MERA MIANWALI-FEBRUARY-2022

منورعلی ملک کےفروری2022 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی–

نفیس مزاج ، خوش ذوق ، خوش لباس ، خوش اخلاق پروفیسر ملک سلطان محمود اعوان گورنمنٹ کالج میانوالی میں ہیڈ آف انگلش ڈیپارٹمنٹ تھے – پشاور یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کے لیکچرر مقرر ہوئے ، ملازمت کا تمام عرصہ اسی کالج میں گذارا – بہت محترم اور شفیق شخصیت تھے – پنجاب یونیورسٹی کی سینیٹ کے ممبر بھی رہے – یونیورسٹی سے اس تعلق کی بنا پر گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے انگلش کی کلاسز کے اجراء میں پروفیسر سلطان محمود اعوان نے بہت اہم کردار ادا کیا –
پروفیسر صاحبان کی نظریاتی تنظیم ، تنظیمِ اساتذہ کے سینیئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے – بہت ملنسار ، مہمان نواز اور دوست نواز انسان تھے – جواں سال بیٹے طارق کی ناگہاں وفات کے بعد ان کی صحت سنبھل نہ سکی زندگی کے آخری پندرہ بیس سال بہت مشکل سے بسر کیئے –
ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسر سلطان محمود اعوان الصفہ کالج میانوالی کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے – اسی زمانے میں میرے بیٹے امجدعلی ملک نے ایم اے انگلش کرلیا تو مجھ سے کہا سرسلطان محمود صاحب سے کہیں مجھے اپنے کالج میں لیکچرر رکھ لیں –
میں ملک صاحب سے اُن کے گھر پہ ملا اور امجد کے بارے میں بات کرنے لگا تو ملک صاحب نے ہنس کر کہا “ ملک صاحب ، آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں نے امجد کے تقرر کے آرڈرجاری کر دیئے ہیں – اسے کہیں کل آجائے – اور آپ کے لیئے ایک اور آفر بھی ہے – آپ کی سروس کے دو سال باقی ہیں ، آپ سرکاری ملازمت سے چُھٹی لے کر میرے کالج میں آجائیں – گورنمنٹ سے تنخواہ بھی آپ کو ملتی رہے گی اور اُتنی ہی تنخواہ ہم بھی آپ کو دیتے رہیں گے “-
میں نے کہا “ سر، بڑی نوازش ہے آپ کی ، مگر میں چالیس سال ملازمت کر کے تھک گیا ہوں – اب مزید ملازمت نہیں کر سکتا “-
گورنمنٹ کالج میانوالی میں سروس کے دوران پروفیسر سلطان محمود اعوان صاحب پروفیسرز کی جس نطریاتی تنظیم کے سربراہ تھے ، اس کی مخالف تنظیم کے سربراہ ملک محمد انور میکن تھے – بیس پچیس سال شدید نظریاتی مخالفت چلتی رہی – ریٹائرمنٹ کے بعد جب پروفیسر سلطان محمود اعوان الصفہ کالج کے پرنسپل بنے تو ایک دن ملک انور صاحب ان سے ملنے کے لیئے الصفہ کالج جا پہنچے – بیس پچیس سال کے اختلافات چند منٹ میں انسُو بن کر مٹی میں مل گئے – دونوں بزرگ گلے مل کر دیر تک روتے رہے –——- رہے نام اللہ کا –— منورعلی ملک ——1 فروری   2022 

میرا میانوالی–

2 فروری   2022 

میرا میانوالی ———————–

وہ جو راستے میں بچھڑ گئے
شعبہء اردو کے سربراہ پروفیسر اقبال حسین کاظمی سروس کے دوران ہی سرحدِحیات کے اُس پار عدم آباد جا بسے – میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی کے کلاس فیلو اور بہت قریبی دوست تھے – اس حوالے سے مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھ کر مجھ پر خصوصی شفقت فرماتے تھے – سٹاف اور سٹوڈنٹس کی محبوب شخصیت تھے۔
پروفیسر کاظمی صاحب کالج کے کنٹرولر امتحانات اور کالج میگزین “سہیل“ کے چیف ایڈیٹر بھی تھے – امتحانات میں نگرانی کے فرائض سرانجام دینا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا- بند کمرے میں تین گھنٹے چُپ چاپ بیٹھ کر مکھیاں مارنا خاصا غیرشریفانہ کام لگتا تھا – اُس زمانے میں فارغ وقت گذارنے کے لیئےموبائیل فون بھی نہیں ہوتا تھا – آج کل تو موبائیل فون سے کھیلتے ہوئے تین گھنٹے گذارنا مشکل نہیں – میں نے کاظمی صاحب سے صاف کہہ دیا کہ سر یہ نگرانی کاکام مجھ سے نہیں ہوتا – کاظمی صاحب نے مجھے امتحانات کا انسپکٹر بناکر یہ مشکل حل کردی – تین گھنٹے میں ایک آدھ بار امتحان کے لیئے مختص کمروں کا چکر لگا کر باقی وقت اپنی مرضی سے چلتے پھرتے مختلف ٹی کلبز سے چائے پیتے دوستوں سے بات چیت کرتے مزے سے گذر جاتا تھا –
پروفیسر کاظمی صاحب نے مجھے کالج میگزین کے حصہ اردو کا نگران ایڈیٹر مقرر کیا تو میں نے کہا “ سر ، یہ کام تو اُردو کے کسی پروفیسر کو کرنا چاہیئے – میرا نام تو میگزین کے انگلش سیکشن میں نگران ایڈیٹر کے طورپر لکھا ہوا ہے –
کاظمی صاحب نے ہنس کر کہا “ یار ، نخرے نہ کرو ، میں نے سوچ سمجھ کر تمہیں یہ منصب دیا ہے – میں جانتا ہوں تم اُردو بھی ہم سے اچھی لکھ لیتے ہو“-
کالج کی تقریبات کی کمپیئرنگ (سٹیج سیکریٹری کاکام) بھی مجھ سے کراتے تھے –
بالکل اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے – کچھ ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کے ساتھ کلر کہار جانے کا پروگرام تھا – سفر کے لیئے بس کرائے پر لی گئی – صبح نودس بجے ریلوے سٹیشن کے سامنے سب لوگوں نے بس میں سوار ہوناتھا ، لیکن فجر کے وقت مساجد سے اعلان ہونے لگا کہ پروفیسر اقبال حسین کاظمی رضائے الہی سے انتقال کر گئے —
جس وقت ریلوے سٹیشن سے کلر کہار روانہ ہونا تھا ، ٹھیک اسی وقت سٹیشن کے دُوسری طرف کاظمی صاحب کی نمازِجنازہ ادا کی گئی – ہزاروں لوگوں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اُنہیں رُخصت کیا –
وفات سے ایک دن پہلے کاظمی صاحب نے مجھ سے ایک فرمائش کی ، جسے میں نے ٹالنا چاہا ، مگر کاظمی صاحب کے اصرار پر اُس فرمائش کی تعمیل کر دی – کاظمی صاحب کالج سے واپس جانے سے پہلے کالج کے آفس میں آئے ، مجھے وہاں بیٹھا دیکھ کر کہنے لگے “ منوربھائی ، میرا ایک چھوٹا ساکام کردو – اے جی پنجاب کے نام شکریئے کا لیٹر لکھنا ہے – میں نے کہا شکریہ کس بات کا ؟ کاظمی صاحب نے کہا “ یار وہ میری سروس بُک اُدھر گئی ہوئی تھی چیکنگ کے لیئے – وہ صرف تین دن بعد آج ہی واپس آ گئی ہے – اے جی صاحب کی اس مہربانی کا شُکریہ تو بنتا ہے -“
میں نے کہا “ سر ، چھوڑیں ، ایسی رسمی کارروائیوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے -“
کاظمی صاحب نے کہا “ منوربھائی میرا اصول ہے کہ کوئی ذرا سا بھی احسان کرے تو اُس کا شکریہ ضرور ادا کرتا ہو ں“-
میں نے کاظمی صاحب کی فرمائش کی تعمیل کردی – بہت خوش ہوئے – یہ ہماری آخری ملاقات تھی –
شکر ہے میں نے اُن کی آخری فرمائش پوری کر دی ، ورنہ زندگی بھر ضمیر ملامت کرتا رہتا –———————- رہے نام اللہ کا —————————— منورعلی ملک ——3 فروری   2022 

میرا میانوالی–

وہ جو راستے میں بچھڑ گئے

کِس کِس کے بچھڑجانے کا ماتم کروں ، بہت لمبی قطار ہے اُن دوستوں کی جو گورنمنٹ کالج میانوالی میں سروس کے دوران میرے ہمسفر تھے – کُچھ اسی سفر کے دوران یہ دُنیا چھوڑ کر مُلکِ عدم جا بسے ، کُچھ ریٹائرمنٹ کے بعد اس دُنیا میں کُچھ دیر رہ کر رُخصت ہوگئے –
شعبہ ء اردو کے پروفیسر لالا رب نواز خان نیازی ، پروفیسر محمد فیروز شاہ ، پروفیسر احمد خان نیازی ،
شعبہ ء فارسی کے پروفیسر حافظ محمد عبدالخالق اور پروفیسر میاں محمد اشرف علی (میاں صاحب بعد میں پرنسپل بھی رہے)
فلسفہ کے پروفیسر نذیر احمد خان
معاشیات کے پروفیسر عبدالخالق ندیم
سیاسیات کے پروفیسر محمد اسلم خان
اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام حیدر اور پروفیسر منصورالرحمان
تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم گھنجیرہ اور پروفیسر محمد اقبال قاسمی
جغرافیہ کے پروفیسر ملک اسلم
ریاضی کے پروفیسر شیر گُل خان
باٹنی کے پروفیسر مقصود احمد اور ژوالوجی کے پروفیسر پیر محمد اقبال شاہ
انگلش کے پروفیسر غلام حسین اعوان
فزیکل ایجوکیشن کے پروفیسر محمد یعقوب خان نیازی
میرے جگر محمد اسلم خان غلبلی لائبریرین
ہر نام کے پیچھے ایک ہنستا مُسکراتا چہرہ ، ہر نام سے وابستہ بہت سی حسین یادیں ، دلچسپ واقعات ، خلوص، محبت اور احترام کے رشتے ، تعاون اور ہمدردی کی عمدہ مثالیں ——
دِل دُکھتا ہے یادوں کی راکھ کُریدتے ہوئے , ان شخصیات کا الگ الگ تفصیلی تعارف لکھتے ہوئے – گذشتہ چند برس میں لکھ بھی چُکا ہوں ،اب ہمت نہیں ہوتی اُن داستانوں کو دُہرانے کی – صرف ان پیارے ساتھیوں کے لیئے مٍغفرت کی دعا کی درخواست کرتا رہوں گا ٠———————– رہے نام اللہ کا ———————–—— منورعلی ملک ——،5 فروری   2022 

میرا میانوالی–

کبڈی کا موسم شروع ہوگیا ، مگر اب نہ وہ پہلے جیسے کھلاڑی ہیں نہ میدان – داؤدخٰیل میں جرنیلی سڑک کے مشرقی کنارے پر محلہ امیرے خیل میں کبڈی کا میدان ہوا کرتا تھا – اب وہاں محلہ خدرخیل المروف اسلام پورہ آباد ہے – ہر اتوار کو میچ ہوتا تھا ، کبھی پائی خیل کی ٹیم سے مقابلہ ، کبھی موچھ کی ٹیم کے ساتھ – سارا شہر میچ دیکھنے کے لیئے جمع ہوتا تھا – چاچا حبیب اللہ خان امیرے خٰیل میچ کے امپائر کے فرائض سرانجام دیتے تھے – امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا –

مظفر خان ولد شیر خان لمے خیل المعروف مظفری شیرے آلا داؤدخیل کی کبڈی ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے – عبداللہ خان ولدِنورباز خان ربزئی ، امیر خان بہرام خٰیل ، مظفر آرائیں المعروف مظفری ملیار ، غلام سرور خان شریف خیل ، اور مظفر خان ولد شیر خان کے کزن جہانگیر خان ولد علاؤل خان لمے خیل داؤدٰخیل کے نمایاں کھلاڑی تھے –
1955 میں پنڈی ڈویژن کے سکولوں کے سالانہ کبڈی مقابلوں میں داؤدخٰیل کی ٹیم پورے ڈویژن میں پہلی پوزیشن لے کر بہت بڑا بھاری بھرکم چمکتا دمکتا کپ جیت لائی تھی – اس زمانے میں ضلع میانوالی پنڈی ڈویژن میں شامل تھا – پنڈی ڈویژن راولپنڈی ، کیمبلپور (اٹک) ، جہلم ، گجرات ، سرگودہا اور میانوالی پر مشتمل تھا – چکوال، خوشاب اور بھکر بعد میں ضلع بنے –
ڈویژن میں اول آنے والی ٹیم کے کپتان مظفری شیرے آلا اور نائب کپتان عبداللہ خان ولد نورباز خان تھے – طاقت اور رفتار میں چیتے کی طرح ان کا کوئی ثانی نہ تھا – مظفری شیرے آلا میٹرک کے بعد الیکٹریشن کے طور پہ کچھ عرصہ مکڑوال میں رہے ، پھر واہ فیکٹری میں کام کرنے لگے – ہیروئن کی لعنت میں مبتلا ہوکر زندگی کا چراغ
گُل کر لیا – عبداللہ خان ولد نورباز خان ذیابیطس (شُوگر) کے مرض میں مبتلا ہوکر پہلے نظر سے محروم ہوئے پھر آج سے ایک دوسال پہلے زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا – جہانگیر خان ولد علاول خان سے حبیب الیکٹرک سٹور پر اچانک ملاقات آج سے دوتین سال پہلے ہوئی تھی – میں نے تو پہچانا ہی نہیں – لمبی سفید داڑھی ، لمبا چولا، گلے میں تسبیح ، ملنگوں والاحُلیہ ، بہت پیار سے ملے – پچھلے دنوں سُنا ہے وہ بھی اِس دنیا کو خیرباد کہہ کر زیرِزمین جاسوئے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ————————– رہے نام اللہ کا ————————-6 فروری   2022 

میرا میانوالی–

بے کس پہ کرم کیجیئے سرکارِ مدینہ

اس دِلگداز نعت کے موسیقار نوشادعلی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ، یہ نعت ہم نے بڑی مشکل سے ریکارڈ کی ، کیونکہ نعت ریکارڈ کراتے ہوئے لتاجی (لتا منگیشکر ) بار بار رو پڑتی تھیں ، اتنا روئیں کہ اُن کے کُرتے کا دامن بھیگ گیا – کئی بار ر یکارڈنگ روکنا پڑی –
کروڑوں دِلوں کی ہمراز, بنسری جیسی دردانگیز سُریلی آواز کل صبح سوا آٹھ بجے ہمیشہ کے لیئے خاموش ہوگئی –
یہ نعت یو ٹیوب پر موجود ہے ، ابھی سُن لیں ، یقینا آپ بھی آنسُو نہیں روک سکیں گے –
لتا منگیشکر نے ہزاروں گیت گائے ، ہر گیت لاجواب – دِلوں کو چُھوتی ہوئی آواز ، شائستہ لب و لہجہ ، لتا کی گلوکاری کی نمایاں خصوصیات تھیں –
بہارو ، مرا جیون بھی سنوارو ،
کوئی آئے کہیں سے یوُں پُکارو
اور
یُونہی کوئی مل گیا تھا ، سرِراہ چلتے چلتے
ایسے سینکڑوں گیت لتا کی یادوں کو زندہ رکھیں گے ————-
لتا جی کا ایک گیت لالا عیسی خیلوی بھی اکثر گایا کرتے تھے۔ گیت کے ابتدائی بول تھے۔۔۔
وہ دل کہاں سے لاوں تری یاد جو بھلا دے ،
لتا جی نے 92 سال کی عمر تنہا گُذار دی – ان کے لیئے مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیرمسلم تھیں ۔بہر حال ان کا معاملہ اب اللہ کے پاس ھے وہ جو فیصلہ چاہے کرسکتا ھے۔
اپنا ایک شعر یاد آرہا ہے —
عجیب رنگ میں گُذری ہے زندگی اپنی
دِلوں پہ راج کِیا ، پھر بھی پیار کو ترسے
——————– رہے نام اللہ کا ———————-—— منورعلی ملک ——7 فروری   2022 

میرا میانوالی–

کُونج بڑے قدوقامت کا بہت خُوبصورت پرندہ ہے جو مُرغابیوں کی طرح موسمِ سرما کے آغاز میں رُوس کے برفانی علاقے سے ہمارے علاقے کے دریاؤں اور جھیلوں کے کنار ے اُترتا ہے – کُونج پانی کا پرندہ نہیں – یہ دریاؤں ، ندی نالوں اور جھیلوں کے کنارے گھاس میں رہتا ہے – گھاس ہی اس کی خوراک ہے –
کُونج قدرت کے حُسنِ تخلیق کا ایک حسین شاہکارہے – اسی لیئے دیہاتی علاقے میں لمبے قد کی حسین عورت کو بھی کُونج کہا جاتا تھا –
ہماری نانیاں دادیاں بتاتی تھیں کہ ہمارے علاقے کے بعض لوگ “ساھے “ کی مدد سے کُونج کا شکار کیا کرتے تھے – “ساھیا“ مُٹھی جتنا سِکے یا لوہے کا گولہ ہوتا تھا ، جو تین چارفٹ لمبی مُنج کی باریک رسی سے بندھا ہوتا تھا – کُونجوں کی ڈار کو آتے دیکھ کر شکاری پُوری قوت سے ساھیا ڈار کی طرف پھینکتا اور جو کُونج اس کی زد میں آتی رسی میں اُلجھ کر زمین پر آگِرتی تھی – خاصا مُشکل کام تھا ، کیونکہ کُونج سو ڈیڑھ سو فُٹ بلندی پر پرواز کرتی ہے – اتنی بلندی تک تقریبا آدھ کلو وزنی گولہ کوئی بہت طاقتور انسان ہی پھینک سکتا ہے – اندازہ کیجیئے کہ ہمارے آپ کے آبا و اجداد کتنے طاقتور لوگ تھے – !!!!
کُونجیں شانہ بشانہ قطاروں میں اُڑتی ہیں – عام طور پر ایک ڈار میں بیس پچیس کُونجیں ہوتی ہیں –
کُونج اکیلی نہیں رہ سکتی – کُونج پالنے کے شوقین کم از کم ایک جوڑا پالتے ہیں –
مندہ خیل میں ہمارے گھر کے قریب احمد خان المعروف احمد بگلہ دکان دار کے گھر میں کُونج کا جوڑا ہوا کرتا تھا – بچوں کی اس سے جان جاتی تھی , کیونکہ بچوں کو دیکھتے ہی دونوں کُونجیں پر پھیلا کر سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے ، بچوں پر حملہ کردیتی تھیں – چاقُو جتنی لمبی اور تیز چونچ چاقُو کی طرح جہاں لگتی اچھا خاصا گہرا زخم لگا دیتی تھی – بچوں سے کُونج کی دشمنی اس لیئے تھی کہ بچے اکثر انہیں چھیڑتے تھے –
کُونج اپنے ساتھی سے بچھڑ جائے تو بہت دردناک آواز میں فریاد کرتی ہے – اس درد بھری آواز کو کُرلاہٹ ، ہماری زبان میں کُرلاٹ کہتے ہیں – یہ آواز ہجر کا دردناک اظہار ہے – کسی کی موت پر خواتین کی آہ وازاری کو اسی لیئے کُرلاٹ کہتے ہیں –
لوک شاعری میں بھی کونج کا ذکر اکثر ہجر کے اظہار کے لیئے کیا جاتا تھا۔ مرحوم یونس خان نے بھی ایک ڈوھڑے میں کہاتھا ” میں کونج وانگوں کرلاندا”
ایک فلمی گیت بھی تھا ” کونج وچھڑ گئی ڈاروں تے لھبدی سجنڑاں نوں”۔—————– رہے نام اللہ کا ——————-—— منورعلی ملک ——8 فروری   2022 

میرا میانوالی–

یادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم 1982
فوٹو گرافی۔۔۔ مرحوم ناصر خان

9 فروری   2022 

میرا میانوالی–

مرحوم فاروق روکھڑی نے ایک گیت میں کہا تھا ————-
ایہو جیہا رنگ بھر ، بولے تصویر وے
تصویر بنانے والے نے بغیر رنگ بھرے فاروق صاحب کی جیتی جاگتی تصویر بنا کر اپنے سٹوڈیو میں لگا دی – اب نہ فارق روکھڑی اس دنیا میں موجود ہیں نہ مصور ، لیکن وہ تصویر جس نے بھی دیکھی ہو بُھلا نہیں سکتا –
ایسی ہی جیتی جاگتی بولتی بلیک اینڈ وائیٹ تصویریں میری بھی ہیں ، سید نصیر شاہ اور چند دُوسرے اہلِ علم و فن کی بھی –
ذکر ہے محبوب و مقبول شخصیت ناصرخان فوٹو گرافر کا – ناصر خان بہت نفیس مزاج ، خوش ذوق ، خوش گفتار شخصیت تھے – خود اپنے فن میں صاحبِ کمال تھے ، اور ہر دُوسرے فن کے صاحب کمال لوگوں کے سچے عاشق تھے، اس لیئےشاعر ، گلوکار ، مصور اکثر ناصر خان کے ہاں آتے جاتے رہتے تھے – پروفیسر گُلزار بخاری تو چند منٹ کے لیئے بھی میانوالی آتے ، ناصر کے سٹوڈیو پر ضرور حاضری دیتے تھے –
ایک دفعہ پروفیسر سلیم احسن اور میں کالج جاتے ہوئے ناصر کے سٹوڈیو میں گئے – سلیم صاحب نے پاسپورٹ سائیز تصویر بنوانی تھی – مجھے سیلم صاحب کے ساتھ دیکھ کر ناصر نے ہنس کر کہا “ سر ، آج تو آپ پکڑے گئے ، کب سے کہہ رہا ہوں آپ کی پکچر بنانی ہے ، مگر آپ ہاتھ ہی نہیں آتے – آج تو آپ پکچر بنوائے بغیر یہاں سے نہیں جاسکتے “-
میں نے کہا “ یار ، سلیم صاحب تو پکچر بنوانے کے لیئے تیار ہوکر آئے ہیں ، مگر میں نے تو میک اپ بھی نہیں کیا “ –
ناصر نے کہا “ سر ، میک اپ کی کیا ضرورت ، آپ جس حال میں بھی ہوں لوگ آپ سے پیار کرتے ہیں – وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا ، نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی – آپ ادھر بیٹھ جائیں ، مجھے اپنا کام کرنے دیں “ –
تصویر بن گئی – واقعی وہ ایک یادگار تصویر تھی – کیا کمال تھا اُس شخص کے ہاتھ میں – اس کی بنائی ہوئی پکچرز میں صرف چہرہ ہی نہیں شخصیت بھی مجسم ہو جاتی تھی –
ایک دفعہ کہنے لگے ، سر اپنے گھر کے باغ میں آپ کی کُچھ پکچرز بنانی ہیں – میں اُن کے چھوٹے بھائی شوکت اللہ خان کے ساتھ ناصر کے ہاں گیا – بہت خوبصورت باغیچہ تھا – وہاں ناصر نے میری بہت سی پکچرز بنائیں – یہ ہماری آخری ملاقات تھی –
ناصر نے جب کچہری روڈ پر سٹی کلر لیب کے نام سے سٹوڈیو بنایا تو فون پر مجھ سے کہا “ سر ، میں سٹی کلر لیب کا افتتاح لالا عیسی خیلوی سے کروانا چاہتا ہوں – آپ اُن کو بُلوا دیں – “
لالا اس وقت لاہور میں تھے – میں نے فون پر بات کی تو لالا نے کہا ٹھیک ہے – کل میں نے عصمت گُل خٹک کی دعوت پر میانوالی پریس کلب آنا ہے – پریس کلب سے فارغ ہو کر ناصر خان کے لیب کا افتتاح بھی کردیں گے –
سٹی کلر لیب کا افتتاح بھی ایک یادگار تقریب تھا – ایسی اور بھی بہت سی خوبصورت یادوں کی امانتیں ہمارے سپرد کر کے ناصر ایک دن اچانک دنیا سے رخصت ہوگیا – اللہ کریم اُسے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے – ناقابلِ فراموش شخصیت تھا –
———————- رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک ——10 فروری   2022 

میرا میانوالی–

11 فروری   2022 

میرا میانوالی–

اپنی سالگرہ
میں تھک کے بیٹھ گیا اور وقت جیت گیا،
سفر طویل ھے اک اور سال بیت گی

11 فروری   2022 

میرا میانوالی–

الحمد للہ الکریم
زندگی کے سفر کا 83 واں سال آج سے شروع ہوا – ہمارے خاندان میں ہمارے باباجی کے بعد اتنا طویل سفر میرے حصے میں آیا – ہم پانچ بہن بھائی تھے ، دو مجھ سے بڑے ، دو مجھ سے چھوٹے – بڑے چھوٹے چاروں ایک ایک کرکے رُخصت ہوگئے ، میں فی الحال اِدھر ہوں – اللہ جانے کب تک رہنا ہے ، کوئی حکمت ہوگی اللہ کریم کی مجھے یہاں رکھنے میں – کوشش یہ ہے کہ جتنے دن اِدھر رہنا ہے خلقِ خُدا کی حسبِ توفیق خدمت کرتا رہوں – اپنے عِلم ، قلم ، جان و مال سے لوگوں کو مستفید کرتا رہوں – آپ کی محفل میں روزانہ حاضری کا بھی یہی مقصد ہے – اپنی تحریروں سے لوگوں کو کبھی ہنسا کر ، کبھی رُلا کر اُن کے دِلوں کا بوجھ ہلکا کرتا ہوں – ان کی معلومات میں اضافہ کرکے بہتر زندگی گذارنے کی ترغیب دیتا ہوں – اس خدمت کے صِلے میں آپ کی دعائیں سمیٹتا ہوں – یہی دعائیں میرا سرمایہء آخرت ہیں –
الحمد للہ ہاتھ پاؤں ، ذہن ، نظر بالکل درست کام کر رہے ہیں – سماعت (سُننے ) کا کُچھ مسئلہ ہے – اس کے لیئے دوسال پہلے اسلام آباد سے Hearing device بنوائی تھی – اُس سے یہ مسئلہ کسی حد تک حل ہوگیا ، مگر انسان کی بنائی ہوئی چیز اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں فرق تو ہوتا ہے – پچھلے دنوں device میں کُچھ نقص پڑ گیا ، حال ہی میں لاہور سے اس کی مرمت کروائی ہے-
ابھی یہ پوسٹ لکھ رہا تھا تو واٹس ایپ کے مشہورو معروف “حروف “ گروپ سے ڈاکٹر ثقلین شاہ اور ان کے ساتھیوں نے دعاؤں سے نوازا – کل رات سے پیغامات کا تسلسل جاری ہے – اللہ کریم آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے – دعا کرتے رہیں – میں بھی فجر کے لمحات میں آپ سب کے لیئے روزانہ دعا کرتا ہوں –
اللہ کا یہ بھی خصوصی کرم ہے کہ دیکھنے میں میری عمر اتنی زیادہ نظر نہیں آتی – بے شمار احسانات ہیں اُس ربِ محسن کے – بے حساب عزت اور محبتیں ہمیشہ میرا زادِ راہ رہی ہیں – عزت ، صحت ، علم ، قلم بہت بڑی نعمتیں ہیں ، اللہ کریم کا جتنا بھی شُکر ادا کروں کم ہے –——————– رہے نام اللہ کا ——————–—— منورعلی ملک ——12 فروری   2022 

میرا میانوالی–

پرندےموسموں کے رازداں ہیں
موسم بدل رہا ہے – موسمِ سرما ختم ہوا – بہار کا آغاز ہوچُکا ہے – تبدیلی کے اس عمل کی واضح علامت پرندوں کی آمدورفت ہے – اس موسم میں مرغابیاں ، کُونجیں اور دُوسرے مسافر پرندے سردی کا موسم یہاں گُذارنے کے بعد رُوس کے علاقے سائیبیریا میں اپنے واطن کو واپس روانہ ہوتے ہیں –
ان غیر مُلکی پرندوں کے علاوہ ہمارے اپنے وطن کے کئی پرندے سردی کا موسم خُداجانے کہاں گُذار کر واپس آجاتے ہیں – سب سے پہلے بُلبُلیں ، لالڑیاں اور کالی چِڑیاں آتی ہیں – میانوالی شہر میں سینکڑوں کووں کے جھار صبح سویرے فجر کے وقت شہر کے جنوب مغرب سے شمال مشرق کی جانب اور شام چارپانچ بجے واپس جاتے دکھائی دیتے ہیں – یہ غالبا وتہ خیل کچہ کے مکین ہیں – فروری کے آغاز سے اپریل کے آخر تک ان کی روزانہ آمدو رفت جاری رہتی ہے – اس کے بعد 9 مہینے یہ خُدا جانے کہاں گُذارتے ہیں –
آج سے پچیس تیس سال پہلے پرندوں کی بڑی ورائیٹی ہوا کرتی تھی – اب تو صرف دوچار قسم کے پرندے دیکھنے میں آتے ہیں – سفید چِیلیں جنہیں ہم چِٹے ڈوڈر کہا کرتے تھے اُن کی تو شاید نسل ہی ختم ہوگئی – بہت عرصہ سے نہیں دیکھے – ممولے جنہیں ہم شیخ ممولہ یا شیخُو کہا کرتے تھے وہ بھی بہت کم نظر آتے ہیں – سرپہ طُرے جیسی لمبی ٹوپی اور لمبی چونچ والے چِڑی درکھان (ہُدہُد) ، ننھے مُنے پِدُو ، پِیلےرنگ کے سینے والے پِیل غُڑے بھی اب نظر نہیں آتے – چِڑیا سے کُچھ بڑا لاٹا بھی کہیں نہیں دیکھا – یہ بڑا بدمعاش پرندہ ہے – تقریبا ہر پرندے کی بولی بول لیتا ہے –
شوخ نیلے رنگ کا نِیل چاں بھی بہت کم دکھائی دیتا ہے – یہ بہت ظالم پرندہ ہے ، چھوٹے موٹے پرندوں سے لڑ جھگڑ کر اُن کا رزق چھین لیتا ہے – ہندُو پتہ نہیں کیوں اسے مقدس پرندہ کہتے تھے – اِس کی کوے جیسی کرخت آواز میں چاں چاں دُور تک سنائی دیتی ہے –
سُنا ہے بجلی کی چکاچوند روشنیوں سے گھبرا کر بہت سے پرندے ہمارے علاقے سے ہجرت کر کے دُوراُفتادہ دیہاتی علاقوں میں جابسے جہاں بجلی نہیں ہوتی – واللہ اعلم – ہمیں اپنے بچپن کے یہ دوست بہرحال بہت یاد آتے ہیں –
——————– رہے نام اللہ کا ——————–—— منورعلی ملک ——13 فروری   2022 

میرا میانوالی–

کُچھ عرصہ قبل کمر مشانی سے محمد ساجد خان نے واٹس ایپ پر اطلاع دی کہ انہوں نے وہاں کی مقامی ادبی تنظیم “ حلقہ ء ادب “ کے زیرِاہتمام لائبریری قائم کی ہے – اس اطلاع کے ساتھ اُنہوں نے لائبریری کا معائنہ کرنے کی دعوت بھی دی – شدید سردی اور صحت کے مسائل کی وجہ سے میں تاحال لائبریری کا معائنہ تو نہیں کر سکا ، تاہم لائبریری کے لیئے اپنی دستیاب کتابیں بھجوا رہا ہوں – موسم اور صحت کے حالات درست ہوئے تو ان شآءاللہ لائبریری کا معائنہ بھی کر لیں گے –
پارلی کندھی (ہم داؤدخیل کے لوگ دریا پار کے علاقے کو پارلی کندھی کہتے ہیں ) بہت مردم خیز علاقہ ہے – ہمارا تو یہ آبائی وطن بھی تھا – کالاباغ سے عیسی خیل تک کا یہ علاقہ قدرت کی بہت سی نعمتوں سے مالامال ہے – سچے , سادہ , ہر قسم کی منافقت سے پاک پارلی کندھی کے لوگ نہایت مخلص ، مہمان نواز اور دوست نواز ہیں – اس دُور اُفتادہ علاقے میں لائبریری کا قیام نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت کا لائقِ تحسین اہتمام ہے – فیس بُک کے تمام صاحبِ کتاب اہلِ قلم سے گذارش ہے کہ اپنی کتابیں اس لائبریری کو عطیہ کرکے اِس کارِ خیر میں حصہ لیں –
میانوالی سے پروفیسر رئیس احمد عرشی ، پروفیسر علی اعظم بخاری ، مظہر نیازی ، محمد ضیاء اللہ قریشی ، ڈاکٹر حنیف نیازی ، صابر بھریوں ، عاصم بخاری ، راحت امیر خان تری خیلوی ، سید محمد صادق شاہ ، نسیم بخاری ، عرشم خان نیازی سے خصوصی توجہ اور تعاون کی درخواست ہے – کتابیں بھیجنے کا پتہ یہ ہے –
محمد ساجد خان مہتمم حلقہ ء ادب لائبریری
معرفت ریسکیو 1122 کمر مشانی ، ضلع میانوالی ۔
ضلع میانوالی سے باہر کے اہلِ قلم فیس بُک فرینڈز سے بھی اس سلسلے میں تعاون کی گذارش ہے –
—————— رہے نام اللہ کا ———————— منورعلی ملک ——14 فروری   2022 

میرا میانوالی–

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تُجھ سا کہوں جِسے
جانے سے صرف ایک دن پہلے 14 فروری کی شام فون پر مجھے ڈانٹ رہے تھے – کیا خبر تھی کہ یہ ہماری آخری گفتگو ہے – اگلی صبح اطلاع ملی کہ وہ یہ دُنیا چھوڑ کر عدم آباد جا بسے – یقین ہی نہیں آتا تھا ، مگر تقدیر کو کون روک سکتا ہے- ممتاز بھائی اس دنیا سے جاچُکے تھے –
فیس بُک پر اکثر اُن کا ذکر کسی نہ کسی حوالے سے کرتا رہتا ہوں – وہ اس لیئے کہ ممتاز بھائی میرے محسن تھے – انہوں نے ہی مار پیٹ کر مجھے لکھنے پر مجبور کیا ، ورنہ میں تو ایسا آوارہ مزاج تھا کہ قلم کو ہاتھ ہی نہ لگاتا –
کہا کرتے تھے “ اوئے ، اردو ، انگریزی جتنی اچھی تم لکھ لیتے ہو اتنی مجھے آتی تو سارے پاکستان کو آگے لگا لیتا – مگر تم ایسے نکمے ہو کہ اتنا بڑا خزانہ سنبھال کر گھر میں چُھپے بیٹھے ہو – کوئی تمہیں جانتا ہی نہیں ، لکھنا شروع کردو تو عزت بھی ملے گی ، شہرت بھی “-
بھائی کے طعنوں سے تنگ آکر لکھنا شروع کیا تو مزا آگیا – پہلے کئی سال انگریزی اخبارات میں کالم لکھتا رہا – بہت واہ واہ ہوئی – پھر اُردو میں “ درد کا سفیر“ کے عنوان سے کتاب لکھی تو بیٹھے بٹھائے دُنیا بھر میں شہرت مل گئی – بارہ کتابیں انگلش میں پانچ اُردو میں لکھ دیں – اور بحمداللہ ابھی یہ تسلسل جاری ہے – فیس بُک پر 5000 فرینڈز اور آج اس وقت تک 9911 فالورز بھی میرے قلم کا عطیہ ہیں –
یقین کیجیے ممتاز بھائی مجھے اِس راہ پر نہ لگاتے تو میں قلم کو کبھی ہاتھ بھی نہ لگاتا –
ممتازحسین ملک میرے مامُوں زاد تھے – عُمر میں مُجھ سے دوسال بڑے تھے – بچپن اور جوانی کے ہمدم و ہمراز – پھر وہ ایم اے اُردو کر کے کینٹونمنٹ بورڈ پبلک سکول پنڈی کے پرنسپل بن گئے – میں ایم اے انگلش کر کے لیکچرر بن گیا – وہ پنڈی میں رہتے تھے ، میں میانوالی میں ، مگر ہمارا آپس میں پیار سدا بہار رہا – مجھ سے بہت پیار کرتے تھے – بہت مان تھا اُنہیں مجھ پر – میں اکثر کہتا ہوں کہ اُن کا مجھ سے پیار ماں جیسا تھا –
بھابھی (ممتاز بھائی کی اہلیہ) کو اللہ کریم جنت میں جگہ دے ایک دن کہنےلگیں ، میں نے ممتاز کے سامنے آپ کے بارے میں کُچھ کہا تو اُنہوں نے کہا “ دیکھو ، بِینا ۔ میں خاندان کے ہر فرد کی شکایت سُن سکتا ہوں ، مگر منور کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا “ –
اُن کو اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے دس بارہ برس ہوگئے ، مگر اُن کی یادیں ہر لمحہ میری ہمسفر رہتی ہیں –
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تُجھ سا کہوں جِسے
—————— رہے نام اللہ کا ——————–—— منورعلی ملک ——15 فروری   2022 

میرا میانوالی–

16 فروری میرے بابا جی کی برسی ہے –
بابا جی بہت عرصہ سے بیمار تھے- کُچھ عرصہ میانوالی میں زیرِ علاج رہے – پھر اُن کے اصرار پر ہم اُنہیں گھر (داؤدخیل) لے گئے – میں ہفتے میں ایک آدھ بار جا کر اُن کی خیریت دریافت کرتا رہا – ایک ہفتے کسی وجہ سے نہ جا سکا – اگلے ھفتے گیاتومجھے دیکھ کر بابا جی نے امیر خسرو کا یہ فارسی شعر پڑھا :
بہ لَبَم رَسِیدہ جانَم تو بیا کہ زندہ مانم ,
پَس ازاں کہ من نہ مانم بہ چہ کار خواہی آمد
( میری جان لبوں پر آپہنچی ، تُو آ ، تاکہ میں زندہ رہوں – میرے مرنے کے بعد تیرے آنے کا کیا فائدہ ؟)
شعر تِیر کی طرح دل میں جا لگا – میری آنکھوں سے آنسُو بہہ نکلے – میں اُسی شام فیملی سمیت میانوالی سے داؤدخیل منتقل ہو گیا – صبح کالج آکر دوتین گھنٹے بعد واپس داؤدخٰیل پہنچ جاتا – زیادہ وقت بابا جی کے پاس رہنے لگا –
ایک رات بابا جی کے کمرے میں نمازِ عشاء میں سُورہ الرحمن پڑھتے ہوئے اچانک زبان اٹکنے لگی – سُورہ الرحمن مجھے زبانی یاد تھی ، پڑھتے ہوئے کبھی زبان نہ لڑکھڑائی تھی – بہت روانی سے پڑھ لیتا تھا – اُس رات پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ زبان اٹکنے لگی – گھبرا کر میں نے نماز توڑ دی- بابا جی کی طرف دیکھا تو اُن کی سانسیں لڑکھڑا رہی تھیں – اُن کے سرہانے بیٹھ کر میں نے اُن کا سر اپنی گود میں لے لیا ، بابا جی نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر وہ مہربان آنکھیں ہمیشہ کے لیئے بند ہوگئیں –
ربِ کریم انہیں اپنی رحمت کا سایہ نصیب کرے بہت عظیم انسان تھے – ساری عمر محکمہ تعلیم میں افسر رہے – قابلیت اور دیانت داری کی بنا پر پُورے پنجاب میں مشہور تھے- لباس ، بول چال سب افسرانہ ، مگر زندگی بھر نہ کوئی نماز قضا کی ، نہ روزہ –
بہت سی حسین یادیں ہیں مگر اس وقت جذباتی کیفیت کُچھ ایسی ہے کہ مزید کُچھ نہیں لکھ سکتا –— رہے نام اللہ کا —— منورعلی ملک ——16 فروری   2022 

میرا میانوالی–

جِن ، بھُوت ، پریاں ، چُڑیلیں ، دیو ، پچھل پائیاں —- یہ سب لوگ پتہ نہیں کدھر گئے -؟؟؟؟
بچپن میں تو ہمیں اندھیری راتوں میں گلی کے ہر موڑ پر ، ہر درخت کے پیچھے ، ہر کنوئیں کے آس پاس ان میں سے کسی نہ کسی کی موجُودگی کا ڈر لگا رہتا تھا – دیکھا کبھی نہیں – نانیاں دادیاں بتاتی تھیں کہ جِن بُھوت نظر تو نہیں آتے ، مگر ہوتے بڑے ظالم ہیں – اندھیرے میں اچانک حملہ کر کے انسان کو چِیر پھاڑ کے رکھ دیتے ہیں – کبھی کبھار نظر بھی آجاتے ہیں – جس کو نظر آجائیں ، وہ بندہ پھر ہوش و حواس میں نہیں رہتا – قبرستان تو اس مخلوق کے گڑھ ہوتے ہیں ، اسی لیئے قبرستان شہر سے باہر بنائے جاتے ہیں –
نانیاں دادیاں یہ بھی بتاتی تھیں کہ جِن اور پریاں مسلمان ہوتی ہیں ، بُھوت ، چُڑیلیں اور دیو کافر – جنوں کے تو سرداروں کے ہمیں نام بھی بتائے گئے تھے – کہتی تھیں جنوں کے سب سے بڑے سردار کا نام شیر محمد ہے – اُس کے بعد غلام محمد اور نُور محمد بھی بہت بڑے سردار ہیں –
سکول میں داخلے سے پہلے تین چار سال کی عمر میں میں نانی اماں کے گھر میں رہتا تھا – دوکنال کا گھر مشرق کی طرف رُخ والے تین کمروں کی قطار پر مشتمل تھا – کمروں کے آگے برآمدہ تھا ، جس کے جنوبی سِرے پر کچن تھا – ہمارا کھانا تو ہمارے گھر سے آتا تھا ، سوتے شمال والے کمرے میں تھے – ہر رات نانی اماں کسی جن بُھوت ، چڑیل وغیرہ کی کہانی سناتی تھیں – کہانی سُن کر مجھے لگتا تھا وہی جِن بھُوت کمرے کے دروازے پہ میرے انتظار میں بیٹھی ہے – نانی اماں سے چمٹ کر سوجاتا تھا –
یہ یقین تھا کہ یہ جِن بُھوت کمرے کے اندر قدم نہیں رکھ سکتے ، کیونکہ نانی اماں ہر رات کُچھ دُعائیں پڑھ دیتی تھیں ، نادِعلی بھی پڑھا کرتی تھیں – کہتی تھیں جس کمرے میں یہ دعائیں پڑھی جائیں وہاں کوئی جِن بُھوت وغیرہ قدم رکھے تو “ سڑ کے سُواہ ہو جاتا ہے”—-
ایک آدھ نانی دادی تو ہر گھر میں ہوتی تھی ، اس لیئے یہ کہانیاں ہر گھر میں سُنی سُنائی جاتی تھیں – ان کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ جِنوں بُھوتوں کے ڈر سے بچے راتوں کو آوارہ گردی نہیں کرتے تھے – گھر میں ہی پڑے رہتے تھے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ———————- رہے نام اللہ کا ————————–—— منورعلی ملک ——17 فروری   2022 

میرا میانوالی–

دربار پہ لرزہ طاری تھا جب بول رہی تھیں بنت علی ،
السلام علیک یا زینب بنت علی۔

17 فروری   2022 

میرا میانوالی–

ایسے بابوں سے کچھ نہ کچھ ضرور خرید لیا کریں۔18 فروری   2022 

میرا میانوالی–

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
7 مئی 1953۔۔۔۔۔۔
مجاھد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی ختم نبوت کیس میں سزائے موت کا حکم سن کر عدالت سے جیل جاتے ہوئے۔
اس موقع پر مولانا عبدالستار خان نیازی نے مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔
پیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کو،
خوش ھوں وہی پیغام قضا میرے لیئے ھے۔19 فروری   2022 

میرا میانوالی–

اب تو موبائیل فون نے فوری رابطہ آسان بنا دیا ہے – ہمارے بچپن کے دور میں فوری رابطے کا ذریعہ ٹیلیگرام telegram ہوا کرتا تھا – ٹیلیگرام کو “ تار“ کہتے تھے – تار خط کی طرح کاغذ پر لکھا جاتا تھا – تارگھر (ٹیلیگراف آفس) کا ڈاکیہ تار لے کر لوگوں کے گھروں میں پہنچاتا تھا – یہ نظام پہلی اور دُوسری جنگِ عظیم کے دوران فوجی سپاہیوں کی ہلاکت کی اطلاع دینے کے لیے قائم کیا گیا – بعد میں تار کاروباری مقاصد کے لیئے بھی استعمال ہونے لگا –
جنگِ عظیم کے دوران جب تارگھر کا ہرکارہ (ڈاکیہ) کسی گاؤں میں قدم رکھتا تو تار وصول کرنے سے پہلے ہی اُن تمام گھروں میں رونا پیٹنا شروع ہو جاتا جن کے بیٹے جنگِ عظیم میں شریک تھے – حالانکہ ابھی یہ بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ تار کس کی موت کی خبر لایا ہے – ہرکارہ جس گھر میں تار پہنچاتا وہاں تو بہت ہی دردناک صُورتِ حال ہوتی تھی – سات سمندر پار کسی غیر مُلک میں موت ، اور موت بھی ایسی کہ نہ کفن نہ جنازہ نہ قبر کانشان —- ہندو ، سِکھ ، مسلمان ، عیسائی ، سب کو ایک ساتھ گڑھے میں ڈال کر اُوپر مٹٰی ڈال دی جاتی تھی – اُوپر سے دُشمن کے ہوائی حملوں کے ڈر سے کفن دفن کااہتمام نہیں کیا جاتا تھا – ہمارے چچا ملک ظفر علی فوج میں تھے ، جنگ کے دوران عراق میں متعین رہے – خوش قسمت تھے کہ زندہ واپس آگئے – ہم انہیں عراق والے چچا کہا کرتے تھے – جنگ کے بارے میں بہت سی ہولناک باتیں ہمیں اُنہوں نے ہی بتائیں-
بہت ظُلم ہوا – اس جنگ میں بے تحاشہ لوگ ( تقریبا 8 کروڑ) موت کے گھاٹ اُتر گئے – غریب دیہاتی نوجوانوں کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لیئے فوج میں جبری بھرتی کی گئی – قانون یہ تھا کہ جو شخص اپنے بیٹے کو فوج میں بھرتی کرانے سے انکار کردے اُس کی زمین ضبط کر لی جائے –
اس جنگ کی وجہ سے ہونے والے ظُلم وستم کی دردناک داستان ساحر لدھیانوی نے ایک طویل نظم “پرچھائیاں “ کی صُورت میں لکھی تھی – اس نظم میں ایک سپاہی اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :
اُس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چِھن جائے
ممتا کے سُنہرے خوابوں کی انمول نشانی بِکتی ہے
اُس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
دولت کے قحبہ خانوں میں بہنوں کی جوانی بِکتی ہے
—————— رہے نام اللہ کا ——————-—— منورعلی ملک ——20 فروری   2022 

میرا میانوالی–

ایک دور وہ تھا جب دیہاتی علاقوں میں معلومات کا کوئی فوری مستند ذریعہ میسر نہ تھا – سُنی سُنائی باتوں اور افواہوں پر گذارہ کرنا پڑتا تھا – عجیب و غریب افواہیں سُننے میں آتی تھیں – اس وقت فون تو کُجا ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی سہولت بھی دستیاب نہ تھی ، جس سے افواہوں کی تصدیق یا تردید ہوسکتی –
قیامِ پاکستان کے وقت جب فسادات کی آگ بھڑکی تو ایک رات ہمارے داؤدخیل میں یہ افواہ پہنچی کہ سِکھ حملہ آور لُوٹ مار کرتے ہوئے اِدھر آ رہے ہیں – ان کو اپنے شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیئے سب لوگوں نے بندُوقیں نکال لیں اور اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی – فائرنگ رات بھر جاری رہی – صبح پتہ چلا کہ سِکھوں کے حملے والی بات محض افواہ تھی –
تب لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ مُٹھی بھر سِکھ جب تک لاہور سے داؤدخیل تک کا تمام علاقہ فتح نہ کر لیں ، وہ داؤدخٰیل پہنچ ہی نہیں سکتے – سکھوں کی دیسی بارہ بور بندوقوں سے لاہور سے داؤدخیل تک کا علاقہ کیسے فتح ہو سکتا ہے ؟ صبح دن کی روشنی میں لوگوں نے ہوش سنبھالا تو اپنی بیوقوفی پر دن بھر ہنستے رہے –
ویسے اُس رات شُغل بڑا زبردست رہا – جذبہ ء جہاد سے سرشار لوگ نعرہءتکبیر ، اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے رات بھر دھواں دھار فائرنگ کرتے رہے – خواتین رو رو کر دعائیں مانگتی رہیں اور ہم بچہ لوگ کھیلنے کے لیئے کھوکھے ( چلے ہوئے کارتُوسوں کے خول) سمیٹتے رہے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ——————— رہے نام اللہ کا ———————-—— منورعلی ملک ——21 فروری   2022 

میرا میانوالی–

ہمارے ماموں ملک نُورکمال ہر اتوار کو سائیکل پر مندہ خیل سے داؤدٰخیل آتے تھے – سائیکل پر اس لیئے کہ اُس زمانے میں بسیں بہت کم ہوتی تھیں – دن بھر میں صرف تین بسیں میانوالی سے عیسی خیل آتی جاتی تھیں – جناح بیراج کے راستے مندہ خیل سے داؤدخٰیل دس بارہ کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کرنا مشکل نہ تھا-
ماموں کبھی خالی ہاتھ نہ آتے- موسم کے مطابق کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز خاصی مقدار میں لے کر آتے تھے –
اِس موسم میں عام طور پر وہ “ پوپل“ کا گٹو سائیکل کے کیریئر پر لاد کر لایا کرتے تھے – پوپل اُنگلی کے سائیز کی , چاندی جیسی چمکتی دمکتی , چھوٹی مچھلی ہوتی ہے جسے باجرے کے خُشک آٹے میں لتھیڑ کر توے پر بُھونا جاتا تھا – بے حد لذیذ crunchy چیز تھی – پوپل جناح بیراج کے مچھلی گھر کے علاوہ کالاباغ کی سبزی منڈی اور کمر مشانی کے میلے میں بھی فروخت ہوتا تھا –
یہ مچھلی ایک دو نہیں ، سینکڑوں کی تعداد میں کم گہرے پانی میں پائی جاتی تھی – بازارمیں کِلو کے حساب سے بکتی تھی – ایک کلو میں پچاس ساٹھ پوپل آجاتے تھے- توے پر بُھوننے کے بعد اس کا سر اور دُم کاٹ کر پھینک دیتے – پُوری مچھلی ایک ہی بار آسانی سے منہ میں سما جاتی تھی –
پوپل سردی کے نقصان دِہ اثرات کا بہترین علاج بھی تھا ، جسم کو طاقت بھی فراہم کرتا تھا – اب داؤدخیل میں تو بہت عرصہ سے نہیں دیکھا ، شاید کالاباغ ، کمرمشانی وغیرہ میں ملتا ہو –
——————— رہے نام اللہ کا ———————–—— منورعلی ملک ——22  فروری   2022 

میرا میانوالی–

اسلام آباد سے کرنل شیربہادر خان نیازی نے کل فون پر اطلاع دی کہ “میرا میانوالی“ کے عنوان سے میری 31 دسمبر 2021 تک کی تمام پوسٹس انہوں نے اپنی ویب سائیٹ پر اَپ لوڈ کر دی ہیں –
6 سال پر محیط تقریبا 2000 پوسٹس ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کرنا ایک بہت بڑا علمی کارنامہ بھی ہے اور مجھ پر خصوصی احسان بھی – اللہ کریم کرنل صاحب کو بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے ، وہ کئی سال سے ضلع میانوالی کے بارے میں مستند معلومات ، تحریریں اور پکچرز اپنی ویب سائیٹ کی زینت بنارہے ہیں – ان کی ویب سائیٹ ضلع میانوالی کے موضوع پر سب سے بڑی ویب سائیٹ ہے – اپنی مٹی سے بے لوث محبت کی ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں –
اپنی پوسٹس کے قارئین سے درخواست ہے کہ اس ویب سائیٹ کو وزٹ کر کے اس کے بارے میں کمنٹس کے ذریعے اپنی تجاویز اور مشورے بھی دیں ، اور ضلع میانوالی کی تاریخ اور کلچر کے حوالے سے معلومات اور پکچرز بھی کرنل صاحب کو فراہم کرتے رہیں –
کرنل شیر بہادر خان نیازی عیسی خیل کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں – آج کل اسلام آباد میں مقیم ہیں – ان سے تعارف یقینا آپ کےلیئے باعث فخرومسرت ہوگا-
ویب سائیٹ کا لنک:https://mianwali.org/mera-mianwali/             ——————— رہے نام اللہ کا ———————-—— منورعلی ملک ——23 فروری   2022 

میرا میانوالی–

کلہوٹی۔۔۔۔
گندم گھر میں ذخیرہ کرنے کے لیئے دیہات میں خواتین مٹی کی کلہوٹیاں اپنے ہاتھوں سے بناتی تھیں۔ کلہوٹی میں گندم کی پانچ سات بوریاں سماجاتی تھیں۔ کلہوٹی میں پڑی ہوئی گندم کیڑوں سے بھی محفوظ رہتی تھی۔
گذرگیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منور علی ملک ۔۔۔۔۔24 فروری   2022 

میرا میانوالی–

بجلی کی آمد سے پہلے اکثر گھروں میں راتوں کو روشنی کے لیئے چِمنی استعمال ہوتی تھی – چمنی دراصل انگلش کا لفظ chimney ہے جو کارخانوں کا دھواں خارج کرنے کے والے پائیپوں کا سائینسی نام ہے – پتہ نہیں ہم لوگ گھروں میں روشنی دینے والی معصوم سی چیز کو چمنی کیوں کہتے تھے – کسی سے پُوچھنا تو ضروری نہ سمجھا ، مگر اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے دھوئیں کی وجہ سے اس کو چمنی کہا جاتا تھا – اگر چمنی کی لو تیز ہوتی تو صبح ناک منہ چمنی کے دھوئیں سے کالے ہوئے ہوتے تھے –
چمنی ٹین کی بنی ہوئی گول ڈبیہ ہوتی تھی جس کے اوپر ایک ٹوپی میں سے سُوت کے دھاگوں کی بنی ہوئی بتی (وَٹ) باہر کو نکلی ہوئی ہوتی تھی – ماچس کی تیلی جلا کر وٹ سے لگاتے تو چمنی کی روشنی کمرے میں پھیل جاتی تھی – چمنی کا ایندھن مٹی کا تیل ہوتا تھا –
پُرانے کلچر کی یادیں تازہ کرنے کے لیئے دوست روزمرہ استعمال کی پرانی چیزوں کی پکچرز بھیجتے رہتے ہیں ، کُچھ عرصہ قبل کسی نے چمنی کی پکچر بھیجی تھی آج کی پوسٹ میں اس کے تعارف کی باری آگئی –
——————- رہے نام اللہ کا ———————— منورعلی ملک ——25 فروری   2022 

میرا میانوالی–

دیہات میں فروٹ کی دکانیں نہیں ہوتی تھیں – شاید اسی لیئے رب کریم نے دیہات میں چند مخصوص قسم کے فروٹ کی مُفت فراہمی کا بندوبست کر رکھا تھا – اس فروٹ کی کاشت ، آبپاشی اور دیکھ بھال میں کسی انسان کا کوئی دخل نہ تھا – یہ سب کام قدرت خود کرتی تھی – بہار کے موسم میں بیر ، تُوت ، پِیلُو اور ڈیہلے وافر مقدار میں دستیاب ہوتے تھے –
بیر کے دو بڑے درخت ہمارے گھر کے صحن میں بھی ہوا کرتے تھے – دونوں کے بیروں کا رنگ ، خوشبُو اور ذائقہ مختلف تھا – کئی سال یہ درخت پھل دیتے رہے – بعد میں چند تعمیرات کی خاطر کٹوا دیئے گئے – ایک چھوٹا سا بیری کا درخت ہمارے صحن میں اب بھی موجود ہے – وہ بھی حسبِ توفیق پھل فراہم کرتا رہتا ہے –
بیری ، پِیلُو ، ڈیہلے کے درخت تھل کے علاقے کے درخت ہیں – داؤدخیل شہر کے مشرق میں پہاڑ تک پھیلا ہوا علاقہ تھل کہلاتا ہے – اس تھل میں بیری کے چند بڑے بڑے درخت تھے – بچپن میں , میرے کزن ملک ریاست علی اور طالب حسین شاہ ہر دوسرے تیسرے دن ان درختوں کے بیروں سے جھولیاں بھر لاتے تھے – ریاست بھائی درختوں پر چڑھنے کے ماہر تھے – وہ درخت پر چڑھ کر شاخوں کو ہلاتے اور زمین پر بیروں کی بارش برسنے لگتی تھی – ہم لوگ تمام بیر سمیٹ کر آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے تھے- ریاست بھائی کو کَنڈے پُڑاوی ( کانٹے چُبھنے کا معاوضہ) کے طور پر مُٹھی بھر بیر زائد ملتے تھے –
پِیلُو کے درخت زیادہ تر قبرستانوں میں پائے جاتے تھے – داؤدخٰیل کے دونوں قبرستانوں میں پِیلُو کے درختوں کے بڑے بڑے جھُنڈ تھے ، مگر اُن کا پھل کسی انسان کے نصیب میں نہ آیا، کیونکہ لوگ کہتے تھے یہ درخت جِنات کی ملکیت ہیں – جِنوں سے کون متھا لگاتا – ان درختوں کا پھل پرندوں کا رزق بنتا تھا ، شاید پرندوں کی جِنات سے
دوستی تھی –
محلہ امیرے خٰیل میں پِیلُو کے چند درخت تھے – اُن کا پھل ہمارے کام آتا تھا – پِیلُو کے درخت کو ہماری زبان میں جال کہتے تھے –
ہمارے گھر کے شمال مشرق میں ڈیہلے کی جھاڑیوں ( کرِینہہ) کا ایک بڑا سا جُھنڈ ہوا کرتا تھا – کبھی کبھار وہ بھی ہماری شکارگاہ بنتا رہتا تھا –
——————– رہے نام اللہ کا ——————–—— منورعلی ملک ——26 فروری   2022 

میرا میانوالی–

اب تو اوگرا کانام ہی سن کر دل بیٹھنے لگتا ہے ، کیونکہ یہی وہ نامُراد ادارہ ہے جو مہینے میں دوبار تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھاتا چلا جارہا ہے – اس کا پُورا نام Oil and Gas Regulatory Authority ہے – بولنے، لکھنے میں سہولت کے لیئے اسے مخفف شکل میں OGRA اوگرا کہا جاتا ہے –
لیکن میرا آج کا موضوع یہ والا اوگرا نہیں ، بلکہ وہ چیز ہے جسے دیہات میں لوگ اوگرا کہتے تھے – اوگرا حلوے جیسی لذیذ میٹھی ڈِش کانام تھا جو روٹی کے ٹُکڑوں ، گُڑ اور گھی کو ملا کر بنتی تھی – گھروں میں خواتین روٹی کے بچے کُھچے ٹُکڑے جمع کرکے ہفتے میں ایک آدھ بار ان میں پانی اور گُڑ ڈال کر آگ پر پکاتی تھیں – جب پانی خُشک ہوجاتا تو گھر کا خالص دیسی گھی ڈال کر مزید کُچھ دیر پکاتی تھیں تاکہ روٹی کے ٹُکڑے ، گُڑ اور گھی یکجان ہو کر نرم حلوہ سا بن جائے –
اوگرا بہت لذیذ کھانا تھا – بعض علاقوں میں اسے غڑوبا بھی کہتے تھے ، مگر ہم داؤدخیل کے لوگ اسے اوگرا ہی کہتے تھے – واللہ اعلم –
—————— رہے نام اللہ کا ———————— منورعلی ملک ——27 فروری   2022 
میرا میانوالی–15 مارچ تا 15 اپریل ) میں ایک آدھ بار ہر گھر میں بنتا تھا- یہ ہندوؤں کا رواج تھا – وہ اسے “کنجکاں “ کہتے تھے – بنانے کا طریقہ بھی ہمارے لوگوں نے اُنہی سے سیکھا – بعض علاقوں میں اسے بھت بھی کہتے تھے۔
بالکل سادہ سی چیز تھی – گندم کا دلیہ پانی میں اُبال کر ٹھنڈا ہونے کے لیئے الگ رکھ دیتے ، پھر گُڑ کاشربت بنا کر اُسے بھی اُبال لیتے – صبح سویرے نہارمنہ (ناشتے سے پہلے) دلیئے میں گُڑ کا شربت مِلا کر چمچ سے کھاتے تھے – یہ اوگرا رات کو بناکر صبح کھایا جاتا تھا – ٹھنڈآ ٹھار لذیذ اوگرا کھانے سے سِینے میں ٹھنڈ پڑ جاتی تھی –
ہندؤ تو اسے صرف چیت کے مہینے میں کھاتے تھے – ہم مسلمان مہینے کی پابندی سے بے نیاز ہو کر جب جی چاہتا بنا لیتے تھے – بلکہ میں تو اب بھی کبھی کبھار بنوا لیتا ہوں – گندم اور جَو کے دلیئے کے پیکٹ بازار میں عام ملتے ہیں – یہ دلیہ پانی میں اُبال کر گُڑ کا شربت ملا کر صبح سویرے کھایا جا سکتا ہے- ویسے مجھے جَو کا دلیہ گندم کے دلیئے سے زیادہ اچھا لگتا ہے ، پسند اپنی اپنی –
——————— رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک —28 فروری   2022 

میرا میانوالی

-شب معراج۔۔۔ اپنا شعر ،


مقام سدرہ پہ جبریل رک گئے کہہ کر ،


حضور آپ ہی جائیں مری مجال نہیں ،

28 فروری   2022

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.