شفاء اللہ کوکب کی کتاب “مہیب راتیں “کی غزلیات کا فنی و فکری جائزہ
مقالہ نگار –حماد احمد
پیش لفظ
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میرے ادبی ذوق، شعری شعور اور مطالعہ فکر کا ایک ایسا حصہ ہے جس نے نہ صرف میرے جذبات کو جلا بخشی بلکہ اردو غزل کی روح سے میرے تعلق کو بھی گہرا کیا۔ ان کے اشعار زندگی کے ہر پہلو کی ترجمانی کرتے ہیں۔ چاہے وہ عشق و محبت ہو، تنہائی و جدائی ہو، یا معاشرتی ناہمواریوں کا دکھ۔ اُن کی غزلیں محض ایک رومانوی تخیل کی ترجمان نہیں بلکہ وہ انسانی احساسات، تہذیبی شکست و ریخت، معاشرتی زوال اور روحانی تلاش کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ یہی عناصر اُن کے کلام کو عام شاعری سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کے ہاں داخلیت اور خارجیت کا ایسا امتزاج دکھائی دیتا ہے جو قاری کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
میرے اس مقالے کی بنیاد شفاءاللّٰہ کوکب کے کلام کی فنی و فکری جہات کے جامع جائزے پر رکھی گئی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اُن کی شاعری میں موجود مختلف فنی اجزاء جیسے کہ تشبیہ، استعارہ، کنایہ، صنعتِ تضاد، منظر نگاری، طنز و مزاح، علامتیں اور قطعات کی صورت میں فنِ شعر کے استعمال کو علمی انداز میں پیش کیا جائے۔ ان کا شعری اسلوب سادگی کے ساتھ ساتھ گہرائی کا حامل ہے۔ وہ الفاظ کو یوں برتتے ہیں کہ سادہ لفظ بھی غیرمعمولی معنویت کا حامل بن جاتا ہے۔ اُن کی غزلوں میں ردیف و قافیہ کا انتخاب، بحر کی روانی اور زبان کا سلیقہ سبھی کچھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ فنِ غزل کے باکمال شاعر ہیں۔
اس مقالے میں اُن کے اشعار کا فکری مطالعہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں اُن کی شاعری میں موجود عصری شعور، انسان دوستی، احساس محرومی، ناہموار سماجی تقسیم، اور فرد کی داخلی کشمکش جیسے موضوعات کو واضح کیا گیا ہے۔ وہ شاعر ہیں تو دل کے، لیکن ذہن اُن کا معاشرے کی نبض پر بھی ہے۔ اُن کی شاعری میں ہمیں نہ صرف جمالیات کا ذائقہ ملتا ہے بلکہ وہ سماجی و نفسیاتی حوالوں سے بھی فکر انگیز ہے۔ میرے لیے یہ مقالہ صرف ایک ادبی تجزیہ نہیں بلکہ شفاءاللّٰہ کوکب کے فکری جہان کی سیاحت ہے جس نے میری سوچ کو وسعت اور میری قلم کو وقار بخشا ہے۔ یہ میری ادبی وابستگی اور تحقیقی کوشش کا وہ سفر ہے جس میں میں نے اُن کے اشعار کی روشنی میں اردو غزل کے بدلتے ہوئے رجحانات اور روایتی تسلسل کو محسوس کرنے کی سعی کی ہے۔
اس مقالے کی تیاری میں ابتدا سے لے کر آخر تک ہمیں اپنے اساتذہ کا تعاون اور ساتھ حاصل رہا۔ مواد کے حصول کے لیے پبلک لائبریری لکی مروت سے استفادہ کیا گیا۔ شفاءاللّٰہ کوکب نے موبائل فون پر اپنے سوانحی حالات سے آگاہی دی۔
نگران مقالہ لیکچرر ذبیح اللّٰہ کی حد درجہ ممنون ہوں۔ کہ انہوں نے قدم قدم پر ہماری رہنمائی فرمائی۔ یہ ہماری طالب علمانہ زندگی کی پہلی تحقیقی سرگرمی ہے۔ اس سرگرمی سے ہم پر تحقیق کا راستا کھلا اور اساتذہ کرام کی مہربانی اور تعاون سے ہمیں یہ سفر مشکل محسوس نہیں ہوا۔
ان شاء اللہ یہ مقالہ ہمارے تحقیقی سفر کا نقش اول ہو گا۔ہم اپنے ہم مکتب ساتھی فہد احمد اور کاشف اقبال کے شکر گزار ہوں۔ کہ ان کے تعاون سے یہ مشکل مرحلہ سر ہوا۔ خدائے بزرگ و برتر میرے دوستوں اور اساتذہ کرام کو تا دیر سلامت رکھے۔
حماد احمد، جہانزیب خان- ریسرچ سکالر – بی ایس اردو
محمد شفاواللّٰہ کوکب کا سوانحی خاکہ:
محمد شفاء اللہ کوکب نے میانوالی میں ایک معروف خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد کا نام محمد اشرف ہے۔ جو بہت شفیق اور دلشاد انسان ہے۔ جو محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔ پھر ملازمت چھوڑ دی اور کاشتکاری کرنے کے لئے زراعت کو اپنا ذریعہ آمدن قرار دیا۔ محمد اشرف کی اولاد میں سے بلترتيب چھے بیٹے ہیں، شفاء اللہ، زکاء اللہ، عطاء اللہ، نصر اللہ، سلیم اللہ، ظفر اللہ، (مرحوم)، جو دسمبر 2015 کو 23 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ کے دادا محمد امین جو پنجاب پولیس کا حصہ تھے جن کا علاقے میں ایک رعب اور دبدبہ تھا ان کے چار بیٹے تھے بالترتیب سلطان سکندر، محمد اشرف، محمد اکرم جو محکمہ صحت سے سپرنٹنڈنٹ ریٹائرڈ ہوئے اور چوتھے ڈاکٹر محمد اسلم (مرحوم) جو کہ ڈاکٹر تھے
نسبت:
صوبہ پنجاب کے 41 اضلاع میں سے ضلع میانوالی ایک منفرد اور یگانہ اہمیت حامل ہے۔ جہاں پر پہاڑی سلسلے، زرخیز نہیں علاقے اور اباسین (دریائے سندھ) بھی میانوالی سے گزرتا ہے۔ جس پر دو پراجیکٹ (جناح بیراج جو کالا باغ کے مقام پر ہے، اور دوسرا چشمہ بیراج جو کندیاں میں) میانوالی کی حدود میں ہیں۔میانوالی کی زمین ادبی لحاظ سے بہت زرخیز ہے۔ اسے شعر و نغمہ کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔
پیدائش:
اگر ہم شاعری کی بات کریں تو شاعری کے افق پر ایک درخشاں ستارہ محمد شفاءاللّٰہ کوکب ہے جس کے دم سے میانوالی کے اور بھی چار چاند لگے ہوئے ہیں۔
شفاءاللّٰہ کوکب 5 اپریل 1982 کو میانوالی شہر کے ایک قدیم اور تاریخی محلہ پرانا قدیم خانہ میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم
شفاءاللّٰہ کو کب نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول محلہ شیر خانہ سے حاصل کی اور گورنمنٹ سنٹرل ماڈل ہائی سکول میانوالی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد الصفہ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا کالج میں شعر و شاعری کی طرف مائل ہونے لگے۔رفتہ رفتہ لگاؤ بڑھتا گیا اور انہیں اپنی تعلیم گرم جوشی ادھوری چھوڑنی پڑی۔ بمشکل میڈیکل کے شعبہ ٹیکنیشن میں ڈپلومہ حاصل کرکے برسر روزگار ہے ۔
استاد گرامی:
ستمبر 1997 الصفہ کالج میں انکی ملاقات جناب سید انجم جعفری (مرحوم) سے ہوئی۔ سید انجم جعفری کا نام شاعری میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ان دنوں میانوالی کے چند صاحب فکر شعرا میں سید انجم جعفری کا نام صف اول پر تھا۔ شفاواللّٰہ کوکب نے 1997 میں سید انجم جعفری مرحوم کا باقاعدہ اپنی شاعری کا استاد بنایا۔ کاشانہ جعفری باقاعدہ پر آئے روز ادبی محفلیں برپا ہوتی تھیں۔ درویش رئیس احمد عرش تاج محمد تاج (مرحوم) پروفیسر فیروز شاہ اور شفاواللّٰہ کوکب ان کی محفلوں کا حصہ رہے۔
شہرت:
محمد شفاواللّٰہ کوکب کو شاعری کے اوزان اور بحر سمجھنے میں دیر نہیں لگی دیکھتے ہی دیکھتے شاعری میں اپنا مقام بنا ڈالا نہ صرف پاکستان کے تقریباً ہر ادبی جریدے میں اپنا کلام چھپوا کر داد سمیٹی۔ بلکہ بیرون ملک بھارت اور چین میں بھی ان کا کلام اشاعت پذیر ہوا۔ شفاواللّٰہ کوکب کو انکی نظمیں شہرت کی بلندیوں پر لے گئیں ۔
شفاءاللّٰہ کوکب کے شاگرد:
سن 2000 میں ان کی ایک نظم (پاگل لڑکی)اتنی مشہور ہوئی کہ جس سے متاثر ہو کر میانوالی کے ایک نوجوان اکبر علی خان نے ان کی شاگردی میں آنے کی خواہش ظاہر کی۔ شفاواللّٰہ کوکب کے انکار کرنے کے باوجود موصوف اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ کوکب نے انہیں بالآخر اپنا شاگرد بنا لیا.اکبر علی خان نے اپنا قلمی نام رکھنے کی تجویز شفاواللّٰہ کوکب کے سامنے پیش کی ہے تو بحثیت استاد انہوں نے ان کا قلمی نام محمد یاسر نیازی تجویز کیا جسے آکبر علی خان نے احتراماً قبول کرلیا۔ بعد میں محمد عادل نیازی اور نعمت اللّٰہ حافظ بھی شفاءاللّٰہ کوکب سے فیض حاصل کرتے رہے۔ یہ دونوں شاگرد پاکستان ائیر فورس میں ملازمت کر رہے ہیں ۔
اخبارات:
2008ء میں شفاء اللہ کوکب نے روزنامہ ’پاکستان‘، اسلام آباد اور ایک مقامی اخبار ’ن نوائے شرر‘، میانوالی میں ’قرطاسِ قلب‘ کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کیے اور انہیں 2012ء تک جاری رکھا. دسمبر 2010ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’وسعتِ دید‘ شائع ہوا، جسے ’صدقِ رنگ پبلشرز، ملتان‘ نے شائع کیا. اس ادارے کو کوکب کے دیرینہ دوست راحت امیر نیازی تری خیلوی چلا رہے ہیں
ازدواجی زندگی
2012کو شفاواللہ کوکب کی شادی ان کی پھپھو کی بیٹی سے سے ہوئی ۔جس سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں ۔بیٹے کا نام محمد شایان حسن پھر بیٹی اقراامین تیسرے نمبر پر بیٹی نمرہ امین اور چوتھے نمبر پر بیٹا آلیان حسن کا نام ہے.
شخصیت:
محمد شفاواللّٰہ کوکب گندمی رنگت درمیانے قد آور نہایت ہی نفیس اور خوبصورت انسان ہےانکا لڑکپن اور جوانی قابل دید تھی۔جس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں آوز بھی خوبصورت اور سریلی عطا کی تھی ۔انہوں نے موسیقی کی تربیت بھی استاد غلام حسن ) مرحوم) سے حاصل کی انہوں نے موسیقی محض اپنے شوق تک محدود رکھی ۔
فن مصوری:
شاعری اور موسیقی کے ساتھ ساتھ محمد شفاءاللّٰہ کوکب ایک بہت اچھے مصور بھی ہے۔انہوں نے فن مصوری کی تعلیم بھی باقاعدہ حاصل کی ۔اور اس شعبہ میں بھی اپنا لوہا منوایا ۔شفاوللہ کوکب آج بھی بہت خوبصورت تصویریں بنا لیتے ہیں ۔
تصانیف:
وسعت دید:
دسمبر 2010 میں انکا پہلا شعری مجموعہ وسعت دید شائع ہوا ۔جس کو ادارہ صدق رنگ پبلشرز ملتان نے شائع کیا .یہ ادارہ کوکب کے دیرینہ دوست راحت امیر نیازی تری خیلوی چلا رہے ہیں ۔وسعت دید کا انتساب انہوں نے اپنے استاد گرامی قدر سید انجم جعفری صاحب کے نام کیا۔وسعت دید کی مقبولیت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔وسعت دید کی اشاعت کے بعد ادبی حلقوں میں شفاواللّٰہ کوکب کی مقبولیت اور بھی بڑھ گئی ۔وسعت دید کو تنظیم کارخیر گجرنوالہ کی کی جانب سے گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ۔
مہیب راتیں:
ستمبر 2023 کو مہیب راتیں ان کا دوسرا مجموعہ کلام ایم ارسلان پبلی کیشنز ملتان سے اشاعت پذیر ہوا۔جسے ادبی حلقوں میں بے پناہ مقبولیت ملی ۔جسے 2024 میں ادبی تنظیم ننکانہ صاحب نے گولڈ میڈل سے نوازا ۔جو شفاواللّٰہ کوکب کا مجموعی طور پر دوسرا گولڈ میڈل تھا۔
ایوارڈز:
گولڈ میڈل کے علاؤہ مہیب راتیں کو مختلف ادبی تنظیموں نے ایوارڈ عطا کیے ۔راولپنڈی سے بہترین لکھاری کا ایوارڈ ملا ۔الوکیل ادبی تنظیم تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور سے الوکیل ادبی ریوارڈ ۔بزم شمسی ادبی تنظیم حاصل پور،نور احمد غازی ادبی ایوارڈ ،لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملتان ،فاروق روکھڑی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملتان ،انصار ادب کیف ٹائم ایوارڈ ملتان ،اور گجرانوالہ سے تنظیم کارخیر کی جانب سے بہترین کتاب ایوارڈ بھی ملا۔یہ تمام ایوارڈ 2024 میں ملے۔تمام ایوارڈ کے حصول کے بعد محمد شفاواللّٰہ کوکب نے اردو غزل گوئی کو خیر آباد کہہ دیا ۔اور بحضور سرورِ کائنات کی نعت گوئی کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ۔باقاعدہ نعت کہنی شروع کی۔ان کا زیر طبع نعتیہ مجموعہ کلام (شاہ دو عالم) جو انشاء انشاءاللّٰہ بہت جلد اشاعت پذیر ہوگا۔
مہیب راتیں” کی غزلیات کا فنی جائزہ “
تعارف ؛
شفاءاللّٰہ کوکب کی شعری مجموعہ “مہیب راتیں” اردو غزل کے فنی و فکری ارتقاء کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس مجموعے میں شامل غزلیات نہ صرف عصری شعور کی آئینہ دار ہیں۔ بلکہ روایتی غزل کے قالب میں جدید حسیت اور فکری بالیدگی کا امتزاج بھی پیش کرتی ہیں۔ مہیب راتیں کے اشعار میں جہاں ایک طرف داخلیت، تنہائی، محرومی اور ناامیدی کا احساس جھلکتا ہے۔ وہیں امید، جدوجہد اور شعوری بیداری کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ کوکب نے اپنے اشعار میں تشبیہ، استعارہ، کنایہ، تلمیح، تضاد اور دیگر بیان کی صنعتوں کو نہایت سلیقے سے برتا ہے۔ جو ان کے فنی شعور کی پختگی کا مظہر ہے۔ غزلوں میں لسانی چابک دستی، عروضی مہارت، صنائع بدائع کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی غزلوں میں محبت، سیاست، سماج، وقت کی بے ثباتی، انسانی کرب، رشتوں کی الجھنیں اور فطرت سے جڑے مختلف موضوعات نہایت فنکارانہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ بعض اشعار میں طنز و تمثیل، تصوف اور مابعدالطبیعاتی فکر کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے۔ جو شاعر کی علمی گہرائی اور شعری بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔
شفاءاللّٰہ کوکب کی غزل گوئی میں علامتی اظہار کی ایک خاص تکنیک دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں بہار، زنجیر، دریا، صحرا، شب، اجالا، چراغ، کانٹے، ساز، محفل جیسے الفاظ محض ظاہری معنی میں نہیں آتے۔ بلکہ یہ گہرے معنوی پیرایے رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، “زنجیر لے کے ہاتھ میں آئی ہے پھر بہار” جیسے اشعار قاری کو محض جمالیاتی لذت ہی نہیں دیتے بلکہ ذہنی تحریک، فکری سوال اور داخلی اضطراب بھی پیدا کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں *عصری حسیت* کی موجودگی اسے آج کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بناتی ہے۔ جو نوجوان قاری کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے روایت سے جڑے رہتے ہوئے جدت کی راہیں نکالی ہیں۔ اور یہی وصف انہیں ایک منفرد اور باوقار شاعر کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
مہیب راتیں محض ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ شاعر کے احساسات، تجربات، مشاہدات اور تہذیبی ورثے کا نچوڑ ہے۔ شفاءاللّٰہ کوکب کی زبان سادہ لیکن پر اثر ہے۔ وہ لفظوں سے معنی کشید کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف پڑھنے والے کو محظوظ کرتی ہے۔ بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ گویا “مہیب راتیں” ایک ایسا شعری کینوس ہے۔ جہاں لفظ، خیال او جذبہ ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہ کتاب موجودہ اردو ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اور کوکب کی حیثیت کو ایک سنجیدہ، باخبر اور درد مند شاعر کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔
اس تحقیقی مقالے میں جن اشعار کا فکری و فنی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ تمام اشعار شفاءاللّٰہ کوکب کے شعری مجموعے مہیب راتیں سے منتخب کیے گئے ہیں۔ یہ مجموعہ شاعر کی حساس طبیعت فکری گیرائی اور جذباتی تہہ داری کا مظہر ہے۔ زیر بحث اشعار میں عصری مسائل داخلی کشمکش جمالیاتی احساس اور فنی محاسن بخوبی نمایاں ہیں۔ یہی اشعار مقالے کے مختلف پہلوؤں جیسے تشبیہ استعاره علامت طنز تضاد اور کنایہ وغیرہ کے تجزیے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
فارسی تراکیب کا استعمال؛
فارسیتسے مراد اُردو کی کسی عبارت یا شعر میں فارسی الفاظ و تراکیب کا ایسا مناسب یا ایسے فارسی الفاظ کا استعمال ہے جو اسے اردو سے دور اور فارسی سے قریب تر کردے۔ غالب کے دور اول کا اُردو کلام اس حد تک فارسیت کا شکار ہے کہ الطاف حسین حالی کو تمام تر عقیدت کے باوجود یہ کہنا پڑا کہ ایسے اشعار پر اردو زبان کا اطلاق مشکل سے ہو سکتا ہے۔ فارسیت ہی کے قیاس پر بعض نقادوں نے عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت کے لیے عربیت کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی بعض تحریریں عربیت کی مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر جامع الشواہد کی اُردو عبارتوں میں ایسے عربی الفاظ اور تراکیب) کثرت سے موجود ہیں جو قاری کے عبارت میں بھی آسانی سے جذب نہیں ہوسکتے۔
شفاءاللّٰہ کوکب نے اپنی غزلوں میں فارسی تراکیب کا بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے ۔ ان کے ہاں فارسیت پائی جاتی ہے ۔شفاءاللّٰہ کوکب شعر میں فارسی تراکیب کا استعمال:
ہم نے کانٹوں پہ بسر کی زندگی
وہ گلوں کی سیج پر سوتے رہے
دیوانِ گان شہر بتاں کو نوید ہو
کوکب میاں بھی صاحب دیوان بن گئے۔
اس میں سے “شہرِ بتاں” یعنی محبوبوں کا شہر فارسی ترکیب اور “دیوانِ گان میں “دیوان” فارسی لفظ ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ شعری مجموعہ۔ “گان” فارسی لاحقہ ہے۔ جو جمع بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ سب تراکیب کوکب کی شاعری میں فارسی اثر کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ جو شعر کو کلاسیکی جمالیات عطا کرتی ہیں۔
طنزیہ انداز:
زندگی کے مضحک، قابل گرفت اور تنفر انگیز پہلوؤں پر مخالفانہ اور ظریفانہ تنقید اصطلاح میں طنز کہلاتی ہے۔ اگر چه طنز نگار غیر ۔جانبدار نہیں رہ سکتا کیونکہ طنز اخلاقی ہو یا سیاسی یا سماجی۔ اس کی بنیاد کسی نہ کسی طرح طنز نگار کی ذاتی ناپسندیدگی پر ہی ہوتی ہے۔ تا ہم جذبات کی رو میں بہہ نکلنا طنز کی موت ہے۔ اس لیے ضروری ہے۔ کہ جذبات پر عقل کی بالا دستی قائم رہے۔ اور تعصب سے دور رہنے کی کوشش کی جائے۔
شفاءاللّٰہ کوکب نے بھی ایسی ہی کچھ اشعار میں طنزیہ انداز اپنایا ہے ۔
اب فصل بہاراں ہے تو میلہ سا لگا ہے
مشکل میں تو ہو جاتے ہیں اپنے بھی پرائے
کل تک مرا وجود گوارا نہ تھا جنہیں
سب لوگ اب مرے وہ قدردان بن گئے
اس شعر میں شفاواللّٰہ کوکب نے طنز کے مؤثر انداز کو اپناتے ہوئے معاشرتی رویوں کی دوغلاپن کو بے نقاب کیا ہے۔ یہاں “کل تک” اور “اب” کے تضاد سے کوکب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کہ معاشرہ اکثر انسان کی قدر و قیمت کا تعین اس کی موجودہ حیثیت، شہرت یا مقام کی بنیاد پر کرتا ہے۔ نہ کہ اس کی اصل صلاحیت پر۔ “گوارا نہ تھا” سے سابقہ حقارت اور “قدردان بن گئے” سے موجودہ منافقانہ پذیرائی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ طنز صرف فرد کی طرف نہیں بلکہ پورے سماج کے اس رویے پر ہے۔ جہاں لوگ وقت کے بدلنے پر نظریات، وفاداریاں اور تعلقات بھی بدل لیتے ہیں۔
علامت نگاری:
علامت کے اصطلاحی معنی میں کوئی شئے کردار یا واقعہ جو بطور مجاز اپنے سے ماورا کسی اور شے کی نمائندگی کرے۔
شفاءاللّٰہ کوکب نے اپنی شاعری کو علامات کے ذریعے خوبصورت بنایا ہے ۔
گر دیکھے صبح نور تو یہ مسکرا اٹھے
ظلمت شبوں کی دیکھ کے ڈرتی ہے زندگی
اک ہم کہ اپنی ذات سے باہر نہ آ سکے
اک وہ کہ ساری بزم کے مہمان بن گئے
شفاواللّٰہ کوکب نے اس شعر کے ذریعے علامتی انداز میں فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق اور داخلی و خارجی دنیا کے تضاد کو بیان کیا ہے۔ یہاں “اپنی ذات” ایک علامت ہے۔ خودشناسی، انفرادیت اور داخلی سچائی کی۔ کوکب کا ذات میں محدود رہنا اس بات کی علامت ہے۔ کہ وہ شخص روحانی یا فکری سطح پر گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ خود کو جاننے میں مصروف ہے۔ اس کے برعکس “بزم” معاشرے کی علامت ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں تعلقات، شہرت، چالاکی اور تعلق داری سے مقام حاصل کیا جاتا ہے۔ “مہمان بن جانا” عارضی شہرت یا سوسائٹی کی سطحی پذیرائی کی علامت ہے۔ یوں یہ شعر علامتی انداز میں ان افراد پر تنقید کرتا ہے۔ جو سچائی یا کردار سے زیادہ ظاہری چمک دمک سے بزمِ دنیا میں مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ جب کہ حقیقت پسند یا بااصول افراد پردے کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
قطعات :
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میں قطعات کا استعمال بھی نہایت مؤثر انداز میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے قطعات کے ذریعے مختصر مگر جامع انداز میں اپنے خیالات، جذبات اور مشاہدات کو پیش کیا ہے۔ ان کے قطعات میں گہرائی، روانی اور خیال آفرینی کی جھلک نمایاں ہے۔ کوکب نے قطعات کو محض صنفِ سخن کے طور پر نہیں برتا بلکہ انہیں فکری اظہار اور تہذیبی حوالوں کے ساتھ جوڑ کر ایک ادبی پیغام کا وسیلہ بنایا۔ بعض قطعات طنزیہ رنگ رکھتے ہیں۔ تو کچھ میں داخلیت اور احساسِ محرومی کا عکس ملتا ہے۔ زبان کی سادگی اور بیان کی چابکدستی، ان کے قطعات کو قاری کے دل سے جوڑ دیتی ہے۔ جو ان کی فکری پختگی اور فنی شعور کی دلیل ہے۔
بقول عدنان شفیق:
’’شفااللّٰہ کوکب کے قطعات اپنی ساخت اور معنویت دونوں اعتبارسے ہمارے عصر کی نمائندہ شاعری ہیں۔ انہوں نے اس مختصر ہیئت میں ایک ایسے توازن کو جنم دیا ہے جو نہ صرف کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہے بلکہ جدید انسان کے فکری اضطراب کو بھی نہایت تہذیب یافتہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ کوکب کے قطعات میں وقت کے بہاؤ، انسانی تنہائی، سماجی شکست و ریخت اور روحانی وابستگی جیسے موضوعات ایک خاص نرمی اور پختگی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں قطعہ محض صنفِ سخن نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ بن جاتا ہے۔ جو قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہتا ہے ۔
تم میرے پاس جو بیٹھو تو کوئی گیت کہوں
تم اگر پاس نہیں ساز میں رکھا کیا ہے
تم جو محفل میں نہیں میں کچھ بھی نہیں محفل میں
تم بنا ساز میں آواز میں رکھا کیا ہے
علم بدیع:
تشبیہ:تشبیہ کے اصطلاحی معنی ہیں ایک چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سے کسی دوسری چیز کی مانند قرار دینا۔تشبیہ بلاغت کی وہ پہلی سیڑھی ہے۔ جس پر کھڑے ہو کر شاعر اور ادیب اپنے خیال کو عام فہم سے نادر اور سادہ سے سنور تک لے جاتے ہیں۔ اس کی بنیاد ایک سادہ سی حقیقت پر ہے۔ کہ انسان کی طبیعت میں دو مختلف چیزوں کے درمیان مشابہت دیکھنے کی فطری کشش موجود ہے۔ جب ہم کہتے ہیں “اس کا چہرہ چاند جیسا ہے” تو درحقیقت ہم چہرے کی روشنی، صفائی اور خوبصورتی کو چاند کی روشنی اور صفائی سے جوڑ کر سامعین کے ذہن میں ایک زندہ اور چمکتی تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میں تشبیہ کے اشعار:
تم مرے پاس جو بیٹھو تو کوئی گیت کہوں
تم اگر پاس نہیں، ساز میں رکھا کیا ہے
وه عنبریں کی زلف پریشاں ہے ان دنوں
منزل ہے اور ایسے میں رہبر تلاش کرشفاواللّٰہ کوکب نے محبوب کی زلفوں کو “عنبر” خوشبودارماده سے تشبیہ دی ہے۔ “عنبرین کی زلف پریشاں” کا مطلب یہ ہے۔ کہ محبوب کی خوشبو دار اور بکھری ہوئی زلفیں کوکب کے جذبات کو مضطرب کر رہی ہیں۔
الماس آشتی کا محبت کا پیار کا
کوکب بھرے جہاں میں وہ ہیرا نہ مل سکا
شفاءاللّٰہ کوکب نے یہاں محبت کو “الماسِ آشتی” سے تشبیہ دی ہے۔ جو ایک نایاب اور قیمتی جوہر کی علامت ہے۔ “الماس آشتی” کا لفظ خود محبت کی اس خوبصورت انداز کو ظاہر کرتا ہے۔
استعارہ:
علم بیان کی اصطلاح میں استعارہ سے مراد وہ لفظ ہے۔ جو مجازی معنوں میں استعمال ہو اور اس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو۔ جب شیر کہہ کر بہادر آدمی،صنم کہہ کر محبوب اور چاند کہہ کر جینا مراد لیا جائے تو یہ استعارہ ہے۔
استعارہ شاعری اور نثر کی ایک اہم فنی اصطلاح ہے جو زبان کو خوبصورت اور معنویت سے بھرپور بنانے میں مدد دیتی ہے۔ استعارہ کا مطلب ہے کسی لفظ یا جملے کا اصل مطلب چھوڑ کر اُس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ یا تشبیہ دینا جو اُس چیز کی خصوصیات یا صفات کی عکاسی کرتا ہو۔ یہ ایک طرح کا پوشیدہ موازنہ ہوتا ہے۔ جس میں دو مختلف چیزوں کو آپس میں ملایا جاتا ہے۔ اس طرح استعارہ زبان کی خوبصورتی اور شاعری کی طاقت کو بڑھانے والا ایک بنیادی فنی عنصر ہے۔
بقول فراز ندیم
شفااللّٰہ کوکب کی شاعری میں استعارہ وہ بنیادی تخلیقی قوت ہے جو ان کے اشعار کو محض بیان نہیں رہنے۔ دیتی بلکہ ایک باطنی منظرنامے میں بدل دیتی ہے۔ کوکب کے ہاں استعارے کی تازگی اور نزاکت قاری کو ایک ایسے تجربے سے گزارتی ہے۔ جہاں لفظ اپنی ظاہری حدود توڑ کر معنوی وسعتیں پیدا کرتا ہے۔ وہ کائناتی عناصر، روزمرّہ کی اشیاء، انسانی جذبات اور روحانی کیفیات کو ایسے استعاروں میں ڈھالتے ہیں۔ جو بیک وقت سادہ بھی ہیں اور تہہ دار بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری بہت کم لفظوں میں گہرے معنوی دائرے قائم کرتی ہے”۔
شفاءاللّٰہ کوکب نے اپنی شاعری میں بہترین استعاروں کا استعمال کیا ہے ۔انہوں نے استعارات کے ذریعے اپنی شاعری کو خوبصورت
بنایا ہے۔
دریائی زندگانی میں دل ڈوبتا رہا
ہم کو محبتوں کا کنارہ نہ مل سکا
اشکوں سے جھلملاتی لڑی ٹوٹنے لگی
کوئی نہ غمگسار میرا دل اُداس ہے
یہاں پر شفاءاللّٰہ کوکب نے اشکوں سے جھلملاتی لڑی” آنسوؤں کو موتیوں کی چمکتی لڑی سے استعارہ دیا۔لڑی ٹوٹنے لگی” غم کی شدت اور صبر کے ختم ہونے کو لڑی کے ٹوٹنےکا استعارہ دیا گیا۔”
کنایہ:
کنایہ اردو ادب کی ایک اہم صنعی حسن ہے۔ جو لفظ یا جملے کو براہِ راست کہنے کی بجائے ضمنی یا پوشیدہ معنی میں استعمال کرتی ہے۔ کنایہ میں اصل مطلب چھپا ہوتا ہے۔ اور قاری کو معانی کو سمجھنے کے لیے تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔ جس سے شاعری میں گہرائی اور باریکی آتی ہے۔ یہ فن شاعری اور نثر دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ تاکہ بیان کو زیادہ مؤثر، پراثر اور دلچسپ بنایا جا سکے۔ کنایہ کے ذریعے شاعر اپنے جذبات، خیالات یا تنقید کو لطیف انداز میں پہنچاتا ہے۔ جو سامع یا قاری کی فہم اور ذہانت کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ اس کی بدولت شعر میں ایک تہہ داری پیدا ہوتی ہے۔ جو عام الفاظ کے مقابلے میں زیادہ دلکش اور معنی خیز ہوتی ہے۔
شفاواللّٰہ کوکب نے اپنی شاعری میں کنایہ کا بہت خوبصورت اور مؤثر استعمال کیا ہے ۔جو اس کے کلام میں گہرائی اور معنویت میں اضافہ کرتا ہے ۔
کیا خبر تھی بانجھ ہے اپنی زمین
ہم امیدوں کے شجر ہوتے رہے
زنجیر لے کے ہاتھ میں آئی ہے پھر بہار
میرے جنوں کو اب کے بھی صحرا نہ مل سکا
شفاواللّٰہ کوکب نے اس شعر میں کنایہ کی صورت میں “زنجیر” کا مطلب صرف جسمانی قید نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی بندش بھی قرار دیا ہے۔ “بہار” سے مراد محض موسم بہار نہیں بلکہ زندگی میں خوشی، آزادی اور امید کی حالت ہے۔
صنعتوں کا استعمال:
شاعری میں صنعتوں کا استعمال زبان و بیان کو حسن زور تاثیر اور فنی لطافت عطا کرتا ہے۔ صنعتوں سے مراد وہ فنی اور بیانیہ ہنر ہیں۔ جو شاعر اپنی بات کو مؤثر، دلنشین اور پُراثر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جیسے صنعت تجنیس صنعت تضاد، صنعت مراعات النظير، صنعت تکرار صنعت مبالغہ وغیرہ۔ یہ صنعتیں شاعر کے فن کی پختگی زبان پر قدرت اور تخیل کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر شاعر صنعت تضاد استعمال کرے۔ تو وہ ایک ہی شعر میں “رات” اور “دن”، “غم” اور “خوشی” جیسے الفاظ لا کر کلام میں شدت پیدا کرتا ہے۔ صنعت تجنیس اشعار کو صوتی لحاظ سے دلکش بناتی ہے۔ جبکہ صنعت مبالغہ قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ ان صنعتوں کے ذریعے شاعر نہ صرف اپنے احساسات کو مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ بلکہ قاری کی توجہ اور دلچسپی کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ اس طرح صنعتیں شاعری میں فنی حسن اور فکری گیرائی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
شفاواللّٰہ کوکب کی غزلوں میں کئی جگہ پر صنعتوں استعمال کا کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اسلوب متاثر کرنے والا ہے۔ ذیل میں چند مثالیں پیش ہیں:
صنعت تلمیح:
زبان کے ابتدائی دور میں چھوٹے چھوٹے سادہ خیالات اور معمولی چیزوں کے بتانے کے لیے الفاظ بنائے گئے تھے۔ رفتہ رفتہ انسان نے ترقی کا قدم اور آگے بڑھایا۔ لیے لیے قصوں اور واقعات و حالات کی طرف خاص خاص لفظوں کے ذریعے اشارے ہونے لگے۔ جہاں وہ الفاظ زبان پر آئے وہ قصے وہ واقعے آنکھوں کے سامنے پھر گئے ایسا ہر اشارہ تلمیح کہلاتا ہے ۔
کلام میں کسی فرضی یا تاریخی واقعے کسی آیت قرآنی، یا کسی مشہور شعر کی طرف اشارہ کرنا یا نجوم ، موسیقی ، ریاضی و غیره علوم کی اصطلاحات استعمال کرنا صنعت تلمیح کہلاتا ہے۔شفاءاللّٰہ کوکب نے اپنی شاعری میں صنعتوں کا استعمال بھی کیاہے ۔:مثال
اگر دیکھے صبح نور تو یہ مسکرا اٹھے
ظلمت شبوں کی دیکھ کے ڈرتی ہے زندگی
اک لمحہ میرے گھر میں ٹھہرتی ہے زندگی
بانی ارم کی طرح سنورتی ہے زندگی
اس شعر میں کوکب صاحب نے تلمیح کا نہایت خوبصورت استعمال کیا ہے۔ بانیٔ ارم کی ترکیب ایک تاریخی و قرآنی حوالہ رکھتی ہے۔ جو عاد قوم کے حکمران شدّاد کی جنتِ ارم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
صنعت تضاد:
تضاد کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ بغیر اس کے نہ کوئی کہانی بنتی ہے اور نہ کوئی شخصیت گہری ہوتی ہے۔صبح کی روشنی اندھیرے کے رحم و کرم پر کھڑی ہوتی ہے۔ محبت نفرت کے بغیر بے معنی لگتی ہے۔ اور سکون کی قدر اسی وقت سمجھ آتی ہے۔ جب طوفان ہمیں جھنجھوڑ چکا ہوتا ہے۔ انسان خود ایک چلتا پھرتا تضاد ہے۔
شفاواللّٰہ کوکب کی شاعری میں تضاد کا استعمال اس کی مہارت کا ثبوت ہے ۔اُن کے اشعار میں متضاد کیفیات اور الفاظ کو اس انداز سے یکجا کیا گیا ہے۔ کہ معنی میں شدت اور اثر آفرینی پیدا ہو گئی۔
ک ہم کہ اپنی ذات سے باہر نہ آ سکے
اک وہ کہ ساری بزم کے مہمان بن گئے
تنے ستم زمانے نے دل پر روا رکھے
اب اور اس کے ساتھ کیا کرتی ہے زندگی
اس شعر میں ستم اور زندگی جیسے الفاظ کے باہمی تضاد سے انسانی بے بسی زمانے کے جبر اور زندگی کے پیچیدہ رنگوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
صنعت مراعاۃ النظیر:
مراعاۃ النظیر اردو شاعری کی ایک اہم صنعت ہے جس میں ہم جنس یا ہم نوع الفاظ کو ایک ساتھ لا کر کلام میں حسن، تاثر اور فکری ہم آہنگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس صنعت کے ذریعے شاعر نہ صرف معنی میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ بلکہ قاری کو ایک مربوط فضا میں لے جاتا ہے۔ جہاں الفاظ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شعر میں “چاند، رات، تارے، روشنی، زلفیں” جیسے الفاظ اکٹھے آئیں۔ تو یہ سب رات، جمال اور حسن کی فضا کو ابھارتے ہیں اور معنوی ربط قائم کرتے ہیں۔ شفاء اللہ کوکب کی شاعری میں بھی مراعاۃ النظیر کا خوبصورت استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں وہ حسن، غم، تنہائی، اور فطرت جیسے موضوعات کے لیے ہم مفہوم اور ہم مزاج الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو ان کے اشعار کو نہ صرف جاذبِ نظر بناتے ہیں۔ بلکہ قاری کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس صنعت کے استعمال سے شاعری میں ایک داخلی موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔ جو معنی کے ساتھ ساتھ احساسات کو بھی گہرائی عطا کرتی ہے۔۔
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میں مراعاۃ النظیر کا استعمال فضا سازی اور شعری حسن پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ مثلاً ان کا شعر:
چاندنی ماہ و انجم کے سونو شیشہ نگر والو
فصیل شب پہ اُن زلفوں کی پرچھائی سی لگتی ہے
اس شعر میں “چاندنی، ماہ، انجم، شب، زلفیں، پرچھائی” جیسے الفاظ ایک ہی فکری دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی رات، جمال اور روشنی کے پیکر۔ یہ تمام الفاظ باہم معنوی مناسبت رکھتے ہیں۔ اور مراعاۃ النظیر کی خوبصورت مثال پیش کرتے ہیں۔ شاعر نے ان الفاظ کے ذریعے نہ صرف منظر کو مجسم کیا۔ بلکہ جمالیاتی تاثر کو بھی ابھارا ہے۔ ماہ، انجم، چاندنی، شب، زلفیں، پرچھائیں یہ سب الفاظ رات، روشنی، اندھیرے، جمال، حسن اور قدرتی مظاہر سے متعلق ہیں۔
مہیب راتیں” کی غزلیات کا فکری جائزہ
یاسیت اور محرومی:
شفاءاللّٰہ کوکب کے کلام میں فکری حوالے سے بڑا تنوع ہے اس میں غم کی ذکر ہے۔خوشی پر کلام ہے اور نا امیدی کا عنصر جگہ جگہ پایا جاتا ہے اور ان کا کلام نا امیدی کے موضوع سے بھرا پڑا ہے ان کے کلام میں نا اُمیدی ایک مستقل سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ وہ کبھی براہِ راست امید کو جھٹلاتے نہیں۔بلکہ امید کے مر جانے کا نوحہ لکھتے ہیں۔ ان کے ہاں انقلاب آیا مگر مزدور بھوکا ہی رہا۔ جدوجہد ہوئی مگر زمین کسان کے ہاتھ سے نہ آئی۔ محبت ہوئی مگر وصال نہ ہوا۔ دیے جلے مگر اجالا نہ آیا۔
یہ یاسیت صرف سیاسی ناکامیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ انسان بار بار دھوکہ کھاتا ہے۔ اپنوں سے، رشتوں سے، نظریات سے، انقلاب سے۔ شفاءاللّٰہ کی یاسیت میں ایک عجیب سی خاموش چیخ ہے جو آواز نہیں نکلتی۔ بس سینے میں دبی رہ جاتی ہے۔ مگر اسی یاسیت کے بیچ وہ ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ جب تک سانس ہے۔ جدوجہد ہے تب تک شاید کوئی دیا بچ جائے۔ شاید کسی دل کو مسیحا مل جائے۔ لیکن یہ “شاید” بھی اتنا کمزور ہوتا ہے کہ یاسیت ہی غالب رہتی ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری پڑھ کر انسان خود سے پوچھنے لگتا ہے کہ کیا واقعی کوئی امید بچی ہے یا ہم سب بس دیے جلاتے رہ جائیں گے اور اجالا کبھی نہ آئے گا۔
ان کے کلام میں ایک پوری نسل کی آہ ہے۔ یہ محض ذاتی مایوسی کا بیان نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی یاسیت کی آخری حد ہے۔ دل کو مسیحا نہ ملنا کوئی معمولی بات نہیں۔ مسیحا تو وہ ہوتا ہے جو مرے ہوئے کو زندہ کر دے زخمیوں کو شفا دے۔ جب دل کو بھی کوئی شفا دینے والا نہ ملے تو پھر زندگی کیا رہ جاتی ہے؟ اور پھر شاعر کہتا ہے کہ ہم نے دیپ تو جلائے مگر اجالا نہ مل سکا۔ یعنی ہم نے کوشش کی جدوجہد کی امید کے دیے جلائے۔ مگر اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ دیے بھی بجھ گئے۔ شفاءاللّٰہ کی پوری شاعری میں یہی آواز بار بار گونجتی ہے کہ ہم نے بہت کوشش کی بہت لڑائی لڑی، خواب دیکھے، دیے جلائے، مگر نتیجہ صرف مایوسی اور اندھیرا۔ وہ یاسیت کو اتنی گہرائی سے محسوس کرتے ہیں کہ قاری کا دل بھی بھاری ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس دکھ کے ساتھ سب کا سروکار ہے
اس دل کو اپنا کوئی مسیحا نہ مل سکا”
“ہم نے جلائے دیپ اجالا نہ مل سکا
حقیقت کی تلاش:
رات کے وقت جب گھومنا ممکن نہ رہے اور ویرانی کا سماں ہو تو شفاءاللّٰہ طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ جب رات کو گھومنا محفوظ نہیں تو آؤ دن میں گھوم پھر کر دنیا دیکھ لیں۔ یہ طنز نہ صرف ذاتی خوف بلکہ پوری بستی اور معاشرے پر چھائے ہوئے جبر کی تصویر کشی کرتا ہے۔ جہاں آزادی سلب ہو چکی تھی اور لوگ خاموشی سے سہتے رہے۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں یہ جبر صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے۔ جہاں غریب عوام استحصال کا شکار تھے۔
شفاءاللّٰہ کوکب کی پوری شاعری میں یہ خوف اور جبر بار بار مختلف رنگوں میں لوٹتا ہے۔ کبھی وہ مزدور کی شکل میں آتا ہے جس کی محنت کو لوٹ لیا جاتا ہے۔کبھی کسان کی شکل میں جس کی زمین چھین لی جاتی ہے۔کبھی عورت کی شکل میں جس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ کبھی بچے کی شکل میں جسے سکول جانے سے پہلے خوف سکھایا جاتا ہے۔ ان کے ہاں جبر صرف سیاسی نہیں معاشی، سماجی، ثقافتی، سب کچھ ہے۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سینے سے خون نکال کر کاغذ پر رکھ رہا ہو۔ ان کی زبان سادہ ہے مگر اتنی تیز ہے کہ دل میں اترتے ہی زخم بنا دیتی ہے۔ وہ کبھی براہِ راست آمریت کو گالی نہیں دیتے بلکہ اس کے اثرات کو اتنی شدّت سے دکھاتے ہیں کہ قاری خود چیخ اٹھتا ہے۔ ان کی شاعری میں خوف ایک زندہ کردار ہے—وہ گلیوں میں چلتا ہے، دروازوں پر دستک دیتا ہے، خوابوں میں گھس آتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خاموشی کو بھی خوفزدہ کر دیتا ہے۔ مگر اسی خوف کے بیچ شفاءاللّٰہ امید کی ایک پتلی سی لکیر بھی کھینچتے ہیں۔ وہ لکیر جو بتاتی ہے کہ جب تک کوئی شخص اس خوف کو نام دے رہا ہے۔ تب تک وہ مکمل طور پر جیت نہیں سکا۔ اسی لیے ان کی شاعری آج بھی پڑھنے والوں کے اندر ایک عجیب سی ہمت جگاتی ہے—وہ ہمت جو خوف کے سامنے کھڑے ہونے کی ہوتی ہے۔
شفاءاللّٰہ کوکب کی مجموعی شاعری ان کے زمانے کے حالات کے جبر اور خوف سے بھری پڑی ہے۔ جو ایک حساس شاعر کی طرح معاشرے کی نبض کو پکڑتی ہے۔ ان کے کلام میں مزدوروں کی محنت کی کوئی قدر نہیں، زمین داروں اور سرمایہ داروں کا جبر، غربت کی اذیت، اور سیاسی آمریت کی سختیاں بار بار نظر آتی ہیں۔ وہ خوف کو صرف فوجی بوٹوں کی آہٹ تک محدود نہیں کرتے بلکہ یہ خوف دلوں میں اتر چکا ہے۔ جہاں لوگ اپنی آواز بلند کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان کی شاعری میں امید کی کرن بھی نظر آتی ہے مگر وہ جبر کے سایہ تلے دبی ہوئی ہے۔ دیے گئے شعر کی طرح ان کے اور اشعار میں بھی زندگی کی سادگیوں سے محرومی اور خوف کی فضا کو بیان کیا گیا ہے۔ جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ شفاءاللّٰہ کوکب کا انداز سادہ مگر گہرا ہے۔ جو عوامی زبان میں درد بیان کرتا ہے اور حالات کے جبر سے لڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کی شاعری آج بھی موجودہ دور کے مسائل سے مطابقت رکھتی ہے جہاں خوف اور جبر کا راج ہے
بستی پہ خوف طاری ہے اے شب وصال
آ گھوم پھر کے سارا سنسار دیکھتے ہیں
احساس محرومی:
شفاءاللّٰہ کہتے ہیں کہ میرا جنوں اتنا شدید ہے۔ اتنا بے لگام ہے کہ اب تو صحرا بھی اسے جگہ نہیں دے رہا۔ یعنی جنون شہر سے نکل کر صحرا تک پہنچ گیا۔ اور اب صحرا بھی تنگ پڑ گیا۔ یہ جنون اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے کوئی سرحد، کوئی حدود، کوئی موسم، کوئی جگہ سمو نہیں سکتی۔ یہ جنون عشق کی وہ آگ ہے جو نہ صرف عاشق کو جلاتی ہے بلکہ سارے جہان کو بھسم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں یہ جنون محض رومانوی پاگل پن نہیں۔ یہ ایک وجودی بغاوت ہے جو ہر قسم کی زنجیروں—سماجی، سیاسی، معاشی، ثقافتی—کو توڑ دینا چاہتی ہے۔
شفاءاللّٰہ کے ہاں جنون کی کیفیت ایک مسلسل اضطراب ہے۔ ایک بے چین بھٹکاؤ ہے جو کبھی چین نہیں لیتا۔ وہ عاشق جو عشق میں ڈوب کر بھی سکون نہیں پاتا۔ بلکہ اور زیادہ بے چین ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں عاشق مجنوں نہیں بنتا۔ وہ مجنوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ مجنوں کو کم از کم لیلیٰ کا خیال تھا، صحرا تھا، کوئی نہ کوئی سہارا تھا۔ شفاءاللّٰہ کا عاشق وہ ہے جسے اب سہارا بھی سہارا نہیں لگتا۔ وہ زنجیروں میں بھی جنوں کرتا ہے۔ قید میں بھی بھٹکتا ہے۔ موت کے منہ میں بھی عشق کی بات کرتا ہے۔ ان کا جنون ایک ایسی آگ ہے جو پانی سے نہیں بجھتی۔ بلکہ پانی ڈالنے سے اور بھڑھ جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ عشق اب کوئی احساس نہیں رہا۔ایک عذاب بن گیا ہے۔مگر اسی عذاب میں عاشق کو زندگی کا سب سے بڑا مزہ مل رہا ہے۔ یہ جنون اتنا شدید ہے کہ عاشق خود کو بھی بھول جاتا ہے۔ اپنا وجود بھی کھو دیتا ہے۔ اور صرف عشق ہی عشق رہ جاتا ہے۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں یہ جنون کبھی روتا ہے، کبھی ہنستا ہے، کبھی چیختا ہے، کبھی خاموش ہو جاتا ہے—مگر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
شفاءاللّٰہ کوکب کا جنون محض عشق تک محدود نہیں۔ وہ سماجی جبر کے خلاف بھی ایک پاگل پن ہے۔ ایک دیوانگی ہے جو ہر قسم کی غلامی کو ناپسند کرتی ہے۔ وہ جنون جو زنجیروں کو دیکھ کر بھی ہنستا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ زنجیریں جسم کو تو باندھ سکتی ہیں مگر روح کو نہیں۔ ان کی شاعری میں جنون ایک ایسی قوت ہے جو شکست خوردہ نہیں مانتی۔ چاہے کتنی ہی بہاریں زنجیریں لے کر آئیں۔ چاہے کتنے ہی صحرے تنگ ہو جائیں۔ یہ جنون آخر میں ایک طرح کی رہائی بن جاتا ہے—وہ رہائی جو موت میں بھی ہو سکتی ہے فنا میں بھی ہو سکتی ہے۔ شفاءاللّٰہ کا عاشق کو اسی جنون کی بدولت امر کر دیتے ہیں۔ وہ عاشق جو نہ مرتا ہے، نہ جیتا ہے، نہ ہارتا ہے—وہ بس جنوں کرتا رہتا ہے، اور اسی جنوں میں اس کی سب سے بڑی فتح ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر لگتا ہے کہ حقیقی زندگی اسی جنون میں ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے۔ باقی سب قید ہے۔ اور جب تک یہ جنون زندہ ہے عاشق زندہ ہے۔
زنجیر لے کے ہاتھ میں آئی ہے پھر بہار
میرے جنوں کو اب کہ بھی صحرا نہ مل سکا
ہمدردی کا احساس:
ترقی پسند تحریک کا اثر ہر شاعر پر کسی نہ کسی حدتک ضرور ہے کیوں کہ کوئی بھی شاعر غریب کی حالت زار دیکھ لیتا ہے تو بے چلا اٹھتا ہے
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میں ترقی پسند عنصر اس بات میں سب سے زیادہ نمایاں ہے کہ وہ غریب کو ہمیشہ محکوم نہیں رکھتے اسے باغی بناتے ہیں۔ وہ مزدور کی ہتھولی کو دیکھتے ہیں۔ کسان کی جھکی کمر کو دیکھتے ہیں۔ بچوں کی بھوکی آنکھوں کو دیکھتے ہیں اور چیختے ہیں کہ یہ سب ظلم ہے۔ یہ قابلِ قبول نہیں۔ ان کے ہاں غریب کا درد محض نوحہ نہیں، ایک الزام ہے حکمرانوں پر، سرمایہ داروں پر، جاگیرداروں پر۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہر لفظ میں مزدور کی پسینہ کی بو آ رہی ہے، کسان کی مٹی کی مہک ہے، ماں کی روتی آواز ہے۔ وہ غریبوں کو بتاتے ہیں کہ تمہاری بھوک کوئی قسمت نہیں، یہ لوٹ کا نتیجہ ہے۔ تمہاری غربت کوئی گناہ کی سزا نہیں، یہ استحصال کا ثبوت ہے۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں ترقی پسند عنصر ایک مسلسل بے چینی ہے، ایک ہتھوڑا ہے جو سرمایہ داری کی دیواروں پر بار بار مارتا ہے۔ وہ کبھی تسلی نہیں دیتے، ہمیشہ بیدار کرتے ہیں۔ ان کا غریب خاموش نہیں رہتا، وہ اٹھتا ہے، لڑتا ہے، مرتا بھی ہے تو مرتے وقت بھی ظالم کے منہ پر تھوکتا ہے۔ یہ وہی ترقی پسند جذبہ ہے جو فیض، جوش، ساحر اور راشد میں ملتا ہے مگر شفاءاللّٰہ کی آواز میں ایک الگ درد ہے۔ پنجاب کی مٹی کا درد، غریب کسان کا درد، جو شہری ترقی پسندوں سے زیادہ کھردرا اور سچا ہے۔
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری کا ترقی پسند ہونا اس بات میں بھی ہے کہ وہ امید کو کبھی مذہبی جنت تک محدود نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنت زمین پر بھی بن سکتی ہے اگر غریبوں کا مسیحا اٹھے، اگر مزدور اپنا حق مانگے، اگر کسان بیج کے ساتھ بندوق بھی اٹھائے۔ ان کی شاعری میں انقلاب کوئی خواب نہیں۔ ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ وہ غریبوں کو بتاتے ہیں کہ تمہاری دعا قبول ہوگی مگر صرف دعا سے نہیں، جدوجہد سے، قربانی سے، خون سے۔ وہ خود کو بھی اسی جدوجہد کا حصہ بناتے ہیں۔ اپنی شاعری کو ہتھیار بناتے ہیں۔ ان کا لہو غریبوں کے لیے بہتا ہے۔ ان کی آواز غریبوں کی آواز بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آج بھی گاؤں گلیوں میں، فیکٹریوں میں، کھیتوں میں گائی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ شاعر نہیں غریبوں کا ترجمان ہیں۔ یہ شعر اور ان کی طرح ان کے سینکڑوں اشعار ترقی پسند تحریک کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ شاعری محض خوبصورت لفظ نہیں ایک انقلاب بھی ہو سکتی ہے۔ ایک آگ بھی جو ظلم کی اینٹوں کو پگھلا دے۔ شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔کیونکہ غریب اب بھی موجود ہے اس کا کلام اس سے مطابقت رکھے گا۔
شام فقط ایک دعا لب پہ میرے
کوئی دنیا میں غریبوں کا بھی ہو رب کی طرح
محبوب کی جدائی کا غم:
حسن و عشق سے بھی شعرا متاثر ہوتے ہیں شفاءاللّٰہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ان کے کام میں یہ اثر بھرپور انداز سے مل جاتا ہے۔ لیکن شفاءاللّٰہ کی رومانویت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کبھی سطحی نہیں ہوتی ہمیشہ گہری اور وجودی ہوتی ہے۔ وہ عشق کو محض جسم کا معاملہ نہیں سمجھتے
نہ صرف دل کا، بلکہ روح کا، وجود کا، زندگی اور موت کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کے عاشق کو اگر محبوب نہ ملے تو وہ مر جاتا ہے۔ مگر مر کر بھی زندہ رہتا ہے۔ کیونکہ ان کا عشق فنا کا عشق ہے۔ مر مٹنے کا عشق ہے۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ تمہارے بغیر میری راتیں اندھیری ہیں۔ مگر تمہارے ساتھ بھی شاید اندھیری ہی رہیں۔ کیونکہ میرا عشق اتنا شدید ہے کہ وصال بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں محبوب ایک خواب ہے۔ ایک آرزو ہے، ایک وہ چیز ہے جو ہاتھ آتے آتے چھن جاتی ہے۔ اسی لیے ان کا عاشق ہمیشہ بھٹکتا رہتا ہے۔ صحرا میں، شہر میں، رات میں، دن میں۔ ان کی رومانویت میں فطرت بہت بولتی ہے۔چاند، تارے، بہار، خزاں، ہوائیں، پھول سب عاشق کے ساتھ روتے ہیں۔ سب اس کے درد میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر یہ فطرت بھی بے وفا ہوتی ہے۔ کیونکہ بہار آتی ہے مگر وصال نہیں لاتی، صبح ہوتی ہے مگر اجالا دل میں نہیں اترتا۔ اسی لیے ان کی رومانویت میں ایک مسلسل ادھورا پن ہے، ایک خلا ہے، جو قاری کو بھی بے چین کر دیتا ہے۔
شفاءاللّٰہ کی رومانوی شاعر ہوتے ہوئے بھی ترقی پسند ہیں، اسی لیے ان کی رومانویت کبھی خود غرضی تک محدود نہیں رہتی۔ وہ اپنے عشق کو معاشرے کے درد سے، غریبوں کی چیخ سے، ظلم کی آواز سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کا عاشق جب کہتا ہے “دو گام ذرا ساتھ چلو” تو وہ صرف اپنے لیے نہیں مانگ رہا، وہ پوری انسانیت کے لیے مانگ رہا ہے کہ کوئی تو آئے جو اس اندھیرے سے نکالے۔ ان کی رومانویت میں ایک عظیم سماجی پیغام چھپا ہے۔ کہ حقیقی وصال، حقیقی صبحِ درخشاں تب ہی آئے گی۔ جب غریبوں کا مسیحا اٹھے گا۔ جب ظلم ختم ہوگا، جب زنجیریں ٹوٹیں گی۔ اسی لیے ان کا عشق محض ذاتی نہیں اجتماعی بھی ہے۔ وہ محبوب سے جو کہتے ہیں۔ دراصل پوری دنیا سے کہتے ہیں۔ ان کی رومانویت درد ہے، جدائی ہے، مگر اسی درد میں ایک عظیم امید بھی ہے۔ وہ امید جو کہتی ہے کہ اگر دو گام بھی ساتھ چل لیے تو صبح ضرور درخشاں ہوگی۔ یہی شفاءاللّٰہ کی رومانویت کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ وہ ہجر میں بھی وصال کی آرزو رکھتی ہے۔ اندھیرے میں بھی اجالے کی تلاش کرتی ہے اور یہ ہی بہت بڑی بات ہے ۔شفاءاللّٰہ کوکب نے اس پر خوب لکھا ہے ۔
دو گام ذرا ساتھ چلو صبح درخشاں
ہم ہجر کے مارے ہیں شب غم کے ستائے
معاشرے کی حقیقت:
شفاءاللّٰہ کوکب کی پوری شاعری میں یہ درد ایک مسلسل دھڑکن کی طرح موجود ہے۔ کہ خوشی کے دنوں میں انسان کو لگتا ہے کہ دنیا بہت خوبصورت ہے، رشتے بہت مضبوط ہیں، دوست سچے ہیں، مگر جیسے ہی ایک آفت آتی ہے۔ وہی دنیا بدصورت ہو جاتی ہے، وہی رشتے کاغذ کے پھول نظر آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ خوشحالی میں تو محلے والا بھی بھائی بن جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی تکیہ ہسپتال کا ہوا تو وہی بھائی بہانے ڈھونڈنے لگتا ہے۔ ان کی نظر میں یہ انسانی فطرت کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ کہ ہم دوسروں کی قدر ان کی حالت سے لگاتے ہیں۔ نہ کہ ان کے وجود سے شفاءاللّٰہ اسے طنز سے بھی کہتے ہیں اور درد سے بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک جیب میں پیسہ ہے، دل میں محبت ہے، منہ پر مسکراہٹ ہے، تب تک میلہ لگا رہتا ہے، مگر جیسے ہی آنکھ میں آنسو آیا، سب بھاگ جاتے ہیں۔ یہ اکیلا پن اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان خود کو بھی بوجھ لگنے لگتا ہے۔ شفاءاللّٰہ کا عاشق، ان کا مزدور، ان کا کسان، ان کا غریب، سب اسی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں جب ان کی بہار ختم ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شفاءاللّٰہ اس تلخ حقیقت کو قبول کرنے کے بعد بھی انسانیت پر یقین نہیں چھوڑتے۔ وہ کہیں نہ کہیں لکھتے کہ سب جھوٹے ہیں، سب پرائے ہیں۔ وہ بس یہ درد بیان کرتے ہیں تاکہ انسان خود کو دیکھے، اپنے رشتوں کو پرکھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم واقعی کسی کے ہو تو اس کی مشکل میں اس کا ساتھ دو۔ اس کی ناکامی میں اس کا ہاتھ تھامو۔ تب تم سچے اپنے بنو گے۔ ورنہ یہ میلہ تو ہر بہار میں لگتا رہے گا اور ہر خزاں میں اڑ جائے گا۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری اسی لیے آج بھی کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ کیونکہ ہم سب نے یہ منظر دیکھا ہے۔ کسی کے جنازے پر بھیڑ اور کسی کی بیماری میں خالی کمرہ وہ ہمیں بتاتے ہیں۔ کہ حقیقی رشتہ وہی ہے جو مشکل میں ساتھ کھڑا ہو۔ باقی سب میلے کا رش ہے۔ جو بہار کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب انسان اس حقیقت کو مان لیتا ہے۔ تو اس کی تنہائی اور گہری ہو جاتی ہے۔ مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی طاقت بھی آتی ہے۔
اب فصل بہاراں ہے تو میلہ سا لگا ہے
مشکل میں تو ہو جاتے ہیں اپنے بھی پرائے
زندگی کی تلخیاں:
شفاءاللّٰہ کوکب کا غم ہمہ جہت ہے اور اس کے بہت سے رخ ہیں جن کو فراموش اور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے شفاءاللّٰہ کا غم کبھی ایک رنگ کا نہیں ہوتا۔ کبھی وہ غریب کسان کا ہے۔ جس کی فصل جل گئی ہے ۔کبھی مزدور کا ہے۔ جس کی محنت لوٹ لی گئی۔ کبھی عاشق کا ہے جس کا محبوب بے وفا نکلا۔ کبھی انسان کا ہے۔ جو اپنوں سے دھوکہ کھا گیا۔ مگر سب غموں کی جڑ ایک ہی ہے—یہ دنیا، یہ دہر، جو کبھی وفا نہیں کرتا۔ ان کی شاعری میں غم ایک سمندر ہے جس میں انسان ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ اور کنارہ نظر نہیں آتا۔ وہ جامِ جہاں کیف کو ہونٹوں سے لگانا دراصل اس غم سے بھاگنے کی آخری کوشش ہے۔ مگر وہ کوشش بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ کیونکہ شفاءاللّٰہ کوکب جانتے ہیں کہ غم کو بھلانے کے لیے پینے سے کچھ نہیں ہوتا، غم تو دل میں بیٹھا رہتا ہے۔ نشہ اترتے ہی اور زیادہ شدت سے لوٹ آتا ہے۔ ان کا غم خاموش نہیں، بولتا ہے، چیختا ہے، لعنت بھیجتا ہے۔ مگر پھر بھی انسان اسے چھوڑ نہیں پاتا۔کیونکہ اس غم میں ہی اس کی شناخت ہے، اس کی شاعری ہے، اس کی زندگی ہے۔اور جب وہ اس غم کو بیان کرتے ہیں تو قاری خود اپنے اندر جھانکتا ہے اور دیکھتا ہے کہ یہ میرا بھی غم ہے۔
شفاءاللّٰہ کا غم محض شکوہ نہیں، ایک سوال بھی ہے۔ وہ خدا سے، دنیا سے، اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ غم اتنا کیوں ہے؟ کیوں انسان کو اتنا دکھ دیا گیا؟ مگر جواب نہیں ملتا۔ اسی لیے وہ جام کو ہونٹوں سے لگائے رکھتے ہیں نہ پیتے ہیں، نہ چھوڑتے ہیں۔ یہ کیفیت غم کی آخری حد ہے جہاں انسان نہ جینا چاہتا ہے نہ مرنا۔ شفاءاللّٰہ کی شاعری میں یہ غم کبھی کمزوری نہیں بنتا، طاقت بنتا ہے۔ وہ اس غم سے لڑتے بھی ہیں، اسے گاتے بھی ہیں، اسے جیتے بھی ہیں۔ ان کا غم ترقی پسند بھی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ غم صرف ان کا نہیں، غریب کا ہے، مزدور کا، کسان کا، عورت کا، بچے کا ہے۔ اسی لیے وہ اس غم کو آواز دیتے ہیں تاکہ وہ چیخ بن جائے، بغاوت بن جائے۔ مگر پھر بھی وہ جام ہونٹوں سے لگا رہتا ہے، کیونکہ مکمل نجات نہیں ملتی۔ شفاءاللّٰہ کا غم زندہ ہے، سانس لیتا ہے۔ اور جب تک یہ کائنات موجود ہوگی۔ ان کے شعر سنے جائیں گے
الجھا ہوں غم دہر میں مدت ہوئی کوکب
اک جام جہاں کیف کو ہونٹوں سے لگائے
بچھڑنے کا دکھ:
شفاءاللّٰہ کوکب کی پوری شاعری دکھ سے بھری پڑی ہے۔ مگر یہ دکھ کبھی خود غرضی کا نہیں ہوتا۔ ان کا عاشق جب روتا ہے تو اس کی آنکھوں میں صرف اپنی کوکب نہیں، ساری دنیا کی کوکبیں نظر آتی ہیں۔ جو بچھڑ گئیں۔ وہ جب اداس ہوتے ہیں تو ان کی اداسی میں غریب کی بیٹی بھی شامل ہوتی ہے۔ جو راتوں کو بھوک سے روتی ہے۔ کسان کی بیوی بھی جو شوہر کی لاش اٹھاتی ہے۔ مزدور کی ماں بھی جو بیٹے کی لاش فیکٹری کے گیٹ پر دیکھتی ہے۔ ان کا دکھ ذاتی جدائی سے نکل کر اجتماعی درد بن جاتا ہے۔ وہ جب کہتے ہیں “میرا دل اداس ہے” تو دراصل پوری بستی اداس ہو جاتی ہے، پورا گاؤں رو پڑتا ہے۔ ان کا دکھ کبھی شور نہیں کرتا، بس آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے، اور جب وہ لکھتے ہیں تو آنکھوں سے پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ دکھ جو راتوں کو جگاتا ہے، خوابوں میں آتا ہے، سانسوں میں گھل جاتا ہے۔ شفاءاللّٰہ کا دکھ اتنا سچا ہے کہ جھوٹ بولنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ شفاءاللّٰہ اس دکھ میں ڈوب کر بھی ڈوبتے نہیں۔ وہ دکھ کو گاتے ہیں اسے پیار کرتے ہیں، اسے سینے سے لگاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ دکھ ہی تو انسان کو انسان بناتا ہے۔ وہ جب کسی کے جانے پر اداس ہوتے ہیں تو ان کی اداسی میں ایک عجیب سی خوبصورتی ہوتی ہے، جیسے خزاں میں بھی کوئی پھول کھل جائے۔ وہ دکھ کو شکوہ نہیں بننے دیتے، اسے شاعری بنا دیتے ہیں۔ ان کی اداسی کبھی کالا رنگ نہیں، ایک گہرا نیلا رنگ ہے، سمندر جیسا، آسمان جیسا۔ وہ جب روتے ہیں تو آنسوؤں میں بھی کوئی بات ہوتی ہے، کوئی پیغام ہوتا ہے۔ ان کا دکھ ہمیں رلانے نہیں، جگانے آتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ جدائی ہوتی ہے، بچھڑنا ہوتا ہے، دل ٹوٹتا ہے، مگر اس ٹوٹے دل میں ہی کوئی نیا پھول اگتا ہے، کوئی نئی بہار چھپی ہوتی ہے۔ شفاءاللّٰہ کا دکھ اداس کرتا ہے، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سا سکون بھی دیتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں، کسی کے جانے کا دکھ تو شفاءاللّٰہ بھی اٹھا چکے ہیں
کچھ اس ادا سے کوکب پھولوں کے شہر سے
رخصت ہوئی بہار مرا دل اداس ہے
تنہائی کا احساس:
شفاءاللّٰہ کوکب کی شاعری میں غم کوئی عارضی مہمان نہیں، مستقل رہائشی ہے۔ وہ غم کو چھپاتے نہیں، اسے کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہے جیسے کوئی زخمی شخص اپنا زخم دکھا رہا ہو اور کہہ رہا ہو: “دیکھو، یہ درد ہے، یہ خون ہے، یہ سچ ہے۔” ان کا غم کبھی خود نوازی نہیں کرتا، ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتا ہے۔ وہ اپنے لیے نہیں روتے، غم کے ماروں کے لیے روتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں تو اس میں پورے گاؤں کی عورتیں نظر آتی ہیں۔ پورے کھیتوں کے کسان، پورے کارخانوں کے مزدور۔ وہ غم کو اتنا گہرا کر دیتے ہیں۔ کہ وہ درد سے نکل کر غصہ بن جاتا ہے۔ پھر بغاوت بن جاتا ہے۔ مگر اس بغاوت کے بیچ بھی ایک عجیب سی معصومیت ہوتی ہے۔ ایک بچے جیسا سوال ہوتا ہے: “بھلا ہمارا قصور کیا تھا؟”
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ شفاءاللّٰہ اتنا بڑا غم اٹھا کر بھی ٹوٹتے نہیں۔ وہ غم کو سینے سے لگاتے ہیں، اسے گاتے ہیں، اسے شاعری بناتے ہیں۔ ان کا غم کبھی سیاہ نہیں ہوتا۔ ایک گہرا سرخ ہوتا ہے۔ خون جیسا، زندگی جیسا۔ وہ جانتے ہیں کہ غم کے ماروں کی خبر لینے والا کوئی نہ آیا تو بھی ان کی آواز تو ہے۔ ان کا قلم تو ہے۔ اسی لیے وہ لکھتے رہتے ہیں، روتے رہتے ہیں، چیختے رہتے ہیں۔ ان کا غم آخر میں ایک عظیم امید بن جاتا ہے۔ وہ امید جو کہتی ہے کہ جب تک کوئی ایک شخص بھی غم کے ماروں کی خبر لے گا۔ تب تک انسانیت مرے گی نہیں۔ شفاءاللّٰہ کا غم ہمیں رلانے نہیں آتا، ہمیں جگانے آتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے۔ کہ اگر ہم نے غم کے ماروں کی خبر نہ لی تو ہم خود غم کے سب سے بڑے مارے ہو جائیں گے۔ اور جب تک یہ شعر پڑھا جاتا رہے گا۔ کوئی نہ کوئی اٹھے گا
تم نے کوئی خبر نہ لی ہمدم
حال کیسے ہیں غم کے ماروں کے
فکر مایوسی:
شفاءاللّٰہ کا حسن ہمیشہ جدائی، غم اور سماجی جبر کے پس منظر میں کھڑا ہوتا ہے۔ وہ خوبصورت چہرہ جب رخصت ہو جاتا ہے۔ جب شادی کے بعد پردے میں چھپ جاتا ہے۔ جب غربت کی وجہ سے بک جاتا ہے۔ تب وہ حسن اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔ ان کی نظر میں حسن کوئی آرائش نہیں، ایک درد ہے، ایک سوال ہے۔ وہ لڑکی جو خوبصورت ہے۔ اسی وجہ سے اس پر ظلم زیادہ ہوتا ہے۔ اسے جہیز کے نام پر جلایا جاتا ہے، اسے غیرت کے نام پر مار دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شفاءاللّٰہ کا حسن کبھی خوشی کا باعث نہیں۔ غم کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ جتنا حسن دیکھتے ہیں۔ اتنا ہی اس کے پیچھے چھپا درد دیکھتے ہیں۔ ان کا حسن کبھی خود غرض نہیں، ہمیشہ دوسروں کے لیے قربان ہوتا ہے۔ ماں کا حسن بیٹوں کے لیے، بہن کا حسن بھائیوں کے لیے، بیوی کا حسن شوہر اور بچوں کے لیے۔ اسی لیے وہ ستاروں سے حسن مانگنے سے انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ ستارے تو دور ہیں۔ ان کا زمینی حسن تو قربان ہو رہا ہے۔
اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ شفاءالل حسن کو صرف عورت تک محدود نہیں کرتے۔ ان کے ہاں کسان کا پسینہ بھی خوبصورت ہے۔ مزدور کی ہتھولی بھی خوبصورت ہے۔ بچے کی معصومیت بھی خوبصورت ہے۔ ماں کا روپ بھی خوبصورت ہے۔ وہ حسن کو صرف چہرے کی بات نہیں۔ زندگی کی بات مانتے ہیں۔ ان کی نظر میں جو شخص سچ بولتا ہے۔ جو محنت کرتا ہے۔ جو دوسروں کے دکھ میں شریک ہوتا ہے۔ وہ سب سے خوبصورت ہے۔ اسی لیے وہ کہتکہ ہم نے سب پری چہرے دیکھ لیے۔ اب آسمان کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سچا حسن تو زمین پر ہی ہے۔ بس اسے دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔ شفاءاللہ کی آنکھ ایسی ہی ہے۔اسی لیے ان کی شاعری میں حسن کبھی جھوٹا نہیں لگتا، ہمیشہ سچا، زندہ اور درد بھرا لگتا ہے۔ وہ حسن کو گاتے نہیں، اس کے لیے روتے ہیں۔ اس کے لیے لڑتے ہیں۔ اور اسے بچانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی بات تصور کرتے ہیں ۔
ہم نے دیکھے ہیں سب پری چہرے
تم حوالے نہ دو ستاروں کے
سکون کی تلاش:
شفاواللّٰہ کوکب جب بیاباں کی بات کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں پنجاب کا دیہی منظر جھلکتا ہے۔ کھیتوں کی ہریالی، نہروں کا پانی، پرندوں کی چہچہاہٹ، گاؤں کی سادہ زندگی۔ شہر نے جو کچھ ان سے چھینا۔ سادگی، خلوص، انسانیت۔ وہ سب دیہی زندگی میں واپس ملتا ہے۔ ان کے لیے کٹیا کوئی عارضی پناہ نہیں۔ ایک مکمل تہذیبی متبادل ہے۔ وہ شہر کو سرمایہ داروں کا ٹھکانا سمجھتے ہیں۔ جہاں مزدور کا پسینہ چوسا جاتا ہے۔ جہاں کسان کی فصل لوٹی جاتی ہے۔ جہاں عورت کو بازار بنا دیا گیا ہے۔ اسی لیے وہ بار بار لکھتے ہیں کہ شہر مجھے دم گھونٹتا ہے۔ اس کی چکاچوند آنکھیں جلا دیتی ہے۔ اس کی تیز رفتاری روح کو کچل دیتی ہے۔ ان کا فرار ایک حساس انسان کا ردعمل ہے۔ جو ظلم دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہے۔ جو جھوٹ سن سن کر بیزار ہو چکا ہے۔ وہ بیاباں میں جا کر تنہا نہیں رہنا چاہتے۔ وہاں جا کر دوبارہ جینا چاہتے ہیں۔ سانس لینا چاہتے ہیں۔ اپنا آپ واپس پانا چاہتے ہیں۔
مگر شفاءاللّٰہ کا بیاباں محض جسمانی جگہ نہیں۔ ایک علامت بھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کٹیا بنا کر بھی شہر کا ظلم پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ اسی لیے ان کا فرار صرف جسمانی نہیں۔ ذہنی اور جذباتی بھی ہے۔ وہ شہر کے شور سے بھاگ کر فطرت کی خاموشی میں پناہ لیتے ہیں۔ تاکہ اپنی آواز دوبارہ سن سکیں۔ اپنا درد دوبارہ محسوس کر سکیں۔ ان کی شاعری میں یہ فرار کبھی ہار نہیں۔ ایک طاقت ہے۔ وہ تنہائی میں جا کر بھی اکیلے نہیں رہتے۔ وہاں جا کر غریبوں، کسانوں، مزدوروں کی آواز بن جاتے ہیں۔ ان کی کٹیا ایک خواب ہے۔ ایک خوابِ انقلاب ہے۔ جہاں نہ کوئی امیر ہو، نہ غریب، نہ ظالم ہو، نہ مظلوم۔ جب تک وہ خواب زندہ ہے۔ شفاءاللّٰہ کا بیاباں زندہ ہے، اور جب تک شہر ظلم کرتا رہے گا۔ شفاءاللّٰہ کی آواز چیختی رہے گی۔ “اک کٹیا کہیں دور بیاباں میں بنائیں”۔ یہی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبصورتی اور سب سے بڑی بغاوت ہے۔
نا امیدی :
شفاءاللّٰہ کی ناامیدی اس لیے اور بھی تلخ ہے۔ کہ وہ شروع سے امید کے شاعر تھے۔ انہوں نے انقلاب دیکھا۔ جدوجہد دیکھی۔ لوگوں کے اٹھنے دیکھے۔ نعرے سنے، پرچم لہرائے، مگر جب سب کچھ ختم ہوا تو وہی غریب بھوکا رہ گیا۔ وہی کسان کنویں میں ڈوب گیا۔ وہی مزدور فیکٹری میں مر گیا۔ ان کی ناامیدی اس اندرونی دھوکے سے جنم لیتی ہے۔ جو انسان کو اپنے خوابوں سے ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہے۔ جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر رو نہ سکے۔ بس چپ چاپ زمین کو گھورتا رہے۔ ان کی ناامیدی خاموش ہے۔ چیختی نہیں، بس دل میں بیٹھ کر کھاتے رہتی ہے۔ وہ امید کے شجر بوتے رہے۔ مگر جب زمین بانجھ نکلی تو امید بھی بانجھ ہو گئی۔ یہ ناامیدی اتنی مکمل ہے کہ اب وہ دعائیں بھی نہیں مانگتے۔ بس سوال کرتے ہیں۔ بس طنز کرتے ہیں۔ بس چپ ہو جاتے ہیں۔
مگر شفا اللہ کی ناامیدی کبھی مکمل ہار نہیں بنتی۔ وہ اس بانجھ زمین کو لعنت بھیجتے ہیں۔ اسے کوستے بھی ہیں۔ مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی ضد بھی رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زمین بانجھ ہے، مگر پھر بھی کبھی کبھی کوئی بیج ڈالتے رہتے ہیں۔ کوئی پودھا لگاتے رہتے ہیں۔ ان کی ناامیدی میں ایک گہرا درد ہے۔ مگر اس درد کے نیچے ایک چنگاری بھی دبی ہوتی ہے۔ وہ ناامید ہو کر بھی لکھتے رہتے ہیں، روتے رہتے ہیں، بولتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ جب تک کوئی ایک شخص بھی یہ کہے گا ۔کہ زمین بانجھ ہے۔ تب تک امید کا آخری بیج مرا نہیں۔ شفاءاللّٰہ کی ناامیدی ہمیں رلاتی ہے، مگر ساتھ ہی جگاتی بھی ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں۔ کہ اگر زمین واقعی بانجھ ہے۔ تو پھر اسے بانجھ ہی رہنے دو۔ مگر ہم اپنے دل میں امید کا شجر لگاتے رہیں۔ یہی ان کی ناامیدی کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ وہ ہار ماننے نہیں دیتی۔ بس سچ بولنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
کیا خبر تھی بانجھ ہے اپنی زمین
ہم امیدوں کے شجر بوتے رہے
زندگی کے مشکلات :
انہوں نے حادثوں کو صرف برداشت نہیں کیا۔ انہیں اپنی شاعری کا خون بنایا۔ جب ضیاء کا مارشل لاء آیا۔ تو ان کی آواز دبائی گئی۔ جب بھٹو کو پھانسی ہوئی۔ تو ان کا دل ٹوٹا۔ جب کسان خودکشی کرنے لگے تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ مگر وہ کبھی روئے نہیں۔ بس لکھتے رہے۔ ان کی شاعری میں ہر بڑا سماجی حادثہ ایک ذاتی سانحہ بن جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں تو لگتا ہےتقسیم ابھی کل ہوئی ہو۔ کوئی ابھی ابھی ماں کی لاش اٹھا کر لایا ہو۔ کوئی ابھی ابھی بھائی کو گولی لگی دیکھ کر چیخا ہو۔ ان کا قلم حادثوں کو محفوظ کرتا ہے۔ انہیں بھلنے نہیں دیتا، کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ کہ جب تک یہ حادثے یاد رہیں گے۔ ظلم دوبارہ سر نہ اٹھا سکے گا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں کوئی میٹھی تسلی نہیں۔ بس ایک کڑوا سچ ہے۔ کہ زندگی حادثوں سے ہی لکھی جاتی ہے۔ اور جو ان سے بچنا چاہے وہ جینا چھوڑ دے۔
مگر شفاءاللّٰہ کے ہاں حادثوں کے بیچ بھی ایک عجیب سی ہمت ہے۔ وہ ہار نہیں مانتے، گرتے ہیں تو اٹھتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں تو گاتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ہر انقلاب ایک نیا سانحہ لے کر آیا۔ ہر بہار کے بعد خزاں آئی۔ ہر وعدے کے بعد دھوکہ ملا۔ مگر پھر بھی وہ لکھتے رہے، لڑتے رہے۔ ان کی شاعری حادثوں کی گواہی بھی ہے۔ اور ان سے لڑنے کا ہتھیار بھی۔ وہ کہتے ہیں۔ کہ حادثے تو ہوتے رہیں گے۔ مگر انسان کو مرنے سے پہلے ایک بار ضرور کھڑا ہونا چاہیے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی مرقوم ہے حادثوں سے، مگر اسی مرقوم زندگی کو انہوں نے ایسی شاعری میں ڈھال دیا جو ہر حادثے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ جو ہر ظلم کے بعد بھی اٹھ کر کہتی ہے: “ہم ہیں، ہمارا درد ہے، ہماری آواز ہے۔” یہی شفاءاللّٰہ کی عظمت کی دلیل ہے
حادثوں سے زندگی مرقوم ہے
حادثے تو عمر بھر ہوتے رہے
غریب اور امیر کے حالات:
شفاءاللّٰہ کی شاعری میں یہ فرق ہر دم بڑھتا ہی نظر آتا ہے۔ کبھی کم نہیں ہوتا۔ امیر امیر تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے محل اونچے ہوتے جاتے ہیں۔ اس کی گاڑیاں نئی سے نئی ہوتی جاتی ہیں۔ اس کے بچے لندن پڑھنے جاتے ہیں۔ اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کی جھونپڑی ٹوٹتی ہے۔ اس کا بچہ سکول جانے کے بجائے فیکٹری میں کام کرنے لگتا ہے۔ اس کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھ جاتی ہے یا مر جاتی ہے۔ شفاءاللّٰہ لکھتے ہیں کہ قانون امیر کے لیے ہے۔ انصاف امیر کے لیے ہے۔میڈیا امیر کے لیے ہے۔ اور غریب کے لیے بس جیل، ہسپتال کی لائن، یا قبر۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہر نیا “ترقی کا دور” دراصل امیر کو اور مالدار بناتا ہے۔ اور غریب کو مزید کچل دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں یہ طبقاتی خلیج ایک کھائی بن جاتی ہے جس کے اس پار گلاب کے باغ ہیں۔ اور اس پار کانٹوں کا جنگل۔ وہ طنز کرتے ہیں۔ کہ ہم کانٹوں پر سوتے ہیں۔ وہ گلاب کی سیج پر، مگر جب ہم مرتے ہیں۔ تو ہماری لاش پر بھی ٹیکس لگتا ہے۔ اور جب وہ مرتے ہیں۔ تو ان کی قبر پر فوارے لگتے ہیں۔
شفاءاللّٰہ اس طبقاتی فرق کو محض دکھاتے نہیں۔ اس پر غصہ کرتے ہیں۔ اسے للکارتے ہیں۔ ان کی شاعری میں غریب کی چیخ ہے۔ اس کی لعنت ہے۔ اس کا غصہ ہے۔ وہ امیر کو گلوں کی سیج پر سوتا دیکھ کر کہتے ہیں۔ کہ یہ نیند زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ یہ کانٹے ایک دن اٹھ کر تمہاری سیج میں گھس جائیں گے۔ وہ غریب کو بیدار کرتے ہیں۔ اسے بتاتے ہیں۔ کہ تمہاری غربت کوئی قسمت نہیں۔ یہ لوٹ ہے، یہ ظلم ہے، یہ چوری ہے۔ ان کی ہر غزل، ہر نظم، ہر گیت اسی طبقاتی جنگ کی آواز ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک یہ فرق رہے گا۔ جب تک کوئی کانٹوں پر مر رہا ہوگا۔ اور کوئی گلاب پر سو رہا ہوگا۔ تب تک نہ امن ہوگا، نہ انصاف، نہ انسانیت۔ اسی لیے وہ لکھتے رہتے ہیں، چیختے رہتے ہیں، روتے رہتے ہیں۔ تاکہ ایک دن یہ کانٹے اٹھ کر گلاب کی سیج جلا دیں۔ یہی شفاءاللّٰہ کی شاعری کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ اس امر کی دلیل ہے
ہم نے کانٹوں پہ بسر کی زندگی
وہ گلوں کی سیج پر سوتے رہے
زندگی کا تضاد :
یہ عہدِ حاضر اتنا پرشور ہے۔ کہ خاموشی خریدنے کے لیے بھی پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ مگر اسی شور کے بیچ شفاءاللّٰہ طنز سے کہتے ہیں۔ کہ “کتنی پر کیف زندگانی ہے”۔ یعنی زندگی کتنی مزے میں ہے۔ یہ طنز اتنا گہرا ہے۔ کہ ہنسی نکلتے نکلتے چیخ بن جاتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے۔ کہ یہ پر کیف زندگی صرف چند لوگوں کی ہے۔ جن کے گھروں میں ایئرکنڈیشنر چل رہے ہیں۔ جن کی گاڑیاں شور سے بچ کر نئی سڑکوں پر دوڑتی ہیں۔ جن کے بچے شور سے دور پہاڑوں پر چھٹیاں مناتے ہیں۔ باقی سب کے لیے یہ زندگانی کانوں کو پھاڑ دینے والا شور ہی ہے۔
دوسری طرف یہ پر کیف زندگانی بھی جھوٹ کا ایک خوبصورت پردہ ہے۔ باہر سے دیکھیں تو شہر چمک رہے ہیں۔ مالز بھرے ہیں، راتوں کو لائٹیں جگمگا رہی ہیں۔ لوگ سیلفی لے رہے ہیں، ہنس رہے ہیں، مگر اندر سے سب خالی ہیں۔ پیسہ بہت ہے مگر سکون نہیں۔ رشتے بہت ہیں مگر سچائی نہیں۔ کھانا بہت ہے مگر بھوک نہیں مٹتی۔ شفاءاللّٰہ اسی تضاد کو پکڑتے ہیں۔ کہ جس دور میں سب سے زیادہ “خوشحالی” کا دعویٰ ہے۔ اسی دور میں ڈپریشن، خودکشی، تنہائی، اور بے چینی سب سے زیادہ ہے۔ لوگ شور کے بیچ بیٹھ کر واٹس ایپ پر “الحمدللہ” لکھتے ہیں۔ مگر اندر سے رو رہے ہوتے ہیں۔ یہ پر کیف زندگانی دراصل ایک نشہ ہے۔ جو چند لمحوں کا سکون دیتا ہے۔ پھر دوبارہ شور میں واپس پھینکنا دیتا ہے۔ شفاءاللّٰہ اس نشے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ کہ یہ جو تم پر کیف کہہ رہے ہو۔ یہ اصل میں درد کی گولی ہے۔ جو چند گھنٹے دکھ کو دبا دیتی ہے۔ مگر دکھ تو وہی کا وہی رہتا ہے۔
تیسرا تضاد سب سے خوفناک ہے۔ جس دور میں سب سے زیادہ شور ہے۔ وہاں خاموشی سب سے مہنگی چیز بن گئی ہے۔ غریب کے گھر میں شور اس لیے ہے کہ روٹی نہیں۔ امیر کے گھر میں شور اس لیے ہے۔ کہ دل خالی ہے۔ دونوں پر کیف کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر دونوں اندر سے مر رہے ہیں۔ شفاءاللّٰہ اسی لیے چیختے ہیں۔ کہ یہ عہدِ حاضر اتنا پرشور ہے۔ کہ انسان اپنی آواز تک بھول گیا۔ اور زندگانی اتنی پر کیف ہے۔ کہ موت مانگنے لگا ہے۔ ان کا طنز ہمیں جگاتا ہے۔ کہ اگر ہم واقعی پر کیف زندگی چاہتے ہیں۔ تو پہلے اس شور کو بند کرنا ہوگا۔ ظلم کا شور، لوٹ کا شور، جھوٹ کا شور، ناانصافی کا شور۔ جب تک یہ شور رہے گا۔ کوئی زندگانی پر کیف نہیں ہو سکتی۔ چاہے مالز کتنے بھرے ہوں۔ چاہے لائٹیں کتنی ہی جگمگائیں۔ شفاءاللّٰہ کا یہ شعر آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے۔ کیونکہ شور بڑھتا جا رہا ہے۔ اور آواز بڑھتی جا رہی ہے ۔
کتنا پر شور عہد حاضر ہے
کتنی پر کیف زندگانی ہے
ناسٹیلجیا:
شفاءاللّٰہ کا ناسٹیلجیا کبھی میٹھا نہیں ہوتا۔ ہمیشہ نمکین ہوتا ہے۔ اس میں بچپن کی خوشبو بھی ہے۔ اور اس کے چھن جانے کا درد بھی۔ وہ ماضی کو اس لیے یاد نہیں کرتے۔ کہ وہ اچھا تھا۔ بلکہ اس لیے یاد کرتے ہیں۔ کہ وہ سچا تھا۔ وہاں جھوٹ نہیں، دھوکہ نہیں، سرمایہ داری کا زہر نہیں، شہر کی بے رخی نہیں تھی۔ ان کا ماضی ایک کھویا ہوا جنت ہے۔ جس کی طرف وہ بار بار دیکھتے ہیں۔ اور دیکھ کر رو پڑتے ہیں۔
ان کا ناسٹیلجیا صرف ذاتی نہیں۔ پوری دیہی تہذیب کا سوگ ہے۔ وہ جس پنجاب کو یاد کرتے ہیں۔ وہ اب مٹ رہا ہے۔ نہریں خشک ہو رہی ہیں، کھیت بیک رہے ہیں۔ گاؤں شہر بنتے جا رہے ہیں۔ لوگ پیسے کے لیے ماں باپ بیچ رہے ہیں۔ بہن بھائیوں سے رشتے توڑ رہے ہیں۔ جب وہ ماضی کو یاد کرتے ہیں۔ تو دراصل اس پنجاب کو یاد کرتے ہیں۔ جو محبت، سادگی اور انسانیت کا گھر تھا۔ ان کے ہاں ناسٹیلجیا ایک قسم کی بغاوت بھی ہے۔ موجودہ دور کے جھوٹ، شور اور بے حسی کے خلاف بغاوت۔ وہ ماضی کی طرف اس لیے دیکھتے ہیں۔ کہ وہاں جواب ملتا ہے۔ کہ ہم کبھی اچھے تھے۔ ہم کبھی سچے تھے۔ ہم کبھی انسان تھے۔ یہ یاد انہیں موجودہ دور کی برائیوں پر اور زیادہ چیخنے کی طاقت دیتی ہے۔ وہ روتے ہیں۔ مگر اسی رونے میں ایک عجیب سی ہمت بھی ہوتی ہے۔ کہ اگر ہم ماضی کو یاد رکھ سکیں۔ تو شاید اسے واپس لا بھی سکیں۔
اور سب سے گہری بات یہ ہے کہ شفاءاللّٰہ کا ناسٹیلجیا کبھی مایوسی نہیں بنتا۔ وہ جب ماضی یاد کر کے روتے ہیں۔ تو ساتھ ہی ستارے جھلملاتے ہیں۔ یعنی روشنی اب بھی ہے۔ امید اب بھی ہے۔ وہ ماضی کو اس لیے یاد کرتے ہیں۔ کہ موجودہ دور میں جینے کی وجہ مل جائے۔ ان کا رونا کوئی کمزوری نہیں، ایک طاقت ہے۔ جو کہتی ہے۔ کہ ہم نے جو کچھ کھویا ہے۔ وہ اتنا قیمتی تھا۔ کہ اس کے لیے رو لیا جائے۔ اس کے لیے لڑا جائے۔ ان کی آنکھوں میں جو آنسو آتا ہے۔ وہ صرف غم کا نہیں، محبت کا بھی ہے۔ اور جب وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو لگتا ہے۔ کہ سارا ماضی ان کے سامنے پھیلا ہوا ہے۔ ماں، باپ، گاؤں، نہر، کھیت، دوست، سب کچھ۔ شفاءاللّٰہ کا ناسٹیلجیا ہمیں بھی اپنا ماضی یاد دلاتا ہے۔ اور یاد دلا کر روتا ہے۔ اور رو کر جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ کہ ماضی ان کے ہاں مرا نہیں، زندہ ہے۔ اور جب تک وہ زندہ ہے۔ ہم بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو چکے ہیں ۔
جب بھی ماضی کے یاد آئے رو دئے
کچھ ستارے آسماں پر جھلملائے رو دئیے
نوٹ:
میانوالی ڈاٹ آرگ (mianwali.org) کے زائرین کی دلچسپی اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقالے کے وہ تکنیکی یا غیر متعلقہ حصے خارج کر دیے گئے ہیں جو عام قارئین کے لیے کارآمد نہیں تھے، تاکہ مواد صرف متوازن، متعلقہ اور دلکش معلومات پر مشتمل رہے۔
