شفاء اللہ کوکب
لفظوں میں احساس، غزل میں زندگی اور شاعری میں اپنے عہد کی آواز
میانوالی کی ادبی زمین سے ابھرنے والا شاعر
ادب کی تاریخ میں بعض شاعر ایسے ہوتے ہیں جن کی شناخت صرف ان کے دیوان یا شعری مجموعوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی پوری شخصیت ان کے کلام کے پس منظر میں ایک معنوی حوالہ بن جاتی ہے۔ ان کے تجربات، مشاہدات، معاشرتی تعلقات، محرومیاں، خواب، خوف، محبتیں اور زندگی کے ساتھ ان کا مسلسل مکالمہ ان کی شاعری کو ایک الگ لہجہ عطا کرتا ہے۔ شفاء اللہ کوکب بھی ایسے ہی شاعر ہیں جن کے کلام میں ایک حساس انسان کا باطن اور اپنے عہد کا اجتماعی شعور بیک وقت متحرک دکھائی دیتا ہے۔
فراہم کردہ تحقیقی مقالہ شفاء اللہ کوکب کی شاعری کو زندگی کے مختلف رنگوں، عشق و محبت، تنہائی و جدائی، معاشرتی ناہمواریوں، انسانی احساسات، تہذیبی شکست و ریخت، معاشرتی زوال اور روحانی تلاش سے مربوط قرار دیتا ہے۔ مقالے کے پیش لفظ میں خاص طور پر اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ ان کی شاعری میں داخلیت اور خارجیت کا ایسا امتزاج پایا جاتا ہے جو قاری کو صرف متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے غور و فکر پر بھی آمادہ کرتا ہے۔
شفاء اللہ کوکب نے 5 اپریل 1982ء کو میانوالی شہر کے ایک قدیم اور تاریخی محلے پرانا خان میں ایک معروف خاندان میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد محمد اشرف شفیق اور دلشاد طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے پولیس کے محکمہ میں ملازمت اختیار کی، بعد ازاں اس شعبے سے الگ ہوکر کاشت کاری کو ذریعۂ معاش بنایا۔ تحقیقی مقالے کے مطابق خاندان کی پچھلی نسل بھی سرکاری خدمت سے وابستہ رہی؛ ان کے دادا محمد امین پنجاب پولیس میں تھے۔
شفاء اللہ کوکب کی پیدائش کو میانوالی کی ادبی روایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک فرد کی پیدائش نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کی ادبی روایت میں ایک نئے نام کا اضافہ تھا جو پہلے ہی شعر و سخن کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا ہے۔ تحقیقی مقالہ میانوالی کو قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک زرخیز ادبی سرزمین بھی قرار دیتا ہے، جہاں شعر و نغمہ کی روایت نے متعدد اہلِ قلم کو جنم دیا۔
اسی ماحول میں پروان چڑھنے والے شفاء اللہ کوکب نے زندگی کو صرف ایک سماجی حقیقت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے محسوس کیا۔ یہی احساس بعد میں ان کے شعر کا بنیادی جوہر بنا۔ ان کے ہاں شاعر اور انسان ایک دوسرے سے جدا نہیں؛ جو کچھ انسان محسوس کرتا ہے، وہی شاعر کے ہاں لفظ بن کر سامنے آتا ہے۔
طالبِ علم سے شاعر تک — استاد، صحبت اور شعری شناخت
شفاء اللہ کوکب کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول محلہ شیر خان سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ سنٹرل ماڈل ہائی اسکول میانوالی سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد الصف کالج سے ایف ایس سی کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کے زمانے ہی میں شعر و شاعری سے ان کا تعلق گہرا ہونے لگا اور رفتہ رفتہ شاعری ان کی زندگی کے ایک مستقل جذبے میں تبدیل ہوگئی۔ حالات کے باعث رسمی تعلیم کا سلسلہ آگے جاری نہ رہ سکا، تاہم انہوں نے میڈیکل ٹیکنیشن کے شعبے میں ڈپلومہ حاصل کرکے عملی زندگی کا آغاز کیا۔
ایک شاعر کے ادبی مزاج کی تشکیل میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور شفاء اللہ کوکب کے لیے یہ سعادت سید انجم جعفری مرحوم کی صحبت سے وابستہ ہوئی۔ ستمبر 1997ء میں الصف کالج میں ان کی ملاقات سید انجم جعفری سے ہوئی۔ اس زمانے میں جعفری میانوالی کے صاحبِ فکر شعرا میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اسی تعلق کے نتیجے میں شفاء اللہ کوکب نے 1997ء میں انہیں اپنا باقاعدہ شعری استاد بنایا۔
کاشانۂ جعفری میں منعقد ہونے والی ادبی محفلیں کوکب کے شعری سفر کی باقاعدہ تربیت گاہ ثابت ہوئیں۔ رئیس احمد عرشی، تاج محمد تاج مرحوم، پروفیسر فیروز شاہ اور دوسرے اہلِ قلم کے ساتھ ان محفلوں میں شرکت نے انہیں شعر کے صرف جذباتی پہلو سے نہیں بلکہ اس کی فنی اور فکری روایت سے بھی آشنا کیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب ایک نوجوان کا شاعری سے ابتدائی شغف رفتہ رفتہ شعری شعور میں تبدیل ہوا۔ تحقیقی مقالے کے مطابق کوکب نے شاعری کے اوزان اور بحور کو جلد سمجھ لیا اور بہت کم عرصے میں اپنی شعری شناخت قائم کرلی۔ ان کی نظمیں مختلف ادبی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنیں اور ان کی تحریریں پاکستان کے علاوہ بھارت اور چین تک بھی شائع ہوئیں۔
سن 2000ء میں ان کی نظم “پاگل لڑکی” کو خاص شہرت ملی۔ اس نظم کی مقبولیت نے ایک نوجوان شاعر کی حیثیت سے ان کے نام کو مزید نمایاں کیا۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شاعری نے ایک محدود ادبی حلقے سے نکل کر وسیع تر قارئین تک رسائی حاصل کرنا شروع کی۔
شاعری کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ استاد سے حاصل ہونے والا فیض ایک وقت کے بعد اگلی نسل تک منتقل ہوتا ہے۔ شفاء اللہ کوکب کی ادبی زندگی میں یہ مرحلہ بھی آیا۔ سن 2000ء میں اکبر علی خان ان کی شاعری سے متاثر ہوکر ان کی شاگردی میں آئے۔ بعد میں محمد عادل نیازی اور حافظ نعمت اللہ نے بھی ان سے استفادہ کیا۔ اکبر علی خان کے لیے بطور استاد شفاء اللہ کوکب نے قلمی نام محمد یاسر نیازی تجویز کیا۔
یہ پہلو شفاء اللہ کوکب کو صرف شاعر نہیں بلکہ ایک ادبی مربی کے طور پر بھی سامنے لاتا ہے۔ ان کا ادبی سفر صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کے بعد آنے والوں تک بھی پہنچا۔
“وسعتِ دید” سے “مہیب راتیں” تک — شاعر کی تخلیقی منزلیں
شفاء اللہ کوکب کی شعری شخصیت کا مطالعہ ان کی تصانیف کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ان کے دو شعری مجموعے “وسعتِ دید” اور “مہیب راتیں” ان کے تخلیقی سفر کے دو اہم سنگِ میل ہیں۔ پہلی کتاب میں ایک شاعر کی تشکیل اور شعری شناخت کا مرحلہ نمایاں ہوتا ہے، جبکہ دوسری کتاب میں وہی شاعر زیادہ پختہ تجربے، وسیع مشاہدے اور گہرے فکری شعور کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
دسمبر 2010ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ “وسعتِ دید” شائع ہوا۔ اسے صدقِ رنگ پبلشرز ملتان نے شائع کیا اور کتاب کا انتساب ان کے استادِ گرامی سید انجم جعفری کے نام کیا گیا۔ کتاب کی اشاعت کے بعد ادبی حلقوں میں شفاء اللہ کوکب کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور انہیں تنظیمِ کارِ خیر گوجرانوالہ کی طرف سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا۔
“وسعتِ دید” کا عنوان بھی شاعر کے تخلیقی مزاج کے لیے ایک معنی خیز استعارہ محسوس ہوتا ہے۔ شاعر کی نگاہ جب صرف ظاہری منظر تک محدود نہ رہے اور وہ زندگی کے باطن، انسانی رویوں اور معاشرتی حقیقتوں کو بھی دیکھنے لگے تو اس کی “دید” وسیع ہوجاتی ہے۔ شفاء اللہ کوکب کے بعد کے کلام میں یہی وسیع نگاہ مزید گہرائی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
ستمبر 2023ء میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “مہیب راتیں” منظرِ عام پر آیا۔ اسے ایم ارسلان پبلی کیشنز ملتان نے شائع کیا۔ کتاب نے ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کی اور 2024ء میں ننکانہ صاحب کی ایک ادبی تنظیم کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
لیکن “مہیب راتیں” کو صرف ایک شعری مجموعہ سمجھنا اس کتاب کے فکری حجم کو محدود کردینا ہوگا۔ فراہم کردہ تحقیقی مقالہ اسے اردو غزل کے فنی و فکری ارتقا کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتا ہے۔ اس مجموعے کی غزلیات میں روایتی غزل کے قالب کے اندر جدید حسیت، عصری شعور اور فکری بالیدگی کا امتزاج موجود ہے۔ داخلیت، تنہائی، محرومی اور ناامیدی کے ساتھ امید، جدوجہد اور شعوری بیداری بھی ان اشعار کا حصہ ہیں۔
یہی “مہیب راتیں” کی بنیادی کشش ہے کہ یہاں رات صرف رات نہیں رہتی۔ وہ انسانی خوف، سماجی بے یقینی، داخلی اضطراب اور زندگی کے ان گوشوں کی علامت بن جاتی ہے جہاں انسان خود اپنے وجود سے سوال کرنے لگتا ہے۔ مگر اندھیرے کے ساتھ روشنی کا تصور بھی موجود رہتا ہے؛ اسی لیے کتاب میں ناامیدی کے باوجود جدوجہد اور شعوری بیداری کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
تحقیقی مقالے کے محاکمے کے مطابق “مہیب راتیں” میں شاعر کی حساس طبیعت، فکری گیرائی، جذباتی تہہ داری، عصری مسائل، داخلی کشمکش، جمالیاتی احساس اور فنی محاسن نمایاں ہیں۔ مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ زیرِ بحث اشعار اسی مجموعے سے منتخب کیے گئے ہیں اور انہی کی بنیاد پر تشبیہ، استعارہ، علامت، طنز، تضاد اور کنایہ جیسے فنی پہلوؤں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
یہاں شفاء اللہ کوکب ایک ایسے شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اپنے زمانے کی تاریکی کو صرف بیان نہیں کرتا بلکہ اس تاریکی کے معنی بھی تلاش کرتا ہے۔
کوکب کی غزل — روایت کی پاسداری، اظہار کی تازگی
اردو غزل ایک ایسی صنف ہے جس نے اپنے طویل تاریخی سفر میں عشق و محبت سے لے کر فلسفہ، تصوف، سیاست، معاشرت، معیشت، نفسیات اور انسانی وجود کے پیچیدہ سوالات تک کو اپنے اندر سمویا ہے۔ تحقیقی مقالہ بھی غزل کے ارتقائی سفر کو بیان کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ یہ صنف اپنے ابتدائی عشقیہ دائرے سے نکل کر زندگی اور کائنات کے متعدد پہلوؤں کو اپنے اظہار کا حصہ بناچکی ہے۔
شفاء اللہ کوکب اسی وسیع تر غزلیہ روایت کے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں کلاسیکی غزل کی ہیئت موجود ہے، مگر اس کے اندر جدید انسان کے مسائل سانس لیتے ہیں۔ مقالے کے اختتامی محاکمے میں بھی ان کی فنی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے بحر، وزن، قافیہ اور ردیف کی پابندی، زبان و بیان کی شستگی، فارسی تراکیب، تہذیبی حوالہ جات اور شعری صنعتوں کے برمحل استعمال کو ان کی فنی پختگی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
فارسی تراکیب اور کلاسیکی آہنگ
شفاء اللہ کوکب کی غزل میں فارسی تراکیب کا استعمال نمایاں ہے۔ تحقیقی مقالہ اس رجحان کو اردو شاعری کی کلاسیکی جمالیات سے جوڑتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ کوکب نے فارسی الفاظ اور تراکیب کو اس انداز سے برتا ہے کہ ان کے اشعار میں کلاسیکی شعری فضا پیدا ہوتی ہے۔
یہ فارسی آمیزش محض لفظی آرائش نہیں۔ مناسب موقع پر فارسی ترکیب شعر کو ایک مخصوص تہذیبی فضا اور معنوی وقار عطا کرتی ہے۔ کوکب کے ہاں یہ انداز روایت سے تعلق بھی قائم رکھتا ہے اور ان کے شعری اظہار کو ایک مخصوص لسانی شناخت بھی دیتا ہے۔
تشبیہ — احساس کی تصویری تشکیل
تشبیہ کوکب کے شعری اظہار کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ تحقیقی مقالے میں ان کے اشعار سے مثالیں پیش کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ شاعر نے محبوب کی زلف کو “عنبرین” کہہ کر خوشبو، پریشانی اور حسن کو ایک ہی شعری پیکر میں جمع کردیا ہے۔ اسی طرح محبت کو “الماسِ آشتی” سے تشبیہ دینا اس جذبے کی نایابی اور قدر و قیمت کو نمایاں کرتا ہے۔
یہی تشبیہ کا حسن ہے کہ ایک مجرد احساس ایک محسوس تصویر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کوکب کے ہاں محبت صرف بیان نہیں ہوتی؛ اسے محسوس کرایا جاتا ہے۔
استعارہ — لفظ کی ظاہری حد سے آگے
کوکب کی شاعری میں استعارہ بھی ایک بنیادی تخلیقی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ “دریا”، “کنارا”، “اشکوں کی لڑی” جیسے پیکر اپنے ظاہری مفہوم سے آگے بڑھ کر انسانی کیفیتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ تحقیقی مقالے میں “دریائی زندگانی” اور محبت کے “کنارے” کی عدم دستیابی کو انسانی جذباتی بے قراری اور محرومی کے استعارے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح آنسوؤں کو موتیوں کی لڑی سے تعبیر کرنا دکھ اور صبر کے رشتے کو ایک بصری شکل دیتا ہے۔ یہاں شاعر کے پاس صرف غم کا لفظ نہیں بلکہ غم کی ایک پوری تصویر موجود ہے۔
کنایہ — معنی کی پوشیدہ تہیں
کوکب کے ہاں کنایہ بھی شعر میں تہہ داری پیدا کرتا ہے۔ “زنجیر” ان کے ہاں صرف جسمانی قید کی علامت نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور سماجی پابندیوں کا استعارہ بھی بن جاتی ہے، جبکہ “بہار” زندگی میں خوشی، آزادی اور امید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یہ طرزِ اظہار قاری کو شعر کے اندر داخل ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ شاعر سب کچھ براہِ راست نہیں کہتا؛ کچھ معنی قاری کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ یہی شاعری کی وہ تہہ داری ہے جو شعر کو بار بار پڑھنے کے قابل بناتی ہے۔
طنز — معاشرتی رویوں کا بے رحم آئینہ
شفاء اللہ کوکب کے ہاں طنز محض ظرافت نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کی گرفت کا وسیلہ ہے۔ تحقیقی مقالہ ان کے اس شعر کو بطور مثال پیش کرتا ہے جس میں “کل تک” اور “اب” کے ذریعے انسانی رویوں کی تبدیلی کو سامنے لایا گیا ہے۔ شاعر اس منافقانہ معاشرتی رویے کو بے نقاب کرتا ہے جہاں کسی شخص کی قدر اس کی اصل صلاحیت کے بجائے اس کی موجودہ شہرت، حیثیت یا مقام سے متعین ہونے لگتی ہے۔
یہ طنز فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرتی رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وقت بدلتا ہے تو بعض لوگوں کے نظریات، وفاداریاں اور تعلقات بھی بدل جاتے ہیں۔ کوکب کا شاعر اسی تبدیلی کو گرفت میں لیتا ہے۔
علامت نگاری — رات سے چراغ تک
کوکب کی شاعری کا ایک نہایت اہم وصف علامت نگاری ہے۔ تحقیقی مقالے کے مطابق ان کے ہاں “بارش، زنجیر، دریا، صحرا، شب، اجالا، چراغ، کانٹا، ساز اور محفل” جیسے الفاظ اپنے ظاہری مفہوم سے کہیں وسیع معنوی دائرہ رکھتے ہیں۔
“اپنی ذات” خودشناسی اور داخلی سچائی کی علامت بن سکتی ہے، جبکہ “بزم” معاشرتی تعلقات، شہرت اور ظاہری پذیرائی کی دنیا کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح شاعر فرد اور معاشرے کے درمیان موجود کشمکش کو چند علامتی الفاظ میں سمیٹ دیتا ہے۔
یہ علامتیں کوکب کے شعر کو ایک سے زیادہ سطحوں پر قابلِ مطالعہ بناتی ہیں۔ ایک قاری انہیں ذاتی تجربے کے طور پر پڑھ سکتا ہے، دوسرا سماجی تناظر میں اور تیسرا وجودی معنی کے ساتھ۔
تلمیح، تضاد اور مراعات النظیر
کوکب کی فنی دنیا میں تلمیح بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ “بانیِ ارم” جیسی ترکیب ایک تاریخی اور قرآنی حوالہ اپنے اندر رکھتی ہے اور مختصر الفاظ میں ایک وسیع پس منظر قاری کے ذہن میں زندہ کردیتی ہے۔
اسی طرح صنعتِ تضاد ان کے اشعار میں معنوی کشمکش کو گہرا کرتی ہے۔ “ستم” اور “زندگی” جیسے متضاد تصورات کو ایک ساتھ رکھ کر شاعر انسانی بے بسی اور زمانے کے جبر کو نمایاں کرتا ہے۔
مراعات النظیر میں “چاندنی، ہما، انجم، شب، زلفیں، پرچھائیں” جیسے الفاظ ایک ہی جمالیاتی فضا قائم کرتے ہیں۔ یہ الفاظ مل کر رات، روشنی، حسن اور فطرت کا ایسا منظر بناتے ہیں جو شعر کے مفہوم کے ساتھ اس کی موسیقیت کو بھی بڑھاتا ہے۔
یوں کوکب کی شاعری میں فن اور فکر ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔ فنی صنعت محض آرائش نہیں بلکہ معنی کی تشکیل میں حصہ لیتی ہے۔
مہیب راتوں کا شاعر — درد، محرومی، خوف اور امید کی فکری دنیا
اگر شفاء اللہ کوکب کی شاعری کے فکری مزاج کو ایک بنیادی لفظ میں بیان کیا جائے تو شاید وہ لفظ “درد” ہوگا۔ مگر یہ درد محض ذاتی رنج یا عاشقانہ غم نہیں۔ یہ فرد کے اندر سے نکل کر معاشرے تک پھیلتا ہے اور پھر اجتماعی انسانی تجربے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
تحقیقی مقالے کے محاکمے میں ان کی شاعری کے نمایاں موضوعات میں تنہائی، غم، انسانی کرب، وقت کی بے ثباتی، مظلوم طبقے کے لیے ہمدردی، رومانویت اور وجودی احساس کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مقالہ اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ کوکب کا درد ذاتی دائرے میں محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی صورت اختیار کرتا ہے، جس سے شاعر ایک باخبر اور باشعور تخلیق کار کے طور پر سامنے آتا ہے۔
یاسیت اور محرومی — اندھیرے کے اندر چھپی ہوئی چیخ
“مہیب راتیں” کے فکری مطالعے میں یاسیت اور محرومی کو بنیادی موضوعات میں شمار کیا گیا ہے۔ شاعر کی دنیا میں خوشی کے ساتھ غم اور امید کے ساتھ ناامیدی چلتی ہے۔ کہیں مزدور جدوجہد کے باوجود بھوکا رہ جاتا ہے، کہیں کسان کی محنت زمین کو آباد کرنے کے باوجود اس کی قسمت نہیں بدلتی، کہیں محبت وصال تک نہیں پہنچتی اور کہیں چراغ جلانے کے باوجود اجالا نہیں آتا۔
یہ یاسیت محض سیاسی یا شخصی ناکامی کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے انسان کا بار بار اپنے لوگوں، رشتوں، نظریات اور خوابوں سے دھوکا کھانا بھی موجود ہے۔ اسی لیے کوکب کے ہاں ناامیدی ایک مستقل داخلی فضا بن جاتی ہے۔
مگر اس اندھیرے میں بھی ایک مدھم سی امید موجود رہتی ہے۔ شاعر جانتا ہے کہ جب تک سانس ہے، جدوجہد کا امکان باقی ہے۔ اگرچہ یہ امید بہت مضبوط نہیں، لیکن مکمل تاریکی میں ایک چھوٹا سا چراغ بھی معنی رکھتا ہے۔ یہی کیفیت کوکب کی یاسیت کو محض مایوسی سے بلند کرکے ایک فکری سوال میں تبدیل کردیتی ہے۔
خوف اور جبر — معاشرے کی خاموش چیخ
کوکب کی شاعری میں خوف بھی ایک اہم فکری استعارہ ہے۔ تحقیقی مقالہ واضح کرتا ہے کہ ان کے ہاں خوف صرف سیاسی جبر تک محدود نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور ثقافتی سطحوں پر بھی موجود ہے۔ مزدور کی محنت کا استحصال، کسان کی محرومی، عورت کی دبی ہوئی آواز اور بچے کے اندر پیدا کیا جانے والا خوف—یہ سب اسی اجتماعی جبر کے مختلف چہرے ہیں۔
اس شعری دنیا میں خوف ایک مجرد لفظ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ کردار بن جاتا ہے؛ وہ گلیوں میں چلتا ہے، دروازوں پر دستک دیتا ہے اور خوابوں تک میں داخل ہوجاتا ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ اس خوف کو محض نعرے کی صورت میں بیان نہیں کرتا بلکہ اس کے انسانی اثرات کو محسوس کراتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کوکب کی شاعری میں مزاحمت بھی خاموش مگر مؤثر انداز میں موجود ہے۔ خوف کو نام دینا خود اس کے خلاف پہلا قدم بن جاتا ہے۔
احساسِ محرومی اور جنون — عشق سے آگے ایک وجودی اضطراب
کوکب کے ہاں جنون بھی ایک اہم کیفیت ہے۔ یہ محض روایتی عاشقانہ دیوانگی نہیں بلکہ ایک ایسا وجودی اضطراب ہے جو کسی حد، زنجیر یا مقام پر ٹھہرنے سے انکار کرتا ہے۔ تحقیقی مطالعے میں اس کیفیت کو ایک ایسی بے قراری کے طور پر دیکھا گیا ہے جو سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی زنجیروں کو توڑنے کی خواہش بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔
یہاں عشق ایک وسیع تر معنوی تجربہ بن جاتا ہے۔ عاشق صرف محبوب کا طالب نہیں رہتا؛ وہ سکون، آزادی، شناخت اور اپنے وجود کے معنی کی تلاش میں بھی سرگرداں نظر آتا ہے۔
اسی لیے کوکب کی شاعری میں جنون اور محرومی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ خواہش جتنی شدید ہوتی ہے، محرومی کا احساس بھی اتنا ہی گہرا ہوجاتا ہے۔
ترقی پسند شعور — غریب کے دکھ سے انسان کے سوال تک
شفاء اللہ کوکب کی شاعری میں ترقی پسند فکر ایک نمایاں جہت ہے۔ لیکن اس فکر کی بنیاد کسی مجرد نظریاتی بحث کے بجائے انسانی دکھ پر ہے۔ وہ غریب کے دکھ کو صرف بیان نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر موجود بے چینی اور مزاحمت کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ تحقیقی مقالہ اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شاعر مظلوم کے دکھ کا نوحہ ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر بغاوت کی چنگاری بھی روشن کرتا ہے۔
یہی انسانی وابستگی کوکب کی شاعری کو محض ذاتی جذبات کی شاعری نہیں رہنے دیتی۔ ان کے ہاں مزدور، کسان، محروم انسان اور معاشرتی طور پر کمزور طبقات ایک بڑے انسانی سوال کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کا سوال یہ ہے کہ اگر معاشرہ ترقی کررہا ہے تو اس ترقی کا ثمر سب تک کیوں نہیں پہنچتا؟ اگر زندگی کے وسائل بڑھ رہے ہیں تو انسان کے اندر سکون کیوں کم ہورہا ہے؟ اور اگر روشنی کے چراغ موجود ہیں تو اندھیرا اتنا گہرا کیوں ہے؟
یہ سوالات کوکب کی شاعری کو عصری معنویت عطا کرتے ہیں۔
حسن و عشق — روایت کی روح اور جدید انسان کا باطن
اردو غزل میں حسن و عشق بنیادی موضوعات رہے ہیں، اور شفاء اللہ کوکب بھی اس روایت سے مضبوط رشتہ رکھتے ہیں۔ مگر ان کے ہاں عشق صرف روایتی رومانوی جذبہ نہیں۔ تحقیقی مقالے کے مطابق ان کی شاعری میں محبت کے ساتھ روحانی اور وجودی جہتیں بھی موجود ہیں۔
محبت ان کے لیے انسانی زندگی کے معنوی رنگ کی تلاش بھی ہے۔ جدائی صرف محبوب سے دوری نہیں بلکہ ایک داخلی خلا بھی ہے، اور وصال صرف ملاقات نہیں بلکہ مکمل ہونے کی خواہش بھی۔
اسی لیے کوکب کے ہاں رومانویت سطحی جمالیات سے آگے بڑھ کر انسانی وجود کے بنیادی سوالات سے جڑ جاتی ہے۔
ماضی کی یاد اور بدلتی ہوئی دنیا
کوکب کی فکری دنیا میں ماضی کی طرف مراجعت بھی ایک اہم کیفیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ یاد صرف ذاتی ماضی کی یاد نہیں بلکہ ان انسانی اور معاشرتی قدروں کی یاد بھی ہے جو وقت کے ساتھ کمزور پڑتی محسوس ہوتی ہیں۔
اس نوع کی یاد میں ایک طرف گزرے ہوئے وقت کی محبت ہے اور دوسری طرف موجودہ عہد سے ایک خاموش سوال۔ شاعر جب ماضی کو یاد کرتا ہے تو دراصل حال کے بدلتے ہوئے انسانی رویوں کو بھی پرکھ رہا ہوتا ہے۔
یہی کیفیت کوکب کے شعری مزاج کو ایک تہذیبی حساسیت عطا کرتی ہے۔
شفاء اللہ کوکب — ایک شاعر جس کا درد سوال بن جاتا ہے
شفاء اللہ کوکب کی شاعری کا مطالعہ ہمیں ایک ایسے شاعر سے متعارف کراتا ہے جس کی تخلیقی شخصیت کئی سطحوں پر متحرک ہے، مگر اس تمام تنوع کا مرکز شاعری ہے۔ ان کے لیے شعر محض حسنِ بیان نہیں بلکہ تجربے، مشاہدے، احساس اور فکر کو محفوظ کرنے کا وسیلہ ہے۔
ان کے شعری سفر میں استاد کی صحبت ہے، ادبی محفلوں کی تربیت ہے، نظم کی ابتدائی شہرت ہے، کالم نگاری کا تجربہ ہے، “وسعتِ دید” کی پہلی شعری شناخت ہے اور “مہیب راتیں” کی فکری پختگی بھی۔ ان کے فن میں کلاسیکی روایت کی پاسداری اور جدید عہد کی حسیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔
فنی اعتبار سے ان کی شاعری تشبیہ، استعارہ، کنایہ، تلمیح، تضاد، مراعات النظیر، طنز اور علامت نگاری جیسے وسائل سے مزین ہے۔ فارسی تراکیب اور عروضی شعور ان کے کلام کو کلاسیکی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ عصری مسائل اور جدید انسانی احساسات اسے موجودہ زمانے سے جوڑتے ہیں۔
فکری اعتبار سے ان کا شاعر تنہائی کو محسوس کرتا ہے، محرومی کو دیکھتا ہے، خوف کو پہچانتا ہے، جبر پر سوال اٹھاتا ہے، محبت کو روحانی اور وجودی تجربے میں بدلتا ہے اور مظلوم انسان کے دکھ کو اپنی آواز بناتا ہے۔
ان کی شاعری کا سب سے قابلِ ذکر پہلو شاید یہی ہے کہ درد ان کے ہاں صرف شکایت نہیں رہتا؛ وہ سوال بن جاتا ہے۔
اور سوال ہی وہ مقام ہے جہاں شاعری محض جذباتی اظہار سے نکل کر فکر بن جاتی ہے۔
“مہیب راتیں” کے بارے میں تحقیقی مقالے کا حتمی تاثر بھی یہی ہے کہ یہ مجموعہ شاعر کی حساس طبیعت، فکری گیرائی، جذباتی تہہ داری، عصری مسائل، داخلی کشمکش، جمالیاتی احساس اور فنی محاسن کو یکجا کرتا ہے اور شفاء اللہ کوکب کی حیثیت ایک سنجیدہ، باخبر اور درد مند شاعر کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔
شفاء اللہ کوکب کو اسی لیے صرف ایک غزل گو کے طور پر دیکھنا ان کی شاعری کے دائرے کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ اپنے عہد کے مشاہدہ کار بھی ہیں، انسانی کرب کے ترجمان بھی، روایت کے پاسدار بھی اور جدید حسیت کے نمائندہ بھی۔
ان کی شاعری میں رات ہے تو چراغ بھی ہے؛ محرومی ہے تو خواہش بھی؛ خوف ہے تو مزاحمت بھی؛ جدائی ہے تو محبت بھی؛ اور یاسیت ہے تو امید کی ایک کمزور مگر زندہ لکیر بھی۔
شاید یہی ایک حقیقی شاعر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے دکھ کو اس طرح لفظ دے کہ پڑھنے والا اس میں اپنے عہد کا دکھ بھی محسوس کرے۔
شفاء اللہ کوکب — میانوالی کی ادبی سرزمین سے اٹھنے والی وہ آواز ہیں جس میں لفظ صرف بولتے نہیں، محسوس بھی ہوتے ہیں۔
ان کا شعری سفر جاری ہے، اور ایک شاعر کے لیے اس سے بڑی خوش خبری اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے لفظ ابھی خاموش نہیں ہوئے۔
ماخذ
یہ ادبی فیچر بنیادی طور پر فراہم کردہ تحقیقی مقالے “شفاء اللہ کوکب کی کتاب ’مہیب راتیں‘ کی غزلیات کا فنی و فکری جائزہ” سے اخذ شدہ سوانحی، ادبی، فنی اور فکری مواد کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ مقالے میں شفاء اللہ کوکب کے سوانحی حالات، استادِ سخن، ادبی سفر، تصانیف، غزل کی فنی ساخت، شعری صنعتوں اور “مہیب راتیں” کے فکری موضوعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پیشکش: ٹیم میانوالی ڈاٹ آرگ
