MERA MIANWALI JAN 2018

پروفیسرمنورعلی ملک کی جنوری 2018 کی فیس بک پر پوسٹس

میرا میانوالی

———————– احتساب ———————————-

اللہ کرے یہ نیا سال آپ کی تمام محرومیوں کی تلافی کا سال ثابت ھو-

آج بحمداللہ ”میرا میانوالی” کے عنوان سے میری پوسٹس کا تیسرا سال شروع ھو چکا ھے- میں نے تو ویسے ھی قلم کی بجائے کی بورڈ ( keyboard ) سے لکھنے کی کوشش میں اپنی کچھ پرانی یادیں لکھ دی تھیں – کی بورڈ سے لکھنے کا فن نیا نیا اپنے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی ملک سے سیکھا تھا- اس لیے مجھے اس فن کی آزمائش کا شوق تھا-

اس پہلی پوسٹ کی مقبولیت دیکھ کر حیران رہ گیا – کمنٹس میں بہت سے دوستوں نے بہت سی دعائیں دے کر یہ سلسلہ جاری رکھنے کی فرمائش کی – اس کے بعد چل سوچل- دعاؤں کے لالچ میں روزانہ لکھنے لگا- دوستوں کی تعداد ایک دوماہ میں 5000 ھوگئی – پھر فالوورز کی راہ سے لوگوں کی آمد ورفت شروع ھوئی – بحمداللہ ان کی تعداد بھی اب تک 5301 ھو چکی ھے- سات سوسے زیادہ پوسٹس ””میرا میانوالی” کے عنوان سے لکھ چکا ھوں –

کبھی کبھارکوئی دوست کسی وجہ سے چھوڑ کر چلاجاتا ھے تو ”فرینڈ ریکویسٹ”والے کھاتے سے کوئی اور دوست اس کی جگہ لے لیتا ھے- یوں بھی ھؤا کہ کوئی دوست چھوڑ کر چلا گیا تو کچھ دن بعد واپس آکر فالورز کی صف میں شامل ھوگیا- دوسال میں صرف چار لوگوں کو بلاک بھی کرنا پڑا- ایک صاحب پاک فوج کے خلاف بکواس میری ٹائیم لائین پہ لگانے لگے- منع کیا تو نہ مانے ، اس لیے بلاک کرنا پڑا- دوسرے تین دوست بھی اسی قسم کی ناگوار حرکتوں پر بلاک ھوئے-حساب میں نے بتا دیا، اب احتساب آپ نے کرنا ھے- کوئی شکوہ، شکایت ، تجویز یا مشورہ ؟؟؟———- رھے نام اللہ کا’-بشکریہ-منورعلی ملک- 1 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرا تعلیمی کیریئر شاندار بالکل نہ تھا- بلکہ مجھے تو سکول جانا زھر لگتا تھا- نفرت تعلیم سے نہیں پابندیوں سے تھی- ایک مقررہ وقت پر سکول جانا، چھٹی کے وقت تک سکول ھی میں رھنا- اپنی مرضی سے کہیں آجا نہ سکنا- میں تو پرندوں کی طرح آزاد رھنا چاھتا تھا-
جب مجھے سکول میں داخلہ دلوانے کی بات چلی تو میں نے امی کو صاف بتا دیا کہ میں تعلیم کی خاطر اپنی آزادی نہیں کھونا چاھتا — امی نے کہا ”توپھر بڑے ھوکر اپنی روزی کس طرح کماؤگے؟’
میں نے کہا ” جس طرح چاچاغلام محمد بہرام خیل ، چاچا یاسین لمے خیل اور دوسرے بہت سے چاچے ھل چلا کر گذارہ کر رھے ھیں ، میں بھی یہی کام کر لوں گا-”

امی تو ھنس کر چپ ھو گئیں ، مگر بزرگوں نے فیصلہ کر لیا تھا، اس پر عمل تو بہرحال ھوناتھا- میرے کزن ملک ریاست علی، طالب حسین شاہ اور محمدصدیق خان مجھ سے پہلے سکول میں داخلہ لےچکے تھے ، ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ مجھے روزانہ جیسے تیسے پکڑجکڑ کر سکول لے جایا کریں –

بہت ظالم تھے یہ کم بخت ، صبح سویرے سکول جانے کے لیے تیار ھوکر ھمارے گھر پہنچ جاتےتھے- میں بہت منت ترلے کرتا، مگر وہ مجھے ساتھ لے کر ھی ٹلتے- یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ وہ بجارے بھی مجبور تھے- ماسٹر نواب خان کا حکم تھا کہ منور کو روزانہ ساتھ لے کر آناھے ، ورنہ تمہاری کھال ادھیڑ کے رکھ دوں گا ” –

دراصل میرے چاچا ملک محمد صفدرعلی نے ماسٹر صاحب کو بتادیا تھا کہ ھمارا یہ بچہ ذرا ا تھرا سا ھے- سکول جانے سے کتراتا ھے- ماسٹر نواب خان میرے داداجی کے سٹوڈنٹ رہ چکے تھے- اس لیے وہ ھمارے گھرانے کے بہت خیرخواہ تھے- انہوں نے مجھ سے صاف کہہ دیا ” اوئے ، کان کھول کر سن لو- اگر تم نے ایک دن بھی غیرحاضری کی تو وہ سامنے کیکر کادرخت دیکھ رھے ھو؟ اس درخت کے ساتھ تمہیں الٹا لٹکا دوں گا”-
ان حالات میں میں اور کیا کرسکتا تھا ، مجبورا سکول آنا جانا ھی پڑا-

———— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 4 جنوری 2018-

میرامیانوالی —————–ماسٹر نواب خان-

ماسٹر نواب خان پہلی جماعت Class One کے بہترین ٹیچر تھے- مارتے پیٹتے بالکل نہیں تھے- ڈانٹتے خوب تھے- اس لیے ان کا بہت رعب تھا- بہت خوش مزاج تھے- دلچسپ ھنسی مذاق سے بچوں کو خوش بھی رکھتے تھے ، سب کچھ سکھا بھی دیتے تھے- جب داؤدخیل سکول ھائی سکول بنا تو پرائمری سیکشن الگ کر دیا گیا- ماسٹر نواب خان ھائی سکول میں چلے گئے- وھاں چھٹی جماعت ان کے حصے میں آئی-

اللہ کی شان دیکھیے کہ ماسٹر نواب خان پہلی کلاس میں میرے ٹیچر تھے، پھرجب میں گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ھو کر آیا تو میرے کولیگ colleague بھی رھے- بلکہ مجھے اس شعبے میں لانے کا وسیلہ بھی وھی بنے- ان کی کلاس کے انگلش ٹیچر امیر عمرخان پولیس میں بھرتی ھو گئے تو ماسٹر نواب خان صاحب نے ھیڈماسٹر صآحب (میرے بڑے بھائی ملک محمدانورعلی) سے کہہ کر مجھے داؤدخیل سکول میں انگلش ٹیچر لگوا دیا- یہ قصہ کچھ عرصہ پہلے سنا چکا ھوں- بس اتنا کہوں گا کہ ماسٹر نواب خان نے مجھے ٹیچر کی کرسی پر بٹھا کر میری زندگی کی راہ متعین کر دی- ورنہ میں پتہ نہیں کیا بن کر زندگی گذار دیتا- مگر جوکچھ بھی بنتا اتنا مطمئن نہ ھوتا جتنا اللہ کے فضل سے آج ھوں-

ماسٹرنواب خان مشانی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے- ان کا گھر ھمارے ھی محلے میں تھا – ان کے والد محترم دادا عالم خان ، میرے دادا جی کے بہت قریبی دوست تھے- جب تک زندہ رھے روزانہ ھماری چوک پہ آتے رھے- دن کا زیادہ ترحصہ یہیں گذارتے تھے-

ماسٹر نواب خان اور ان کے دوسرے دوبھائی بھی یہ روایت آخردم تک نبھاتے رھے- سکول سے چھٹی کے بعد ماسٹرصاحب شام تک ھماری چوک پہ بیٹھ کر محلے کے بزرگوں سے دلچسپ گپ شپ لگایا کرتے تھے-

پہلی کلاس سے پاس ھو کر میں دوسری میں پہنچا تو ماسٹر درازخان ھمارے ٹیچر مقرر ھوئے – ماسٹر درازخان، ماسٹر نواب خان کے چھوٹے بھائی تھے- یہ بھی بہت اچھے ٹیچر تھے———- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 5 جنوری 2018-

میرا میانوالی

دوسری کلاس خیریت سےگذر گئی – ماسٹر درازخان بہت اچھے ٹیچر تھے – اب میرے دل سے سکول جانے کا خوف بھی جاتا رھا- ایک سال گذرنے کا پتہ ھی نہ چلا-

تیسری کلاس میں ھمارے بستے میں سلیٹ کا اضافہ بھی ھو گیا- سلیٹ آٹھ دس انچ لمبائی چوڑائی کی پتھر یا لوھے کی سیاہ تختی ھوتی تھی جس پر سفید پتھر کی پنسل (سلیٹی پنسل) سے حساب کے سوالات (جمع، تفریق، ضرب ، تقسیم وغیرہ) لکھ کر حل کیے جاتے تھے-

حساب مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا- میں اسے بالکل فضول سی چیز سمجھتا تھا- خاص طور پر ضرب اور تقسیم تو بالکل بے معنی چیز لگتی تھیں – میں سوچتا تھا کہ اگر5×1=5 ھی بنتا ھے تو پھر ضرب کا کیا فائدہ- اسی طرح 5 کو 1 پر تقسیم کرنے سے 5 ھی حاصل ھو تو تقسیم سے کیا فرق پڑا-

ماسٹر سردار خان علاؤل خیل ھمارے ٹیچر تھے- بہت لائق ، محنتی اور سخت مزاج تھے- سکول میں ان کا تقررعارضی تھا- ھم تیسری سے چوتھی کلاس میں پہنچے تو ماسٹرسردارخان پولیس میں بھرتی ھو کر کوئٹہ چلے گئے- وھاں سے ریٹائر ھو کر ھی گھرواپس آئے- چندسال پہلے داؤدخیل میں ایک تقریب میں ان سے ملاقات ھوئی- بہت محبت سے ملے- کہنے لگے مجھے فخر ھے کہ میرا سٹوڈنٹ آج پروفیسر ھے- دوتین سال پہلے ماسٹر صاحب اس دنیا سے رخصت ھو گئے، اللہ مغفرت فرما کر جنت میں قیام نصیب فرمائے-

مااسٹرسردارخان ایک پتلی نفیس سی چھڑی سے ھماری مار پٹائی کرتے تھے- بہت ظالم چھڑی تھی – سردی سے ٹھٹھرتے ھوئے ھاتھ پہ لگتی تو ایسے لگتا تلوار لگ گئی ھے-

پہلی دفعہ جب حساب کے ایک سوال میں غلطی پراس چھڑی سے پٹائی ھوئی تو میں نے سکول جانا ھی چھوڑدیا- میں سکول جانے کے لیے تیار ھو کر گھر سے نکلتا اور چاچاشادی بیگ کمہار کی دکان پر جا کر سکول کی چھٹی کے وقت تک مٹی کے برتن بنانے کا تماشا دیکھتا رھتا- گھر والوں کو سکول سے میرے فرار کا پتہ ھی نہ چل سکا-
—————————————– رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 6 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میراایک بہت دلچسپ کتاب ———————–
پریشانیوں ، محرومیوں اور مایوسیوں کے اس دور میں لوگوں کو ھنسانابھی بہت نیک کام ھے- یہ کام ڈاکٹرعزیزفیصل بہت خوبصورت انداز میں سرانجام دے رھے ھیں – ان کی کتاب ”ھاسا خاصا”حال ھی میں شائع ھوئی ھے- ایک غزل ان لوگوں کے بارے میں بھی ھےجولڑکیوں کے نام کا فیس بک آئی ڈی بنا کر لوگوں کو بے وقوف بناتے رھتے ھیں – اس غزل کے چند شعر دیکھیے :


فیس بک پر جو تمہارے لیے گلنار تھی ، میں تھا
وہ جو الہڑ سی بڑی شوخ سی مٹیار تھی ، میں تھا

وہ جو آمادہ امداد تھے ھر وقت ، وہ تم تھے
جس کو پیسوں کی ضرورت تھی، جو نادارتھی، میں تھا

کورٹ میرج کے فضائل جوبتاتے تھے وہ تم تھے
گھرسے جو بھاگ کے جانے کو بھی تیارتھی ، میں تھا

ڈاکٹر عزیزفیصل کندیاں کے رھنے والے ھیں – ان دنوں اسلام آباد کے ایک تعلیمی ادارے کے پرنسپل ھیں – میانوالی کے سینیئر شاعر نذیر یاد کے بھانجے، اور مظہرنیازی کے کلاس فیلوھیں – گورنمنٹ کالج میانوالی میں ھمارے سٹوڈنٹ بھی رھے-

ڈاکٹر عزیزفیصل کی کتاب”ھاسا خاصا” حال ھی میں لاھور سے معیاری ادب کے نامور پبلشرز ”ماورا” نے چھاپی ھے- ادارے کے مالک خالد شریف صاحب علم بھی ھیں ، صاحب قلم بھی- کتاب کی پشت پر ڈاکٹرعزیز کے بارے میں ان کی رائے ڈاکٹر عزیز کے لیے بہت بڑا اعزازھے-

ڈاکٹر عزیز کی کتاب سے کچھ مزید اشعار انشاءاللہ کل اس وقت پیش کروں گا -بشکریہ-منورعلی ملک- 6 جنوری 2018-

میرا میانوالی

سکول جانے کی بجائے چاچا شادی بیگ کمہار کی دکان پر بیٹھ کر مٹی کے برتن بنتے ھوئے دیکھنے کا مشغلہ بہت دن چلتا رھا- والد صاحب ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باھر تھے- امی اس خوش فہمی میں مبتلا تھیں کہ میں باقاعدہ صبح سویرے بستہ (سکول بیگ ) اٹھا کر سکول ھی جاتا ھوں-

ایک دن محلے کے کسی آدمی نے میرے چچا ملک محمد صفدرعلی کو بتا دیا کہ آپ کا یہ بچہ تو سارا دن شادی بیگ کمہار کی دکان پہ بیٹھتا ھے- اس زمانے میں بزرگ اپنے خاندان کے بچوں کے لیے پولیس بھی ھوتے تھے جج بھی- دوچار منٹ کی تفتیش کے بعد ملزم کو مارپیٹ کر کیس نمٹا دیتے تھے- یہی میرے ساتھ بھی ھؤا- ماسٹر سردارخان کا خدا بھلا کرے کہ انہوں نے میرے خلاف مزید ایکشن لینا مناسب نہ سمجھا-
میں سکول میں جسمانی طور پر تو حاضر رھتا تھا، مگر میری توجہ تعلیم کی بجائے باھر کی دنیا پر رھتی تھی- آزاد روح قید میں نہیں سما سکتی — میں سکول کی چھٹی کے بعد والے پروگرام سوچتا رھتا تھا- کہ کیاکھانا ھے، کس سے ملناھے وغیرہ وغیرہ- شکر ھے اس زمانے میں ٹیچرصاحبان کچھ پوچھتےنہیں تھے، بس پڑھاتے ھی رھتے تھے- اس لیے اپنی عزت بچی رھی-

چوتھی کلاس میں جاکر کسی ھیرا پھیری کی گنجائش نہ رھی- ماسٹر عبدالحکیم بہت سخت گیر ٹیچر تھے- چھٹی کے بعد اپنے گھر پر بھی پوری کلاس کودوتین گھنٹے روزانہ کسی ٹیوشن فیس کے بغیر پڑھاتے تھے- ان کا گھر ھمارے گھر سے ملحق تھا، میری امی کے منہ بولے بھائی بھی تھے، اس لیے مجھ پہ کڑی نظر رکھتے تھے- میرےدل میں تعلیم سے دلچسپی تو وہ پیدا نہ کر سکے، البتہ مجھے مار پیٹ کر محنتی سٹوڈنٹ انہوں نے بنا دیا-
—— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 7 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————–

چوتھی کلاس پرائمری کی آخری کلاس ھوتی تھی- اس کلاس کا ایک وظیفے کا امتحان بھی ھوتا تھا، جس میں صرف لائق سٹوڈنٹس شامل ھوتے تھے- یہ مقابلے کا امتحان تھا- پہلی دس بارہ پوزیشنز حاصل کرنے والوں کو سرکار چار سال تک چار روپے ماھوار وظیفہ دیتی تھی- اس زمانے کے چارروپے آج کے چارسوروپے سے کم نہیں ھوتے تھے-

اللہ کی مہربانی سے میں بھی ان دس بارہ بچوں میں شامل تھا جنہیں وظیفہ کا مستحق قرار دیا گیا- ماسٹرعبدالحکیم کو آج بھی دعائیں دیتا ھوں کہ انہوں نے مجھے بھی پڑھنے لکھنے والا بچہ بنا دیا- ورنہ میں تو گھروالوں کی نظرمیں بہت بری چیز تھا- صرف امی کو یقین تھا کہ میں آگے چل کر کچھ بن جاؤں گا-

اللہ نے ان کے اس مان کی لاج رکھ لی- مگر—————- جب میں کچھ بن گیا تو وہ اس دنیامیں موجود نہ تھیں- لیکن مجھے یقین ھے کہ میرا یہ علم ، قلم، عزت، شہرت ، سب کچھ امی کی دعاؤں کا نتیجہ ھے- اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے- بہت عظیم ماں بھی تھیں، عظیم انسان بھی- وہ تھیں تو گھر میں پورے محلے کی خواتین کا میلہ لگا رھتا تھا- سب کی بات سنتی تھیں ، سب کی مدد کرتی تھیں- کسی کو پیسے کسی کو کپڑے، کسی کو بچیوں کے جہیز کا سامان لے کر دیتی تھیں- اب تو وہ سب خواتین بھی اس دنیا میں نہیں رھیں – جب تک زندہ رھیں غلام جنت بہن (میری امی کا نام ) کو یاد کر کے رویا کرتی تھیں – ان میں سے کوئی ماسی راہ چلتے، گلی میں بھی کہیں مل جاتیں تو ھمیں گلےلگا کر رونا شروع کر دیتی تھیں-

ھم پانچویں کلاس میں پہنچے تو ماسٹرشاہ ولی خان سالار ھمارے کلاس ٹیچر مقرر ھوئے- بہت مہربان اور لائق ٹیچر تھے- ھنستے ھنساتے بہت کچھ سکھا دیتے تھے-
——————– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 8 جنوری 2018-

میرامیانوالی—————————— 2

ڈاکٹر عزیز فیصل کی مزاحیہ شاعری کی کتاب ”ھاساخاسا ” سے چند اور اشعار——————————-
ماں اور باپ کی جھگڑے والی ویڈیو سے
بچے گھنٹوں اپنے دل بہلاتے ھیں
———————————–
مجھ سے بدل گیا ھے وہ عینک توکیا ھؤا؟
کپ لگ رھاھے اب مجھے”چینک” توکیا ھؤا ؟
————————————————-
لڑکیوں کو دیکھتے ھو غور سے
تم بھی لگتے ھو مجھے لاھور سے
——————————————–
میں دوسے چھے بجے ھوتا ھوں گھر پر
مجھے اس وقت میسیج مت کیا کر
———————————————
ٹھیک کو ٹھیک سمجھتا ھوں میں اب رانگ کو رانگ (wrong)
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
——————————————–
نیٹ پہ بیٹھا ھے ڈاکٹر فی الحال
اے مریض اور صبر کر فی الحال
ان اشعار پہ آپ کو ھنسی نہ آئے تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں ——– عزیز فیصل صاحب کے لیے ھمارا نیک مشورہ یہ ھے کہ اس کتاب کو گھر میں نہ گھسنے دیں – کیونکہ اس میں کئی شعر ایسے ھیں جو بیگم نے دیکھ لیے تو صاحب کا بستر باھر گلی میں بچھا ھوگا —
—آج صبح کی پوسٹ غلطی سے delete ھوگئی – اس کے لیے معذرت –
—— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 9 جنوری 2018-

میرامیانوالی ——————————-

پانچویں کلاس سے انگلش اور چھٹی کلاس سے فارسی بھی ھمارے کورس کا حصہ بن گئیں، تو میرے دل میں تعلیم حاصل کرنے کاشوق رونما ھؤا- شاید قدرت نے مختلف زبانیں سیکھنا، پڑھنا ، پڑھانا اور ان زبانوں میں لکھنا ھی میرا مقدربنا دیاتھا-

انگلش تو آگے چل کر میرا مستقل ذریعہ معاش بھی بن گئی- ساری عمر انگلش پڑھاتا رھا- انگریزی اخبارات میں کالم بھی لکھتا رھا، ایم اے انگلش کے لیے ایک درجن کتابیں بھی لکھ دیں- اللہ کے فضل سے یہ کام اب بھی کر رھا ھوں-

فارسی بہت پیاری زبان ھے- میں نے چھٹی کلاس سے بی اے تک فارسی پڑھی- اللہ کے فضل سے لکھ بھی لیتا ھوں- اردو میں تقریبا پچاس فیصد لفظ فارسی ھی کے ھیں- ھماری سرائیکی میں عشاء کے وقت کو”خفتاں” کہتے ھیں – یہ دراصل فارسی کے لفظ ”خفتن; سے بنا ھے، خفتن کے معنی ھیں سونا – خفتاں کے معنی سونے کاوقت- اسی طرح کئی اور فارسی الفاظ بھی اردو اور ھماری زبان کا حصہ ھیں –
غالب اور علامہ اقبال کی زیادہ تر شاعری فارسی میں ھے- غالب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ
فارسی بیں تا بہ بینی نقش ھائے رنگ رنگ
بگذر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است
( میری اردو شاعری کو چھوڑیں ، وہ تو بے رنگ سی چیز ھے- رنگوں کی بہار دیکھنی ھو تو میری فارسی شاعری پڑھیں )

اردو میں غالب کے اشعار کی تعداد 1792 ھے ، فارسی میں 11340

علامہ اقبال کی تین کتابیں اردو شاعری کی ھیں ، 6 فارسی کی

مغل بادشاھوں کے زمانے میں تمام دفتری کام فارسی میں ھوتا تھا- بہت سےفارسی کے الفاظ آج بھی ھماری عدالتی کارروائیؤں اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں استعمال ھورھے ھیں –
اس لیے ھم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فارسی ایک غیر زبان ھے- ھمارے لیے یہ بھی ھماری اپنی زبان ھے————- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 10 جنوری 2018-

اخر کب تک ————————- ؟؟؟

قصور میں ایک بچی قرآن حکیم پڑھنے کے لیے مسجد جارھی تھی- چاردن بعد اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ملی- پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا-
میڈیا نے یہ خبر بابار چلائی- خادم اعلی نے مجرموں کو کیفرکردارتک پہچانے کا اعلان کرتے ھوئے آئی جی پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا- آئی جی صاحب ڈی پی او سے رپورٹ طلب کریں گے- ڈی پی او صاحب ایس ایچ او سے ، اس کے بعد ڈی پی او سے لے کر خادم اعلی تک سب مہربان بھول جائیں گے کہ کیا ھؤا تھا- ایس ایچ او صاحب اگر مجرموں کوگرفتار بھی کر لیں تو پھر کیا ھوگا- تفتیش، مجرموں کی ضمانت ، کیس خدا جانے کب تک چلتارھے- تفتیش میں ذراسی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی پر مجرم رھا بھی ھو سکتے ھیں – بچی کے والدین کو کچھ دے دلا کر صلح اور فی سبیل اللہ معافی بھی مل سکتی ھے-

یہ ھے ھمارا نظام حکومت اور نظام عدل —– !!!!!

تیزرفتارتفتیش اور فوری سزا کی گنجائش اس نظام میں نہیں – کیفرکردار تک پہچانے کے اعلانات بے معنی ، تفتیش ناقص ، عدالتیں بے بس تماشائی-

بےعیب تفتیش، اور فوری انصاف کے لیے قانون سازی70 سال میں آج تک تو نہیں ھوسکی – قانون ساز اسمبلیاں بڑے لوگوں کے کلب ھیں – حاضری دیں نہ دیں ھرماہ دوڈھائی لاکھ روپیہ جیب خرچ ھمارے معززارکان اسمبلی کو گھربیٹھے مل جاتا ھے-

قصور کی مظلوم بچی اور اس قسم کے دوسرے بے شمار لوگوں کو فوری انصاف دلانے کی بجائے، سابق وزیراعظم اپنی برطرفی کا رونا روتے پھر رھے ھیں ، کپتان صاحب اپنی شادی کے لیے کوشش میں مصروف ھیں – زرداری صاحب اگلی باری بلاول بیٹے کو دلوانے کے لیے ھاتھ پاؤں ماررھے ھیں – حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی اگلی باری لینے کے لیے ایک دوسرے کو چورچورکہتے پھر رھے ھیں-

کوئی ان سب سے پوچھے کہ خواتین وحضرات پچھلے ساڑھے چار سال میں آپ ایسا قانون کیوں نہ بنا سکے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لے کر قصور کی مظلوم بچی تک سب سانحوں کے مجرم ایک ھفتے میں کیفرکردار تک پہنچ جاتے —— ؟؟؟

لگتا ھے بالآخر اللہ کا قانون ھی حرکت میں آئے گا- ڈریں اس وقت سے کہ جب وہ قانون حرکت میں آتا ھے تو کچھ نہیں بچتا- نہ حاکم، نہ رعایا، نہ عدلیہ سب کچھ خاک میں مل جاتا ھے-

+ اس پوسٹ پر سیاسی کمنٹ دینے کی بجائے، اپنے اردگرد نظر رکھیں اور ایسے سانحوں کو روکنے کی کوشش کریں –  بشکریہ-منورعلی ملک- 10 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ————————–

جب تعلیم کم تھی، تو قانون کے خوف سے لوگ جرم سے گریز کرتے تھے- ھمارے بچپن کے زمانے میں تھانہ موچھ کے حوالدار عبیداللہ قریشی سے لوگ اتنے ڈرتے تھے جتنے آج آئی جی پولیس سے بھی نہیں ڈرتے- داؤدخیل اس زمانے میں تھانہ موچھ میں شامل تھا- حوالدار عبیداللہ قریشی ایک سپاھی کو ساتھ لے کر گھوڑے پر روزانہ موچھ سے داؤدخیل تک گشت کیا کرتے تھے- چھوٹے موٹے تنازعات موقع پر ھی نمٹا دیتے تھے- کسی کی مجال نہ تھی کہ ان کا فیصلہ قبول نہ کرے- حوالدار صاحب کے ھاتھ میں بید کی ایک چھڑی ھوتی تھی – اس چھڑی سے پٹائی کا خوف آج کل کی کلاشنکوف کے برسٹ سے کم نہ تھا- کسی کو سرعام کوئی غلط کام کرتے دیکھ لیتے تو اسی چھڑی کے ساتھ دھن کے رکھ دیتے-

جس گلی سے ان کا گھوڑا گذرتا لوگ رک کر دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھا کرتے تھے- 6 فٹ قد سانولی رنگت ، مہندی سے رنگی ھوئی ، سلیقے سے تراشی ھوئی داڑھی، بہت بارعب شخصیت تھے-

انگریزوں کو ھم جتنی گالیاں چاھیں دے لیں ، ان کے دور میں قانون کا احترام ھوتا تھا- قانون پر سوفیصد عمل ھوتا تھا- بعد میں ھم لوگوں نے قانون میں سوراخ ڈال کر بچ نکلنے کی راھیں نکال لیں – ضمانتیں ، سٹے آرڈر، اپیلیں ، مجرم کو پتہ ھوتا ھے کہ پکڑابھی گیا تو تفتیش میں تھوڑی سی ھیرا پھیری کروا کے بچ جاؤں گا- مجرم جرم کر کے گھروں میں بیٹھے رھتے ھیں ، پولیس عدالت سے طلبی کے سمن لے کر آتی ھے، تو مک مکا کرکے لکھوادیا جاتا ھے کہ ملزم لاپتہ ھے-

عبیداللہ قریشی کے زمانے میں سب ھیرا پھیریاں ناممکن تھیں- مک مکا کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا- حوالدارصاحب کسی کو جرم کرتے دیکھ کر للکارتے تو مجرم فرار ھونےکی بجائے سرجھکا کر ان کے سامنے کھڑا ھوجاتا تھا- عدالت تک جانے کی نوبت ھی نہیں آتی تھی- وھیں موقع پر فیصلہ ھو جاتا اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی سوچ ھی نہ سکتا تھا-
کیا اچھا زمانہ تھا ، اور کیسے بھلے لوگ —— !!!!!
———– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-11 جنوری 2018-

میرامیانوالی —————————

ساتویں کلاس میں میں داؤدخیل سے عیسی خیل منتقل ھوگیا- والدصاحب گورنمنٹ ھائی سکول عیسی خیل میں ھیڈماسٹر تھے- میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی بھی وھاں انگلش ٹیچر تھے-
عیسی خیل سے ھمارا تعلق بہت پہلے سے تھا- میرے داداجی بھی عیسی خیل سکول میں ٹیچر رہ چکے تھے-

عیسی خیل میں میں والد صاحب اور بھائی جان کے ساتھ رھتا تھا- گھرکے باقی لوگ داؤدخیل ھی میں تھے- سکول کے ملازم چاچامحمدخان ھمارا کھانا بناتے تھے- ھم مین بازار کے پہلے چوک سے مغرب کو جانے والی گلی میں ایک کرائے کے مکان میں رھتے تھے- یہ مولاناعبدالستارخان نیازی کے بھائی حکیم عمرخان کا مکان تھا- بہت وسیع و عریض محل کی قسم کا مکان تھا-
گورنمنٹ ھائی سکول عیسی خیل کی عمارت وھی تھی جو آج کل گرلز ھائی سکول کی ھے-

میں ھرھفتے داؤدخیل آیا کرتا تھا- والدہ کا حکم تھا- آنا جانا بس پہ ھوتا تھا- تلہ گنگ بس سروس کی یہ بس ھرشام میانوالی سے عیسی خیل آتی اور صبح پانچ بجے واپس میانوالی جاتی تھی- میرا اس بس سے آنا جانا اس لیے ضروری تھاکہ اس کے ڈرائیور کمرمشانی کے چاچا محمد خان کسی زمانے میں والد صاحب کے سٹوڈنٹ رھے تھے- یوں وہ اپنے آدمی تھے- ساتویں کلاس کے بچے کو کسی اجنبی ڈرائیور کے ھمراہ بھیجنا والد صاحب مناسب نہیں سمجھتے تھے- اللہ بھلا کرے چاچامحمد خان کا، مجھے پورا پروٹوکول دیتے تھے- بس کی فرنٹ سیٹ میرے لیے وقف تھی- کالاباغ اڈے پر مجھے سپیشل چائے بھی پلاتے تھے———- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 12 جنوری 2018-

          میرامیانوالی ————————

جب میں آٹھویں کلاس میں پہنچا تو والدصاحب راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سکولز کی حیثیت میں راولپنڈی چلے گئے- میں عیسی خیل سے واپس گورنمنٹ ھائی سکول داؤدخیل آگیا-
آٹھویں کلاس میں ماسٹر رب نواز خان لمے خیل ھمارے کلاس ٹیچر تھے- ریاضی (میتھس) کے زبردست ٹیچر تھے- بچپن ھی میں دائیں بازو سے محروم ھوگئے تھے- بائیں ھاتھ سے بہت خوبصورت لکھ بھی لیتے تھے، والی بال بھی بہت خوب کھیل لیتے تھے- ان کی میز پر ایک پرانی کرسی کا بازو رکھا ھوتا تھا، جس سے وہ مولا بخش (ڈنڈا) کا کام لیتے تھے- مگربہت کم — ڈانٹتے بہت زبردست تھے-

سٹوڈنٹس کے ساتھ ان کا رویہ بہت مشفقانہ تھا- جب ھم مڈل کا متحان دینے موچھ گئے تو ماسٹر رب نواز خان بھی کلاس ٹیچر کی حیثیت میں ھمارے ساتھ پورا ھفتہ موچھ میں مقیم رھے- ھم پچیس تیس سٹوڈنٹ تھے- ماسٹر صاحب ماں کی طرح ھم سب کا خیال رکھتے تھے-
ماسٹرنواب خان کی طرح ماسٹر رب نواز خان بھی داؤدخیل سکول میں میرے کولیگ بھی رھے- جب داؤدخیل مڈل سکول تھا اس وقت ماسٹررب نوازخان ھیڈماسٹر بھی رھے- وہ اینگلومڈل (انگلش کے ساتھ مڈل) ایس وی تھے- جب ھائی سکول بن گیا تو بی اے بی ٹی (بی ایڈ) ھیڈماسٹر آگئے- اور ماسٹر رب نوازخان سینیئر ٹیچر کی حیثیت میں کام کرتے رھے- میں داؤدخیل سکول میں انگلش ٹیچربن کر آیا تو میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی وھاں ھیڈماسٹر تھے- ماسٹر رب نوازخان صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سکول میں آتے رھتے تھے-
بہت اچھے دور کے بہت اچھے لوگ تھے——— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 13 جنوری 2018-

شعر میرا————-
آرائش ، عد نا ن احمد ملک ، لاھور-منورعلی ملک- 13 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ————————

میٹرک میں اردو لازمی نہ تھی- اردو یا سائنس میں سے کسی ایک مضمون کا انتخاب کرنا پڑتا تھا- سب لوگ سائنس ھی پڑھتے تھے- ھماری کلاس میں اردو کا ایک سٹوڈنٹ بھی نہ تھا- سائنس میں صرف فزکس اور کیمسٹری شامل تھی- بیالوجی میٹرک کے کورس میں نہیں ھوتی تھی-

ریاضی (میتھس) کا کورس خاصا بھاری بھرکم تھا- میٹرک کی ریاضی کی کتابیں اسلامیہ کالج لاھور کے پروفیسر خواجہ دل محمد کی لکھی ھوئی تین کتابیں ;دل کا حساب””دل کا الجبرا” اور ;دل کی جیومیٹری ” پورے پاکستان میں رائج تھیں- پروفیسر خواجہ دل محمد نامور ریاضی دان کے علاوہ بہت اچھے شاعر بھی تھے- لاھورکی معززشخصیات میں شمار ھوتے تھے-

ریاضی کی تین کتابوں میں سے ھر کتاب 100 مشقوں (Exercises) پر مشتمل تھی- یہ تین سو مشقیں حل کرنے میں دماغ کی لسی بن جاتی تھی، مگر اس لسی میں مکھن بھی ھوتا تھا- اس دور کے سب بڑے آدمی انہی کتابوں سے مستفید ھو کر بڑے لوگ بنے-

مطالعہ پاکستان کا نام جنرل نالج تھا- اس میں برصغیر ( پاکستان ، ھندوستان) کی تاریخ کے علاوہ برطانیہ کی تاریخ اور دنیا کا جغرافیہ بھی شامل تھا- ھمارا میٹرک کا کورس درج ذیل پانچ مضامین پر مشتمل تھا-
١- انگلش
٢۔ ریاضی
٣۔ جنرل نالج
٤۔ سائنس
٥۔ فارسی
— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 14 جنوری 2018-

میرامیانوالی ——————————————

اردو تو میں نے صرف مڈل تک پڑھی ، میٹرک میں اردو اختیاری مضمون تھی ، اس کے مقابلے میں سائنس تھی- کلاس کے سب لوگوں نے اردو کی بجائے سائنس رکھ لی ، میں نے بھی-

سکول کی اردو سے تومیں کچھ نہ سیکھ سکا، ویسے اردو ادب پڑھنے کا چسکا پرائمری تعلیم کے دوران ھی پڑ چکا تھا- میرے بھائی جان ملک محمد انورعلی کو افسانے ، ناول اور شاعری کی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا- ھرماہ بہت سے ادبی رسالے بھی وہ منگوایا کرتے تھے- ادب لطیف، نقوش، سویرا، جیسے چوٹی کے رسالے ھرماہ گھرمیں آتے تھے- ان کے علاوہ بھی بہت سے رسائل تھے-

مجھے ان کتابوں اور رسالوں کو ھاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی- بھائی جان کا خیال تھا کہ مجھے صرف اپنے سکول کے کورس کی کتابیں ھی پڑھنی چاھیئیں – مگر شوق اپنی راھیں خود بنا لیتا ھے- میں الماری سے ایک آدھ کتاب یارسالہ نکال کر گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر پڑھ لیتا تھا- چارکنال صحن اور دس بارہ کمروں والے گھرمیں چھپنے کی جگہیں بہت تھیں- ایک آدھ دفعہ رنگے ھاتھوں پکڑا بھی گیا، ماربھی پڑی- مگر میں نے یہ شغل ترک نہ کیا-

یوں میں نے میٹرک تک پہنچتے پہنچتے تقریبا سارا اردو ادب پڑھ ڈالا- غالب، اقبال، فیض ، ساحر ، ندیم ، قتیل شفائی، منیرنیازی ، سب کو پڑھ لیا- افسانے میں منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی، غلام عباس ، راجندرسنگھ بیدی، یہ تو صرف چند نام ھیں ، بہت سے اوربھی تھے، جن کی کتابیں میں نے پڑھ ڈالیں- اتنا کچھ پڑھنے سے لکھنا تو آ ھی جاتا ھے-

میٹرک کے بعد کالج میں انگریزی ادب پڑھنے کا شوق لاحق ھؤا، تو میں ادھر ھی کا ھو کر رہ گیا- سینکڑوں ناول ، کہانیاں اور ڈرامے پڑھ لیے- اب بھی پڑھتا رھتا ھوں- اردو ، انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتا بھی رھتا ھوں – ————————————- رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 15 جنوری 2018-

اپنا پرانا شعر ——————
آرائش —— میرثناءاللہ بجرانی، بلوچ
فورٹ منرو ، ڈی ، جی خان

میرامیانوالی ————————–

کھانے کے معاملے میں لاھوریئے واقعی ٹھیک کہتے ھیں “‘نئیں ریساں شہر لہور دیاں ” – امریکہ اور یورپ سے آنے والے سیاح ھوں یا دنیا بھر کی کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑی ، لاھور کے کھانوں کو اپنی ناقابل فراموش یادوں میں شمار کرتے ھیں –

کل مچھلی کا ذکر کرتے ھوئے یاد آیا کہ اصل تلی ھوئی مچھلی تو وہ ھوتی ھے، جو لاھور میں ایک دو جگہ ملتی ھے- پہلے چاچا حاجی سردار کی مچھلی نمبرون سمجھی جاتی تھی- مگر پچھلے آٹھ دس سال سے بشیردارالماھی پہلے نمبر پر ھے- دارالماھی کے معنی ھیں مچھلی گھر- ماھی فارسی میں مچھلی کو کہتے ھیں – ایک ماھی کا رونا سرائیکی شااعر اور گلوکار بھی روتے رھتے ھیں ، مگر اس سے یہ فارسی والی ماھی (مچھلی) بہتر ھے کہ اس سے پیٹ تو بھر جاتا ھے-

بشیر دارالماھی پہلے مزنگ چوک میں ھؤا کرتا تھا- ھمارااس سے تعارف میرے مرحوم مہربان دوست سید سردارجاوید نے کرایاتھا- یہ دکان تین منزلہ تھی- رات 8 بجے کے بعد یہاں لوگوں کا رش اتنا زیادہ ھوتا تھا کہ بیٹھنے کی جگہ بڑی مشکل سے ملتی تھی—
ایک دفعہ ھم گئے تو تینوں منزلوں پر بیٹھنے کی جگہ نہ ملی، بلکہ کچھ لوگ دیواروں کے ساتھ لگ کر کھڑے ھوئے کسی میز کے خالی ھونے کا انتظار کرتے بھی دیکھے- تیسری منزل پر کھڑے ھوئے منتظر لوگوں میں ھم بھی شامل ھو گئے- جب ایک قریبی میز سے لوگ فارغ ھو کر اٹھے , ان کی جگہ ھم بیٹھ گئے-

آج کل بشیر دارلماھی قذافی سٹیڈیم کے باھر واقع ھے- دکان کے سامنے وسیع لان میں کرسیاں میزیں لگی ھوتی ھیں – یہاں بھی جگہ لینے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ھے-

آپ خود سمجھ لیں کہ وہ کھانا کیسا ھوگا ، جس کے لیے اچھے خاصے معزز لوگ قطاروں میں لگے رھتے ھیں — انتہائی لذیذ تلی ھوئی روھومچھلی ھوتی ھے- مکھن کی طرح نرم اور – – – – کبھی کھا کر دیکھیں پھر بات کریں –
——————————————— رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 18 جنوری 2018-

میرامیانوالی —————————–

منوبھائی کانام بہت سے دوستوں نے نہیں سنا ھوگا، کیونکہ نہ تو وہ گلوکار تھے، نہ کرکٹر نہ ایکٹر، نہ سیاست دان – مگر اس پاک سرزمین کے 6000 سے زائد بچے انہیں اپنا محسن بابا سمجھتے ھیں- یہ وہ بچے ھیں جو تھیلسیمیا، ھیموفیلیا ، اورھڈیوں کے کینسر میں مبتلا ھیں ، ان میں سے کچھ ”سندس فاؤنڈیشن” میں مفت علاج سے صحتیاب ھو کر چلے گئے ، کچھ ایسے تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پاس بلالیا— جانے والوں کے بعد دوسرے آجاتے ھیں

سندس فاؤنڈیشن نام کا یہ ادارہ منوبھائی نے قائم کیا تھا- اپنی زندگی کے آخری 20 سال منو بھائی نے اس ادارے میں زیرعلاج بچوں کی خدمت میں بسرکیے-

منوبھائی مشہورومعروف صحافی بھی تھے- روزنامہ جنگ میں”گریبان” کے عنوان سے کالم لکھتے تھے- ٹی وی پر ان کے لکھے ھوئے چودہ ڈرامے سب نے دیکھے ھوں گے- مزاحیہ ڈراما ”سوناچاندی” تو چھوٹے بڑے سب لوگ بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے- منو بھائی ترقی پسند دانشور بھی تھے- بہت اچھے شاعر بھی تھے- آج کے اخبار جنگ میں ان کا آخری کالم شائع ھؤاھے- لکھتے ھیں

147میں سندس فاؤنڈیشن میں روزانہ تھیلیسیمیا، ھیموفیلیا اور بلڈ کینسر کےمریض بچوں کے لیے وقت نکالتا ھوں- بچوں کے ساتھ کھیلتے ھوئے خود بھی بچہ بن جاتا ھوں- گھنٹوں ان کی بے معنی باتوں کو سن کر انہیں بولنے کا اعتماد دیتا ھوں ، ڈاکٹر انہیں دوا دیتے ھیں ، میں دعا دیتا ھوں ”

بہت سی باتیں یاد ھیں منوبھائی کے بارے میں ، مگر فی الحال اتنا ھی لکھ سکتا ھوں – یہ بہت بڑاانسان 19 چنوری کو اس دنیا سے رخصت ھوگیا-

اپنے آخری کالم میں منوبھائی یہ وصیت بھی کرگئے کہ میرے بعد میرے ان بچوں کا خاص خیال رکھا جائے-
—- رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 21 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی —————————

الحمدللہ ، ھم میانوالی والوں نے فیس بک کا کلچر بہت حد تک بدل کر رکھ دیا ھے- اس اچھے کام کا آغاز ھمارے محبوب دوست مرحوم ظفرخان نیازی نے کیا تھا- بہت قیمتی معلومات اور یادداشتوں پر مشتمل پوسٹس لکھا کرتے تھے- میانوالی کے کلچر اور معروف شخصیات کے بارے میں ان کی پوسٹس لاجواب ھوتی تھیں – بہت اعلی پائے کے افسانہ نگار بھی تھے، شاعر بھی- اس لیے ان کی تحریریں بہت مؤثر ھوتی تھیں –

ظفرخان نیازی کو دیکھ کرمیں نے بھی آج سے تین سال قبل اپنی یادداشتوں ، تجربات ، مشاھدات ، شخصیات اور کلچر کی گمشدہ علامات کے بارے میں لکھنا شروع کیا- اللہ کے فضل سے یہ سلسلہ بہت مقبول ثابت ھؤا- ملک بھر، بلکہ بیرون ملک سے بھی بہت سے دوست حوصلہ افزائی کرتے رھے- آپ سب کی خاطر میں نے روزانہ لکھنا شروع کردیا- کیسا لکھتا ھوں ، یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ھیں – ساحرلدھیانوی کا مصرعہ یاد آرھا ھے ——————–
لوگ کہتے ھیں تو پھر ٹھیک ھی کہتے ھوں گے-

میرے محترم دوست پروفیسر اشرف علی کلیار بھی اپنے انداز میں بہت خوبصورت پوسٹس شیئر کیا کرتے تھے- ان کی پوسٹس مختصر، مگر ھماری معیشت، معاشرت اور سیاست کی کمزوریوں پر بھر پور طنز ھوتی تھیں- آج کل کلیارصاحب فیس بک پر بہت کم نظرآتے ھیں- شاید کسی اور کام میں مصروفیات بڑھ گئیں –

میرے سابق سٹوڈنٹ، نامور ماھر تعلیم اور میرے فیس بک کے اولیں ساتھی ظفر نیازی میری طرح اردو، انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ھیں- مگرظفر کا اپنا منفرد انداز ھے- بہت بے باک ھیں- اردومیں عموما رائج الوقت سیاسی نظریات اور شخصیات کو بھرپور طنز کا نشانہ بناتے ھیں – کسی کو دیوتا نہیں سمجھتے- کسی کے احتجاج اور تلخ تنقید کی پروا نہیں کرتے- ایسے آدمی کو انگلش میں iconoclast کہتے ھیں – اردو میں سرپھرا کہہ لیں – لیکن میں یہ سمجھتا ھوں کہ اصولی طور پر ان کی باتیں درست ھوتی ھیں – اس لیے بے ساختہ انہیں داد دیتا رھتا ھوں- جوآئینہ یہ دکھاتے ھیں اس میں بعض اوقات مجھے اپنا چہرہ بھی نظر آتا ھے، اور مجھے اپنے خیالات و نظریات کی اصلاح کا موقع مل جاتاھے-

فیس بک کے کلچرکوتبدیل کرنے والے میرے اور بھی بہت سے ساتھی ھیں – انشاءاللہ سب کے بارے میں لکھوں گا- کل کی پوسٹ میں دو تین اور دوستوں کا ذکر ھوگا-
——————————————– رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 22 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————–

فیس بک پر تحریروں کے حوالے سے ھمارے ایک سینیئر ساتھی افضل عاجز بھی ھیں – عاجز بہت پہلودار شخصیت ھیں – مقبول گیت نگار، معروف صحافی اور کامیاب کمپیر کی حیثیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں – فیس بک پر ”اے میرے صاحب” کے عنوان سے پہلے باقاعدہ لکھا کرتے تھے- پھر اداکاری کی طرف مائل ھو گئے- آج کل زوروشورسے اداکاری کررھے ھیں – تحریری پوسٹس کی بجائے اب زیادہ تر تصویروں میں فیس بک پہ نظرآتے ھیں- دلکش سادگی عاجز کی تحریروں کا نمایاں وصف ھے- کلچر کے حوالے سے بہت خوبصورت باتیں بھی دیکھنے کو ملتی ھیں – دوستوں سے چھیڑچھاڑ بھی دیکھنے میں آتی ھے— فیس بک سے باھر بھی خاصی مقبول شخصیت ھیں –

عبدالقیوم خان نیازی کا شمار بھی فیس بک کے سینیئر قلم کاروں میں ھوتا ھے- پولیس انسپکٹر ھیں ، مگر بہت مثبت اور قابل تقلید باتیں لکھتے ھیں – ان کی زیادہ تر پوسٹس اصلاحی موضوعات پر ھوتی ھیں – اسلاف کے قصے بہت مؤثرانداز میں لکھتے ھیں – سنی سنائی باتوں کی بجائے باقاعدہ ریسرچ کر کے مستند باتیں لکھتے ھیں –

عبدالقیوم خان نیازی کے ھم نام عیسی خیل کےماھرتعلیم ، میرے بہت پیارے دوست عبدالقیوم خان نیازی بھی اپنے تجربات و مشاھدات پر مبنی خوبصورت پوسٹس لکھتے رھتے ھیں – پہلے باقاعدہ لکھتے تھے، اب شاید دوسری مصروفیات کی وجہ سے بہت کم لکھتے ھیں – قیوم خان صاحب کا منفرد ، نہایت دلچسپ انداز تحریر بہت مقبول ھے-

ابھی بہت سے قابل ذکر نام باقی ھیں – اس لیے اس موضوع پر پوسٹس کا یہ سلسلہ انشاءاللہ چند دن مزید جاری رھے گا-

بشکریہ-منورعلی ملک- 23 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————————

خان شاہ رخ پکھی واس کے نام سے فیس بک پہ سیروتفریح اور تصوف کے موضوعات پہ لکھنے والے ھمارے دوست سی ایس پی افسرھیں – سول سروس سے وابستہ لوگ عام طور پر دل سے صرف جسم میں خون پمپ کرنے کاکام لیتے ھیں – باقی سارے کام دماغ سے کرتے ھیں – لوگوں سے تعلقات بڑھا نا یا ان سے ھمدردی کرنا اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے غفلت سمجھتے ھیں – مگر بحمداللہ شاہ رخ پکھی واس افسرانہ بے نیازی اور تکبر کی عادات تاحال نہیں اپنا سکے، اللہ انہیں آگے بھی ان عادات سے محفوظ رکھے- شاہ رخ اپنے علاقے کے غریب اور نادار لوگوں کے لیے ایک فلاحی تنظیم بہت تن دھی سے چلاکر ثواب دارین بھی کمارھے ھیں – اللہ ان کے اس کارخیر کو بےحساب برکات سے نوازے– ان کے لیے بہت سی دعائیں –

وقار احمد ملک بہت اچھے افسانہ نگار بھی ھیں ، ٹیچر بھی- ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ””جنگل میں گاؤں” کے عنوان سے حال ھین میں شائع ھؤا ھے- ان کے افسانوں میں واقعات کے ساتھ ساتھ منظر نگاری بھی بہت کمال کی ھے- وقار کو مناظر سے عشق ھے- موسموں کی کیفیات بہت خوبصورت شاعرانہ انداز میں بیان کرتے ھیں – ان کی یہ خوبی ھمیں مرحوم نامور افسانہ نگار اے حمید کی یاد دلاتی ھے- تخیئل شاعرانہ اور میڈیم نثر کی ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ھیں – چائے میری طرح وقار کی بھی کمزوری ھے- فیس بک پہ ان کی دوستانہ انداز کی تحریریں بہت دلچسپ ھوتی ھیں – نوجوان طبقے کی بہت مقبول شخصیت ھیں –

کچھ دوستوں کا ذکر انشاءاللہ کل ھوگا- ایک فارسی شاعر نے کہا تھا ————
ھرگلے را رنگ و بوئے دیگر است ( ھرپھول کی اپنی خوشبو اور اپنا رنگ ھے)

یہی بات میرے ان سب ساتھیوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ھے-
—— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 24 جنوری 2018-

میرا میانوالی

فیس بک کو ناظرین کی تعلیم اور تربیت کا ذریعہ بنانے میں میرا ساتھ دینے والوں میں اللہ کے فضل سے میرے تین بیٹے بھی شامل ھیں – علی عمران کبھی کبھی بہت خیال افروز واقعات اور باتیں لکھے رھتے ھیں-

پروفیسر امجدعلی ملک سٹوڈنٹس کے لیے انگلش کی بہت کارآمد پوسٹس باقاعدہ لکھ رھے ھیں – ایک ھی سوال پر مشتمل انگلش پوسٹس بھی لکھتے ھیں – یہ پوسٹس پڑھنے والوں کو اپنے کردار اور صلاحیتوں کی تشخیص میں مدددیتی ھیں –

پروفیسر محمد اکرم علی ملک زندگی اور انسانی رویوں کے حوالوں سے نامور مغربی مفکرین اور شعراء کے اقوال اور بعض اوقات ھوش ربا دلکش مناظرکی پکچرز پوسٹ کرتے رھتے ھیں – ایسی پوسٹس ناظرین کی ذھنی سطح کو بلند کرنے میں بہت مدد دیتی ھیں – ایسی انسپائرنگ پوسٹس کی ھماری نوجوان نسل کو بہت ضرورت ھے-

اردو میں لکھنے والوں میں ڈاکٹرحنیف نیازی آج کے مقبول ترین پوسٹ نگار ھیں – بعض اوقات غربت ، محرومیوں اور نارسائیوں کی دل کو چھولینے والی داستانیں لکھ کر پڑھنے والوں کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لیتے ھیں – پوسٹ پڑھنے کے بعد انسان بہت دیر تک سوچتارھتا ھے– اور یہی سوچ اپنی اصلاح کی طرف پہلاقدم بن جاتی ھے- کبھی کبھی حنیف نیازی عزم و ھمت کی ولولہ انگیز داستانیں لکھ کر یہ ثابت کرتے نظرآتے ھیں کہ
لمبی ھے غم کی شام، مگر شام ھی تو ھے

حنیف کا لکھنے کا اندازبھی سب سے منفرد ھے- آزادنظم کی طرح ھر جملہ نئی سطر سے شروع کرتے ھیں – یہ انداز پڑھنے والے کے لیے آسان بھی ھے، مؤثر بھی-

فیس بک کے کلچر میں خوشگوار تبدیلیوں کی یہ داستان انشاءاللہ کل بھی جاری رھے گی-
—- رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 25 جنوری 2018-

میرا میانوالی

میرا پرانا شعر ——————
آرائش —- شاھد انور خان نیازی ، داؤدخیل

بشکریہ-منورعلی ملک- 31جنوری 2018

Leave a Reply