MERA MIANWALI -MAR16

 

منورعلی ملک کی مارچ 2016کی فیس بک پرپوسٹ

میرا میانوالی

ٹھٹھی سکول کے میرے کچھ سابق سٹوڈنٹس کی فرمائش ھے کہ میں اس ادارے کی کچھ اور یادیں فیس بک پہ شئیر کروں- پچاس سال پرانی یادوں کوسمیٹنا آسان کام نہیں- مگر ان بچوں کی درخواست رد کرنا بھی میرے لیے آسان نہیں- اس لیے دوچار دن اور یہی تذکرہ جاری رکھوں گا- کوشش یہی کرتا ھوں کہ میری تحریروں سے آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچے-
پہلے اس وقت اپنا ایک آدھ شعر یہاں لکھا کرتا تھا- پھر نثر میں اپنی یادیں آپ کے ساتھ شئیر کرنے لگا- الحمدللہ یہ سلسلہہ بھی آپ کو پسند آیا- میں ایک بار پھر شاعری کی طرف لوٹنا چاھتا تھا کہ وہ آسان کام ھے- دو سطریں ھی لکھناپڑتی ھیں- بہرحال اب اپنے عزیزبچوں کی فرمائش پر کچھ دن یادوں کا سلسلہ جاری رکھوں گا- انشاء اللہ کل سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ھوگا- 4 مارچ2016

ملک محمد اسلم نامی ٹیچر کا ٹھٹھی سکول میں تقرر ھوا، تو ان کی رھائش کامسئلہ تھا- میں نے انہیں سکول میں رھنے کی اجازت دے دی – اور سکول کے چوکیدار کو ان کی خدمت پر مامور کر دیا-
ایک صبح ملک اسلم نے بتایا کہ کل رات چوکیدار مجھ سے اجازت لے کر ڈھیرامیدعلی شاہ میں اپنے گھر چلا گیا- تقریبا بارہہ بجے دو مسلح نقاب پوش سکول میں آئے- سکول گاؤں سے ایک کلومیٹر دور، ویرانے میں واقع تھا- چاردیواری بھی نہیں تھی، اس لیے کسی بھی وقت کوئی بھی آجا سکتا تھا-
ملک اسلم نے کہا، میں ان مسلح نقاب پوشوں کو دیکھ کر خوف زدہ ھو گیا- مگر جب میں نے انہیں بتایا کہ میں ٹیچر ھوں تو انہوںں نے کہا “ماسٹر صاحب، آپ فکر نہ کریں- ھم اچھے آدمی نہیں ھیں، مگر ٹیچرز کا احترام کرتے ھیں- ھم اپنے ایک مشن پہ پھر رھے ھیں- ھم یہاں کچھ دیر اپنے کچھ ساتھیوں کا انتظار کریں گے- وہ آ گئے توھم یہاں سے چلے جائیں گے-
تقریبا ایک بجے سکول کے سامنے سڑک پر ایک گاڑی آ کر رکی، گاڑی کے آتے ھی وہ نقاب پوش خداحاٍفظ کہہ کر یہاںں سے چلے گئے-
خدا جانے وہ کون لوگ تھے اور کیا کرتے پھر رھے تھے- یقینا کوئی واردات کرنے جا رھے ھوں گے، لیکن ٹیچرز کا وہ بھیی احترام کرتے تھے-
آہ ! آج کے نقاب پوش سکولوں میں ٹیچرز اور بچوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے پھر رھے ھیں-6
مارچ2016

جنوری 1965 میں ٹھٹھی کے پرائمری سکول کو مڈل سکول کا درجہ دے کر مجھے وھاں ھیڈماسٹر مقرر کر دیا گیا- یہ میری سرکاری ملازمت کا آغاز تھا-
سکول کیا تھا ، آٹھ کلاسز کے لیے صرف دو کمروں پر مشتمل عمارت، پرائمری کلاسز کے لیے چار ٹیچر اور پچیس سال کا بی اےے بی آیڈ نوجوان ھیڈماسٹر- حصہ مڈل کی تین کلاسز کے لیے صرف ایک عمررسیدہ ٹیچر- یہ تھا میرا گورنمنٹ مڈل سکول ٹھٹھی-
سب نے کہا فی الحال مڈل کلاسز میں کسی بچے کو داخلہ نہ دیں- جب کچھ اور ٹیچر آ جائیں تو مڈل کلاسز اس وقت شروع کریں- محکمہ تعلیم کے افسران نے بھی یہی مشورہ دیا- مگر میں نے کہا یہاں کے غریب بچوں کو جب یہ سہولت مل ھی گئی ھے‘ تو وہ داؤدخیل تک چار کلومیٹرپیدل چلنے کی خواری کیوں برداشت کرتے رھیں-
میں نے اللہ کا نام لے کر اسی ھفتے داؤدخیل ھائ سکول سے ٹھٹھی کے چھٹی اور آٹھویں کلاس کے سٹوڈنٹس کو اپنے سکولل میں منتقل کروا لیا- ان دو کلاسز کو سکول کے دو کمرے دے دیے- پرائمری کلاسز کوگاؤں کے ایک خالی گھر میں منتقل کر دیا- باقی داستان انشاءاللہ کل سناؤں گا-
یہاں یہ عرض کر دوں کہ حکومت کوئی بھی ھو ھمارے ھاں تعلیم سے سوتیلی اولاد کا سلوک ھی کرتی ھے- اس کی ایکک مثال وہ مڈل سکول تھا، جو سرکار نے میرے سپرد کر دیا کہ لو، چلا کر دکھاؤ اس ادارے کو-7 
مارچ 2016

سکول میں مڈل کلاسز کا آغاز تو میں نے کر دیا، مسئلہ ان کلاسز کو پڑھانے کا تھا- انگلش تو میں نے ھی پڑھانی تھی- بقیہ مضامین میں سے ریاضی (میتھ) اور سائنس پڑھانے سے ھمارے اکلوتے ایس وی ٹیچر نے معذرت کر لی- ان کی دلیل خاصی معقول تھی- وہ پرانے زمانے کے مڈل پاس ایس وی ٹیچر تھے- نئے زمانے کی ریاضی اور سائنس ان کی اپنی سمجھ میں ھی نہیں آتی تھی، طلبہ کو کیا سمجھا سکتے- ریاضی تو میں نے اپنے ذمے لے لی، سائنس حصہ پرائمری کے دو ٹیچرز کے ذمے کر دی– تعلیمی لحاظ سے سکول کم از کم پتڑی پہ رواں ھو گیا- رفتار تیز نہ سہی چل تو پڑا-
اصل مسئلہ عمارت کا تھا- آٹھ کلاسز کے لیے صرف دو کمرے !!! سوچ کر بھی پسینہ آجاتا ھے- سرکار سے فوری مددد ملنے کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا تھا- اللہ سے مدد مانگی تھی، ادھر ھی سے آئی- کسی فارسی شاعر نےٹھیک ھی کہا تھا کہ
خدا شرے بر انگیزد کہ خیر ما دراں باشد
شاعر کے اس قول کا مفہوم یہ ھے کہ رب کریم بعض اوقات ایسی مصیبت کھڑی کر دیتا ھے جس کے نتیجے میں ھمارےے مسائل الجھنے کی بجاے سلجھ جاتے ھیں- ھمارے سکول کی عمارت کے معاملے میں بھی ایسا ھی ھوا- تفصیل کل عرض کروں گا-8 
مارچ2016

22 مئی 1965 کی طوفانی بارش کے بعد امریکی انجینیئرز کی مدد سے سکول کی مرمت کا قصہ آپ چند دن پہلے سن چکے- ڈپٹی کمشنر صاحب نے مرمت کے لیے جو چیک دیا تھا، اس میں سے پانچ سوروپے بچ گئے
میں نے ان میں سکول کے فنڈ سے پانچ سو روپے اور ملا کر ایک 60 فٹ لمبا، 15 فٹ چوڑا برآمدہ سا بنوا لیا- سستا زمانہ تھاا , دو سو روپے میں ایک ھزار اینٹ آتی تھی- مزدوری کاکام بچوں اور ٹیچرز نے مل کر خود کر دیا- چھت کے لیے لکڑیاں گاؤں کے لوگوں نے مفت فراھم کر دیں- اس برآمدے میں دیواروں سے پارٹیشن کر کے ھم نے گیراج نما پانچ شیڈ بنا دیے۔ دروازے نہ سہی، پانچ کلاسز کو سر چھپانے کی جگہ تو مل گئی-
پہلے سے موجود دو کمرے ملاکر سات کلاسز کے بیٹھنے کی جگہ اللہ کے فضل سے چند دنوں میں بن گئی-
کل میں نے کہا تھا نا کہ اللہ سے مدد مانگی تھی , ادھر ھی سے آئی- اسباب خود بخود فراھم ھوگئے، ورنہ کوئ
سوچ ھی نہیں سکتا تھا کہ صرف ایک ھزارروپے میں پانچ کلاسز کے بیٹھنے کی جگہ بن جائے گی- انسان خلوص نیت سےے قوم کی خدمت کرنا چاھے تو اسباب کی فراھمی اللہ اپنے ذمے لے لیتا ھے- ناممکن کو ممکن بنا دینا اللہ کے لیے مشکل نہیں-9 
مارچ2016

سکولوں کے فنڈز کی جانچ پڑتال کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے دفتر سے ایک ٹیم آئی- میرے سکول کا ریکارڈ چیک کرتے ھوئے ایک کلرک نے کہا “ ملک صاحب، یہ آپ نے کیا کیا- یونین فنڈ میں سے پانچ سو روپیہ سکول کی عمارت پر خرچ کر دیا- قانون اس کی اجازت نہیں دیتا- یونین فنڈ تو بچوں کے لیے کھیلوں کا سامان وغیرہ خریدنے کے لیے ھوتاھے-
میں نے کہا اس فنڈ کے قوانین تو میں جانتا ھوں ، مگر میرے بچوں کو فٹ بال اور والی بال نہیں، بارش اور دھوپ سے بچنے کےے لیے سرپہ چھت کی ضرورت تھی- اس کے لیے کوئی اور مالی وسائل میرے پاس نہیں تھے- یہ فنڈ بچوں کا اپنا پیسہ ھے ، جو وہ ھر ماہ فیس کے ساتھ دیتے ھیں- میرے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ بچوں کا پیسہ میری تحویل میں ھوتے ھوئے بھی انہیں دھوپ میں بٹھائے رکھوں- باقی رھی قانون کی بات، تو میں لعنت بھیجتا ھوں ھر ایسے قانون پر جو بچوں کو تعلیمی سہولیات فراھم کرنے کی راہ میں حائل ھو-
آڈٹ ٹیم کے سربراہ سینیئیرآڈیٹر منظور صا حب نے میری بات سن کر کہا “ ملک صاحب ، فکر نہ کریں ، ھم قانون کوو آپ کے راستے سے ھٹا دیتے ھیں- یہ کہتے ھوئے انہوں نے اس خرچ کو ریگولرائز کرکے جائز قرار دے دیا-10 
مارچ2016

نواب خان عرف نواب ملنگ بس ڈرائیورتھا- وہ بہت اچھا ڈرائیور اور زندہ دل انسان تھا- ملنگ تو تھا، مگر سلجھا ھوا ملنگ تھا-گہرے سبز رنگ کا لباس، کانوں میں آویزے ، خوشنما نگینوں والی انگوٹھیاں، گلے میں مالا اس کے ملنگ ھونے کی نشانیاں تھیں- ہلکا پھلکا نشہ بھی کرتا تھا- مگر اس ملنگوں والے اسٹائیل میں بھی صاف ستھرا رھتا تھا-
نواب خان کا بیٹا شاہنواز ٹھٹھی سکول کا سٹوڈنٹ تھا- ایک دن سکول ٹائیم کے بعد میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا- اچانکک شاہنواز بھاگتا ھوا، دفتر میں داخل ھوا، اور روتے ھوے کہنے لگا “ سر، میرا ابو مجھے مارنے لگا ھے- وہ بندوق لے کرر میرے پیچھے آ رھا ھے- پلیز مجھے بچا لیں“ –
میں نے اس سے کہا یہاں بیٹھ جاؤ، تمہارا ابو آئے گا تو دیکھ لیں گے- اتنے میں نواب خان بھاگتا ھوا ادھر آیا-بچے کو میرےے پاس بیٹھا دیکھ کر اس نے کھٹاک سے بندوق میں سے کارتوس نکال لیا، اور شاہنواز سے کہا-“کمینہ‘ ڈاھڈی جاہ تے آنڑں چھپاایں، نتاں اج توں میڈے ھتھوں بچ نئیں سگدا“
میں نے پوچھا بات کیا ھے تو نواب کہنے لگا “ ملک صاحب ، میں نے اسے نہر میں نہانے سے سختی سے منع کر رکھا ھے، مگر آجج میں اچانک گھرآیا تو دیکھا کہ یہ نہر میں نہا رھا تھا“
میں نے شاہنواز سے کہا ‘دیکھو ، آئندہ اگر تم نہر کے قریب بھی نظر آے تو میں تمہارے باپ کی گولی سے بھی زیادہ اذیتت ناک سزا دوں گا“
پھر میں نے نواب خان کے لیے چائے بنوائی اور باپ بیٹے کی صلح صفائی کرا کے انہیں رخصت کرر دیا-11
مارچ2016

حمیداللہ خان ٹھٹھی کے ایک معزز بزرگ تھے- ان کا بیٹا ثناءآللہ آتھویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا- ایک دفعہ وہ دودن سکول سے غیرحاضر رھا- تیسرے دن حمیداللہ خان اسے اپنے ساتھ لے کر سکول آئے، اور مجھ سے کہنے لگے “ملک صاحب، آپ نے ان بچوں پر کون سا جادو کر رکھا ھے؟“
میں نے پوچھا بات کیا ھے ؟
حمیداللہ خان نے کہا َ“ ثناءاللہ دو دن سکول سے غیر حاضر رھا- آج صبح مجھے پتہ چلا تو میں نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ آئندہ ایسیی حرکت میں برداشت نہیں کروں گا- اب اپنی کتابیں اٹھاؤ اور فورا سکول جاؤ- اس نے کہا ابو اب میں سکول نہیں جاؤں گا، میں نے سختی سے کہا کہ تمہیں جانا ھوگا، تو اس نے روتے ھوئے کہا ، “ابو، وہ سامنے آپ کی بندوق پڑی ھے- مجھے گولی مار دیں، میں اب ھیڈماسٹر صاحب کے سامنے نہیں جاؤں گا، مجھے ان سے شرم آتی ھے، کہ ان کی اجازت کے بغیر دو دن سکول سے غیرحاضررھا-“
پھر میں اسے زبردستی یہاں لے آیا ھوں- آپ جو سزاچاھیں اسے دے دیں“
میں نے کہا بات سزا کی نہیں- بہت حساس بچہ ھے اپنی غلطی کااحساس اسے سکول آنے سے روک رھاتھا- اچھا ھوا آپپ اسے لے آئے- اس جیسے حساس بچے کو کسی سزاکی ضرورت نہیں پڑتی- ایسے بچے اپنی اصلاح خود کر لیتے ھیں“
کیا زمانہ تھا کہ بچے کوئی غلطی کرنے کے بعد والدین اور ٹیچرز کے سامنے آنے سے گھبراتے تھے- وجہ یہ تھی کہ والدینن اور ٹیچرز کا اپنا اخلاقی معیار اتنا بلند تھا کہ بچے غلطی کر کے شرمندہ ھو جاتے تھے- بچے آج بھی اتنے ھی حساس ھیں- ھمارا اخلاقی معیار وہ نہیں رھا- جی ھاں ذرا سوچیے-12 
مارچ2016

بے بسی کے عالم میں جب انسان کو کوئی اور سہارا نظر نہ آئے تو نظر آسمان کی طرف اٹھتی ھے- اور اللہ اتنا کریم ھے کہ وہ ھم جیسے خطا کاروں کو بھی خالی ھاتھ واپس نہیں لوٹاتا-
1970 میں میں ایم اے انگلش کا امتحان دے رھا تھا، تو ایک دن اپنے کزن کے ساتھ لاھور سے جہلم میں اپنے چچا کے گھرر آیا- میں اور میرے کزن ملک سجاد حسین ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے پی رھے تھے- چائے پینے کے بعد میں واش روم جانے کے لیے اٹھا تو اچانک کمر میں انتہائی شدید درد کی ایسی لہر اٹھی کہ میں چکرا کر وھیں گرا، اور بےھوش ھو گیا- سجاد بھائی فورا ایک قریبی ڈاکٹر کو بلا لائے- ڈاکٹر صاحب نے ایک انجکشن لگایا ، کچھ گولیاں دیں ، اور چلے گئے- انجکشن سے میں کچھ دیر کے لیے سو گیا، مگر اٹھا تو پھروھی حال- درد اتنا شدید تھا کہ مجھے سو فی صد یقین ھو گیا کہ میں زندہ نہیں بج سکتا- ذرا لمبا سانس لینے سے بھی درد فورا جاگ اٹھتا تھا- گھر والوں کویہ بتا کر پریشان بھی نہیں کرنا چاھتا تھا کہ میں اب اس دنیا میں صرف چند لمحوں کا مہمان ھوں- وہ رات میں نے وھیں ڈرائنگ روم میں فرش پر لیٹ کر گذاری- سجاد بھائی میرے پاس رھے- کچھ دیر بعد وہ بھی سو گئے تو اچانک پھر شدید درد اٹھا- رات کا پچھلا پہر تھا- سب سو رھے تھے- صرف ایک ھستی جاگ رھی تھی – مجھے اور تو کچھ یاد نہ آیا ، درودابراھیمی (جوھم نماز میں پڑھتے ھیں) بے ساختہ میری زبان پر آگیا- درد فورا تھم گیا- مگر ایسا ظالم درد تھا کہ جونہی میری زبان بند ھوتی،درد پھر شروع ھو جاتا- پھر اچانک نیند آگئی- صبح اٹھا تو پھر وھی حال- پھر وھی درودپاک کا مسلسل ورد- اسی حا ل میں لاھور بھی جانا تھا، کہ اگلے دن پیپر دینا تھا- میرٰی حالت یہ تھی کہ کار یا بس میں تو نہیں بیٹھ سکتا تھا- بھائی سجاد نے مجھے ٹرین میں لے جانے کا فیصلہ کیا- مجھے لگتا تھا کہ لاھور تک زندہ پہنچ گیا تو بھی معجزہ ھو گا- ٹرین کی سیٹ پر لیٹ کر مسلسل درود پاک پڑھتے ھوئے لاھور تو پہنچ گیا- مجھے آج بھی یقین ھے کہ وہ بیماری نہیں موت تھی، مگر اللہ کے سامنے موت کی کیا مجال- میں نے تو اپنی زندگی اللہ کے پاس امانت رکھ دی تھی – باقی قصہ انشاءاللہ کل- 15 مارچ2016

کمر کا درد بدستور جاری رھا- یہ معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کے بعد میں نے علاج ضروری نہ سمجھا- اللہ نے اس اذیت کو برداشت کرنے کے لیے صبر اور ھمت عطا کر دی-
دوسرے دن ایم اے کا تیسرا پیپر دینا تھا- میرے ٹھٹھی کے ایک سٹوڈنٹ ملک عبدالغفار اترخیل ان دنوں لاھور میںں رھتے تھے- ًمیں نے عبدالغفار سے کہا کہ کل صبح مجھے تانگے پر بٹھا کر پنجاب یونیورسٹی کے مال روڈ والے گیٹ سے کمرہ امتحان پہنچانا ھے- اور پھر سامنے والے پلاٹ میں بیٹھ کر میرا انتظار کرنا ھے- اگر درد زیادہ شدید ھو گیا تو میں پیپر چھوڑ کر باھر آجاؤں گا- پھر مجھے میرے گھر بلال گنج واپس لے جانا ھے-

ناول کا پیپر تھا- صرف دو گھنٹے بیٹھ سکا- پانچ کی بجائے صرف چار سوالات کے جواب لکھ سکا- پھر درد اتنا شدید ھو گیا کہ بیٹھنا ممکن نہ رھا- کمرہ امتحان سے باھر آگیا، اور عبدالغفار نے مجھے تانگے میں بٹھا کر گھر پہنچا دیا-

اللہ کی شان دیکھیے کہ مجھے سب سے زیادہ نمبر اسی پیپر میں ملے- 16 مارچ2016

میں بلال گنج لاھور میں اپنے بھائی کے گھر سے پنجاب یونیورسٹی کے اولڈکیمپس پہنچا- میرا ایم اے انگلش کا دوسرا پیپر تھا- کمرہ امتحان میں طلبہ کے رول نمبر سیٹوں پر چاک سے لکھے ھوتے تھے- میں نے پورا ھال چھان مارا، مگر اپنا رول نمبر کہیں نہ ملا- پیپر شروع ھونے میں صرف پانچ سات منٹ باقی تھے- میں نے سپرنٹنڈنٹ صا حب کو بتایا کہ سر میرا رول نمبر نہیں مل رھا-
سپرنٹنڈنٹ صاحب پنجاب یونیورسٹی کے نہایت زندہ دل نوجوان پروفیسر تھے- ہنس کر بولے “حضرت، آپ ایم اے آنگلش کے سٹوڈنٹ ھیں۔ اور آج اکنامکس کا پیپر ھے- یہ بھی دینا چاھیں تو بٹھادیتا ھوں آپ کو- شکر ھے آپ اپنے پیپر سے ایک دن پہلے آئے، اگر پیپر سے ایک دن بعد آتے تو میں آپ کی کیا خدمت کرتا“
پھر فرمایا “ جناب، وہ جو ڈیٹ شیٹ یونیورسٹی آپ کو بھیجتی ھے ، اگر خود نہیں پڑھ سکتے تو کسی سے پڑھوا لیا کریں – اس میںں ھر پیپر کی تاریخ لکھی ھوتی ھے-“
ہنستے ہنستے میرا برا حال ھو گیا، اور میں تھینک یو سر کہہ کر کمرہ امتحان سے باھر آ گیا-17مارچچ2016

میں ایم اے انگلش کے امتحان کا چوتھا پیپر دے کر کمرہ امتحان سے باھر آیا تو برآمدے میں میرا ایک ساتھی سامنے کھڑا تھا- یہ نوجوان سیالکوٹ کا رھنے والا تھا، اور میرے ساتھ یہ بھی ایم اے کا امتحان دے رھا تھا-اس کے قریب سے گذرتے ھوئے میں نے اسے سلام کیا تو اس نے کہا
“ بھا ئی جان، ایہہ پنجویں پیپر وچ کی ھوندا اے ؟“
میں نے کہا “ یہ پروز کا پیپر ھے- اس میں انگریزی نثر پر بحث ھوتی ھے“
اس نے کہا “ کنیاں کتاباں نیں ؟“
(کتنی کتابیں ھیں٩)
میں نے کہا “ آٹھ “
یہ سن کر اس نے کہا “ ایہ فیر میرا پیو پڑھے گا، تن دناں وچ ؟‘
( یہ پھر میرا باپ پڑھے گا تین دن میں ؟)
یہ کہہ کر وہ پاؤں پٹختا ھوا وھاں سے چل دیا- اس دن کے بعد وہ پھر کمرہ امتحان میں نظر نہ آیا-
اس بھائی صا حب کا معاملہ وھی تھا جیسے ھماری زبان میں کہتے ھیں—— ساری رات ھیر رانجھے دا قصہ سن کےے آکھس ‘ اچھا ، اے ڈسو ، ھیر ترمت ھئی یا جنڑاں ؟
اللہ کا بندہ ایم اے کا امتحان دینے آگیا، اور یہ بھی نہیں جانتا کہ کونسا پیپر کس چیز کا ھے-18 
مارچ2016

سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور میں پروفیسر شمشاد محمد خان لودھی ھمارے ریاضی (میتھ) کے ٹیچر تھے- اس زمانے میں میٹرک کا ریاضی کا کورس ان کی لکھی ھوئی کتابوں پر مشتمل تھا- پورے پنجاب میں یہی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں-
ایک دن ھماری کلاس کو ٹیچر کے مقام پر لیکچر دیتے ھوئے پروفیسر لودھی صاحب نے کہا- “میری ایک بچی نویں کلاسس (کلاس نائین) میں پڑھتی ھے- کل وہ اپنا سکول کا ھوم ورک کر رھی تھی تو میں نے اس سے کہا، بیٹا، یہ ریاضی کا سوال آپ نے جس طرح حل کیا ھے، طریقہ تو یہ بھی ٹھیک ھے، لیکن اگر آپ اس کی بجائےیوں کر دیں توزیادہ آسان ھے-
بچی نے کہا۔ نہیں ابو، جو طریقہ ھماری میڈم نے بتایا ھے وھی سب سے اچھا ھے- میں نے کہا۔ بیٹا آپ کی میڈم بےشکک بہت لائق ھوں گی، مگر جو کتاب وہ پڑھا رھی ھیں ، وہ میری لکھی ھوئی ھے- اس لیے میں جو طریقہ بتاؤں، وھی سب سے بہتر ھوگا-
میری بات سن کر بچی نے کہا ، چھوڑیں ابو، آپ کچھ بھی ھو جائیں ھماری میڈم سے زیادہ لائق نہیں ھو سکتے-
یہ واقعہ سنا کر پروفیسر لودھی صاحب نے کہا، میں سلام کرتا ھوں اس ٹیچر کو جس کا اپنی سٹوڈنٹس کی نظر میں اتنا بلند مقام ھےے کہ سٹوڈنٹ کسی کو اس کے برابر نہیں سمجھتے- پھر فرمایا، ٹیچر بننا بے تو ایسے ٹیچر بنیں- لیکن یاد رکھیں کہ اپنے مضمون میں مہارت کے بغیر آپ یہ مقام حاصل نہیں کر سکتے-19 
مارچ2016

اگست 1975 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن نے لیکچررشپ کے انٹرویو کے لیے بلایا- کال لیٹر میں یہ بھی لکھا تھا کہ ایم اے کی اصل ڈگری ساتھ لے کر آئیں – میرے پاس صرف ریزلٹ کارد تھا- ڈگری ابھی تک نہیں لے سکا تھا- سستی سمجھ لیں یا نالائقی- بہرحال اب مسئلہ یہ تھا کہ ڈگری کے بغیر انٹرویو میں شمولیت ناممکن تھی-
عام طور پر ڈگری درخواست دینے سے پندرہ دن بعد ملتی تھی- میں نے ابھی تک درخواست بھی نہیں دی تھی- ابب میرے پاس صرف تین دن تھے- ایک دن تو میانوالی سے لاھور کے سفر میں لگنا تھا- تیسرے دن انٹرویو دینا تھا- صرف دوسرے دن میں ڈگری حاصل کرنے کی کوشش ممکن تھی- صرف کوشش ھی ممکن تھی ڈگری ملنے کا میرے علم کے مطابق سوال ھی پیدا نہیں ھوتا تھا- یہ سوچ کر لاھور چلا گیا کہ یونیورسٹی والوں کی منت سماجت کروں گا- ڈگری مل گئی تو انٹرویو دے دوں گا- نہ ملی تو وہیں سے داؤدخیل واپس آجاؤں گا-
میں اگلی صبح یونیورسٹی پہنچا- ڈگری کے لیے درخواست فارم لے کر مکمل کیا- گورنمنٹ کالج لاھور کے ایکک پروفیسرصاحب سے فارم کی تصدیق کروائی- ڈگری فیس یہ سوچ کر جمع نہ کروائی کہ پوچھوں گا- آج ھی ڈگری مل سکی تو فیس جمع کرادوں گا، ورنہ نہیں-

ڈگری آفس سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا فیس تو جمع نہیں کرائی ؟ میں نے کہا ، نہیں- انہوں نے کہا اچھا کیا- اب قانون یہ بن گیا ھے کہ ١٩٦٩ کے بعد کوئی ڈگری فیس نہیں لی جائے گی-

متعلقہ کلرک نے مجھ سے کہا “آپ اپنی شناخت کے لیے یونیورسٹی کے کسی آدمی کو ساتھ لے آئیں- ھم ابھی آپ کو ڈگری دے دیتے ھیں“-

اللہ اکبر ! یہ تو کوئی مسئلہ ھی نہیں تھا- دس منٹ بعد مجھے ڈگری مل گئی ————–انٹویو کی داستان انشاءاللہ کل سناؤں گا- 20 مارچ2016

رسم دنیا کے مطابق میرے والد محترم نے مجھے دو سفارشی رقعے بھی دیئے تھے- دونوں بڑے بمب رقعے تھے- ایک سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس ایس اے رحمان کے نام تھا- جسٹس آیس اے رحمان گورنمنت کالج لاھور میں والد صاحب کے کلاس فیلو اور بہت قریبی دوست ھوا کرتے تھے- دوسرا رقعہ اس وقت کے وزیراعلی پنجاب جناب حنیف رامے کے پرسنل سیکریٹری کے والد کا اپنے بیٹے کے نام تھا- دونوں رقعوں میں یہی لکھا تھا کہ اس نوجوان کو لیکچررسلیکٹ کرواناھے-
مگر جس رب کریم نے ڈگری ملنے والا نا ممکن کام آسانی سے ممکن بنا دیا تھا، اس کے ھوتے ھوے کسی انسان کے آگےے ھاتھ پھیلانا مناسب نہ سمجھا- میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ رقعے استعمال نہیں کروں گا-
انٹرویو کے بارے میں میری خواھش تھی کہ مجھ سے ایم اے کے کورس کی بجائے انگریزی ادب کے وسیع تر مطا لعےے کے حوالے سے سوالات پوچھے جائیں، کیونکہ ایم اے کا کورس تو سب لوگوں نے رٹا ھوا ھوتا ھے-سوالات کے درست جواب دے کر سیلیکٹ بھی ھو جاتے ھیں، ممتحن نمبر تو دے دیتے ھیں ، مگر ان سے متاثر نہیں ھوتے- میں یہ ثابت کرنا چاھتا تھا کہ علم صرف لاھور، کراچی اور اسلام اباد کے لوگوں کی میراث نہیں- پڑھنے لکھنے والے لوگ میانوالی میں بھی موجود ھیں- سیدھے لفظوں میں بات یہ ھے کہ مجھے اللہ کے فضل سے اپنے وسیع مطالعے پر ناز تھا- اور میں ممتحن حضرات کو متاثر کرنا چاھتا تھا- اللہ کے فضل سے یہی ھوا- مجھ سے ایم اے کے کورس کی بجائے وسیع تر مطالعے کے بارے میں سوالات پوچھے گئے، اور میں سیلیکٹ بھی ھو گیا- تمہید خاصی لمبی ھو گئی- انٹرویو کی تفصیل انشاءاللہ کل بتاؤں گا- 21 
مارچ2016

میں نے 30 دسمبر1975 کو گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کے لیکچرر کا چارج سنبھالا- چارج کیا تھا ، بس دو کلاسز کو انگلش پڑھانی تھی- چالیس منٹ کے دو پیریئڈ اور پھر دن بھر آزاد- یہاں ھم لوگ گیارہ تروتازہ، زندہ دل ، صاحب علم لوگوں کی ایک جان دار ٹیم تھے- تاریخ کے لیکچرر چوھدری محمد رمضان تھے، نفسیات کے حسین احمد ملک، فزکس کے اکبرعلی رندھاوا، کیمسٹری کے محمد اکبرخان،ریاضی کے ملک عبالستار جوئیہ،سیاسیات کے محمد سلیم احسن، معاشیات کے ملک محمدیوسف چھینہ، عربی کے اشرف علی کلیار، اسلامیات کے طاھرالقادری کی جگہ منیراحمد بھٹی حال ھی میں آئے تھے۔ (جی ھاں ، وھی دھرنے والے ڈاکٹر طاھرالقادری، موصوف بھی کچھ عرصہ عیسی خیل کالج میں اسلامیات کے لیکچرر رھے، پھر پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں لیکچرر مقرر ھو گئے) – ایک بزرگ پروفیسر ایس ایم اے فیروز صاحب ھمارے پرنسپل تھے- اردو کے لیکچرر کی اسامی خالی پڑی تھی-
سچ پوچھیے تو ھم میں سے کوئی بھی یہاں خوش نہیں تھا- عیسی خیل ایک ویران اداس سا، سہما سمٹا ھوا شہر تھا- اتنا چھوٹا کہ سبب لوگ ایک دوسرے کو سر سے پاؤں تک جانتے تھے- کوئی کسی کے لیے اجنبی نہ تھا- جانے پہچانے چہرے ھر جگہ نظر آتے تھے- دن کے وقت بھی مین بازار میں دس بارہ سے زیادہ آدمی دکھائی نہیں دیتے تھے-
کالج کے نوخیز، نوجوان لیکچرر صاحبان پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے رومان پرور ماحول اور لاھورجیسے زندہ وو متحرک شہر سے یک لخت اس ویرانے میں آکر حیران و پریشان نہ ھوتے تو اور کیا کرتے- صرف میں اور اشرف علی کلیار صاحب ھی یہ کہہ سکتے تھے کہ
یہ تو وھی جگہ ھے گذرے تھے ھم جہاں سے
دوپہر کے وقت کالج سے فارغ ھو کر ھم اکٹھے شہر آتے- مین بازار میں میں لالا کی دکان الصدف جنرل سٹور پہ کچھ دیر کےے لیے رک جاتا، اور باقی دوست اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے – بعض اوقات دوسرے دوست بھی میرے ساتھ کچھ دیر وھیں بیٹھ جایا کرتے تھے- لالا سے تعارف اب دوستی کی شکل اختیار کر گیا تھا- –
نوٹ:———– کچھ دوست میری اس کہانی کو لالا عطاءاللہ خان عیسی خیلوی کی داستان حیات سمجھ کر بےے چینی کا مظاھرہ کر رھے ھیں- لالا سے اپنی دوستی پر تو میں ایک پوری کتاب درد کا سفیر آج سے چوبیس سال پہلے لکھ چکا ھوں ، جو اللہ کے فضل سے اب تیسری بار شائع ھونے والی ھے- وہ کہانی لکھوں تو پبلشر کہے گا آپ میری روزی پر لات ماررھے ھیں- دوسری بات یہ کہ میں نے لالا سے دوستی کے علاوہ بھی کچھ اچھے کام کیے ھیں- ان کا ذکر بھی آپ کے لیے خاصا دلچسپ اور سبق آموز ھوگا- لالا کا ذکر جہاں ضروری ھوا، وہ بھی ھوتا رھے گا- اللہ کا مجھ پہ یہ خصوصی کرم ھے کہ میں جو کچھ بھی لکھوں گا، آپ اس سے بور نہیں ھوں گے- آپ سے مجھے صرف دعا کے علاوہ اور کچھ نہیں چاھیے-24 
مارچ2016

عتیل صاحب کا اصل نام محمد اکرم تھا، عتیل ان کا قلمی نام یا تخلص تھا، جو اتنا معروف ھوا کہ لوگ ان کا اصل نام بھول گئے- یہ تخلص انہوں نے سکول کی تعلیم کے دور میں رکھا تھا- اس کے بعد سارا شہر انہیں عتیل ھی کہنے لگا- ایک دن ھم نے اپنے سا تھی‘ عربی کے پروفیسر اشرف علی کلیارصاحب سے عتیل کے معنی پوچھے‘ تو انہوں نے ہنس کر کہا “ ھاں یہ عربی کا لفظ ھے- اس کے بہت سے معنی ھیں- ان سب معانی کویکجا کیا جائے تو ابلیس (شیطان) قسم کا کردار بنتا ھے“

یہ سن کر ھم نے بہت قہقہے لگائے-عتیل بھی ہنستے رھے، پھر کہنے لگے “مجھے اس کے معنی کا تو پتہ نہیں تھا- بس یہ لفظ انوکھاسالگا تو میں نے اپنا تخلص رکھ لیا- اس کے معنی جو بھی ھوں، میرا تخلص یہی رھے گا- ابلیس ناراض ھو تو جائے جہنم میں“

عتیل کا اردو ادب کا مطالعہ بہت وسیع تھا- خاص طور پرغالب سے لے کر جگر مراد آبادی تک کے دور کے اھم شعراء کی ذاتی زندگی کے بارے میں عتیل بہت دلچسپ انکشافات سنایا کرتے تھے- جگر صاحب قیام پاکستان کے دور میں غزل کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے – غزل کی تاریخ کے نہایت اھم شاعر تھے- ان کا ایک شعر یاد آرھا ھے، آپ بھی سن لیجیے –

اپنا کمال فن توبس اتنا ھے اے جگر

وہ مجھ پہ چھاگئے،میں زمانے ہہ چھا گیا

جگر صاحب کے بارے میں عتیل نے بتایا کہ جگر صاحب نے شادی کر لی تو ایک دن اپنی بیگم کے ساتھ اپنے استاد محترم اصغر گونڈوی (یہ بھی غزل میں بہت بڑانام ھے) کی خدمت میں حاضر ھوئے- ان کی بیگم استاد محترم کو بہت اچھی لگیں تو جگر نے انہیں طلاق دے کر استاد محترم سے ان کا نکاح کروا دیا- کچھ عرصہ بعد استاد محترم اس دنیا سے رخصت ھو گئے تو جگر صاحب نے پھر اس خاتون سے شادی کر لی- مجھے اس واقعے پہ یقین نہ آیا، مگر عتیل نے محموداحمد خان جامعی کی کتاب لا کر دکھا دی- واقعی یہی قصہ تھا- عجیب لوگ تھے یہ بھی- شاعر تو بہت بڑے تھے ، مگر بہت سے غلط کام بھی کر گئے-

عتیل صاحب کے بارے میں بہت سی دلچسپ باتیں یاد آرھی ھیں- اس لیے یہ سلسلہ ابھی کچھ دن چلتا رھے گا- فی الحال تو دودن کے لیے اپنے گھر داؤدخیل جاناھے- اب انشاءللہ منگل کے دن آپ سے ملاقات ھوگی- دعاؤں میں یاد رکھیے گا-26 مارچ2016

ادب کے مطالعے کے علاوہ عتیل نے دو اور شوق بھی پال رکھے تھے- ایک تھا دست شناسی (ھاتھ کی لکیریں پڑھنا) ، دوسرا خوشنویسی- عیسی خیل میں سکولوں کے چارٹ اور دکانوں کے سائین بورڈ عتیل ھی لکھا کرتے تھے-
عیسی خیل بنوں روڈ پر ھمارے دوست ملک انور نے الحفیظ ھوٹل بنایا تو ھوٹل کے ھال کی ڈیکوریشن کے طور پر عتیل سےے کچھ اچھے اشعار ھال کی دیواروں پر لکھنے کو کہا-عتیل نے کئی خوبصورت شعر لکھ دیئے ان میں ایک شعر یہ بھی تھا-
دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اسی رات ایک ٹرک ریورس ھوتا ھوا، ھال کی دیوار میں عین اسی جگہ جا لگا جہاں یہ شعر لکھا تھا- دیوار بھی گئی، چھت کا کچھ حصہ بھی گر گیا-

اگلی صبح ھم ھوٹل کے بارے میں یہ خبر سن کر وھاں گئے تو ملک انور نے عتیل سے کہا

“ مردود، تم نے وہ جو منحوس شعر لکھا تھا، مجھے پہلے ھی ڈر لگ رھا تھا کہ کچھ ھونے والا ھے-

عتیل نے کہا “ بھائی صاحب، میں نے شعر تو لکھا تھا، مگر ٹرک کو بلا کر تو نہیں لایا تھا-

عتیل کا شعروں کا انتخاب لاجواب ھوا کرتا تھا- عیسی خیل میں میرے ڈرائنگ روم میں عتیل نے یہ دو شعر خوبصورت چارٹس کی شکل میں لکھ کر لگائے تھے-

پ

ہلا شعر اطہر نفیس کا تھا——

کہتا ھے چپکے سے یہ کون ؟

جینا وعدہ خلافی ھے

دوسرا شعرخدا جانے کس کا تھا- شعر دیکھیے-

آئینہ دیکھ کر خیال آیا

تم مجھے بے مثال کہتے تھے

باقی باتیں انشاءاللہ کل

وہ ایک شخص جو شاعر بنا گیا مجھ کو
تقریبا 45 سال پرانی ایک تصویر
دائیں طرف میرے بہت ھی پیارے ماموں زاد بھائی ممتازحسین ملک، جنھوں نے مار پیٹ کر مجھے شاعر اور ادیب بناا دیا، ورنہ میں تو اتنا نکما تھا کہ قلم کو ھاتھ لگانا جرم سمجھتا تھا- ممتاز بھائی کے حوالے سے میں اکثر کہا کرتا ھوں کہ مجھے یوں لگتا ھے جیسے قدرت نے میری امی کے لیے دو دل بنا کر ان میں سے ایک میرے بھائی کے سینے میں ڈال دیا- مجھ سے ماں کی طرح پیار کرتے تھے- میرے لاڈ اور گستاخیاں ھنس کر برداشت کر لیتے تھے- کبھی کبھار امی کی طرح مجھے ڈانٹ بھی دیتےے تھے- میری ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے تھے- خاندان کے کسی فرد کی میرے خلاف شکایت گوارا نہیںں کرسکتے تھے-
میری ایک آنے والی کتاب کے پہلے تین باب ممتاز بھائی کے ذکر پر مشتمل ھیں- انشاء اللہ پڑھنے کے لائق کتابب ھوگی-
یہ تصویر کل ممتاز بھائی کے صاحبزادے ایاز ممتاز حسین ملک نے بھیجی ھے- اس میں دائیں طرف ممتاز بھائی ھیں– ان کے دائیں جانب بگڑا ھوا بچہ میں ھوں- ——— منورعلی ملک ——-
بھائی مجھ سے دو سال بڑے تھے- آرمی پبلک سکول کے پرنسپل ریٹائر ھوے- ١٦ فروری ٢٠٠٩ کو اچانک اس دنیاا سے رخصت ھو گئے- والدین کی وفات کے بعد ان کی وفات میرے لیے یتیمی کا تیسرا زخم تھی- ——
آہ !!! ———— کہاں سے لاؤں تجھے ڈھونڈھ کر مرے بھائی-
 29 مارچ2016

لالا عیسی خیلوی 1979 میں پہلے اسلام آباد‘ پھر لاھور جا بسے تو میکدہ ویران ھو گیا- احباب بکھر گئے- کچھ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر دنیا کی نظروں سے اوجھل ھو گئے- کچھ لوگ اپنی پسند کے دوسرے مشاغل میں مشغول ھو گئے- عتیل صاحب اور میں ھرشام مل بیٹھتے، ادب اور موسیقی پر دلچسپ گفتگو ھوتی-عتیل نئے پرانے شعراء کے خوبصورت اشعار سناتے- ان پر بحث ھوتی- چائے کے ایک دو دور تو گھر میں چلتے- آخری دور تقریبا بارہ بجے اڈے کے کسی ھوٹل پر-

ایک رات بارہ بجے کے بعد عتیل اور میں مین بازار سے گذررھے تھے- بازار اس وقت بالکل سنسان تھا- ایک پاگل آدمی رات بھر بازار میں پھرتا رھتا تھا- پاگل تو تھا، لیکن شناسا لوگوں کو آسانی سے پہچان لیتا تھا- وہ رستے میں ایک جگہ بازار کے فرش پر لیٹا ھوا تھا- ھم اس کے قریب سے گذرے تو اس نے کہا
“عتیل صاحب ، کیا حال ھے ؟‘
عتیل نے کہا “لالا، تئیں آلے مزے تاں کوئی نن، بس گذاراہ ھے“

ایک رات ھم ایک گلی سے گذررھے تھے، تو ایک کتا ھمارے پیچھے لگ گیا- عتیل نے پیچھے مڑ کر بڑے پرسکون اور سنجیدہ لہجے میں کتے سے کہا

‘ کیوں بھائی، کیابات ھے ؟ کوئی کام ھے ھم سے ؟‘

کتا بچارا پریشان ھو کر بھاگ گیا-

وہ تو یہ سوچ کر ھمارے پیچھے لگا تھا کہ یہ لوگ ڈر کر بھاگیں گے تو میں پورے محلے میں ڈراما بناؤں گا- مگر اسے پتہ نہ تھا کہ آگے عتیل جا رھا ھے-

خوب ہنس لیجیے عتیل کی باتوں پر، مگر اس کے بارے میں آخری پوسٹ شاید آپ کو بھی رلا دے- میں نے ابھی لکھی تو نہیں، بس سوچ کر ھی آنکھوں میں آنسوآجاتے ھیں- لیکن ابھی چند روز عتیل کے بارے میں کچھ اور دلچسپ باتیں آپ کو سنانی ھیں- 30  مارچ2016

Your words for Mianwali and Mianwalians