Qalam Ka Ameer — Rahat Ameer  Tehreer:Muhammad Younis Bahi                 

      قلم کا امیر راحت امیر   

حسن اپنی حیثیت میں بہر حال زیادہ معتبر اور پر یقین ہوتا ہے ۔اس لئے جو حسین ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر با اعتماد ہوتا ہے ۔حسن رنگ و روپ ،خدو خال کا جمال اور قد وقامت کے پیمانوں سے نہیں ماپا جا سکتا ہے ۔حسن تو سرا سر خیر ہوتا ہے اور خیر وہ عمل ہوتا ہے جو سب کو مرغوب ہوتا ہے ۔خیر ہر حوالے سے بہتر ہوتا ہے ۔وہ لوگ جو خیر کو اختیار کرتے ہیں حسین ہوتے ہیں ۔یہ حسن کردار کا بھی ہو سکتا ہے اور اعمال و افعال کا بھی ۔خیر میں حسن و توازن بھی ہوتا ہے ۔اعتدال اور شائستگی بھی۔ جس طرح خیر میں بے ساختگی ہوتی ہے اسی طرح حسن میں بھی بے ساختگی ہوتی ہے ۔دنیا کی خوشگواریاں اور خوشحالیاں تو خیر ہی سے ہیں ۔جب کوئی انسان ان خوشحالیوں اور خوشگواریوں کو دوسروں کے لئے وقف کرتا ہے تو وہ اور بھی حسین ہو جاتا ہے ۔اس طرح اللہ کے وہ  بندے اپنی تحریر و تقریر و دیگر سرگرمیوں کے ذریعے خیر کو عام کرنے کا موجب بنتے ہیں تو وہ حسین لوگوں کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں ۔پھر ان کی طرف سے ریسپانس نہ ملنے پر

اداس زندگی،اداس وقت ،اداس موسم

کتنی چیزوں پہ الزام لگ جاتے ہیں ایک اس کی بات نہ کرنے سے    جس طرح زندگی کے پاؤں میں سفر باندھ دیا جاتا ہے ۔اسی طرح ادب کی زمین پہ قلم کی نوک،لفظوں کی کاٹ،جذبوں کی آنچ ،خیالات کی بلندی،تحقیق اور پڑتال سے آبیاری کا آغاز ہوتا ہے اور نوخیز گلستان ادب کو سیرابی کے سفر پر قلمکار کے قلم سے نکلتا ہے ۔منزل کا تعین کرنا اس میں نا ممکن ہے ۔خزاں رسیدہ زرد موسم میں بسیرا کرنا پڑتا ہے یا پھر نثری قلم کی زلفوں کی گنجلک میں دم سادھے، کنائیے،استعاروں کے ہجوم میں ردیف ،قافیے کے پیوند لگانے میں ناکام بدحواس،بے نور اور بیقرار تڑپتے،لرزتے لفظ اور لفظوں کے ٹوٹے ہوئے جملے قلمکار کی ذات بن کر ائینے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ۔سچائی تک رسائی قلم کا پہلا سبق ہے ۔مگر اس تک رسائی پاتے پاتے انسان کی اکثر موت واقع ہو جاتی ہے ۔مگر قلم اور لفظ کبھی نہیں مرتا ۔کتاب زندہ رہتی ہے ۔تاریخ کی زندگی کا موجب بھی قلم ،سیاہی،الفاظ اور قرطاس ہوا کرتے ہیں ۔

            ادب کی امانتوں کا امین ایک ادیب و شاعر ہوتا ہے ۔مگر امانتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر رکھنے سے ان کو پھپھوندی لگ سکتی ہے ۔دیمک چاٹ سکتی ہے۔ پھپھوندی اور دیمک ان کو لگتی ہے آخر وہ ہماری آغوش سے ہوتی ہوئی ہمارے سارے بدن میں پھیل جاتی ہے تو پھر ہم ان امانتوں کو کیوں نہیں بانٹتے

 ۔یہ تو علم وادب کی میراث ہے ۔ہم ان کے تمام اسرار و رموز کو اپنی ذات میں قید کر کے اس کے ساتھ بد دیانتی کے سزا وار ٹھہرائے جاتے ہیں ۔

            اردو گرد سے سنیں ،دیکھیں سونگھیں،

چھوئیں،پرکھیں،تو بےشمار الفاظ ہمیں ایک دوسرے کا منہ چڑاتے نظر آتے ہیں۔کہیں خیالات ایک دوسرے کے ساتھ یوں الجھے ہوتے ہیں کہ ریشم کے گنجل یاد آ جاتے ہیں اور کہیں اس طرح لڈی و دھمال ڈالتے ہیں کہ اپنی حدیں پار کرنے کا گمان ہونے لگتا ہے تو ۔کیا ایسا کرنے والے ہاتھوں کو تھامنے والا کوئی نہیں؟ قلم جو معاشرے کی تہذیب و اقدار کا آئینہ گردانا جاتا ہے اس کی نوک پلک سنوارنے کے لئے کوئی ادارہ کوئی ادبستان نہیں ۔ایسے میں نئے لکھنے والوں کو پانی کی روانی میں بہنا تو آجاتا ہے لیکن طوفانی لہروں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے ۔کس جزیرے پہ پڑاؤ ڈالنا ہے ۔کس ریت پہ گھروندہ بنانا ہے ۔وہ اس سے نابلد ہی رہتے ہیں ۔

 عورت کی خوبصورتی عورت کا سراپا ہے ۔نظم کی اداسی اور افسانے کی اٹھان میں عورت کی خمار رسیدہ آنکھیں اور تنہائی میں ڈوبا ہوا اس کی زندگی کا ہر پل کرم فرما ہوتا ہے ۔جسم شکستوں سے چور  ،تخیل کیفیت سے معمور،غزل آنکھیں ہوں راقم

آساں انج پڑھیا قصیدہ تیڈا ،بن سامع وہ ڈیونڑ داد آگیا

باہی جڈاں ڈٹھا خواب تیڈا ،شعر غزل دا یاد آ گیا

            ہمارے عہد میں غزل کو اپنا شعار بنانے والوں میں قلم کا امیر یعنی امیر قلم عرف راحت امیر خان بلچ تری خیلوی کے کمال کو سراہنا میری مجبوری ہے ۔مجبوری اس لئے کہ ان کا کلام پڑھنے کے بعد ہم پیچھا نہیں چھڑا سکتے ۔راحت کے شعر ہمارے زہن میں اٹک جاتے ہیں ۔وہ کبھی روشنی سے روشن تر ہونے لگتے ہیں کبھی یہ لگتا ہے کہ جھلملا کر بجھنے ہی والے ہیں ۔یہ دونوں کیفیتیں،اندھیرے سے روشنی کی طرف اور روشنی سے اندھیرے کی طرف سفر ،ہمارے جینے یا جئیے جانے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں ۔

      قاری جیسا بھی ہو۔جس  طبقے کا باکردار ہو ۔اس سے لکھنے والوں کو فرق نہیں پڑتا ۔مگر ہال میں موجود سامع اور ناظر کا محفل کے ادب و آداب سے واقف ہونا اور عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ عورت لفظوں میں قید ہو کر صیاد کی سوچ کے مطابق زندگی گزار دے گی لیکن عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دے گی ۔ہر انسان کا اپنی اپنی بانسری بجانا ایک شیوہ بن چکا ہے۔جن کے مزاج اور کردار مل گئے وہ ایک گروپ بن گیا ۔بھلا ادب کی اپنی اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد سے ادب کو فروغ مل سکتا ہے؟ راحت امیر نے اپنی ذات کو گروپ اور اپنے چاہنے والوں کو گروپ ممبران بنا کر  سب کے لئے سانجھا بنا رکھا ہے ۔

   اہل قلم معاشرے کے حسن و قبیح پر نقد و نظر کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن ادب کے معنی تنقید حیات ہی کے نہیں ہیں ۔بلکہ تفسیر حیات،تطہیر حیات اور تعبیر حیات بھی ادب کے فرائض میں شامل ہے ۔اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ معاشرے و قوم کا عکاس وہاں کا ادب ہوتا ہے ۔          دکھ ،ہجر ،فراق در حقیقت درد کے اظہار کی کیفیات ہیں۔ اور جب یہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہیں تو وہی دکھ سانجھا دکھ بن جاتا ہے ۔دکھ چہرے بدلتا ہے ۔کبھی شام کی اداسی کا منظر بن کر دل کے گداز پن کو متحرک کر دیتا ہے اور اداس پنچھی،زرد پتے ،شفق کی گہری مائل سرخی جہاں رات کا نوحہ سناتی ہے وہاں ہجر کا دکھ فضا کو غمگین کر دیتا ہے ۔ان کیفیات کو بڑی خوبصورتی اور کمال فن کے ساتھ الفاظ میں ڈھالنا اور امر کر دینا ایک کمال ہنر ہے جو بہت کم شاعروں کے حصے میں آیا ہے ۔جنھوں نے سادگی اور کشادگی کا انداز اپناتے ہوئے شاعری کو وہ زبان عطا کی ہے جو زبان زد عام ہو گئی یہاں صرف امیر قلم خان بلچ المعروف راحت امیر خان بلچ تری خیلوی اچھلتے کھیلتے کودتے ہر طرف نظر آتے ہیں ۔

 شاعری گر ایک سمندر ہے تو اس سمندر سے گوہر نایاب کو ڈھونڈ لانا ایک مشاق کھلاڑی کا کام ہوتا ہے ۔اسی مہارت کا ثبوت ہمیں امیر قلم خان بلچ یعنی راحت امیر خان کے قلم سے آشکار ہوتا نظر آتا ہے ۔انہیں یہ کمال حاصل ہے کہ شاعری کو حسن خیال اور متنوع انداز فکر سے اس معراج پر پہنچا دیتے ہیں جہاں ان کا ثانی نہیں ہے ۔ انہوں نے شاعری اور نثر کے لئے جو انداز اختیار کیا ہے وہ سادہ، برجستہ ہے ۔دل میں گھر کر جاتا ہے ۔تخلیق کار اپنی اولادوں کے علاؤہ کتابوں کے بھی مائی باپ ہوتے ہیں ۔

عشق میں ہم کو خسارا تو نہیں ہو سکتا

ایک نقصان دوبارہ تو نہیں ہو سکتا    

بیشک امیر قلم خان۔ راحت امیر سے پوچھ لیں ۔کیونکہ وہ اپنی تنہائیوں کا درد اور وحشتوں کا سارا نصاب اس میں سمو دیتے ہیں ۔جس طرح انسانی روح تخلیق ہوتی ہے ۔اسی طرح سے اشکوں ،آہوں ،چیخوں، محبتوں ،رنگوں اور ہجر س وصال کی داستانیں قرطاس پہ رنگ بکھیرتی ہیں ۔اور تخلیق کار قلمکار بن جاتے ہیں ۔ہر بات میں کوئی نہ کوئی منطق ہوتی ہے ۔منطق میں فکر و نظریہ بھی جھلک رہا ہوتا ہے۔بات کریں ممکنات کی تو ناممکنات کا در بھی وا ہو جاتا ہے ۔مثبت اور منفی ساتھ ساتھ زندگی کی کھٹاسن اور مٹھاس ایک دوسرے کے ہم پلّہ ۔یہی زندگی ہے ۔یہ رنگ حسن کائنات ہے ۔

خواب ہے اڑتی تتلی راحت

آنکھ سے کیوں آزاد کروں

         شاعری خارجی اور باطنی،عقلی اور وجدانی کیفیات کا مرکب ہوتی ہے ۔اشارئیے ،کنائیے ،تشبیہات و تلمیحات،ردیف قافیے،فعل ،فاعل و مفعول کا آپس میں بندھن غزل کو جوہر وار اور کلاسیک بناتا ے ۔جمال صرف حسن و محبت اور وصال میں ہی نہیں ملتا بلکہ جمال کا اصل رنگ ،ڈھنگ تو ہجر و فراق،درد اور جنون ،تڑپ،دیوانگی ہے۔جب بھی میں نے  راحت امیر کے پروئے موتیوں کی مالا کو ہاتھ میں تھاما ۔قلبی جذبات واحساسات کے دریا میں ڈوب کر خود کو ترو تازہ کر لیا۔ مشاہدے اور مطالعے کے جہاں سے گزر کے تو انہوں نے اندر کی بند آنکھ کھلتے دیکھا۔آسمان کی روشنی کچھ اور مگر زنداں کی دروازوں سے چھلکتی روشنی کی کرنیں کوئی اور جہاں روشن کرتی محسوس ہوتی ہیں ۔

ابھی تو سپنے میرے یار سفر میں ہیں

مجھ کو ڈھونڈنا ہے تو ڈھونڈ ستاروں میں

 دوسروں کے دکھ درد میں ان کی آس بندھانے والا اور خشک زباں کے لہجوں کی پیاس بجھانے والا راحت امیر تری خیلوی کے دل کا مشکیزہ کیوں پیاسا ہے ۔یہ کیسی پیاس ہے جو دوسروں کو تر بتر کرنے کے لئے پانی کی بوند بوند مانگتی ہے ۔

امیر قلم عرف راحت امیر تری خیلوی

     کہاں قلب و نظر کو ایک طے شدہ  پالیسی پر  پابند رکھنا اور پاک آرمی کے ملازم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانا اور کہاں شاعری کے جھمیلے،بے ہنگم و بے کنار و بے قابو طلاطم خیزیاں کہ آدمی سنبھلنے نہ پائے ۔بلکہ ہچکولے اور ڈبکیاں کھاتےکھاتےشاعری کے سمندر میں ڈوب جائے اور پھر شاعری کے سمندر کا ایسا تراک جس نے شاعری کے سمندر میں غوطہ زنی بھی ایسی مشاقی اور مہارت سے کرتا ہے کہ تہہ سمندر سے لعل و گوہر بھی نکالتا ہے اور اپنی تر دامنی پر کسی کی نظر بھی نہیں پڑنے دیتا ۔

        خاموش طبع،اجلی طبیعت اور اجلے لباس میں ریٹائرڈ آرمی پرسن راحت امیرخان بلچ کو ہم جانتے ہیں ۔جن کا قلم میدان سیاست کی بے رخی اور چیرہ دستیوں کے اندر سے بھی محبت اور ملاپ کے راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔وہ دوست اور دشمن دونوں کو اپنی محفل میں بٹھا کر محبت کا ایسا جادو کرتے ہیں کہ دشمن بھی دوستی کا بھرم بھرنے لگتا ہے اور دوست جگری یار کا روپ دھارے نظر آتا ہے

زندہ ہوں راحت میں نام نسب میں

میری زندگی کے سہاروں سے کہ دو

            فکر و نظر اور تفکر و تدبر کے چمن کا باسی نظم و غزل اور قطعات و رباعیات کے پر خار میدان میں بھی چاک پرہن،چاک دامن اور چاک گریباں کئے بغیر اپنی مٹی کی خوشبو ،تہزیب و شائستگی،حب الوطنی اور اپنے فکری زاویوں کا پہرے دار بنا نظر آتا ہے

کٹ جائے گی اک دن یہ سیاہ رات سے راحت

گردش سے نکل آئیں گے حالات اے راحت

راحت امیر کی شاعری کے نثر کے انگ و رنگ اور ڈھنگ کے مدوجذر تو بہت زیادہ ہیں ۔اس میں چاشنی ہے تو کہیں تلخی، کہیں راحت ہے تو کہیں بے چینی ۔کہیں وطن کی محبت ہے تو کہیں بیروزگاری۔زندگی کی تلخیوں اور آسودگی میں وہ خوشبو بکھیر رہا ہے ۔اس کے الفاظ محدود،مفاہیم لا محدود،ادبیت و خطابت کا جوش ،طرز تکلم منفرد  ،گفتگو میں روح اخلاص گھلی ہوئی ۔پر اثر اسلوب اظہار،نئی اصطلاحیں،الغرض دفتر سخن و طرز تکلم و تحریر کا ایک ایک لفظ جچا تلا ہوا ہوتا ہے قاری کی  سوچیں الفاظ کے پیچوں میں الجھ جاتے ہیں ۔کیونکہ ان کے الفاظ کبھی دماغوں پر استیلا پاتے اور کبھی دلوں کے تار ہلاتے نظر آتے ہیں ۔راحت قلم کے دھنی اور زبان کے غنی ہیں ۔ان کی تحریر و اشعار میں ان کا دل سلگتا اور خون بولتا ہے ۔وہ مضمون سے مضمون پیدا کر کے اور رنگا رنگ کے قارئین کو اکائی بنا دیتے ہیں۔ وہ زبان و محاورہ کے استاد معلوم ہوتے ہیں ۔ان کے جملے دریائی لہروں کی مانند رواں دواں نظر آتے ہیں ۔کہیں وہ شعلے اگلتے اور کبھی ان کے لب و لہجہ کا اتار چڑھاؤ موسیقی کے زیروبم کی طرح ہوتی ہے۔رعد کی برق ،بادل کی گرج ،ہوا کا چراتا،فضا کا سناٹا ،صبح کا اجالا،چاندی کا جھالا،ریشم کی جھلملاہٹ ،ہوا کی سرسراہٹ،گلاب کی مہک ،سبزے کی لہک ،آبشار کا بہاؤ ،شاخوں کا جھکاؤ  ،طوفان کی کڑک، سمندر کا خروش ،پہاڑوں کی سنجیدگی،صبا کی چال،اوس کا نم ،چنبیلی کا پیرہن، تلوار کا لمبو،بانسری کی دھن   ،عشق کا بانکپن،حسن کا اغماض اور کہکشاں کا مسجع و مقصی جملے۔جب ہم باہم مل کر تحریر کی صورت اختیار کرتی ہیں نثر و نظم و غزل کی شکل میں تو راحت امیر خان تری خیلوی کی شکل بن جاتی ہے

میرے شہر میں اس نے جب سے آنا جانا چھوڑ دیا

چڑیوں نے بھی شامل سویرے مل کر گانا چھوڑ دیا۔

    کسی کے اقوال و افکار،

تعلیم و تعلم ،کلام و پیام، علم و حلم ،ایمان و ایقان، عرفان و فرقان ،تحریک و ترغیب،سیرت و بصیرت   ،شریعت و طریقت ،عبادت و ریاضت،ارادت و خلافت، فراست و نفاست ،محبت و لطافت ،سخاوت و کرامت،صحت و سیاحت،معرفت و حکمت،امامت وخطابت، خلوت و جلوت ،مشاہدہ و مجاہدہ،مراقبہ و محاسبہ ،تقلید وتنقید،تصنیف و تالیف اور ان کے مقصد حیات ،ان کی تحریر کے الفاظ کی غرض و غایت و مقصد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے دور یعنی امیر قلم کے ارد گرد ،مذہبی و سیاسی،معاشی و معاشرتی،علمی و ادبی  حالات و واقعات پر طائرانہ نظر ڈال لیں جائے ۔دیہاتی علاقہ والد کاشتکار و مزدور  سکول تعلیم۔ادھوری ۔فوج میں ملازمت ۔میں بھی ہوں آج سپاہی راحت وطن کی فوج کا حوالہ مضبوط میرا مثل کوہستان ہے

پھررب نے قلم کو اتنا امیر کے حوالے کیا کہ  ماہنامہ “سلام عرض “لاھور۔ماہنامہ  “صد رنگ” لاہور فلمی میگزین سہہ ماہی “حسن جہاں” لاہور “بدلتے رنگ” لاھور “قلم قبیلہ”  مظفرگڑھ”تعمیر ادب” لیہ ” تسلیم عرض” گوجرانوالہ”امید نو” لاھور کے ایڈیٹر معروف ادبی سلسلہ سہ ماہی “بور” کوٹ ادو کے مینجنگ ایڈیٹر ۔خواص قلمکار کی نمائندگی کرتے کی کتابیں ادب کو دان میں

 نعتیہ کلام “شافعی العاصیاں

”  تیرا دست شفا چاہوں

” ” ادھورے خواب”

“جرم وفا “

 “خزاں کے بعد”

 “ہاں ابھی زندہ ہوں”

 ” بے اندازیاں”

 “ہر لفظ امانت ہے”

 “صدقے تھیواں”

 “ہنجواں تے ہوکے”

 “آبشار”

“صدائے دل”

 “دیپ سے دیپ جلے”

“رتبہ حسین دا

“ارمان تالگدا اے “

“سیک ہجر دے”

 سانجھیاں کوکاں”

کرب ذات

 اور دیگر متعدد کتب کے مصنف عظیم شاعر،ادیب  ،قلمکار،پبلشر،میوزک کمپنی آر ٹی بی کے ڈائریکٹر،کئی ایوارڈ یافتہ کا اعزاز حاصل کرنے والے میانوالی کے ایک دیہاتی سرزمین تری خیل کے باسی امیر قلم راحت امیر خان تری خیلوی ۔جن پر سات سے زائد یونیورسٹیوں اور کالجز کے سکالرز طلبہ نے تحقیقی و تنقیدی مقالے لکھ کر  ایم فل ،BS,ایم اے کی ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں اور غالباً نہیں یقیناً کسی چھوٹے ضلع کے کسی قلمکار کو یہ اعزاز نصیب نہ ہوا اور نہ ہونے کے آثار دور دور تک نظر آرہے ہیں-

       “راحت امیر خان کی شاعری تحقیق و تنقید” مقالہ ایم فل پروفیسرضیاء الرحمن تابش (اسلامیہ یونیورسٹی کالج پشاور)

“ادھورے خواب”  “جرم وفا” شوکت اللہ خان (اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور)

, “راحت امیر خان کی ادبی خدمات” ایم فل مقالہ محمد عمران قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیرہ اسماعیل خان

 ایم فل مقالہ بعنوان “راحت امیر خان کی کالم نگاری اور مضامین کا مطالعہ” مریم اسلم صاحبہ و مزمل حسین قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیرہ اسماعیل خان”

بے اندازیاں ۔تنقیدی جائزہ محمد محسن بی ایس ڈی جی خان

محمد عثمان  بی ایس گورنمنٹ کالج لیہ

محمد ساجد بی ایس ھرلفظ امانت ہے تنقید و تحقیق ڈیرہ غازی خان

 رحمت کی راحت سے تر راحت امیر تری خیلوی” راقم ” گہری سوچ “میں از محمد یونس باھی “راحت امیر خان تری خیلوی شخصیت و فن ” بقلم پروفیسر عاصم بخاری ۔تین گولڈ میڈلز اور دیگر اعزازات کے حامل قلمکار و نثر نگار و شاعر پر کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔

واسطہ یوں رہا سرابوں سے

آنکھ نکلی نہیں عذابوں سے

میں نے انسان سے رابطہ رکھا

میں نےسیکھا نہیں نصابوں سے

خون جلایا ہے رات بھر میں نے

لفظ بولیں ہے تب کتابوں سے

   بلچ پٹھان قبیلے کے زمیندار اور والی بال کے معروف کھلاڑی کے آنگن میں تری خیل کی سرزمین پر امیر قلم کے نام سے پیدا ہونے والے مستقبل کے قلم کے امیر نے 1969میں جنم لیا ۔9جنوری 1985 کوآرمی میں بھرتی ہوئے ۔ریٹائرمنٹ 2008 کے بعد قلم و کاغذ کو سنبھالا اور نوجوان قلمکار و شعراء کے مسیحا کے طور پر نمودار ہوئے اور ادبی افق پر چھا گئے ۔روھی چینل سے وابسطہ ہوئے اور نئے سنگر اور نوجوان شعرا کو بھرپور انداز میں متعارف کروایا اور اوصاف ملتان کے لیے کالم لکھے

 جب تصور میں میرے شاہ مدینہ آیا

 نعت کے لفظ سجانے کا قرینہ آیا

 جس پہ اک بار ہوئی آپ کی ہے نظر کرم

 اس گنہگار کا ساحل پہ سفینہ آیا

 بولنا ایک عام سا ہنر ہے ۔زبان رکھنے والا ہر شخص اسے برت لیتا ہے ۔مگر لفظ کو شعور دینا اسے موقع محل اور مقصد کے تابع رکھنا۔یہ صلاحیت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی ۔کچھ لوگ بات کرتے ہیں تو گویا الفاظ کا سیلاب بہا دیتے ہیں ۔تھکتے نہیں ۔رکتے نہیں ۔مگر انہیں یہ ادراک نہیں ہوتا کہ ان کی گفتگو کہاں اثر پیدا کر رہی ہے اور کہاں صرف شور بن کر تحلیل ہو رہی ہے ۔یوں وہ نہ صرف اپنے وقت کو گنوا دیتے ہیں بلکہ لفظ کی حرمت بھی مجروح کر بیٹھتے ہیں ۔اس کے برعکس کچھ اذہان ایسے ہوتے ہیں جو بولتے بھی ناپ تول کر ہیں اور لکھتے بھی ۔

بدل تھا حسن یوسف کا وہ راحت دیکھ کر اس کو

چھلک جاتے تھے ھاتھوں سے پیمانے لوگ کہتے ہیں

ان کے نزدیک لفظ صرف اظہار نہیں بلکہ زمہ داری ہوتا ہے ۔مگر مسلہ یہیں ختم ہوتا ۔بہت سی تحریریں لکھی جاتی ہیں نظم،غزل و نثر کی شکل میں ۔لیکن محفوظ نہیں رہتی ۔وہ روایتی سانچوں میں ڈھل کر اپنی انفرادیت کھو بیٹھتی ہیں یا صحافتی ضرورت کے تحت اخبار و رسالہ اور میگزین کے صفحے پر نمودار ہو کر وقت کی گرد میں گم ہو جاتی ہیں ۔ایسی تحریروں کی عمر کتنی ہوتی ہے۔اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔البتہ کچھ لوگ متحرک اور جذبے سے لبریز ہوتے ہیں ۔انہیں اپنے الفاظ عزیز ہوتے ہیں ۔وہ ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ ان کے خیالات صرف لفظوں کے ہیر پھیر میں ہی رہ جائیں ۔بلکہ وہ معنی کی صورت میں لوگوں کی سماعت و مطالعہ تک پہنچیں ۔یہ وہ ہیں جنہیں کسی ذہن میں دیر تک سوچا گیا ۔کسی قلم سے لکھا گیا اور کسی زبان پر دہرایا گیا تاکہ کسی کے کانوں میں ہی نہیں بلکہ اس کا معنی بھی جاگزیں ہو ۔تحریروں کا ضائع ہو جانا یقیناً کسی کی فکر اور کسی کی سوچ جو الفاظ کے ذریعے ظہور پذیر ہوئی اس کا مٹ جانا ہی شمار کیا جاتا ہے ۔

جب سے اس دشت میں آیا ہوں اسی سوچ میں ہوں

کہ بیابان میں کیا سوچ کر آتا ہے کوئی

اسی شعور کا مظہر امیر قلم راحت امیر خان تری خیلوی صاحب کی تحریری کاوشیں ہیں ۔انہیں لکھنے کا شغف ہے ۔وہ نظم ،غزل،دوڑہا ،مائیک ،نثر لکھتے ہیں اور عمدہ لکھتے ہیں ۔ادب کسی بھی قوم کا آئینہ ہوتا ہے ۔ہر علاقے کی مٹی ،زبان اور تہذیب اپنے مخصوص رنگ میں شاعر پیدا کرتے ہے ۔میانوالی کا علاؤہ تھل دریائے سندھ اور سرائیکی پشتو تہذیب کے سنگم پر واقع ہے ۔اسی مٹی نے راحت امیر جیسے شاعر و قلمکار کو جنم دیا ۔فوج کی ملازمت کے بعد پیشہ کے لحاظ سے ملتان پبلشرز سے وابستہ ہوئے ۔جب وہ کلام پڑھتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے تھل کی ریت خود بول رہی ہے ۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ الفاظ کو مشکل نہیں بنایا۔ “تھل دی خوشبو” ہو یا “قلم دا درد”ہر کتاب وہی سچائی ہے جو اس دیکھی ہے ۔ “غریب کی روٹی “”ماں کی دعا “اور “دریا کی ہجرت”پر یوں لکھا کہ پڑھنے والا اپنا عکس دیکھ لیتا ہے ۔کیونکہ وہ کوئی شاعر دربار نہیں ہیں ۔ان کا قلم جھوٹ سے پہلو تہی کرتا نظر آتا ہے ۔جو دیکھا وہی لکھ دیا ۔المختصر وہ ادب لوگوں تک لے گئے ہیں ۔

  فن اور اسلوب

      راحت امیر کی سب سے بڑی خوبی ،طاقت ان کی تحریر چاہے غزل ہو ،نظم ہو ،نثر ہو ،تنقید ہو ،اصلاح ہو ،ان کی برجستہ نہیں تلی زبان ہے ۔وہ نہ خالص فصیح لکھتے ہیں اور نہ خالص سرائیکی ۔ان کی زبان میں میانوالی کی بولی ہوئی اردو ہے ۔کبھ کبھار ترش لہجے میں بھی مٹھاس دیتے ہوئے تنقید نگار نظر آتے ہیں ۔سادہ محاوراتی،تشبیہات،اشارے کمائیے استعمال کرتے ہیں مثلاً ۔۔۔ بکھ روٹی دی ہر گھر وسدی”۔بکھ ،وسدی خوبصورت سرائیکی کی نمائندگی ہے ۔وہ مشکل استعارے نہیں دیتے۔سیدھا دل کی بات کہہ دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام تعلیم یافتہ اور مجھ جیسا انپڑھ دونوں سمجھ لیتے ہیں

آؤ راحت آزما کر دیکھ لیں

کتنی طاقت بازوئے قاتل میں ہے۔

  ہیت اور اصناف

  راحت امیر نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی

1-غزل

روایتی موضوعات نئے

،محبت سے زیادہ غربت اور ہجرت پر

2-نظم

راحت امیر کا طرز تحریر نثری نظم کا ہے ۔میں نے جو جانچا ہے ان کا اصل میدان آزاد نظم ہے جس میں وہ دریا ،تھل ،کھیت سے بات کرتے نظر آتے ہیں ۔

3ـسرائیکی ہیت دوہا ،کافی

    جہاں وہ خواجہ غلام فرید،سچل سرمست کی مٹھاس و چاشنی میں نظر آتے ہیں وہیں انقلابی احمد خان طارق کو بھی اپناتے نظر آتے ہیں ۔

4-نثر

چھوٹے سے قصبے تری خیل میں انہوں نے علاقائی لوک کہانیاں،شعری نثر میں لکھیں اور مٹی سے محبت و خوشبو کو بکھیرا۔

موضوعاتی تنوع

ان کے اسلوب کی 3بنیادیں ہیں ۔

1-مقامی رنگ

“تھل کی ریت ” “کھجور تے کچے گھر ” “دریائے سندھ”۔

جو ادیب اپنی مٹی سے گندھا ہوا ہو گا ۔اپنی ماں سر زمین سے پیار و محبت رکھتا ہو گا وہ اس بات کو سمجھ سکے گا کہ راحت امیر کے کلام میں ماں دھرتی کا رنگ کتنا نکھرا ہوا ،ابھرتا ہوا ،گہرا نظر آتا ہے ۔مقامی رنگ رنگ کے بغیر ان کا کلام ادھورا ہے ۔بعض نظمیں پشتو رنگ بھی رکھتی ہیں۔سرحدی علاقہ کے سرحد پر ہونے کی وجہ سے

میرے حوصلے کے آگے دریائے غم کھڑا ہے

جانا ہے پار میں نے نے کچا مگر گھڑا ہے

2-حب الوطنی

“میری مٹی میرا مان “والا جذبہ، انسانی رشتے ،ماں باپ بہن بھائی ،روحانی سکون ،درویشی،بے نیازی ملتی ہے ۔

لہو شہیدوں نے دے دے کر اس کی مانگ سجائی ہے

جانوں کے نذرانے دے کر اس کے قرض اتارے ہیں

3ـ تصوفانہ رنگ

تصوفانہ رنگ جس جس قلم سے آشکار نہیں ہوتا ۔اس سے ژندہ الفاظ کا چناؤ نا ممکن ہے ۔کمال کی سوچ “جو نصیب میں ہے وہی ملے گا والا فلسفہ

تو کہاں اور میں کہاں جاؤں

تو بہاراں میں خزاں ھوں

تو منور کہکشاں ہے

میں تو راحت بس دھواں ھوں

 قناعت ،صبر اللہ پر توکل ان کے کلام میں بار بار ملتا ہے اور یہ کسی مقرر، کالم نگار کے بغیر وعظ کا مکمل درس ہے۔

بھلائی کر جو کرنی ہے خدا کے نام پر پاگل

جزا خود ہی خدا دے گا جزا کی بات مت کرنا

سماجی حقیقت نگار 

انسان و معاشرہ ، سماج  ،مزہب، سیاست ، معاشرے کے ساتھ تعلق نہ رکھنے والا قلمکار معاشرے و سماج میں کسی کے ہاں بھی زیر بحث نہیں آتا ہے ۔پاکستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ نشتر چلاتے ہوئے بغیر تلخی،ترشی کے ،بیروزگاری،تعلیم کی کمی ،عدم تحفظ کے باوجود نوجوانوں کے ملک کو چھوڑ کر بیرون ملک جانے پر تنقید کرتے ہیں ۔

بحر غم میں ڈوبتی اب جا رہی ہے زندگی

چھا رہی ہر شخص کے چہرے پہ ہے اب مردنی

آ گئی ہے زندگی حالات کے کس موڑ پر

لوگ اب کرنے لگے مجبور ہو کر خودکشی

اسلوب کی خصوصیات

1-براہ راست بیانیہ

وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ،دل سے دل ملا کر ،سوچ سے سوچ کی مطابقت پیدا کر کے قاری سےفی البدیہہ اور براہ راست بات کرتے ہیں لیکچر نہیں دیتے ۔”شہر والے پوچھتے ہیں تم آئے جس لئے ۔” یوں اسلوب سادہ براہ راست ۔دل کو چھو جانے والا رکھتے ہیں ۔

زندگی ڈھلنے لگی ہے درد میں

ہے اسی کا نام راحت عاشقی

2ـ تکرار اور سادگی

ان کے بعض مقامات پر الفاظ کی تکرار کو دیکھتے ہیں تو نصیر الدین نصیر شاہ گولڑوی کی غزل کے یہ دو اشعار ان کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں

جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی،

جو وہ بات گئی تو مزہ نہ رہا

وہ امنگ کہاں ،وہ ترنگ کہاں ،

وہ مزاج وفا و جدا نہ رہا

جو نصیر ہم ان کے قریب ہوئے ،

تو حیات کے رنگ عجیب ہوئے

غم ہجر میں اور ہی کچھ تھی خلش ،وہ خلش نہ رہی وہ مزہ نہ رہا،چاندنی شب میں جو ملا   راحتڈھونڈتا ہوں اسے اجالوں میں کے مصداق ایک ہی خیال اور تصور کو مختلف الفاظ کا روپ دیتے ہیں کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے ۔مقصد اس کا ہر سطح اور ہر مزاج کے ہر سطح کے لفظ شناس عام آدمی بھی لطف اندوز ہو سکے

چاند بھی مجھ کو چھوڑ گیا اب راحت کالی راتوں میں

تنہا شب بھر جس سے اکثر تیری باتیں کرتا تھا

3ـ تصویر کشی

“تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی” جبکہ راحت امیر کو پڑھتے ہوئے ہر منظر قاری کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے “

برگد کے پیڑ پر جب اک شام کا سماں ھو

جب چڑیاں چہچہا ہیں وہ یاد ہم کو آئیں

  راحت امیر تری خیلوی وہ آواز ہیں جو یونیورسٹیوں کے لیکچر ہال سے نہیں کھیت ،چوپال اور چائے کے ہوٹل سے اٹھتی ہے ۔ان کا قلم بڑی ڈگریوں کا محتاج نہیں ۔وہ سیدھا دل میں اترتا ہے ۔میانوالی جیسے علاقے کے لئے وہ ایک دستاویزی شاعر ہیں ۔صدیوں بعد بھی ان کی سوچ تھل کی نمائندگی قرار پائے گی

امیر قلم راحت امیرخان تری خیلوی کا ادبی مقام

علاقائی سطح پر مقام

میانوالی،بھکر،لیہ ،ڈیرہ اسماعیل خان،مظفر گڑھ۔ڈیرہ غازی خان،بہاولپور،ملتان میں ان کو آواز تھل کہا جاتا ہے ۔کیونکہ انہوں نے پہلی بار تھل کے درد کو ،سوچ کو ،معاملات کو کتابی شکل دی ۔اس سے پہلے یہاں کے لوگوں کا ذکر صرف دوسرے شہروں کے شاعر کرتے تھے ۔سرائیکی ادب میں مقام  صوفیانہ و انقلابی دونوں رنگوں کا امتزاج رکھتے ہیں اس لیے میں انہیں نہ کلاسیکل اور نہ فوج ۔بلکہ عوامی شاعر کہتا ہوں۔

اردو ادب میں مقام

مختصر ترین الفاظ میں یہ چھوٹے شہر کے بہت بڑے شاعر ہیں ۔ان کا اردو اسلوب عام فہم،سادہ ہے ۔انہیں سرائیکی دھرتی کا اردو شاعر کہا جاتا ہے ۔ملتان پبلشرز کے ذریعے انہوں نے سینکڑوں نئے نوجوان شعراء کی کتابیں شائع کروا کر حوصلہ افزائی کر کے انہیں متعارف کرایا ہے ۔جس پر وہ اسے اپنا رہبر کہتے ہیں ۔سرائیکی و اردو بیلٹ کے لوگوں نے انہیں پڑھ کر واہ واہ نہیں کی بلکہ نم آنکھوں کے ساتھ انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے

تاریخی اہمیت

50.60سال بلکہ کئی دہائیوں کے بعد جب ادبی محقق 2020تا 2026 کے میانوالی کا ادبی مطالعہ کرئے گا تو تین ذرائع ملیں گے

1 سرکاری ریکارڈ۔ 2 اخبار ۔۔3راحت امیر کی شاعری

کیونکہ انہوں نے غربت، مہنگائی،ہجرت،لاقانونیت ،سماج ،معاشرت پر جو دیکھا وہی لکھا ہے

مجموعی تبصرہ

امیر قلم عرف راحت امیر خان تری خیلوی کا فن “آرائش” کا فن نہیں اظہار کا فن ہے ۔وہ شاعری کو خوبصورت بنانے کے لیے نہیں سب بولنے کے لئے الفاظ ڈھونڈتے ہیں ۔وہ ایک عام آدمی کے شاعر ہیں درسگاہی

تحریر
محمد یونس باھی

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

راحت امیر خان تری خیلوی: ایک عہد،...
Read More
IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL

IBTIDAI ZINDAGI, KHANDANI PAS-E-MANZAR AUR ADABI TASHKEEL — HISSA AWWAL

ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور ادبی...
Read More
Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem

Fauji Zindagi, Adabi Safar ka Aaghaz aur Fikri Tashkeel-Hissa Doem

فوجی زندگی، ادبی سفر کا آغاز اور...
Read More
Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat  –Hissa Soam

Shaair-e-Ehsaas, Shaair-e-Insaniyat –Hissa Soam

شاعرِ احساس، شاعرِ انسانیت -حصہ سوم راحت...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Column Nigar, Sahafi, Mudir aur Adabi Sahafat ke Mi’mar – Hissa Chaharum

راحت امیر خان تری خیلوی- بطور کالم نگار،...
Read More
Rahat Ameer Khan Tari Khelvi  Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

Rahat Ameer Khan Tari Khelvi Bator Nashir, Adabi Munazzim, Murabbi-e-Ahl-e-Qalam aur Farogh-e-Adab ke Alam Bardar-Hissa Panjum

راحت امیر خان تری خیلوی    بطور...
Read More
Shakhsiyat, Kirdar, Fikri Jehaat aur Muasir Ahl-e-Qalam ki Nazar Mein Rahat Ameer Khan Tari Khelvi-Hissa Shashum

Shakhsiyat, Kirdar, Fikri Jehaat aur Muasir Ahl-e-Qalam ki Nazar Mein Rahat Ameer Khan Tari Khelvi-Hissa Shashum

  شخصیت، کردار، فکری جہات اور معاصر...
Read More
Adabi Sarmaya, Fikri Meeras Aur Urdu O Saraiki Adab Mein Rahat Amir Khan Tari Khelvi Ka Maqam – Hissa Haftam

Adabi Sarmaya, Fikri Meeras Aur Urdu O Saraiki Adab Mein Rahat Amir Khan Tari Khelvi Ka Maqam – Hissa Haftam

  ادبی سرمایہ، فکری میراث اور اردو...
Read More
Qalam Ka Ameer — Rahat Ameer  Tehreer:Muhammad Younis Bahi

Qalam Ka Ameer — Rahat Ameer Tehreer:Muhammad Younis Bahi

             ...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top