذیشان خان شہباز خیل FC سنٹر کوئٹہ ،کیپٹن شمس الرحمٰن قطب خیل، اختر محمود DSR رینجر،سب انسپکٹر محمد وسیم FIA، انسپکٹر سلیم خان رینجر،ڈاکٹر عدنان (اس کا چھوٹا بھائی بھی کیپٹن ھے) اور سکواڈرن لیڈر نوید عمر قلندو خیل جیسے آفیسرز شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ٹولہ منگلی کی قابلِ قدر علمی شخصیت ڈاکٹر محمد منیر خان پی ایچ ڈی انگلش ہیں ۔اور شہباز خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی میڈیکل کالج میں اوپن میرٹ پر ڈاکٹری( MBBS) کا کورس کر رہی ہے ۔
ٹولہ منگلی کی اکثریت مذہبی رجحان کی حامل ہے زیادہ تر بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں کچھ لوگ دیوبند مسلک کے بھی ہیں مگر اہل تشیع کوئی نہیں ہے کل چھ مساجد ہیں پانچ میں نماز جمعہ اور عیدین ادا کی جاتی ہے۔مفتی نور محمد صاحب عالم دین ہیں جنہوں نے بچیوں کی دینی تعلیم کے لیے مدرسہ کھول رکھا ھے ،دوسرے عالم دین نقیب اللہ صاحب ہیں ۔بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے دو مدارس بھی ہیں یہاں حفظ قرآن مجید بھی کروایا جاتا ہے جس کی بدولت ٹولہ منگلی کے کافی بچے حافظ قرآن بن چکے ہیں ۔تقریبا اکثریت لوگ پیر صاحب اف کربوغہ شریف کے مرید ہیں اور کچھ کوٹ چاندنہ کے پیروں کے مرید بھی ہیں ۔ پیروں فقیروں سے بھی عقیدت رکھتے ہیں دم اور تعویذوں پر پرانے لوگ زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اور خٹک قبائل کے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا یا دیگر تنازعات ہوں تو ان مشکلات اور تنازعات کا حل بھی پیر اف کربوغہ شریف ہی نکالتے ہیں ۔ یہ دیگر پشتونوں کی نسبت نرم مزاج لوگ ہیں صلح جو اور امن پسند ہیں جھگڑا ہو جائے تو اکثر صلح کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ٹولہ منگلی کے کے باسی ایک دوسرے کی غمی خوشی میں بھرپور شرکت کرتے ہیں ۔پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے قبر کھودنا مشقت طلب کام ہے لیکن فوتگی کا اعلان سنتے ہی قبر کھودنے والے جوان قبرستان پہنچ جاتے ہیں ۔اور ٹولہ منگلی کے قدیمی قبرستان گاؤں سے کافی فاصلے پر ہیں لیکن بڑے بوڑھے نماز جنازہ میں بھرپور شرکت کرتے ہیں اس قبرستان میں سینکڑوں شہداء دفن ہیں اور مجھے یقین ھے کہ ضلع میانوالی کے کسی بھی قبرستان میں اتنی تعداد میں شہداء کی قبور نہیں ھوں گی ۔اس قبرستان میں ٹولہ منگلی کے مضافات کے لوگ بھی اپنے عزیزوں کو سپرد خاک کرتے ہیں دراصل یہ مضافاتی علاقے کے لوگ بھی ٹولہ منگلی کے باشندے ہیں ۔جو اپنی زرعی زمینوں میں جا کر بسنے لگے ہیں اور اب مختلف نام کی آبادیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔جن میں وانڈھا فقیر والہ ۔وانڈھا خدر خیل ، وانڈھا حکم خان والہ،وانڈھا قطب خیل ،وانڈھا کریم خانی والہ،واندھا پخڑ والہ ،وانڈھا جنجوانی شامل ہیں ۔،ان سب میں یہ رواج ہے کہ فوتگی والے گھر میں اپنے قریبی عزیز و ہمساۓ تین دن تک کھانا بھیجتے ہیں اور تیسرے دن حسب توفیق فوتگی والے گھر خیرات کی جاتی ہے جس میں مردو خواتین کو کھانے کی عام دعوت ھوتی ھے۔ لیکن فوتگی سے متعلق یہ روایت بھی ٹولہ منگلی کی مذہب سے زیادہ ثقافت سے جڑی رسم ھے کہ میت کو دفنانے کے لئے جب قبرستان لے جاتے ہیں تو مردوں کے پیچھے پیچھے عورتیں بھی قبرستان جاتی ہیں اور بوقت جنازہ و تدفین بیٹھی رہتی ہیں ،اب اکثریت بزرگ خواتین کی ھوتی ھے ۔ شادی بیاہ کی رسومات کالاباغ و دیگر قریبی علاقوں کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ ہیں ۔لیکن خوشی کے ان لمحات کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ۔ عموماً شادی پر گڈونے یعنی ناچنے والے لڑکے منگواۓ جاتے ہیں اور اگر شادی کسی صاحب حیثیت بندے کی ھو تو پشتو گلوکار منگوائے جاتے ہیں ۔پشتو کے نامور گلوکار ٹولہ منگلی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں ، اب مہنگائی اور کسی قدر سوشل میڈیا کے شعور کی وجہ سے روایت کچھ کمزور پڑ رہی ہے لیکن ختم نہیں ھوئی ۔اس کے علاوہ خٹک ڈانس جسے روایتی بھنگڑا ،بلبلہ اور اتن میں بھی ہر بچہ جوان اور بزرگ تک شریک ھو جاتے ھیں اور جب ایک ہی انداز میں ہاتھوں کو اٹھا اٹھا کر اور گھوم گھوم کر رقص کیا جاتا ہے تو شادی کے جشن کو چار چاند لگ جاتے ہیں ۔انفرادی رقص میں یا جوڑی جوڑی ھو کر ناچنے والوں کا تیزی سے گھومنا،ان کی مہارت اور جوش و جذبے کو ظاہر کرتا ہے ۔پرانے وقتوں میں جب رشتوں کا لحاظ اور عزت زیادہ دی جاتی تھی ،تو عورتیں بھی اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مل کر خوشی مناتی تھیں اور تماشہ کے وقت بھی ایک طرف خواتین کی نشستیں ھوتی تھیں ۔حالات بدلنے لگے تو خواتین کو صرف قریبی چھتوں پر بیٹھ کر تماشہ دیکھنے کی اجازت تھی ،اب دیگر علاقوں کی طرح رشتوں ناطوں کا لحاظ کمزور پڑنے لگا ھے تو یہ روایت بھی اب بالکل ختم ہو چکی ہے ،اب عورتیں گھر کی چار دیواری میں اپنی بھائیوں بیٹوں کی خوشی مناتی ہیں ۔شادی کے ولیمے کے بارے میں یہ رواج بھی ھے کہ جس کی شادی ھو رہی ھوتی ھے وہ اپنے عزیزو اقارب کو کچا آٹا دے دیتے ہیں اور وہ گھر سے روٹیاں پکا کر لے آتے ہیں اب پیشہ ور روٹی پکانے والے بھی بلا لیۓ جاتے ہیں۔ روٹی کی دو اقسام وشلی اور ڈھوڈی خٹک قبائل شوق سے کھاتے اور پکاتے ہیں۔ٹولہ منگلی میں باقاعدہ گلوکار تو کوئی پیدا نہیں ھوا البتہ پرانے وقتوں میں حکیم خان شہباز خیل پشتو شاعر کا ذکر فخر سے کیا جاتا ھے جس کا غیر مطبوعہ کلام اکثر لوگوں کو یاد رہ گیا ھے جو لکھ کر محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں صرف یادوں میں رہ جائے گا اور مٹ جائے گا ۔ٹولہ منگلی میں دیگر خٹک بیلٹ کے علاقوں کی طرح پانی کی قلت کا سامنا ہے اگرچہ واٹر سپلائی بھی لگ چکی ہے اور اپنے اپنے محلوں میں پانی کی ٹینکیاں بن چکی ہیں اور کچھ لوگوں نے اپنے ٹیوب ویل بھی لگا لیے ہیں مگر کبھی کبھار پھر بھی پانی کا مسئلہ پیدا ہو ہی جاتا ہے ۔اس کے علاوہ شادی بیاہ پر گڈو نے یعنی ناچنے والے لڑکے یا کوئی موسیقار ضرور بلاتے ہیں ٹولہ منگلی کے لوگ خالص پشتو موسیقی کے دلدادہ ہیں جب شادی کا ایسا کوئی پروگرام ہوتا ہے تو میلہ سا لگ جاتا ہے ایک طرف مختلف قسم کے جوا بازوں کا رش ہوتا ہے دوسری طرف چائے، جلیبی ،کباب اور مٹھائیاں بیچنے والوں کا عارضی بازار سجا ہوتا ہے ۔ زیادہ تر نوجوان جوا کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ٹولی منگلی کے لوگ اتنے زیادہ منشیات کے عادی نہیں ہیں لیکن اب نوجوان نسل ائس اور چرس کی عادی ہوتی جا رہی ہے ۔
سیاسی لحاظ سے یہ لوگ زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں
اگرچہ پرانے وقتوں میں عملی سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لیتے تھے لیکن پھر بھی نادر خان شہباز خیل یونین کونسل کوٹ چاندنہ کا چیئرمین اور بعد ازاں فخر زمان خان وائس چیئرمین رہا ہے ۔گل صاحب شاہ مرحوم ،محمد دین ،۔جنت میر ، خالد خان اور شاہد خان مختلف ادوار میں یونین کونسل کے کونسلر رہے ہیں ۔یہاں بھی سیاست پر نواب اف کالا باغ کا گہرا اثر رہا ہے اب نوجوان نسل مختلف پارٹیوں اور مختلف سیاسی دھڑوں سے منسلک ہے سدا میر خان قلندو خیل مرحوم ٹولا منگلی کا ایسا سفید پوش و مشر تھا جس کا احترام ہر قبیلہ کرتا تھا ۔ دیگر سفید پوش و مشران میر اعظم عرف مژو خان،غلامت خان اور رئیس خان تھے ،یہ سب اگر چہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جب تک زندگی نے وفا کی لوگوں کی خدمت گزاری کرتے رہے۔موجودہ دور میں افضل خان شہباز خیل ،رفیق خان وانڈھا فقیر والہ،چئیرمین فخر زمان ،فضل رحمان خان (نبی الرحمن ٹیچر کے والد)، چیئرمین نادر خان ،شاہد خان کونسلر، ممبر خالد خان ،صاحب نو و چند دیگر سفید پوش و مشران ہیں جو اپنے گاؤں کی لوگوں کی اپنی بساط کے مطابق خدمت کر رہے ہیں۔علاقے کے مشران عطیہ خداوندی ھوتے ہیں جو لوگوں کی مسائل حل کرنے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔۔اب ہر بندے کو مشر بننے کا شوق لگ گیا ھے اور ہر گھر میں ایک مشر موجود ھے ۔ٹولہ منگلی کی نمبرداری شہباز خیلوں کے پاس ہے ۔ گزرے وقتوں میں سمن خان شہباز خیل نامور نمبردار تھا ۔اس کی پانچویں پشت سے اب خیال باز خان شہباز خیل نمبردار ھے اور اس موضع کا دوسرا نمبردار خورشید خان مضافاتی علاقے وانڈھا علماء والا میں رہتا ہے۔ اکثریت متوسط طبقہ کی ہے۔ اور منگلی میں زیادہ زیارتیں اور مزارات نہیں ہیں البتہ کو ٹ چاندنہ کی طرف جانے جانے والی سڑک پر دو پتھروں کی ڈھیریاں نما قبریں موجود ہیں ان بزرگوں کو عادو ،مادو( عدد اور مدد) کے نام سے پکارا جاتا ہے اور عمومی لوگ یہ روایات بیان کرتے ہیں کہ یہ اس علاقہ کے خٹک قبائل کے آباؤاجداد ہیں ان کی قبروں کے اوپر جال کے پرانے درخت تھے اور لوگ ان کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ٹولہ منگلی والوں کے جھگڑے افغان مہاجرین سے بھی ہوتے رہے ہیں اور لکڑیاں کاٹنے پر ایک افغان مہاجر ٹولہ منگلی والوں کے ہاتھوں سے مارا گیا تھا جس کا پیر صاحب اف کربوغہ شریف نے فیصلہ کیا تھا اور اس دور میں 70 ہزار روپے خون بہا ادا کیا گیا تو صلح ہو گئی تھی۔اب سارے امن و بھائی چارے سے رہتے ہیں ۔ تقریباً پینتیس چالیس سال پہلے خروٹی قوم کے خانہ بدوش ٹولہ منگلی کی ایک بچی اغوا کر کے لے جا رہے تھے لڑکی کا منہ رومال سے باندھ کر کوٹ چاندنہ تک لے ائے مگر کوٹ چاندنا کے لوگوں نے دو اغوا کاروں کو پکڑ لیا اور ایک بھاگ گیا بعد ازاں ان دو پکڑے ہوؤں کو پھانسی ہو گئی تھی ٹولہ منگلی کے لوگ سادہ لوح اور خوش مزاج ہیں ۔ عورتیں بڑی جفا کش ہیں کھیتی باڑی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔ٹولہ منگلی کی مٹی بہت زرخیز ہے یہاں کے طالب علم کافی ذہین ہوتے ہیں اور ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اب لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا رجحان بھی بڑھ جا رہا ہے ۔ٹولہ منگلی کے اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ استانیاں بھی مختلف سکولوں میں پڑھا رہی ہیں۔مگر ہوٹلوں پر بیٹھ کر گپیں لگانا اور کوٹ چاندنہ جا کر فضول دن گزارنا یہ رواج آج بھی کم ہوتا نظر نہیں اتا ۔۔

 

Mianwaliorg Facebook

Apna Tolamangali Page

   فیس بک  اپنا ٹولہ  منگلی    پیج   فلّو کریں 

KALABAGH

KALABAGH

KALABAGH HISTORY KALABAGH A TOWN AND UNION COUNCIL OF MIANWALI DISTRICT . IT IS LOCATED ON THE WESTERN BANK OF...
Read More
KAMAR MUSHANI

KAMAR MUSHANI

KAMAR MUSHANI THE LAND OF PAKISTAN NO. 1 SILICA (SILICON) KAMAR MUSHANI  HAS A POPULATION OF ABOUT 20,000 AND IS...
Read More
TRAG

TRAG

TRAG IS A VILLAGE AND UNION COUNCIL OF MIANWALI DISTRICT IN THE PUNJAB PROVINCE OF PAKISTAN. IT IS LOCATED AT...
Read More
KHAGLAN WALA

KHAGLAN WALA

KHAGLAN WALA ڪھگلانواله ڪھگلانواله ، پنجاب کے ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کا ایک گاؤں اور یونین کونسل ہے۔...
Read More
Sultan Khel, Isa Khel Mianwali — Tareekh, Tehzeeb aur Maujooda Halaat

Sultan Khel, Isa Khel Mianwali — Tareekh, Tehzeeb aur Maujooda Halaat

سلطان خیل، عیسیٰ خیل میانوالی — تاریخ، تہذیب اور موجودہ حالات سلطان خیل، ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کا...
Read More
TANI KHEL

TANI KHEL

DATA BEING ADDED PLEASE VISIT SOON THANKS FOR VISITING AND VIEWING PLEASE mianwaliorg@gmail.com  
Read More
KOT CHANDNA

KOT CHANDNA

Read More
TABISAR

TABISAR

Google Map of Tabisar TABISAR IS A TOWN AND UNION COUNCIL ISAKHEL TEHSIL  MIANWALI DISTRICT, PUNJAB, PAKISTAN AND IS LOCATED...
Read More
CHAPRI

CHAPRI

Chapri is a village and union council of the Mianwali District in the Punjab province of Pakistan. It is located...
Read More
VANJARI

VANJARI

Vanjari (ونجارى‎), is a town and union council of Tehsil Isa Khel ,Mianwali District in the Punjab province of Pakistan....
Read More
TOLA BHANGI KHEL

TOLA BHANGI KHEL

Tola Bhangi Khel is a town and union council, an administrative subdivision, of Mianwali District in the Punjab province of...
Read More
TEHSIL ISAKHEL KE DIHH O QSBAT KA TAARUF. BALAJ JISL KE QALAM SE

TEHSIL ISAKHEL KE DIHH O QSBAT KA TAARUF. BALAJ JISL KE QALAM SE

تحصیل عیسیٰ خیل کے دیہات و قصبات عیسیٰ خیل تحصیل کا رقبہ کافی وسیع ہے اور اس میں متعدد تاریخی...
Read More
The Khattak Belt  A Comprehensive Profile -Isa Khel Tehsil

The Khattak Belt  A Comprehensive Profile -Isa Khel Tehsil

The Khattak Belt  A Comprehensive Profile -Isa Khel Tehsil - Mianwali District The “Khattak Belt” refers to the contiguous hilly...
Read More
TOLA MANGALI

TOLA MANGALI

KHATTAK BELT KE GAON TOLH MANGALI KI MUKHTASIR TAREEKH O TAARUF  خٹک بیلٹ کے گاؤں ٹولہ منگلی کی مختصر تاریخ...
Read More
KOTKI BAIRONI -ISA KHEL  – Historical Background & Overview

KOTKI BAIRONI -ISA KHEL – Historical Background & Overview

خٹک بیلٹ کے گاؤں کوٹکی بیرونی کی مختصر تاریخ و تعارف کوٹکی کا گاؤں پہلے چچالی نالے کے دہانے پر...
Read More
MOHABBAT KHEL  .TOLA MANGLI . KHATTAK BELT

MOHABBAT KHEL .TOLA MANGLI . KHATTAK BELT

ٹولہ منگلی کی غربی جانب دو کلومیٹر کے فاصلے پر چاپری جانے والی سڑک پر محبت خیل کا گاؤں واقع...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top