MERA MIANWALI FEB 2018

 پروفیسرمنورعلی ملک کی فروری 2018 کی فیس بک پر پوسٹس

میرامیانوالی ——————————–

کوھستان نمک وہ پہاڑی سلسلہ ھے جو دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان تقریبا 180 کلومیٹر کے علاقے پر محیط ھے- ضلع میانوالی میں یہ پہاڑی سلسلہ دریائے کرم کے مشرقی کنارے سے لے کر کالاباغ اور پھر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے چھدرو کے علاقے تک جاکر ضلع خوشاب کی حدود میں داخل ھو جاتا ھے-
دنیا کے بہترین نمک کا یہ بہت بڑا ذخیرہ صدیوں سے زیر استعمال ھے- کالاباغ ، کھیوڑہ اور وڑچھا کی نمک کی کانیں دنیا کی سب سے بڑی کانوں میں شمار ھوتی ھیں- اس پہاڑ کی سب سے بلند چوٹی سکیسر تقریبا 4500 فٹ اونچی ھے- ضلع خوشاب اور چکوال کا درمیانی علاقہ وادیء سون کہلا تا تھے-مشہور مؤرخ یحیی امجد اپنی کتاب تاریخ پاکستان میں بتاتے ھیں کہ وادیء سون میں آج سے اڑھائی لاکھ سال پہلے کی انسانی آبادی کے آثار موجود ھیں –
کوھستان نمک میں صرف نمک ھی نہیں ، کوئلہ ،لوھا ، جپسم ، چونے کا پتھر ، اور یورانیم کے بھی بہت بڑے ذخائر موجود ھیں – نمل ، کلر کہاراور اوچھالی کوھستان نمک کی مشہور سیرگاھیں ھیں- ھندوؤں کا مقدس مقام کٹاس راج بھی اسی علاقے میں ھے- کلر کہار میں شہنشاہ بابر کے تخت کے آثار بھی موجود ھیں – اس علاقے کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتابیں ” تاریخ چکوال” اور ‘ تاریخ میانوالی’ مستند معلومات فراھم کرتی ھیں –
اللہ کی رحمت اور قدرت کے بے شمار حیرت انگیز مظاھر کوھستان نمک میں جابجا دکھائی دیتے ھیں ——– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-5 فروری 2018-

میرامیانوالی ——————————–

کل کی پوسٹ میں کلر کہار کا ذکر آیا تو بہت سی خوبصورت یادیں جاگ اٹھیں – ھم بمعہ فیملی کبھی کبھار سیروتفریح کے لیے کلر کہار جاتے رھتے ھیں –
سرسبز پہاڑ کے سینے سے لگی چھوٹی سی خوبصورت بستی ، ایک جھیل کے کنارے واقع ھے- نمکین پانی کی یہ جھیل تقریبا آٹھ مربع میل رقبے پر پھیلی ھوئی ھے- جھیل کی اوسط گہرائی 4/5 فٹ ھے، اس لیے اس میں ڈوبنے کا امکان تو صرف بچوں کے لیے ھے، مگر جھیل کے کنارے لگا ھؤا ایک بورڈ جھیل میں کشتی رانی کرنے والوں کو خبردار کرتا ھے ، کہ پانی میں ھاتھ ھرگز نہ ڈالیں ، کیونکہ اس جھیل میں انتہائی خطرناک زھریلے سانپ بکثرت ھیں

کلر کہار ، چکوال سے تقریبا 25 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ھے- یہ بہت خوبصورت اور پراسرار جگہ ھے- جھیل کے کنارے سیاحوں کی ضرورت کی ھر چیز کی دکانیں موجود ھیں – بچوں کی تفریح کے لیے جھولے وغیرہ بھی رواں دواں رھتے ھیں – گفٹ شاپس میں ھر طرح کے کم قیمت گفٹس کی اچھی خاصی ورائیٹی دستیاب ھے-

کلر کہارایک سیرگاہ ھی نہیں, ایک تاریخی مقام بھی ھے- یہاں ھندوؤں کی قدیم مقدس عمارات کٹاس راج اور مقدس تالاب کے علاوہ تخت بابری کے آثار عہدرفتہ کی یاد دلاتے ھیں – خاندان مغلیہ کے بانی شہنشاہ محمد ظہیرالدین بابر جب دھلی فتح کرنے کے لیے جارھے تھے، توانہوں نے کچھ دیر یہاں قیام کیا تھا- ان کی فوج نے ان کے لیے پتھر کا ایک تخت بنادیا، جس پر بیٹھ کر شہنشاہ معظم نے اپنی فوج سے خظاب کیا تھا- اس تخت کا چوکور چبوترہ (پلیٹ فارم ) اب بھی موجود ھے- اس کے بارے میں تاریخی معلومات 1990 میں ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی (سابق ڈپٹی کمشنر چکوال) نے سنگ مر مر کی ایک تختی پر لکھوا کر یہاں پر نصب کروا دی تھیں –

کلرکہار گلابوں کا دیس ھے ، حدنظر تک پھیلے ھوئے گلاب کے کھیت ، ان میں چلتے پھرتے اڑتے رنگارنگ مور—– آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسے ھوش ربا مناظر دست قدرت نے یہاں سجادیے ھیں –

گلاب کا خالص عرق اور لوکاٹ کا عرق یہاں کی خاص سوغات ھے- لوکاٹ کا عرق ھاضمے کی بہت سی خرابیوں کا شافی علاج ھے- جھیل کے کنارے لوکاٹ کے درختوں سے لوکاٹ اتار کر ھم نے بھی کھائے ھیں- چھوٹا سا درخت ھوتا ھے- پھل تک ھاتھ کی رسائی آسانی سے ھو جاتی ھے- اللہ توفیق دے تو کبھی جا کر اللہ کی قدرت کا یہ شاھکار مظہر ضرور دیکھیں ———————- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-6 فروری 2018-

میرامیانوالی ————————–

اب تو کوئی اس کا نام ھی نہیں لیتا، کالاباغ ڈیم پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ تھا، جو سیاسی مفادات کی نذر ھو کر معرض التوا میں معلق ھوگیا-

کالاباغ ڈیم داؤدخیل سے تقریبا بیس کلومیٹر شمال مشرق میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے سادات کی معروف بستی پیر پہائی کے قریب تعمیر ھونا تھا- تعمیر کا آغاز بھی ھو چکا تھا- ورکشاپس ، اور ملازمین کی رھائش کے لیے کوارٹرز بن رھے تھے- کچھ مشینری بھی پہنچ چکی تھی، مگرعلاقائی مفاد پرستی کی سیاست نے قومی مفاد کے اس منصوبے کی تکمیل ناممکن بنا دی- دوصوبے (خیبرپختونخوا اور سندھ) بضد ھو گئے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ھم اجڑ جائیں گے-حالانکہ اقوام متحدہ کے ٹیکنیکل مشیر بشیراے ملک نے کہا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر نہ ھؤا تو آنے والے دنوں میں سندھ اور کے پی میں پانی کا قحط پڑ جائےگا- زراعت کانام ونشاں تک باقی نہیں رھے گا-
واپڈا کے سابق چیف انجینیئر اور کے پی کے سابق وزیراعلی شمس الملک نے کہا تھا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے صوبہ کے پی میں غربت ختم ھوگی ، اس ڈیم سے صوبے کا 80 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ھو سکے گا- مگر صوبے کی سیاسی قیادت نے ان کی بات بھی نہ مانی-

250 فٹ اونچے اس ڈیم میں 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی 12 ٹربائینز نصب کر کے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ھے- اس ڈیم کی تعمیر کے لیے کسی دوسرے ملک یا ادارے سے قرض بھی نہیں لینا پڑے گا- ڈیم کی تعمیر سے فائدہ عوام کو ھوگا، مگر سیاست دانوں کو کون سمجھائے کہ اس ملک میں عوام بھی رھتے ھیں –

بہت دکھ سے کہہ رھا ھوں کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا مخالف تو بھارت (انڈیا) تھا – ھمارے سیاسی قائدین ذرا سوچیں کہ اس منصوبے کی محالفت کرکے وہ کس کی حمایت کر رھے ھیں – !!!——- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-7 فروری 2018-

میرامیانوالی ———————————

سردی کاموسم گذرگیا ، اور زمین پیاسی کی پیاسی رہ گئی- کہاں گئیں وہ سردیوں میں بارش کی جھڑیاں , شمال سے آنے والی یخ بستہ تند ھوائیں – سردی سے بچنے کے لیے گھروں میں آگ کے بھانبھڑ، کرکنڑیں کی کڑاھیاں ، چھتریاں ، برساتیاں ، اب کی بار کچھ بھی دیکھنے کو نہ ملا-

شاید اللہ ھم سے ناراض ھے- جو کچھ ھم کر رھے ھیں ، یہ دیکھ کر ناراض نہ ھوگا، تو کیا خوش ھوگا- بے شک وہ غفور ھے، رحیم ھے۔ مگر قہاراورجبار بھی تو ھے- جس ملک میں آئے دن معصوم بچیوں کی مسخ شدہ لاشیں کوڑے کے ڈھیروں پر پڑی ملیں ، جہاں رشتے سے انکار پر ایک بچی کو گولیوں سے بھون دیا جائے- کوھاٹ میں پچھلے دنوں یہی ھؤا- ابھی چند روز پہلے کالاباغ کے قریب چغلاں نامی گاؤں میں ایک نوجوان نے رشتہ نہ ملنے پر پورے خاندان پر گولیوں کی بارش کرکے بچی کے ساتھ اس کے ماں باپ کو بھی قتل کردیا — کہتےھیں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ، کیا خبر اس سے پہلے رب جلیل پوری قوم کو کیفرکردار تک پہنچا دے- کسی معصوم زینب یا اسمآء کی آخری چیخ کے ساتھ ھی زمین کے ایک جھٹکے سے سب کچھ ملیا میٹ ھو جائے- چند سال پہلے آزاد کشمیر کا زلزلہ آپ نے دیکھا سنا ھوگا- مظفرآباد کا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا- چند مینٹوں میں ھزاروں لوگ زندہ دفن ھو گئے-

ھمارے آقا صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ارشاد ھے ، جہاں بد کاری زیادہ ھو ان علاقوں کو اللہ زلزلوں سے تباہ و برباد کر دیتا ھے-

آج کے حالات دیکھ کر ڈر لگتا ھے کہ کیا خبر کسی لمحے ایک ھی جھٹکے سے ھم اور ھمارے اردگرد کی ھر چیز صفحہ ھستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے- یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تو ھم سے قیامت کے دن حساب کتاب کرے گا، وہ قیامت کا پابند نہیں – چاھے تو اسی دنیا کو جہنم بنا کے رکھ دے-
یہ اجنبی موسم ، یہ خشک سالی , آنے والے کسی عذاب کی وعید تو نہیں ؟؟؟ ——– ذراسوچیے ————– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-8 فروری 2018-

میرامیانوالی ——————————–

 آج کچھ ادھر ادھر کی باتیں —

الحمدللہ، ھمارا سفر جاری ھے– تھک تو نہیں گئے آپ لوگ – ؟ بہت عرصہ پہلے میں نے ایک شعر میں کہا تھا
رکے نہ ھم کہ سفر ھی ھماری منزل تھا

اس لیے کوئی ساتھ نہ بھی ھوتا، مسافر نے رکنا نہیں تھا- آپ کی مہربانی کہ تین سال سے مسلسل میرے ساتھ چل رھے ھیں – آپ کے صبر اور حوصلے کی دادا دیتا ھوں – سفر کے آغاز میں آپ سے یہ وعدہ لیا تھا کہ میری انگلی پکڑ کر چلنا ھوگا، راستے کا تعین میں کروں گا- آپ نے یہ نہیں کہنا کہ ”سر ، ادھر نہیں ، ادھر چلیں ” —-
ایک بار پھر شکریہ کہ آپ اپنا وعدہ نہایت صبروتحمل سے نبھا رھے ھیں – سفر تو سفر ھوتا ھے- آج کسی جھیل کے کنارے گلابوں کے معطر کھیتوں کی سیر ھو رھی ھے، کل کسی صحرا میں بیٹھے ، پانی کو ترس رھے ھوں گے-

کوشش ھمیشہ یہی رھی کہ یہ سفر آپ کے لیے دلچسپ بھی ھو، اور آپ کے علم میں اضافے کا وسیلہ بھی- آپ کی لائیکس اور کمنٹس سے تو یہ ظاھر ھورھا ھے کہ بحمداللہ یہ دونوں مقاصد حاصل ھو رھے ھیں – سفر انشاءاللہ جاری رھے گا- کوئی مشورہ یا تجویز دینا چاھیں تو تکلف نہ کریں ——بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-10 فروری 2018-

میرامیانوالی ————————-

عزیز دوستو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ-

دل خوش کر دیا آپ نے میری کل کی پوسٹ پر بے شمار لائیکس اور محبت بھرے کمنٹس دے کر- آپ کی یہی محبت میرے اس سفر کا زاد راہ ھے- یہی محبت مجھ سے تین سال سے روزانہ بلاناغہ لکھوارھی ھے- اللہ آپ کو بےحساب عزت اور نعمتوں سے مالامال کردے-

کتنے اچھے ھیں آپ لوگ ، تین سال سے مسلسل میرے ساتھ چل رھے ھیں ، کوئی مطالبہ، شکوہ نہ احتجاج — انشاءاللہ ھمارا سفر جاری رھے گا ، جب تک اللہ چاھے گا-
کل سے انشاءاللہ ھم ایک اور سمت کا سفر شروع کریں گے- کوشش کروں گا کہ حسب سابق یہ سفر دلچسپ بھی ھو، آپ کے لیے مفید بھی –
—————————————– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-11 فروری 2018-

میرامیانوالی —————————-

الحمدللہ ————–MIANWALIN MUNAWAR ALI MALIK
آج سے ٹھیک 78 برس قبل میری زندگی کا سفر شروع ھؤا- میں نے12 فروری 1940 کو داؤدخیل کے معروف اعوان گھرانے میں آنکھ کھولی – والد محترم ملک محمد اکبرعلی محکمہ تعلیم میں افسر تھے- پانچ بہن بھائیوں میں میرا تیسرا نمبر بنتا تھا- مجھ سے پہلے بھی ایک منورعلی ملک میرا بھائی تھا- مگر اسے اللہ نے بہت جلد واپس بلالیا- اور اس کی جگہ مجھے بھیج دیا-
میرے ماموں ملک منظورحسین منظور نے میرا نام منورحسین تجویز کیا ، کیونکہ میرے ننھیال کے تمام نام اسم حسین سے منسوب تھے ( ماموں کے بیٹوں کے نام سجاد حسین ، اعجازحسین ، اقبال حسین ممتازحسین تھے) – سو میرا نام منورحسین رکھ دیا گیا- اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں مرے ھوئے بچوں کا نام کسی اور بچے کو دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا- ایک وھم سا تھا کہ اس نام کا بچہ اس گھر میں زندہ نہیں رھتا- خاص طور پر مائیں اس وھم کو عقیدہ سمجھتی تھیں –
لیکن گھر میں چونکہ ھرنام جناب علی سے منسوب تھا ( مبارک علی، محمد اکبر علی، برکت علی ، محمد اصغرعلی ، ظفرعلی، محمد صفدرعلی، محمدانورعلی) اس لیے مجھے بھی منورحسین کی بجائے منورعلی کہا جاتا تھا- (علی اور حسین میں فرق ھی کیا ھے)– میں نے پانچ سال اس نام کے ساتھ زندہ رہ کر دکھا دیا تو امی کا وھم جاتا رھا ، اور سکول میں داخلے کے وقت میرا نام منورعلی ملک لکھوا دیا گیا-

ھمارا خاندان داؤدخیل کے اولیں اعوان خاندانوں میں شمار ھوتا ھے- کئی نسلوں سے یہ خاندان علم کا نور بانٹ رھا ھے-
اتنی طویل عمر کے باوجود نوجوان نسل کے ساتھ مجھے کوئی مسئلہ نہیں بنتا — ٹیچر کی حیثیت میں ساری زندگی نوجوانوں میں بسر ھوتی رھی- اس لیے مجھے نوجوانوں میں اٹھنے بیٹھنے میں اجنبیت کا ذرا بھی احساس نہیں ھوتا- سب مجھے اپنا سمجھتے ھیں ، میرے فیس بک فرینڈز میں سکولوں کے بچے بھی شامل ھیں – وہ بھی میری باتیں غور سے سنتے اور پڑھتے ھیں – اللہ کا یہ خصوصی کرم ھے کہ سب کو میری باتیں اچھی لگتی ھیں –
————– رھے نام اللہ  کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-12 فروری 2018-

میرامیانوالی ———————————–

میری دولت میرے الفاظ ھی تو ھیں ، اردو، انگریزی، سرائیکی ، فارسی اور عربی کے لاکھوں الفاظ , مگر آج آپ کی محبتوں کا صلہ دینے کو یہ تمام دولت بھی کم پڑ رھی ھے- میرے برتھ ڈے میں آپ کی بھرپور شرکت کا شکریہ ادا کرنے کو الفاظ نہیں مل رھے- اللہ تبارک و تعالی آپ کو بے حساب خوشیاں عطافرمائے- آپ کی ھر مشکل آسان فرمائے- آپ کی تمام محرومیوں کی تلافی کر دے-
لائیکس , میسیجز اور کمنٹس کے علاوہ کچھ دوستوں نے اپنا کل کا پیج ھی میرے نام کردیا- محبت کے اظہار کا یہ خوبصورت انداز میرے لیے اعزاز ھے- حاجی اکرام اللہ نیازی, اظہر نیازی، ظفرنیازی ، ڈاکٹر حنیف نیازی، افضل عاجز، معشوق کھوسو، علی عمران اعوان اور محمد اکرم علی ملک نے اپنے اپنے منفرد انداز میں مجھ سے محبت کا اظہار پوسٹس کی شکل میں کیا-
کمنٹس بھی سب کے سب بہت خوبصورت ھیں ، میسیجز اور لائیکس بھی- دعا ھے کہ رب کریم ھماری چاھتوں کی اس سنگت کو ھمارے لیے دونوں جہانوں میں کامرانی کا وسیلہ بنا دے-
——————————————— رھے نام اللہ کا ————-


–پکچر مرسلہ پیرزادہ محمد شعیب شاہ،
پیل پیراں ، ضلع خوشاب-بشکریہ- پروفیسرمنورعلی ملک-13 فروری 2018-

میرامیانوالی —————————–

ھمارے گھر میں برتھ ڈے منانے کا رواج نہیں تھا – یہ رواج آج سے تقریبا بیس سال پہلے میرے بیٹے محمد اکرم علی ملک نے برپا کیا- اچھی رسم تھی اس لیے یہ ھمارے گھر کا مستقل رواج بن گئی – اب گھر کے ھر فرد کا برتھ ڈے منایا جاتا ھے-
آج کے دورمیں جب لوگوں کو مل بیٹھنے کا موقع بہت کم ملتا ھے۔ برتھ ڈے کی صورت میں مل بیٹھنے اور آپس میں محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت موقع مل جاتا ھے- یادیں تازہ ھوتی ھیں اور دکھ سکھ بانٹ کر تعاون کی راھیں تلاش کی جاتی ھیں –

(میرے برتھ ڈے پہ میرے جگر حاجی اکرام اللہ نیازی کا اھتمام)

تین سال پہلے میں نے ایک پوسٹ میں دوستوں سے گذارش کی تھی کہ اگرآپ کے والدین اللہ کے فضل سے زندہ ھیں تو ان کا برتھ ڈے منا کر ان کی دعائیں ضرور لیا کریں – برتھ ڈے کی تقریب ان کے لیے ایک نہایت خوشگوار سرپرائیز (surprise) ھوگی- اور اس کے لیے ان کی ڈھیروں دعائیں آپ کو میسر ھوجائیں گی –

میں نے اس پوسٹ میں کہا تھا —– ” کرنا کیا ھوتا ھے، بس ایک چھوٹا سا کیک یا تھوڑی سی مٹھائی لے آئیں ، انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا دیں ، کپڑوں کا ایک جوڑا، یا ان کی ضرورت کی کوئی اور چیز (تسبیح ، جائے نماز) انہیں گفٹ کر دیں – اس اھتمام کے صلے میں آپ کو جودعائیں ملیں گی ، وہ آپ کا مقدر سنوار سکتی ھیں – اس لیے اپنے والدین کو یہ چھوٹا سا سرپرائیز ضرور دیتے رھا کریں “-
یا د رکھیے ، والدین وہ مہمان ھیں جو ایک بار جا کر پھر کبھی واپس نہیں آتے-
اللہ سب کو اس نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے-
———————— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-14 فروری 2018-

میرامیانوالی ——————————-

بچپن کی ابتدائی یادوں میں سے سب سے پہلی یاد دریاخان (ضلع بھکر) کی ھے- والد صاحب وھاں انسپکٹر آف سکولز تھے- میری عمر اس وقت دوتین سال تھی- اس دور کی دھندلی سی یادوں میں ایک چھوٹا سا صاف ستھرا گھر مجھے یاد آتا ھے، جس میں ھم رھتے تھے- اس گھر کے صحن میں بیری کا ایک بہت بڑا درخت تھا –

والد صاحب سے ملنے کے لیے ایک بزرگ سید صاحب ھمارے ھاں اکثر آیا کرتے تھے- بہت نیک اور مخلص بزرگ تھے- انہوں نے بیری کے درخت سے دو رسیاں لٹکا کر مجھے پینگ (جھولا) بنا دی تھی۔ سکول میں داخلے کی تو ابھی عمر نہیں تھی- اس لیے میں سارا دن پینگ پر جھولا جھولتا رھتا تھا- بزرگ شاہ صاحب ھمارے لیے بہت مزیدار چٹنی بھی بنا کر لایا کرتے تھے- اس کام کے وہ ماھرخصوصی تھے- اس سے زیادہ مجھے دریا خان کے سرپیر کا کچھ پتہ نہیں –

دریا خان سے والد صاحب کالاباغ ٹرانسفر ھو گئے تو ھم وھاں منتقل ھوگئے- کالاباغ کے پرانے لاری اڈا پر سڑک کے بائیں جانب ھمارا گھر تھا- اس سے ملحق کالاباغ ھائی سکول کے ھیڈماسٹر مرحوم شیخ عبدالکریم کا گھر تھا- شیخ عبدالکریم صاحب ، والد صاحب کے بہت قریبی دوست تھے- ان سے اگلا گھر نمک کی کانوں کے افسر کا تھا- لون (نمک) کے حوالے سے انہیں سرائیکی میں لونی صاحب کہتے تھے- دلچسپ بات یہ ھے کہ انگلش میں لونی loony پاگل کو کہتے ھیں –
ھمارے گھر کے پیچھے سڑک کے بار والد صاحب کا دفترتھا- موچھ کے مرحوم ڈاکٹر عطاءاللہ خان کے والد محمد خان نیازی والد صاحب کے معاون تھے- کوٹ چاندنہ کے ماسٹر دوست محمد، مندہ خیل کے ماسٹر اگرخان اور کالاباغ کے ماسٹر عبدالرحیم شاہ اکثر والد صاحب سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے- بہت مخلص لوگ تھے سب کے سب –
گذرگیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ—– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-پروفیسرمنورعلی ملک-15 فروری 2018

میرامیانوالی ————————–

کالاباغ سے والد صاحب کا ٹرانسفر تلہ گنگ ھؤا تو ھم لوگ داؤدخیل میں اپنے گھر منتقل ھو گئے- میری عمر اس وقت تقریبا چار سال تھی – داداجی نے گھر پہ میری تعلیم کی بسم اللہ کردی- کچی پہلی جماعت (Prep سمجھ لیں) کی اردو کی کتاب (قاعدہ کہتے تھے اس کو) دادا جان نے مجھے پڑھائی – الف آم ، ب بلی ، پ پنکھا وغیرہ ،– اس کتاب کے یہ حروف الف سے ے تک آج بھی مجھے یاد ھیں –

جب ان حروف کی پہچان ھو گئی تو لکھنا شروع کیا- لکڑی کی تختی پر سرکنڈے (کانے ) کے قلم سے لکھنے کا آغاز ھوتا تھا- ( تختی آپ نے نہیں دیکھی تو اس پوسٹ کے آخر میں تختی کی پکچر دیکھ لیں ) تختی پر لکھنے کی مشق چوتھی کلاس تک چلتی رھتی تھی – دادا جان تختی پر پنسل سے چند حرف لکھ دیتے ، اور میں پہلے ان حروف پر قلم سے لکھ کر وھی حروف تختی پر بار بار لکھنے کے بعد دادا جی کو دکھا دیا کرتا تھا – باقی حرو ف تو میں درست لکھ لیتا تھا ، ”ع” پہ آکر معاملہ گڑبڑ ھو گیا – میں ”ع” کو الٹا لکھنے لگا – دادا جی کو دکھایا تو انہوں نے کہا غلط لکھا ھے ، یوں نہیں یوں لکھ کر دکھاؤ- میں نے دوسری بار بھی پوری تختی پر ”ع” الٹا لکھ کر دکھا دیا –

وہ تھپڑ مجھے آج بھی یاد ھے، جو دادا جی کے مبارک ھاتھ سے میرے بائیں رخسار پہ لگا تھا – بس اس تھپڑ نے میری قسمت سنوار دی ، میں نے لکھنے پر اتنی محنت کی کہ جب سکول میں داخلہ لیا تو لکھائی میں ھمیشہ پہلے دوسرے نمبر پہ رھا-

خوش قسمتئ سے کچی پہلی کلاس کے ٹیچر ماسٹر میوہ رام تھے- ماسٹرمیوہ رام زبردست خوشنویس تھے- ان کے ھاتھ کی لکھائی اخبار کی شہ سرخیوں کی طرح خوبصورت تھی- وہ دادا جی کے سٹوڈنٹ بھی رہ چکے تھے، اس لیے مجھ پر خصوصی توجہ دیتے تھے- انہوں نے بہت جلد مجھے بہت کچھ سکھا دیا-

بشکریہ-منورعلی ملک-16  فروری 2018-

میرامیانوالی ————————-

میٹرک کا امتحان دے کر انسان ریزلٹ تک چند ماہ فارغ رھتا ھے- میں نے اس فارغ وقت میں سے روزانہ کچھ وقت خوشخطی کی مشق کے لیے وقف کردیا- دوپہر تک رج کے آوارہ گردی کرتا ، اور دوپہر کے بعد کاغذ کے ایک دستے پر سرکنڈے (کانے) کے بنے ھوئے قلم سے خوشخطی کی مشق کرتا – طریقہء کار یہ تھا کہ روزانہ اخبارکی شہ سرخی (headline) سامنے رکھ کر اسے بار بار لکھتا رھتا –

گھرمیں اخبار نوائے وقت آتا تھا- اس زمانے میں اخبار کمپوز نیہں ھوتا تھا ، کہ کمپیوٹر ابھی دنیا میں وارد نہیں ھؤاتھا- اخبارات اور کتابیں ماھرفن خوش نویسوں سے لکھوا کر پرنٹ کی جاتی تھیں – ھراخبارمیں کئی خوشنویس اس کام پر مامورھوتے تھے- ان دنوں اخبارنوائے وقت کی شہ سرخیاں نامور خوشنویس سید انورحسین نفیس رقم لکھا کرتے تھے- اتنی خوبصورت تحریر ھوتی تھی کہ انسان دیکھتا رہ جاتا تھا- میں روزانہ کاغذ پر ان کے اندازتحریر کی نقل کیا کرتا تھا- ھرروز کی شہ سرخی کو دیکھ کر اسے باربار لکھتا رھتا تھا- بحمداللہ اس طرح اردو، عربی ، دونوں انداز میں لکھنا سیکھ لیا-
ایک دفعہ یوں بھی ھؤا کہ محلے کی مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ھوئے میں نے دیکھا کہ 20 ویں پارے (سپارے) کا پہلا ورق پھٹا ھؤا تھا- میں نے اسی سائیز کے کاغذ پر وہ ورق دونوں طرف سے اسی انداز میں لکھ کر لگا دیا-
ایک حسرت دل میں ھے، کہ پورا قرآن حکیم ایک بار اپنے ھاتھ سے لکھنے کی سعادت نصیب ھو جائے- اللہ کرے اس خواھش کی تکمیل کی توفیق عطا ھو جائے-
خوشنویسی کی مشق کا ایک ثمر اس پوسٹ میں شامل ھے- یہ میری کل (16 فروری 2018) کی تحریر ھے – یہ تحریر میں نے عام پوائنٹر Pointer سے لکھی ھے، قلم پاس ھوتا تو اس سے بہتر بھی لکھا جا سکتا تھا — اس پر آرائش میری برتھ ڈے منیجر علیزہ امجد نے کی ھے-
رھے نام اللہ کا ——–بشکریہ-منورعلی ملک-17 فروری 2018-

آج دیکھیے میری پسند کے کچھ شعر ————–

فیض احمد فیض —————————-
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

احمد ندیم قاسمی —————————
میں کھل کے رو نہ سکا جب تو یہ غزل کہہ لی
بچھڑ کے مجھ سے مگر تو نے کیا کیا ھوگا ؟

شکیب جلالی ——————————-
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ھوں ؟
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ، مجھے ڈوبتا بھی دیکھ

ابن انشاء———————————-
اھل وفا سے ترک تعلق کر لو پر اک بات کہیں
کل تم ان کو یاد کرو گے، کل تم انہیں پکاروگے

محسن نقوی ——————————
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ھوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

—— رھے نام اللہ کا

اپنا ایک شعر ———-
جب اس شہر میں آنا جانا چھوڑ دیا
لوگوں نے ھم کو سمجھانا چھوڑ دیا

1 thought on “MERA MIANWALI FEB 2018”

Your words for Mianwali and Mianwalians