KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن مستقبل کی ضرورت

تحریر: محمد احسن قریشی

کالا باغ کی ترقی اور یہاں کی نئی نسل کے مستقبل کے حوالے سے بعض ایسے بنیادی مسائل ہیں جن پر آج بھی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی ادارے کا مطالبہ نہیں بلکہ ہماری بچیوں کے تعلیمی مستقبل، خواتین کی خودمختاری اور پورے علاقے کی سماجی ترقی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

ترقی کا تصور صرف گلی، بجلی اور گیس تک محدود کیوں؟

میرے ایک دوست، جو بنوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں، نے ایک واقعہ سنایا۔ ان کے مطابق ان کے صدر غلام اسحاق خان سے قریبی تعلقات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صدر اسحاق خان اپنی صدارت کی مدت مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی علاقے بنوں آئے تو ایک موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنے عرصے تک پاکستان کے صدر رہے، اپنے علاقے کے لیے کوئی بڑا ہسپتال، کالج یا یونیورسٹی کیوں نہیں بنوا سکے؟

روایت کے مطابق صدر اسحاق خان نے جواب دیا کہ ان کے پاس جو بھی ایم پی اے، ایم این اے یا علاقے کا کوئی شخص آیا، اس نے اپنی ضرورت کے مطابق مطالبہ کیا۔ کسی نے اسلحہ پرمٹ مانگا تو وہ دیا گیا، لیکن اگر کوئی کالج یا یونیورسٹی کا مطالبہ کرتا تو وہ اس کے لیے بھی کوشش کرتے۔

یہ واقعہ ہمارے لیے ایک اہم سوال چھوڑ جاتا ہے کہ علاقے کے منتخب نمائندوں اور عوام کے مطالبات ہی کسی علاقے کی ترقی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر مطالبات محدود ہوں تو ترقی بھی محدود رہ جاتی ہے۔

کالا باغ کی ترقی کے مطالبات بھی محدود رہے

بدقسمتی سے کالا باغ میں بھی ہماری اجتماعی سوچ طویل عرصے تک گلیوں، بجلی کے کھمبوں، گیس کنکشن اور دیگر فوری نوعیت کی ضروریات تک محدود رہی ہے۔ یقیناً یہ سہولیات بھی ضروری ہیں، لیکن ایک ترقی یافتہ معاشرے کے لیے تعلیم، خصوصاً بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کہیں زیادہ دور رس اہمیت رکھتی ہے۔

اگر ماضی میں کالا باغ میں گرلز کالج کے قیام کا مطالبہ مسلسل اور اجتماعی طور پر کیا جاتا تو ممکن ہے آج ہماری بچیوں کے لیے یہ سہولت یہاں موجود ہوتی۔

کالا باغ کی ہونہار بچیاں ہماری توجہ کی منتظر ہیں

کالا باغ کی بہت سی ہونہار طالبات ہر سال میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، مگر اس کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ رک جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مقامی سطح پر گرلز کالج کی عدم موجودگی ہے۔

بہت سے خاندان اپنی بچیوں کو میانوالی یا دوسرے شہروں میں بھیجنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کی ذہین اور محنتی بچیاں وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

اگر کالا باغ میں گرلز کالج قائم ہو تو یہی بچیاں ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، استاد، وکیل اور زندگی کے دیگر شعبوں میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔

بیٹی کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی بیٹے کی

ہمیں اپنی سوچ پر بھی غور کرنا ہوگا۔ بہت سے والدین اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لیے انہیں دوسرے شہروں بلکہ بیرونِ ملک تک بھی بھیج دیتے ہیں، لیکن بیٹیوں کی تعلیم کے معاملے میں مختلف رکاوٹیں سامنے آ جاتی ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بیٹی کی تعلیم صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

اگر ہماری بچیاں مناسب تعلیمی مواقع حاصل کریں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر بن سکتی ہیں۔

کالا باغ میں گرلز کالج کے لیے اجتماعی کوشش کی ضرورت

یہ مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت، شخصیت یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے کالا باغ کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کے لیے:

اساتذہ

طلبہ و طالبات

والدین

سول سوسائٹی

سماجی کارکنان

صحافی برادری

سیاسی و سماجی تنظیمیں

مخیر حضرات

سب کو مل کر آواز اٹھانا ہوگی۔

کالا باغ میں کوئی صاحبِ حیثیت شخص اگر اپنی زمین کا ایک حصہ اس مقصد کے لیے عطیہ کر دے تو یہ ایک عظیم صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح مخیر حضرات اور اہلِ علاقہ مل کر بھی کالج کے لیے زمین اور دیگر ضروری وسائل کا انتظام کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سیاسی قیادت سے بھی سنجیدہ کردار کی توقع

کالا باغ کے سیاسی رہنماؤں نے مختلف ادوار میں اپنی سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے ذریعے علاقے کی نمائندگی کی ہے۔ اب وقت ہے کہ وہ بھی اس بنیادی تعلیمی ضرورت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

ماضی میں جن اعلیٰ سطحی شخصیات سے سیاسی و سماجی روابط رہے، اگر ان روابط کو علاقے کی طویل المدت تعلیمی ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا تو شاید آج صورتِ حال مختلف ہوتی۔

اگر مستقبل میں کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کا کالا باغ یا اس کے گردونواح کا دورہ ہو تو اہلِ کالا باغ کے معززین کو چاہیے کہ وہ گرلز کالج کے قیام کا مطالبہ باقاعدہ اور اجتماعی انداز میں پیش کریں۔

اسی طرح منتخب نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو متعلقہ حکومتی فورمز پر اٹھائیں اور اس کے عملی حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

صحافی آواز اٹھاتے رہیں گے، مگر اجتماعی آواز ضروری ہے

ہم صحافی اپنے قلم کے ذریعے کالا باغ کے مسائل کو بارہا اجاگر کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، لیکن صرف اخبارات اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کالا باغ کی پوری عوام ایک متفقہ اور پرامن آواز کے ساتھ گرلز کالج کے قیام کا مطالبہ کرے۔

سوشل میڈیا پر فعال نوجوانوں، صحافیوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور اہلِ علاقہ سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس بنیادی تعلیمی ضرورت کو اجاگر کریں اور متعلقہ حکام تک اپنی آواز پہنچائیں۔

آج کا مطالبہ، آنے والی نسلوں کا مستقبل

کالا باغ کی بچیوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ہی شہر میں معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ ایک گرلز کالج صرف ایک عمارت کا نام نہیں ہوگا؛ یہ سینکڑوں بچیوں کے خوابوں، خاندانوں کی امیدوں اور کالا باغ کے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

آج اگر ہم نے اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب ضرورت سب کے سامنے تھی تو ہم نے اس کے حل کے لیے اجتماعی کوشش کیوں نہیں کی؟

آئیے، کالا باغ میں گرلز کالج کے قیام کو ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پورے علاقے کی مشترکہ تعلیمی ضرورت اور اجتماعی مطالبہ بنائیں۔

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top