آج کا شاعر۔۔۔ عاصم بخاری

AAJ KA SHAIR… ASIM BUKHARI

تجزیہ کار (راحت امیر نیازی میانوالی)

عاصم بخاری میانوالی کے معروف اور متحرک کثیر الجہات شخصیت کے مالک شاعر و ادیب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرخیز ذہن عطا کیا ہے۔ زود گو شاعر ہیں، بسیار نویسی ان کے معیار کو متاثر نہیں کرتی۔ قدرت نے انھیں دیکھتی آنکھیں اور سوچنے والے دماغ سے نوازا ہے۔ متعدد شعری و نثری اور تحقیقی و تنقیدی مجموعوں کے خالق ہیں۔ ان کے ہاں نظم و نثر دونوں میں موضوعاتی اور اصنافی تنوع پایا جاتا ہے۔

عاصم بخاری کا امتیاز اور اعزاز یہ ہے کہ ان کی قلم کاری کا موضوع دیگر قلم کاروں سے یکسر مختلف ہے۔ ان کے ہاں یک رنگی یا یکسانیت بالکل نہیں ہے۔ ان کے موضوعات میں تنوع ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق بات ملتی ہے سب سے بڑی خوبی جس نے مجھے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا موضوع انسان اور آج یعنی حالاتِ حاضرہ ہے ایسا کم کم شاعروں ادیبوں کے ہاں ملتا ہے عموماً ان کے ہاں یکسانیت اور یک رنگی ہوتی ہے مگر عاصم بخاری کی سوچ فکر اور اظہار و ابلاغ کا زاویہ اور کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کے عصری مسائل پر قطعہ دیکھیے:

کام کرنے کا ہم نہیں کرتے

جلد دنیا کو ہی بتاتے ہیں

کوئی زخمی کو کب اٹھاتا ہے

صرف جھک کر ہی بتاتے ہیں

اس سوشل میڈیا کے دور میں واقعی بدلتی قدروں اور رویوں پر کڑی چوٹ اور یہ حقیقت ہے۔ عاصم بخاری کے ہاں ماضی اور حال میں تفاوت ملتی ہے جس پر سے حیرت ہے۔ اور اس حیرت کا اظہار کچھ ایسے کرتے ہیں۔ آج ہر موڑ پر پیش آنے والے حادثے اور واقعے اسے حیران ہی نہیں پریشان کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

سوچ میں گم ہوں بڑی میں دیر سے

زندگی لے آئی کیسے موڑ پر

عصری مسائل کا ادراک و شعور عاصم بخاری کے ہاں گہرا ہے۔ انہیں مہنگائی غربت اور صرف بے روزگاری ہی نظر نہیں آتی بل کہ سماجی اور جغرافیائی مسائل بھی ان کی شاعری اور قلم کاری کا موضوع ہیں۔ جو کہ سماج پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ دُھند (فوگ) کے مسئلے کی سنگینی کو کتنی سمجھ داری ذمہ داری اور مدبرانہ و حکیمانہ میں اجاگر کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:

ون ویلنگ نے بھی نہیں مارے

دھند نے جتنے لوگ مارے ہیں

اسی طرح گذشتہ مہینوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور بربادیوں کے مناظر دنیا نے دیکھے جس طرح پانی نے ناقابلِ تلافی نقصان کیے ان کا تذکرہ اور رویے ہماری سماجی و معاشرتی بے حسی اور سوشل میڈیا کے ساتھ تیزی سے رو بہ زوال قدروں کی خوب منظر کشی میں درج ذیل اشعار میں دیکھیں:

ہر طرف میرے پانی ہی پانی

ساری دنیا کو تم دکھاتے ہو

تم مدد میری کیوں نہیں کرتے

صرف تصویر ہی بناتے ہو

سماج اور آج پر عاصم بخاری کی کڑی نظر ہے۔ سماجی و معاشرتی برائیاں اور خرابیاں دیکھ کر کڑھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کو ایک مرض رشوت کا دیمک کی طرح چاٹے جا رہا ہے مگر نمود و نمائش اور خواہشات کے اس طوفانی دور نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔ جس پر بخاری حیرت زدہ ہو کر چونک اٹھتے ہیں اور انسانوں کو عاقبت اور آخرت کے تناظر میں انجام سے عبرت کے حوالے سے یوں خبردار کرتے دکھائی دیتے ہیں:قطعہ ملاحظہ ہو

بھاری رشوت ہی شرطِ اول ہے

تب کسی کے وہ کام آتا ہے

نعمتیں بند ہیں ابھی اس پر

اب وہ مٹی ہی صرف کھاتا ہے

عاصم بخاری کی حقیقت نگاری قابلِ داد اور لائقِ تحسین ہے۔ معاشرے کے اطوار کا گہرا مطالعہ ان کا معمول ہے۔ شکم بلندی کی تفسیر اور مادہ پرستی پہ تعجب کرتے ہوئے آج کے انسان کے خسارے اور گھاٹے کے سودوں پر پریشاں دکھائی دیتے ہیں کہ پیسے کیسے کی خاطر کیسے صحت جیسی دولت کو بڑی بے دردی کے ساتھ ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں:

قطعہ

ویسے حیرت تو اس پہ بنتی ہے

سوچتا ہوں میں شخص ہے کیسا

مانگتی چاہیے جسے صحت

مانگتا ہے وہ رزق میں “پیسہ”

آج کے انسان کی اعلیٰ تعلیم اور جدید دور کی تربیت اور اس اثرات و ثمرات پر ششدر و حیراں دکھائی دیتے ہیں۔ معاشرہ کس بے حسی کی چٹان بنتا جا رہا ہے۔ ماں کی ممتا، شفقت پدری، اولاد کا پیار نجانے کہاں رو گیا، خون کیسے سفید ہو گیا۔ باپ کی میت اوروں کے سپرد کر کے لندن کی پرواز کے مسافر بیٹے کی تصویر کشی کمال مہارت سے کر کے حقیقت نگاری کی مثال قائم کر دیتے ہیں۔

نظم ملاحظہ ہو:

دفن کر دینا

(نظم معریٰ)

آنکھیں کنفرم اپنی لندن کی

وقتِ پرواز کا بھی ہونے کو

بیوی بچے ہیں بیٹھے گاڑی میں

جانے کی بھی جنہیں بہت جلدی

وقت میں نہ گنجائش

جلد بحیثیتِ وصول کر کے جو باپ میرے کو دفن کر دینا

فون کرتے ہوئے بخاری جی

ایک بیٹے نے بولا ایدی کو

بڑے افسوس کے ساتھ یہ افسانوی رنگ نہیں معاشرے کی تلخ اور حقیقی تصویریں بڑی دل دوز انداز میں پیش کی گئی ہیں۔ اسی طرح کی ایک اور بھی دردناک تصویر معاشرے کی بڑے درد سے کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

ہماری مشرقی روایات کدھر گئیں ہم دین سے کتنے دور ہو گئے۔ ہمارا بزرگوں اور والدین کے ساتھ یہ کیسا رویہ، ہمارا انجام کیا ہو گا ہم میں سے ہر ایک اپنی اداؤں پہ ذرا نہیں بہت زیادہ غور کرے جشن ہے گھر میں ایک شادی کا:

(نظم معریٰ)

یاد رہے کہ تم کو کرنی تھی

گھر کو بند کر کے آئیں بھرتی تھی

ہوم والوں کے فون پر عاصم

بیٹے مجبور نے کہا اتنا

موت کا ذائقہ تو چکھنا ہے

ماں کی میت کو سرد خانے میں

چار دن اور رکھ لیا جائے

جشن ہے گھر میں ایک شادی کا

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History
MIANWALIAN POETRY & LITERARY WORKS MIANWALIAN WRITERS CLUB Rahat Ameer Khan Tari Khelvi -Literary Contributions, Books, and Publishing Legacy Rahat Ameer Khan Trikhelvi Poetry Collection of Urdu & Saraiki Kalam Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

راحت امیر خان تری خیلوی: ایک عہد، ایک تاریخ (حیات، فن اور ادبی ورثہ) کچھ شخصیات کا علمی و ادبی...
Read More
IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL
MIANWALIAN ONLINE BOOKS Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL

ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور ادبی تشکیل  حصہ اول پاکستان کی ادبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن...
Read More
Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem
Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem

فوجی زندگی، ادبی سفر کا آغاز اور فکری تشکیل  حصہ دوم   فوجی زندگی: نظم و ضبط سے تخلیقی شعور...
Read More
Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat  –Hissa Soam
Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat –Hissa Soam

شاعرِ احساس، شاعرِ انسانیت -حصہ سوم راحت امیر خان تری خیلوی کی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ اردو ادب...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum
Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum

راحت امیر خان تری خیلوی- بطور کالم نگار، صحافی، مدیر اور ادبی صحافت کے معمار     -حصہ چہارم   اگر کسی...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi  Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum
Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

راحت امیر خان تری خیلوی    بطور ناشر، ادبی منتظم، مربیٔ اہلِ قلم اور فروغِ ادب کے علم بردار حصہ...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top