Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

ضیاء اللہ قریشی کی شاعری — محبت، روایت، انسان دوستی اور فکری وقار کا استعارہ

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) کی شاعری اردو غزل کی کلاسیکی روایت اور عصرِ حاضر کے فکری و سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے ہاں محبت محض رومان کا استعارہ نہیں بلکہ انسان دوستی، اخلاق، وفا، صبر، احترامِ والدین، روحانی وابستگی اور اعلیٰ انسانی اقدار کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ روایت سے جڑے ہوئے شاعر ہیں، مگر ان کی فکر جامد نہیں؛ وہ اپنے عہد کے مسائل، انسان کی داخلی تنہائی، معاشرتی رویوں، مذہبی شعور، قومی احساس اور اخلاقی زوال کو نہایت سادہ، شائستہ اور مؤثر پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں لفظوں کی نمائش نہیں بلکہ احساس کی سچائی، فکر کی پختگی اور اظہار کی شگفتگی نمایاں ہے۔

ضیاء قریشی کی غزلوں میں کلاسیکی نزاکت کے ساتھ جدید زندگی کے مسائل بھی پوری شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ محبت کو زندگی کی اساس قرار دیتے ہیں، مگر اس کے ساتھ خودداری، کردار، سچائی، عاجزی اور انسانیت کو بھی اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بناتے ہیں۔ ان کے اشعار میں تصوف کی لطافت، کربلا کا پیغام، اہلِ بیتؑ سے عقیدت، رسولِ اکرم ﷺ سے محبت، وطن سے وابستگی، روایت کا احترام اور اخلاقی تربیت کے عناصر بار بار جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام محض جذباتی شاعری نہیں بلکہ ایک مہذب، متوازن اور باوقار فکری روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔

ضیاء قریشی کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ پیچیدہ علامتوں یا غیر ضروری لفظی صنعت گری کے بجائے عام فہم مگر گہرے معنی رکھنے والے اسلوب کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے اشعار قاری کے دل تک براہِ راست پہنچتے ہیں اور دیر تک اپنی تاثیر قائم رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاعری صرف حسن و عشق کا بیان نہیں بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانے، معاشرے میں محبت، رواداری، سچائی اور خیر کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہی فکری دیانت، شعری سادگی اور انسانی احساس انہیں میانوالی کی معاصر ادبی روایت کے ممتاز غزل گو شعرا میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

ذیل میں محمد ضیاء اللہ قریشی کے کلام کو غزل، قطعات، دوہے، پنجابی کلام، مذہبی اشعار، قومی نظم اور متفرق منتخب اشعار کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے۔ 

منتخب کلام

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی)

غزل

دل پہ سہتے رہے ہر زخم محبت والا
لب پہ آیا نہ کوئی حرف شکایت والا

دل پہ ہوتا ہے کبھی شہرِ خموشاں کا گماں
شور ہوتا ہے کبھی دل میں قیامت والا

اس خرابے میں یہ عزت ہی گنوا دیں اپنی
شوق اتنا بھی نہیں ہے ہمیں شہرت والا

جھوٹ کے جتنے بھی رنگ اس پہ چڑھا دے کوئی
چھپ نہیں سکتا کبھی رنگ حقیقت والا

ماں کی خدمت کو شعار اپنا بنا لو یارو
بس یہی راستہ آسان ہے جنت والا

تب سمجھ آتا ہے دکھ باپ کا اک بیٹے کو
سر پہ جب بوجھ اٹھاتا ہے کفالت والا

وقت سے پہلے بڑھاپا نہیں آتا اس پر
جس کے سینے میں، ضیاء! دل ہو محبت والا

غزل

ہزار خوشبوئیں دامن میں بھر کے آتی ہے
ہوا جب اس کی گلی سے گزر کے آتی ہے

یہ کائنات بھی اس کا بدل نہیں لگتی
کبھی کبھی تو وہ اتنا سنور کے آتی ہے

—————

حضور پہلے عقیدت سمجھ میں آتی ہے
پھر اس کے بعد عبادت سمجھ میں آتی ہے

تمہارے ماتھے پہ فرعونیت کی شکنیں ہیں
مجھے تمہاری رعونت سمجھ میں آتی ہے

یہ ہر کسی سے محبت کی بات مت چھیڑو
کسی کسی کو محبت سمجھ میں آتی ہے

میں اس لیے بھی اسے بار بار دیکھتا ہوں
مجھے تو ایک ہی صورت سمجھ میں آتی ہے

اسے تو ہنسنا ہی آتا ہے میری حالت پر
اسے کہاں مری حالت سمجھ میں آتی ہے

جو اپنے ساتھ روایت کو لے کے چلتا ہے
ضیاء! اسی کو یہ جدت سمجھ میں آتی ہے

غزل

میں کسی کا ہوں، میرا دل اُس کا
دل پہ قبضہ ہے مستقل اُس کا

پھول کھلتے ہیں اس کی چاہت میں
گھر چمن سے ہے متصل اُس کا

اک نشانی ہے یہ قیامت کی
ہونٹ کے آس پاس تل اُس کا

دل کو عادت ہے چوٹ کھانے کی
زخم کیسے ہو مندمل اُس کا

وہ بریشم سے بھی ہے نرم، ضیاء
میں نے دیکھا ہوا ہے دل اُس کا

————————-

تری دعا سے بہت جیوں گا
میں اپنی تقدیر خود لکھوں گا

جو ہو بہو تیرے جیسی ہوگی
میں ایسی چنچل غزل کہوں گا

مجھے بھروسہ ہے اپنے دل پر
جو دل کہے گا وہی کروں گا

یہ تیرے بختوں کو بھی پتا ہے
ضیاء ہوں میں اور ضیاء رہوں گا

پنجابی کلام

اج دے دور ءچ اے وی بہوں اے
بندہ آپڑیں جوگا ہووے

نئیں تاں کیں دا کوئی نی ہوندا

قطعات و منتخب اشعار

تکبر میں تباہی کا سدا امکان ہوتا ہے
گرے اونچی عمارت تو بڑا نقصان ہوتا ہے

میں تب مانوں گا جب تم اپنے قدموں پر کھڑے ہوگے
سہاروں پر کھڑا ہونا بہت آسان ہوتا ہے

——————————-

اکثر لوگ اسی پر مرتے دم تک قائم رہتے ہیں
جو مذہب یا مسلک ان کو اپنے گھر سے ملتا ہے

اگرچہ حلقۂ احباب کم ہوا لیکن
منافقین سے چھٹکارا مل گیا ہے ہمیں

میں حسن و عشق سے بیزار ہونے والا تھا
پھر ایک چہرے نے مجھ سے کہا، ادھر تو دیکھ

کیسی مٹی سے تو نے بنایا ہے میرے خدایا اِسے
بارہا ٹوٹ کر بھی نہیں باز آیا محبت سے دل

حقیقت میں کسی صورت جو میرا ہو نہیں سکتا
تصور میں اسے اپنا بنا کر جی رہا ہوں میں

نعتیہ و عقیدتی اشعار

چاہت نہ ہو جس دل میں مدینہ و نجف کی
وہ جائے جہنم میں، ضیاء! میری بلا سے

حشر تک سرکار کے پہلو میں سونے کا مزا
پوچھیے صدیقؓ سے یا پھر عمرؓ سے پوچھیے

میں روشنی ہوں، عشق مجھے روشنی سے ہے
خوش بخت ہوں کہ میرا تعلق علیؑ سے ہے

کافی ہیں میرے جاننے والے وہاں مقیم
اک رابطہ مرا بھی نجف کی گلی سے ہے

کربلا و اہلِ بیتؑ

آیتوں کی خوشبو ہے اور گلاب نیزے پر
آج کتنا روشن ہے آفتاب نیزے پر

جس میں دینِ عظمت کے سارے باب لکھے ہیں
آسماں سے اترا ہے وہ نصاب نیزے پر

اہلِ عشق کو دنیا یونہی آزماتی ہے
دینِ حق کا ہوتا ہے انتخاب نیزے پر

کربلا کو سرخ کرنے کا سبب کچھ اور تھا
ورنہ کب اتنے اہم تھے پانیوں کے مسئلے

کسی بھی فرقہ و مسلک میں ضم نہیں ہوگا
غمِ حسین بڑھے گا، یہ کم نہیں ہوگا

جو آج گریہ کناں ہے حسین کے غم میں
بروزِ حشر اسے کوئی غم نہیں ہوگا

قومی نظم    –       فضا کتنی اہم ہے       

فضا کتنی اہم ہے، یہ حقیقت
ہم کو سورۂ فیل میں کھل کر بتائی جا چکی ہے

ذرا اس واقعے کو ذہن میں رکھ کر
تم اس کا تجزیہ کر لو

کہاں وہ چونچ میں کنکر لیے اڑتے پرندے
اور کہاں بدمست لشکرِ ابرہہ کے ہاتھیوں کا

جو نکلا تھا خدا کا گھر گرانے کو

مگر ان ہاتھی والوں کا تکبر
خاک میں ایسے ملایا ان پرندوں نے

نشاںِ عبرت کا بھی ان کو بنایا
اور آنے والی دنیاؤں کو یہ نکتہ بھی سمجھایا

فضا کتنی اہم ہے

فضا کتنی اہم ہے کہ تم سے سو گنا طاقت بھی رکھتا ہو اگر دشمن
فضا سے حملہ کر کے زیر کر سکتے ہو تم اس کو

فضا کتنی اہم ہے، یہ حقیقت
معرکۂ حق میں ہم پر آج واضح ہو چکی ہے

ہمارا ازلی دشمن جو وسائل اور طاقت میں
بظاہر ہم سے بڑھ کر ہے

اسے میرے وطن کی سرحدوں کے پاسبانوں نے
فضائی برتری سے زیر کر ڈالا

تکبر اس کا ایسے ختم کر ڈالا
کہ اب سو بار سوچے گا

وہ ہم پر وار کرنے کا
ہماری سرحدوں کو پار کرنے کا

مگر جب تک
فضاؤں پر ہماری حکمرانی ہے

وہ دشمن کے لیے اب ایک مرگِ ناگہانی ہے

یہی زندہ کہانی، یہی زندہ کہانی ہے۔

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi)  Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

Muhammad Ziaullah Qureshi (Zia Qureshi) Mianwali ke Saaf Go Shaair, Ghazal Go, Geet Nigar aur Sahib-e-Fikr Adeeb

محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء قریشی) میانوالی کے صاف گو شاعر، غزل گو، گیت نگار اور صاحبِ فکر ادیب میانوالی...
Read More
Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

Ziaullah Qureshi Ki Shayari — Mohabbat, Riwayat, Insaan Dosti aur Fikri Waqar Ka Istiara

ضیاء اللہ قریشی کی شاعری — محبت، روایت، انسان دوستی اور فکری وقار کا استعارہ محمد ضیاء اللہ قریشی (ضیاء...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top