میرا میانوالی
منورعلی ملک کےاکتوبر 2025کے فیس بک پرخطوط
1991 میں وفاقی وزیر مجاھد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی گورنمنٹ کالج میانوالی کے سالانہ کانووکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں تشریف لائے۔ اپنے ضلع کے کالج میں اساتذہ اور بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ اس موقع پر ہم نے ان سے گزار ش کی کہ میانوالی کے غریب لوگ بچوں کو اعلی تعلیم کے لیئے لاہور یا سرگودھا نہیں بھیج سکتے، اگر ہمارے کالج میں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز کا اجراء ہو جائے تو علاقے کو بہت فائدہ ہوگا۔
مولانا نے کہا بالکل ٹھیک ہے ۔ اسلام آباد پہنچتے ہی انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے بات کی۔ مولانا کی بات کون ٹال سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے فورا فون پر چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیا کہ گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز کا آغاز کر دیا جائے۔اگلی صبح ڈپٹی کمشنر میانوالی رانا محمد افضل خان نے کالج میں آکر بتایا کہ وزیر اعظم کے حکم پر آپ کے کالج میں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز کے اجرا کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے ۔ فوری طور پر ایم اے سال اول میں داخلہ شروع کر دیا جائے ۔یوں مولانا کی مہربانی سے ایک بہت مشکل کام بہت آسانی سے ہو گیا۔ ہم نے فی الفور ایم اے سال اول میں داخلہ شروع کر دیا
گورنمنٹ کالج میانوالی میں جب ایم اے انگلش کی کلاسز کا اجراء ہوا اس وقت انگلش ڈیپارٹمنٹ میں ہم سات لوگ تھے۔ سلطان محمود اعوان اور محمد حنیف شاہ اسسٹنٹ پروفیسر تھے ، میں ، سرور خان، عبد الغفار خٹک ، غلام حسین اعوان اور طاہر جہان خان لیکچرر تھے۔ یونیورسٹی کے مطلوبہ معیار اور تعداد کے لحاظ سے یہ ٹیچنگ سٹاف کافی نہ تھا۔ مگر وزیراعظم کے خصوصی حکم سے جاری ہونے والی کلاسز کو بند بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لیئے یونیورسٹی نے بھی اپنے مقررہ معیار پر اصرار نہ کیا۔
ہم لوگوں پر کام کا بوجھ خاصا بڑھ گیا ۔ مگر خدمت کے جذبے سے سر شار اساتذہ نے تن دہی سے محنت کرکے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی چار کلاسز کے علاوہ ہم ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھاتے رہے۔
پہلے سال ایم اے پارٹ ون کا پہلا پیپر کلاسیکل پوئٹری میرے حصے میں آیا۔ دوسرا پیپر ڈراما سلطان محمود اعوان صاحب ، تیسرا پیپر ناول سرور خان صاحب چوتھا پیپر نثر حنیف شاہ صاحب اور پانچواں پیپر امریکن لٹریچر طاہر جہان خان صاحب پڑھاتے رہے ۔
سلطان محمود اعوان صاحب نے صحت کے مسائل کی وجہ سے پڑھانے سے معزرت کر لی تو کلاسیکل پوئٹری کاپیپر خٹک صاحب کے سپرد کر کے ڈراما کا پیپر میں نے لے لیا۔اگلے سال پارٹ ٹو کی کلاس بھی آگئی ۔ اس کا دوسرا پیپر ماڈرن ناول میرے حصے میں آیا ۔اسی سال پپلاں سے ڈاکٹر سفیر اعوان بھی ٹرانسفر ہو کر آ گئے ۔ یوں کام کا بوجھ کچھ کم ہو گیا۔ 2اکتوبر2025
گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے انگلش کی پہلی کلاس 22 سٹوڈنٹس پر مشتمل تھی۔اس میں نصف تعداد بچیوں کی تھی۔میرے بیٹے امجد علی ملک کا رول نمبر 1 تھا۔ موجودہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک طارق عباس آور گورنمنٹ کالج میانوالی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے موجودہ سربراہ ناصر اقبال بھی اس کلاس کے سٹوڈنٹ تھے۔ امجد بیٹا پی اے ایف کالج میانوالی میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔۔ بچیوں میں سے بھی اکثر لیکچرر ن گئیں ۔ اب تو وہ بھی گریڈ انیس بیس میں پروفیسر ہوں گی۔
بچیوں میں دو ڈپٹی کمشنر میانوالی رانا محمد افضل خان کی صاحب زادیاں اورجیل سپرنٹینڈنٹ کی ایک صاحبزادی بھی شامل تھی بقیہ بچیاں مقامی تھیں ۔ سب بچے بچیاں بہت ذہین بھی تھے اور انہیں انگلش لٹریچر سے دلچسپی بھی بہت تھی۔ اس لیئے اس کلاس سے تمام ٹیچرز بھی بہت خوش تھے۔ سال گذرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔3اکتوبر2025
ایک دن میں ایم اے انگلش پارٹ ون کی کلاس کو ڈراما پڑھا رہا تھا ۔ سین یہ تھا کہ بادشاہ نے صرف شک کی بنا پر ملکہ کو جیل بھجوا دیا ۔اچانک ایک بچی نے دھاڑ دھاڑ رونا شروع کر دیا۔ وہ بچی ایک مجسٹریٹ کی اہلیہ تھی۔ میں جانتا تھا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہونے تک بچی خاموش نہیں ہو گی۔ اس لیئے میں نے اس سے کہا بیٹا جب تک آپ کی طبیعت نارمل نہیں ہوتی آپ باہر لان میں جا کر بیٹھ جائیں۔بچی باہر چلی گئی۔ چند منٹ بعد جب واپس آئی تو ہم س دردناک سین پڑھ کر اگلے سین میں داخل ہو چکے تھے ۔
ادب ، بالخصوص المیہ ڈراما پڑھنے پڑھانے کے دوران بلڈ پریشر اکثر اوپر نیچےہوتا رہتا ہے۔ شیکسپیئر اور سوفوکلیز جیسے ڈراما نگار ایسی جان دار منظر کشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والا خود کو موقع پر موجود سمجھنے لگتا ہے ۔شیکسپیئر کے المیہ ڈرامے ہیملٹ اور کنگ لیئر پڑھاتے ہوئے اکثر میں خود بھی آبدیدہ ہو جاتا تھا، بچوں کی آنکھیں بھی بھیگنے لگتی تھیں۔اس جذباتی رد عمل کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان واقعات میں اپنی زندگی کے بعض المناک واقعات کا عکس نظر آتا ہے ۔ 4اکتوبر2025
میری ریٹائرمنٹ پر الوداعی تقریب کالج کی تاریخ کی یادگار الوداعی تقریب تھی ۔ میں یکم فروری 2001 کو ریٹائر ہوا ۔ ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل انگلش ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کرام اور بچوں نے اس تقریب کا اہتمام کیا۔ میں نے کہا مجھ سے ایک دن پہلے پرنسپل ملک محمد انور میکن اور بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر محمد فاروق بھی ریٹائر ہو رہے ہیں۔ کیوں نہ انہیں بھی اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں مدعو کر لیا جائے۔ تجویز معقول تھی۔ سب ساتھیوں نے بخوشی قبول کر لی ۔
تقریب شعبہ انگریزی کے لان میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی کمپیئرنگ ایم اے سال دوم کی سٹوڈنٹ عمارہ صدف نیازی نےکی۔ پروفیسر صاحبان اور چند سٹوڈنٹس نے اظہار خیال کے پھول برسائے ۔ پرنسپل صاحب ، پروفیسر فاروق صاحب اور میں نے اس اہتمام پر اساتذہ اور بچوں کا شکریہ ادا کیا ۔۔ خاصا جذباتی ماحول بن گیا ۔ اکثر بچوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میں نے کہا میں کہیں نہیں جا رہا۔ جب تک ایم اے کی موجودہ دو کلاسز کا کورس مکمل نہیں ہوتا میں کالج آتا رہوں گا۔
الوداعی تقریب کے بعد ایم اے کی چند بچیاں میرے کمرے میں آ کر مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔ باتوں باتوں میں میں نے انہیں بتایا کہ میری اصل تاریخ پیدائش تو 12 فروری ہے ، مگر مجھے سکول میں داخل کرواتے وقت میرے چچا جان نے یکم فروری لکھوادی۔ اس لیئے سرکاری ریکارڈ میں میری تاریخ پیدائش یکم فروری ہی رہی اور میری ریٹائرمنٹ اسی کے مطابق ہوگی ۔
یہ سن کر بچیاں بضد ہو گئیں کہ ہم 12 فروری کو آپ کا برتھ ڈے منائیں گے۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی آپ کی محبوب ترین شخصیت ہوگی۔ آپ بس اس شخصیت کا نام بتا دیں ۔میں نے کہا میری محبوب ترین شخصیت تو میری دوسالہ پوتی فائقہ ہے۔ بچیوں نے کہا بالکل ٹھیک ، مہمان خصوصی فائقہ ہی ہو گی۔بہت خوبصورت تقریب تھی۔ کیک کاٹنے سے پہلے بچیاں میرے بارے میں اظہار خیال کر رہی تھیں کہ اچانک مہمان خصوصی نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ بھوک لگی تھی۔مہمان خصوصی کو دودھ کا فیڈر پکڑا کر تقریب کی کارروائی مکمل کی گئی ۔ پھر کیک کاٹا گیا۔ اس کے بعد بچیوں نے مجھے کچھ خوبصورت گفٹ دیئے۔کیا اچھا زمانہ تھا اور کتنے اچھے لوگ —8اکتوبر2025
بڑے شہروں میں تو سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے بہت ہوتے ہیں مگر پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کاقیام صحیح معنوں میں ایک کار خیر ہے۔ یونیک ایجوکیشن سسٹم کے نام سے سکولوں کا ایک سلسلہ ضلع میانوالی کے شمالی علاقے میں بہت قابل قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے ۔
اس سلسلے کا پہلا سکول داؤدخیل میں محترمہ نوشین نیازی نے 2014 میں قائم کیا ۔ نوشین نیازی ایم اے انگلش ہیں۔ کچھ عرصہ افغان مہاجرین کیمپ کوٹ چاندنہ میں ایجوکیشن آفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ سکول مینیجمینٹ کے اس تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے اپنی نند سعدیہ کے ساتھ مل کر یونیک سکول سسٹم کا آغاز کیا۔ اب تک اس سسٹم کے تحت پانچ سکول قائم ہو چکے ہیں۔ داؤدخیل کے علاوہ پکی شاہ مردان ، کالاباغ ، کوٹ چاندنہ اور کھگلانوالہ میں اس سکول کی برانچز علاقے میں تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہیں ۔ یہ سکول سرگودھا بورڈ سے منسلک ہیں۔ اس وقت ان سکولوں میں 3000 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں ۔یونیک ایجوکیشن سسٹم کا نصب العین ہے–Quality education at دورسٹیپ–معیاری تعلیم گھر کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔قومی خدمت کے اس سلسلے کے لیئے بہت سی دعائیں ۔9ستمبر2025
سادہ لوح دیہاتی بزرگوں کے اپنے صحت کے اصول ہوتے تھے ، جن پر عمل کر کے وہ بہت سی بیماریوں سے بچے رہتے تھے ۔موسم بدلنے سے پہلے وہ اپنے معدے کو صاف کر کے اگلے 6 ماہ کے لیئے تیار کر لیتے تھے ۔ آدھا کپ کیسٹر آئل میں آدھا کپ عرق سونف ملا کر صبح نہار منہ پی لیتے تھے ۔ اس عمل سے ایک آدھ گھنٹے میں معدہ بالکل خالی ہو جاتا تھا۔معدے کو آرام دینے کے لیئے دو دن روٹی کی بجائے دال چاول کی کھچڑی یا لیٹی کے علاوہ کچھ نہیں کھاتے تھے۔ لیٹی گندم کے بھونے ہوئے دانوں کے آٹے سے بنا ہوا پتلا حلوہ ہوتا تھا ۔یہ عمل ہر سال اکتوبر اور اپریل میں دہرایا جاتا تھا ۔
اکثر بیماریوں کاعلاج ایم بی 693 نام کی گولی ہوتی تھی ۔دیہات میں میڈیکل سٹور تو ہوتے نہیں تھے مگر یہ گولیاں کریانے کی دکانوں پر مل جاتی تھیں۔بعض اوقات کسی گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو خواتین پڑوسیوں کے گھر جاکر کہتی تھیں ڈیکھاں کوئی ایم بی نی گولی پئی ہوسنے ؟
گولیاں اگر اس گھر میں موجود ہوتیں تو فوراً مل جاتی تھیں۔ سستی چیز تھی ایک روپے میں دس پندرہ گولیاں مل جاتی تھیں ۔ اس لیئے اکثر لوگ یہ گولیاں گھروں میں رکھتے تھے تاکہ بوقت ضرورت بھاگ دوڑ نہ کرنی پڑے۔10اکتوبر2025
عام ضرورت کی ساری دوائیں سرکاری ہسپتالوں سے مفت مل جاتی تھیں۔سردی کی آمد سے پہلے ملیریا تقریبا ہر فرد کو ہوتا تھا۔ اس کے لیئے پانی کے رنگ کا کونین مکسچر اور سردرد ، جسم کے درد کے لیئے اے پی سی پاؤڈر کی پڑیاں ملتی تھیں۔ مکسچر کے لیئے چھوٹے سائز کی بوتل مریض کو خود لانی پڑتی تھی ۔ ایک دو دفعہ مکسچر کا ایک ایک چمچ لینے سے ملیریا غائب ہو جاتا تھا۔
ٹائفائیڈ کے لیئے کلورم فینی کول سیرپ ملتا تھا۔ ہاضمے کے مسائل کے لیئے لال رنگ کا کارمینیٹو شربت بھی ہسپتال سے ملتا تھا۔گرمی کے آغاز میں بچوں کو آنکھوں کی انفیکشن ہوتی تھی جس سے آنکھیں سوج جاتی تھیں اور شدید درد ہوتا تھا۔ اس کے لیئے ڈسپنسر بیمار آنکھوں میں پیلے رنگ کے قطرے ڈال دیتے تھے ۔ ایک دوبار قطرے ڈالنے سے مرض ختم ہو جاتا تھا ۔
دیہات کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر کی بجائے ڈسپنسر تشخیص اور علاج کے فرائض سر انجام دیتے تھے ۔ اس زمانے کے ڈسپنسر بھی اچھے خاصے سیانے ہوتے تھے۔اب تو علاج بہت مہنگا اور دوائیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ ہمارے بچپن کے دور میں علاج مفت اور دوچار سادہ سی دوائیں ہوتی تھیں۔۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ–11اکتوبر2025
اس موسم میں باجرے کی فصل تیار ہو جاتی ہے۔ہمارے گھر کے سامنے دس کنال کے پلاٹ میں چاچا بشیر احمد باجوہ باجرا کاشت کرتے تھے۔ پلاٹ ہماری ملکیت تھا اس لیئے آدھی پیداوار ہمیں دیتے تھے۔باجرے کی روٹی عام روٹی سےذرا موٹی ہوتی ہے۔ خالص گھی اور سرخ شکر میں اس کی چوری اللہ کی عجیب نعمت ہے۔ جتنی کھا لو جی نہیں بھرتا ۔ یہ لذیذ چوری میرا دوپہر کا کھانا ہوا کرتی تھی ۔ یہ ہمارے علاقے کی خاص خوراک تھی۔
آٹے میں شکر ملا کر باجرے کی میٹھی روٹی بھی بنائی جاتی تھی ۔ باجرے کے دانے پانی میں ابال کر بھی کھائے جاتے تھے۔ ابلے ہوئے دانوں کو بھنگور کہتے تھے ۔اب تو باجرا صرف پرندوں کی خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ یہ انسانوں کی خوراک بھی ہے۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ–12اکتوبر2025
سردی کی مار سے بچنے کے لیئے سردیوں میں میٹھا زیادہ کھایاجاتا تھا کیونکہ میٹھا جسم میں سردی کے خلاف قوت مزاحمت پیدا کرتا ہے۔کھانے کے بعد پشاوری گڑ کی ایک روڑی کھانا روزمرہ کا معمول تھا۔ گڑ سردی کے خلاف مزاحمت کے علاوہ ہاضمے کو بھی درست کر دیتا ہے۔شدید سردی میں صبح فجر کے وقت کھیتوں کو پانی دینے کے لیئے جانے والے کسان گڑ کی چند روڑیاں جیب میں ڈال کر لے جاتے تھے۔
پشاوری گڑ اب تو بہت عرصے سے نہیں دیکھا۔ ہمارے علاقے میں یہ گڑ ضلع مردان سے آتا تھا۔ سرخ رنگ کے اس گڑ کی روڑیاں اخروٹ کے سائز کی ہوتی تھیں۔ یہ چینی سے زیادہ میٹھا ہوتا تھا۔ چینی تو اس زمانے میں دستیاب ہی نہیں ہوتی تھی۔ چائے میں بھی گڑ ڈالا جاتا تھا۔ گڑ کی چائے کا اپنا خاص ذائقہ ہوتا تھا ۔کچھ عرصہ پہلے بلکسر موٹروے انٹر چینج کے پاس ایک ہوٹل میں گڑ کی چائے بنتی تھی ۔ اب پتہ نہیں وہ ہوٹل ہے یانہیں۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 13اکتوبر2025
گڑ سے چائے کے علاوہ اور بھی کئی لذیذ چیزیں بنتی تھیں۔سادہ حلوہ، دودھی والا حلوہ جسے مکھڈی حلوہ بھی کہتے تھے ، میٹھی روٹی جسے ستاپڑی کہتے تھے , گڑ کے شربت میں آٹا بھگو کر موٹی سی روٹی بناتے تھے جسے روٹ کہتے تھے۔ ہر جمعرات کو بزرگ خواتین روٹ بناکر کسی مقامی بزرگ کے مزار پر لے جاکر تقسیم کرتی تھیں۔ روٹ کے ٹکڑوں کے لالچ میں بچوں کی فوج بھی ان کے ہمراہ جاتی تھی۔
موسم سرما میں بارش کی جھڑیوں کے دوران ایک خاص قسم کا حلوہ بنتا تھا جسے کرکنڑاں کہتے تھے ۔ یہ حلوہ تازہ گرم ہی کھایا جاتا تھا کیونکہ ٹھنڈا ہو کر یہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتا تھا ۔اب نہ وہ گڑ ملتا ہے ، نہ وہ چیزیں ۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-14اکتوبر2025
یہی موسم بٹیروں کی آمد کا موسم بھی ہوتا تھا۔ مرغابیوں اور کونجوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں بٹیر بھی سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے رزق کی تلاش میں یہاں آتے تھے۔ ان کو رزق باجرے کی فصل سے حاصل ہوتا تھا ۔ہمارے داؤدخیل میں چاچاصالح محمد درکھان اور چاچا گھیبہ سنار کے بیٹے بٹیروں کے شکاری تھے۔ وہ لاوے کی مدد سے شکار کرتے تھے ۔ لاوا سکھانے ہوئے بٹیروں کی ٹیم اور جال پر مشتمل ہوتا تھا ۔
جنگلی بٹیر صبح فجر سے کچھ پہلے باجرے کے کھیت پر حملہ آور ہوتے تھے ۔کھیت کے ایک کنارے پر لگے ہوئے جال کے پیچھے پنجروں میں بند لاوے کے بٹیر اس وقت ایک مخصوص بولی بولتے تھے ۔ یہ بولی باہر سے آئے ہوئے بٹیروں کے لیئے بلاوا کا کام کرتی تھی ۔ وہ ان ساتھیوں سے ملنے کے لئے تیزی سے بھاگتے ہوئے آتے اور جال میں پھنس جاتے تھے۔ تاک میں بیٹھے شکاری آ کر انہیں پکڑ لیتے تھے ۔شکاریوں سے لوگ کھانے کے لیئے بٹیر خریدتے تھے ۔ بٹیر چار آنے کا ایک یعنی ایک روپے کے چار اور بٹیریاں ایک روپے کی آٹھ ملتی تھیں۔قدکاٹھ اور وزن میں بٹیری بٹیرے سے بڑی ہوتی تھی اس لیئے لوگ بٹیریوں کو ترجیح دیتے تھے ۔زیادہ تر بٹیر لڑانےکےشوقین ہی بٹیر خریدتے تھے ۔
بٹیروں کی خریداری سے متعلق بہت سی حسین یادیں آج بھی دل میں محفوظ ہیں ۔جب سے بجلی ہمارے علاقے میں آئی ہے بٹیروں نے اس علاقے میں آنا چھوڑ دیا ہے ۔ بٹیروں سے وابستہ ایک اچھا خاصا کلچر ختم ہو گیا-گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16اکتوبر2025
بٹیربازی ہمارے کلچر کاایک دلچسپ پہلو تھا۔ بچے بوڑھے اور جوان سب لوگ کسی نہ کسی حد تک اس شوق میں مبتلا رہے۔داؤدخیل میں سینیئر بٹیر بازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے بٹیر ہاتھوں میں پکڑے چاچا گھیبہ سنار کی دکان پر صبح سے شام تک بیٹھ کر گپ شپ لگاتا تھا۔ ان کی گفتگو کا موضوع بٹیروں کی لڑائیاں ہوتا تھا۔ اپنے اپنے بٹیروں کے فضائل بیان کیئے جاتے تھے۔غلام مصطفیٰ خان خانے خیل ، ماسٹر دراز خان ، ہمارے کزن محمد عظیم ہاشمی اور چاچا گھیبہ کا بیٹا ہدایت اللہ اس گروپ کے مستقل ممبر تھے۔ موچھ کے ایک سینئر بٹیرباز چاچا خان بھی روزانہ اس محفل کی رونق بنتے تھے۔
ہر اتوار کو نہر کے پار بٹیر بازی کا میچ منعقد ہوتا تھا۔ اس میچ کو پڑی کہتے تھے ۔ ہمارے ہاں پڑی میں پائی خیل، موچھ اور کالاباغ تک کے بٹیر باز شریک ہوتے تھے ۔ میچ میں دو دو بٹیروں کی لڑائی ہوتی تھی ۔ جو بٹیر میدان سے بھاگ جاتا اسے ہار ہوا اور جیتنے والے کو فاتح قرار دیا جاتا تھا ۔بزرگوں کو دیکھ کر بچے بھی بٹیر بازی کیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی حسب توفیق بہت بٹیر بازی کی۔رفتہ رفتہ یہ کلچر بھی ختم ہو گیا ۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔ 17اکتوبر2025
سردیوں میں رہن سہن میں کئی تبدیلیاں ہواکرتی تھیں۔ ۔ خالص غذا اور چلنے پھرنے کی وجہ سے لوگوں کو سردی کم لگتی تھی تاہم کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کیا جاتا تھا ۔ رات کی سردی سے بچنے کے لیئےگرم بستروں کے علاوہ سونے کے کمروں میں آگ بھی جلائی جاتی تھی ۔ کمروں میں آگ جلانے کے لیئے لئی کی جھاڑیاں استعمال ہوتی تھیں۔ لئی ہمارے کچے کے علاقے کا، پودا تھا ۔ اس کے جلنے سے دھواں کم اور تپش زیادہ ہوتی تھی۔
دن کو لوگ کھلی دھوپ میں بیٹھتے تھے۔ ہمارے ہاں دن کے پہلے پہر شمال سے تیز ٹھندی ہوا چلتی تھی جسے جابہ کہتے تھے۔ اس ہوا کی مار سے بچنے کے لیئے لوگ کسی مکان یا دیوار کی آڑ میں بیٹھتے تھے ۔اس آڑ کو اوہلہ کہتے ۔گرمیوں میں روٹیاں تندور پر مگر سردیوں میں توے پر پکائی جاتی تھیں۔ خدا جانے اس میں کیا حکمت تھی رواج بہر حال یہی تھا۔لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔ کوٹ سویٹر وغیرہ کی بجائے بزرگ لوگ سفید سوتی چادر اوڑھ لیا کرتے تھے۔ بچوں کے لیئے خواتین سویٹر سلائیوں کی مدد سے اپنے ہاتھوں سے بنا لیا کرتی تھیں۔رہے نام اللہ کا ۔۔18اکتوبر2025
بہت مختصر دورہ تھا ۔ اکرم بیٹا اور میں سوموار کی رات میانوالی پہنچے اور جمعرات کو واپس اگئے۔ بہت سی حسرتیں دل میں رہ گئیں۔ کئی لوگ مجھ سے ملناچاہتے تھے ، کئی لوگوں سے میں ملنا چاہتا تھا۔ مگر میرے پاس صرف ایک دن کا وقت تھا۔ وہ دن فیملی کے لوگوں سے ملنے ملانے میں گذر گیا ۔ داؤدخیل تک بھی نہ جا سکے۔ وہاں ہماری فیملی کے لوگوں کو ہمارے میانوالی آنے کی خبر ہوئی تو میرے کزن اظہر عباس علی، ان کے بھائی اختر عباس علی، میرے بھتیجے ملک رضوان علی اور میرا پوتا احمد عباس علی ہم سے ملنے کے لیئے میانوالی آگئے ۔کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ہماری واپسی بہر حال ضروری تھی۔ اس لیئے اگلے دن واپس آگئے ۔ اپنی آمد کے بارے میں چند روز پہلے محمد منشا خان کو واٹس ایپ پر بتا دیا تھا۔اس لیئے صرف ان سے ملاقات ہو سکی۔جن لوگوں سے ملاقات نہ ہو سکی ان سے معذرت۔
اب ان شاءاللہ دسمبر کے آخری دس بارہ دن میانوالی میں گذارنے کا ارادہ ہے۔ ان دنوں میں سب ملاقاتیں ہوجائیں گی۔ دعاؤں میں یاد رکھیں-24اکتوبر2025
میں داؤدخیل سے عیسی خیل جانے کے لیئے بس میں سوار ہوا۔ بس میں کوئی سیٹ خالی نہ تھی۔ سیٹوں کے درمیان کچھ لوگ کھڑے تھے۔ میں بھی ان میں شامل ہو گیا ۔اچانک ایک خوش لباس نوجوان ساتھ والی سیٹ سے اٹھا اور مجھ سے کہنے لگا ۔ سر آپ یہاں بیٹھ جائیں۔میں نے کہا بہت شکریہ۔ آپ بیٹھے رہیں ۔ کالاباغ سے کوئی سیٹ خالی ہو جائے گی تو میں اس پہ بیٹھ جاؤں گا۔
نوجوان نے کہا سر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور میں بیٹھا رہوں ۔
میں نے کہامیں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟
نوجوان نے کہا سر ، میرا نام سید امیر عباس نقوی ہے۔ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں۔ جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا تو ایک دن آپ ہمارے ہیڈماسٹر سید اقبال حسین بخاری صاحب سے ملنے کے لیئے کوٹ بیلیاں سکول آئے تھے اور ہیڈماسٹر صاحب کی فرمائش پر ہمیں انگلش کی Direct and Indirect نارّتیوں پڑھائی تھی۔ سر، آپ نے جو کچھ پڑھایا تھا وہ مجھے آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے ۔ اللہ سلامت رکھے ڈاکٹر امیر د عباس نقوی اب بیرون ملک مقیم ہیں۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔25اکتوبر2025
میانوالی کے لوگوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ احسان ہمیشہ یاد رکھتےہیں اور موقع ملتے ہی اس کا صلہ ضرور دیتے ہیں ۔اپنی زندگی میں کئی ایسے واقعات نظر سے گذرے۔ایک دن میں اپنے بیٹے کے ساتھ سرگودھا سے میانوالی آرہا تھا۔ اس روز سرگودھا سے میانوالی جانے والی ٹرانسپورٹ کی ہڑتال تھی۔ صرف لاہور سے میانوالی جانے والی بسیں سرگودھا سے گذر رہی تھیں۔ ان میں ایک آدھ سیٹ ہی مل سکتی تھی ۔ بہت سے لوگ سیٹ سے محروم ہو کر اگلی بس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
ہم بھی لاری اڈا کے باہر ایک ہوٹل پر بیٹھ گئے۔ ہم چائے پی رہے تھے تو نیوخان بس سروس کی لاہور سے میانوالی جانے والی ایک بس سامنے پٹرول پمپ پر آ کر رکی۔ کنڈکٹر کسی کام سے ہوٹل میں آیا ۔ مجھے وہاں بیٹھا دیکھ کر سیدھا میرے پاس آکر کہنے لگا سرجی، میانوالی جا رہے ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اس نے ہمارا بیگ اٹھا لیا اور کہا آپ آرام سے چائے پی لیں میں آپ کے لیئے سیٹ کا بندوست کرتا ہوں۔میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا بیٹا کیا آپ میرے سٹوڈنٹ رہے ہیں ؟
اس نے کہا نہیں سر ، آپ سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی۔ میں کچھ کاغذات کی تصدیق کرانے کے لیئے آپ کے پاس آیا تھا۔ رات دس گیارہ بجے کا وقت تھا ۔ آپ مجھے جانتے بھی نہیں تھے، میرے پاس اصل کاغذات بھی نہیں تھے۔ صرف فوٹو کاپیاں ہی تھیں۔ پھر بھی آپ نے میرا کام کر دیا تھا ۔ میں آپ کی یہ مہربانی کیسے بھول سکتا ہوں۔
ہم چائے پی کر بس میں سوار ہونے کے لیئے پہنچے تو کنڈکٹر نے دو سواریوں کو فولڈنگ سیٹوں پر بٹھا کر ہمارے لیئے سیٹ خالی کروا دی ۔میانوالی پہنچے تو اس نے ایک رکشا روک کر ہمارا بیگ اس میں رکھا اور سلام کر کے ہمیں رخصت کر دیا ۔ 26اکتوبر2025
ایک شاعر نے کہاتھا۔۔۔۔
نور سے دور سیاہ رات میں زںدہ رہنا
کتنا مشکل ہے مضافات میں زندہ رہنا
شاعر کی بات درست ہے مگر کسی حد تک۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ مضافات کی تمام تر دور افتادگی، پسماندگی اور وسائل کی قلت کے باوجود بعض باہمت لوگ تاریخ میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔بہت بڑے بڑے شاعر اور ادیب دور افتادہ دیہات سے منظر عام پر آئے ۔ایسے باہمت اور خوش نصیب لوگ اب بھی ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ اس کی ایک خوبصورت مثال کمر مشانی کے حلقہ ادب سے وابستہ لوگ ہیں۔ نوجوان نسل کو موبائل فون اور ٹی وی کی سکرین سے کتاب کی طرف مائل کرنے کے لیئے ان نوجوانوں کی خدمات قابل قدر ہیں۔
کمر مشانی ایک کاروباری مرکز ہے۔ لوگوں کی زیادہ تعداد کاروبار سے وابستہ ہے۔ کہتے ہیں یہاں کوئی بھی نوجوان بے روزگار نہیں ۔ بظاہر کوئی کام نہ کرنے والے نوجوانوں نے بھی کسی نہ کسی کاروبار میں حصہ ڈال رکھا ہے۔کاروباری ذہنیت کے اس ماحول میں علم و ادب کا چراغ جلانا کوئی آسان کام نہیں ۔ مگر ریسکیو 1122 کے ساجد خان ، پروفیسر خلیل الرحمٰن ، ترگ سے ڈاکٹر ظہور احمد اور ان کے ساتھی حلقہ ادب نامی تنظیم
کے پلیٹ فارم سے اپنے علاقے میں علم وادب کے فروغ کے لیئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ حلقہ ادب لائبریری بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سے بے شمار لوگ مستفید ہو رہے ہیں ۔ حلقہ ادب علمی و ادبی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں بعض معروف اشاعتی اداروں کے تعاون سے کتاب میلہ کا اہتمام کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ میلہ بھی بہت کامیاب رہا۔
چند سال پہلے ڈاکٹر حنیف نیازی کے ساتھ میں نے بھی حلقہء ادب لائبریری کمر مشانی میں حاضری دی۔ لائبریری کا حسن انتظام دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔نوجوان نسل کی تربیت کے لئیے حلقہ ادب کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔ میانوالی اور دوسرے شہروں میں بھی ایسی تنظیمیں ہونی چاہئیں۔ ادبی سرگرمیاں صرف مشاعروں کی واہ واہ تک محدود نہیں ہونی چاہیئیں۔رہے نام اللہ کا۔۔ 28اکتوبر2025
کیا آپ نے کبھی پراٹھا کھایا ہے ؟
سب لوگ یہ بظاہر احمقانہ سوال سن کر ہنس دیں گے کہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔ پراٹھا تو ناشتے میں ہم بلاناغہ روزانہ کھاتے ہیں۔جی نہیں ، میں وہ والے پراٹھے کی بات نہیں کر رہا ۔اسے تو ہمارے داؤدخیل کی زبان میں ستاپڑی کہتے ہیں۔ میں جس پراٹھے کی بات کر رہا ہوں وہ ہمارے ہاں شدید سردی کے موسم میں کھایا جاتا تھا ۔ توے پر ایک روٹی دال کر اس کے اوپر مٹھی بھر گڑ کوٹ کر ڈال دیتے تھے۔ پھراوپر ایک اور روٹی ڈال کر پکا لیتے تھے ۔ گرما گرم پراٹھے کے وسط میں چھری یا چاقو سے چھوٹا ساٹکڑا (ٹاکی) کاٹ کر اس کی جگہ خالص دیسی گھی بھر دیتے تھے ۔ اس کے اوپر ایک چٹکی پسی ہوئی ہلدی بھی ڈال دیتے اور گڑ گھی اور ہلدی کے آمیزے میں روٹی کے نوالے ڈبو کر کھایا کرتے تھے ۔ یہ توانائی سے بھرپور غذا جسم کو سردی کے اثرات سے محفوظ رکھتی تھی ۔
پراٹھا عموما رات کو سونے سے پہلے کھایا جاتا تھا ۔ ہلدی سردی سےہونے والے جسم کے دردوں کا شافی علاج تھی کیونکہ یہ خالص آیوڈین ہے۔گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ رہے نام اللہ کا ۔۔۔29اکتوبر2025
سردیوں کے کھانوں کا ذکر چھڑا تو ایک بہت لذیذ چیز یاد آ گئی۔
چنے کی دال کا حلوہ بہت کم لوگوں نے کھایا ہو گا۔
چنے کی دال کو پانی میں اچھی طرح ابال کر گرائیند کر لیا جاتا تھا۔ پھر گڑ اور خالص دیسی گھی کی پت (شیرہ) بنا کر پسی ہوئی دال کا ملیدہ اس میں ڈال کر پکا لیا جاتا تھا۔ ترکیب بالکل دودھی والے مکھڈی حلوے جیسی ہےمگر اس حلوے کا اپنا الگ مزا تھا۔ کھاتے کھاتے جی ہی نہیں بھرتا تھا۔ یہ حلوہ نزلہ زکام کا بہترین علاج بھی تھا۔ اب تو شاید اس کا نام بھی بہت کم لوگوں نے سنا ہو کیونکہ بنانے والے ہاتھ بہت عرصہ ہوا زیر زمین جا چکے۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ رہے نام اللہ کا ۔
اب تو لفظ اوگرا اس ادارے کا نام ہے جو آئے دن تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر ہمارا جینا حرام کرتا رہتا ہے۔ (اوگرا دراصل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا مخفف نام ہے)-۔لیکن میں جس اوگرا کا کرنے جا رہا ہوں وہ ایک بہت لذیذ میٹھا کھانا ہوا کرتا تھا — ہوتا یوں تھا کہ خواتین روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جمع کرتی رہتی تھیں اور ہفتے میں ایک دن ان ٹکڑوں کو گڑ کے ساتھ پانی میں ابال کر بہت سا خالص دیسی گھی ڈال کر حلوہ سا بنالیتی تھیں۔ اس حلوے کو اوگرا کہتے تھے ۔ اس کا ایک اپنا مخصوص ذائقہ تھا۔ بچے ، بڑے سب لوگ بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے ۔گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ رہے نام اللہ کا ۔۔۔منور علی ملک ۔۔۔ 30اکتوبر2025
