MERA MIANWALI -FEB16

منورعلی ملک

کی  فروری 2016  کی فیس بک پرپوسٹ

ایکسپریس نیوز کے بیوروچیف، وولٹا بیٹری کے ڈیلر حمیداللہ خان ھمارے بہت پیارے دوست ھیں- ایک زمانہ تھا،جب شام کے بعد حمیداللہ خان ، پروفیسر سلیم احسن ، میں اور کچھ دوسرے دوست حافظ سویٹ شاپ پہ جمع ھوتے، چائے چلتی، ادب، سیاست اور صحافت پہ گفتگو ھوتی، پھر ریلوے اسٹیشن کا ایک چکر لگا کر ھم اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے-
دسمبر کی ایک رات ھم حسب معمول مین بازار سے اسٹیشن کی جانب روانہ ھوے- سخت سردی تھی ، ھلکی ھلکی بارش بھی ھو رھی تھی- اسٹیشن کے گیٹ کے ُقریب نالی میں ایک چھوٹا سا کتا پڑا کانپ رھا تھا- حمیداللہ خان وھیں رک گئے، اپنے باؤضؤ ھاتھوں اور پاک صاف لباس کی پروا کیے بغیر اس کتے کو نالی سے اٹھا کراسٹیشن کے برآمدے میں لے آئے- پھر سامنے والے ھتؤٹل سے گرم دودھ اور ڈبل روٹی کے ٹکڑے لا کر اس کتے کو کھلا پلا کر اپنے گھر کو روانہ ھو گئے- (نیکی کے کام پر چھ گھنتے میں صرف ٩٥ لائیکس  )-1فروری2016

سادگی اور معصومیت ھمارے دیہاتی کلچر کا حسن ھے، جو لباس ، خوراک اور بول چال میں ھر جگہ نظر آتا ھے- یہ سادگی اور معصومیت بعض اوقات بڑی دلچسپ صورت میں سامنے آتی ھے-
تقریبا چالیس سال پہلے کی بات ھے، داؤد خیل میں ھمارے محلہ مبارک آباد کی مسجد میں عشاء کی نماز کے دوران امامم صاحب سورہ رحمان پڑھتے ھوئے ایک آیت بھول گئے- میں پہلی صف میں ان کے پیچھے کھڑا تھا، میں نے وہ آیت بلند آواز میں پڑھ دی- جب امام کوئ آیت بھول جائے، تواسے اس طرح بتانا ضروری ھوتا ھے- اسے شریعت کی اصطلاح میں لقمہ دینا کہتے ھیں-
میں نے درست آیت پڑھی تو امام صاحب نے وہ آیت دوبارہ پڑھی، مگر پھر بھول گئے، میں نے پھر بتایا- جب تیسری بارر بھی امام صاحب درست نہ پڑھ سکے تو میرے بتانے سے پہلے، دوسری صف کا ایک نمازی، چاچا احمدخان بہرام خیل بول اٹھا- اس نے کہا-
“یار اے ڈرامہ مکاؤ ھا، میں پانی لاؤن ونجنڑاں اے“
چاچا احمد خان کی اس معصوم حرکت پر سب لوگ ہنس پڑے- اور نماز دوبارہ پڑھی گئی- دراصل نہر کی وارہ بندی کےے مطابق اس رات چاچا احمد خان نے اپنی زمین کو پانی دینا تھا، اگر دیر سے جاتا تو پانی کوئی اور لے لیتا- اور پھر لڑائی جھگڑا بھی ضرور ھونا تھا-
سادگی میں اس طرح کے لطیفے اکثر ھوتے رھتے ھیں-2
 فروری2016

ایک دن مٰیں داؤدخیل سے عیسی خیل جانے کے لیے بس پہ سوار ھؤا- بس میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی- کچھ لوگ سیٹوں کے درمیان کھڑے تھے ، میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ھو گیا، کیونکہ وقت پر کالج پہنچنا ضروری تھا-
اچانک پچھلی سیٹ سے ایک سمارٹ، خوش لباس نوجوان اٹھا، اور اس نے مجھ سے کہا“سر‘ آپ یہاں بیٹھ جائیں“
میں نے کہا “ نہیں۔ بیٹا، آپ بیٹھے رہیں“
اس نے کہا “ نہیں، سر یہ کیسے ھو سکتا ھے کہ آپ کھڑے ھوں‘ اور میں بیٹھا رھوں“
میں نے اس کی پیشکش قبول کرتے ھوے کہا “ بیٹا ۔میں نے آپ کو پہچانا نہیں“
نوجوان نے کہا “ سر، میرا نام سید امیر عباس نقوی ھے- میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھوں- جب میں آٹھویں کلاس میں تھا‘ توو ایک دن آپ ھمارے ھیڈماسٹر صاحب سے ملنے آئے تھے- اور ھیڈماسٹر صاحب کے کہنے پر آپ نے ھماری کلاس کو انگلش گرامر بھی پڑھائی تھی-“
صرف ایک دن کی تعلیم کی اتنی قدر !!!
جی ھاں، میانوالی میں ھوتی ھے-

محترم دوستو، سلام – اللہ آپ کو بہت عزت دے، میں نے آپ کی اور آپ کے بچوں کی جو خدمت کی ، وہ آپ پر کوئی احسان نہ تھا، اس کے بدلے میں آپ جو عزت اور محبت مجھے دیتے ھیں ، وہ میری خدمات سے بہت زیادہ ھے- میں نے تو اپنا فرض ادا کیا، اور اس کی مجھے تنخواہ بھی ملتی تھئ- لیکن آپ کی محبت بے لوث-4 فروری2016

ھمارے بعض دیہاتی بزرگ ان پڑھ ھونے کے باوجود بات اتنے دلچسپ اور خوبصورت انداز میں کرتے ھیں کہ انسان بے ساختہ داد دینے پر مجبور ھو جاتا ھے- خاص طور پر مزاحیہ انداز میں بعض اوقات بڑی خوبصورت بات کہہ دیتے ھیں-
ایک دن داؤدخیل میں ھمارے گھر کے سامنے والی سڑک پہ ایک کتا بھاگ رہا تھا- دور سے کسی نے بلند آواز میں کہا ““ خبردار‘ یہ کتا پاگل ھو گیا ھے- اس سے بچ کے رھنا-“
یہ سن کر سڑک پر کھڑا ھوا ایک نوجوان کتے کو مارنے کے لیے اس کےپیچھے بھاگنے لگا- حالانکہ وہ خالی ھاتھ تھا- اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ کسی ھتھیار کے بغیر کتے کو مارنا تو ناممکن ھوگا-
پاگل کتے کو مارنے کے لیے اس نوجوان کو خالی ھاتھ بھاگتے دیکھ کر ھمارے محلہ کے ایک بزرگ چاچا سلطان سنگوال نےے کہا؛
“ اگلے نالوں پچھلا زیادہ پاگل اے“-5
 فروری2016

الحمدللہ‘ میرے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی ملک نے اے گریڈ (فرسٹ ڈویژن) میں ایم فل (انگلش لٹریچر) کا امتحان پاس کر لیاھے- الحمدللہ الکریم –

محترم دوستو، السلام علیکم و رحمتہ اللہ،
میرے بیٹے محمد اکرم علی کی کامیابی پر لائیکس اور کمنٹس کی صورت میں آپ کی محبت کا صلہ وھی دے سکتا ھے جو سب کچھھ دے سکتا ھے- اسی رب العزت سے التجا ھے کہ آپ سب کو بے حساب عزت اور کامیابیاں عطا فر مائے ،
میں اپنی اور اپنے بچوں کی ھر کامیابی کو میانوالی کی کامیابی ، اور وسیع تر تناظر میں پاکستان کی کامیابی سمجھتا ھوں- اللہ تعالیی پاکستان کے تمام بچوں کو نیک اورلائق بنا کر اس ملک کی تقدیر سنوار دے- یہی دعا میانوالی سے باھر کے ان تمام دوستوں کے لیے بھی ، جنہوں نے اس موقع پر ھماری خوشی میں شریک ھو کر ھماری حوصلہ افزائی کی- اللہ کرے ھم اسی طرح ھمیشہ آپس میں خوشیاں ھی شیئر کرتے رھیں -7 فروری2016

صرف استاد ھی شاگرد کی زندگی نہیں سنوارتا، بعض اوقات اللہ کریم شاگرد کو بھی استاد کی زندگی سنوارنے کا وسیلہ بنا دیتا ھے-
ٹھٹھی کا اللہ داد خان نیازی داؤدخیل ھائی سکول میں میرا سٹوڈنٹ رھا- میں ٹھٹھی سکول کا ھیڈماسٹر مقرر ھوا، تو کچھھ عرصہ بعد اللہ دادخان گورنمنٹ کالج اٹک سے بی اے کرنے کے بعد گھر واپس آگیا- اللہ داد خان روزانہ سکول ٹائیم کے بعد مجھ سے ملنے سکول آتا- اس کے پاس بندوق تھی، جس سے ھم ارد گرد کے علاقے میں کبوتر، فاختہ وغیرہ کا شکار کرتے، پھر واپس آکر اللہ داد خان کے ھاں چائے پیتے ، اس کے بعد میں اپنے گھر چلاجاتا-
آیک دن اللہ دادخان کے ڈرائنگ روم میں چائے پینے کے دوران اللہ داد خان نے کہا “ سر میں ایم اے اردو کا امتحانن دینے کا سوچ رھا ھوں“
میں نے کہا، بہت اچھی بات ھے-
اللہ داد خان نے کہا “ اگر آپ ناراض نہ ھوں تو آپ سے ایک بات کرسکتا ھوں؟“
میں نے کہا فرمائیے
“سر‘ میں آپ کا سٹوڈنٹ ھوں، میں ایم اے اردو کرنا چاھتا ھوں- سر آپ تو انگریزی کے ماھر ھیں- آپ ایم اےے انگلش کیوں نہیں کر لیتے ؟‘
“ٹھیک ھے بھائی، کبھی کر لوں گا“ میں نے کہا
“ سر۔ کبھی نہیں، ابھی کی بات کریں“
یہ کہہ کر اللہ داد خان دوسرے کمرے سے پنجاب یونیورسٹی کے سلیبس کی کتاب اٹھا لایا-
اس کتاب میں ھر مضمون کا ایم اے کا سلیبس لکھا ھوا تھا- میں ایم اے انگلش کا سلیبس دیکھ کر حیران رہ گیا- اس میں درجج بہت سی کتابیں میں ویسے ھی شوقیہ پڑھ چکا تھا-
سلیبس دیکھ کر میں نے کہا “اللہ کے فضل سے یہ تو میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں ھوگا-
دوسرے دن اللہ داد خان ایم اے کے دو فارم داخلہ لے آیا- ھم دونوں نے داخلہ فیس اور فارم یونیورسٹی بھجوادییے — دونوں نے امتحان دیا – اللہ کی مہربانی سے امتحان پاس کرکے ھم دونوں پروفیسر بھی بن گئے- اللہ داد خان گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اردو کے لیکچرر، اور میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کا لیکچرر مقرر ھوا-8
 فروری2016

الحمدللہ، اللہ داد خان نیازی کوئی عام پروفیسر نہیں- صوبہ بلوچستان میں پہلی سے لے کر پانچویں کلاس تک اردو کے نصاب کی جو کتابیں اس وقت پڑھائی جا رھی ھیں، وہ پروفیسر اللہ داد خان نیازی کی لکھی ھوئی ھیں- یہ کتابیں حکومت بلوچستان نے شائع کر کے پورے صوبے کے سکولوں میں رائج کی ھیں- ھم میانوالی کے لوگوں کو اس بات پر فخر ھونا چاھیے کہ ھمارے پروفیس صاحب کی کتابیں پاکستان کے ایک صوبے کے تعلیمی نصاب میں شامل ھیًں- اللہ داد خان نے بچوں کے لیے اسلام کی نامور شخصیات کے بچپن کی کہانیوں کی ایک خوبصورت کتاب بھی لکھی ھے- سرکاردوعالم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ان کی کتاب نہایت ایمان افروز ھے-
میری کل والی پوسٹ پڑھ کر میرے محترم دوست ، نامور افسانہ نگار، شاعر اور ریڈیوپاکستان کے اسٹیشن ڈائرکٹر ظفرر خان نیازی نے اللہ دادخان نیازی کے بارے میں پوچھا کہ وہ آج کل کہاں رھتے ھیں۔ ظفرخان کے حکم کی تعمیل میں آج صبح اللہ داد خان نیازی سے فون پہ رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اب کوئٹہ کے ایک کالج میں پرنسپل ھیں- اس وقت مختصر بات ھو سکی- کبھی ان سے پھر رابطہ کر کے میانوالی کی اس قابل فخر شخصیت کے بارے میں آپ کو مزید بتاؤں گا-
یہ تو میں نے کل بتا دیا کہ مجھے ایم اے انگلش کرنے کی ترغیب میرے سابق سٹوڈنٹ اللہ داد خان نیازی نے دی- انشاءاللہہ کل آپ کو یہ بتاؤںگاکہ مجھے ایم اے انگلش کرنے کا خواب کس نے دکھایا تھا-9 
 فروری2016

گارڈن کالج راولپنڈی میں پرنسپل کے علاوہ انگلش اور سائنس کے کچھ امریکی پروفیسر صاحبان بھی تھے- سیکنڈ ایئر میں ھمارے انگلش کے پروفیسر جان وائیلڈر تھے- انگلش میں میری خصوصی دلچسپی کی وجہ سے وہ مجھ پر بہت مہربان تھے-
سیکنڈایئر کے امتحان سے چند ماہ پہلے مجھے کالج چھوڑناپڑا، کیونکہ میرے والد صاحب ملازمت سے ریٹائر ھو گئے، اور انن کی پنشن میں میری کالج کی تعلیم اور ھاسٹل کے اخراجات کی گنجائش نہ تھی-
پروفیسر جان وائیلڈر صاحب کومیرے ارادے کا پتہ چلا تو ایک دن وہ مجھے کالج کیمپس میں واقع اپنے گھر لے گئے- میرے لیے چائے بنوائ اور مجھ سے پوچھا “آپ کالج کیوں چھوڑنا چاھتے ھیں؟
میں نے وجہ بتائی توانہوں نے کہا “ اخراجات کی فکر نہ کریں- آپ کی تعلیم کے تمام اخراجات میں ادا کروں گا- کہ آخرر آپ میرے بھی تو بیٹے ھیں- دو سال بعد میں یہاں سے فارغ ھو کر امریکہ جاؤں گاتو آپ کو بھی ساتھ لے جاکر وھاں سے ایم اے انگلش کرواؤں گا-
اتنی بڑی پیشکش سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے- مگر میرے لیے اب پنڈی میں رھنا نا ممکن تھا، کیونکہ اخراجاتت کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ میری والدہ سخت بیمار تھیں- میں نے پروفیسر صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا، ٹھیک ھے، جب آپ کی والدہ صحت یاب ھو جائیں توضرور آنا
واپسی ناممکن تھی- پروفیسر صاحب کو یہ تو نہ بتا سکا، بس آنسو پونچھتا ھوا وھاں سے واپس آگیا- دل میں ایک حسرت سی ھےے کہ کاش میں زندگی میں ایک دفعہ پروفیسر صاحب کے پاؤں چھو کر انہیں بتا سکتا کہ سر میں نے ایم اے انگلش کر لیا ھے- -10
 فروری2016

کل کی پوسٹ میں پروفیسر جان وائیلڈر کے بارے میں لکھتے ھوے آنکھیں بھیگ گئیں- وہ جب بھی یاد آتے ھیں ایسا ھی ھوتا ھے- انگلش کا ان جیسا ٹیچر پھر نہ دیکھا- ایک دفعہ انگلش گرامر کے ٹیسٹ میں انہوں نے مجھے سو میں سے اٹھانوے نمبر دئیے، تو ہنس کر کہا “آپ کے سو میں سے دونمبر میں نے صرف اس لیے کاٹےھیں کہ آپ کے پاکستان میں انگلش میں پورے نمبر دینے کا رواج نہیں، ورنہ میرے حساب میں آپ کےپورے سو نمبر بنتے ھیں- انصاف پسندی کی ایسی مثال کم ھی دیکھنے میں آتی ھے-
مجھے ایم اے انگلش کرنے کا جو خواب انہوں نے دکھایا تھا، بعد کے حالات میں اس خواب کی تکمیل ناممکن تھی- انن حالات کی تفصیل بھی خاصی دردناک ھے-
بڑی طویل کہانی ھے پھر کبھی اے دوست
بہر حال ، اللہ نے جو صلاحیت مجھے عطا کی تھی ، اس کے مطابق مقام مجھے دلوانے کا فیصلہ بھی اسی رب کریم نے کر دیا تھا- خوابب دکھاے کا وسیلہ پروفیسر جان وائیلڈر کو بنا دیا- خواب کی تکمیل کا وسیلہ میرے سٹوڈنٹ اللہ داد خان نیازی کو بنا دیا- انگریزی اخبارات میں تیرہ سال تک کالم نگاری، اور ایم اے انگلش کے لیے بارہ کتابیں لکھنے کا اعزاز مجھے میانوالی میں بیٹھے عطا کر دیا ، آج کل ایم اے کی ایک اور کتاب پر کام کر رھا ھوں – اور بھی بہت کچھ کرنا چاھتا ھوں ، اس کے لیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ھے-
یاد رکھیے رب کے معنی صرف رزق دینے والا نہیں- رب کا اصل کام یہ ھے کہ جس کو جو صلاحیت عطا کردی اس کےے مطابق اس انسان کو مقام تک پہنچانا بھی اپنے ذمے لے لیتا ھے- شرط صرف یہ ھے کہ انسان رب کو بھلا نہ دے -11
 فروری2016

میرے برتھ ڈے میں آپ کی بھرپور شرکت نے اس برتھ ڈے کو میری زندگی کی ایک یادگار تقریب بنا دیا- اللہ آپ کو بے حساب عزت، خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے، آپ کو تمام مشکلات اور پریشانیوں سے نجات دے کرایک پرسکون زندگی نصیب فرمائے- دل تو چاھتا ھے کہ ھر لائیک، کمنٹ اور میسیج کا الگ الگ جواب دوں، مگرھمت نہیں-
گھر میں میرے برتھ ڈے کا اھتمام امجد بیٹے کی بچی علیزہ نے کیا- کیک کے علاوہ بازار سے غبارے، بھالو اور پتہ نہیں اور کیاا کیا اٹھا لائی- الحمدللہ یہ سادہ سی تقریب بہ خیر بھگت گئی-
ایک بات کہوں ؟ بات یہ ھے کہ اپنے والدین کا برتھ ڈے ضرور منایا کریں- آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ایسی چھوٹیی چھوٹی خوشیاں والدین کے لیے کتنی اھم ھو تی ھیں- کرنا کیا ھوتا ھے- ایک چھوٹا سا کیک یا کچھ مٹھائ لے آئیں، ان کی پسند کی کوئی چیز انہیں گفٹ دے دیں، انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا دیں- اس کے بدلے میں آپ کو جو دعا ئیں ملیں گی ، ان سے آپ کی دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ھیں- اس لیے آگر آپ کے والدین اللہ کے فضل سے اس دنیا میں موجود ھیں تو انہیں یہ چھوٹا سا سرپرائیز ضرور دیں-13
فروری2016

سمند والا کا سردار خان نیازی موٹروے پولیس میں انسپکٹر تھا- وہ بی اے میں میرا سٹوڈنٹ رھا- اسے انگریزی سیکھنے کا جنون تھا-اکثر مجھ سے کچھ نہ کچھ پوچھتا رھتا تھا- کبھی کچھ لکھ کر مجھے دکھا دیتا تھا-
ایک دن مجھ سے ملنے آیا تو اس نے مجھے اہنی لکھی ھوئ ایک انکوائری رپورٹ دکھائ-میں وہ رپورٹ پڑھ کر بہہت خوشش ھوا ، اور کہا “سردار بیٹا،ایسی خوبصورت انگلش کوئ دوسرا پولیس افسر نیہں لکھ سکے گا-
سردار خان یہ سن کر رو پڑا، اورمیرا ھاتھ چوم کر بولا “ سر، آخر بیٹا کس کا ھوں“-
یہ ھماری آخری ملاقات تھی- چند دن بعد سرار خان موٹروے پر کچھ مجرموں کا تعاقب کرتے ھوئے ایک ٹریفکک حادثے میں شھید ھو گیا-15فروری2016

ٹھٹھی کے دو بزرگوں کے درمیان مقدمہ بازی چل رھی تھی- زمین کا تنازعہ تھا- زمین پر قبضہ ایک بزرگ کا تھا، ملکیت کا دعوی دوسرے نے دائر کر رکھا تھا- ایک دن میں میانوالی جانے کے لیے ٹرین پر سوار ھوا تو اپنے سامنے والی سیٹ پر ان دو بزرگوں کو بیٹھے دیکھ کر میں نے ان سے کہا “ چاچا، آپ شریف لوگ ھیں- یہاں بھائیوں کی طرح مل کر بیٹھے ھیں ، تو یہ مقدمے والا چکر ختم کیوں نہیں کر دیتے؟“
دونوں چادریں اوڑھے بیٹھےتھے- ان میں سے ایک نے چادر ھٹاتے ھوئے ھنس کر کہا-
“ مکائ وینےھاں“
چادر ھٹی تو پتہ چلا کہ دونوں کو ہتھکڑی لگی ھوئ تھی- ھوا یہ تھا کہ زمین ھندوؤں کی تھی- قیام پاکسان کے وقت ھندو چلےے گئے تو ایک بزرگ نے زمین پر قبضہ کر کے کاشت شروع کر دی- دوسرے کی زمین اس زمین سے ملحق تھی- اس نے عدالت میں دعوی دائر کر دیا کہ یہ زمین میری آبائ ملکیت ھے- عدالت میں حقیقت سامنے آئ کہ زمین تونہ ایک کی ھے نہ دوسرے کی- دونوں مجرم ٹھہرے-
کیس کا فیصلہ دونوں طرف جرمانے کی صورت میں ھوا- اور اس کے بعد دونوں بھائی بھائی بنن گئے-21
فروری2016

داؤدخیل کا رب نواز خان ولد مقرب خان میرا بہت اچھا دوست تھا- پڑھا لکھا نہیں تھا، مگر اپنے دیہاتی فیشن کے مطابق بہت اپ ٹو ڈیٹ بندہ تھا- سر پہ کلف لگی طرے والی پگڑی، پاؤں میں زری (تلے) والی کھیڑی اور ھاتھ میں بید کی نفیس سی چھڑی رب نواز خان کی پہچان تھی-
جب میں گارڈن کالج راولپنڈی میں پڑھتا تھا تو ایک دفعہ رب نواز مجھ سے ملنے کے لیے آیا- شام ھوئی تو کہنے لگا “لالا، فلم چنن ماھی دیکھنی ھے“
ھم ناولٹی سنیما میں فلم دیکھ کر باھر نکلے تو ایک صاف ستھرے ھوٹل میں چائے پینے کے لیے رکے- ھوٹل کے ھال میں ھمارے سامنے کچھ فاصلے پر ایک خاصا معزز سا آدمی بیٹھا تھا- اپنی دولت کی نمائش کے لیے اس نے میز پر سگریٹ کے دو مہنگے برانڈ کے پیکٹ اور سو،سو روپے کے کچھ نوٹ سجا رکھے تھے
رب نواز خان پہلے تو اسے گھور گھور کر دیکھتا رہا، پھر اٹھا اور مجھ سے کہا “لالا، ھک منٹ“ یہ کہہ کر وہ ھوٹل سے باھر نکلا ، اورر سامنے والے پان سگریٹ کے کھوکھے سے سگریٹ کے مختلف برانڈ کے چھ سات پیکٹ جھولی میں بھر کر لے آیا- سگریٹ کے پیکٹ میز پر سجا کر جیب میں جو ساٹھ ستر روپے باقی بچے تھے، وہ بھی میز پر رکھ دیے-
سامنے والا رئیس آدمی رب نواز خان کی یہ حرکت دیکھ کر سمجھ گیا کہ کسی سر پھرے سے واسطہ پڑگیا ھے- اس نے مسکرا کرر اپنی چیزیں میز سے اٹھا کر جیب میں ڈالیں، اور وھاں سے رخصٹ ھو گیا
رب نواز نے مجھ سے کہا “ لالا اس کو اے ڈساونڑاں ضروری ھئی جو اساں وی کیں تو گھٹ نوابب ناں“-22
فروری2016

٢٢ مئی ١٩٦٥ کو جو لوگ ضلع میانوالی میں موجود تھے، وہ اس بات کی گواھی دیں گے کہ اس دن کی طویل طوفانی بارش کتنی شدید تھی-
میں اپنے ایک ساتھی ماسٹر غلام محمد اور سکول کے چپراسی کے ھمراہ صبح سات بجے ٹھٹھی گاؤں پہنچا تو بارش شروعع ھوگئی- سکول وھاں سے تقریبا ایک کلومیٹر آگے تھا- مگر بارش اتنی شدید تھی کہ دو قدم چلنا بھی مشکل ھو گیا- بارش سے بچنے کے لیے ھم کریانہ کی ایک دکان میں بیٹھ گئے- ھمارا خیال تھا کہ تھوڑی دیر بعد بارش رک جائے گی تو سکول کا رخ کریں گے – لیکن یہ کوئی ایسی ویسی بارش نہ تھی- صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک، گیارہ گھنٹے مسلسل بارش ایک ھی رفتار سے برستی رھی-
داؤدخیل اور ٹھٹھی کے درمیان چار کلومیٹر کاعلاقہ جل تھل ھو گیا- چار پانچ فٹ پانی میں چار کلومیٹر پیدل چل کر واپسس اپنے گھر داؤدخیل جانا ناممکن تھا-
تقریبا 6 بجے میانوالی کی جانب سے ایک ٹرین آکر وھاں رکی- رکنے کی وجہ یہ تھی کی طوفانی بارش ریلوے لائین کےے نیچے سے مٹی بہا کر لے گئی تھی – ریلوے لائین کی مرمت کے لیے ریلوے مزدوروں کی گینگ ٹرین کے ھمراہ تھی ، کیونکہ یہ مرمت میانوالی سے داؤدخیل تک کئی جگہ درکار تھی-
ھم ٹرین میں بیٹھ گئے- ھمارا خیال تھا کہ دس پنرہ منٹ میں داؤدخیل پہنچ جائیں گے- مگر پہاڑی نالوں نے تمام راستے میںں وہ تباھی مچائی تھی کہ بار بار ٹرین روک کر لائین کی مرمت کی جاتی ، تب ٹرین کچھ آگے جا سکتی تھی-
اس طرح بچاری ٹرین نے چار کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے چار گھنٹے میں طے کیا- اور ھم رات ساڑھے دس بجے داؤدخیلل پہنچے-
اس طوفانی بارش سے مالی نقصان تو اچھا خاصا ھوا، لیکن اللہ کا شکر ھے کہ جانی نقصان بالکل نہٰیں ھوا- ضلع میانوالی پر ربب کریم کا یہ خصوصی احسان ھے کہ زلزلوں ، سیلابوں اور طوفانی بارشوں میں یہاں جانی نقصان نہیں ھوتا- یا کبھی ھو بھی تو بہت معمولی ھوتا ھے-24
فروری2016

١٩٦٥-١٩٦٦میں ھر ضلع میں امریکی امداد کے تحت تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لے دو امریکی انجینیئر تعینات تھے-
٢٢مئی کی طوفانی بارش سے ھمارے سکول کے دو کمروں کوشدید نقصان پہنچا تھا- ڈپٹی کمشنر صاحب سے اس سلسلےے میں مدد طلب کی تو انہوں نے کہا ھمارے پاس اس وقت فلڈریلیف فنڈ کے صرف 2750 روپے ھیں- آپ ڈسٹرکٹ انجینیئرسےایسٹی میٹ بنوالائیں تو میں یہ رقم آپ کو دے دوں گا-
ڈسٹرکٹ انجینیئر کےحکم پر ایک اوورسیئر نے جو ایسٹی میٹ بنا کر دیا وہ ساڑھے آٹھ ھزار روپے کا تھا- میں نے کہا بھی کہ دستیاب رقم 2750 روپے ھے- اوورسیئر نےکہا یہ میرا مسئلہ نہیں- میں نے تو قانون کے مطابق ایسٹی میٹ بنا دیاھے-
میں نے یہ قصہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ( چوھدری محمد صدیق صاحب) کو بتایا تو وہ مجھے ان دو امریکی انجینیرزکےے پاس لے گئے، اورانہیں بتا دیا کہ 2750 روپے میں سکول کی مرمت کا ایسٹی میٹ بنوانا ھے-
امریکی انجینییرز نے ھمارے اوورسیئر کی طرح وھیں بیٹھے بیٹھے ایسٹیمیٹ نہیں بنا دیا- وہ مجھے ساتھ لے کر ٹھٹھیی سکول پہنچے، اپنے پیمائش کے آلات سے نقصان کا مکمل جائزہ لیا، اور 2250 روپے کا ایسٹیمیٹ بنا کر میری ٹیبل پہ رکھ دیا- یہ رقم کل رقم سے پانچ سو روپے کم تھی- ان کی ھدایات کے مطابق اسی رقم میں مرمت کا کام مکمل ھوگیا-
ان امریکی انجینیئرز سے اپنے پاکستانی انجینیئرز کا موازنہ آپ خود کرلیجیے گا-25 
فروری2016

سکول کی مرمت کے سلسلے میں دو چار ملاقاتوں کے دوران یہ دونوں امریکی انجینیئر میرے دوست بن گئے۔ دوستی کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں انگریزی روانی سے بول لیتا تھا- جب کبھی میانوالی ایجوکیشن آفس آتا تو کچھ دیر ان سے گپ شپ لگا لیا کرتا- ان میں سے ایک کا نام تھامس بوائڈ تھا، دوسرے ایلن ڈیوش-
ایک دن انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ھمارے تقرر کی مدت ختم ھو گئی ھے، اس لیے ھم چند دن تک واپس امریکہ چلےے جائییں گے- ڈیوش نے کہا “ھمارے پاس کچھ ناول اور شارٹ سٹوریز کی کتابیں ھیں ‘ وہ ھم آپ کو گفٹ کرنا چاھتے ھیں – ویسے تو میونسپل کمیٹی لائبریری والے ھم سے یہ کتابیں لائبریری کے لیے مانگ رھے ھیں- مگر انگلش ناول وھاں کون پڑھے گا- آپ کو پڑھنے کاشوق ھے اس لیے ابھی ھمارے ساتھ چل کر آپ وہ کتابیں لے لیں-
میں ان کے ساتھ نہر کالونی میں ان کی رھائش گاہ پہنچا – ایک اچھی خاصی الماری کتابوں سے بھری ھوئ تھی- میرےے پاس اپنی سواری تو تھی نہیں، بس پہ آتا جاتا تھا- اس لیے یہ سب کتابیں ساتھ لے جانا تو ممکن نہ تھا، اپنی پسند کی جتنی کتابیں اٹھا سکتا تھا لے لیں- چائے پینے کے بعد ھم نے نہایت تپاک سے ایک دوسرے کو الوداع کہا، اور میں وھاں سے واپس چل دیا-
چند سال بعد میرے ایک دوست نے کہا کہ میں اعلی تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاھتا ھوں، اس سلسلے میں مجھے کہیں سےے معلومات لے کر دیں- اس زمانے میں موبائیل فون اور انٹر نیٹ تو تھا نہیں، اس لیے معلومات کا حصول آسان نہ تھا- دوست کی مدد کے لیے میں نے بوائڈ کے نام خط ڈاک سے بھجوا دیا-
تقریبا ایک ماہ بعد ایک بھاری بھرکم پارسل ڈاک سے موصول ھوا- یہ بوائڈ نے بھیجا تھا- اس میں امریکہ کی چند مشہورر یونیورسٹیز کے مکمل سلیبس اور دوسری معلومات تھیں-
پارسل کے ساتھ خط میں بوائڈ نے لکھا تھا کہ اپنے دوست سے کہیں کہ ھم انہیں ھر ممکن سہولت فراھم کریں گے- اگرر پیسے ضرورت پڑے تو وہ بھی ھم اپنی حکومت سے دلوا دیں گے-
خط میں بوائڈ نے یہ بھی لکھا – You say that you are still in thatt school. But please remember that a person of your ability will not always remain headmaster of a middle school. o.
اللہ کے فضل سے بوائڈ کا اندازہ درست ثابت ھوا- میں وھاں سے پروفیسر بن کر نکلا۔-27
 فروری2016

یہ واقعہ بھی اس زمانے کا ھے جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا –
ایک دن میں سکول سے گاؤں کی طرف جا رھا تھا تو اچانک میرا پاؤں کاغذ کے ایک ورق پر پڑا- میں نے وہ کاغذ اٹھا کر دیکھا ، توو خوف سے کانپ اٹھا – یہ بچوں کی اسلامیات کی کتاب کا ایک ورق تھا جس پر قرآن حکیم کی آخری دو سورتٰیں لکھی ھوئی تھیں- اس کی دوسری طرف بچوں کے لیے تختی پر لکھنے کی سیاھی بنانے والی ایک مشہور کمپنی کا لیبل چسپاں تھا- یہ لالہ موسی کی ایک معروف کمپنی تھی-
میں نے ایس پی (سپرنٹنڈنٹ پولیس) گجرات کے نام ایک خط میں یہ واقعہ لکھ کر اس کے ساتھ وہ کاغذ منسلک کر کے ڈاک سے بھیج دیا-
چند دن بعد مجھے ایس پی گجرات کا ایک خط موصول ھوا، جس میں انہوں نے میرا شکریہ ادا کرتے ھوئے لکھا کہ آپ کا خطط ملتے ھی ھم نے اس کمپنی کے خلاف فوری کارروائی کر دی ھے-
اللہ کا شکر ھے کہ اس نے مجھے یہ کار خیر کرنے کا اعزاز عطا کیا- علم اور قلم کا ایک استعمال یہ بھی ھے- جب بھی موقع ملے آپپ بھی اسی طرح کے کارخیر کرتے رھا کریں- نتیجہ جو بھی ھو اللہ کے ھاں سے اس کا اجر خیر آپ کو ضرور ملے گا، انشاءاللہ-28
 فروری2016

 

Your words for Mianwali and Mianwalians