MERA MIANWALI -JAN 16

میرا میانوالی

 فیس بک سے دوستی
میرا فیس بک اکاؤنٹ تو میرے بیٹے محمد اکرم علی نے ٢٠١٠ میں بنا دیا تھا، مگر میں نے اسے کبھی ھا تھ لگا نا بھی گوارا نہ کیا- اس بے نیا زی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں کمپیوٹر کی الف بے سے بھی ناواقف تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ کبھی یہ فن سیکھنے کو د ل ھی نا چاھا- اکرم بیٹا خود ھی میرے نام سے میری فیس بک آپریٹ کرتا رھا- مجھ سے د وستی کے طلبگاروں کی درخواستیں بھی وھی میرے نام سے منظور کرتا رھا- پچھلے سا ل اس نے مجھے ایک خوبصورت سمارٹ فون لے کر د یا تو د و د ن بعد میں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ بیٹا مجھے تو اس کے سر پیر کا ھی پتہ نہیں چلتا،
پچھلے سال اگست میں میں اکرم بیٹے کے ساتھ لاھور گیا تو اس نے لینووو کا لیپ ٹاپ مجھے لا کر دیا ، اور کہا “ابو‘ اتنی درویشی بھی اچھی نہیں- خدارا کچھ تو خیال کریں- آپ سے بہت جونیئر لوگ فیس بک کے ذریعے پاکستان بھر میں معروف ھو چکے ھیں اور آپ گھر میں چھپ کر بیٹھے ھیں- بے شمار لوگ آپ سے ًمحبت کرتے ھیں، آپ کی شاعری اور نثر پڑھنا چاھتے ھیں- “
بیٹے کا لیکچر غلط نہ تھا- اس نے خود مجھے فیس بک کا استعمال بھی سکھایا‘ اور یوں اگست سے میں آپ کی محفل —–( باقی باتیں انشاء اللہ کل )-16جنوری2016

جی ھاں، اکرم بیٹے نے د رست کہا تھا — اللہ آپ سب کو سلامت رکھے- فقیر سے اتنی محبت کا صلہ آپ کو وھی دے سکتا ھے-
میں اللہ کے فضل سے بہت مصروف زندگی بسر کرنے کا عادی ھوں- آج کل ایم اے انگلش کی ایک اور کتاب پر کام کر رھا ھوں – اپنی آپ بیتی کا تیسرا باب بھی لکھ رھا ھوں- انگریزی روزنامہ دی نیوز میں میرے خطوط بھی شائع ھوتے رھتے ھیں- کچھ گھر کی مصروفیات بھی ھوتی ھیں- ان تمام مصروفیات سے فرصت ملتی ھے تو آپ کی ًمحفل میں حاضر ھو جاتا ھوں- کوشش یہی ھےکہ میری دوستی آپ کے لیے کار آمد ثابت ھو- مجھے رب کریم نے جو علم ، قلم اور زندگی کا تجربہ عطا فرمایا ھے، یہ سب کچھ آپ کے کام آجائے- میں نے زندگی بھر یہی کام کیا ھے- دعاکریں کہ اللہ مزید ھمت اور توفیق عطا فرماے-17جنوری2016

میرے فیس بک کے استا د
پہلے بتا چکا ھوں کہ مجھے د ھکا دے کر فیس بک کے میدان میں تو میرا بیٹا پروفیسر محمد اکرم علی ملک لایا- اسی نے مجھے لیپ ٹاپ بھی د یا اور فیس بک کے استعمال کی بنیادی باتیں بھی سکھا ئیں – جب کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ھے- میانوالی میں میرے فیس بک کے استاد محمد احسن شاہ کاظمی ھیں- وہ محکمہ ماحولیات میں ملازم ھیں- بی اے اور ایم اے انگلش میں میرے طالب علم رھے ھیں- کمپیوٹر کے ایکسپرٹ بھی ھیں- وہ ھر اتوار کو آکر مجھے کچھ نہ کچھ بتا دیتے ھیں- کہتے ھیں آپ بہت ذھین سٹوڈنٹ ھین- اللہ جانے-بہرحال کوشش کرتا ھوں کہ جو کام بھی کروں درست ھو- ٹیکنیکل سوالات بعض اوقات ظفر نیازی اور عبدالغفار بھٹی صاحب سے بھی پوچھ لیتا ھوں – حال ھی میں داؤدخیل کے شاھد انور خان نیازی نے میرے شعروں کو پکچر کا روپ دینا شروع کیا ھے- شاھدانور گرافکس کے ماھر ھیں- چاھتا ھوں ان سے یہ فن بھی سیکھ لوں- کوئ بھی کام سیکھنے کا ایک اپنا لطف ھوتا ھے- بس اسی وجہ سے بہت کچھ سیکھنا چاھتا ھوں- دیکھیں اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ھوتا ھوں- انگریزی اردو تو رب کریم نے بہت سکھا دی- اس کام میں بھی مدد کا طالب ھوں-18جنوری2016

 میرا میانوالی
کل جو واقعہ میں نے بیان کیا اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ھم میانوالی کے لوگ احسان یاد رکھتے ھیں ، اور جب بھی موقع ملے اس کا صلہ ادا کر دیتے ھیں-
میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ گریٹ میں نہیں ، میرا وہ کنڈ کٹر بیٹآ تھا جس نے معمولی سی نیکی یاد رکھی اور موقع ملتے ھی اس کا صلہ ادا کر دیا- میں نے تو صرف اس کے فارم پہ مہر لگا کر دستخط کیے تھے، یہ ایک منٹ کا کام تھا، مگر اس نوجوان نے اس ایک منٹ کی مہربانی کا صلہ ادا کرنا بھی اپنا فرض سمجھا-
میں اکثر یہ سوچتا ھوں کہ کلج میں میں بچوں کو پڑھاتا رھا تو یہ ان پہ کوئ احسان نہیں کیا، کیونکہ اس کام کے لیے حکومت مجھے تنخواہ دیتی تھی اور اب پنشن دے رھئ ھے- اس کے باوجود میرے طالبعلم میری عزت اور خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ھیں- اللہ ان سب کو بے حساب جزائے خیر عطا فرماے- بنک ھو یا ڈاکخانہ، کوئ دفتر ھو یا کچہری ، مجھے کہیں بھی لائین میں لگ کر انتظار نہیں کرنا پڑتا- ھر جگہ میرا کوئ نہ کوئ بیٹا میری خدمت کے لیے موجود ھوتا ھے- اسی لیے ھمیشہ رب کریم کا شکر ادا کرتا ھوں کہ اس نے مجھے کچھ اور بنانے کی بجائے ٹیچر بنایا،
اس حوالے سے کچھ اور واقعات بعد میں بتاؤں گا- مقصد یہ ثابت کرنا ھے کہ اللہ کے فضل سے میانوالی کے سب لوگ اس حوالے سے گریٹ ھیں-20
جنوری2016

کچھ عرصہ پہلے کی بات ھے، میری بھتیجی پمز اسلام آباد میں زیر علاج تھی- شام کے بعد ڈاکٹر صاحبان نے کہا خون کی ایک بوتل لگوانی ھے- ھم بلڈ بنک گئے اور بلڈ بنک کے انچارج کو بتایا کہ ھمیں فلاں گروپ کے خون کی ایک بوتل چاھیے- اس کی جتنی قیمت آپ کہیں ھم دے دیتے ھیں، یا پھر صبح اس کے بدلے میں خون کی ایک بوتل دے دین گے- اس نے کہا “آپ کہاں سے آئے ھیں ؟“ ھم نے کہا “میانوالی سے“ – اس نے کہا آپ خون لے جائیں ، آپ سے میں نہ خون لوں گا، نہ پیسے، کیونکہ میانوالی کے لوگ احسان فراموش نہیں ھوتے – اور آج کے دور میں یہ بہت بڑی بات ھے“
الحمد للہ‘ یہ ھے میرے میانوالی کی شہرت صاحب احساس لوگوں کی نظر میں-21جنوری2016

ڈپٹی سپرنٹٹنڈنٹ جیل کی دعوت پر ایک دن ھم چند پروفیسر میانوالی جیل دیکھنے گئے – جب ھم لڑکوں کے احاطے میں داخل ھوئے ، وھاں بہت سے لڑکے دریوں پر بیٹھے تھے- ان میں میری کلاس کا ایک لڑکا بھی تھا، جو سگریٹ پی رھا تھا- جونہی اس نے ھمیں دیکھا، سگریٹ پھینک دیا اور جلتے سگریٹ پر پاؤں رکھ کر کھڑا ھو گیا- جب ھم قریب پہنچے تو اس نے ھمیں سلام کیا- میں نے کہا “بیٹا پاؤں جل گیا ھوگا“
وہ شرما کر بولا “سر، کوئ بات نہیں “-
اس بچے کی سعادتمندی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے ، اور ھم وھاں سے نکل آئے-
– جی ھاں ھمارے میانوالی کی تہذیب کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ھے—– الحمدللہ-22
جنوری2016

اللہ سلامت رکھے ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی ھمارے کالج کے پرنسپل تھے- ایک دن کہنے لگے “ملک صاحب، ایک مانگنے والا ھر رات ٹھیک دس بجے ھمارے دروازے پر آتا ھے- ھم اسے کھانے پینے کو کچھ دے دیتے ھیں- کل رات وہ نہیں آ سکا تو ھم رات بھر پریشان رھے کہ پتہ نہیں کیوں نہیں آیا- خدا جانے بچارے کو کھانے پینے کو کچھ ملا ھوگا یا نہیں“
پھر آہ بھر کر بولے “یار، میں سوچتا رھا کہ اسی طرح اللہ کریم بھی اپنے اس بندے کا انتظار کرتا ھوگا جو روزانہ ایک مقررہ وقت پر اس کے دربار میں مانگنے کے لیے آتا ھو- اگر وہ کسی وجہ سے نہ آ سکے تو اللہ تعالے بھی اسی طرح بے چین ھوتا ھوگا‘ یہ کہتے ھوئے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے – میری آنکھیں بھی بھیگ گئیں-24جنوری2016

محترمہ بے نظیر بھٹو جب پہلی بار وزیر ا عظم بنیں تو نواب فیملی کی دعوت پر انہوں نے کالاباغ کا دورہ کیا-میرے ایک دوست نے بتایا کہ جب محترمہ نے دریا کے کنارے کالاباغ کی عید گاہ سے شام کے وقت سورج کودریا میں اترتے دیکھا تو کہا “ میں نے ساری دنیا دیکھی ھے، مگر غروب آفتاب کا ایسا خوبصورت منظر اور کہیں نہیں دیکھا “

جی ھاں صرف غروب کا منظر ھی نہیں- کالاباغ میں طلوع کا منظر بھی لاجواب ھوتا ھے- کالاباغ مین بازار کے مشرقی سرے پر واقع مسجد لوھاراں میں نمازفجر کے بعد مسجد کے صحن میں کھڑے ھو کر مشرق میں ککڑانوالہ کے قریب پہاڑ کی اوٹ سے سورج کو نکلتے دیکھیں تو دریا کی سطح اور آسمان کے درمیان رنگ و نور کا ایک سیلاب سا بہتا نظر آتاھے- یہ منظر الفاظ میں بیان نہیں ھو سکتا – کبھی اللہ موقع دے تو قدرت کا یہ کرشمہ آپ بھی دیکھیں- بحمداللہ میں نے یہ منظر کئی بار دیکھا ھے، یہ نظارہ دیکھتے ھوئے انسان بے ساختہ کہتا ھے—————– سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم-26جنوری2016

میرا گھر داؤدخیل میں ھے – جب میں عیسی خیل کالج میں لیکچرر تھا تو ایک دن داؤد خیل کی ایک گلی سے گذر رھا تھا- راستے میں قصاب کی دکان پرماسٹر رب نواز خان کھڑے تھے- ماسٹر رب نواز خان آٹھویں کلاس میں میرے ٹیچر تھے- مجھے جاتے دیکھ کر انہوں نے مجھے بلایا “ منور، ادھر آؤ“ میں ان کی خدمت میں حاضر ھوا تو انہوں نے گوژت کا شاپر مجھے پکڑا کر کہا “یہ گوشت میرے گھر دے آؤ“
کیا بتاؤں کتنی خوشی ھوئ ماسٹر صاحب کے حکم کی تعمیل کر کے- جانتے تھے کہ میں اب پروفیسر ھوں- پانچ بچوں کا باپ بھی ھوں‘ مگر پھر بھی انہوں نے مجھے ایسے بلایا جیسے میں اب بھی ان کی کلاس کا طالب علم ھوں-
میں گوشت کا شاپر لے کر خوشی سے جھومتا ھوا جا رھا تھا تو راستے میں میرا اپنا ایک طالب علم ملا- اس نے پوچھا “سر کہاں جا رھے ھیں؟“ میں نے اسے بتایا کہ ماسٹر صاحب کے گھر گوشت دینے جا رھا ھوں‘ تو اس نے کہا “ سر مجھے دے دیں، میں دے آتاھوں“-
میں نے کہا“نہیں بیٹا یہ اعزاز میں کسی اور کو نہیں دے سکتا- پتہ نہیں زندگی میں مجھے یہ اعزاز پھر کبھی نصیب ھو یا نہ ھو“
میں نے ماسٹر صاحب کے حکم کی تعمیل کردی- جو خوشی اس وقت ھوئ کاش ایک بار پھر نصیب ھو جاتی-
27جنوری2016

یرے والد محترم، ملک محمد اکبرعلی اپنی سروس کے آغاز میں چند سال حلقہ کالاباغ کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسررھے- کالاباغ کے شمالی علاقہ چاپری ، ٹولہ منگلی، کوٹکی وغیرہ میں والد صاحب بہت مقبول تھے کیونکہ وہ پشتو بہت روانی سے بول لیتے تھے- اس علاقے میں ان کے بہت سے دوست تھے-
جب میں چھٹی کلاس میں تھا تو ایک دن والد صاحب مجھے اپنے ساتھ اس علاقے میں لے گئے – ھم شام کے وقت ٹولہ منگلی پہنچے- یہاں والد صاھب نے اپپنے دوست افضل خان سے ملنا تھا-افضل خان کی بیوی کے بھائ نے بتایا کہ افضل خان تو کچھ عرصہ قبل فوت ھوگئے-وہ ھمیں اپنے گھر لے گیا، اور کھانے وغیرہ کا بندوبست کرنے لگا-
افضل خان کی بیوی کو پتہ چلا تو اس نے وھاں آکر اپنے بھائ کو بہت برا بھلا کہا – اس نے کہا تم کون ھوتے ھو افضل خان کے مہمانوں کی خدمت کرنے والے- افضل خان کے مہمان میرے بھائ ھیں- اب میں افضل خان ھوں- یہ جب تک یہاں رھیں گے، ان کا کھانا میں بھیجوں گی- کچھ دیر بعد وہ خود ھمارا کھانا لے آئ- صبح ناشتہ بھی اسی خاتون نے بنایا- اور ھمیں بہت اعزاز کے ساتھ وہاں سے رخصت کیا- بحمداللہ ایسی وفا شعار خواتین میانولی کی شان ھیں- —————————– منورعلی ملک ———————
(اناڑی ھوں، کمپوزنگ کی ایک آدھ غلطی ھوگئ – اس کے لے معذرت)-28
جنوری2016

ایک دن میں گھنڈوالی وانڈھی میں اپنی بیٹی کے گھر سے واپس آ رھا تھا – جب میں گورنمنٹ ھائ سکول کے برابر پہنچاتو سڑک کے دوسری طرف سامنے سے آتی ھوئ ایک کار سڑک کراس کر کے میرے سامنے آ رکی- کار میرے سابق سٹوڈنٹ عارف خان نیازی کی تھی- کار سے نکل کر عارف خان نے مجھے سلام کیا تو میں نے پوچھا “ بیٹآ۔ کہاں ھوتے ھو آج کل؟‘
عارف خان نے کہا “ سر‘ میں سول جج ھوں- سر‘ آپ کہاں جا رھے ھیں‘ میں آپ کو چھوڑ آتاھوں “
میں نے تو سڑک کے دوسری طرف دیکھا بھی نہیں تھا- عارف چاھتا تو نکل جاتا- یا اگر میں دیکھ بھی لیتا تو وہ چلتی گآڑی میں سے مجھے سلام کر لیتا- مگر اپنے ٹیچر کو پیدل چلتے دیکھ کر منہ پھیر کر گذر جانا عارف کے ضمیر نے گوارا نہ کیا –
الحمدللہ‘ ھمارے ھاں ایسی تابندہ روایات آج بھی زندہ ھیں—29جنوری2016

ایک دن ھم داؤدخیل سے میانوالی آ رھے تھے- پائ خیل کے قریب ایک بھاگتی ھوئ گائے ھماری کوچ سے ٹکرا گئی- ڈرائیور نے گاڑی روک دی- کچھ مسافروں نے کہا چلے چلو ورنہ مصیبت میں پھنس جاؤگے- مگر نوجوان ڈرائیور نے ان کی بات نہ مانی- گاڑی سے اتر کر اس نے جیب سے چاقو نکالا، اور گائے کو ذبح کر دیا، کیونکہ گائے نے توبہرحال مر جانا تھا- ادھر بائیں جانب سے ایک چھوٹی سی بچی روتی ھوئ آئی اور چیخ کر کہا“ھائے ھماری گائے ماردی“
ڈرائیور نے اپنی جیب میں سے جتنے پیسے اس وقت تھے نکال کر بچی کو دیتے ھوئے کہا، “ بیٹا قصور تو میرا نہیں- بہر حال میرے پاس اس وقت یہی پیسے ھیں- یہ تم لے لو- گائے کا گوشت بھی ھے- امید ھے گائےکی قیمت نکل آئےگی-
یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی ڈرائیو کر کے ھمیں میانوالی لے آیا- گائے کے خون سے اس کے ہاتھ اور کپڑے آلودہ ھوگئے تھے، مگر اس نے پروا نہ کی-
ایک مسافر نے کہا تمہیں رکنا نہیں چاھیے تھا
“اس نے کہا“چاچا میرا جو فرض بنتا تھا وہ ادا کرنا ضروری تھا، سو میں نے کر دیا، کہ آخر قبر میں بھی تو جانا ھے-“-30جنوری2016

الحمدللہ، جج عارف خان کی طرح میرا ایک اور قابل فخر بیٹا عزیز نیازی ھزارے خیل بھی ھے؛ عزیز نیازی فرسٹ ایئر سے ایم اے تک میرا طالب علم رھا- وہ مجھے باباجانی کہتا ھے، اور میں بھی اسے اپنا پانچواں بیٹا شمار کرتا ھوں- ایم اے انگلش کرنے کے بعد عزیز نے علامہ اقبال ٹاؤن، لاھور میں اکیڈیمی بنالی- اللہ کے فضل سے یہ اکیڈیمی ایسی کامیاب ثابت ھوئ کہ نیازی کو سرکاری ملازمت کی ضرورت ھی نہ پڑی- اس نے لاھور میں گھر بھی بنا لیا،گاڑی بھی ھے- اب وہ اس علاقے کا سب سے کامیاب ٹیچر شمار ھوتا ھے-
جب میرا بیٹا محمد اکرم علی لاھور منتقل ھوا تو میں بھی اس کے ساتھ گیا- ھمارے ھمراہ سامان کا ٹرک بھی تھا- میں نے نیازی سے فون پہ کہاکہ ٹرک سے سامان اتروانے کے لیے اپنے چند طالب علموں کو ایم اے او کالج بھیج دینا-
جب ھم وھاں پہنچے تو دس نوجوان ھمارا انتظار کر رھے تھے- انہوں نے نہایت سلیقے سے ھمارا سامان اتار کر ھمارے گھر میں سجادیا-جب وہ جانے لگے تو میں نے کہا “بیٹا، شکریہ، ھماری خاطر آپ نے اتنی زحمت گوارا کی-
ان میں سے ایک بولا “سر،یہ تو ھمارے لیے ایک اعزاز ھے، کیونکہ آپ ھمارے سر نیازی کے بابا جانی ھیں؛ سرنیازی نے کلاس روم میں آپ کی تصویر لگا رکھی ھے- صبح سر نیازی کلاس میں آتے ھیں تو پہلے آپ کی تصویر کو سلام کرتے ھیں ، اس کے بعد ھمیں پڑھانا شروع کرتے ھیں-
میرے نقش قدم پر چلتے ھوے عزیز نیازی نے ایف اے ، بی اے کے لیے نصف درجن کتابیں بھی لکھی ھیں- بہت لائق اور محنتی ٹیچر ھے-
میرے اس قابل فخر بیٹے کے لیے بہت سی دعائیں-
31جنوری2016

Leave a Reply