Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی!

بڑی عمارت، ناپید سہولیات اور خٹک بیلٹ کے سسکتے ہوئے سوال

شہروں کے گلی کوچوں سے لے کر دور دراز قصبات تک، جب حکومتیں کسی بنیادی ضرورت کا دعویٰ کرتی ہیں تو اینٹوں اور سیمنٹ کی لمبی چوڑی عمارتیں کھڑی کر دینا سب سے آسان راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کالاباغ کا تحصیل لیول ہسپتال بھی اسی طرزِ حکمرانی کی ایک مجسم تصویر ہے۔

کالاباغ، خٹک بیلٹ اور گردونواح کے ایک وسیع و عریض علاقے کو معیاری علاج معالجے سے آراستہ کرنے کے مقصد سے یہ ہسپتال قائم تو کیا گیا، مگر آج یہی شاندار عمارت اپنے خالی کمروں، ناپید سہولیات اور لاوارث علاج کے باعث عوامی احتجاج، دکھ اور مایوسی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

بڑی عمارت مگر ڈاکٹرز ناپید: عوام کا بنیادی سوال

ایک عام شہری کا سوال نہایت سادہ مگر حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہے:

“اگر ہسپتال میں نہ ماہر ڈاکٹرز ہوں اور نہ ضروری طبی عملہ، تو شاندار عمارت کی یہ دیواریں کس بیماری کا علاج کریں گی؟“

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں نہ آنکھوں کے مریضوں کے لیے ماہرِ چشم (Ophthalmologist) موجود ہے اور نہ ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل سے تڑپتے مریضوں کے لیے آرتھوپیڈک سرجن۔ نتیجے کے طور پر، معمولی نوعیت کے معائنے یا حادثات کی صورت میں مریضوں کو میانوالی یا دیگر دور دراز شہروں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

خٹک بیلٹ کے غیر ہموار اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہوئے، غریب اور متوسط طبقے کے لیے ہسپتال کا یہ ناقص نظام ہر روز ایک نئی سفری، مالی اور جسمانی اذیت لاتا ہے۔

پوسٹ مارٹم کا بحران: میتیں اور چوبیس گھنٹے کی اذیت

اس ہسپتال کی نااہلی کا سب سے دلخراش اور تشویشناک پہلو پوسٹ مارٹم کی مستقل سہولت کا نہ ہونا ہے۔

کالاباغ یا اس کے ملحقہ علاقوں میں کسی ناگہانی واقعے، قتل یا سڑک حادثے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کے بعد، پوسٹ مارٹم کے لیے میانوالی یا عیسیٰ خیل سے ڈاکٹر منگوانا پڑتا ہے۔

  • اگر مطلوبہ ڈاکٹر دستیاب ہو جائے تو کارروائی آگے بڑھتی ہے۔

  • لیکن اگر ڈاکٹر چھٹی پر ہو یا عدم دستیاب ہو، تو لواحقین کی میت 24، 24 گھنٹے ہسپتال کے سرد یا سنسان کمروں میں پڑی رہتی ہے۔

سوگوار خاندان—جو پہلے ہی اپنے پیارے کو کھونے کے صدمے میں نڈھال ہوتا ہے—اس قانونی اور انتظامی سست روی کے باعث شدید ترین ذہنی اذیت سے گزرتا ہے۔ اکثر اوقات میت کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی منتقل کرنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ غریب طبقہ جس کے پاس ایمبولنس یا پرائیویٹ گاڑی کے کرائے تک کے پیسے نہیں ہوتے، وہ رشتہ داروں اور اہل والہ سے امداد کی بھیگ مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

خالی آسامیاں اور مفلوج عملہ

ہسپتال میں صرف ماہرین ہی نہیں بلکہ بنیادی اور معاون طبی عملے (Paramedical Staff) کی بھی سنگین کمی ہے۔

  • خالی آسامیوں کی بھرمار نے موجودہ محدود عملے کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔

  • ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو وقت پر ابتدائی طبی امداد کا ملنا بھی ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔

حکومت اور محکمہ صحت کی یہ تاخیر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہیلتھ کیئر کے بجٹ اور منصوبوں کی ریڈ لائنز صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ زمین پر عوام تپتے ہوئے راستوں پر علاج کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

اہلِ علاقہ کے بنیادی مطالبات

کالاباغ اور خٹک بیلٹ کا غیور اور صابر عوام کسی خصوصی رعایت کا طالب نہیں ہے، بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت اپنا بنیادی اور انسانی حق مانگ رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ پنجاب، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور مقامی نمائندوں سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:

  1. پوسٹ مارٹم کی مستقل سہولت: ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے باقاعدہ فارنسک/میڈیکل آفیسر کی مستقل تعیناتی کی جائے۔

  2. سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فوری فراہمی: آنکھوں کے ماہر (Ophthalmologist)، آرتھوپیڈک سرجن اور دیگر ضروری شعبہ جات کے سپیشلسٹ فوری تعینات کیے جائیں۔

  3. خالی آسامیوں پر پرُیاں: ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تمام خالی نشستوں کو ہنگامی بنیادوں پر پر کیا جائے۔

  4. تشخیصی و ایمرجنسی آلات: لیبارٹری، ایکس رے اور بنیادی تشخیصی سہولیات کو فعال اور اپ ڈیٹ کیا جائے۔

حرفِ آخر: بیمار کو عمارت نہیں، ڈاکٹر درکار ہوتا ہے!

ہسپتال دراصل اینٹوں اور سیمنٹ کی عمارت کا نام نہیں، بلکہ ہسپتال کی اصل روح وہاں موجود ماہر ڈاکٹرز، زندگی بچانے والی ادویات، فعال ایمرجنسی اور ہمدردانہ طبی عملہ ہوتا ہے۔

بڑی عمارتیں افتتاحی تختیوں اور نعروں کے لیے تو اچھی لگ سکتی ہیں، مگر ایک کراہتے ہوئے بیمار انسان کو دیواریں نہیں، علاج درکار ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اربابِ اختیار کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال کے اس المیے کا فوری نوٹس لیں اور اسے ایک محض “نام کے ہسپتال” کے بجائے حقیقی معنوں میں ایک فعال اور شفابخش مرکز بنائیں.

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More
Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   -ماضی کے جھروکوں سے   ڈاکٹر کی...
Read More
Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی! بڑی عمارت، ناپید...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top