MERA MIANWALI- JANUARY-2022

منورعلی ملک کےجنوری2022 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی–

السلام علیکم
2022 میں خوش آمدید۔
آئیے امید کرتے ہیں کہ یہ سال ہمیں پچھلے سال سے زیادہ ساتھ رہنے کی اجازت دے گا۔ ایک ہفتے بعد ان شاء اللہ میں آپ کے لیے باقاعدگی سے لکھوں گا۔ ہمارے پاس بانٹنے اور سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے، اور ہم اس سے لطف اندوز ہوں گے۔
جاری رکھنے کے لیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔

نومبر ، دسمبر دونوں چپ چاپ گذر گئے۔ پتہ نہیں کدھر گئیں وہ بارش کی جھڑیاں جو کئی کئی دن لگاتار چلتی تھیں۔ ؟؟؟ لوگ دن بھر گھروں میں بیٹھے آگ کی تپش سے لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ لئی کی لکڑیوں سے آگ کے بڑے بڑے بھانبھڑ ہر گھر میں دن بھر مچے رہتے تھے۔۔۔ لوگ جھڑی تتی(گرم) کرنے کے نام پر کرکنڑاں بنایا کرتے تھے۔ کڑاہی میں گھی گرم کرکے اس میں گڑ ڈال کر شیرہ بناتے اور اس میں آٹا یا سوجی ڈال کر حلوے کی طرح پکا لیتے تھے۔ حلوے اور کرکنڑیں میں فرق یہ ہے کہ کرکنڑیں میں پانی نہیں ڈالاجاتا۔۔۔۔ کرکنڑاں بہت مزیدار چیز تھا۔ تازہ گرم صورت میں تو کھانا مشکل نہیں ھوتا ، مگر ٹھنڈا ہو کر پتھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔ صحت مند لوگوں کے صحت مند دانت اس کو بھی پیس کر سرمہ بنا دیتے تھے۔ بہت دلچسپ شغل ہوتا تھا۔

کرکنڑیں والا کلچر تو کب کا جا چکا، مگر بارشوں کو کیا ھوگیا ؟ ادھر کا رخ ہی نہیں کیا اس بار۔۔۔۔ نومبر دسمبر بھی خالی ہاتھ آئے اور چلے گئے۔ گندم کی فصل باران رحمت کی راہ دیکھتی رہ گئی۔ خشک سردی بہت سی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ھے۔
یا اللہ رحم ۔۔۔۔۔
رحم کر اپنے نہ آئین کرم کو بھول جا ،
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا ،
خوار ہیں، بدکارہیں، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں ،
کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی امت میں ہیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2   جنوری2022-

-شعر ، اپنی پسند ۔۔۔۔۔
اداس ہیں در و دیوار تو خطا کس کی ؟
تمہارے کہنے پہ میں نے وہ شہر چھوڑا تھا

-4 جنوری2022

الحمد للہ الکریم
ایک ماہ سے کچھ دن اوپر لاھور میں گذارنے کے بعد ہم بخیروعافیت واپس آگئے ہیں ۔ اب کی بار لاہور میں ذاتی مصروفیات ایسی تھیں کہ روزانہ پوسٹ لکھنا ممکن نہ رہا۔ صرف پکچرز اور اشعار پوسٹ کرکے زندہ و سلامت ہونے کا ثبوت فراہم کرتا رہا۔ یہ بھی ضروری تھا کیونکہ فیس بک سے غیر حاضری ساتھیوں کے لیئے تعجب اور تشویش کا باعث بن رہی تھی۔ کچھ دوستوں نے فون پر ، کچھ نے میسیج کر کے خیریت پوچھی۔ اللہ کریم آپ سب کو سلامت رکھے، آپ کی یہی محبت مجھے روزانہ پوسٹ لکھنے پر مجبور کردیتی ھے، اور میں چھوٹی موٹی مصروفیات ، بلکہ بعض اوقات طبیعت ناساز ھونے کے باوجود پوسٹ کا ناغہ نہیں ھونے دیتا۔
اب ان شآءاللہ حسب سابق روزانہ آپ کی محفل میں حاضری ہوگی۔ دعا کرتے رہیں کہ رب کریم ہماری اس سنگت کو ہمارے لیئے خیرو برکت کا وسیلہ بنادے۔-9جنوری2022-
لاھور میں سردی میانوالی کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سموگ ھے ۔ لاکھوں گاڑیوں کا دھواں، گرودغبار اور کارخانوں کا دھواں ہوا کو گرم کییے رکھتا ھے۔ وہاں ہمارے علاقے کے جابہ اور لونی کی طرح شمال سے جنوب کو کوئی مستقل ہوا بھی نہیں چلتی جو ٹھنڈ کا باعث بنے۔ اکثرگھر چاروں طرف سے بند ہیں، تیز ہوا اور دھوپ ان گھروں میں داخل نہیں ھو سکتی۔ گرمی سردی سے ہونے والی تکلیف اپنی جگہ، دھوپ اور ہوا صحتمند زندگی کے لیئے ضروری ہیں۔ میانوالی دھوپ اور ہوا سے مالامال ہے۔ اس پر اللہ کریم کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔
ہمارے داودخیل کو ماحولیاتی لحاظ سے وہی خطرہ لاحق ہے جس میں لاہور مبتلا ہے۔ یہاں اندھا دھند سیمنٹ فیکٹریوں کی تعمیر عوام کی جان اور صحت کے لیئے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔ فیکٹریوں کا گاڑھا زہریلا دھواں فضا کو بری طرح آلودہ کر رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فیکٹریز ملک کی دولت میں اضافہ اور علاقے کے عوام کے لیئے وسیلہ روزگار ہیں، لیکن ان کے مضر اثرات کا بھی مداوا ہونا چاہیے ورنہ یہ وسیلہ روزگار وسیلہ موت بھی بن سکتا ھے۔
میرے ایک عزیز چند سال پہلے محکمہ ماحولیات میں ملازم تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ہمارے صاحب بہادر ہر دوسرے تیسرے مہینے ان فیکٹریز کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیئے داودخیل جاتے ہیں۔ جائزہ یوں ہوتا ہے کہ ریسٹ ہاوس میں زبردست کھانا کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر سب اچھا کی رپورٹ لکھ دی جاتی ہے۔-10جنوری2022
کیا آپ نے کبھی کُلچے کھائے ہیں ؟
کُلچے ہمارے ہاں اُبلی ہوئی گاجروں کو کہتے تھے – کُلچے بنانے کا طریقہ بڑا سادہ سا ہے ٠ ایک دیگچے یا پتیِلے میں پانی اُبال کر اُس میں گاجریں اور گُڑ ڈال دیں پھر دھیمی آنچ پر اتنی دیر پکنے دیں کہ گاجریں گل کر نرم ہو جائیں – عموما اس میں ایک دوگھنٹے لگتے ہیں – کُلچے صبح نہار منہ (ناشتے سے پہلے) کھائے جاتے ہیں – انہیں دوبارہ گرم نہیں کیا جاتا ، ٹھنڈے ہی کھائے جاتے ہیں –
کُلچے ایک تو بہت لذیذ ہوتے ہیں ، دوسرے ان کے بے شمار فائدے بھی ہیں – گاجر جگر کی گرمی کو کم کرتی ہے، جگر اور معدے کو تقویت دیتی ہے – پیاس کی شدت کو کم کرتی ہے – دل کے مریضوں کے لیئے بھی فائدہ مند ہے – صبح سویرے ٹھنڈے ٹھار کُلچے کھائیں تو پاؤں کے ناخنو ں تک ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے –
کیاکیا نعمتیں بنا دی ہیں ربِ کریم نے ہمارے لیئے ، مگر ہم ان کی پروا ہی نہیں کرتے – ہر موسم کی سبزیاں اور پھل اُس موسم کی کئی بیماریوں کا علاج بھی ہوتے ہیں – مگرہم انہیں حقیر سمجھ کر صرف گوشت ہی کھانا پسند کرتے ہیں ، چاہے جس چیز کا بھی ہو ، جتنے کا بھی مِلے – نتیجہ طرح طرح کی بیماریوں کی صورت میں ہم دیکھ بھی رہے ہیں ، بُھگت بھی رہے ہیں –-11جنوری2022-
سردیوں میں ایک اور عیاشی چنے کا میٹھا آٹا ہوتی تھی – تازہ بُھنے ہوئے چنوں کو پِیس کر آٹا بنایا جاتا اور اُس میں خالص دیسی گھی اور شکر مِکس کر کے کھایا جاتا تھا – یہ سادہ سی خوراک بےحد لذیذ بھی ہوتی تھی اور سردیوں کی عام بیماریوں ، نزلہ ، زُکام ، کھانسی وغیرہ کا مؤثر علاج بھی تھی – اسے کھانے کے بعد کم ازکم ایک گھنٹہ پانی پینا سخت منع تھا ، کیونکہ اس کے اُوپر سے پانی پینے سے اس کا اثر اُلٹا ہوکر نزلہ ، زُکام ، کھانسی وغیرہ کا سبب بن جاتا تھا –
بظاہر تو یہ معمولی سی چیز لگتی ہے، مگر جنہوں نے کھایا ہو وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ بے انتہا لذیذ خوراک ہے – کھانے سے جی بھرتا ہی نہیں – یہ آٹا قوت کا خزانہ بھی ہے – سردی کے اثر کو بہت کم کر دیتا ہے – اس میں ایک دو چمچ خشخاش پیس کر شامل کردیں تو ذہنی سکون کا بھی بہت موثر ذریعہ ہے – اس سے نیند بھی خُوب آتی ہے –
یہ چیزیں بنانے والی مائیں تو زیرِزمین جا کر سو گئیں – اب پتہ نہیں کوئی بنا کر دے گا یا نہیں – اللہ رحم کرے –-12جنوری2022
آج لکھنا تو کُچھ اور تھا لیکن بھکر سے ہمدمِ دیریِنہ پروفیسر ملک محمد یوسف چھینہ صاحب کی فرمائش ہے کہ اُمدھاون والی سیویوں کے بارے میں لکھیں – یہ دیسی سیویاں ہمارے ہاں رمضان المبارک کے کلچر کا لازمی جُزو ہوا کرتی تھیں – رمضان المبارک کے آخری دنوں میں بڑے اہتمام سے ہر گھر میں یہ سیویاں بناکر عیدالفطر کے دن ناشتے کے طور پر کھائی جاتی تھیں – مہمانوں کی تواضع بھی انہی سیویوں سے کی جاتی تھی – شاید اسی حوالے سے عیدالفطر کو میٹھی عید بھی کہتے تھے –
ان سیویوں کے بارے میں ہر رمضان المبارک کے آخری دنوں میں کُچھ نہ کُچھ لکھتا رہتا ہوں ، آج یُوسف بھائی کے حُکم کی تعمیل میں ان کے بارے میں لکھنا ضروری ہوگیا –
ان سیویوں کے کئی نام ہیں – اُردو میں سویاں ، ہمارے داؤدخٰیل کی زبان میں سِیمِیاں دوسرے علاقوں میں سیمیاں یا سیویاں کہتے ہیں – میانوالی شہر کے بعض لوگ انہیں شڑُپ والی سیویاں بھی کہتے ہیں – شڑُپ دراصل وہ آواز ہے جو ان سیویوں کو مُنہ میں ڈالتے وقت سنائی دیتی ہے –
ان سیویوں کے پکانے کا طریقہ نہایت سادہ ہے – سیویوں کو پانی میں ابال کر چھلنی کی مدد سے پانی سے الگ کر دیا جاتا ہے – یہ الگ کرنے کا عمل “اُمدھاون“ کہلاتا ہے –
اس کے بعد سیویوں میں خالص دیسی گھی اور شکر ملاکر کھاتے ہیں – بے حد لذیذ نعمت ہے – میرے خیال میں یہ کلچر دیہات میں اب بھی چل رہا ہوگا –-13جنوری2022-
فیس بُک کی دنیا ——
جولائی 2015 میں جب میں فیس بُک کی دنیا میں وارد ہوا ، اُس وقت پوسٹ لکھنے کا رواج بہت کم تھا ، لوگ اپنی پروفائیل پکچرز ، اپنی پسند کے شعر ، اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے خوشخبریاں اور تعزیتی پیغامات فیس بک پہ لگا کر کام چلا رہے تھے – مرحوم ظفرخان نیازی کبھی کبھار اپنے تجربات و مشاہدات پر مبنی پوسٹ لکھ دیتے تھے – میرے پاس لکھنے کے لیئے وقت بھی تھا ، کہنے کو بھی بہت کُچھ اور اللہ کریم نے لکھنے کا سلیقہ بھی عطا کیا تھا ، اس لیئے میں نے روزانہ پوسٹ لکھنے کا آغاز کیا – جلد ہی —–
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
بہت سے لوگ روزانہ نہیں تو اکثر پوسٹس لکھنے لگے – سینیئر لوگوں میں ظفرخان نیازی کے علاوہ محمد افضل عاجز ، عصمت گُل خٹک ، عیسی خٰیل کے ماہرتعلیم اور معروف گلوکار لالا عبدالقیوم خان نیازی اس کارواں کی زینت بنے – نوجوانوں میں سے معروف ومقبول سماجی شخصیت ڈاکٹر حنیف نیازی اور جواں سال جہاں گرد قمرالحسن بھروں زادہ بھی اس سفر میں شریک ہوگئے – دوسال پہلے موچھ سے مجیب اللہ خان نیازی بھی میری ترغیب پر اس کارواں میں شامل ہوگئے –
کمر مشانی سے اسداللہ خان بھی بہت خوب لکھتے تھے ، پھر بیماری کی وجہ سے گوشہ نشین ہوگئے -ربِ کریم انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے – پولیس انسپکٹر عبدالقیوم خان نیازی بھی بہت اچھی حیات آموز پوسٹس لکھتے ہیں –
ان اہلِ قلم میں سے ہر ایک کا اپنا انداز اور اپنی پسند کے موضوعات ہیں – ہر پوسٹ ہمارے علم میں کُچھ اضافہ کرتی ہے ، اور کردار کا جائزہ لے کر اصلاح کی ترغیب دیتی ہے-
قلم کاروں کے علاوہ فیس بُک کی کُچھ اور معروف شخصیات بھی رونق لگائے رکھتی ہیں – حاجی اکرام اللہ خان ، اور ڈاکٹر محمد ظہیرالدین دلچسپ سیاسی چُٹکلے بازی میں اپنی مثال آپ ہیں ، خُوب چھترول کرتے ہیں – ڈاکٹر ظفرکمال بھی کبھی کبھی حالاتِ حاضرہ پر خاصا تیزدھار تبصرہ کر دیتے ہیں – ّعصمت گُل خٹک تو سینیر صحافی ہیں ، بہت کاٹ دار طنز کرتے ہیں – صحافی کے علاوہ خٹک صاحب بہت اچھے شاعر اور دانشور بھی ہیں – تینوں میدانوں میں بہت مؤثر تحریریں لکھتے ہیں –
پروفیسر محمد اکرم علی ملک انگریزی کے شہرہء آفاق اہلِ قلم کے اقوالِ زریں کے علاوہ بہت خُوبصورت مناظر کی پکچرز بھی پوسٹ کرتے رہتے ہیں – اہلِ علم و نظر میں ان کی یہ پوسٹس بہت مقبول ہیں –
مجموعی طور پر فیس بُک کا ماحول خاصا مثبت اور خوشگوار ہے – یہاں ٹویٹر کی طرح گالم گلوچ اور عُریاں تصاویر کی بجائے علم و دانش اور اصلاحِ احوال کی باتیں ہوتی ہیں- اللہ کرے یہ خُوبصورت ماحول برقرار رہے –-14جنوری2022
میں اکیلا تو نہیں میرے کئی ساتھی ہیں ،
آپ کی یاد ہے، غم ہے ، مری تنہائی ہے۔
سردی سے سُن ہاتھوں سے پوسٹ لکھنا خاصا مشکل لگ رہا ہے – پچھلے ہفتے چِٹکے (سردیوں کی دھوپ) کے مزے لیتے رہے – لگتا تھا سردی کی واپسی کا سفر شروع ہوگیا – مگر کل سے موسم کی نیت خراب ہوگئی – خالی ہاتھ بادلوں اور ٹھنڈی یخ ہواؤں کا راج ہے – ادھر گیس کی صورتِ حال یہ ہے کہ صبح 8بجے سے شام 4 بجے اور رات 9 بجے سے صبح 6.30 تک گیس غائب رہتی ہے – ہم لئی کی آگ کے بھانبھڑ جلا کر دن رات آگ تاپنے والے لوگ خاصی مشکل میں ہیں، کیونکہ لئی کی لکڑیوں کی سپلائی لائین کئی سال سے بند ہے – گیس سے کام چل رہا تھا ، اب وہ بھی ختم – اُوپر سے محکمہ موسمیات یہ خوش خبری بھی سُنا رہا ہے کہ اگلے ہفتے مُوسلادھار بارش ہوگی – مُوسلادھار بارش کی جب ضرورت ہوتی ہے تب آتی نہیں – اب پتہ نہیں کیا لینے آرہی ہے -؟؟؟
موسمِ بہار کے کُچھ آثار نمایاں ہو رہے تھے کہ پھر رِیورس گئیر لگ گیا – اکثر لوگ تو سردی کی پروا نہیں کرتے ، مگر ہم پُرانے دور کے ماؤں کے لاڈلے لوگوں کو سردی ذرا بھی اچھی نہیں لگتی – اللہ رحم کرے —– گرمی ہو یا سردی ، آپ سے رابطہ بہر حال برقرار رہے گا – دعا کرتے رہیں –

-16جنوری2022-

آج اپنی زبان میں —-
نہ پُچھ مَولی بِھرا ، اُکا ذلیل تے خوار تھی گئے ہاں –
او تاں میں تہاکوں پہلے ڈَسا چھوڑا ہئی جو میڈے یامے دا کوئی اِتبار نی — ہُنڑں کھلوتا کتھے ہے خیر نال —؟؟؟
حیاتے مستری کول سٹ آئے ہاں –
حیاتا کیہ آہدا اے ؟
او آہدا اے اِس دا اِنجنڑں باہ گیا اے –
اُس کو آکھو ، اے تیڈا تھی گیا – میں اس تے ہِک ٹکہ وی ہور خرچ ناں کر سگدا –
پیسے کتنے اکھانس ؟
پندرہ وِیہہ ڈیوے چا تاں میکو وارا کھاندا اے –
پندرہ میں ڈیواں چا تاں یاما میڈا ؟؟؟
کُجھ ودھا– لکڑی دا بنڑاں اویا تاں نیِں –
پنج تو زیادہ ہور ناں ڈے سگدا –
سَودا منظُور – چل گھِن آ ویہہ ہزار روپیہ – تُوں آپنڑاں آدمی ایں ، نتاں پنجی تو ہِک روپیہ وی گھٹ نہ گِھناں ہا –

-17جنوری2022

اپنا شعر، اپنی پسند ۔۔۔۔۔۔۔
دریا نے رخ بدلا تو اک گاوں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا

-18جنوری2022-

بارش —– یخ بستہ ہوائیں —– دُھند —– کورونا اور ڈینگی شکار کی تلاش میں —-
اللہ حافظ و ناصر ہو اُن کا جو اِن حالات میں روزی کمانے کے لیئے صبح سویرے منہ اندھیرے گھر سے نکلتے ہیں ، اُن بچوں کا بھی جو تعلیم حاصل کرنے کے لیئے صبح سویرے گھروں سے روانہ ہوتے ہیں ، جن کی مائیں دروازے میں کھڑی بھیگتی آنکھوں کے ساتھ اپنے جگر کے ٹُکڑوں کو بارش میں گلی میں جاتے اُس وقت تک دیکھتی رہتی ہیں جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتے –
یا اللہ کریم رحم فرما اُن گھروں پر جن کے سربراہ روزی کمانے کے لیئے کھُلی ہوا میں گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہیں – ان میں سے کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں نہ مناسب خوراک میسر ہوتی ہے ، نہ ہی موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیئے مناسب لباس – بیمار پڑجائیں تو دوا کے پیسے بھی نہیں ہوتے ٠
یا اللہ رحم فرما ہم سب پر – تیری رحمت کے اِک اشارے سے بارش ، یخ بستہ ہوائیں ، دُھند کورونا اور ڈینگی سب آفتیں فورا ختم ہو سکتی ہیں –-19جنوری2022
بعض اوقات کوئی شعر اپنی تشریح خود بھی کردیتا ہے –
عیسی خیل میں میرے قیام کے دَور کا قصہ ہے ، ہمارے دوست ملک انور (مرحوم) نے عیسی خیل لاری اڈہ پر الحفیظ ہوٹل بنایا – ہوٹل کی عمارت تیس چالیس فُٹ لمبا صُفہ (برآمدہ ) تھا ، جس میں علاقے کے رواج کے مطابق بیٹھنے کے لیئے چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں اور چارپائیوں کے درمیان میزیں لگی ہوئی تھیں – ملک انور نے ہوٹل کی دیواروں پر عتیل عیسی خیلوی سے خوبصورت انداز میں کُچھ شعر بھی آرائش کے طور پر لکھوائے تھے – ان میں سبطِ علی صبا کا یہ شعر بھی تھا :
دیوار کیا گِری مرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیئے
لالاعیسی خیلوی اور ہم سب دوست ملک انور کو مبارک باد کہنے کے لیئے ہوٹل پہنچے – چائے وغیرہ پی رہے تھے تو ماسٹر وزیر نے اِس شعر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “ عتیل بھائی نے یہ شعر خاصآ خطرناک لکھ دیا ہے “-
ملک انور نے ہنس کر کہا “ ہاں شعر تو خطرناک ہے ، مگر مجھے بہت اچھا لگا ہے یہ شعر“-
اللہ کی شان دیکھیئے اُسی رات ایک ٹرک ریورس ہوتے ہوئے دیوار میں عین اُسی جگہ جا لگا جہاں یہ شعر لکھا ہوا تھا – دیوار کے ساتھ چھت کا کُچھ حصہ بھی گِر گیا--20جنوری2022-
الحمدللہ ، کل شام سے بارش ہو رہی ہے – گندم کی فصل کے لیئے بارش کا یہ پانی دُودھ کی دھاروں جیسا ہے –
اب تو فصلوں کے لیئے پانی زیادہ تر نہروں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے ، اس لیئے لوگوں کو بارش کی اہمیت کا احساس بہت کم ہوتا ہے ، کیا زمانہ تھا جب دیہات میں آبپاشی کا اکلوتا ذریعہ بارش ہی تھا ، اور واحد ذریعہ معاش گندم کی فصل —
نقد رقم صرف ملازموں کو تنخواہ کی صورت میں ملتی تھی – عام لوگوں کے لیئے گندم ہی پیسے کاکام کرتی تھی – گھر کا سودا خریدنے کا پیمانہ بھی گندم تھا – چھوٹی موٹی چیزیں خریدنے کے لیئے لوگ گندم لے کر دُکانوں پر جاتے ، دکان دار گندم ترازُو میں تول کر اُس کی قیمت بتا دیتا – اُس حساب سے جتنی چیز بنتی گاہک کو دے دیتا – اگر گندم کی قیمت چیز کی قیمت سے زیادہ بنتی تو بقیہ رقم نقد دے دیتا ، یا گاہک اتنی رقم کی کوئی اور چیز خرید لیتا تھا – زیادہ قیمت کی چیزوں کے لیئے دکان دار گاہک کے گھر جا کر ترازو سے گندم تول کر لے جاتا تھا –
شادی بیاہ کے موقع پر سارا خرچ گندم بیچ کر ادا کیا جاتا تھا – کپڑے ، جُوتے ، زیور ، برتن وغیرہ خریدنے کے لیئے گندم کے عوض مقامی دکانداروں سے نقد رقم لے کر شادی کا سامان خرید لیا جاتا تھا –
سال کے دوران اگر گندم ختم ہوجاتی تو اگلی فصل آنے تک سودا سلف اُدھار میں خریدا جاتا تھا – دکان دار اُدھار کا حساب لکھتا رہتا ، اور فصل آنے پر اتنی رقم کی گندم وصول کر لیتا تھا – لوگ بھی دیانت دار تھے، دکان دار بھی ، سیدھا سادا صاف شفاف لین دین ہوتا تھا ، کوئی ہیرا پھیری ، رولا رَپا نہیں ہوتا تھا – سو فی صد زرعی معیشت کا وہ سسٹم آج کے نظام سے بہت بہتر تھا--22جنوری2022
چاچا اَولِیا ——-
چاچا محمد اولیا ہمارے بچپن کے دور میں ہمارے محلے کے اکلوتے دکان دار تھے – انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے سے پہلے چند سال ہندو دکانداروں کی دکانوں میں ملازمت کی تھی – قیام پاکستان کے وقت ہندو ہندوستان چلے گئے تو چاچا اولیا نے اپنے گھر میں ہی اپنی دکان بنالی – ان کا گھر ہمارے گھر سے ملحق تھا –
ویسے تو چاچا اولیا کی دکان کریانے کی دکان تھی ، لیکن اس میں کریانے کے علاوہ بھی بہت کچھ ملتا تھا – کمرے کے ایک کونے میں لکڑی کی بڑی سی الماری میں کپڑے کے تھان رکھے ہوتے تھے – عام ضرورت کا کپڑا, لٹھا ، پاپلین ، چھینٹ وغیرہ محلے کے لوگ وہیں سے خریدتے تھے – ایک مزا یہ بھی تھا کہ چاچا اولیا درزی کا کام بھی خود کردیتے تھے – ان کے پاس جرمنی کی پرانے ماڈل کی سلائی مشین تھی ، سلائی کا کام اسی پہ ہوتا تھا – یہ کام بھی چاچا اولیا نے ہندو دکان داروں سے سیکھا تھا – اس کے علاوہ ہر قسم کی دیسی مٹھائیاں ، ریوڑیاں ، تِلوں کا مرُنڈا ، چاولوں کا مرُنڈا – لاچی دانہ (مکھانے ) ، ٹانگری ، توشہ اور گُڑ کی پَت بھی بنالیتے تھے – عید کے دنوں میں جلیبیاں اور پکوڑے بھی بناتے تھے- عید کے تیسرے دن ماڑی انڈس میں شاہ گُل حسن کے مزار پر جلیبیوں کا سٹال بھی لگاتے تھے-
چاچا اولیا تعلیم یافتہ تو نہ تھے مگر ہندو دکانداروں سے ہندی زبان میں حساب کتاب لکھنا بھی سیکھ لیا تھا – بمیں تو مکوڑوں جیسی ہندی تحریروں کی ککھ سمجھ نہیں آتی تھی ، چاچا اولیا فر فر لکھ بھی لیتے ، پڑھ بھی لیتے تھے – بہت دیانت دار اور خوش اخلاق انسان تھے – بہت یاد آتے ہیں –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ–-23جنوری2022-
کالا دُھوت ریلوے انجن میرے بچپن کا پہلا پیار تھا – ایک عجیب سی کشش تھی اس کالے دیو میں – ایک میں ہی نہیں لاتعداد لوگ اس کے سحر میں گرفتار تھے – میرے کزن غلام حبیب ہاشمی بھی میرے اِس عشق میں شریک تھے – وہ تو اس عشق میں اتنے آگے نکل گئے کہ میٹرک سے آگے تعلیم چھوڑ کر ریلوے میں انجن مکینک بن گئے – میں گھر والوں کے ڈر سے پڑھ لکھ کر پروفیسر ہی بن سکا –
بچپن میں ہم دونوں بھائی روزانہ سکول سے فرار ہوکر ریلوے سٹیشن پر جاکر آتی جاتی ٹرینوں کے انجنوں کو دیکھتے رہتے تھے – فرار کا راز کُھل گیا تو مار پٹائی بھی ہوئی -مگر مارپٹائی تو ہر قسم کے عشق میں ہوتی رہتی ہے –
ٹرینیں تو اب بھی موجود ہیں لیکن آج کل کے ڈیزل انجن کو انجن کہنا لفظ انجن کی توہین لگتا ہے – کالے انجن کی ایک اپنی شان ، اپنی شخصیت ہوتی تھی – چھک چھک چھک چھک کی آواز میں ایک خاص رِدھم ہوتا تھا – جب یہ چلتا تو زمین کانپتی محسوس ہوتی تھی – اس کی کُوک سُن کر بچھڑ جانے والوں کی یاد میں دِلوں سے درد کی ہُوک اُٹھتی تھی –
ان انجنوں کی کئی قسمیں تھیں – ملتاں جانے والی ٹرین کے ساتھ چھوٹا SG انجن لگتا تھا – لاہور ٹرین کے ساتھ بڑا XA انجن ہوتا تھا – پنڈی پشاور سے کراچی جانے والی ٹرینوں کے ساتھ سب سے بھاری بھرکم دیوقامت CWD انجن ہوتا تھا جو 100 -120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بیس بیس ڈبوں کی ٹرین کھینچتا دھواں اُراتا اپنی منزل کی سمت رواں دواں رہتا تھا – تقریبا 30 سال قبل ان انجنوں کی جگہ ماڑے مسکین ڈیزل انجن آگئے – طاقت اور رفتار جتنی بھی ہو شخصیت بھی تو خاصٰی اہم چیز ہے – ڈیزل انجن اس صفت سے محروم ہیں –
ہمارے علاقے میں تو اب ڈیزل انجن والی ٹرینیں بھی نہیں آتیں – ریلوے سٹیشن جہازوں کے اڈے بن گئے ہیں – پٹرول ڈیزل کی بجائے ہیروئن کے دھوئیں سے چلنے والے یہ جہاز اپنے جسم کا بوجھ بھی نہیں اُٹھا سکتے، سواریاں کیا اُٹھائیں گے-24جنوری2022
ساگ بھی اس موسم کی مقبولِ عام سبزی ہوا کرتا تھا – ساگ تین قسم کا ہوتا تھا ، ایک تو پالک ، مگر وہ دیسی پالک ہوتی تھی ، کم سبز رنگ اور چھوٹے پتے والی – دوسری قسم چنے کے پودے کی نازک کونپلیں جو پَلی یا پلی کا ساک کہلاتی تھی، اور تیسری قسم کا ساگ سرسوں کے پتے جسے گندلاں دا ساگ کہتے تھے – اسی کے حوالے سے پنجابی کا ایک گیت بھی منظرعام پر آیا تھا جس کے ابتدائی بول تھے—- “گندلاں دا ساگ تے مکھن مکئی “ –
مکئی کی روٹی کے ساتھ تو ہم نے گندلاں دا ساگ کبھی نہیں کھایا کیونکہ ہمارے علاقے میں مکئی کی روٹی کا رواج ہی نہیں تھا – مکھن ڈال کر گندم کی روٹی کے ساتھ بہت دفعہ کھایا – بہت لذیذ کھانا ہوتا تھا –
تینوں قسم کا ساگ جسم میں فولاد کی کمی پوری کرکے خون کو صاف اور گاڑھا کرتا ہے – ہاضمے کے لیئے بھی مفید ہوتا ہے ، اس میں کیلشیئم کی بھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے – ساگ میں گوشت یا آلُو ڈال کر بھی پکاتے تھے –
اصل بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ یہ لذیذ کھانے بنانے والے ہاتھ زیرِزمین جا سوئے – کچھ عجیب سی برکت تھی ان ماؤں بہنوں کے ہاتھوں میں – سادہ سے مصالحوں کے ساتھ ایسا سالن بناتی تھیں کہ انسان اُنگلیاں چاٹتا رہتا تھا – ساگ اب بھی گھروں میں بنتا ہے ، مگر دیسی گھی کی بجائے بناسپتی گھی میں ، نہ مزا ، نہ سواد ، بس رسمی سی کارروائی ہوتی ہے –-26جنوری2022-
جو گائے یا بیل ذبح کرنا ہوتا ذبح کرنے سے ایک دن پہلے قصاب اُسے شہر میں پھراتے تاکہ لوگ دیکھ لیں جانور جوان اور صحت مند ہے – جانور کی رسی پکڑ کر شہر میں پھرانے والے کے ایک ہاتھ میں پیتل کی بڑی سی گھنٹی ہوتی تھی جس کی آواز دُور دُور تک سنائی دیتی تھی ، اس گھنٹی کی آواز ذبح ہونے والے جانور کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتی تھی – لوگ گھروں سے نکل کر جانور کو سر سے پاؤں تک دیکھ کر اطمینان کر لیتے تھے کہ اس کا گوشت صاف سُتھرا اور صحتمند ہوگا –
داؤدخیل میں ہفتے میں ایک یا دو دفعہ چاچا گامُوں (غلام محمد) قصاب ایک گائے یا بیل ذبح کرتا تھا – کبھی کبھار محلہ انزلے خیل اور امیرے خیل کے سنگم پر لالا مصر قصاب کے گھر میں بھی گائے یا بیل ذبح کیا جاتا تھا – بعد میں مصر نے یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کاروبار شروع کر دیا –
محلہ سالار اور محلہ شریف خیل کے سنگم پر چاچا رمضان قصاب مہینے میں ایک آدھ بکرا اپنے گھر میں ذبح کرتا تھا – ہم وہیں سے گوشت خریدتے تھے – اُس زمانے میں بلی جنتے قد کاٹھ والے ٹیڈی بکرے مارکیٹ میں نہیں آئے تھے – مجھ سے تو ٹیڈی بکروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا – ایک عجیب سی بُو ہوتی ہے اس گوشت کی – باربی کیو (تکہ ، کباب ،چانپ) کی صؤرت میں ہو تو کھا لیتا ہوں —— چاچا رمضان بڑے سائیز کے پہاڑی بکرے ذبح کرتا تھا – اُن کا گوشت سالن کی صُورت میں بھی بہت لذیذ ہوتا تھا – وہ ہم بڑے شوق سے خریدتے تھے –
گوشت چونکہ کم یاب تھا ، اس لیئے داؤدخٰیل کے لوگ زیادہ تر دال سبزی پر گذارہ کرتے تھے – لیکن گھر کے خالص دیسی گھی میں بنی ہوئی دال سبزی بھی غذائیت اور توانائی میں گوشت سے کم نہیں ہوتی تھی –-27جنوری2022
لکڑیوں کی آگ پر مٹی کی بنی ہوئی کٹوی (ہانڈی) میں بنے ھوئے سالن کا اپنا مخصوص نہایت لذیذ ذائقہ ہوتا تھا ۔۔ تراپ ضلع اٹک ، تلہ گنگ اور کالاباغ کی کٹویاں ہمارے علاقے میں بہت مقبول تھیں۔خالص دیسی گھی ، صاف ستھرا صحتمند گوشت یا کیمیائی کھاد سے پاک دالیں اور سبزیاں ، کٹوی میں پکا ہوا ہر سالن نہایت لذیذ ہوتا تھا ۔۔۔۔ اب نہ وہ چیزیں ہیں نہ وہ ذائقے ، نہ وہ لوگ ۔۔۔۔۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ--28جنوری2022-
انور علی پبلک سکول داودخیل کے سابق پرنسپل نعیم اللہ خان کی وفات میرے لیئے ایک ذاتی صدمے سے کم نہیں۔
نعیم اللہ خان امیرے خیل قبیلہ کے اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے جس میں میرا بچپن گذرا- ان کے والد محترم عیسب خان صاحب میرے ٹیچر تھے۔ ان کے بڑے بھائی انعام اللہ خان اور خود نعیم اللہ بھی میرے سٹوڈنٹ رہے ۔
مگر نعیم اللہ خان کا مجھ سے تعلق ان تمام حوالوں سے بالاتر تھا۔ یہ تعلق محبت اور احترام سے آگے عقیدت کی سرحدوں کو چھوتا تھا۔ وہ مجھے اپنا آئیڈئیل سمجھتے تھے۔ مجھ سے قرب پر فخر کرتے تھے، اللہ جانے کیوں ؟ کہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں۔
جب بھی مجھ سے ملنے آتےکوئی نہ کوئی چیز گفٹ کے طور پہ لے آتے۔ کئی بار ان سے کہا بیٹا یہ تکلف نہ کیا کریں۔ نعیم اللہ خان کہتے تھے سر، کیا کروں ، آپ کے ہاں خالی ہاتھ آنے کو دل نہیں مانتا۔
نعیم اللہ خان کی اچانک موت کے صدمے سے سنبھلنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ایصال ثواب تو روزانہ کرتا رہوں گا، کمی پھر بھی محسوس ہوتی رہے گی۔
رب کریم ان کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے۔ اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔
نعیم اللہ خان سے آخری ملاقات اپریل میں میری اہلیہ کی برسی کے موقع پر ہوئی تھی۔۔ کیا خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ھے۔
یہ درست ہے کہ
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے،
مگر میرا نعیم اللہ خان تو ایک ہی تھا، اس جیسا نہ کوئی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔-29جنوری2022
وہ جو راستے میں بچھڑ گئے
بہت یاد آتے ہیں وہ لوگ ، ہر نام ایک منفرد شخصیت ، ہر ایک سے وابستہ بہت سی حسین یادیں ، یادگار واقعات ، باتیں ، قہقہے ، بحث و مباحثہ — ایک خوبصورت محفل تھی جو اُن کے جانے سے اُجڑ گئی –
ذکر ہے گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے اُن ساتھیوں کا جو ایک ایک کر کے اس دُنیا سے رخصت ہو گئے – سب کے بارے میں الگ الگ پوسٹس پچھلے دوچار سال میں لکھ چُکا ہوں – میں نے ایک پوسٹ میں کہاتھا کہ کسی کو ان ناموں سے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو ، میرے لیئے یہ سب لوگ بہت اہم ہیں – مجھے میرے رب نے قلم عطا کیا ہے – اس قلم پہ ان سب دوستوں کا حق ہے ، جو میں ادا کرتا رہوں گا – کوئی اور انہیں یاد کرے نہ کرے ، میں انہیں یاد کرتا رہوں گا – لوگوں سے ان کے لیئے دعائے مغفرت کی درخواست کرتا رہوں گا –
پرنسپل صاحبان میں سے ڈاکٹر رشید احمد سب سے پہلے رخصت ہوئے – بین الاقوامی سطح کے ریاضی دان (میتھیمیٹکس کے ماہر) تھے – پنڈی سے یہاں پرنسپل بن کر آئے تھے – تقریبا ایک سال یہاں رہے ، پھر ملتان ڈویژن کے ڈائیریکٹر کالجز متعین ہوئے – ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیٹے کے ہاں جنوبی افریقہ منتقل ہوگئے – وہاں بھی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے- پھر کینسر کےمرض نے زندگی کا چراغ گُل کردیا تو جنوبی افرہقہ کی زمین نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا –
ڈاکٹر صاحب بہت دیانت دار اور بااصول انسان تھے – کالج میں سٹوڈنٹس کا حاضری نامہ Absentees slip انہوں نے رائج کیا – ہر ٹیچر اپنی کلاس کے غیرحاضر سٹوڈنٹس کے رول نمبر لکھ کر Absentees slip پرنسپل صاحب کے آفس میں جمع کرواتا تھا – جو ٹیچر حاضری نامہ جمع نہ کراتا اُس سے جواب طلب کیا جاتا تھا – اُنہی دنوں میں اپنے کالج کے علاوہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین میں بھی سیکنڈ ائیر اور فورتھ ائیر کو انگلش پڑھاتا تھا – ایک دن ڈاکٹر صاحب نے کہا “ ملک صاحب ، آپ کی Absentees slips نہیں آرہیں “ –
میں نے کہا “سر ، مشکل ہے- مجھے روزانہ یہاں سے خواتین کے کالج میں بھی جانا پڑتا ہے – پھر واپس آکر یہاں کی فورتھ ائیر کو پڑھاتا ہوں – اس آمدورفت کی وجہ سے Absentees slip بنانے کا دھندا مجھ سےنہیں ہوتا “
ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر کہا “ میں نے ویسے ہی پُوچھ لیا تھا – مجھے پتہ ہے آپ ایک اہم قومی خدمت سرانجام دے رہے ہیں “ –-30جنوری2022-
ڈاکٹر رشید ٹرانسفر ہوئے تو ڈاکٹرغلام سرورخان نیازی گورنمنٹ کالج میانوالی میں پرنسپل کے منصب پر فائز ہوئے – ڈاکٹر سرور نیازی سروس کے پہلے پندرہ بیس سال گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے شعبہءتاریخ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے – پھر وائس پرنسپل کی حیثیت میں گورنمنٹ کالج میانوالی میں تقرر ہوا – ڈاکٹر رشید صاحب کے بعد اس کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے –
پرنسپل کی حیثیت میں ڈاکٹر سرور نیازی صاحب کا دور سٹوڈنٹس کے ڈسپلن کے لحاظ سے مثالی دور تھا – کالج کے اوقات میں مسلسل راؤنڈ کر کے کلاسز میں سٹوڈنٹس کی حاضری یقینی بناتے تھے – تقریبا تین سو کنال پر محیط کالج کیمپس کا چپہ چپہ چھان کر بھگوڑے سٹوڈنٹس کو کینٹین ، ہاسٹل ، سائیکل سٹینڈ اور لائبریری کے پچھواڑے سے ہانک کر کلاسوں میں لے جاتے تھے – ڈسپلن میں کوتاہی پر سٹوڈنٹس کے والدین کو طلب کر کے ان کا تعاون بھی حاصل کرتے رہے –
ٹیچرز کے ساتھ ڈاکٹر سرور نیازی کا رویہ خاصآ جمہوری تھا – ہر کام مشاورت سے کرتے تھے – ٹیچرز سے بھی کہتے تھے سٹوڈنٹس ڈسپلن پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں – اگر کوئی سٹوڈنٹ آپ کی بات نہ مانے تو اُس پھنے خان کو میرے حوالے کردیں – بہت بارعب شخصیت تھے – کوئی سٹوڈنٹ ان کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا تھا –
سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ریسرچ ڈاکٹرصاحب کا پسندیدہ موضوع تھا – اس ریسرچ پر انہیں تین دفعہ صدارتی ایوارڈ بھی ملا –
ڈاکٹر سرور نیازی کی ریٹائرمنٹ کے بعد شعبہ ء کیمسٹری کے سربراہ پروفیسر ملک محمد انور میکن پرنسپل مقرر ہوئے – تعمیرات کے لحاظ سے ان کا دور اس کالج کے لیئے خوش قسمتی کا دور تھا – ایم اے بلاک اور رحمتہ للعالمین ہال انہی کے دور میں تعمیر ہوئے – ملک انور صاحب کیمسٹری کے بہترین ٹیچر تھے – پروفیسر صاحبان کی بائیں بازو کی نظریاتی تنظیم کے فعال رہنما تھے – قلندر مزاج ، کھُلے ڈُلے انسان تھے – ڈسپلن کے نہ خود پابند تھے ، نہ دُوسروں کو پابندی پر مجبُور کرتے تھے – اس لیئے سٹوڈنٹس اور ٹیچرز سب ان سے راضی رہے –
ملک انور صاحب ، بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر لالا فاروق اور میں ایک ساتھ ریٹائر ہوئے – ملک انور اور فاروق صاحب 30 جنوری کو ریٹائر ہوئے ، میں 31 جنوری کو –-٣٠  جنوری 2022
نفیس مزاج ، خوش ذوق ، خوش لباس ، خوش اخلاق پروفیسر ملک سلطان محمود اعوان گورنمنٹ کالج میانوالی میں ہیڈ آف انگلش ڈیپارٹمنٹ تھے – پشاور یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کے لیکچرر مقرر ہوئے ، ملازمت کا تمام عرصہ اسی کالج میں گذارا – بہت محترم اور شفیق شخصیت تھے – پنجاب یونیورسٹی کی سینیٹ کے ممبر بھی رہے – یونیورسٹی سے اس تعلق کی بنا پر گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے انگلش کی کلاسز کے اجراء میں پروفیسر سلطان محمود اعوان نے بہت اہم کردار ادا کیا –
پروفیسر صاحبان کی نظریاتی تنظیم ، تنظیمِ اساتذہ کے سینیئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے – بہت ملنسار ، مہمان نواز اور دوست نواز انسان تھے – جواں سال بیٹے طارق کی ناگہاں وفات کے بعد ان کی صحت سنبھل نہ سکی زندگی کے آخری پندرہ بیس سال بہت مشکل سے بسر کیئے –
ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسر سلطان محمود اعوان الصفہ کالج میانوالی کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے – اسی زمانے میں میرے بیٹے امجدعلی ملک نے ایم اے انگلش کرلیا تو مجھ سے کہا سرسلطان محمود صاحب سے کہیں مجھے اپنے کالج میں لیکچرر رکھ لیں –
میں ملک صاحب سے اُن کے گھر پہ ملا اور امجد کے بارے میں بات کرنے لگا تو ملک صاحب نے ہنس کر کہا “ ملک صاحب ، آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں نے امجد کے تقرر کے آرڈرجاری کر دیئے ہیں – اسے کہیں کل آجائے – اور آپ کے لیئے ایک اور آفر بھی ہے – آپ کی سروس کے دو سال باقی ہیں ، آپ سرکاری ملازمت سے چُھٹی لے کر میرے کالج میں آجائیں – گورنمنٹ سے تنخواہ بھی آپ کو ملتی رہے گی اور اُتنی ہی تنخواہ ہم بھی آپ کو دیتے رہیں گے “-
میں نے کہا “ سر، بڑی نوازش ہے آپ کی ، مگر میں چالیس سال ملازمت کر کے تھک گیا ہوں – اب مزید ملازمت نہیں کر سکتا “-
گورنمنٹ کالج میانوالی میں سروس کے دوران پروفیسر سلطان محمود اعوان صاحب پروفیسرز کی جس نطریاتی تنظیم کے سربراہ تھے ، اس کی مخالف تنظیم کے سربراہ ملک محمد انور میکن تھے – بیس پچیس سال شدید نظریاتی مخالفت چلتی رہی – ریٹائرمنٹ کے بعد جب پروفیسر سلطان محمود اعوان الصفہ کالج کے پرنسپل بنے تو ایک دن ملک انور صاحب ان سے ملنے کے لیئے الصفہ کالج جا پہنچے – بیس پچیس سال کے اختلافات چند منٹ میں انسُو بن کر مٹی میں مل گئے – دونوں بزرگ گلے مل کر دیر تک روتے رہے –
——————– رہے نام اللہ کا ———————بشکریہ-منورعلی ملک-٣١ جنوری 2022

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.