راحت امیر خان تری خیلوی- بطور کالم نگار، صحافی، مدیر اور ادبی صحافت کے معمار -حصہ چہارم
اگر کسی ادیب کی شخصیت کا جائزہ صرف اس کی شاعری کی بنیاد پر لیا جائے تو تصویر کا ایک رخ ہی سامنے آتا ہے۔ لیکن جب یہی ادیب صحافت، ادارت، اشاعت اور ادبی تحریکوں میں بھی فعال کردار ادا کرے تو اس کی شخصیت کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ جہت ہو جاتی ہے۔ راحت امیر خان تری خیلوی بھی ان معدودے چند اہلِ قلم میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم سے ادب کو مالا مال کیا بلکہ ادبی صحافت اور اشاعتی سرگرمیوں کے ذریعے سینکڑوں قلم کاروں کے لیے نئے راستے بھی ہموار کیے۔
ان کی ادبی خدمات کا ایک نہایت اہم باب صحافت، کالم نگاری اور ادارت سے متعلق ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں انہوں نے محض لکھنے والے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فکری رہنما، ادبی منتظم اور نئے لکھنے والوں کے سرپرست کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔
صحافت کا سفر
پاکستان میں ادبی صحافت ہمیشہ سے ادب کی نشوونما کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔ بیسویں صدی میں ادبی رسائل نے جہاں بڑے ادیب پیدا کیے، وہیں اخبارات کے ادبی صفحات نے بھی نئی نسل کے لکھنے والوں کو متعارف کرایا۔
راحت امیر خان نے اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری بیداری اور ادبی تربیت کا وسیلہ بنایا۔
انہوں نے مختلف ادوار میں متعدد ادبی اور صحافتی اداروں سے وابستہ رہ کر ادب، ثقافت، قومی مسائل اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
کالم نگاری: قلم کی سماجی ذمہ داری
راحت امیر خان کی کالم نگاری ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جس میں شاعر کی حساسیت، صحافی کی بصیرت اور ایک ذمہ دار شہری کا شعور بیک وقت نمایاں ہوتا ہے۔
ان کے نزدیک کالم نگاری محض روزمرہ کے واقعات پر تبصرہ کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے ضمیر کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
وہ سنسنی خیزی، ذاتی مفادات یا وقتی مقبولیت کے لیے قلم نہیں اٹھاتے بلکہ ان کے کالم ہمیشہ کسی نہ کسی سماجی، اخلاقی یا قومی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسی لیے ان کی تحریروں میں جذباتی نعرے کم اور دلیل، مشاہدہ اور حقیقت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
موضوعات کا تنوع
راحت امیر خان کے کالم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی فکری وسعت ان کے موضوعات میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
انہوں نے مختلف اوقات میں درج ذیل موضوعات پر مسلسل قلم اٹھایا:
- معاشرتی ناانصافیاں
- اخلاقی اقدار کا زوال
- قومی یکجہتی
- تعلیم اور ادب
- نوجوان نسل کے مسائل
- ثقافتی ورثہ
- زبان و ادب
- سیاسی بے اعتدالی
- عوامی مسائل
- انسانی حقوق
- مذہبی ہم آہنگی
- دیہی زندگی اور وسیب کے مسائل
ان موضوعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی تحریریں محض ادبی نہیں بلکہ سماجی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔
حقیقت نگاری ان کی کالم نگاری کا بنیادی وصف
ان کے کالموں کی سب سے نمایاں خوبی حقیقت پسندی ہے۔
وہ معاشرتی مسائل کو خوشنما الفاظ میں چھپانے کے بجائے ان کی اصل صورت قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
لیکن ان کا انداز جارحانہ نہیں ہوتا۔
وہ اصلاح چاہتے ہیں، تصادم نہیں۔
وہ اختلاف کرتے ہیں مگر شائستگی کے دائرے میں رہ کر۔
وہ تنقید کرتے ہیں مگر کردار کشی سے اجتناب کرتے ہیں۔
یہی اعتدال ان کی کالم نگاری کو وقار عطا کرتا ہے۔
ڈاکٹر شفیق آصف کی تنقیدی رائے
یونیورسٹی آف میانوالی کے شعبۂ اردو کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف نے راحت امیر خان کی کالم نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے کالموں میں زندگی کے تقریباً تمام اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان کی طبیعت کی سادگی، حق گوئی اور حقیقت پسندی ان کی تحریروں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ ان کے نزدیک راحت امیر خان کے کالم سماجی ناہمواری، سیاسی بے راہ روی، قومی مسائل اور معاشرتی تضادات کو نہایت دیانت داری سے سامنے لاتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ راحت امیر خان فیشن کے طور پر کالم نہیں لکھتے بلکہ ایک دردمند انسان کی حیثیت سے اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔
یہ رائے اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ راحت امیر خان کی صحافتی تحریریں وقتی ردِعمل نہیں بلکہ معاشرتی شعور کا اظہار ہیں۔
ادارت: صرف رسائل کی نگرانی نہیں، ایک ادبی تحریک
پاکستان میں ادبی رسائل کی روایت ہمیشہ سے بڑی اہم رہی ہے۔ کئی ایسے ادیب جنہوں نے بعد میں قومی شہرت حاصل کی، ابتدا میں ادبی رسائل ہی کے ذریعے سامنے آئے۔
راحت امیر خان نے اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے نئی جہت بھی عطا کی۔
انہوں نے مختلف ادوار میں متعدد ادبی جرائد کی ادارت کی، جن میں نمایاں طور پر شامل ہیں:
- ماہنامہ سلام عرض (لاہور)
- دوماہنامہ صد رنگ
- ماہنامہ تسلیم عرض
- تعمیرِ ادب
- امید نو
- بدلتے رنگ
- قلم قبیلہ
- رنگ ہی رنگ
- روزنامہ جائزہ کا ادبی میگزین
- روزنامہ اوصاف (ملتان) کے ادبی صفحات
یہ فہرست اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی خدمات محض ایک رسالے تک محدود نہیں رہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط رہیں۔
مدیر کی حیثیت سے ان کا وژن
ہر مدیر رسالہ شائع کر سکتا ہے، لیکن ہر مدیر ادبی روایت قائم نہیں کر سکتا۔
راحت امیر خان کی ادارت کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- معیاری تخلیقات کو ترجیح دینا۔
- نئے قلم کاروں کو بلا امتیاز موقع دینا۔
- علاقائی ادب کو قومی دھارے میں شامل کرنا۔
- اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں کو یکساں اہمیت دینا۔
- اختلافِ رائے کو برداشت کرنا۔
- ادبی اخلاقیات کا احترام کرنا۔
- تخلیق کو شخصیت پر فوقیت دینا۔
یہی اوصاف انہیں ایک کامیاب مدیر بناتے ہیں۔
نوجوان قلم کاروں کے مربی
راحت امیر خان کی ادبی زندگی کا ایک اہم پہلو نئے لکھنے والوں کی سرپرستی ہے۔
انہوں نے صرف اپنی کتابیں شائع نہیں کیں بلکہ درجنوں نوجوان شعراء، ادیبوں اور محققین کو پہلی مرتبہ ادبی دنیا سے متعارف کرایا۔
کئی ایسے قلم کار جنہیں ابتدائی دور میں اشاعت کے مواقع میسر نہیں تھے، ان کی ادارت میں شائع ہونے والے رسائل اور بعد ازاں ان کے اشاعتی اداروں کے ذریعے قارئین تک پہنچے۔
یہ خدمت کسی بھی ادیب کے ذاتی ادبی سرمایہ سے کم اہم نہیں۔
صحافت اور ادب کا امتزاج
راحت امیر خان کی تحریروں میں صحافت اور ادب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون نظر آتے ہیں۔
ان کی صحافت ادب سے خالی نہیں اور ان کا ادب سماجی شعور سے محروم نہیں۔
یہی امتزاج ان کے اسلوب کو منفرد بناتا ہے۔
وہ نہ خشک صحافی ہیں اور نہ محض رومانوی شاعر۔
وہ حقیقت کو جمالیاتی انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
ادبی رسائل کی بقا میں کردار
گزشتہ چند دہائیوں میں جب پاکستان میں ادبی رسائل کی اشاعت مسلسل مشکلات کا شکار رہی، اس دور میں بھی راحت امیر خان نے اپنی استطاعت کے مطابق ادبی جرائد کی اشاعت اور فروغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
یہ کام مالی اعتبار سے کبھی آسان نہیں رہا، لیکن انہوں نے ادب کی خدمت کو ذاتی منفعت پر ترجیح دی۔
ان کی یہ جدوجہد اردو ادبی صحافت کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
قلم کی دیانت
راحت امیر خان کی صحافتی زندگی کا سب سے نمایاں وصف قلم کی دیانت ہے۔
وہ کسی نظریاتی انتہا پسندی یا ذاتی مفاد کے بجائے اعتدال، انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کے قائل ہیں۔
ان کے نزدیک قلم ایک امانت ہے، اور یہی تصور ان کی کتاب “ہر لفظ امانت ہے“ کے عنوان سے بھی جھلکتا ہے۔
ان کے لیے لکھنا شہرت کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے ساتھ ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔
تنقیدی جائزہ
اگر راحت امیر خان کی صحافتی اور ادارتی خدمات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی اصل کامیابی صرف اپنے لیے لکھنے میں نہیں بلکہ دوسروں کو لکھنے کے مواقع فراہم کرنے میں بھی ہے۔
انہوں نے رسائل کی ادارت، ادبی صفحات کی نگرانی، اخباری کالم، تنقیدی مضامین اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے اردو اور سرائیکی ادب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کیا۔ ان کی تحریروں میں صداقت، اعتدال، سماجی شعور اور ادبی وقار نمایاں نظر آتا ہے، جبکہ ان کی ادارت نے کئی نئی آوازوں کو قومی سطح پر متعارف کرایا۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ راحت امیر خان تری خیلوی کا نام ان اہلِ قلم میں شامل ہے جنہوں نے تخلیق کے ساتھ ساتھ ادب کی تنظیم، ترویج اور اشاعت کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
(جاری ہے…)
حصہ پنجم میں شامل ہوگا:
راحت امیر خان تری خیلوی بطور ناشر، ادبی منتظم، صد رنگ پبلی کیشنز، ایم ارسلان پبلی کیشنز، غازی و نیازی فروغِ ادب سوسائٹی، نئے ادیبوں کی سرپرستی، ادبی تقریبات، وسیب کی خدمت اور پاکستانی ادبی دنیا میں ان کے دیرپا اثرات۔
