Marhoom Inayat Muhammad Qureshi — Aik Ba Usool Insaan, Sahafi, Siyasi Karkun aur Mehnat Kash Shakhsiyat

مرحوم عنایت محمد قریشی 

ایک بااصول انسان، صحافی، سیاسی کارکن اور محنت کش شخصیت

آج میرے والد عنایت محمد قریشی کی چھٹی برسی ہے۔

والد صاحب کی زندگی کے ہمہ جہت پہلو ہیں جن پر تفصیل کے ساتھ لکھا جا سکتا ہے۔ سیاست، صحافت، مذہب اور زندگی کے کئی شعبوں میں مصروفِ عمل رہے، اچھے برے وقت دیکھے، جہاں بندوق کی ضرورت پڑی وہاں بندوق اٹھائی، جہاں قلم کی ضرورت پیش آئی وہاں قلم اٹھایا۔

مجھے اس بات پر فخر اور خوشی ہے کہ والد صاحب نے حالات کی تنگی کے باوجود ہمیں حرام کا لقمہ نہیں کھلایا، حالانکہ سیاست میں مولانا عبدالستار خان نیازی کے دستِ راست بن کر رہے اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی شخصیت کسی بھی سیاسی عہدے سے بڑھ کر تھی۔ ان سے کہہ کر کوئی بھی مالی فائدہ اٹھا سکتے تھے، لیکن وہ مولانا نیازی کے ساتھ ان کے مشن میں بے لوث ہو کر ساتھ رہے۔

مولانا نیازی جب مذہبی امور کے وفاقی وزیر بنے تو کئی دوست احباب نے کہا کہ نیازی صاحب سے کہیں آپ کو حج پر بھجوائیں، تو مجھے یاد ہے والد صاحب نے ایک جملہ کہا تھا:

“عبدالستار خان ولد ذوالفقار خان ولد روزی خان اگر چاہے بھی تو مجھے حج پر نہیں بھجوا سکتا، جب تک اللہ کی طرف سے بلاوا نہ ہو۔”

اور ایسا ہی ہوا۔ اچانک اسلام آباد سے اطلاع آئی کہ آپ دو دن کے اندر حاجی کیمپ کراچی پہنچیں، آپ نے حج کے لیے جانا ہے۔

والد صاحب کے دوست استاد محمد یوسف کو پتہ چلا تو فوراً تشریف لائے اور والد صاحب کو کراچی تک سفر کے لیے پیسے دیے، کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ والد صاحب کے پاس کراچی جانے تک کا کرایہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس وقت حالات ایسے تھے۔

سیمنٹ ٹائلز کی فیکٹری اور معاشی جدوجہد

 

اس کی وجہ زیرِ نظر تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ چھت اور فرش پر لگی ٹائلیں عام نہیں بلکہ ان میں میرے والد صاحب اور ان کے دوست حاجی غلام فرید کا پسینہ شامل ہے۔ یہ 1989 میں چھت اور فرش پر لگائی گئیں اور یہ جس گھر میں لگیں وہ میرے خالہ زاد بھائیوں کا گھر تھا، جو دو ہزار بیس کے بعد گرایا گیا اور اب وہاں نیا مکان تعمیر ہو چکا ہے۔ یہ چھت اور فرش کی تصویر تقریباً پانچ چھ سال قبل کی ہیں۔

میرے والد صاحب نے 1988 میں سیمنٹ ٹائلز کی ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی تھی، جس میں ایک دو پارٹنر بھی تھے۔ سیمنٹ کی ٹائلز اور جالیاں بنائی جاتی تھیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول روڈ میانوالی پر ایک جگہ کرائے پر لی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے وہ جگہ متنازعہ نکلی اور عدالتی فیصلے کے ذریعے کسی اور کی ملکیت میں چلی گئی۔ اس وجہ سے فیکٹری پلانٹ دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا، جس پر دوبارہ تعمیر کا خرچ آیا اور جگہ بھی پہلے جیسی مناسب نہ ملی۔

اس کا نقصان یہ ہوا کہ ساری انویسٹمنٹ تقریباً ڈوب گئی اور کاروبار نہ چل سکا۔

مشکل حالات اور رزقِ حلال

 

اس سے پہلے بھی مشکل حالات میں والدہ نے سلائی مشین چلا کر گھر کا نظام چلایا، اور اس نقصان کے بعد تو بے پناہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسے میں بھی والد صاحب نے ناجائز طریقے سے پیسہ کمانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اللہ نے ایسا وسیلہ بنایا کہ بڑے خالہ زاد بھائی، جو پوسٹ آفس میں آفیسر تھے، اور عارضی طور پر محکمہ ڈاک میں چھٹی پر جانے والے ملازمین کی جگہ آؤٹ سائیڈر کو چھٹیوں کے دورانیے میں سرکاری ملازمت پر رکھا جاتا تھا، اور پھر محکمانہ امتحان ہونے کی صورت میں امتحان پاس کرنے پر خالی پوسٹ پر اسے مستقل ملازمت مل جاتی تھی۔

مجھے بھی عارضی طور پر محکمہ ڈاک میں چند ماہ ملازمت کے بعد محکمانہ امتحان پاس کر کے مستقل ملازمت مل گئی۔ اسی طرح دوسرا بھائی بھی ایک دو سال بعد سرکاری ملازمت میں آ گیا، یوں گھر کی معاشی صورتحال بہتر ہوگئی۔

اس کے بعد الحمدللہ ہم نے والد صاحب سے کہا:

“اب گھر جانے اور ہم جانیں، آپ اپنی سیاست اور حلقۂ احباب کے ساتھ آزادی سے زندگی گزاریں۔”

سیاست، صحافت اور اصولوں کی زندگی

 

والد صاحب نے تقریباً 80 سال بھرپور زندگی گزاری۔

میانوالی کے کئی ایم پی اے اور ایم این اے والد صاحب کے پاس آیا کرتے تھے، مولانا نیازی سے ٹکٹ لینے کے لیے، لیکن انہوں نے کبھی کسی سے غلط مفاد نہیں اٹھایا۔

صحافت میں کالم نگاری کا سلسلہ “چشمِ نم” کے عنوان سے جاری رکھا۔ قومی اور مقامی اخبارات میں ان کے کالم میانوالی کے سیاسی اور معاشی مسائل کے حوالے سے شائع ہوتے تھے۔

وفات

 

29 جولائی 2020 کو 80 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

احباب سے ان کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ۔

تحریر: محمد ضیاء اللہ قریشی

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

ضیاء اللہ قریشی کی شاعری — محبت، روایت، انسان دوستی اور فکری وقار کا استعارہ محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء...
Read More
Marhoom Inayat Muhammad Qureshi — Aik Ba Usool Insaan, Sahafi, Siyasi Karkun aur Mehnat Kash Shakhsiyat

Marhoom Inayat Muhammad Qureshi — Aik Ba Usool Insaan, Sahafi, Siyasi Karkun aur Mehnat Kash Shakhsiyat

مرحوم عنایت محمد قریشی  ایک بااصول انسان، صحافی، سیاسی کارکن اور محنت کش شخصیت آج میرے والد عنایت محمد قریشی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top