Imdad Hussain Khan

امداد حسین خان کی سوانح عمری میں امداد نیازی  ایک باصلاحیت اور پرجوش مصنف ہے جو اپنی مادر وطن کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے، جس کا کام اپنی صداقت، بصیرت اور شعری خوبصورتی کے ذریعے قارئین کو گونجتا ہے۔امداد نیازی ایک شاعر، ادیب، ناول نگار ہیں جو اکثر شعبوں پر توجہ دیتے ہیں اور اپنے کام میں ایک منفرد نقطہ نظر اور خصوصیات کا مجموعہ لاتے ہیں۔امداد نیازی ایک مخصوص کردار کے جوہر کو گرفت میں لینے میں کمال رکھتے ہیں۔ اس نے اپنی مادر دھرتی کے مناظر، نباتات، حیوانات اور منفرد ماحول کو پیچیدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ فطرت میں باریک تبدیلیوں، دیہی زندگی کے تال میل اور چھوٹی برادریوں کے اندر انسانی تعامل کی باریکیوں کو دیکھتے ہوئے اس کی تفصیل پر گہری نظر ہے۔

.وہ انسانوں اور قدرتی دنیا کے درمیان تعلقات کو تلاش کرتا ہے، اکثر خوبصورتی، سادگی، اور بعض اوقات زندگی کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کردار اکثر معاشروں کی اقدار، جدوجہد اور خواہشات کو مجسم کرتے ہیں۔امداد حسین خان کی اردو فکشن کی تحریروں میں تنوع، لذت،

 رومان، حقیقت، بغاوت، مزاح اور طنز شامل ہے۔ تمام رومانوی حقیقت پسندی ان کی منفرد صفت ہے۔امداد نیازی کے کام کو اس کی صداقت، جذباتی گہرائی اور انسانی تجربے کی گہری بصیرت کے لیے سراہا گیا ہے۔ وہ دیہی علاقوں میں اپنے گھر سے شاعری اور ناول لکھنا جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اسے فطرت کی بدلتی ہوئی تالوں میں سکون اور الہام ملتا ہے۔

امداد حسین خان یکم جنوری 1971 کو اکوال ترگ میانوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کا ادبی نام امداد نیازی ہے۔ اس کی تعلیمی قابلیت ایم اے اردو، ایم اے ہسٹری، ووکیشنل ایجوکیشن اور ایم ایڈ ہیں۔امداد حسین خان پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہیں جو اپنے آبائی شہر کے

 سرکاری سکول- گورنمنٹ ہائی سکول ترگ سٹی میں بطور ٹیچر مگزشتہ بائیس سال سے پڑھا رہے ہیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ وہ ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر بھی ہیں۔ امداد حسین خان کا پہلا ناول خواب،صحرا،زندگی۔افسانے۔2007  میں شائع ہوا۔ ۔ اُردو ادب سے بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ پہلی کہانی ” وفا کے پیکر 1993ء میں لکھی۔ جو روزنامہ جنگ   میں  شائع ہوئی۔ مختلف ڈائجسٹ میں لامحدود افسانے شائع ہوئے ۔ 2010ء سے علاقے کے دور نزدیک کے بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں ۔قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیرہ اسماعیل خان کے طالب علم رحمت اللہ نے 2023 میں امداد حسین خان پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا ہے۔

 

امداد حسین خان کے کام کو مشہور اور نامور ادیبوں نے  سراہا اور ادب میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں، مہارت اور شراکت کا اعتراف کیا۔تمام مصنفین نے مصنف کے ادبی کام کی تعریف کرتے ہوئے مصنف کی منفرد آواز، لہجہ، زبان کے استعمال، جملے کی تشکیل، تصویر کشی، اور اپنے الفاظ کے ذریعے جذبات کی ترجمانی پر غور کیا ہے۔مصنف کے ادبی کام کے بارے میں درج ذیل مصنفین کی آراء شامل کی گئی ہیں۔

امن، محبت، آرزو--محمد حامد سراج

خواب ب صحرا ، زندگی کے تحقیق نگار امداد حسین تر گوی کا افسانوی سفر امن، محبت، آرزوکے سنگ میل پر ہے۔ حساس کہانی کار کی باطنی بے چینی اسے مسلسل تحقیقی سفر کی سنگلاخ سر زمینوں میں سے چشمے کھوجنے کی تلاش میں رکھتی ہے۔ وہ اپنے ارد گر بکھرے کرداروں سے جڑت میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے فن کے ساتھ انصاف برتنے لمحے اپنے تخلیقی کرداروں کی باطنی دنیا سے الگ نہیں ہوتے ۔ وہ اپنی کہانیوں کے کرداروں کی اندرونی اتھل پتھل ، در دو غم ، دکھ سکھ، اپنے تن پر جھیل کر کہانی تخلیق کرتے ہیں۔ امداد حسین تر گوی کی یہ خوبی ہے کہ وہ معاشرے کا کرب نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ قرطاس پر اسے امر کر دیتے ہیں۔ پاک دھرتی پر خود کش دھماکوں نے ہمیں جس کرب میں مبتلا کر رکھا ہے اور ایک عام شہری سے معصوم بچے تک جو بارود کی زد میں ہے۔ افسانہ نگار غافل نہیں اور وہ اس درد کو زبان دیتے ہوئے بابا چوڑیاں“ جیسی کہانی لکھتا ہے۔ وہ مالی کالی جیسے کردار تراشتا ہے اور اسے حج مبارک میں امر کر دیتا ہے۔ ایک عورت کی باطنی روشنی رگداز دل کو اس افسانے میں با احسن نبھایا ہے۔ ” یادیں “محبت کے موضوع پر ایک تراشیدہ افسانہ ہے۔ امن اور محبت کی آرزو اپنی تخلیقات میں سمونے والے امداد حسین تر گوی کو میں مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

امداد حسین ترگوی معروف کہانی کار ہیں۔عطا الحق قاسمی

ان کے دو مجموعے  خواب صحرازندگی ، اور ،، انجان راہوں کا مسافر» میری نظر سے گزر چکے ہیں

اب یہ ان کا تیسرا مجموعہ میرے زیر مطالعہ ہے ان کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ کہانی  کا گہرا عصری شعور رکھنے کے باواجود امداد حسین علامتی کہانی اور جدید کہانی کے بکھیڑوں میں نہیں پڑے بلکہ انہوں نے سیدھی سادی ، آسمان اور زندگی سے جڑی ہوئیکہانی لکھی ہے جو قاری کی انگلی پکڑ کر اسے ساتھ لیکر چلتی ہے۔ اسے کسی سبق، پیغام اور نتیجے سے آشنا کرتی ہے۔ امداد معین کی کہانی کا خیر اُس کی دلیس کی مٹی سے اٹھا ہے اور وہ اس کلچر میں گندھی ہوئی ہے اور یہی اس کی خوبصورتی ہے۔ اس کے ہر مجموعے کی کہانیاں اپنے اسلوب، بیان اور بنت کے لحاظ سے منفرد ہیں اس کی کہانیوں میں چھوٹے چھوٹے دکھوں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ماضی کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس کا انداز داستان گو جیسا ہو جاتا ہے۔ جس میں کہیں بھی دلچسپی کم نہیں ہوتی مرکز سے دور بیٹھ کراتنی عمدہ کہانی لکھنے پر میں امداد حسین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ  وہ ایسی کہانیاں لکھ کہ اعتبار میں اضافہ کرتا ر ہے۔ (آمین)

ایک شاعرکے لیے ضروری ہے کہ وہ جس زبان میں شاعری کر رہا ہے نہ صرف اس کی شعری روایت سے بخوبی آگاہ ہو بلکہ عصری  ادب سے بھی آشنا ہو ایسا شاعر اپنے لیے ایک الگ راستہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے منفرد اسلوبوں سے  علیحد ہ شناخت بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے ادبی تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں شاعروں کے ہوتے ہوئے جینوئن شاعر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ تاہم جو شعراء شاعری کے قواعد وضوار با کی پابندی کرتے ہیں عروض کے علاوہ شعری محاسن کا بھی خیال رکھتے ہیں ان میں اچھے اور پھر      بہت اچھے شاعر بننے کے امکانات بہر حال موجود ہوتے ہیں۔ امداد حسین ترگوی بھی اچھے شاعر ہیں میری ان سےیی  گزارش ہے کہ شعری روایت سے آگاہی اور عصری ادبی شعور کی ہمراہی میں اپنا شعری سفر جاری رکھیں منزل زیادہ دور نہیں میں انہیں تازه شعری مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔عطاء الحق قاسمی

بیٹھک-ڈاکٹر صغرا صدف ، لاہور

امداد نیازی کا افسانوی مجموعہ بیٹھک کئی حوالوں سے توجہ کا باعث بنا۔ سب سے پہلے تو اُس کا نام پنجاب کی اس روایتی بیٹھک کی یاد دلاتا ہے جہاں بیٹھ کر کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ افسانوں کے عنوانات دیکھیں تو لفظ لفظ میں مٹی کی خوشبو، سماج کے مسائل اور حیات کے سوال، گلی محلے، قصباتی اور شہری زندگی کے مناظر عجب اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ ماحول بھی ہمارا سب کا جانا پہچانا ہے اور ان میں بیان کئے گئے مسائل اور معاملات بھی۔ عام زندگی میں ہمارے ارد گرد کوئی نہ کوئی نازو آپا اور ماسی جنتاں ضرور ہوتی ہے جو مخصوص کردار کی حامل ہوتی ہے۔ یہ کتاب ایک چوک ہے جہاں مزدور بھی ہیں اور چمکتی گاڑیوں والے بھی۔ خوشی کی بات یہ کہ ایک مرد لکھاری نے عورتوں کے معاملات اور مسائل کو نفسیات دان کی طرح دیکھا اور عمدہ کہانی کار کی طرح بیان کیا۔ دیہاتی ماحول کی خوبصورت منظر کشی، عورت پر معاشرتی جبر اور خود عورت کا اس کے سامنے سر نگوں ہو جانا ایک سوال کی طرح ہے کہ کیوں وہ جرأتِ اظہار سے دور رہتی ہے۔ مختلف رشتوں کا تانا بانا بنا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو سماج کے تمام کردار ان افسانوں میں موجود ہیں۔ میں امداد نیازی کو اس مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

امداد حسین ترگوی کی کہانی–عاصم بخاری

امداد حسین ترگوی کی کہانی صرف روایت کی امین و پاسدار ہی نہیں بلکہ اپنے اندر معانی و مطالب کا ایک جہاں رکھتی ہے ان کہانیوں میں ثقافت کو خوبصورت اور فن کارانہ انداز میں سمویا گیا ہے میر ، انیس اور وارث شاہ کی طرح ان کے کام کو زندہ و جاوید رکھنے میں یہی خوبی ممد و معاون ثابت ہو گی فن کارانہ چابک دستی کے ساتھ امداد نے وسیب کے مسائل و وسائل کو بیان کیا ہے اور امکانات دکھائے ہیں امداد کی کہانی میں درد کا بیان بھی ہے اور درمان بھی امداد کی کہانی سے اس مٹی کی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے جو اس قلم کار کی اپنی مٹی کے ساتھ پیار و محبت کی غماز ہے یہ کہانی امکانات سے بھر پور ہی نہیں ثقافت و روایت سے مالا مال بھی ہے جو کہ ہمارے لئے باعث اعزاز و افتخار بھی ہے وہ اقدار جو کہ رفتہ رفتہ دم تو ڑتی جا رہی ہیں امداد نے ادبیاں نہ فن کاری اور چابک دستی سے ان کو ایک نئی زندگی دے یا اور اور کش کی ہے اداری کہانی دیہاتی زندگی کے تقری مناظر کی بڑی خوبصورت تجسیم کرتی ہے قدرت جن لوگوں سے اس نوع کے تخلیقی کام لینا چاہتی ہے تو انہیں غیر معمولی اوصاف ودیعت کر کے انہیں مخصوص زمان مکان میں وارد کرتی ہے امداد بھی ان ہی میں سے ایک لائق داد و تحسین قلم کار ہے اس کی عملی وادبی جرات و ہمت واقعی اس شعر کی مصداق ٹھہرتی ہے۔ قدرت سے ہی ملتی ہے یہ توفیق کسی کو ہر شخص کو یہ کام سدھایا نہیں جاتا–

 

امداد حسین ترگوی باہمت ہے-اور نگ زیب نیازی

امداد حسین کا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے لیکن وہ باہمت ہے کہ اس نے وسائل کی کمیابی اور اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ وہ اپنے گرد و پیش سے زندگی کی حقیقتیں لے کر کہانی بنتا ہے۔ اس کے ہاں کرداروں کا الجھاؤ ہے، نہ فلسفے کی موشگافیاں اور نہ ہی لفظوں کا گورکھ دھندا ۔ وہ سیدھے سمجھاؤ بات کرتا ہے۔ یہی اس کا اسلوب نگارش ہے۔ وہ زود نویس تو ہے ہی اگر اس نے اپنا مشاہدہ اور مطالعہ جاری رکھا اور اسی طرح لکھتا رہا تو یقینا وہ ایک اچھا کہانی  نویس بن سکتا ہے۔

امداد حسین خان نے مندرجہ ذیل پانچ کتابیں لکھی ہیں .تمام کتابوں کو قارئین نے سراہا ہےجو  بطور مصنف ان کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

خواب، صحرا، زندگی۔ افسانہ۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی۔

انجان راہوں کا مسافر، شعری مجموعہ۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی –

وفا کہاں زمان میں، افسانہ۔ یہ کتاب 2011 میں شائع ہوئی ۔

امن، محبت، خواہشات، افسانہ، کتاب 2017 میں شائع ہوئی ۔

بیتھک – افسانے یہ کتاب 2023 میں شائع ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ دو اور کتابیں زیرِ اشاعت ہیں۔

 

امداد حسین خان کے ادبی کام کو سب نے بہت اچھی طرح سے تسلیم کیا ہے اور زیر ذکر ایوارڈز ان کی کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ادبی خدمات پر ایوارڈ 2021،انٹرنیشل رائیفورمیٹر پاکستان راولپنڈی۔

 وزیر اعلی پنجاب ، –  پنجاب ٹیلینٹ کے ادبی مقابلے 2022 میں یونیورسٹی آف میانوالی میں ضلع میانوالی میں۔دس ہزار انعام۔ادبی خدمات پر سرٹیفکیٹ ملا۔ 

سرگودھا ڈویثرن،15فروری 2022، تعریفی سرٹیفکٹ حاصل کیا،آرٹس کونسل سرگودھا سے۔

بیل ٹیچر ضلع میں بیس ٹیچر کا ایوارڈ 2017 حاصل کیا۔

بھیل انٹرنشینل ادبی ایوارڈ۔ننکانہ صاحب۔

الوکیل کتاب ایوارڈ،حاصل پور۔بہول پور۔گول میڈل،ایوارڈ،تعریفی سند

عالمی ادبی اعزاز۔عہد وطن پاکستان۔فیروزوٹواشیخو پورہ۔

الوکیل ایواڈز 2023ء حاصل پور،بہاول پور۔

ایف آئی رائٹرز فورم ایواڈز لاہور جنوری 2024،

بھیل انٹرنشینل رائٹرز فورم ایواڈز ننکانہ صاحب۔

پٹ رائٹرز فورم پاکستان ایواڈز دسمبر 2023ء

 

 

امداد حسین خان کا ادبی کام

امداد حسین خان کے ادبی کام کو پڑھیں اور انسانی تخیل، جذبات اور عقل کی راہداریوں کے ذریعے ایک دلکش سفر کا آغاز کریں۔ ادب کا ہر ٹکڑا، چاہے وہ لازوال کلاسک ہو یا عصری شاہکار، واقف اور تصوراتی دونوں دنیاوں کے لیے ایک پورٹل پیش کرتا ہے، جو آپ کو  انسانی تجربے کی گہرائیوں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔امید ہے کہ آپ اس سے لطف اندوز ہوں گے۔

Imdad Hussain Khan literary work

Imdad Hussain Khan

امداد حسین خان کی سوانح عمری میں امداد نیازی  ایک باصلاحیت اور پرجوش مصنف ہے...
HEADMASTER HAJI ALAM KHAN

HEADMASTER HAJI ALAM KHAN

 ہیڈ ماسٹر غلام رسول خان کی تعلیمی خدمات   تحریر و تحقیق   — امداد حسین خان...

امداد حسین خان کی شاعری جلد ہی شامل کی جا رہی ہے۔

دعا فری اکیڈمی ترگ، تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی۔

امداد حسین خان 2010 سے دعا فری اکیڈمی چلا رہے ہیں، جس میں کوئی فیس نہیں، داخلہ اور تعلیم سال بھر جاری رہتی ہے، نرسری سے چھٹی تک مفت تعلیم۔ دعا فری اکیڈمی میں 70 سے 80 طلباء پڑھتے ہیں۔ وہ یہ کام ایک مشن اور جوش کے ساتھ کر رہا ہے۔

دعا فری اکیڈمی ترگ (میانوالی) کا عملہ درج ذیل ہے۔1 = پرنسپل۔امداد نیازی۔تعلیم: ایم اے، اے، اردو، تاریخ۔پیشہ ورانہ تعلیم، ایم ایڈ
2= مسز نایاب فاطمہ، ایم، اردو
3=مسز یاسمین اختر، بی اے ( یاسمین اختر امداد حسین خان کی اہلیہ ہیں، وہ نہ صرف پڑھاتی ہیں بلکہ بچوں کی آمد سے قبل موسم کے مطابق ٹھنڈے پانی اور پنکھوں کا انتظام کرنا ان کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ عمل ( پڑھائی اور پڑھائی) گھر پر چلتی ہے یہ سب وہ خود کر رہا ہے جو کہ واقعی قابل تعریف کام ہے دعا اکیڈمی کے بارے میں امداد حسین خان کی حوصلہ افزائی کا اندازہ ان کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔””” جب تک صحت رہے گی خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا۔“”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top