MERA MIANWALI DEC 2017

منورعلی ملک کےدسمبر2017 کےفیس بک  پرپوسٹ

میرا میانوالی

کام کی بات ———————–♥️♥️
پریشان کون نہیں ھوتا —– ؟
جو مشورہ میں دینے لگا ھوں اس پر عمل کرنے سے آپ کو اپنی اکثر پریشانیوں کی وجہ اور ان کا حل بھی معلوم ھو جائے گا-

قرآن حکیم کی سورہ بنی اسرائیل (پندرھواں سیپارہ) کے تیسرے رکوع کا ترجمہ دیکھ لیں – اس میں والدین سے سلوک اور اپنا مال خرچ کرنے کے بارے میں کچھ ھدایات ھیں- میرا یہ ایمان ھے کہ ھماری اکثر پریشانیاں انہی دو کاموں میں کوتاھی کا نتیجہ ھیں- ذرا غور کریں تو بات سمجھ میں آجائے گی-

دوستو، میں کوئی مولوی نہیں – ساری زندگی کافروں کی زبان (انگلش) پڑھتا پڑھاتا رھا ھوں ، اب بھی یہی کام کرتا ھوں- آج نماز کے بعد تلاوت کی ترتیب میں یہی رکوع پڑھا ، تو خیال آیا کہ یہ قیمتی بات آپ سے بھی شیئر کر لوں – ممکن ھے کچھ دوستوں کا فائدہ ھو جائے——– وماعلیناالاالبلاغ-

بشکریہ-منورعلی ملک- 8 دسمبر 2017-

میرامیانوالی ————————–

میانوالی سے پنڈی جاتے ھوئے جہازچوک سے تین میل آگے سپراب والا کے جنوب میں نوری خیلوں کی بستی ھے- نوری خیل قبیلہ وتہ خیل کی شاخ ھے- دوستی اور تعلق نبھانے میں نوری خیل اپنی مثال آپ ھیں-

1980 میں جب میں گورنمنٹ کالج میانوالی آیا تو ایک دن ھمارے دروازے پر دستک ھوئی- دستک دینے والا ایک لڑکا تھا- اس نے اپنا تعارف کراتے ھوئے کہا ”سر، میں عبدالکریم خان نوری خیل ھوں ، آپ کے بیٹے مظہرعلی ملک ٠(علی عمران) کادوست ھوں- بھائی سے ملنا ھے”

اس کے بعد کریم خان اکثر ھمارے ھاں آتا رھا- بہت سمجھدار اور مؤدب نوجوان تھا- اس نے اپنے سارے خاندان کوھم سے متعارف کرادیا- اس کے کزن عبدالرؤف خان اور عبدالغفار خان (المعروف غفاری) میرے سٹوڈنٹ تھے- یہ تینوں نوجوان ایک ایک کرکے جوانی ھی میں اس دنیا سے رخصت ھو گئے-

کریم خان واہ فیکٹری یا شاید حسن ابدال میں ملازم تھا — دونوں ٹانگوں سے معذور ھو گیا- تقریبا دوسال پہلے مجھ سے ملنے آیا ، اس کی بچی ایم اے انگلش کی تیاری کر رھی تھی- اس سلسلے میں مجھ سےمشورہ کرنا تھا- اس کا ایک ساتھی اسے بچے کی طرح اٹھا کر میرے ڈرائنگ روم میں لایا- کریم خان چلنے پھرنے سے معذور ھو چکا تھا – اسے اس حال میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسوآگئے- کریم خان بھی رونے لگا — ایک آدھ گھنٹہ ھم دونوں اچھے وقتوں کی یادوں سے دل بہلاتے رھے- کس کو خبر تھی کہ یہ ھماری آخری ملاقات ھے-

پچھلے سال میں لاھور میں تھا – اچانک یہ خبر سنی کہ کریم خان اب اس دنیا میں نہیں رھا- اللہ میرے اس بیٹے کی مغفرت فرما کر اسے جنت الفردوس میں جگہ دے-
تین صدموں کا ایک ساتھ ذکر مشکل لگ رھا ھے- عبدالرؤف خان اور عبدالغفار خان کا ذکر انشاءاللہ کل ھوگا———– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 10 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

کل کی پوسٹ میں کریم خان کا ذکر ھؤا- عبدالرؤف خان اور عبدالغفارخان ، کریم خان کے کزن تھے- رؤف خان (عبدالرؤف خان) بہت زندہ دل اور ذھین نوجوان تھا- گورنمنٹ کالج میانوالی میں بی اے میں میرا سٹوڈنٹ رھا- بہت لائق سٹوڈنٹ تھا- انگلش سے اسے خاص دلچسپی تھی، اس لیے میرے بہت قریب رھا- بی اے کرنے کے بعد متروکہ املاک کے محکمے میں ملازم ھوگیا- بہت سوشل اور مقبول نوجوان تھا، افسوس کہ جوانی ھی میں دنیا سے رخصت ھو گیا-

عبدالغفار خان کو سب پیار سےغفاری کہتےتھے- بہت اتھرا نوجوان تھا- پڑھنے لکھنے کا اسے زیادہ شوق نہ تھا- اپنے خاندان سے میرے مراسم کی وجہ سے میرا بہت احترام کرتا تھا- عوامی چوک میں ایک درزی سے اس کی بہت گہری دوستی تھی- اکثر اس کے پاس بیٹھتا تھا – میں ادھر سے گذرتا تو اٹھ کر مجھے سلام کیا کرتا تھا- ویسےتو خاصا دھڑلے دار آدمی تھا- مگر مجھ سے بہت شرماتا تھا- انٹرمیڈیئٹ (ایف اے) میں میرا سٹوڈنٹ رھا- کبھی اسے اونچی آواز میں بات کرتے نہ سنا-

ایک دن میں کچہری سے گھر واپس آرھا تو غفار خان کسی کام سے کچہری آیا- گیٹ سے اندر داخل ھوتے ھی مجھے دیکھا تو موٹر سائیکل سے اتر کر مجھےسلام کیا ، اور کہا ”سر ، کہاں جا رھے ھیں ؟”
میں نے بتایا کہ گھر جارھا ھوں تو کہنے لگا ”آئیں، سر ، میں آپ کو چھوڑ آتا ھوں -”
میں نے کہا ”نہیں بیٹا، میں گیٹ سے رکشہ لے لوں گا”-
غفار خان نے کہا ”نہیں سر، آئیں بیٹھیں ، میں ھی آپ کو گھر پہنچادوں گا- ”
پھر وہ مجھے گھر پہنچا کر ھی لوٹا-
یہ ھماری آخری ملاقات تھی- میں لاھورمیں تھا کہ کسی نے فون پہ بتایا غفارخان ایک حادثے میں یہ دنیا چھوڑ گیا-
اللہ ان دونوں نوجوانوں کی مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، میر ے بہت اچھے بچے تھے- بہت یاد آتے ھیں————— رھے نام اللہ کا ———–


پکچر —– (بائیں سے دائیں ) —- عبدالغفارخان ، عبدالرؤف خان –
دائیں طرف چھوٹا بچہ سعیداللہ خان اب ماشآءاللہ سی ایس پی آفیسر ھے- یہ ان کے چچا عنایت اللہ خان ایڈووکیٹ کا بیٹا ھے-

بشکریہ-منورعلی ملک- 11 دسمبر 2017-

میرامیانوالی —————————–
آج کی پوسٹ پردیسی بھائیوں کے نام – یہ وہ پاکستانی ھیں جو بیرون ملک دنیا کے ھر خطے میں موجود ھیں-

ان میں سے بہت سے ھمارے ساتھی ھیں، جو بہت بے قراری سے اپنے اپنے علاقے سے آنے والے مسافروں خبروں اور پکچرز کے منتظر رھتے ھیں- فیس بک ان کے لیے ایک نعمت ثابت ھوئی ھے-
اللہ ان سب کا حافظ و ناصر ھو-

میرے فیس بک فرینڈزمیں بھی کئی ایسے لوگ شامل ھیں- ایک صاحب اٹلی میں بیٹھے ھیں، کچھ امریکہ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا، سپین ، ایران اور ناروے میں – پچھلے دنوں اپنی ایک پوسٹ پر پروفیسر مرغوب احمدطاھر کا کمنٹ دیکھا- پروفیسر مرغوب ٹوکیو (جاپان) کی ایک یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر ھیں، گورنمنٹ کالج میانوالی میں بہت عرصہ پہلے ھمارے رفیق کار تھے-
میرے بہت سے فیس بک فرینڈز عرب ممالک میں رھتے ھیں – ان میں سے فرحان سلیم احمد نیازی، معظم سپرا اور مناظرگوندل روزانہ مجھ سے رابطے میں رھتے ھیں- پیرس سے منوراقبال خان میری ھر پوسٹ شیئر کرتے ھیں – کچھ دوست جنوبی افریقہ میں بھی رھتے ھیں – اللہ سب کو سلامت رکھے- ھم ھروقت آپ کے ساتھ ھیں – یہ کبھی نہ کہنا کہ ———- تساکوًں مانڑں وطناں دا اساں ھاں یار پردیسی

دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ھوئے یہ سب دوست میری پوسٹس کو گھر سے آیا ھؤا خط سمجھ کر پڑھتے اور خوش ھوتے ھیں ——– اختر شیرانی کی خوبصورت نظم کے کچھ اشعار ان کی نذر کرتا ھوں – اس نظم میں ایک مسافر اپنے وطن سے آنے والے ایک آدمی سے مخاطب ھے-

او دیس سے آنے والے بتا ——————

کیا اب بھی وطن میں ویسے ھی
سرمست نظارے ھوتے ھیں ؟

کیا اب بھی سہانی راتوں کو
وہ چاند ستارے ھوتے ھیں ؟

ھم کھیل جو کھیلا کرتے تھے
کیا اب بھی وہ سارے ھوتے ھیں ؟
—————————————- رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک- 12 دسمبر 2017-

میرا میانوالی ———————–

1998 میں اپنے گھر میں پی ٹی سی ایل کا ٹیلیفون لگوانے کے لیے میں محکمہ ٹیلیفون کے ضلعی سربرااہ (D E) غلام شبیر کھوسہ کے دفتر گیا- کھوسہ صاحب نے فوری طور پر ٹیلیفون لگانے کا حکم جاری کرنے کے بعد کہا ”ملک صاحب مجھے بھی آپ سے ایک کام ھے ، اگر مہربانی کر سکیں تو – – – –
میں نے کہا”فرمائیے”

کہنے لگے ” سر، ھم انجینیئر لوگ اپنے کام کے تو ماھر ھوتے ھیں، مگر انگریزی میں ھمارا ھاتھ ذرا تنگ ھوتا ھے- ایڈمنسٹریٹو پوسٹ پہ رہ کر انگلش میں بہت کچھ پڑھنا لکھنا پڑتا ھے- اس میں خاصی دقت پیش آتی ھے- اس لیے میں آپ سے انگلش سیکھنا چاھتا ھوں -‘;

مجھے ان کی اس خواھش پہ کیا اعتراض ھو سکتا تھا — میں نے ویلکم ھی کہنا تھا– کہہ دیا-
کھوسہ صاحب روزانہ اپنے دفترجانے سے پہلے جیپ پر میرے ھاں آتے- اور ایک آدھ گھنٹہ پڑھنے لکھنے کے بعد دفترروانہ ھو جاتے- جب تک وہ میانوالی میں رھے یہ سلسلہ چلتا رھا-

اس زمانے میں میانوالی میں گھریلوضروریات کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال ھوتے تھے- ایک دن ھم گیس کے ڈپو سے کھوسہ صاحب کی جیپ میں سلنڈر لے کر آئے تو گلی کےسرے پر اونٹ گاڑی کھڑی تھی- مزدور اس پر سے اینٹیں اتار رھے تھے- میں نے کہا اب کیا ھوگا – کھوسہ صاحب نے ھنس کر کہا ”سر، کوئی مسئلہ نہیں ”- یہ کہہ کر سلنڈر اٹھایا اور کندھے پر لاد کر میرے پیچھے میرے گھر کی طرف چل پڑے-
میں نے بہت کہا رھنے دیں ، مگر نہ مانے ، کہنے لگے ”سر، یہ تو میرے لیے اعزازھے”
سلنڈرمیرے دروازے پر پہنچا کر ھی لوٹے-
بڑا آدمی میں نہیں وہ شخص تھا جس نے اپنے ٹیچر کی خدمت کے لیے اپنے عہدے کے وقار کی پروا نہ کی-
اللہ سلامت رکھے کھوسہ صاحب اب سرگودھا میں مقیم ھیں- کبھی کبھی فون پر رابطہ ھو جاتا ھے-
———————————————— رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک-16 دسمبر 2017-

اپنا ایک شعر ——————–
رشتوں کوٹوٹنے سے بچانے کی فکر میں
اندرسےٹوٹ پھوٹ کے ھم خود بکھر گئے

میرا میانوالی

عزیز ساتھیو، السلام علیکم ، ورحمتہ اللہ —————-
کئی دوستوں کو شاید مجھ سے یہ شکوہ ھو کہ میں ان کے کمنٹس کا جواب نہیں دیتا- بات یہ ھے کہ میں صبح کی اردو پوسٹ اور شام کی انگلش پوسٹ لکھنے کے لیے چند منٹ ھی نکال سکتا ھوں ، باقی وقت دوسری مصروفیات میں صرف ھوجاتا ھے- کچھ صحت کے مسائل بھی ھوتے رھتے ھیں ، اس لیے تمام کمنٹس فوری طور پر پڑھ بھی نہیں سکتا، کبھی کبھار کمنٹس کھول کر دیکھنے کا موقع مل جائے تو مناسب جواب دے دیتا ھوں – اگرجواب نہ دے سکوں تو ناراض نہیں ھونا، یاد رکھیں میں آپ ھی کے لیے لکھتا ھوں – میری نظر میں آپ بھی محترم ھیں ، اور آپ کے کمنٹس بھی- اللہ آپ سب کو سلامت رکھے- کوشش کروں گا کہ روزانہ کی پوسٹ پر کمنٹس دیکھ کر جواب دیتا رھوں – مگر صبح کی پوسٹ پر کمنٹس شام کے بعد ھی دیکھ سکوں گا-
——- منورعلی ملک

بشکریہ-منورعلی ملک- 20 دسمبر 2017-

یار ھی یاروں کے کام آتے ھیں —————-
ایک بزرگ اپنے بزرگ دوست کے پاؤں میں چبھا ھؤا کانٹا نکال رھے ھیں
پکچر مرسلہ شایان نور صاحب-بشکریہ-منورعلی ملک- 22 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

میراجانور تو ٹریفک قوانین کی پا بندی کرتے ھیں
سڑک چھوڑ کر بائیں ھاتھ چلتے ھیں —- اللہ ھمیں بھی توفیق دے
پکچر بشکریہ چاہ میانہ

کل شام مظہر نیازی نوجوان شعراء سید نسیم بخاری اور بلال سیالوی کے ھمراہ ملنے کے لیے آئے- اس موقع کی ایک پکچر ———— ( مظہرنیازی، میں ، سیدنسیم بخاری )

بشکریہ-منورعلی ملک- 23 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

میرامیانوالی —– میرا پاکستان

اپنی جیب سے پیسے نکال کر کسی ایک نوٹ پر ایک نظر ڈالیئے- دس ، بیس ، پچاس، سو، ھزار یا پانچ ھزار کا جو نوٹ آپ کے ھاتھ میں ھے ، اس پر ایک بابا کی پکچر ھے-یہ ھم سب کےبابا ھیں – اس پکچر کو غور سے دیکھ کر سوچیے کہ کیا یہ نوٹ آپ کی حلال کی کمائی کا ھے- ؟ اگر حلال کی کمائی کا ھے تو آپ کو بابا کا سلام، اگر حلال کی کمائی نہیں تو بابا آپ سے ناراض ھیں- وہ چاھتے ھیں کہ یہ نوٹ جس سے لیا ھے، اسے واپس دے دیں- اور آئندہ بابا کی پکچر کو حرام کی کمائی نہ بنائیں –

انگریزوں اور ھندوؤں نے ان بابا کو نوٹوں کے ڈھیروں کی پیشکش کی تھی ، کہ آپ یہ سب دولت لے لیں اور پاکستان کا مطالبہ ترک کر دیں – مگر بابا نے اس دولت پر تھوکنابھی گوارا نہ کیا- انگریز سرکار نے آپ کو پورے برصغیر کا گورنرجنرل (صدر) بنانے کی پیشکش بھی کی- مگرآپ نے کہا مجھے اقتدارنہیں ، اپنی قوم کے لیے الگ ملک چاھیے-

یہ تھا بابا کا کردار۔ اور ھمارا ؟؟؟؟؟؟؟ —————— باباھم شرمندہ ھیں

میانوالی کے جناح ھال میں ایک مشاعرے میں لاھور سے آئے ھوئے بزرگ شاعر مرحوم احسان دانش نے نوٹوں پر بابا کی تصویر کے حوالے سے ایک نظم پڑھی تھی – اس نظم کا ایک شعر یہ تھا ————–

مصلحت کہہ کر زبان حال سی دی جائے گی
اب اسی تصویر سے رشوت بھی لی ، دی جائے گی ؟؟

—- ھم رشوت دے کر کام کرواتے ھیں ، اور بڑے فخر سے کہتے ھیں ”بابا قائداعظم کی سفارش سے کام کروایا ھے —– بابا جیسے دیانت دار انسان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ھوگی —– ؟

بشکریہ-منورعلی ملک- 25 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

بابا کی باتیں —————-
آج صرف بابا کی باتیں ھی ھوں گی-
پکچر جو آپ دیکھ رھے ھیں ، قیام پاکستان سے پہلے بابا کے شناختی کارڈ کی ھے- اس پر ان کی تصویر کے ساتھ ان کے دستخط بھی ھیں – انہی دستخطوں سے ھمارا پاکستان وجود میں آیا-
یہی دستخط آخری دفعہ ان کاغذات پر ھوئے جو قائداعظم کے آخری لمحات میں ان کے سیکریٹری لے کر حاضرھوئے- اس وقت بابا کی نظر جواب دے چکی تھی- دروازہ کھلنے کی آواز سن کر پوچھا ”کون ھے؟
سیکریٹری نے کہا ” سر , میں آپ کا سیکریٹری ھوں- آپ سے کچھ سرکاری کاغذات پر دستخط لینے تھے، مگر اس وقت آپ کی حالت ٹھیک نہیں ، یہ کام پھر کسی وقت ھو سکتا ھے-
بابا نے کہا ” نہیں ، یہ میرا فرض ھے، میں ابھی یہ فرض ادا کروں گا کہ یہ میرے پاکستان کاکام ھے- پڑھ کر سناؤ کیا لکھا ھے-
سیکریٹری نے حکم کی تعمیل کردی تو جیب سے قلم نکال کر کہا ”میرا ھاتھ پکڑکر اس جگہ رکھ دو جہاں میں نے دستخط کرنے ھیں —- اورپھرآپ نے یہ فرض اداکردیا –
یہ تھے ھمارے بابا –
بابا جیسا کون ھو سکتا ھے ؟
کہیے رحمتہ اللہ علیہ

بشکریہ-منورعلی ملک- 25 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————
میرے محترم دوست مرحوم ومغفور سید انجم جعفری کے صاحبزادے پروفیسروقاص انجم جعفری نے میری ایک بہت پرانی تحریر کی فوٹوکاپی بھیجی ھے- یہ تحریر بھائی انجم جعفری کی ڈائری کا ایک ورق ھے- ان کی عادت تھی کہ جب بھی میں ان کے ھاں جاتا، اپنی ڈائری میرے سپرد کرکے کہتے ” اس میں دو صفحے تمہارے ھیں ۔ ”
میں اپنی مرضی سے جو چاھتا لکھ دیتا- بہت خوش ھوتے میری تحریریں پڑھ کر-
یہ تحریر میں نے تبی سر سکول کے ھاسٹل میں بیٹھ کر لکھی تھی- میں ان دنوں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا، انجم بھائی ماڑی انڈس سکول کے ھیڈماسٹر تھے- ھم تبی سر کے علاقے کے ٹیچرز کو ٹریننگ دینے کے لیے آئے تھے- تقریبا ایک ھفتہ ھم تبی سر میں رھے- ھماری ٹیم میں میرے اور انجم بھائی کے علاوہ اے ای او کالاباغ (موسی خیل کے عظیم خان) بھی شامل تھے- بہت دلچسپ وقت گذرا- پشتوں علاقے کے ٹیچرز بہت شائستہ ، مؤدب اور مہمان نواز تھے- وقت تو گذر گیا ، مگر بہت سی حسین یادیں چھوڑ گیا- وہ یادیں آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے انجم بھائی کی ڈائری میں میرے قلم سے لکھا ھؤا ایک صفحہ پیش خدمت ھے—


آج سے 51 سال پہلے کی اس تحریر کی تاریخ ڈائری کے ورق پر لکھی ھوئی ھے

بشکریہ-منورعلی ملک- 26 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————– 2
آج صبح کی پوسٹ کا دوسرا حصہ —– مرحوم بھائی سید انجم جعفری کی ڈائری پر میری تحریر کا دوسرا صفحہ-

بشکریہ-منورعلی ملک- 26 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

لخت جگرمحمدعلی ملک کی ساتویں برسی
میرالکھنا، مراپڑھنا ، مرا چلنا پھرنا
ھیں ترےغم کوبھلانےکےبہانےجاناں

بشکریہ-منورعلی ملک- 27 دسمبر 2017-

میرا میانوالی

بشکریہ-منورعلی ملک- 31دسمبر 2017-

 

Your words for Mianwali and Mianwalians