MALIK MUHAMMAD SALEEM AHSAN

Professor. Muhammad Saleem Ahsan is well known  famous Saraki poet, Historian, and educationalist from Mianwali who is the pride of Mianwali. He was born in Mianwali on 12 July 1944. His father’s name is Alhaj Ghulam Hassan. He belongs to Awan-Jangi Khel . Prof. Muhammad Saleem Ahsan is MA Political Science and MA History.He  Started his profession as Lecturer on 17 December 1973 by joining Government Inter College Jalalpur Jattan , Gujarat. He finally completed his 31 years long career as educationalist on 11 July 2004 and at that time he was Head of Political Science Department, Government Post Graduate College, Mianwali. Prof. Muhammad Saleem Ahsan is also well known historian who writes about Mianwali ,Mianwalians past and is regarded as an authority on it. He is concerned with the continuous, methodical narrative and research of Mianwali past events as related to the Mianwalians .

THE BEGINNING OF POETRY 


Muhammad Saleem Ahsan is a prominent Saraiki-language poet. He started poetry by writing poems for children’s by writing poetry for “ bachon ki duniya magazine .Muhammad Saleem Ahsan wrote first poem in 1959 for children magazine when his poem for children’s which were published in the children’s pages of children’s magazines and national newspapers. Regular Urdu poetry began with the genres of Urdu ghazals and poems and continued to adorn various journals.  But later on , Muhammad Saleem Ahsan started writing  Seraiki poetry and resultantly his poetry sung by various famous singers .

Singer who sung his poetry includes Attaullah Khan Issa Khelvi, Musarrat Nazir, Samar Iqbal, Tarnam Naz, Shamsa Kanwal, Iqbal Bahoo, Mohammad Ayyub Niazi, Atta Mohammad Niazi Daud Khelvi, Shafi Akhtar Wata Khelvi, Liaqat Ali Khan Wata Khelvi, Abdul Sattar Zakhmi, Mohammad Hussain Bandialvi, Ali Imran Awan (Mazhar Malik), and Masood Malik.

BOOKS AND ARTICLES AT PROF MUHAMMAD SALEEM AHSAN CREDIT 

Prof. Muhammad Saleem Ahsan holds the unique quality as writer as he is writer of poetry books as well as articals on Mianwali history resultantly he has been awarded many prizes.

 Jhakar Jhulay (1984 Hamza). .. .. . . Nashir : Myanwali Akidimi Myanwali

• Cheetay Chunte (1993 Hamza). .. .. .. . . Nashir : Saraiki Adbi Board Multan Tareekhi, Tehqeeqi Aur Saqafati Mazameen:

• Mianwali Ki Zabaan. .. .. .. .. .. . . • Mianwali Sindh Kinare. .. .. .. . • Mianwali Ka Tareekhi Pas Manzar. . • Mianwali Ka Tehzibi Manzar Nama • Rokhrhi Ke Khandarath. .. .. .. . . • Mianwali Mein Daynosar. .. .. .. . • Sir Hind Ya Tra. .. .. .. .. .. .. .. .. . . • Viachra Watan By Hrish Chand Nickra Ki Tasneef Ka Urdu Tarjuma Ki Nazarsani Olay Gholay. .. .. .. . ( Saraiki Naat ) Khawab Kachaoy ( Saraiki Hayiko ) • Sur Saoni ( Saraiki Geet )

AWARS AND HONORS

 

* Khawaja Ghulam Farid National Award – 1984

* Gold Medal – District Council Mianwali – 1984

* Sargodha Higher Secondary Board Award. 1984

* Zahoor Nazar Award, Bahawalpur 1985

* Bakht Award (Outstanding Performance) – 1991

* Literary Award, Neelab Academy Mianwali – 2004 ۔ Weekly “Zarb Qalandar” Mujahid Millat Award-2011

FAMILY: The family includes a son and three daughters, the daughters renovated their homes. Iqbal Fatima wife of Prof. Muhammad Saleem Ahsan is BA, B Ed and now a days living house wife life after retirement from PAF college Mianwali as Headmistress • Abrar Muhammad Ali Malik, son is B SC Engineering, M.Sc. SC, M.Phil. He is currently residing in Canada.* Dr. Manza Majeed (daughter-in-law). MBBS – Currently residing in Canada * Dr. Nafia Saleem (daughter) MCPS, currently residing in Riyadh, Saudi Arabia. * Dr. Warda Saleem (daughter) MCPS-Rawalpindi • Aqdas Saleem – (Daughter) MBA (Finance) …….

His present address is E / 37 Sultan Town, Mianwali.

Prof. Muhammad Saleem Ahsan  personality as  described by famous personalities

  • -محمد سلیم احسن دی شاعری

تحریر:۔۔۔۔۔۔ ۔سید محسن نقوی

محمد سلیم احسن سرائیکی زبان دے اُنہیں قدآور شاعریں دی قطار وچ ہک نویکلا ناں ہے جیڑھے نویں نکور جذبئیں دی ساون سِندھ روانی دے سامنے ساہ دی کندھ اُسار کے خیال دی شوء اِچ وگھریے ہوۓ موتئیں کوں لفظیں دے ٻُک وچ کٹھا کرتے اوکھے اندھارئیں دے اوچھنڑ اِچ لُکیے ہوۓ لوکیں کو “ پیار پرکھرے” دی بشارت ڋیونڑ اِچ مصروف اِن۔

محمد سلیم احسن دا فن اوندے اندر دی سوچ دے سچ دا” عینی شاھد” بنڑ کے اوندے ہر شعر کوں ہمیشگی دا سُراغ ڋیندے تے اوندے لفظیں کوں زمانے دے نال نال زندہ رہنڑ دا گُر سکھیندے۔

سلیم احسن دیاں غزلاں پڑھ کے ایں واسطے وی خوشی تھیندی اے جو اوندا کوئ تجربہ اُدھار نئیں تے نہ کوئ لفظ اوپرا اے ،اوندی شاعری دے سارے منظر ، سارے موسم، سارے ذائقے تے سارے زاویے اوندی آپڑیں دھیان دھرتی دی کچی پکی مٹی دی ملکیت تے امانت ہِن، او پرائ اکھ نال خواب ڋیکھنڑ دا عادی نئیں تے نہ پراۓ خواب چوری کرکے آپڑیں اکھ کوں شک دے عذاب اچ مُبتلا کریندے ۔ اوندے شعریں دی شہ رڳ اِچ آسے پاسے دے ماحول دے سارے استعارے ساہ جُھنڑ کے تندیر وار سفر کریندن ، اونکوں آپڑیں ذات دے کشف دی ہر علامت داپُورا پُورا گیان حاصل ہے————- ذات دا کشف، جیرھا فن تے فنکار دے درمیان اعتماد دے “ عہد نامے”داڋوجھا۔

ناں اے ۔

مختصر لفظیں وچ سلیم احسن دی شاعری جوان جذبے، تِکھے تجربے،مُنه زور مشاہدے تے لہو لباس لفظیں دی ہک ایجھی دستاویز اے جینکوں پڑھ کے بُھلاڋیونڑ دا سوال ہی پیدا نئیں تھیندا۔ رب کرے سلیم احسن تے اوندی شاعری دی وسدی رسدی جھوک سوچیں دے سوجھلے دی چھاں اِچ امن منڑیندی راہوےتے قیامت تئیں حیاتی ہنڈیندی راہوے(

نادر و نایاب لوگ  

محمد سلیم احسن۔تحریر۔ ۔ ۔ وقار احمد ملک

سرما کی پت جھڑ عروج پر ہے۔ گورنمنٹ کالج میں چار سو رونق ہے۔کافی تعداد میں لڑکے کالج آ رہے ہیں اور کچھ فارغ ہو کر واپس جا رہے ہیں۔ سائیکل سٹینڈ عبور کریں تو اینٹوں کے راستے ایک چھوٹا چوراہا تشکیل کر دیتے ہیں۔ دائیں طرف کالج کی مرکزی عمارت ہے، سامنے سائنس بلاک اور بائیں طرف دو کمرے سولنگ کے ساتھ الگ تھلک موجود ہیں۔ ان کمروں کے نمبر شاید سترہ اور اٹھارہ ہیں۔سولنگ کے بائیں طرف سوکھی گھاس میں چھپا ایک لان ہے جس کو دسمبر کے اس موسم میں سبزہ زار کہنا غلط ہو گا۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درختوں کے نیچے سیاسیات کی کلاس جاری ہے۔ سو سے زیادہ بچے پروفیسر صاحب کا لیکچر یوں خاموشی کے ساتھ سن رہے ہیں جیسے کوہ کاف کے کسی دیو نے جادو کر کے ان کو پتھر کا بنا دیا ہو۔کلاس سے تھوڑے فاصلے پر لڑکوں کی ٹولیاں ادھراُدھر گھوم پھر رہی ہیں اور کالج کی مخصوص آزادی اور بے فکرے ماحول سے محظوظ ہو رہی ہیں۔ ان گپیں لگاتے لڑکوں کا کلاس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ پروفیسر صاحب شاید افلاطون کی مثالی ریاست کے بارے بچوں کو بتا رہے ہیں ۔ سیاست، تاریخ اور قانون کے ساتھ ساتھ اقبال اور غالب کے اشعار نے لیکچر کو اور بھی مزین کر دیا ہے۔ پروفیسر جس ذوق شوق سے بچوں کو معلومات دے رہے ہیں ویسی ہی دلچسپی سے بچے علم کے دریا میں غوطہ زن ہیں۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔

یہ پروفیسر گورنمنٹ کالج کے مشہور استاذ محمد سلیم احسن ہیں جو علاقہ بھر کی معروف شخصیت اور ملک بھر کے جانے پہچانے ادیب ہیں۔ یہ منظر کوئی پچیس برس ادھر کا ہے۔ محمد سلیم احسن کے کچھ عرصہ قبل اپنی خوبصورت سرائیکی کی منفرد لہجے کی حامل کتاب جھکڑ جھولے پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ بچوں کو فخر ہے کہ وہ ایک صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر سے پولیٹیکل سائینس کا مضمون پڑھ رہے ہیں۔

محمد سلیم احسن سے میرا پہلا تعارف میرے والدمحترم کے توسط سے ہوا۔ والد صاحب اور سلیم صاحب گورنمنٹ کالج کے ساٹھ کی دہائی کے سنہرے دور میں ہم جماعت تھے۔ والد صاحب اور سلیم صاحب نہ صرف دوست بلکہ قلم کار ساتھی بھی تھے۔ ابو نے سن 1963 کے سہیل میگزین میں کاغذ کے پرزے کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا تھا جبکہ سلیم صاحب اس وقت بھی ایک منجھے ہوئے شاعر کے طور پر مشہور

تھے۔ بعد میں ابو قلم کاغذ چھوڑ کر ایک آڑھتی بن گئے اور سلیم احسن ترقی کرتے ہوئے پروفیسر ۔

سن 1990 میں جب مَیں نے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا تو کافی عرصہ میں نے سلیم صاحب کا پلو پکڑے رکھا۔ میرا زیادہ وقت ان کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ دوسرے طالب علموں کے ساتھ میں بھی ان کے پیریڈ کا منتظر رہا کرتا تھا۔ اسی پیریڈ نے میرے اندر ادبی تحریک پیدا کی ۔ ہم بی اے میں پڑھتے تھے تو سلیم صاحب نے ابو کو نوے کی دہائی کی مشہور کتاب شہاب نامہ پڑھنے کے واسطے دی۔ اس کتاب کو ابو اور میرے سمیت سب گھر والوں نے پڑھا۔ کتاب سے ہم لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ یہ ادھار کی کتاب واپس کرکے دوبارہ اس کے پڑھنے کی پیاس موجود تھی۔ ہمیں مجبوری کے عالم میں ایک سو اسی روپے میں نیا شہاب نامہ لینا پڑا باوجود اس امر اور حقیقت کے ہمارا تعلق ایک خالص کاروباری گھرانے اور پس منظر سے تھا جہاں کتاب اور وہ بھی غیر نصابی کتاب پر پیسے لگانا ایک بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔شہاب نامہ میں مذکور چندراوتی، عفت اور ڈپٹی کمشنر کی ڈائری نے مجھے ادبی کتابوں کی راہ دکھلائی اور مالک کے شکر سے آج تک کتابوں کا ساتھ جاری ہے۔ یہ بُوٹا بلا شک و شبہ محمد سلیم احسن کا لگایا ہوا ہے۔

میرے ادبی ذوق شوق کو دیکھ کر سلیم صاحب نے مجھے اپنے گھر میں موجود کتابیں پڑھنے کے لیے دیں جن میں کافی نایاب نسخے بھی شامل تھے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان میں ایک کتاب ہرچرن چاولہ کے مشہور افسانوی مجموعے کا قلمی نسخہ بھی تھا۔ میں نے وہ تمام کتابیں تھوڑے عرصے میں گما دیں۔ سلیم صاحب نے کچھ عرصے بعد ان کتابوں کا تقاضہ شروع کیا تو میں نے ان سے کنی کترانا شروع کر دی۔ جب ان کو یہ پتہ چلا کہ وہ نادر کتابیں میں نے ضائع کر دی ہیں تو انہوں نے مجھ سے نارضگی کا اظہار کیا۔ پھر ایک دن میں پنڈی سے ممتاز مفتی کی کتاب تلاش لے کر آیا تو سلیم صاحب نے مجھ سے لے لی۔ میں نے ابھی اس کتاب کو کھول کر دیکھا بھی نہیں تھا۔ سلیم صاحب سے وہ کتاب کوئی اور لے گیا۔ حساب کچھ تو برابر ہوا۔

سلیم احسن شاعر ہونے کا ساتھ ساتھ ایک مورخ بھی ہیں۔ انہوں نے روکھڑی شہر کے قدیم کھنڈرات پر تحقیق کی۔ ان کے پتھر، مجسمے اور سکے وغیرہ اپنے ڈرائنگ روم میں سجا کر رکھے۔ یاد آیا ان کا ڈرائنگ روم جسے ہم میانوالی میں بیٹھک کہتے ہیں بڑا پرسکون ہوا کرتا تھا خاص کر گرمیوں کے دنوں میں۔ یہ میں ان کے گرو بازار کے ایم سی ہائی سکول کے قریب واقع گھر کی بات کر رہا ہوں۔ اسی گھر میں منور علی ملک اپنے گھر سے پیدل چل کر آتے اور دونوں ویسپا سکوٹر پر بیٹھ کر کالج جایا کرتے۔ ان کی بیٹھک کے ایک کونے میں ایک تبلہ بھی پڑا ہوتا تھا جو ان کے موسیقی کے ذوق کی وکالت کرتا۔

ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا وسیع القلب اور انسان دوست ہونا ہے۔ہندوستان سے جو ہندو بھی میانوالی آتا ہے سلیم صاحب کا مہمان بنتا ہے۔ روشن لال چہکر تو اب بھی ہر سال ان کے گھر آتا رہتا ہے۔ سلیم صاحب کا حلقہ احباب بہت وسیع رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے نامور سٹیشن ڈائریکٹر ظفر خان نیازی اور معروف وکیل نیک محمد کے ساتھ ان کا یارانہ بہت مشہور تھا۔اس تکون کو دیکھ کر مجھے ممتازمفتی، شہاب اور اشفاق احمد کا ٹرائیکا یاد آ جاتا تھا۔

وقت کا پہیہ گھوما اور یوں گھوما کہ سب کچھ بدل کے رکھ دیا۔ شاعر، تاریخ دان، موسیقار اور سکالر محمد سلیم احسن اچانک سب کچھ تیاگ کے ایک مولوی بن گئے۔ سر پر بڑی سی پگڑی سجا لی۔ چہرے پر نور پہلے بھی تھااس نئی تبدیلی کے بعد اور بھی بڑھ گیا۔ ان کی صحبت میں پہلے جہاں ادبی خوشبوؤیں بکھرا کرتی تھیں اب مافوق الفطرت واقعات نے لے لی۔ لیکن اس تبدیلی کے باوجود ان کی شخصیت کی چاشنی اور گفتار کی شیرینی ہنوز قائم و دائم ہے۔ وہ مجھے جہاں بھی ملتے ہیں بڑی محبت سے ملتے ہیں۔ شاعری اب بھی کرتے ہیں لیکن بہت کم۔ گل و گلزار اور لب و رخسار کے قصوں کی جگہ اب حمد اور نعتیں کہنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہمارا محلہ چھوڑا، پھر شہر بھی چھوڑ دیا اور پنڈی جا بسے۔ کبھی کبھی میانوالی آتے ہیں تو حافظ سویٹ شاپ پر ان سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ مولوی محمد سلیم احسن سے گفتگو کرتے ہوئے کبھی کبھی جی کرتا ہے کہ کاش کبھی پرانے اپ ٹوڈیٹ، سوٹڈ بوٹڈ اور رومینٹک سلیم احسن سے بھی مڈبھیڑ ہو جائے۔ لیکن ایسا کب ہوتا ہے

جھوٹ ہے یہ تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے

اچھا میرا خوابِ جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

    PICTURIAL GLIMPSES OF PROFESSOR MUHAMMAD SALEEM AHSAN LIFE  

 

 

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.