MERA MIANWALI JULY 2018

منورعلی ملک کے جولائی 2018 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی ———————–

مین بازار میانوالی کی بغلی گلیوں میں چائے کے کھوکھے جابجا موجود ھیں ، دکان دار انہی کھوکھوں سے چائے منگواتے ھیں – بہت عمدہ چائے ھوتی ھے-

جس زمانے میں بسوں کے اڈے کچہری بازار میں ھوتے تھے ، جی ٹی ایس بسوں کے اڈے پر یک دبلے پتلے چاچا کا کھوکھا ھؤا کرتا تھا- چاچا غالبا کالاباغ سے ھجرت کرکے آیا تھا – بہت زبردست چائے ھوتی تھی چاچا کی –

ایک ملنگ قسم کے شاہ جی کا سادہ سا ھوٹل غلہ منڈی کے مغربی گیٹ کے ساتھ ھؤا کرتا تھا ، کمال کی چائے بناتے تھے شاہ جی- بعد میں انہوں نے مسلم بازار کے مشرقی سرے پر ایک چھپر ھوٹل بنا لیا – میں جب بھی میانوالی آتا ، شاہ جی کی چائے پینے کے لیے وھاں ضرور جایا کرتا تھا –

اپنے داؤدخیل اور میانوالی کے مزاج کے مطابق ، چائے پینے کے لیے میں وی آئی پی ھوٹلوں کی بجائے کھوکھا ٹائیپ دکانوں کو ترجیح دیتا ھوں – لاھورمیں بھی میں نے چند ایسے ٹھکانے منتخب کیے ھوئے ھیں – اکرم بیٹا بھی میرے اس ذوق کا خیال رکھتا ھے- جہاں کوئی ایسی جگہ نظر آئے گاڑی روک کر مجھے چائے ضرور پلاتا ھے-

کہتے ھیں جاہ جتنی ماڑھی ، چاہ اتنی چنگی – یہ بات اکثر سچ ثابت ھوتی ھے- چند سال پہلے میں مظہر نیازی صاحب کے ساتھ سکے پل کے پار ایک چھپر ھوٹل پہ جایا کرتا تھا – وہ ھوٹل اب پتہ نہیں ھے یا نہیں – اب وقاراحمد ملک کے ساتھ ویران جگہوں پر چائے پینے کا پروگرام زیر غور ھے-

میانوالی کی پرانی چائے کی دکانوں کا ذکر چلا ھے تو لال خان بلوچ کی لاجواب چائے یاد آگئی – یہ ھوٹل مسلم بازار میں تھا- کمال کی چائے بناتے تھے لال خان – اب سنا ھے وھاں پلازہ بن گیا ھے- لال خان خدا جانے کہاں ھیں –
— رھے نام اللہ کا——بشکریہ-منورعلی ملک- 1 جولائی 2018

میرا میانوالی ——————-

میری کل کی پوسٹ پر ملک حلیم ناصر گھنجیرہ نے بڑا دلچسپ کمنٹ دیا – وہ چند روز پہلے کچھ دوستوں سے ملنے فیصل آباد گئے – رات ١١ بجے کھانا کھا کر چائے کی تلاش میں نکلے – ایک بجے تک کہیں چائے کا ھوٹل نہ ملا- بالآخر ایک بجے کے بعد الائیڈ ھسپتال کی کینٹین پہ جا کر چائے پی – کہتے ھیں میں نے فیصلہ کر لیا ھے کہ آئندہ کبھی فیصل آباد نہیں جاؤں گا ، کیا فائدہ وھاں جانے کا جہاں چائے ھی نہ ملے ، پتہ نہیں یہ لوگ چائے کے بغیر کس طرح زندہ رہ لیتے ھیں -”
یہ ھے ایک اور جھلک ھم میانوالی والوں کی چائے سے محبت کی- کسی کو اچھی لگے یا بری ، چائے ھم لوگوں کی تو جان ھے- اس حد تک کہ ایک دفعہ میں نے جنڈ ریلوے سٹیشن پر ٹرین رکوا کر بھی چائے پی تھی-

ھؤا یوں کہ داؤدخیل سے پنڈی جاتے ھوئے جنڈ ریلوے سٹیشن پر ٹرین ایک آدھ منٹ کے لیے رکی- اس دن ٹرین کچھ لیٹ آرھی تھی ، اس لیے وھاں ایک آدھ منٹ سے زیادہ نہیں رکنی تھی- میں ٹرین سے اترا – ٹرین کے گارڈ ایک سفیدریش بزرگ تھے- میں نے کھڑکی کے پاس جا کر کہا ” چاچا جی ، چائے پینی ھے” – بہت مہربان بزرگ تھے – کہنے لگے ”بیٹا ، ضرور”-
یہ کہہ کر وہ ٹرین سے اتر آئے اور میرے ساتھ ٹی سٹال پہ جا کر دو کپ چائے کا آرڈر دیا – ریلوے گارڈ اور ڈرائیور وغیرہ کو سٹیشنوں پر کھانا پینا احتراما مفت ملتا تھا – میں جیب سے پیسے نکالنے لگا تو گارڈ صاحب نے ھنس کرکہا ”نہیں بیٹا ، آج آپ ریلوے کے مہمان ھیں – ”
ٹرین کی تاخیر کے خیال سے میں نے چائے جلد پینے کی کوشش کی تو اس مہربان بزرگ نے کہا ” بیٹا ، آرام سے چائے پیئں – ٹرین میرے بغیر کہاں جا سکتی ھے – یوں سمجھو ٹرین کی بریک پہ آپ کا پاؤں ھے”
اللہ اس شفیق بزرگ کو بے حساب رحمتوں سے نوازے – دکھوں کی ماری اس دنیا میں ایسے لوگ اللہ کی رحمت کے نمائندے ھوتے ھیں-
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-2 جولائی 2018

میرا میانوالی ——————–

چائے کا ذکر تو ذکر یار کی طرح لمبا ھو گیا – بہت سے دوست اس گفتگو میں شامل ھوگئے ھیں – کل کی پوسٹ پر بھی کئی دوستوں نے خوبصورت کمنٹس دے کر چائے سے اپنی محبت کا اظہار کیا- کچھ دوستوں نے بہت پیاری بھولی بسری یادیں تازہ کیں –

مجیب اللہ خان نیازی اور قمرالحسن بھروں زادہ نے ”پیشیں کی چائے” کا ذکر کیا – ظہر کے وقت ھر گھر میں چائے لازما بنتی تھی- مجیب اللہ خان نے بتایا کہ ان کے داداجی پیشی کی چائے بڑے اھتمام سے پیتے تھے- مجیب خان نے دو بہت پرانے الفاظ بھی یاد دلائے – ایک ”کارنس” جسے ھم ”کنس” یا ”پڑچھتی” کہتے تھے- یہ کمرے کی پچھلی (دروازے کے سامنے والی ) دیوار کے ساتھ ایک لمبی شیلف سی ھوتی تھی ، جس پر برتن اور کھانے پینے کی چیزیں رکھی جاتی تھیں – کارنس پانچ چھ فٹ کی بلندی پر ھوتی تھی –

مجیب نے دوسرا پرانا لفظ”دبلا” یاد دلایا ھے – ”دبلا” ٹین کا گول ڈبہ ھوتا تھا جو پتی چینی اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں رکھنے کے لیے استعمال ھوتا تھا-

ایک اور دوست نے بتایا ھے کہ ان کے نانا جان چائے پیتے وقت پنکھا بند کرادیتے تھے- سائنس کے لحاظ سے یہ بڑی اھم بات ھے – چائے پینے سے پسینہ آتا ھے- اورپسینہ قدرت کا ایک خاص نظام ھے ۔ جس کے ذریعے جسم سے فالتو نمکیات خارج ھو کر جسم میں نمک اور پانی کا توازن مناسب سطح پر آ جاتا ھے- اس کے علاوہ پسینہ جسم کو ٹھنڈا بھی کرتا ھے – یہ بات اگر پہلے نہیں سنی تو میٹرک کی سائنس کی کتاب میں دیکھ لیں – ھماری بہت سی بیماریوں کی بنیادی وجہ اے سی کا مسلسل اسعمال ھے- گھر میں بھی اے سی ، گاڑی میں بھی ، دفتر میں بھی-

پسینے کے نظام کو کام ھی نہیں کرنے دیا جاتا – جسم کے اندر فالتونمکیات جمع ھوتے رھتے ھیں – جسم کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے کی بجائے اے سی کے ذریعے باھر سے ٹھنڈا رکھاجاتا ھے- بے شمار نقصانات ھیں اس کے مگر کوئی پروا ھی نہیں کرتا – ڈاکٹرصآحبان خود بھی اے سی کے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتے-

کائنات کے سب سے بڑے سائنس دان ( رب کریم ) کے بنائے ھوئے نظام پہ اعتماد ھی نہیں رھا – اللہ معاف کرے –
—————— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 3 جولائی 2018

میرا میانوالی ———————

کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں شاھد محمود راجہ نے کہا : 29 سال سے لندن میں رھتا ھوں – آج بھی صبح کڑک چائے کا ایک کپ نہ پیوں تو سر کا درد سارا دن جان نہیں چھوڑتا –

داؤدخیل میں چائے کے حوالے سے ایک گیت بھی ھوتا تھا – اس قسم کے لوک گیتوں کو ”واراں’ کہتے تھے- چاچا محمد نواز خان لمے خیل عرف چاچا وازو یہ گیت شادی بیاہ کے موقعوں پر گایا کرتے تھے- ان کے ساتھ ایک سیاہ فام چاچا پاولی نام کے بزرگ چمٹا بجا کراس گیت پر والہانہ رقص بھی کیا کرتے تھے – گیت کے ابتدائی بول یہ تھے

دم جیوی دو وقتی چاء ھووے
( ایک خاتون اپنے شوھر سے کہتی ھے آللہ تمہیں سلامت رکھے ، مجھے تو دو وقت کی چائے چاھیے) –
اگلا بول یہ تھا ————-

چاء ھووے نالے کیک ھووے
میڈے ڈکھے ھوئے دل دی ٹیک ھووے
( میرے دکھے ھوئے دل کو سہارا دینے کے لیے چائے کے ساتھ کیک بھی ھونا چا ھیئے )

خاصآ لمبا گیت تھا ، اس وقت یہی بول یاد آسکے – یہ گیت میاں بیوی کے درمیان ایک دلچسپ مزاحیہ ڈائیلاگ ( سوال و جواب ) کی شکل میں تھا –
————— گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
——– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-4 جولائی 2018

اپنا شعر ——————
شہر آباد رھے ، آپ سدا شاد رھیں
میں مسافرھوں مجھے اورکہیں جانا ھے

بشکریہ-منورعلی ملک- 4 جولائی 2018

میرا میانوالی ——————–

ایک زمانے میں پنڈی جانے والی ٹرین گولڑہ شریف ریلوے سٹیشن پر پندرہ بیس منٹ رکتی تھی- ٹرین وھاں رکی تو میں چائے کی تلاش میں پلیٹ فارم پر اترا – کوئی ٹی سٹال وھاں نظر نہ آیا – سٹیشن کی عمارت کے اندر ایک جگہ ”ریفریشمنٹ روم ” کی تختی لگی دیکھی تو میں اس کمرے میں داخل ھؤا – وھاں اور تو کوئی نہ تھا ، ایک باباجی اپنے سفید بالوں پر خضاب (کلف) لگا رھے تھے- وھی اس ریفریشمنٹ روم کے کرتا دھرتا تھے- میں نے کہا ”چاچا جی ، چائے پینی ھے ”
چاچا جی نے کہا”پتر، چائے تو میں آپ کو وہ پلاؤں گا جو آپ ھمیشہ یاد رکھیں گے، مگر پہلے ایک چھوٹا سا کام میر ا بھی کر دو ”
میں نے کہا ”چاچا جی ، حکم کریں ”
چاچا جی شرماتے ھوئے بولے ” میرے سر کے پیچھے والے بالوں پر خضاب لگا دو”
یہ تو کوئی مشکل کام نہ تھا ، میں نے چاچا جی کے ھاتھ سے خضاب کی پیالی اور کوچی (برش ) لے کر اپنی سمجھ کے مطابق ان کے حکم کی تعمیل کر دی – چاچا جی بہت خوش ھوئے – پھر انہوں نے میرے لیے چائے بنائی- واقعی لاجواب چائے تھی –

چائے سے میرے والہانہ لگاؤ کی باتیں سن کر پچھلے سال ایک دوست نے کہا” سر، چائے کو چھوڑیں ، اصل چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ لالا عیسی خیلوی کے میکدے میں پیا کرتے تھے- ”
میرا جواب یہ تھا — ” میرے بھائی ، اللہ کا خاص کرم سمجھیں کہ عیسی خیل میں کئی سال دن رات لالا کے ساتھ رھنے کے باوجود میں نے اس چیز کو کبھی ھاتھ تک نہیں لگایا – سچی بات تو یہ ھے کہ لالا کو بھی اس چیز کا کچھ زیادہ شوق نہ تھا ، کچھ مہربانوں نے اسے اس راستے پہ لگا دیا – ”
میرے لیے لالا چائے کا اھتمام ضرور کرتا ھے – جب بھی ملاقات ھو ، جتنی بار کہوں ، چائے پلاتا رھتا ھے-
———————————- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 5 جولائی 2018

اپنا بہت پرانا شعر —————-
چوڑی کے ٹکڑے سے اس نے
اپنے ھاتھ پہ “م“ لکھا تھا

بشکریہ-منورعلی ملک- 7 جولائی 2018

میرا میانوالی ——————
فیس بک پر میانوالی کے قلمکاروں میں ایک خوبصورت اضافہ —- قمرالحسن بھروں زادہ –
الحمدللہ میانوالی سے فیس بک کے قلمکارملک بھر بلکہ دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رھے ھیں – ظفر نیازی ، عصمت گل خٹک ، ڈاکٹرحنیف نیازی، وقاراحمد ملک اپنے اپنے اندازمیں فیس بک کے ناظرین کو دلچسپ اور کارآمد باتیں بتا رھے ھیں – ظفرنیازی اور میرے بیٹے پروفیسر امجدعلی ملک میری طرح اردو ، انگلش ، دونوں زبانوں میں لکھتے ھیں – ظفر بہت بے لاگ اور بے باک لکھاری ھے – قومی صحافت میں قدم رکھ دے تو ایٹم بم ثابت ھوگا-
میانوالی کے ان جانے پہچانے قلم کاروں میں قمرالحسن بھروں زادہ کی آمد ایک تازہ، معطر ھوا کا جھونکا ھے- شاعرانہ نثر بہت کمال کی لکھتے ھیں – سیلانی طبیعت کے باعث سیروتفریح کا جنون ان کی شخصیت اور تحریروں کا طرہء امتیازھے- کبھی سکیسر کی وادی سے ان کی آواز کوئل کی کوک کی طرح آتی سنائی دیتی ھے – کبھی یہ دریائے سندھ اور دریائے کرم کے سنگم پہ کھڑے ھمیں قدرت کے اس دلکش نظارے کی طرف متوجہ کرتے دکھائی دیتے ھیں – آج تبی سر کے علاقے کمر سر کے حوالے سے ان کی پوسٹ پڑھ کر بقول پروین شاکر
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
اللہ کرے باقاعدہ لکھتے رھیں – یہ بہت عرصہ کسرنفسی میں مبتلا رھے – باربار کہنا پڑا ، تب میدان میں اترے- یوں سمجھیے کہ انہیں اس میدان میں دھکا میں نے دیا – خوبصورت تحریروں کے شوقین دوستوں کے لیے قمر کی تحریریں ایک بیش بہا خزانہ ثابت ھوں گی انشآءاللہ—— رھے نام اللہ کا —


(پکچر —– ڈاکٹرحنیف نیازی کے ڈینٹل کلینک کی افتتاحی تقریب میں ھماری پہلی ملاقات )
بشکریہ-منورعلی ملک-9 جولائی 2018

شعر میرا، پسند ڈاکٹر محمد اجمل نیازی —–
کبھی منور کو دیکھ کر تو نے یہ بھی سوچا
یہ شخص لٹ کر بھی اس قدر باوقارکیوں ھے

بشکریہ-منورعلی ملک- 9 جولائی 2018

میرا میانوالی ————————–

موسم تو گرم ھے ھی، مگر سیاسی درجہءحرارت اس سال تمام سابقہ ریکارڈ توڑ کر مزید آگے بڑھ رھا ھے-
اللہ خیر کرے – سیاسی گرما گرمی تو بس پندرہ بیس دن رھے گی – الیکشن کے بعد ھمارے لیڈرھمیں اور ھم ان کو بھول جائیں گے- خیال رھے کہ پندرہ بیس دنوں کے جوش وخروش میں ھم ھمیشہ کام آنے والے رشتوں سے محروم نہ ھو جائیں –
سیاسی اختلافات ھر زمانے میں ھوتے ھیں – ھم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ھے، جب بلدیاتی انتخابات میں دوسگے بھائی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھے– بلکہ ایک الیکشن میں تو میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے مقابل تھے- انہوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ جو بھی جیتے، ممبری تو گھر میں آئے گی ، اس لیے لڑنے جھگڑنے کی کیا ضرورت –
لیکن اس دفعہ سیاسی اختلافات دشمنی کی حدوں کو چھو رھے ھیں – اشتعال انگیز بیان بازی مسلسل ھو رھی ھے- تشدد کے واقعات منظر عام پر آرھے ھیں ، اس گھمسان کی لڑائی میں مقدس رشتوں کو کسی قیمت پر نہ ٹوٹنے دیں – الیکشن تو ایک دن کا کھیل ھوگا ، اس کے بعد ھمیں اسی معاشرے میں مل جل کر رھنا ھوگا – کہیں ایسا نہ ھو کہ ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رھیں – اس لیے جہاں تک ممکن ھو سیاسی بحث سے گریز کریں – تاکہ ھماری پرخلوص دوستیاں اور مقدس رشتے برقرار رھیں – اللہ ھمارا حامی و ناصر ھو-
——- رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک- 10 جولائی 2018

اپنی تازہ ترین کاوش ————-

بشکریہ-منورعلی ملک- 11جولائی 2018

میرا میانوالی —————–

الیکشن کے حوالے سے اپنے یہ جو تجربات اور مشاھدات میں آپ کو بتا رھا ھوں ، ان کا مقصد صرف آپ کی معلومات اور شعور میں اضافہ کرنا ھے- فیس بک پہ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں – تین سال سے فیس بک پہ میرے ھمسفر رھنے والے دوست یہ بات اچھی طرح جانتے ھیں –

پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت میں میرا سب سے مشکل پولنگ سٹیشن موسی خیل کا پار وانڈھی پولنگ سٹیشن تھا – ڈپٹی کمشنر میجر ضیاءالحق نے مجھ سے کہا “ ملک صاحب ، ضلع کا سب سے حساس پولنگ سٹیشن آپ کے حصے میں آیا ھے – پچھلے الیکشن میں یہاں تین آدمی قتل ھو گئے تھے – یہاں دو پارٹیاں ھیں ایک عیسب خان چیئرمین کی پارٹی ، دوسری ظفراقبال خان کی پارٹی- ان دو پارٹیوں کی آپس میں دیرینہ دشمنی ھے- کوشش یہ کریں کہ الیکشن پرامن ھو، آگے جو اللہ کو منظور ھوگا دیکھا جائےگا – ھم آپ کو ایک اے ایس آئی سمیت دس پولیس کے جوان دے رھے ھیں ، کچھ مقامی رضاکار بھی ھوں گے – فوج کی ایک گاڑی بھی ادھر کا دورہ کرے گی“-

اللہ کی مہربانی سے اپنی یہ عادت ھے کہ حالات کچھ بھی ھوں میں گھبراتا نہیں ، کیونکہ مجھے یقین ھے کہ انسان اپنا فرض ایمانداری سے ادا کرے تو اللہ ضرور مدد کرتا ھے-

یہ قصہ انشآءاللہ کل مکمل کروں گا – آج زیادہ نہیں لکھ سکتا کہ موسم کی مہربانی سے طبیعت گذشتہ دوتین دن سے ٹھیک نہیں –

رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک-14 جولائی 2018

میرا میانوالی ————–

الیکشن سے ایک دن پہلے میں اپنے پولنگ سٹاف کے ھمراہ پاروانڈھی موسی خیل کے پولنگ سٹیشن پر پہنچا- پولنگ سٹیشن سکول میں تھا – سکول چار کمروں کی ایک قطار پر مشتمل تھا- چار دیواری کے شمال مغربی کونے میں سکول کا گیٹ تھا، گیٹ کیا تھا، بس ایک عام سا دروازہ تھا –

5 بجے کے بعد اس علاقے کے دو متحارب گروپوں میں سے ایک کے سربراہ ظفراقبال خان چند مسلح افراد کے ھمراہ میرے پاس آئے، مجھے بتانے لگے کہ یہاں کے حالات بہت کشیدہ ھیں ، بہت سی لاشیں گرنے کا امکان ھے-

میں نے کہا مجھےحالات کا علم ھے- اللہ رحم کرے گا- آپ یہ بتائیں بچ بچاؤ کی کوئی صورت ھے ؟ کہنے لگے ، سر، بہت مشکل ھے – ھمارا قبیلہ سکول کے جنوب میں رھتا ھے ، ھمارے مخالفوں کاقبیلہ شمال میں – مگرسکول کا دروازہ ان کی طرف ھے – ھمارے ووٹرز نے بھی اسی دروازے سے اندر آنا ھے- آمنے سامنے آکر ذراسی بھی توتکار ھوئی تو اسلحہ تو سب کے پاس ھوتا ھے- پھر بات بھی گولی کی زبان میں ھوگی-
میں نے کچھ سوچ کر کہا “ آپ جنوب کی طرف کچھ دیوار توڑ کر اپنے لیے راستہ بنا لیں “
ظفراقبال خان نے کہا “مگر ، سر، یہ دیوار تو سرکاری ھے “
میں نے کہا آج سے چوبیس گھنٹوں کے لیے اس عمارت میں سرکار میں ھوں – مجھے اپنے فرائض اور اختیارات کا علم ھے- پرامن ایکشن کے لیے میں سب کچھ کر سکتا ھوں “

بہت خوش ھوئے وہ سب لوگ یہ سن کر- کہنے لگے، بس سر ، اب کوئی مسئلہ نہیں ھوگا – جب ھم آمنے سامنے ھی نہ آسکے تو لڑائی کا سوال ھی پیدا نہیں ھوگا – الیکشن کے بعد ھم توڑی ھوئی دیوار بھی اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ بنا دیں گے –

میں نے پولیس کے سیکیوریٹی سٹاف کو بتا دیا کہ دائیں طرف کے دوکمرے جنوبی محلے کے پولنگ بوتھ ھوں گے ، بائیں طرف کے دو کمرے شمالی محلے کے – آپ لوگ کسی آدمی کو دائیں سے بائیں طرف نہ جانے دیں – نوجوان اے ایس آئی بہت اچھے پولیس افسر تھے ، انہوں نے ان ھدایات پر سختی سے عمل کرایا ، اور اللہ کے فضل سے الیکشن بخیروعافیت گذر گیا —- رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 15 جولائی 2018

میرا میانوالی ————————

پریزائیڈنگ آفیسر کا کام بہت ذمہ داری کاکام ھے- یہ کام باعزت طریقے سے وھی آدمی کر سکتا ھے ، جو مکمل ایمان داری اور غیر جانب داری سے اپنے فرائض اداکرے- ذرا سی بھی جانبداری کی جائے تو امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس آسمان سر پر اٹھا لیتے ھیں – قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا پڑتا ھے- قانون سے آگاھی کے لیے جو ھدایت نامہ الیکشن کمیشن پولنگ سٹاف کو دیتا ھے، اسے غور سے پڑھ لینا چاھیے –

پولنگ سٹاف پر نظر رکھنا بھی ضروری ھوتا ھے- لیکن سختی کی بجائے احترام اور شائستگی سے کام لینا چاھیے- میں پولنگ سٹیشن پر پہنچتے ھی سب سے پہلا کام یہ کرتا تھا کہ سٹاف کے معاوضے کی جورقم مجھے الیکشن کے سامان کے ساتھ ملتی تھی ، فورا اپنے سٹاف میں تقسیم کر دیتا تھا – جیب میں پیسے آنے سے میرے ساتھی خوش ھو جاتے تھے، اور دل لگا کر کام کرتے تھے— قانون تو اجازت نہیں دیتا ، مگر انسانی ھمدردی کی خاطر ایسا بھی کرنا پڑتا ھے- ایک دفعہ میں نے ایک اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر کو وقت ختم ھونے سے ایک گھنٹہ پہلے جانے کی اجازت دے دی، کیونکہ ان کا بچہ بیمار تھا ، اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا تھا – انہیں چھٹی دے کر ان کی جگہ میں خود بیٹھ گیا “>الیکشن شروع کرانے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر کا کام الیکشن کے عمل کی نگرانی کرنا ، چھوٹے موٹے تنازعات کا تصفیہ کرنا ، اور الیکشن کے نتائج مرتب کرنے کی تیاری کرنا ھوتا ھے- اس سلسلے کی تفصیلات انشآءاللہ کل بتاؤں گا-———— رھے نام اللہ کا ——-بشکریہ-منورعلی ملک- 16 جولائی 2018

میرا میانوالی —————————

پولنگ کا وقت ختم ھونے کے بعد پولنگ سٹیشن کا گیٹ بند کرکے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کی جاتی ھے- یہ کام بہت احتیاط سے کیا جاتا ھے- گنتی مکمل ھونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر ایک فارم پر ھر امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد لکھتا ھے ، اور اس فارم پر اپنے دستخط اور مہر ثبت کرنے کے علاوہ ھر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ سے بھی دستخط کرواتا ھے – یہ دستخط اس بات کی تصدیق ھوتے ھیں کہ ووٹوں کی گنتی ھماری موجودگی میں ھوئی ، اور فارم پر ووٹوں کی درج تعداد درست ھے- یہ فارم Statement of Count کہلاتاھے – یہی الیکشن کا نتیجہ شمار ھوتا ھے- نتائج کی تفتیش کے لیے یہی فارم فیصلہ کن دستاویز ھوتا ھے ، جسے سپریم کورٹ بھی تسلیم کرتی ھے-“>پریزائیڈنگ آفیسر اس فارم کی بہت سی کاپیاں تیار کرتا ھے- کچھ تو رٰیٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجی جاتی ھیں ، اور ایک ایک کاپی ھر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو دی جاتی ھے- ھر کاپی پر پریزائیڈنگ آفیسر کے علاوہ تمام پولنگ ایجنٹس کے دستخط بھی کرائے جاتے ھیں – اس فارم کی ایک کا پی پریزایڈنگ آفیسر کو اپنے پاس بھی ضرور رکھنی چاھیے- حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنز سے آنے والے فارمز میں درج ووٹوں کی تعداد جمع کرکے حتمی نتیجہ مرتب کیا جاتا ھے –
——- رھے نام اللہ کا —
بشکریہ-منورعلی ملک- 17 جولائی 2018

میرا میانوالی ———————–
پریزائیڈگ آفیسر کی حیثیت میں کمرمشانی کے نواحی گاؤں ذلہ میروالہ میں الیکشن ایک دلچسپ تجربہ تھا – یہ بلدیاتی الیکشن تھا- اس زمانے میں ھر امیدوار الیکشن کمیشن کے بتائے ھوئے سائز کے مطابق اپنا بیلٹ بکس خود بنوا کر لاتا تھا – بیلٹ بکس لکڑی کا بنا ھؤا ھوتا تھا ، اور اس پر امیدوار کا نام اور انتخابی نشان چسپاں ھوتا تھا – اس دفعہ ھدایت یہ تھی کہ ھرامیدوار دو بیلٹ بکس بنواکر الیکشن سے پہلے پریزائیڈنگ آفیسر کے سپرد کرے ، اگر کوئی امیدوار دو بیلٹ بکس فراھم نہ کر سکے تو اسے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے-
ذلہ میروالہ پولنگ سٹیشن پر باقی امیدواروں نے تو یہ شرط پوری کردی ، ایک امیدوار صرف ایک بیلٹ بکس لے آیا ، میں نے کہا دوسرا بیلٹ بکس کہاں ھے – کہنے لگا “ دوسرا بیلٹ بکس تو میں نے بنوایا ھی نہیں“-
میں نے کہا الیکشن شروع ھونے میں ایک گھنٹہ باقی ھے ، اگر دوسرا بیلٹ بکس لے آئیں تو ٹھیک ، ورنہ آپ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے – اس نے کہا اس وقت دوسرا بیلٹ بکس میں نہیں لا سکتا – میں نے اس کا اکلوتا بیلٹ بکس اسے واپس دیتے ھوئے کہا “ میرے بھائی مجھے بہت افسوس ھے، مگر قانون مجھے آپ کو الیکشن میں شریک کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیئے آپ الیکشن سے فارغ – یہ بیلٹ بکس لے جائیں “
دل تو نہیں چاھتا تھا ، مگر انصاف اور قانون کا تقاضا بہرحال پورا کرنا تھا – اگر میں اس امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے بھی دیتا تو اس کے مخالف امیدوارشور مچاتے ، اور میرے خلاف درخواست بازی شروع کر دیتے –
الیکشن ھو گیا – جب میں الیکشن کا ریزلٹ دینے کے لیے عیسی خیل کے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہچا تو انہوں نے ایک لمبی چوڑی درخواست میرے سامنے رکھ دی – یہ درخواست الیکشن سے محروم ھونے والے امیدوار کی تھی – اس میں لکھا تھا کہ پریزائیڈنگ آفیسر نے میرے مخالفین سے ملی بھگت کر کے مجھے الیکشن میں حصہ لینے کے بنیادی حق سے محروم کردیا –
میں نے رٰیٹرننگ آفیسر کو اصل صورت حال بتائی تو انہوں نے وہ درخواست پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دی-
قانون اچھا ھو یا برا، اس پر عمل بہر حال کرنا چاھیے
—– رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک- 18 جولائی 2018

میرا میانوالی —————-

یہ دلچسپ واقعہ بھی ذلہ میر والہ کے پولنگ سٹیشن کا ھے- کچھ لوگ ایک بزرگ کو چارپائی پر اٹھا کر لائے- سب لوگ ان بزرگ کو خان چاچا کہہ رھے تھے- مجھے ان لوگوں نے بتایا کہ خان چاچا نے ووٹ ڈالنا ھے-

اس وقت قانون یہ تھا کہ نابینا، بیمار یا معذور آدمی کو پریزائیڈنگ آفیسر خود پرچی پر مہر لگانے کی جگہ پر لے کر جائے اور اس آدمی سے پوچھ کر اس کی مرضی کے امیدوار کے نام یا نشان پر مہر لگا دے-

میں خان چاچا کو سہارا دے کر مہر لگانے کی جگہ تک لایا ، اور پوچھا کہ کس امیدوار کے نشان پر مہر لگاؤں – خان چاچا نے کہا “ جس (لمبی سی گالی) کے نام پر لگادو، میں مرنا پیا ھاں تے اے ماء نے ووٹ چائی ودے ھن – “

میں نے پھر کہا “کسی ایک کا نام بتا دیں “
خان چاچا نے پھر سب کو ایک لمبی سی گالی دے کر کہا “میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا — یار , اب مجھے واپس جانے دو-“

خان چاچا چونکہ کسی امیدوار کو بھی ووٹ نہیں دینا چاھتے تھے، اس لیے میں نے سب ناموں کے سامنے مہریں لگا کر بیلٹ پیپر بکس میں ڈال دیا –
—— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 19 جولائی 2018

میرا میانوالی ———————

اکرم بیٹے کی دعوت پر دس بارہ دن لاھور میں گذارنے کے بعد ھم کل شام واپس پہنچے- فیملی اور سیروتفریح کی مصروفیات کے باعث آپ کی محفل میں روزانہ حاضری ممکن نہ رھی- آج سے روزانہ پوسٹس کا یہ سلسلہ انشآءاللہ بحال ھوگیا –
پریزائینگ آفیسر کی حیثیت میں اپنے دلچسپ تجربات آپ کے ساتھ شیئر کر رھا تھا – آج اس سلسلے کی آخری پوسٹ ھے – کل سے انشآءاللہ کوئی نیا موضوع چھیڑوں گا –
چھدرو کے علاقے سنگوخٰیل کے پولنگ سٹیشن پر ایک بزرگ تشریف لائے – میں وھاں پریزائیڈنگ آفیسر تھا -پولنگ سٹیشن کے گیٹ پر امیدواروں کے ناموں اور انتخابی نشانات کا بڑا سا چارٹ آویزاں تھا – بزرگ نے چارٹ کو ایک نظر دیکھ کر ھاتھ اٹھائے اور بلند آواز میں کہا “ یا اللہ ، انہاں ساراں نوں کامیاب فرما – شودھاں بہوں خرچا تے پوھرا (محنت) کیتا اے “-
اس قسم کے سادہ و معصوم بزرگ ھمارے کلچر کا حسن ھؤا کرتے تھے- آج کل تو بزرگ بھی بہت سیانے ھو گئے ھیں-
—– رھے نام اللہ کا —–
بشکریہ-منورعلی ملک- 24 جولائی 2018

پاکستان زندہ باد —————–


چاند روشن چمکتا ستارا رھے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ھمارا رھے

بشکریہ-منورعلی ملک-25 جولائی 2018

میرا میانوالی ———————–

الیکشن ھوگئے – ننتیجہ بڑا واضح ھے – پی ٹی آئی کو آئندہ پانچ سال کے لیے حکمرانی کا حق مل گیا – کپتان کو بہت مبارکاں —- !!!

اللہ کرے پی ٹی آئی کی حکومت اس ملک کے غریب اور مظلوم عوام کے مسائل حل کر کے انہیں عزت اور سکون کی زندگی بسر کرنے کے سامان فراھم کر دے- 
آئیے ھم سب الیکشن کے حوالے سے اپنی تمام باھمی رنجشیں بھلا کر پھر سے بھائی بھائی بن جائیں – جیتنے والے ، ھارنے والوں کو طنزوتشنیع کا نشانہ نہ بنائیں – آگے بڑھ کر انہیں گلے لگائیں ، اور کہیں بھائی ، یہ حکومت صرف ھماری نہیں ، آپ کی بھی ھے-
فتح مکہ کے موقع پر فاتح اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا تھا – چاھتے تومخالفین کا نام و نشان بھی مٹا دیتے ، مگر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ، جاؤ تم سب کو معاف کر دیا ، کیونکہ اللہ معاف کر دینا پسند کرتا ھے-

ھمارے سیاسی اختلافات اتنے شدید تو نہ تھے – ایک بھائی ن لیگ کا دوسرا پی ٹی آئی کا ، تیسرا کسی اور پارٹی کا – پتہ تھا الیکشن کے نتائج جو بھی ھوں ھم سب نے مل جل کر ھی رھنا ھے-

فیس بک پہ ھم اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود بھائیؤں کی طرح مل جل کر گذارہ کرتے رھے ھیں – بات کھٹے میٹھے کمنٹس سے آگے نہیں بڑھی – اب سیاست کو چھوڑ کر زندگی کے دوسرے مسائل اور معاملات پر بات ھونی چاھیے- اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو—– رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 26 جولائی 2018

میرا میانوالی ——————— میری پہلی اردو پوسٹ♥️

26 جولائی 2015 کو اپنے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی ملک کے اصرار پر میں نے فیس بک کا استعمال شروع کیا تو معلوم ھؤا کہ فیس بک پر میرا تعارف تو دو تین سال پہلے ھو چکاھے – ایک ھزار سے زائد فیس بک فرینڈز بھی فیس بک کے جہیز میں ملے- میرا یہ اکاؤنٹ اکرم بیٹے نے بنارکھا تھا – اس پیج پہ کبھی کبھار میری شاعری پوسٹ کرتے رھے، اور یوں میرے فرینڈز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ھوتا رھا – میں نے خود کبھی یہ پیج کھول کر دیکھا بھی نہ تھا-
میری پہلی پوسٹ انگلش میں تھی ۔ اردو کمپوزنگ سیکھنے میں ایک دو دن لگے- اردو میں میری پہلی پوسٹ یہ تھی –
*********************************************************************************
ایک بابا جی موبائیل فون ریپیئرنگ کی دکان پر گئے – مکینک نے ان کا فون چیک کرنے کے بعد کہا “باباجی، فون تو ٹھیک کام کر رھا ھے – اس میں نقص تو کوئی نہیں “
بابا جی کی آنکھیں بے بسی کے آنسؤوں سے بھیگنے لگیں ، آہ بھر کر بولے “ تو ، پھر اس میں میرے بچوں کی کالیں کیوں نہیں آتیں “-
یہ المیہ صرف ان بابا جی کا نہیں ، بے شمار بوڑھے والدین اپنے بچوں کی کال کو ترستے رھتے ھیں – اگر آپ گھر سے باھر کسی دوسرے شہر میں رھتے ھیں اور آپ کے والدین اللہ کے فضل سے زندہ ھیں ، تو ابھی فون اٹھایئے، اور انہیں سلام کر کے ڈھیروں دعاؤں سے جھولی بھر لیجیئے – خدا نخواستہ بہت دیر ھوگئی تو آپ عمر بھر پچھتاتے رھیں گے- کسی شاعر کا شعر یاد آرھا ھے –“>ممکن ھے ایسا وقت ھو ترتیب وقت میں-

دستک کو تیرا ھاتھ بڑھے ، میرا درنہ ھو -رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 27 جولائی 2018

یادیں —————–

وقاراحمد ملک کے ناول “رات، ریل، اور ریستوران” کی تقریب رونمائی میں
مہربان اباخیل کے ساتھ-بشکریہ-منورعلی ملک-29 جولائی 2018

 
 

میرا میانوالی ————————-

اللہ کے فضل سے میانوالی شہر اور ضلع میں اب کئی معیاری ھوٹل موجود ھیں – یہ ھوٹل تمام سہولتوں سے آراستہ ھیں – ان میں سے کچھ اقامتی ( رھائشی ) ھوٹل بھی ھیں – شہزادھوٹل ، رائل ان ، عدیل ھوٹل ، فیضان ھوٹل ، خیبر شنواری اور بہت سے اور اچھے ھوٹل میانوالی کی زینت ھیں –

شہزاد ھوٹل میانوالی کا سب سے پہلا ماڈرن اقامتی ھوٹل بن کر منظرعام پر آیا – یہ مسافر نواز ھوٹل لاری اڈہ کے سامنے پی ایف روڈ کے دائیں کنارے واقع ھے- اس کے مالک امان اللہ خان نیازی بہت صاحب ذوق و نظر شخصیت ھیں – جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ھیں ، اس لیے شہزاد ھوٹل کو اپ ٹو ڈیٹ رکھتے ھیں –
ادبی تقریبات کے لیےامان اللہ خان شہزاد ھوٹل کے دروازے ھمیشہ کھلے رکھتے ھیں – ایسی تقریبات کے لیے ھال اور سروس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے- آج کے دور میں یہ بہت بڑی بات ھے

-پچھلے چند سالوں میں یہاں بہت سی تعمیرات سے ھوٹل کی افادیت اور زیب و زینت میں خاطر خواہ اضافہ ھؤا ھے- وسیع وعریض ڈائیننگ ھال ( منٹھار) کے ساتھ ایسا ھی ایک اور ھال تعمیر ھونے سے یہاں بڑے پیمانے کی دعوتوں کی گنجائش پیدا ھوگئی ھے- سرکاری تقریبات بھی یہاں منعقد ھوتی رھتی ھیں – رھائش کے لیے جدید ترین سہولتوں سے آراستہ درجنوں ائیر کنڈیشنڈ کمرے ھیں – شہزاد ھوٹل شہر کے مختلف اداروں کی تقریبات کے لیے کیٹرنگ ( کھانے پینے کے سامان کی فراھمی ) کاکام بھی کرتا ھے-
<ھوٹل کے مالک امان اللہ خان نیازی سے میرے دیرینہ برادرانہ مراسم ھیں – بے حساب محبت کرنے والے انسان ھیں – ان کے بھائی حفیظ اللہ خان علمی اور ادبی ذوق کے باعث میرے بہت پیارے ساتھی ھیں ، امان اللہ خان کے صاحبزادے حمیرخان ایم اے الگلش میں میرے سٹوڈنٹ رھے-

میانوالی کے دوسرے ھوٹل بھی میرے اپنے ھیں ، وہ سب لوگ بھی میرے بھائی اور بیٹے ھیں ، اللہ سب کو آباد رکھے ، شہزاد ھوٹل کا ذکر اس لیے مفصل ھو گیا کہ یہاں اکثر میرا آنا جانا رھتا ھے- لاھور اور اسلام آباد وغیرہ سے آنے والے میر ے مہمان بھی یہیں قیام کرتے ھیں – اس لیے اس ھوٹل کے بارے میں میرے پاس بہت سی معلومات ھیں جن میں سے کچھ آپ سے شیئر کردیں -خدا نخواستہ یہ بات نہیں کہ مجھے وھاں سے کھانا پینا مفت ملتا ھے- دوستی اپنی جگہ کاروبار اپنی جگہ – بحمداللہ میں اس ھوٹل پہ اپنے اخراجات نقد ادا کرتا ھوں———– رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 30 جولائی 2018

یادیں —————–


گولڑہ شریف سے شمال مشرق میں ایک پراسرار سی جگہ
جہاں قدیم تہذیب کے کچھ آثار سیا حوں کی توجہ کا مرکزبنے رھتے ھیں

بشکریہ-منورعلی ملک- 30 جولائی 2018

میرا لاھور ————— چائے والا

یہ تو آپ جانتے ھیں کہ کھوکھوں اور ٹی اسٹالز والی چائے ھم مینوالی والوں کی کمزوری ھے- میانوالی ھو یا داؤدخیل ، لاھور ھو یا پنڈی اسلام آباد، کالاباغ ھو یا عیسی خیل ، جنڈ ھو یا تلہ گنگ ، مجھے پتہ ھے میرے کام کی چائے کہاں سے ملے گی-
لاھور تو سمندر جیسا شہر ھے، پورے شہر کے کھوکھوں کاحساب لگانے کے لیے تو پوری عمر چاھیے- شہر کے جن علاقوں میں میرا آنا جانا رھتا ھے وھاں ایسی جگہوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ھوں – میرا بیٹا محمد اکرم علی ملک میرے اس شوق کا خاص لحاظ رکھتا ھے- جہاں کہیں اچھی چائے کی دکان نظر آئے ، گاڑی روک کر میرے اس شوق کی تسکین کا سامان فراھم کر دیتا ھے- سرراہ ھم اکثر گاڑی میں ھی چائے منگواکر پی لیتے ھیں-
اس دفعہ اکرم بیٹے نے بتایا کہ جوھر ٹاؤن میں “جائے والا“ کے نام سے ایک چائے خانہ حال ھی میں بنا ھے- جگہ دیکھنے کے لائق اوروھاں کی چائے پینے کے لائق ھے- نام ھی خاصا نرالا تھا – وھاں جا کر دیکھا کہ سب کچھ نرالا ھے- بہت سلیقے سے وھاں قدیم دیہاتی کلچر اور جدید شہری کلچر کا ایک حسین امتزاج بنایا گیا ھے-“چائے والا“ کوئی عمارت نہیں ، آسمان کے سائے تلے دوچار چھوٹے چھوٹے پلاٹس میں میزیں کرسیاں لگی ھوئی ھیں – خاصا صاف ستھرا اور پر سکون ماحول ھے- اسے آپ ولائتی کھوکھا کہہ سکتے ھیں – پکچرز ھم نے بنائی تھیں ، مگر وہ اس وقت مجھے نہیں مل رھیں ، کچھ دھندلی سی ایک ھی پکچر مل سکی ، فی الحال اسی پہ گذارہ کرنا پڑے گا ———— رھے نام اللہ کا ———–
بشکریہ-منورعلی ملک- 31 جولائی 2018

اپنا پرانا شعر —-
آج کوئی اس سے یہ پوچھے
اس نے مجھ میں کیا دیکھا تھا-

Your words for Mianwali and Mianwalians