MERA MIANWALI JUNE 2020

میرا میانوالی —————————

بشکریہ-منورعلی ملک- 1 جون 2020

میرا میانوالی ——————–

صبروتحمل آج کل نایاب ہے- ذرا ذرا سی بات پر قتل و غارت معمول کی بات ہے – پرانے زمانے میں علم کم تھا ، مگر دشمنیاں بھی بہت کم – شاید اس لیے کہ قتل کے وسائل آج کی طرح ّعام نہ تھے – آج تو ہر آدمی کم ازکم 30 بور پستول جیب میں ضرور لیے پھرتا ہے – ذرا سی کسی سے ان بن ہوئی تو فائر مار کر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیتے ھیں – بعد میں اپنی اس غیرتمندی کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اس کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی –

لڑائی جھگڑا ہوتا بھی تھا ، تو ڈانگ سوٹے کی حد تک – ایک دو ادھر سے زخمی ، ایک دو ادھر سے – پھر بزرگ درمیان میں پڑ کر صلح صفائی کروا دیتے تھے – صلح صفائی کے ایسے کئی فیصلے ھماری چوک پر بھی ہوئے – میرے داداجی مولوی مبارک علی اور چاچا ھدایت اللہ خان نمبردار اس عوامی عدالت کے جج کے فرائض سرانجام دیتے تھے –

قتل کی صرف دو دشمنیاں اس دور میں ہوئیں – مگر فریقین کی مخالفت تھانے کچہرئ تک محدود رہی – قتل کا بدلہ اور قتل در قتل کا سلسلہ واقع نہ ہؤا – لوگ صبروتحمل کے عادئ تھے –

مولاعلی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد یاد آرہا ہے کہ غصہ کمزوری کی علامت ہے ، صبر طاقت کی علامت – اس قول بلیغ کی روشنی مٰیں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کا انسان ماضی کے انسان کے مقابلے میں کمزور ہے ———- رہے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک- 1 جون 2020

میرا میانوالی —————————

ضلع میانوالی کے شمالی علاقہ میں جاگیرداری صرف عیسی خیل اور کالاباغ تک محدود ہے – عیسی خیل کے جاگیرداروں کی زیادہ تر زمینیں ضلع میانوالی سے باہرھیں – یہ جاگیر دار سندھ اور جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں جیسے سفاک اور درندہ صفت نہیں – لوگوں کی جان مال اور عزت کو ان سے کوئی خطرہ نہیں —- میں سٹوڈنٹ اور لیکچرر کی حیثیت میں بہت عرصہ عیسی خیل میں رہا – وھاں کے رؤسا مہذب اور خوش اخلاق ہیں – عوام سے الگ تھلگ ان کی ایک اپنی دنیا ہے، اپنا کلچر ہے – وہ عوام کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ۔ اور نہ عوام کو اپنے معاملات میں شامل کرتے ہیں- مجموعی طور پر یہ ایک بے ضرر طبقہ ہے – یہ بات البتہ افسوسناک ہے کہ ان کی دولت اور اثرورسوخ سے عیسی خیل کو کوئی فائدہ نہیں ہؤا – عیسی خیل کل بھی پسماندہ تھا ، آج بھی تقریبا ویسا ہی ہے –

کالاباغ کا مزاج خالص جاگیردارانہ ہے – نواب فیملی کاعوام سے رویہ آقاؤں جیسا ہے – ان کا ایک اپنا نظام ہے – عوم سے رابطہ ان کے ملازمین رکھتے ہیں – ان ملازمین کے کئی درجے اور الگ الگ فرائض ہیںً – انتخابی سیاست کی مجبوریوں کے باعث نواب فیملی کو براہ راست بھی عوام سے بات کرنی پڑتی ہے، مگر عوام سے یہ براہ راست رابطہ صرف الیکشن تک محدود رہتا ہے-

عیسی خیل اور کالاباغ کو چھوڑ کر ضلع کے باقی علاقوں کے لوگ معاشی اور سماجی لحاظ سے تقریبا برابر ہیں – مساوات اور آزادی کے ماحول میں پرورش پانے والے لوگوں کا کردار اور کلچر جاگیرداری کے زیر سایہ رہنے والے لوگوں سے مختلف ہے –
—————————————————- رہے نام اللہ کا —————————————-
—–پکچر —— عیسی خیل —– نواب غلام قادر خان کا تاریخی بنگلہ جو اب ویران ہے –

بشکریہ-منورعلی ملک- 2 جون 2020

میرا میانوالی —————————

عزیز ساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ ——-

میری اھلیہ کی روح کو اجتماعی ایصال ثواب کے لیے ختم قرآن مجید اور تسبیحات کا اھتمام 7 جون کو شام 4 تا 6 بجے محلہ مبارک آباد ، داؤدخیل میں ھوگا –

کورونا کی تشویشناک صورت حال کے باعث احتیاط آپ کا حق ہے – اس وجہ سے اگر آپ تشریف نہ لا سکیں تو ہمیں کوئی شکوہ نہ ہوگا – ایصال ثواب تو گھر بیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے — تاہم اپنی خوشی سے جو احباب آنا چا ہیں ، ھمارے سر آنکھوں پر – ھم آپ کی خدمت کے لیے موجود ہوں گے – رب کریم آپ کوہر آفت سے محفوظ رکھے –
تقریب کے دوران بھی ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کا اہتمام کریں گے –
——————————————– رہے نام اللہ کا ——————————————–
—— منورعلی ملک و اھل خانہ ——

بشکریہ-منورعلی ملک-3 جون 2020

میرا میانوالی —————————

میرا میانوالی ——————————

نئی نسل کے لوگوں سے شکوے شکایات اپنی جگہ ، لیکن آج کے ان بچوں میں کچھ خوبیاں بھی ہیں ، جن کی تحسین ضروری ھے –
ایک اہم بات جو پچھلے چند سال سے دیکھنے میں آئی ہے ، وہ یہ ھے کہ اکثر نوجوان داڑھی رکھتے ہیں – فیشن کی خاطر سہی ، مگر یہ بہر حال ایک اچھا فیشن ہے کہ داڑھی مرد کی پہچان بھی ہے، سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی –
یہ رواج آنے سے پہلے جو نوجوان داڑھی رکھتا ، اس کے ہم عمر اسے مذاق یا پیار سے مولی بھرا یا مولی مسیر( مولوی بھائی یا مولوی خالہ زاد) کہتے تھے – عام طور پر یہ مولوی بھرا یا مولوی مسیر سادہ لوح ، ان پڑھ نوجوان ہوتے تھے – آج کل ڈاکٹر ، انجینیئر , وکیل اور پروفیسر بھی داڑھی رکھتے ہیں – داڑھی کے وجہ سے یہ لوگ زیادہ حسین بھی نظرآتے ہیں ، باوقار بھی –

ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ آج کل مساجد میں نوجوان زیادہ نظر آتے ہیں – پرانے زمنے میں مساجد میں صرف بزرگ جاتے تھے، نوجوان مساجد سے بچ کر گذرتے تھے-

نئی نسل کی خامیاں بھی میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔ لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر پیار سے سمجھایا جائے تو بچے بات مانتے ہیں –

نوجوان نسل کی خامیوں پر بحث پھر کبھی کر لیں گے –
—– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 4 جون 2020

میرا میانوالی —————————

میانوالی کے معروف فزیشین ، ڈاکٹرمحمدظہیرالدین کی ایک دلچسپ پوسٹ نظر سے گذری – بتاتے ہیں کہ ایک بزرگ خاتون محلے میں گھر گھر جا کر یہ کہتی پھر رہی تھیں کہ میں اگلے پندرہ دن اپنے گھر میں بند رہوں گی کیونکہ ڈاکٹر کہتے ہیں تم کورونا کی مریض ہو ، اس لیے تم آئندہ پندرہ دن گھر سے باہر نہ نکلنا، تو میں نے سوچا یہ بات محلے والوًں کو جا کر بتا دوں –

ان ملاقاتوں کے بعد محلے والوں کو کورونا سے اللہ بچا لے تو اس کی مرضی ، ورنہ ماسی نے تو حسب توفیق پورے محلے کا بندوبست کردیا –

ایسی معصوم سادگی بھی ہمارے علاقے کی خاص پہچان ہے –

———————————————– رہے نام اللہ کا ———–
بشکریہ-منورعلی ملک- 9 جون 2020

میرا میانوالی —————————

میانوالی کے لوگوں کی زندہ دلی اور حس مزاح کا بھی جواب نہیں – گفتگو میں لفظ “بےغیرت“ اور ھلکی پھلکی پیار بھری گالیوں کا استعمال بات میں مزاح کی چاشنی بھر دیتا ہے، موٹر سائیکل کا ٹائر پنکچر ہو جائے تو کہتے ہیں
“بے غیرت پنچر تھی گیا اے “

میرے محترم بھائی پروفیسر سرور خان ایک دن کہنے لگے ، میں میانوالی کی زبان کے محاوروں کی ڈکشنری مرتب کرنا چاہتا ہوں – میں نے کہا بہوں اوکھی گل اے –
بولے کیوں –
میں نے کہا آدھے سے زیادہ محاورے تو گالیاں ہیں – اول تو لکھنا مشکل ہے ، لکھ کر چھپوا دیں تو فحش نگاری کے الزام میں منٹو کی طرح حوالات میں پڑے ہوں گے – بقیہ زندگی تاریخیں بھگتنے میں گذر جائے گی – میں نے مثال کے طور پر ایک دو محاورے سنائے تو بہت ہنسے ، کہنے لگے “یار ، سچی گل اے ۔ بہوں اوکھا کم اے “

ویسے آپس کی بات ہے ایسے محاوروں کا جو ذخیرہ سرورخان صاحب کے پاس ہے کہیں اور کم ہی ملے گا –

اب زمانہ بدل گیاہے – گفتگو میں پیاربھری گالیؤں کا رواج بہت کم رہ گیا ہے – گالیوں والے محاورے بھی بہت کم سننے میں آتے ہیں –
———————————————- رہے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک- 10 جون 2020

میرا میانوالی —————————

زندہ دلی ہم میانوالی کے لوگوں کا ایک اور اہم وصف ہے – بیٹھے بٹھائے ایسی دلچسپ بات کہہ دیتے ہیں کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے – ہنستے ہنستے برا حال ہو جاتا ہے –
میانوالی سے داؤدخیل / عیسی خیل جانے والی سڑک کے کنارے روکھڑی موڑ کے قریب “حیران پریشان ھوٹل “ کا نام پہلی بار دیکھ کر انسان حیران پریشان رہ جاتا ہے – یہ اس علاقے کا بڑا مشہور ہوٹل ہے – یہاں کٹوے کا سالن بڑا زبردست بنتا ہے – ہوٹل کا نام ہی ایسا ہے کہ یہاں سے گذرنے والے کا دل چاہتا ہے اندر جا کر دیکھیں یہاں ہوتا کیا ہے-

اس ہوٹل کے قریب اب “خواہ مخواہ ہوٹل“ نام کا ہوٹل بھی بن گیا ہے –

میانوالی کے لوگوں کی جراءت ہے کہ کسی چیز کو کوئی نام بھی دے سکتے ہیں – میانوالی میں کتابوں کی سب سے پہلی دکان کانام “قیوم دی ہٹی “ تھا – یہ دکان شیخ عبدالقیوم نامی بزرگ نے بنائی تھی – بہت عرصہ بعد اسے نفیس بک ڈپو کا نام دے دیا گیا –
نہر کے کنارے ھسپتال کے سامنے سجنڑاں دا ہوٹل نام کا ایک ہوٹل بھی ہوا کرتا تھا –
واں بھچراں سے اقبال احمد زاھد صاحب بتاتے ہیں کہ وہاں ایک ہوٹل “برباد ہوٹل “ نام کا بھی ہے –
——————————————- رہے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک- 11 جون 2020

میرا میانوالی —————————

CULTURAL OUTLINE

کلچر کی جوورائیٹی ضلع میانوالی میں ہے، کہیں اور شاید ہی ملے – ضلع کے شمالی علاقے کا کلچر پشتون کلچرہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ پشتوبیلٹ کہلاتا ہے Pashto Belt / Pashtoon Belt

عیسی خٰٰٰیل سے میانوالی تک کا کلچر نیازی کلچر ہے – لیکن درمیان میں کالاباغ کلچر کے لحاظ سے ایک الگ جزیرہ ہے – زبان ، طرز زندگی ، رسم ورواج سب کچھ باقی ضلع سے الگ – کہتے ہیں کالاباغ ہندوتہذیب کا ایک قدیم مرکز تھا – دوتین سو سال پہلے ضلع اٹک کے علاقہ مکھڈ سے بہت سے مسلمان کاروباری خاندان ہجرت کرکے یہاں آباد ہوگئے – عجیب بات یہ ہے کہ پشتون اور نیازی کلچر سے قریبی کاروباری میل جول کے باوجود کالاباغ کا کلچر ذرا بھی نہیں بدلا –

پہاڑکے پار کا علاقہ اعوان کلچر کا علاقہ ہے – اس کلچر کی جڑیں ضلع اٹک ، بالخصوص پنڈی گھیب کے علاقے میں ہیں – ضلع میانوالی میں رکھی، کلری ، تھمے والی ، چکڑالہ ، نمل ، ڈھوک علی خان اس کلچر کے نمائندہ مراکزہیں – اسے اتراحدی یا اتراہدی کلچر بھی کہتے ہیں – یہ سارا علاقہ اعوان کاری کہلاتا ہے –

واں بھچراں ، شادیہ وغیرہ کا کلچر خوشابی کلچر کی ایک شاخ ہے –

میانوالی شہر کے جنوب میں کندیاں کا کلچر ملاجلا کلچر ہے – اس سے آگے ضلع کی جنوبی سرحد تک (تحصیل پپلاں) کا کلچر سرائیکی کلچر ہے –
—————————————— رہے نام اللہ کا ———————————————-
—— منورعلی ملک ——

بشکریہ-منورعلی ملک- 12 جون 2020

میرا میانوالی —————————

میرا میانوالی ——————–

کیا خوب زندہ قوم ہیں ہم بھی —– !!!!

گلی میں پاگل کتا دوڑ رہا ہو تو ہم یہ دیکھنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں کہ کیا یہ واقعی پاگل ہے- ؟؟؟؟

مکمل لاک ڈاؤن ھو تو یہ دیکھنے کے لیے بازاروں میں نکل آتے ہیں کہ کیا واقعی سب دکانیں بند ہیں –

کچھ عرصہ پہلے جنوبی پنجاب میں کراچی سے آتا ھوا ایک آئل ٹینکر الٹ گیا – لوگ بالٹیاں ، ٹین اور ڈبے لے کر وہاں پہنچے اور دھڑا دھڑا مفت کا پیٹرول سمیٹنے لگے –
گاؤں کا ایک نوجوان ایک ھاتھ میں بالٹی ، دوسرے میں سلگتا ھؤا سگریٹ لیے وہاں پہنچا ، جونہی بالٹی میں پٹرول بھرنے کے لیے جھکا ایک دھماکہ ہؤا – زمین پر بہتے ھوئے پٹرول نے آگ پکڑ لی – دیکھتے ہی دیکھتے اس جوان سمیت درجنوں لوگ جل کر راکھ ھوگئے –

اللہ معاف کرے ، کورونا نے بھی ایسی ہی صورت حال پیدا کردی ہے – کورونا اب دھماکہ بن چکا ھے – جہاں تک ممکن ہو بچنے کی کوشش کیجیے – خود ہی بچنا ھوگا ، حکومت نے تو کہہ دیا ھے

—“جاگدے رھنا ، ساڈی آس تے نہ رھنا “
———————————————– رہے نام اللہ کا ——–شکریہ-منورعلی ملک- 14 جون 2020

میرا میانوالی —————————

پچھلے ہفتے ایک دوست ملنے کے لیے آئے – باتوں باتوں میں امن و امان کی صورت حال کا ذکر چھڑا تو کہنے لگے اللہ کے فضل سے اب ضلع میانوالی میں صورت حال بہت بہتر ہے جس کا کریڈٹ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جناب حسن اسد علوی کو جاتا ہے- موصوف تقرییا ایک سال سے یہاں تعینات ہیں – تھانہ کلچر اور امن وامان کی بہتری میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں – ان کے زیر قیادت صورت حال میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے –

ایک آدھ دن بعد پولیس کے محکمے سے وابستہ اپنے ایک سابق سٹوڈنٹ سے بات ہوئی تو انہوں نے DPO صاحب کے بارے میں ان باتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ پولیس کی کارکردگی کی تفصیل آپ کو WhatsApp پہ بھیج دوں گا –
ان کی بھیجی ہوئی تفصیلات کے مطابق Safe City Scheme کی طرز پر محفوظ میانوالی سکیم کے تحت شہر میں 66 کیمرے نصب ہو چکے ہیں ، یہ کیمرے جرائم کی تفتیش میں بہت کارآمد ثابت ہوں گے –
سال کے دوران1143 اشتہاری مجرمان گرفتار ہوئے – 48 سود خٰوروں کے خلاف کارروائی کی گئی- سال بھر میں قتل کے91 مقدمات درج ہوئے جن میں سے 80 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں، اندھے قتل کی 8 وارداتوں کا سراغ بھی لگا لیا گیا – مال مسروقہ کی برآمدگی میں ضلع میانوالی کی کارکردگی ٹاپ پر ہے —- Special Initiative پروگرام کے تحت داؤدٰخیل تھانہ کو بھی ماڈل پولیس سٹیشن کا درجہ دیا جارہا ہے –

یہ معلومات عوام کے لیے خاصی حوصلہ افزا ، اور دوسرے محکموں کے لیے مشعل راہ ہیں –
—————————————— رہے نام اللہ کا ——————————————
—— منورعلی ملک ——

Picture : Mr Hasan Asad Alvi, D P O Mianwali-بشکریہ-منورعلی ملک-15 جون 2020

میرا میانوالی —————————

صبح سویرے اکرم خان ترکزئی کی پوسٹ دیکھ کر دل خوش ہوگیا – میں اکرم خان کو نہیں جانتا – مختصر سی پوسٹ میں انہوں نے اپنے بارے میں صرف اتنا بتایا ہے کہ میں ٹرالر ڈرایئور ہوں – کہتے ہیں اکثر ڈرائیور بھائی پریشان رہتے ہیں – وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے – وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، کیونکہ ہم نہ تو تعلیم یافتہ ہیں ، نہ امیر- گھر میں جو بچہ تعلیم سے دلچسپی نہ رکھتا ہو اسے ڈرائیور بنا دیا جاتا ہے – ڈرائیور ھونا باعث شرمندگی نہیں ، کیونکہ ڈرائیوری بھی دوسرے کاموں کی طرح ایک ذریعہ معاش ہے –

اکرم خان کی پوسٹ پڑھ کر میرا یہ نظریہ درست ثابت ہو گیا کہ ہماری نوجوان نسل کا مستقبل تاریک نہیں ، روشن ہے ، ان شآءاللہ – ان بچوں کو صرف رہنمائی کی ضرورت ہے – پیار سے کہا جائے تو یہ ہر اچھا کام خوشی سے کرتے ہیں –

اکرم خان ترکزئی کی پوسٹ بھی ان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے – عظیم انسان صرف سیاست دان، جج ، جرنیل ، ڈاکٹر یا پروفیسر ہی نہیں ہوتا ، ایک ڈرائیور، چپراسی یا کلرک بھی اگر اپنا کام ایمانداری سے کرتا ہے تو وہ بلاشبہ ایک عظیم انسان ہے –
اکرم بیٹا ، آپ کی مثبت سوچ کو سلام ، اللہ آپ کو سلامت بااستقامت رکھے – آپ اس قوم کے قابل فخر بیٹے ہیں –
———————————————– رہے نام اللہ کا —————————————-
بشکریہ-منورعلی ملک- 16 جون 2020

میرا میانوالی —————————

کسی نہ کسی حوالے سے ہر دوسرے تیسرے دن کورونا کا ذکر کرنا پڑتا ہے – نت نئے انکشافات منظرعام پر آرہے ہیں — کورونا نے ہماری ایمانی اور اخلاقی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو بھی سر بازار ننگا کردیا ہے –

کل کراچی کے سینیئر صحافی وسعت اللہ خان کا تازہ کالم نظر سے گذرا – عنوان تھا

“ابلیس کا گیم چینجر فیصلہ“

کورونا کے بہانے لوٹ مار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کورونا کے علاج کے لیے حکومت نے امریکہ سےایکٹیمرا نامی انجیکشن اور جاپان سے ریمی ڈیسوائر نامی دوا درآمد کرنے کی اجازت دی – جاپان سے آنے والی دوا کی سرکاری قیمت ابھی مقرر نہیں ہوئی – امریکہ سے آنے والے انجیکشن ایکٹمرا کی 400 mg کی ایک شیشی کی سرکاری قیمت 60 ھزار روپے ہے، مگر یہ انجیکشن درآمد کرنے والی کمپنی کے ہاں دستیاب نہیں ، البتہ کھلی مارکیٹ میں 4 لاکھ روپے میں مل رہا ہے –

وسعت اللہ خان کہتے ہیں یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ پہلے نجی ھسپتال کورونا کے مریضوں کو داخلہ دینے سے انکار کرتے رہے – اب 15 تا 20 لاکھ کے پیکیج میں وی آئی پی قرنظینہ فراہم کر رہے ہیں-

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جن لوگوں کو اللہ نے کورونا سے شفایاب کر دیاہے وہ ازراہ شکرانہ اپنا پلازما(خون سمجھ لیں ) مستحق مریضوں کو مفت دینے کی بجائے لاکھوں کمانے میں لگ گئے ہیں –

انسانیت کے لیے ہماری یہ خدمات دیکھ کر شیطان اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ لوگ تو میرے بھی پیرو مرشد نکلے ، لہذا اس نے اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہوئے انسان کو سجدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے – یہ سہولت صرف پاکستانی عوام کے لیے ہے ، کہ دنیا کے اور کسی خطے سے شیطان کو ایسی حوصلہ افزا خبریں نہیں مل رہیں –
کالم میں وسعت اللہ خان نے یہ شعر بھی لکھا ہے :———————–

میں کن لوگوں میں رہنا چاہتا تھا
یہ کن لوگوں میں رہنا پڑ رہا ہے

ذرا سوچیئے —– آگے آپ کی مرضی
————————————————- رہے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 17 جون 2020

میرا میانوالی —————————

اگر وہ اپنی موت کا اعلان ٹی وی سے خود کرتا تو حسب معمول اپنی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ اپنی دبنگ آواز میں یوں کہتا ——-—————

ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے
دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو , طارق عزیز کا ————————- آخری سلام
پاکستان ——- پائندہ باد

کیا شخص تھا — ہمہ جہت شخصیت —– صداکار، اداکار، شاعر ، میزبان — اس کا پروگرام نیلام گھر پی ٹی وی کا مقبول ترین پروگرام تھا – اس کی آواز کی گھن گرج دلوں کو گرماتی تھی – بہت جان دار قہقہہ لگاتا تھا کسی مہمان کا دلچسپ سوال یا جواب سن کر —– بچوں سے بچوں کے لہجے میں ، خواتین سے خواتین کے انداز میں بات کرنا اس کا خاص کمال تھا —-
بلاکی کشش تھی اس کی شخصیت میں بھی، آواز میں بھی —- وہ سکرین پر چھا جاتا تھا ، ناظرین اس شعر جیسی کیفیت محسوس کرتے تھے —————–
تم مخاطب بھی ہو ، قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں ، کہ تم سے بات کریں ؟

بہت صاحب علم اور وسیع المطالعہ شخص تھا – مطالعے کا کمرہ کتابوں کی دکان کی طرح رنگا رنگ کتابوں سے آراستہ رہتا تھا – الماریوں اور ریکس کے علاوہ میز پر بھی درجنوں کتابیں نہایت سلیقے سے سجی نظرآتی تھیں —
طارق عزیز خالص , سچا پاکستانی تھا – ھر پروگرام کے آخر میں دل کی گہرائیوں سے یہ نعرہ لگاتا تھا ———–
پاکستان —– پائندہ باد

پاکستان کے تین سب سے بڑے مرثیہ خوانوں میں طارق عزیز بھی شامل تھا – دوسرے دو —— ضیاء محی الدین اور معروف اداکار شجاعت ہاشمی –

مرثیہ خوانی ایک فن ہے جس کا آغاز برصغیر میں لکھنؤ سے ہؤا ، میرانیس اور میرزا دبیر فن مرثیہ گوئی کے امام تھے ، مرثیہ خوانی کے بھی —– مرثیہ ترنم کی بجائے تحت اللفظ ( نثرکے لہجے میں) پڑھا جاتا ہے – سانحہ کربلا کی جنگ کا منظر ہو تو آواز کی گھن گرج سے دل دہل جاتے ہیں ، اہل بیت کی مظلومیت کا ذکر ہو تو لفظ کبھی آہ ، کبھی سسکی بن جاتے ہیں ، پورا منظر نامہ ایک مووی کی طرح رواں دواں محسوس ہوتا ہے – مرثیہ خوانی کا یہ انداز بھی رب جلیل کی خاص عطا ہے ، مرثیہ خوانی ہر شخص کے بس کا روگ نہیں – یوٹیوب سے یا کہیں سے سی ڈی مل جائے تو طارق عزیز کی مرثیہ خوانی دیکھیں ، موضوع کے عین مطابق آواز کا زیروبم ، چہرے کے تاثرات ، ہاتھوں کی حرکات ، یوں لگتا ہے یہ شخص سانحہء کربلا کا عینی شاھد تھا —
جوانی میں طارق عزیز نے اداکاری بھی کی مگر ہر سچے انسان کی طرح اداکاری اس کے بس کا روگ نہ تھا – اس لیے فلمی دنیا سے وہ بہت جلد الگ ہو گیا –
لیجنڈ اور آئیکون جیسے الفاظ تو آج کل ہر شخص کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، طارق عزیز بس طارق عزیز تھا ، اس جیسا نہ کوئی اور تھا، نہ ہے – کل صبح اس کی وفات کی خبر سن کرناصر کاظمی کا شعر یاد آگیا ———-

وہ ہجر کی رات کا ستارا ، وہ ہم نفس ، ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا، سنا ہے کل رات مر گیا وہ

————– پاکستان —- پائندہ باد
——————————————– رہے نام اللہ کا ——-

بشکریہ-منورعلی ملک- 18 جون 2020

میرا میانوالی —————————

چاچا ہدایت خان نمبردار ——–

داؤدخیل میں اپنی چوک کا کسی نہ کسی حوالے سے اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں ، آئندہ بھی کرتا رہوں گا ، کیونکہ چوک ہمارے خاندان کی پہچان ہے – مولوی جی صاحب (داداجی) کی چوک ھمارے بزرگوں کی بیٹھک بھی تھی، ہماری تربیت گاہ بھی ، مہمان خانہ بھی ، غیرسرکاری عدالت بھی –

جب ہم نے ہوش سنبھالا اس وقت چوک پر دادا جی کے مستقل ساتھی چاچا ہدایت خان (ہدایت اللہ خان نمبردار) ، چاچا مقرب خان بہرام خیل اور ماسٹر نواب خان ہؤا کرتے تھے – باقی لوگ اپنے اپنے کام سے آتے جاتے رھتتے تھے، مگر چاچا ہدایت خان صبح سے شام تک چوک پر موجود رھتے تھے – جب دادا جی دنیا سے رخصت ہوگئے تو ان کے بعد اپنے خاندان کا کوئی بزرگ چوک پر مستقل طور پر نہیں رہ سکتا تھا ، سب ملازمت کے سلسلوں میں داؤدخیل سے باہر رہتے تھے- میرے چچا ملک محمدصفدرعلی اوربھائی ملک محمد انورعلی اس وقت تعلیم کے مراحل سے گذر رہے تھے – دادا جی کے بعد آٹھ دس سال چوک کو چاچا ہدایت خان نے آباد رکھا – وہ حسب معمول روزانہ صبح سے شام تک وہاں بیٹھتے رہے – جب چچا صفدرعلی اور بھائی انورعلی تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تو اس کے بعد بھی ہماری چوک کے سربراہ چاچا ہدایت خان ہی رہے – جب تک چل پھرسکتے تھے ، روزانہ حسب معمول چوک پہ آتے رہے –

محلے داروں کے چھوٹے موٹے تنازعات کے فیصلے بھی چاچا ہدایت خان کرتے تھے – یوں لوگ تھانے کچہری کی خواری سے بچ جاتے تھے-

داؤدخیل کی سیاسی وفاداریاں ہمیشہ کالاباغ سے وابستہ رہیں ، مگر چاچا ہدایت خان داؤدخیل کے معززین میں اس لحاظ سے منفرد تھے کہ وہ کبھی کالاباغ کے دربار سے وابستہ نہ رہے – وہ ہمیشہ آزاد رہے- پاکستان سے اپنی وفاداری کسی سیاسی جماعت کے ہاتھ فروخت نہ کی – سرفوخیل (رب زئی) قبیلے کے سربراہ تھے ، شکورخیل ، انزلے خیل اور اللہ خٰیل قبیلوں کا ووٹ بنک بھی ان کے ھاتھ میں رہا ، مگر کبھی اپنے ووٹرز کے مفادات پر سمجھوتہ نہ کیا-

چاچا ہدایت خان کے بڑے صاحبزادے باؤعنایت اللہ خان ہمارے بہترین دوست تھے – وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں – ان کے بھائی کفایت اللہ خان ایڈووکیٹ ماشآءاللہ اپنے والد اور بھائی کی روایات خوب نبھا رہے ہیں –
——- رہے نام اللہ کا —

–Picture sent by Chacha Hidayat Khan’s grandson, Saeedullah Niazi, Daudkhel.

بشکریہ-منورعلی ملک- 19 جون 2020

میرا میانوالی —————————

پرانے زمانے کی بندوقیں بھی عجیب چیز تھیں – لائسنس صرف تعلیم یافتہ ملازم لوگوں کو ملتا تھا ، وہ بھی بارہ بور بندوق کا- رائفل صرف فوج اور پولیس کے پاس ڈیوٹی کے دوران ہوتی تھی –

عام لوگوں نے گھروں میں بغیر لائسنس کی درے وال 12 بور بندوقیں رکھی ہوتی تھٰیں – یہ بندوقیں درہ آدم خیل (کوہاٹ) میں بنتی تھیں ، اس لیے انہیں درے وال کہتے تھے – درے وال بندوق کا لائسنس نہیں بن سکتا تھا – یہ بندوق گھر میں رکھنا بھی جرم تھا- درہ آدم خیل سے سمگلر یہ بندوقیں شکردرہ ، کالاباغ کے راستے چوری چھپے ضلع میانوالی میں لایا کرتے تھے –

بہت بھاری بھرکم بندوق ھوتی تھی ، کم ازکم آٹھ دس کلو وزن کی – اسے لوڈ کرنا اور چلانا بھی آسان نہ تھا – لوڈ کرنے کے لیے بندوق کے بٹ کے نیچے لگے لوھے کے لیور کو جھٹکا دے کر نیچے لانا پڑتا تھا ۔ بندوق کے چیمبر میں کارتوس ڈال کر لیور کو اپنی جگہ واپس لانا پڑتا تھا – اس میں بھی بہت زور لگتا تھا – فائر کرنے کے لیے ٹریگر کو کھینچنے کے لیے بھی انگلی پورے زور سے کھینچنی پڑتی تھی –

اگر کسی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو گھر جاکر بستروں کے نیچے چھپی ھوئی بندوق نکالتے اور لوڈ کرتے ہوئے اتنا وقت لگ جاتا تھا کہ غصہ بھی ٹھنڈا ہو جاتا تھا – اس لیے یہ بندوق لڑائی جھگڑے کے کام کی نہیں تھی – اس کی بجائے ڈانگ سوٹے سے کام چلالیا جاتا تھا –

داؤدخیل ریلوے سٹیشن پر لکی مروت کے حمیداللہ جان نامی سیکیورٹی گارڈ کے پاس یہ بندوق تھی – حمیداللہ جان ہمارے دوست تھے – ایک دفعہ کینال کالونی میں ھم کبوتر کے شکار کو گئے – حمیداللہ جان نے بندوق مجھے تھما دی – کیا مصیبت تھی – فائر کرنے کے لیے دونوں ھاتھوں کی انگلیوں سے پورا زور لگانا پڑا – کبوتر تو میں نے گرا لیا، مگر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے آئندہ یہ بندوق استعمال کرنے سے توبہ کر لی –
—————– رہے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 20 جون 2020

میرا میانوالی —————————

ہر امن پسند آدمی کی طرح مجھے بھی ہتھیاروں سے کوئی دلچسپی نہیں ، مگر جب بات اپنے کلچر کی ہو تو ہتھیاروں کا ذکر ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہوں – ایک تو تاریخ کا تقاضا ہے ، دوسرے اپنے ساتھیوں کی معلومات میں اضافہ بھی مقصود ہے –
کل بتادیا تھا کہ لڑائی جھگڑے یا اپنی حفاظت کے لیے بندوق کا استعمال آسان نہ تھا – قانون سخت تھا ، اور تفتیش آسان ، اس لیے لوگ غصے میں بھی قتل تک نوبت نہیں آنے دیتے تھے –
عام طور پر لڑائی جھگڑے یا اپنے جان و مال کی حفاظت کے لیے برچھا استعمال ھوتا تھا – بڑی مشکل سے برچھے کی ایک پکچر ملی ہے جو اس پوسٹ میں شامل کردی- برچھے کا سرا چاقو یا چھری جیسا پوتا تھا ، کلہاڑی کی طرح اس کے پیچھےبھی پانچ سات فٹ لمبی ڈانگ ھوتی تھئ –
برچھے کی قسم کا ایک ہتھیار سنھگولا بھی ہوتا تھا ، اس کا سرا چپٹا نہیں نوکدار گول یوتا تھا – بچپن میں ایک بار برچھا اور سنگھولا اپنے ھمسایوں کے گھر میں دیکھا تھا – کلہاڑی بھی ہتھیار کے طور پہ استعمال ھوتی تھی – بڑی نفیس رنگین ونجھے (ڈنڈے ) والی خوبصورت سی کلہاڑی ہؤا کرتی تھی –

——– رہے نام اللہ کا –  بشکریہ-منورعلی ملک-21  جون 2020

 

میرا میانوالی —————————

کل فیس بک سے پتہ چلا کہ کل کا دن FATHERS’ DAY تھا –
فیس بک کے کھلاڑی سب کام چھوڑ کر اپنے اپنے والد کو اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے رہے –
جو والد اس دنیا میں موجود ہیں رب کریم ان کا سایہ ان کے بچوں کے سروں پہ قائم رکھے- انہیں اپنے بچوں کی طرف سے بے حساب عزت واحترام ، سکھ اور اطمینان عطا فرمائے- ان کی ہر مشکل آسان فرمائے – جو لوگ اپنے والدین کی خدمت کر رہے ہیں رب رحیم و کریم انہیں اجر عظیم عطا فرمائے –

سچی بات ہے مجھے کل فیس بک ہی سے پتہ چلا کہ یہ دن دنیا بھر میں FATHERS’ DAY کے طور پر منایا جا رہا ہے—- میری لاعلمی کی وجہ یہ ہے کہ میرے لیے تو ہردن FATHERS’ y بلکہ PARENTS’ DAY ہوتا ہے – کئی سال سے روزانہ دن میں کم ازکم دو بار (ظہر اور عشاءکے بعد) قرآن حکیم میں سے کچھ نہ کچھ تلاوت کر کے اپنے والدین کو ایصال ثواب کرتا رہتا ہوں – اس کے لیے میں کسی FATHERS’ DAY یا MOTHERS ‘ DAY کا انتظار نہیں کرتا –

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی یہ مغرب کا دستور ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں – اللہ کے بندو, اگر اس بہانے کوئی اپنے والدین کو یاد کر لیتا ہے ، اگر وہ زندہ ہیں تو ان کی کچھ خدمت کر دیتا ہے ، اگر وہ اس دنیا میں موجود نہیں تو انہیں ایصال ثواب کے لیے صدقہ یا ختم دلوا دیتا ہے تو اس میں اسلام کا کیا نقصآن —؟؟؟

ویسے کون سا ہم اسلام کے تمام اصولوں پر عمل کر رہے ہیں – اسلام کا دامن اتنا تنگ نہ کریں ، لوگوں کو اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرنے دیں ، حساب کتاب اللہ خود لے گا – کیا خبر کون پاس کون فیل ہوگا ؟؟؟؟
————————————– رہے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک-22 جون 2020

میرا میانوالی —————————

والدین کو برداشت کرنا ان کی خدمت سے زیادہ اہم ہے –

بات عجیب سی لگتی ہے ، لیکن ہے سو فی صد درست – والدین کی بعض باتوں پر غصہ ضرورآتا ہے ، اسی لیے اللہ کریم نے اس سلسلے میں واضح حکم جاری فرما دیا-

رب عزیزالحکیم نے قرآن کریم میں والدین کی خدمت (احسان) کا حکم دینے کے فورا بعد فرمایا ان کے سامے اف بھی نہ کرو ، اور انہیں مت جھڑکو – ان کے سامنے ادب سے جھک جاؤ (سورہ بنی اسرآئیل، آیت 23- 24 )-

انہیں مت جھڑکو ——- بڑے واضح الفاظ ہیں —- یہی کام بہت مشکل ہے – اکثر کسی معاملے میں اختلاف پر لوگ ماں باپ کو ڈانٹ دیتے ہیں – اس لیے قرآن نے خبردار کر دیا – والدین کی بات آپ کو لاکھ بھی بری لگے ، انہیں جھڑکنے سے رب جلیل نے دو ٹوک الفاظ میں منع کردیا – کچھ بھی ہو جائے ان سے سخت لہجے اور اونچی آواز میں بات نہ کریں ، ورنہ سب خدمت کا اجروثواب ضبط –

میں نے سیرت کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ جب حضور علیہ الصلوات والسلام نے لوگوں کو والدین سے اچھے سلوک کا حکم دیا تو ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ اگر والدین ہم پر ظلم کریں ، تو پھر بھی ہم ان سے اچھا سلوک کریں ؟؟؟

جناب رحمتہ للعالمین کا رخ انور غصے سے سرخ ہوگیا ، تین دفعہ بلند آواز میں فرمایا ہاں پھر بھی ۔ ہاں پھر بھی ، ہاں پھربھی –

قرآن اور صاحب قرآن کے واضح احکام آپ کے سامنے ہیں – کسی بھی صورت میں والدین سے گستاخی اللہ اور اللہ کے رسول کو گوارا نہیں –

اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے –
————————————————- رہے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک-23  جون 2020

میرا میانوالی —————————

کبھی کبھی ویسے ہی آپ سے ڈائریکٹ بات کرنے کو جی چاہتا ہے – پوسٹ تو کسی نہ کسی موضوع پر ہوتی ہے- موضوع کا انتخاب میں اپنی مرضی سے کرتا ہوں – جو بات ذہن میں آجاتی ہے لکھ دیتا ہوں –

آپ کی پسند نا پسند سے بھی بخوبی واقف ہوں ، اکثر لوگوں کی پسند ماضی کی باتیں ہیں – لوگ اپنے آباواجداد کی زندگی اور ان کی خوبصورت روایات کے بارے میں پوسٹس بہت شوق سے پڑھتے ہیں – اکثر اس موضوع پر لکھتا رہتا ہوں ، بعض اوقات چند سال پہلے لکھی ہوئی باتیں نئے ھمسفر دوستوں کے لیے دوبارہ لکھ دیتا ہوں-

بہت سے لوگ لالا عیسی خیلوی سے میری دوستی کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں – اس موضوع پر تو پوری کتاب “درد کا سفیر“ لکھ چکا ہوں ، پھر بھی کبھی نہ کبھی اس حوالے سے لکھتا رہتا ہوں –

کبھی کبھار اہم سماجی مسائل کے حوالے سے بھی کوئی نصیحت آموز بات لکھ دیتا ہوں – موضوع کی کوئی قید نہیں ، جو دل چاہے لکھ دیتا ہوں – صرف اتنا خیال رکھتا ہوں کہ میری تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو –

شکرہے جو بھی لکھوں آپ پسند کر لیتے ہیں – بہت شکریہ آپ سب کا – ان شآءاللہ محبتوں کی سرزمین کا یہ سفر جاری رہے گا – دعا کرتے رہا کریں –
———————————————- رہے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 24 جون 2020

میرا میانوالی —————————

دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ھمسائے اس سے کہنا

میرا یہ شعر بہت hit ہؤا – آپ حیران ہوں تو آپ کی مرضی ، حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہ شعر اپنی زندگی کے کسی واقعے کے بارے میں نہیں ، دریا کے ہاتھوں بار بار اجڑتی بستی نورنگا (نورنگہ) کے حوالے سے لکھا تھا –

میں نورنگہ کبھی نہیں گیا – اپنے محترم دوست سید عطامحمد شاہ صاحب (ھیڈماسٹر) اور پروفیسر سید گلزار بخاری سے نورنگہ کی بار بار بربادی کے دلگداز قصے سن کر ذہن میں ایک تصور سا بن گیا تھا – کیا عجیب بستی ہے کہ دریا اچانک اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے – باربار کے تجربے کے باعث لوگ دریا کا چلن سمجھنے لگے ہیں – سیلاب کی آمد سے پہلے ہی وہ جان ومال میں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں ، لے کر دریا کی زد سے دور منتقل ہو جاتے ہیں – گاؤں کا نام و نشاں بھی باقی نہیں رہتا – صرف کچھ پرندے اپنے اجڑے آشیانوں کی یاد میں دریا پر منڈلاتے نظر آتے ہیں –

نورنگہ بخاری سادات کی بستی ہے – یہ بستی سادات کی ان بستیوں میں سے ہے جن کا سلسلہ دریائے سندھ کے کنارے بلوٹ (ضلع ڈی آئی خان) سے کشمیر تک پھیلا ہؤا ہے – علم و ادب کے حوالے سے یہ چھوٹی سی بستی بہت زرخیز ہے – ادب کی بہت سی قد آور شخصیات کا مولد و مسکن نورنگہ ہے – پروفیسر سید گلزار بخاری، علی اعظم بخاری ، مرحوم طاہر بخاری اور فیروز نقوی ، چار بھائی چاروں بہت اچھے شاعر – ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر ستار سید ، ریلوے کے بہت بڑے افسر حسنین بخاری ، اور پروفیسر خاور نقوی بھی اپنے اپنے منفرد انداز کے بہت اچھے شاعر ہیں –
ادب کی ان بلند مرتبہ شخصیات کی تعلیم و تربیت صاحب ںطر درویش صفت ماہرتعلیم سید عطا محمد شاہ المعروف ھیڈماسٹر صاحب کی پر خلوص محنت کا ثمر ہے –
نورنگہ اجڑتا بستا رہے گا، مگر نورنگہ کا نام ضلع میانوالی میں علم وادب کی تاریخ کے ایک زریں باب کا عنوان ہے اور رہے گا –
———————————————– رہے نام اللہ کا —————————————-
—— منورعلی ملک ——

PICTURE مرسلہ نقوی سید صاحب ——-
بتاتے ہیں 2013 کے سیلاب میں سکول کی اس عمارت کا نام و نشاں بھی مٹ گیا

بشکریہ-منورعلی ملک- 25 جون 2020

میرا میانوالی —————————

ھمارے بچپن کے زمانے میں داؤدخیل / میانوالی سے ڈائریکٹ لاہور جانے کے لیے صرف ماڑی انڈس سے لاہور آنے جانے والی ٹرین المعروف لاہورآلی گڈی ، اور بنوں جانے کے لیے ماڑی انڈس سے بنوں جانے والی چھوٹی ٹرین دستیاب تھی – میانوالی سے لاہور یا بنوں کوئی بس سروس میسر نہ تھی –

میانوالی سے عیسی خیل دن میں میانوالی ٹرانسپورٹ کمپنی کی دو اور تلہ گنگ بس سروس کی ایک بس شام کے قریب جاتی تھی – میانوالی ٹرانسپورٹ کی کل 4 بسیں تھیں ، دو نواب کالاباغ کی ملکیت ، دو عیسی خیل کے رئیس خداداد خان (سابق وفاقی وزیر مرحوم مقبول احمد خان نیازی کے والد) کی ملکیت تھیں –

سرگودہا کے لیے دن میں چار بسیں ، دو راجپوت کمپنی کی ، دو مسلم بس سروس کی آتی جاتی تھیں –

اس زمانے میں پاکستان کی سڑکوں پر امریکی گاڑیوں کا راج تھا – شیورلیٹ، فورڈ ، ڈاج اور سٹوڈی بیکر( Chevrolet, Ford, Dodge, Studebaker ) کمپنی کی پٹرول بسیں ہوا کرتی تھیں – فوج کی نیلام شدہ پرانی گاڑیوں کو بس کی باڈی لگا کر بس کا نام دے دیتے تھے – نئی بسیں خریدنے کی کیا ضرورت تھی ، مقابلہ تو ہوتا نہیں تھا — پرانی بسیں میانوالی سے عیسی خیل یا سرگودہا کا دن بھر میں صرف ایک ہی پھیرا لگا سکتی تھیں –

یہ عمر رسیدہ گاڑیاں سائیکل ، تانگے کی رفتار سے جھوم جھوم کر چلتی تھیں ، انجن کا شور دور دور تک سنائی دیتا تھا —- بہت نخریلی گاڑیاں تھیں – جہاں انجن بند ہو جاتا ، مسافروں کو نیچے اتر کر بس کو دھکا لگانا پڑتا تھا – ڈرائیور بھی رٰیٹائرڈ فوجی ھوتے تھے، جو چالیس پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پہ گاڑی چلانا جرم سمجھتے تھے – میانوالی سے عیسی خیل تک کا سفر تین چار گھنٹے میں طے ہوتا تھا – راستے میں کالاباغ اڈے کی چائے اورحلوے سے سفر کی اذیت کا کچھ ازالہ ہو جاتا تھا – –
—————————————- رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک- 26 جون 2020

میرا میانوالی —————————

وہ بھی کیا زمانہ تھا جب دریائے سندھ کشمیر سے کراچی تک موٹروے کا کام دیتا تھا – یہ اس زمانے کی بات ہے جب برصغیر پر انگریزوں کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی – انگریزوں نے ریلوے لائین اور سڑکیں بنوا دیں – اس سے پہلے شیر شاہ سوری کی بنوائی ہوئی جرنیلی سڑک تھی جو دہلی سے کابل تک آمدورفت کا وسیلہ ھؤا کرتی تھی – دریاؤں پر کشتیوں کے پل جرنیلی سڑک کا تسلسل برقرار رکھتے تھے –

کشمیر سے کراچی تک آمدورفت کے لیے کوئی سڑک نہیں تھی – سڑک کا کام دریائے سندھ سے لیا جاتا تھا – دن رات کشتیوں کی ٹریفک رواں دواں رہتی تھی – زیادہ تر کشتیاں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں ،یوں سمجھیے کہ کشتیاں ٹرکوں کا کام کرتی تھیں – بر علاقے کی پیداوار اور مصنوعات کشتیوں کے ذریعے کشمیر سے کراچی تک جا بجا تقسیم ہوتی رہتی تھیں – کشمیر کی شالیں اور پھل وغیرہ ، کالاباغ سے نمک ، کھجورکے پتوں سے بنے ھوئے دستی پنکھے اور مصلے ، گھڑے اور لوہے کا گھریلو سامان ملک بھر میں جاتا تھا – سندھ اور جنوبی پنجاب سے آم ، کھجور اور کپڑا شمالی پنجاب، صوبہ کے پی اور کشمیر تک دریا ہی کے راستے جاتا تھا –

صرف چیزیں ہی نہیں ، زبان اور کلچر کا لین دین بھی اسی آمدورفت سے ہؤا – سندھی ، پشتو اور کشمیری زبان کے کئی لفظ ہماری علاقائی زبانوں کی زینت بنے – کئی رسم و رواج بھی اسی طرح ھمارے ہاں رائج ہوئے –

پھر رفتہ رفتہ دریا پر ڈیم اور بیراج بن گئے تو دریا کے راستے آمدورفت ممکن نہ رہی – ایک دنیا تھی جو اجڑگئی ، ایک دور تھا جو بیت گیا – لیکن اس دور اور اس دنیا کی کئی چیزیں اب بھی ہماری زندگی کا حصہ ہیں –
——————————————— رہے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک-27 جون 2020

میرا میانوالی —————————

کل ضیاء نیازی کی پوسٹ سے یہ المناک خبر موصول ہوئی کہ حاجی امتیاز خان بھی سرحد حیات کے اس پار جا بسے

حاجی امتیازخان ھمارے بہت پیارے بھائی تھے – ان کے بڑے بھائی گلزار خان سکول میں میرے کلاس فیلو تھے – امتیازخان ان سے ایک آدھ سال چھوٹے ، تقریبا ہمارے ہم عمر تھے –

امتیازخان بھی قبیلہ امیرے خیل کے اسی خاندان کے فرد تھے ۔ جس میں میرا بچپن گذرا – اس خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں ، آئندہ بھی لکھتا رہوں گا – ان کے بزرگ کہا کرتے تھے کہ منور مولوی جی خیل نہیں ، یہ تو ہمارا اپنا امیرے خیل ہے – کیا محبت کرنے والے لوگ تھے ، اللہ سب کو اپنی رحمت کی امان میں رکھے –

امتیازخان ریلوے میں ٹرین ایگزامینر Train Examiner کے عہدے پر فائز رہے – بہت نیک انسان تھے – پہلی بار حج کر کے آئے تو بتایا کہ اپنے پیرو مرشد (ترگ کے حضرت جی صاحب) کے حکم پر دو دفعہ حج کے لیے درخواست دی مگر قرعہ اندازی میں نام نہ آیا – اس سال قبلہ پیر صاحب نے پھر کہا – تو میں نے عرض کیا “ سرکار بس رہنے دیں ، میری قسمت میں ھوتا تودو مرتبہ میری درخواست رد نہ ہوتی “-

بابا جی نے کاغذ کے ایک پرزے پر ایک دعا لکھ کر مجھے دی اور کہا حج کے لیے درخواست دے دیں ، اور یہ دعا ہر نماز کے بعد پڑھ لیا کریں – حج کی درخواست منظور نہ ہو تو پھر بے شک ادھر نہ آنا ، کسی اور پیر کی بیعت کر لینا –
میں نے کہا جناب اب تو میرے پاس حج کے پیسے بھی نہیں ہیں – بابا جی نے ہنس کر فرمایا کوئی بات نہیں , جورب درخواست منظور کرادے گا وہ پیسوں کا بندوبست بھی کر دے گا –

درخواست دے دی , منظور بھی ہوگئی – پیسوں کا بندوبست یوں ہؤا کہ ہمارے رشتہ دار فضل الحق خان ٹھیکیدار کی ساس نے حج کے لیے جانا تھا – ان کے ساتھ جانے کے لیے فضل الحق خان کی اہلیہ نے مجھ سے کہا تو میں نے بتایا کہ میرے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں – انہوں نے کہا لالا ، آپ کے لیے پیسے میں نے الگ رکھے ہوئے ہیں – ابھی لے لیں –

امتیازخان بہت نیک انسان تھے ، ان جیسے لوگوں کی اللہ ایسے ہی مدد کرتا ہے –
——————————————- رہے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک- 28 جون 2020

میرا میانوالی —————————

لاہور سے ماڑی انڈس آنے جانے والی ٹرین کو لاہور والے ماڑی انڈس ، اور ھم لاہور آلی گڈی کہتے تھے – اس ٹرین کا اجراء انگریزوں نے ایک خاص مقصد کے لیے کیا تھا – قبائلی علاقوں (وزیرستان وغیرہ) کو قابو میں رکھنے کے لیے بنوں میں فوج کی چھاؤنی قائم کی گئی تو وہاں متعین فوج کو سامان کی فراہمی میں دریائے سندھ حائل تھا – اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ دریا کے کنارے ماڑی انڈس تک ریلوے لائین بچھا کر یہاں سامان کا ایک ذخیرہ ڈپو قائم کیا گیا جہاں سے کالاباغ پل کے راستے ایک چھوٹی ٹرین یہ سامان بنوں لے جاتی تھی – فوج کی آمدورفت کے لیے مال گاڑیوں کے علاوہ اس لائین پرمسافر بردار(پسنجر) ٹرینیں بھی چلائی گئیں –

لاھور ٹرین تقریبا 70 سال روزانہ لاہور سے ماڑی انڈس آتی جاتی رہی – حکومتوں کی توڑ پھوڑ کے باعث جہاں اور بہت سا نقصان ہوا ، یہ ٹرین بھی بند ہو گئی –

یہ ٹرین ڈاک کی ترسیل کا ذریعہ بھی تھی – ملک بھر اور بیرون ملک سے ڈاک (خطوط ، منی آرڈروغیرہ) میانوالی میں اسی ٹرین کے ذریعے آتے جاتے تھے – بعد میں محکمہ ڈاک نے سڑک کے راستے ڈاک کی ترسیل شروع کر دی –

ٹرین ماڑی انڈس سے شام پانچ بجے روانہ ہوتی تھی – کندیاں میں انجن کی تبدیلی کے بعد یہ سرگودھا سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ سے دائیں ہاتھ مڑکر فیصل آباد جاتی ، تقریبا آدھا گھنٹہ فیصل آباد رکنے کے بعد واپس چک جھمرہ آکرلاہور کا رخ کرتی تھی – شیخوپورہ ، شاہدرہ سے ہوتی ہوئی صبح تقریبا سات بجے لاہور پہنچتی تھی – یہ وقت دفتروں سکولوں کے کھلنے کا وقت ہوتا تھا ، اس لیے شٰیخوپورہ اور نواحی علاقوں سے سٹوڈنٹس اور دفتروں کے بابو (کلرک) اسی ٹرین سے لاہور جاتے تھے – لہذا وہاں یہ ٹرین باؤٹرین (بابو ٹرین ) کہلاتی تھی –

لاہور سے ماڑی انڈس جانے والی اس کی بالمقابل ٹرین بھی تقریبا پانچ بجے لاہور سے چلتی اسی راستے سے ہوتی ہوئی صبح سات آٹھ بجے داؤدخٰیل ، ماڑی انڈس پہنچتی تھی –

پچھلے دنوں سنا تھا یہ ٹرین پھر سے جاری ہو گئی ہے – میں اسلام آباد میں رہا ، پتہ نہیں یہ خبر درست تھی یا غلط –

کلچر کے حوالے سے یہ ٹرین بھی ہماری زندگی کا ایک اہم جزو تھی – کالاباغ آمدورفت اسی ٹرین سے ہوتی تھی —- بہت سے لوگوں کی بہت سی یادیں اس ٹرین سے وابستہ تھیں –
—————————————————- رہے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک-30 جون 2020

Your words for Mianwali and Mianwalians

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.