Kala Bagh ki shadiyon ki rasmein aur ek zinda tehzeeb ki khushboo

کالا باغ کی شادیوں کی رسمیں اور ایک زندہ تہذیب کی خوشبو

کالا باغ صرف ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ تہذیب محبت اخوت اور صدیوں پرانی روایات کا امین شہر ہے دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ قدیم بستی اپنی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی اور ثقافتی شناخت کی وجہ سے بھی ہمیشہ ممتاز رہی ہے آج بھی جب انسان اتلا پتن کی تنگ و تاریک گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت صدیوں پہلے کسی موڑ پر رک گیا ہو سورج کی روشنی جن گلیوں تک پوری طرح نہیں پہنچتی وہاں بھی پرانی اینٹوں سے بنی دیواریں لکڑی کے نقش و نگار والے دروازے اور جھروکے گزرے زمانوں کی خاموش داستانیں سناتے دکھائی دیتے ہیں کئی تاریخی گھر آج بھی اپنی عظمت کا احساس دلاتے ہیں جبکہ بے شمار مکانات وقت کے بے رحم ہاتھوں میں بکھر کر صرف یادوں کا حصہ بن چکے ہیں
قیام پاکستان سے پہلے اس شہر میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد تھے دونوں نے مل کر اس شہر کی تہذیب کو سنوارا بازاروں کو رونق بخشی اور ایسی روایات کو جنم دیا جو آج بھی بزرگوں کی یادوں میں زندہ ہیں ان ہی روایات میں شادی بیاہ کی رسمیں سب سے زیادہ خوبصورت اور دلکش ہوا کرتی تھیں
جس دن کسی گھر میں شادی کی تاریخ طے ہو جاتی اس دن سے پورا محلہ اس خوشی کا حصہ بن جاتا تھا عورتیں کپڑوں کی سلائی کڑھائی اور زیورات کی تیاری میں مصروف ہو جاتیں مرد مہمانوں کے انتظامات سنبھالتے نوجوان ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور بچے خوشی سے گلیوں میں دوڑتے پھرتے تھے اس زمانے میں شادی صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ پورے محلے کی خوشی سمجھی جاتی تھی
دعوت ناموں کا رواج نہیں تھا ان کی جگہ چاولوں کی ایک خوبصورت رسم ادا کی جاتی تھی لڑکے والوں کی طرف سے چاول پانی میں بھگو کر ان میں میوہ ملایا جاتا اور اگر خاندان خوشحال ہوتا تو ساتھ میں گڑ بھی رکھا جاتا یہی چاول گھر گھر تقسیم کیے جاتے اور یہی اس زمانے کا شادی کا کارڈ ہوا کرتا تھا جس گھر میں یہ چاول پہنچتے وہاں کے لوگ مقررہ رات کو خوشی میں شریک ہونے ضرور آتے
شادی سے پہلے سہرے کی رات کالا باغ کی سب سے خوبصورت راتوں میں شمار ہوتی تھی اس رات محلے اور خاندان کی تمام خواتین محلے کے بڑے گھر میں جمع ہوتیں پوری رات جاگتیں خوشی کے گیت گاتیں ڈھول کی تھاپ کبھی پرات پر بجتی کبھی تھالی کی آواز گونجتی اور ساری رات خوشیوں کی محفل سجی رہتی مائیں بہنیں پھوپھیاں چچیاں خالائیں اور کزن مل کر اس رات کو یادگار بنا دیتیں اس زمانے کے سہرے محبت خوشی اور اپنائیت کی علامت تھے آج بھی سہرے ہوتے ہیں مگر ان کی روح کہیں کھو گئی ہے
اسی رات ایک خوبصورت رسم لالا جاگ کی بھی ادا کی جاتی تھی دولہا اپنے دوستوں اور سہبالوں کے ساتھ سویا ہوتا تو بہنیں اور کزن گڑوی یا تھالی بجا کر اسے جگاتیں ہنسی مذاق ہوتا لاگ وصول کی جاتی اور چند روپوں کی یہ رسم خوشیوں میں مزید رنگ بھر دیتی تھی
سحری کے وقت گڑولی بھرنے کی رسم شروع ہوتی ایک خوبصورت مٹی کا گھڑا لیا جاتا اس پر سرخ دوپٹہ یا خوبصورت جالی دار رومال سجایا جاتا پھر بہنیں اور کزن اسے سر پر باری باری رکھ کر دریا یا محلے کے کنویں تک جاتیں پانی بھر کر گیت گاتے ہوئے واپس گھر لاتیں یہی پانی آگے چل کر شادی کی ایک اور خوبصورت رسم میں استعمال ہوتا
صبح کے وقت کھارا چڑھنے کی رسم ادا کی جاتی سرکنڈوں یا بانس درخت کی ٹہنیوں سے تیار کیا گیا خوبصورت کھارا رنگ برنگے کاغذی پھولوں اور دھاگوں کے پھولوں سے سجایا جاتا دولہا اس پر بیٹھتا اور گڑولی کے پانی سے وضو کرایا جاتا اور اسے گرولی والے پانی سے نہلایا جاتا پھر وہ نئے کپڑے پہن کر تیار ہوتا اسی لیے اس رسم کو کھارا چڑھنا کہا جاتا تھا
کھارے سے اترنے کے بعد ایک اور دلچسپ روایت ادا کی جاتی مٹی کی چھونی جس سے گھڑا ڈھکا جاتا تھا اسے دولہا اپنی ایڑی مار کر توڑ دیتا تھا یہ رسم خوش نصیبی اور نئی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی آج بھی ضلع میانوالی کے بعض علاقوں میں یہ روایت کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے اس دور میں نوٹوں کے سہروں کا رواج نہیں ہوتا تھا پھولوں کے سہرے گلے میں ڈالے جاتے تھے دولے کے اور نوٹ اس دور میں بہت کم ویل کی شکل میں پھینکے جاتے تھے زیادہ تر سکے پھینکے جاتے تھے تھینکے جانے والے سکے اکثر بچے چنا کرتے تھے
دولہے کے سہبالوں میں سے ایک نوجوان ہاتھ میں لوہے کی بنی ہوئی خوبصورت چھڑی اٹھائے چلتا تھا جس کا ایک سرا چھتری کے ہینڈل کی طرح موڑا ہوا ہوتا تھا جس پر کپڑے کے پھول اور رنگ برنگی سجاوٹ کی جاتی تھی یہ چھڑی ہر خاندان کی پہچان ہوتی تھی کئی خاندان نسل در نسل اپنی یہی چھڑی ہر شادی میں استعمال کرتے رہے
کالا باغ کی سب سے منفرد اور مشہور روایت جوڑیوں والی جنج تھی دوست ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنتے ایک جیسے جوتے تیار کرواتے جوڑی بنا کر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے بازار سے گزرتے پھر دریا کے کنارے پتن پر پہنچ کر کشتیوں اور بیڑیوں میں سوار ہوتے دریائے سندھ کے بیچوں بیچ کشتیوں میں ڈھول بجتا بھنگڑے ڈالے جاتے تھے اور خوشیوں کی گونج پانی پر رقص کرتی محسوس ہوتی مگر چند افسوسناک حادثوں میں باراتیوں سے بھری کشتیاں الٹنے اور کئی جانیں ضائع ہونے کے بعد یہ خوبصورت روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی
دلہن جب پہلی مرتبہ اپنے نئے گھر آتی تو ایک قدیم رسم ادا کی جاتی دولہا دروازے کے اندر کھڑا ہو کر سات تنکے یا کھجور کے پتوں کی باریک تیلیاں دلہن کے سر کے اوپر سے پھینکتا بزرگ خواتین غور سے دیکھتیں کہ کتنے تنکے سر سے گزر کر پیچھے گرے اور کتنے سامنے آ گرے پھر دلہن بھی یہی عمل دولہے کے ساتھ کرتی اس کے بعد خوش مزاجی سے یہ اندازہ لگایا جاتا کہ گھر میں زیادہ راج کس کا رہے گا مرد کا یا عورت کا یہ رسم صدیوں پرانی تہذیب کی ایک خوبصورت یادگار تھی جس کی جھلک آج بھی ہندوستان کے کئی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے
مہندی اور تیل کی رسم بھی بے حد دلکش ہوتی تھی دولہا یا دلہن کو بٹھایا جاتا سامنے مہندی اور سرسوں کا تیل رکھا جاتا خاندان کی ہر خاتون باری باری آتی پہلے انگلی تیل میں ڈبو کر سر پر لگاتی پھر نوٹ ہاتھ پر رکھتی اور اسی نوٹ پر مہندی لگا دیتی اس طرح دعاؤں محبت اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ نوٹ بھی مہندی سے بھر جاتے اور سرسوں کے تیل کی خوشبو پورے گھر میں پھیل جاتی
یہ سب رسمیں صرف شادی کی تقریبات نہیں تھیں بلکہ محبت بھائی چارے ایثار خلوص اور ایک زندہ تہذیب کی پہچان تھیں ان رسموں میں دولت کی نمائش نہیں بلکہ دلوں کی خوشی شامل ہوتی تھی ہر شخص دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتا تھا
آج وقت بدل چکا ہے رسمیں بھی بدل گئی ہیں محلے کی وہ اپنائیت مشترکہ خوشیاں رات بھر جاگنے والی محفلیں دریا کے کنارے گونجتے ڈھول گڑولی بھرنے والی بہنیں کھارا چڑھنے والے دولہے اور سہرے گانے والی مائیں اور پھوپھیاں سب ماضی کے دریچوں میں سمٹ گئی ہیں مگر کالا باغ کی پرانی گلیوں میں آج بھی اگر کوئی خاموشی سے چلتا رہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا کے ہر جھونکے میں ان رسموں کی مہک آج بھی زندہ ہے اور وقت اب بھی اتلا پتن کی ان گلیوں میں کہیں ٹھہرا ہوا ہے

۔

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

Muhammad Ahsan Qureshi —Chashm-e-Salagar

محمد احسن قریشی  چشمِ سلاگر — قلم، کیمرے اور صحافت کے ذریعے...
Read More
Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

Kalabagh mein namak ke zakhaar ki tabahi ka zimmadar kaun??

کالاباغ میں نمک کے ذخائر کی تباہی کا ذمہ دار کون؟؟ اللہ...
Read More
KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

KALABAGH MEIN GIRLS COLLEGE KA QAYAM

کالا باغ میں گرلز کالج کا قیام — ہماری بچیوں کے روشن...
Read More
Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

Raja Salagar Ka Kala Bagh Maazi Ke Jharokon Se

راجہ سلاگر کا کالا باغ   -ماضی کے جھروکوں سے   ڈاکٹر کی...
Read More
Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

Kalabagh Tehsil Level Hospital: Eentein, Cement aur Be-hissi!

کالاباغ تحصیل لیول ہسپتال: اینٹیں، سیمنٹ اور بے حسی! بڑی عمارت، ناپید...
Read More
Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key  Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

Maazi Ke Jharokon Se – Kalabagh key Tang-o-Tareekhi Galiyon Ke Tham

ماضی کے جھروکے سے تنگ و تاریخی گلیوں کے تھم کالاباغ کی...
Read More
Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

Pakistan mein zaraat ka zawaal aur kisaan ki badhaali

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بدحالی کسان سال بھر...
Read More
Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

Kalabagh ki nai aabadiyan aur bunyadi sahuliyat ki siyasat

  کالاباغ کی نئی آبادیاں اور بنیادی سہولیات کی سیاست   پاکستان...
Read More
Kalabagh ki andheri galiyon mein ruka hua waqt

Kalabagh ki andheri galiyon mein ruka hua waqt

کالاباغ کی اندھیری گلیوں میں رکا ہوا وقت میرا جب بھی دل...
Read More
Kala Bagh ki shadiyon ki rasmein aur ek zinda tehzeeb ki khushboo

Kala Bagh ki shadiyon ki rasmein aur ek zinda tehzeeb ki khushboo

کالا باغ کی شادیوں کی رسمیں اور ایک زندہ تہذیب کی خوشبو...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top