ظلم اور بغاوت ۔قسط.1
محمد امان اللہ خان نیازی ۔
انتساب۔پاک ماتا کے سوتیلے بیٹوں کے نام ۔
جب کھلی کھلی حویلیوں میں جھانک کر دیکھا تو جنت سامان نظر ایا۔ وسیع و عریض اور خوبصورت لانوں میں لگے ہوئے خوبصورت پھول نئی نویلی دلہن کا روپ دھارے ہوئے تھے اور ہر روپ کو چھو لینے یا نظروں میں سما لینے کے لیے دل مچل اٹھتا تھا۔ پانی کی خوبصورت فوارے حویلی کو اور چار چاند لگائے ہوئے تھے۔ ہر ایک چیز خدا کی قدرت میں اس عظیم مالک کی قدرت بیان کر رہی تھی۔ سرسبز علاقہ درختوں سے ڈھکا ہوا تھا ہرے بھرے کھیت سہانے گیت گا رہے تھے اور باغات موسم سرما کو سرماکی دعوت دے رہے تھے۔ دریائے سندھ کی لہریں ابھی تک زور و شور پر تھیں اور ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر ایک خوبصورت دل کوبھانے والا منظر اجاگر کر رہی تھیں ۔جہاں ٹکرا ٹکرا کر مرتی جا رہی تھیں وہاں ایک لہر مرتی تو فورا ایک اور لہر نیا جنم لے کر دیکھنے والوں کو پر مسرت کر دیتی ۔زندگی کی حقیقت جہاں اپنے کنسپٹ کی پاسداری میں ہوتی ہے وہاں خوبصورت مناظر انسانی زندگی کا اصل رازاور دل کو فرحت بخشتے ہیں۔ انسان نے خود کو پرمسرت رکھنے کے لیے خوبصورت محلوں کو پھولوں سے سجا رکھا ہے اور کمزوروں نے اپنی جھونپڑیوں میں بھی ناکام کوشش کر رکھی ہوتی ہے. بے شک پھول جھونپڑیوں میں نہیں محلوں میں جنم لیتے ہیں۔ جھونپڑیوں میں وہ بھی خوش نہیں ہوتے اور بالاخر سنگم چھوڑ دیتے ہیں ۔انسان تو پھر بھی انسان ہے وہ کیسے محلوں کی طلب نہ کر پائے۔ فطرت انسانی ہمیشہ سے خوشیوں کی طالب رہی ہے اور طاقتور فرعونیت ہمیشہ عیاشی کی طلب کرتے ریئےہیں ۔انسان انسان کو لہولہان کرتا سکون لوٹتا اور خوشیاں چھینتا ا رہا ہے ۔انسان کو غلام بنانا انسان کا جنون رہا ہے اور میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ انسان انسانیت کا دشمن کیوں ہے۔ ہاں طاقت ایک نشہ ہے اور انتہائی حرام اور گھٹیا ترین نشہ ہے ۔خوبصورت سے خوبصورت نشہ صرف جیون کا سنگم جو مامتا کے دودھ کی طرح حلال اور ایسا نشہ کہ میرے مالک کی نماز بھی ڈسٹرب نہیں ہوتی یا پھر نشہ عظیم خداوندی ہے۔ ایک کمزور دھرتی پر ایک ظالم اور طاقتور اجارہ دار کی اجارہ داری اور ظلم قائم تھا۔ جناب مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ معاشرہ کفر پہ قائم رہ سکتا ہے مگر لاقانونیت پر نہیں۔ داماد رسول مقبول سردار دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دوسرا قول ہے کہ سب سے خوبصورت پودا محبت کا ہے چونکہ وہ دلوں میں اگتا ہے مگر انسان نے فرعونیت اپنا کر اپنے وقار اپنے نظریے اور انسانیت کی نفی نہیں اسے ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ قران فرقان میں ارشاد باری تعالی ہے کہ انہوں نے۔عیسائیوں۔ میرے دین کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے ۔اج ہم نے بھی اپنے دین کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے اور ہر مولوی اپنے خود ساختہ دین کی انسانی خون بہا کر پرورش اور دولت جاگیریں اور بنگلے بنا رہا ہے۔ انسان کا خون سستا ہی نہیں بالکل بے قیمت ہو گیا ہے۔ جس کا جی چاہے بہا لے حالانکہ قران فرقان میں ارشاد باری تعالی ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی مگر ملا ازم کو اللہ اور اللہ کے فرمان سے کوئی غرض نہیں انہیں اپنا ایک اور دین چاہیے اور انہیں پوری انسانیت پر لاگو کرنے کا جنون ہو چکا ہے۔انسان محبت کے پودے اور درخت اگانے کی بجائے خاردار جھاڑیاں اور نفرت کی قد اور دیواریں کھڑی کر رہا ہے ۔ایک وسیع و عریض اور خوبصورت حویلی جو پھولوں سے سجی ہوئی تھی وہاں نواب امیر حاتم نوابی چارپائی پر بیٹھا حقے کے ہلکے ہلکے کش لے رہا تھا ۔تکبر غرور فرعونیت اور ظلم کو دل میں سما کر بیٹھا ہوا تھا۔ خدمت گار پاؤں دبا رہے تھے کوئی کندھے کوئی پیروں میں بیٹھا خوشامد کر رہا تھا اور کوئی خواہ مخواہ پنکھا چلا رہا تھا ۔دو گن مین بلاوجہ اٹینشن کھڑے خدمت پر مامور تھے۔ سامنے ذائقہ رنڈی ڈانس کر رہی تھی۔ اس کے جسم میں بجلی کی پھرتیاں بھری ہوئی تھیں۔ اس نے ڈانس کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت غزل بھی چھیڑ رکھی تھی۔ نواب حاتم شراب میں دھت تھا اور دولت ہوا میں اڑ اڑ کر کلا بازیاں کھا رہی تھی ۔وہ ذائقہ رنڈی پر پانی کی طرح دولت بہائے جا رہا تھا اور ہوش و حواس سے بالکل عاری تھا۔ساحر لدھیانوی کی یہ خوبصورت غزل نواب امیر حاتم کے محل نما بنگلے میں تھرتھرا رہی تھی۔
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے ۔
نواب صاحب غزل کے ساتھ جھوم رہا تھا اور غزل کے ساتھ غزل بنا ہوا تھا۔ ذائقہ پر نوٹوں کی بارش ہو رہی تھی اور ذائقہ جان ہر لمحے بعد نواب صاحب کے بازوں میں ڈوبی جھوم جھوم کر نواب صاحب کو پاگل کیے ہوئے تھی۔ انسانی شرم و حیا وقار غیرت مقام اور ضمیردار پر لٹکا ہوا تھا مگر پھر بھی ہم نادار اور ہاری لوگ نواب صاحب کی خوش امد میں لگے ہوئے تھے۔ جہاں نواب صاحب کو داد دے رہے تھے وہاں اس کی درازی عمر کے لیے دعائیں بھی مانگ رہے تھے ۔وہ جیسے ہی ذائقہ کو بازوں میں سمیٹ کر نوچتاہم نواب صاحب کے نعرے بلند کر دیتے تھے۔ کلاشنکوپوں کے برسٹ ہوا میں گونج گونج کر رات کو دن میں بدل رہے تھے۔ نادار اور غریب ہاری نواب صاحب کا حقہ لمحہ بھی لمحہ تازہ کر رہے تھے اور نواب صاحب نشے میں دھت تھا وہ حقے کو صرف عادتا استعمال کرتا تھا۔ وہ ایک دو کش لگاتا اور کہتا چلو حرام زادے اسے تازہ کرو اور گالیوں کے ساتھ دو چار تھپڑ بھی رسید کر دیتا لیکن حقیقت میں وہ شراب اور حساب سے زیادہ پیتا تھا ۔ہم انتہائی گھبرائے ہوئے تھے کہ کسی وقت نواب صاحب کا موڈ بگڑ سکتا تھا اور وہ کوئی بھی ظلم روا کر سکتا تھا چونکہ یہ نواب صاحب کی ہر رات کا شیوہ تھا اور اس کی ہر رات رنگ رلیاں مناتے گزرتی تھی اور رنڈیوں کے علاوہ مظلوم ہاریوں اور ناداروں کی بیٹیوں کی عزت کو بھی لوٹتا تھا اور کوئی ایسا نہ تھا جو اس کو منع یا منت سماجت کر لیتا روکنا تو کسی کے بس کی بات ہی نہ تھی۔ اس کی بیٹی نواب زادی رابعہ بھی دیکھا کرتی تھی مگر وہ تو بچی تھی وہ کیسے ایک طاقتور باپ اور نواب کو روکتی مگر جب کبھی رابعہ کی امی اس کے ظلم کا تذکرہ یا شکوہ کرتی تو وہ سوچا کرتی کہ میں بڑی ہو کر اس کا مقابلہ کروں گی لیکن نواب صاحب کا مقابلہ کرنے کا تصور ہی نہ تھا بلکہ تنہائی میں سوچنا بھی بہت مشکل اور موت کے برابر تھا ۔وہ سارا علاقہ اور ساری جاگیریں اس کی اپنی تھیں گر کوئی درخواست کرنے کی جرات کرتا تو وہ زندہ اٹھا کر اسے بھٹیوں میں ڈال دیتا تھا۔ اس کے نزدیک انسان سے چیونٹیوں کی حیثیت بہت زیادہ تھی۔ انسان کو وہ چیونٹی ایسا بھی نہیں سمجھتا تھا۔ انسان کو سرعام کچل دینا مار دینا اس کا عام معمول اور کیس بھی انہی کے اوپر درج ہوتا تھا۔ ہمارے ملک کی عظیم پولیس اس کا ہر حکم بجا لاتی تھی اور اس کے احکامات کی پاسداری فرض سمجھتی تھی ۔پولیس کو دولت کے علاوہ لڑکیاں بھی ملتی تھیں چونکہ افسر شاہی اور طبقاتی نظام نے نظام کو ریزہ ریزہ اس کی حقیقت کو ختم اور طاقت اور افسر شاہی کا نظام مکمل طور پر اوپن ہو کر چھا چکا ہے۔ تذلیل انسانیت افسر شاہی کا وطیرہ قانون کی دھجیاں اڑانا اور دولت کمانا افیسروں کا فخر ہے ۔مقتول بھی خود اور قاتل بھی خود ۔میرے نظام تمہاری کیا باتیں۔ ملک کی سب سے بڑی جگہ فورس پولیس رات کو دن کہے دن کو رات سب درست ہی نہیں فرض ہے۔ وہ طاقتور نواب تھا اور پولیس اس کی باندی وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ ان لوگوں کی بیٹیاں ہماری تفریح اور ہمارے سکون کے لیے پیدا ہوتی ہیں ورنہ ان کی کیا ضرورت تھی اور ان کے مرد ہماری خدمت کے لیے اور ہم مجبورا کہا کرتے تھے کہ نواب صاحب نے بات تو پتے کی کی ہے۔ وہ پورے علاقے کا مالک اپنی دنیا کا طاقتور بادشاہ بلکہ فرعون اور تمام لوگ اس کی زمینوں پر اباد کس کی جرات کے اس کو روک ڈالتے۔ وہ ہمارا مالک تھا اور ہم کمزور ہاری وہ دھڑلے سے کسی نہ کسی ہاری کی بیٹی منگوا کر رنگ رلیاں منا لیتا تھا اور ان کی پاکیزگی خوشبو اور عزت لوٹ کر صبح گھر بھیجوا دیتا تھا ۔اپ سوچیں گے کہ یہ کس دنیا کی بات لے بیٹھا ہے ۔جناب اپ ذرا وڈیروں میں جائیں ان کی جیلیں اور ہاریوں کا حال دیکھیں پھر ان سے پوچھیں کیا یہ تمہارے ملک کی کہانی ہے ۔جہاں کا قانون اتنا بہادر اور باوقارہے کہ کمزور کے لیے ببر شیر اور طاقتور کے سامنے بھیگی بلی ہے ۔ہماری تاریخ طاقتور اور کمزور کے جنگل سے نکل ہی نہ سکی۔ ذرا ہندوستان کی فلمیں اپنے سندھ بلوچستان اور پنجاب کے جاگیردارانہ اضلاع کو دیکھیں۔ تمہارے پنجاب کے صرف دو اضلاع میانوالی اور لاہور اس لعنت سے محفوظ ہیں مگر اب 2015 میں میانوالی کو بھی چھوٹے اور بڑے کی قداور دیواروں میں قید کیا جا رہا ہے۔ زمین کی طاقت نہ صحیح بندوق کی طاقت اجاگر ہو رہی ہے البتہ لاہور اسلام اباد راولپنڈی جیسے اضلاع جاگیردارانہ سوچ سے محفوظ ہیں مگر افیسری طاقت وہاں بھی موجود ہے ۔اس ملک اس نظام اور ان حکمرانوں کی کیا باتیں ۔جہاں ایک سسراس کے باپ اور ہزاروں لوگوں کے سامنے میلہ لگا کر اپنی بہو کو کتوں کے اگے ڈال دے اور وہ زندہ باد ہو تو پھر لعنت ہے ایسے سسٹم اور ایسی زندگی پر گر قانون و انصاف ہوتا تو ما سوائے کمزوروں اور مجبوروں کے سب کو اسی طرح کتوں کے اگے ڈال دیا جاتا تو پھر زندگی بھر کوئی بچی کتوں کی خوراک نہ بنتی اور پھر کوئ باپ مجبور و بے بس لاچار جلا جلا اور دکھا دکھا کرکر نہ جلایا جاتا۔یہاں بہت عجیب و غریب واقعات ہوئے مگر افیسروں اور سیاستدانوں کو احساس تک نہ ہوا اور ہم عظیم قوم کی کیا باتیں کہ ہر الیکشن میں انہی کے لیے 20۔ 25 ادمی مروا دیتے ہیں۔ ایسی قوموں کو داد ضرور دینی چاہیے کہ دیکھو کہ ہم کتنی عظیم اور باشعور قوم اور ہم جیسا کوئی اور کائنات میں کہاں ہو سکتا ہے۔ ہم نے ساری زندگی حکومت پر اعتراض کیا تو کہا کہ حکومت نے مہنگائی کر دی۔ جناب یہ تو کوئی بات نہیں ہر اگلے سال مہنگائی تو ہونی ہوتی ہے اور ہم نے اج تک خود نہیں سوچا یہ بات سنی سنائی اور پیچھے سے چلی ا رہی ہے ۔ہم نے یہ سوچا بھی نہیں کہ نظام کی درستگی ہو گر نظام درست نہ ہو تو انسان کی غیرت بھی مٹ جایا کرتی ہے ۔ہاں میں بات کر رہا تھا کہ مظلوم اور نادار لوگ اپنی عزت لٹا کر اپنی انکھوں سے دیکھا کرتے تھے اور وہ اپنی لٹتی عزت کا ماتم تک نہ کر سکتے تھے بلکہ ماتم بھی چھپ چھپ کر رات کی تنہائیوں میں کرتے تھے اور یہ خوف بھی سوار ہوتا تھا کہ گر نواب صاحب کو علم ہو گیا کہ ہم اپنی تباہی کا ماتم کر رہے ہیں تو ہماری اس گستاخی پر ہمیں موت کی سزا دے گا ۔وہ کہا کرتا تھا کہ اپ کو فخر ہونا چاہیے کہ ہماری بیٹی کو نواب صاحب نے پسند کیا اور اپنی چوک پر بلاک کر اپنی محبت کا شرف بخشا وہ ظالم تھا اور ظلم اور فرعونیت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اسے اپنی موت کا کبھی احساس تک نہیں ہوا تھا اپنی جاگیروں کے گھمنڈ میں خداوند تالی کو بھول چکا تھا ۔بس اس کا اتنا کام تھا لوگوں پر ظلم کرنا لوگوں کی عزتیں لوٹنا لوگوں سے جبرا کام لینا اور انہیں ذلیل و رسوا کر کے اپنی تجوریاں بھرنا اور مفادات حاصل کرنا اس لیے کوئی شخص اپنی مظلومیت اور اپنی لٹتی عزت پر رو بھی نہیں سکتا تھا۔ دوسرا ظلم کہ ہم مظلوم اور نادار لوگ خود اپنی بیٹیوں کو ہار سنگار کرا کر اس کے عالی شان بنگلے پر خود لاتے اور اپنی عزت لٹا کر واپس لے جاتے تھے مگر اس کے باوجود کوئی شخص مقابلہ تو دور گزارش کرنے کی جرات بھی نہ رکھتا تھا۔ اس نے یہ تصور اجاگر کر رکھا تھا کہ جیسے کوئی کہے کہ تم اپنی وائف کے پاس کیوں گئے ہو یقینا وہ زیادتی بدمعاشی اس کی عزت اور اس کے حق پر ڈاکہ ڈال رہا ہوگا۔ یہ طاقت اور کمزور کا معاملہ تھا طبقاتی نظام نے یہاں انسانیت کی دھجیاں بکھیر رکھی تھیں۔ ہم بے بس تھے چونکہ ہم سب لوگ اس کے ہاری اور اس کی زمینوں پر اباد تھے۔ انگریز بہادر نے بڑی بڑی جاگیریں اپنے غلاموں اور ملکی غداروں کو دے رکھی تھیں۔ وہ خود تو چلے گئے مگر ان کے غلام سردار اور نواب بن گئے۔ وہ انہیں اس قدر مضبوط اور توانا کر گئے کہ ان کا مقابلہ کرنا کسی کمزور ادمی کے بس کی بات نہیں ۔اس لیے ہمارے نواب صاحب سرعام کہا کرتے تھے کہ تم لوگ میرا دیا ہوا رزق کھاتے ہو تمہیں صبح شام میرے قدموں میں پڑ کر میرے قدم چاٹنے چاہیں ۔وہ فرعون وقت اپنی دھن میں مست شراب میں دھت ہماری بیٹیوں کے بازوں پر سویا کرتا تھا اورہم راتوں کو روتے اور اپنی عزت کا ماتم کرتے تھے ۔میری بہن پورے پانچ سال کی ہو چکی تھی اور مجھے یہ غم جلائے جا رہا تھا کہ میں اپنی بہن کی عزت کیسے بچاؤں گا جو کسی صورت بھی ممکن نہ تھا۔ میں یہاں سے بھاگ کر بھی نہ جا سکتا تھا چونکہ وہ ہمیں رقم دے دے کر سود در سود لیا کرتا تھا اور ہم سب لوگوں پر اس نے لاکھوں روپے چڑھا رکھے تھے. جو ہم زندگی بھر ادا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس نے ہمیں بڑی قد اور دیواروں میں پھنسا رکھا تھا اور ہم کوشش کے باوجود چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ صرف میری بہن نہیں یہاں ہر بچی نواب صاحب کی نظروں میں ہوتی ہے۔ وہ معروف شکاریوں کی طرح اپنے شکار پر نظر رکھتا ہے اور میری بہن ناصرہ تو بہت خوبصورت تھی گو ابھی تک بالکل معصوم اور بچی مگر اس کی دلکشی فورا انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی ۔الحمدللہ اس کی ہر ادا دلربا دل فریب اور بہت خوبصورت اس کا کچا حسن دل لوٹنے کی مکمل مہارت رکھتا تھا۔ نواب صاحب اس کے بھی جوان ہونے کی منتظر تھے۔ وہ بے شک اپنے محل میں تھے مگر اس کی نظر ہماری چار دیواریوں کے اندر تھی۔ اس لیے نواب صاحب مجھ پر توجہ دیے ہوئے تھے اور میں جانتا تھا کہ یہ توجہ اور اعلی حضور کی مہربانیاں کیوں ہیں ۔میں دل ہی دل میں جل جاتا تھا مگر مجبور تھا میں کرہی کیا سکتا تھا ۔کوئی طاقتور بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ میرا شمار تو کسی قطار میں نہ تھا ۔ایک کمزور ہاری جس کی کوئی حیثیت نہ پہچان بس غلام نے غلام کو جنم دیا اور میں غلامی کے لیے اپنی نسل میں اگیا البتہ میرے پاس علم ایسی عظیم اور منفرد نعمت ضرور تھی۔ جس علم کی عظمت اللہ تعالی نے قران فرقان میں یوں بیان فرمائی کہ کیا علم والا اور بے علم برابر ہو جائے گا یہ تو ایسے ہے جیسے اندھا اور انکھیارہ ۔اس سے بڑی عظمت اور کیا ہو سکتی ہے لیکن ہم سے نواب صاحب نے غیرت عزت وقار اور سوچ چھین لی تھی۔ ہمارے نزدیک یہ سارے کام درست اور نواب صاحب کو حق حاصل تھا کہ وہ ہماری عزتیں لوٹیں ہمیں مارے پیٹے ہم سے زمینوں اور گھروں میں کام لے یہ اس کا اصولی اور پیدائشی حق ہے اور ہمیں صرف اس لیے پیدا کیا گیا کہ ہم نواب صاحب کی خدمت کریں اور ہماری بیٹیاں اسے راتوں کا چین و سکون مہیا کریں اور وہ اپنی ہر رات سہاگ رات میں بدل ڈالے اور معصوم بچیوں کی خوبصورت جوانی انجوائے کرے ۔اس ظالم نے یہ بھی نہ سوچا کہ چلو تین چار لڑکیوں سے شادی کر لوں حالانکہ اس نے کتنی رنڈیوں کو کنیزیں بنارکھا تھا مگر اسے ہر رات سہاگ رات بنانے کا جنون اور ہر رات کو سہاگ رات بنائے ہوئے تھا اور میرا قانون تماشے دیکھ رہا تھا.
وہ بہت خوبصورت اور حسین شام، موسم بالکل صاف،عروج چاند اوراسکی چاندنی کھیتوں،شہروں اور گھروں میں پھیلی ہوئ تھی۔جیسے کسی خوبصورت بنگلے کو روشنیوں میں نہا دیا گیا ہو اور روشنیوں نے رات کو دن بنا رکھا تھا۔ گنگھرو کی چھنکار اورصنف نازک کے بجلی بھرے جسم کی تھرتھراہٹ، کھنکتی چوڑیاں، ڈھلکتے انچل نے دل کو پاگل کر رکھا تھا۔ ذائقہ جان کا ہارمونیم ماسٹر بڑے پیار سے ہارمونیم پر انگلیاں چلا رہا تھااور کوئ خوبصورت راگ چھیڑے ہوۓ تھا۔ خدمت گار نواب امیر حاتم کو سلامی دے رہے تھے اور اس کی خوشامد میں پرجوش تھے۔ ابھی ذائقہ جان ہال میں اترنے والی تھی ۔اس کا ادھا جسم ننگا اور ادھا ڈھانپا ہوا تھا ۔جیسے ذائقہ جان ننگی ہو کر ننگ کو اجاگر کرنے لگی تھی۔ ایسے ہی نواب حاتم ننگی سوچ کا مالک تھا۔ ہارمونیم بانسری اور طبلے کی اواز بنگلے کے ہال میں تھرتھرا رہی تھی اور ہر ادمی کا انگ انگ ناچ رہا تھا۔ نواب صاحب شراب میں دھت بڑے مست انداز میں حقہ پی رہے تھے اور وہ اس پورے منظر کا دولہا بنا اس خوبصورت منظر کو انجوائے کر رہا تھا ۔اس رات کا ہر منظر خوبصورت دل ربا اور منفرد تھا اتنے میں تالیوں کی گوج میں ذائقہ جان اٹھی اور ڈانس شروع ہو گئی اس نے جسم کو بجلی کی مانند گھمایا اور کھڑی ہو کر ہاتھ باندھے اور نواب صاحب کو سلامی دی نواب صاحب نے اگے بڑھ کر اس پر دولت اڑائی۔ یہ اجازت دینے کا ایک طریقہ اور رسم تھی اور پھر تھرتھراہٹ شروع ہو گئی ۔ڈانس کیا تھی ایک دوسرے کو نوچنے کا رنگ تھا وہ لمحہ لمحہ نواب صاحب کے بازوں میں جا پڑتی ہے اور نواب صاحب سرعام شراب میں دھت اس کو نوچتا اور انجوائے کرتا رہا ۔لفظ انجوائے تو تو خیر درست نہیں ہوگابلکہ لفظ نوچنا صحیح درست ہوگا ۔اس کے جسم میں بجلیاں بھری ہوئی تھیں اور اس کی ڈانس سے انسانیت لولہان بلکہ انسانیت اور صنف نازک کے سارے وقار اور مقام ریزہ ریزہ کیے جا رہے تھے ۔نواب صاحب نے اس کو بازوں میں لپیٹ رکھا تھا اور بھری محفل میں اسے نوچ رہا تھا ۔ہم لوگ نواب صاحب کو داد دے رہے تھے۔ ڈانس ہوتی رہی اور ہم تماشہ دیکھتے رہے۔ اخر ہم بھی انسان تھے ،ہم پر اثر ہونا ضروری تھا مگر ہم مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ہمیں حسن اور ڈانس انجوائے کرنے کا ہوش کہاں تھا۔ اخر پہلا شو ختم ہوا اور ذائقہ جان نے تھوڑا سا سانس لیا اور ایک دفعہ پھر میدان میں اتری، سلامی دی اور ڈانس کے ساتھ ایک خوبصورت غزل چھیڑ دی ۔غزل کا ہر شیر نواب صاحب کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا اور وہ دیوانہ وار دولت لوٹانے کے ساتھ اس کو بازوں میں لپیٹ کر نوچ رہا تھا ۔وہ غزل کی دھن اور نشہ شراب میں مدہوش دیوانہ ہو چکا تھا۔ وہ پیار ایسے مقدس رشتے سے تو واقف نہ تھا البتہ اس سے عورتوں کو نوچنا ضرور اتا تھا ۔ذائقہ جان کی خوبصورت اواز ہمارے دلوں میں سمارہی تھی اور وہ ذائقہ جان پر فدا ہوئے جام پہ جام پیے جا رہا تھا ۔غزل کی دھن اتنی خوبصورت کہ ابشاروں کی ترنم بجھ اٹھے وہ اپنی اواز مست اداؤں اور ڈنس سے نواب سب کو پاگل بنائے ہوئے تھی اور ہال نوٹوں سے بھر گیا تھا چونکہ غزل کے ہر شعر میں بڑا سوز منفرد رنگ دھن اور راگ بھی بہت خوبصورت تھا۔ خوبصورت ہارمونیم بنگلے کے ہال میں تھرتھرا تھا اور اس کی خوبصورت اواز میں ہم سب مدہوش تھے مگر ہم صرف دور سے دیکھنے اور نواب صاحب کو داد دینے کے لیے موجود تھے مگر یہ سوچ تک نہ سکتے تھے کہ کہ ہم بھی کوئی ایک دو نوٹ ذائقہ پر ڈال کر دل بہلا لیتے ۔اس کے جسم اس کی اواز اس کی ڈانس سے صرف نواب صاحب ہی کھیل اور لطف اندوز ہو سکتے ہیں ہم صرف انکھ بھی اٹھاتے تو ہماری انکھیں نکال لی جاتی ہم ویسے بھی نچلی مخلوق تھے۔ ہمیں صرف اس لیے پیدا کیا گیا تھا کہ سارا دن کھیتوں میں کام کریں۔ شام کو نواب صاحب کو سلامی اس کی ٹانگیں اور پاؤں دبائیں اور حقہ تازہ کر کے لائیں دو چار گالیاں سنیں اور گالی کے بدلے ہاتھ باندھ کر جی جی کریں۔ میں حیران ہوں کہ کام ہم کرتے تھے مگر تھکاوٹ نواب صاحب کو ہو جاتی تھی۔ یہ سلسلہ بڑا عجیب تھا ہمارے لوگ سارا دن کھیتوں میں کام کرتے اور جیسے نواب صاحب کے ہاں حاضر ہوتے پاؤں دبانے کا کام ضرور لیا جاتا چونکہ نواب صاحب خدمت لے لے کر تھک جاتے تھے۔ دوسرا ظلم کہ ادھی رات کو کوئی مہمان ا جائے ہمیں فورا خدمت کے لیے اور ہماری مجبور بہنوں کو نواب صاحب کے مہمانوں اور نواب صاحب کی سیج پر خون بہانے کے لیے طلب کر لیا جاتا ۔میں انہی سوچوں میں غرق تھا کہ ذائقہ جان نے غزل ختم کر دی۔ میں فورا بیدار ہو کر نواب صاحب کی بنگلے پر لوٹ ایا ۔چائے کا دور چلا اور ہم نے تمام مہمانوں کو چائے پلائی اور چائے سے فارغ ہو کر اپنی اپنی جگہ پر اگئے ۔مجال ہے کہ کوئی غریب ہاری بھی چائے پی لے ۔ہم چائے پینے کے لیے نہیں بلکہ پلانے اور بنانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور یوں پلا پلا کر اور بنا بنا کر چلے جاتے ہیں۔ میرے اس خوبصورت سسٹم نے انسانیت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں اور لہولہان انسان منڈیوں کی زینت مگر میرے سسٹم کی شرافت کی انتہا کہ اس نے کبھی مداخلت کر کے کسی کی فرعونیت کو ذرا بھر ڈسٹرب نہیں کیا۔ ہمیشہ فرمانبرداری میں اپنی مثال اپ رہا ۔ہاں اگر کسی کمزور سے غلطی ہو جائے تو میرے ونڈرفل سسٹم کا غصہ نہیں اترتا گر لوگ اسے معاف بھی کر دیں مگر میرا سسٹم معاف نہیں کرتا۔ پوری دنیا میں یہ خوبصورتی صرف میرے سسٹم کے پاس ہے باقی دنیا کے ناکارہ سسٹم ہمیشہ برابری کی بنیاد اور میرٹ پر فیصلے دیتے ہیں جو انتہائی نقصان دہ سسٹم ہیں۔ یوں بڑے لوگوں کے حقوق بلکہ من مانیاں اور زیادتیاں تلف ہو جاتی ہیں اور وہ کمزوروں کا خون نہیں پی سکتے جبکہ حقیقت میں کمزور لوگ صرف بڑے لوگوں کی خدمت کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور ایسے سسٹم بڑے لوگوں کی حق تلفی کر جاتے ہیں گر میرا مشورہ مان لیا جائے تو پوری دنیا میں ہمارے سسٹم کو لاگو کرنا چاہیے۔ جہاں ایم پی اے ایم این اے کا الیکشن صرف عرب کھرب پتی لوگ لڑ اور جیت سکتے ہوں جہاں کسی بھی جماعت کے حقیقی ورکر کو الیکشن لڑنا تو دور سوچنا بھی گناہ ہو اور ایسے گستاخ ورکر کو اٹھا کر جیل یاترا کرائی جاتی ہو اور جب وہ تابعدار بلکہ یس مین ہو جائے تو پھر شامل کر لیا جائے ۔ورکرکا کام الیکشن لڑنا نہیں مرنا ووٹ دینا جلسوں کی رونق بننا ہوتا ہے۔ الیکشن صرف بڑے لوگ لڑا کرتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ پارٹیاں بدلنے کا ڈھنگ جانتے ہوں اور اس اصول کی کار بند ہوں کہ جدھر حکومت جائے وہ ادھر چلے جائیں۔ ہر ایک کام کا اصول ہوتا ہے اور اصولوں کو ٹیک اوور کرنا کسی صورت میں درست نہیں ہوتا تاکہ ایک بادشاہ کو زوال ائے تو فورا کمال پانے والے بادشاہ کے قدموں میں جا پڑیں پھر ہوا نا سیاستدان اور سیاست میں قدم رکھتے ہوئے ایک اور فرض بھی ہے کہ سچ کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیا جائے اور ہر کام کی بنیاد صرف اور صرف جھوٹ پر کھڑی کی جائے۔ جہاں الیکشن مہم پر جاؤ وہاں دودھ کی نہریں بہا دو اور الیکشن جیتنے کے بعد وہاں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔خواہ مخواہ ایک نئے عذاب میں پڑنا کون سا درست عمل ہے۔ اگلے الیکشن میں جماعت بھی نئ ہوگی اور بات بھی اور پھر واہ واہ ہوگی۔ یوں لوگوں کو ملنا اور کام کرنا لوگوں کو سر چڑھانے والی بات ہے اور اصول سیاست پاکستان کے سخت خلاف ہے۔ ایک اور خوبصورت اور بڑا دل ربا جھوٹ پنپ رہا ہے کہ ہر وعدہ وہ کرو جب تمہاری حکومت کا اختتام ہو اور کہو کہ اگر جناب جنرل ضیاء الحق صاحب اج مر نہ جاتے تو کل پاکستان میں اسلامی قانون لاگو ہو جاتا۔ سب کام تو مکمل ہو چکا تھا بس اعلان ہی باقی تھا۔ جو 10 سال پہلے ہو چکا تھا مگر افسوس کہ بیچارے دنیا سے چلے گئے اور اسلامی نظام دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ایک مضبوط طاقتور اور وقت شناس سیاستدان وہ ہے جو جھوٹ بولنے کا ماہر ہی نہیں شہنشاہ ہو ۔جیسے ایک معروف لیڈر کا خیال تھا کہ وزیر خارجہ کے لیے انگریزی کا فرفر انا انتہائی ضروری ہے. کسی نے پوچھا کہ جناب اپ کو وزیر خارجہ کیسے بنا دیا گیا۔ فرمانے لگے میرے صاحب کا خیال تھا کہ اپ کی انگریزی بہت اچھی ہے اس لیے اپ کو وزیر خارجہ بناتے ہیں ۔اسی طرح جتنا زیادہ جھوٹا اتنا بڑا سیاستدان۔۔ ہاں تو ہم اپنی سیٹوں پر چلے گئے اور ذائقہ جان اٹھی اور ہاتھ باندھ کر سر جھکائے کھڑی ہو گئی۔ یہ رنڈیوں کی ادا اور اجازت لینے کا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ کافی ٹائم ہاتھ جوڑے کھڑی رہی اور ہلکے ہلکے ساز بجتے رہے۔ اخر نواب صاحب گرجے اور کہا ہاں بول رنڈی کیا تکلیف ہے ۔ظلم کی انتہا کہ جسے وہ روزانہ بلکہ ابھی ذرہ پہلے نوچتا رہا اسے ذائقہ کہنے کے لیے تیار نہ تھا اسے رنڈی کہہ کر پکارا۔ بہرحال ذائقہ نے بڑے مہذب اور مودبانہ انداز میں گزارش کی کہ جناب عالی مقام اگر جان کی امان پاؤں تو گزارش کروں وہ شراب میں دھت اور فرعونیت سے کہا بولیے بولیے۔ حضور میری طبیعت انتہائی ناساز ہے ۔میں تعمیل حکم میں چلی ائی اور اپ کے موڈ کو ڈسٹرب ہونے سے بچانے کے لیے گاتی اور ناچتی رہی گر حضور ڈسٹرب نہ ہوں تو خادمہ کو اجازت دے دیجیے ۔نواب صاحب نے جام شراب چڑھایا اور کہا ٹھیک ہے جائیے اور اگر ائندہ کوئی ایسا مسئلہ ہو تو مجھے ان ٹائم اگاہ کرنا وگرنہ میرا دماغ گھوم سکتا ہے ۔ اس نے جھک کر پھر ہاتھ باندھے اور کہا میرے حضور اج کی معافی چاہتی ہوں ائندہ اپ کی باندی سے ایسی کوتاہی سرزد نہیں ہوگی اور ہمیشہ تعمیل حکم اور باندی حکم کی پابند ہوگی۔ تمام سازندوں نے اٹھ کر نواب حاتم کو سلامی دی اور طبلہ ماسٹر نے جا کر پیروں کو چھوا اور سامان سمیٹنا شروع کر دیا ۔عرب کی طاقت اور جہالت نے انسان کو انسان کا غلام بنایا اور انسان اتنا سستا ہوا کہ منڈیوں کی زینت بنا اور فرعونیت مقام بالا پہ جا کھڑی ہوئی. ایسے ہی میرے ملک کے طبقاتی نظام اور دولت نے انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر اس کی انسانیت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ ذائقہ جان رخصت اور بہت ساری دولت سمیٹ کر چلی گئی ۔تف ایسی دولت پر جہاں دھرتی کی بیٹیاں گھنگرو پہن کر سر محفل ناچ رہی ہوں اور صنف نازک کے وقار اور مقام کی تذلیل ہو رہی ہو۔ ایسی دولت اور ایسے نظام پر لعنت ہے۔ ایک خوبصورت کہاوت ہے نا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے ۔جہاں پر بیٹیاں ناچتی ہوں اور عزت کے رکھوالے لطف اندوز ہوتے ہوں وہاں وقار انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہوتا ہے۔ ہاں ذائقہ چلی گئی اور نواب صاحب کو عورت کی طلب اور تلاش شروع ہو گئی۔ وہ زخمی شیر کی طرح بپھر چکا تھا اور رات کی عیاشی کے لیے عورت کی طلب میں پاگل ہو چکا تھا۔ اخر اس نے گرج دار اواز میں کہا عابدے
کو فورا میرے سامنے لایا جائے جیسے ہی غلام نے میرا نام لے کر اواز دی میں کسی زر خرید غلام کی طرح دوڑتا ہوا حاضر ہوا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ میں کچھ ٹائم یوں کھڑا تھر تھر کانپتا رہا۔ اخر اس نے گرجدار اواز میں کہا اوئے عابدا جا اور غلےکی بیٹی کو میری چوک پر لے اؤ۔ میں نے سلام کیا اور کہا حضور تعمیل حکم میں غلام حاضر اور حکم بجا لاتا ہے۔ میں نے رٹے رٹائے لفظ ضرور ادا کیے مگر حقیقت کہ میں موت کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ میری غیرت اجاگر ہو کر میرے ضمیر کو ریزہ ریزہ کر چکی تھی۔ میرا خون کھول اٹھا میرے ہوش و حواس جاتے رہے چونکہ غلام محمد میرا چچا اور اس کی بیٹی میری کزن بہن مگر ایک طاقتور کا حکم تھا میں کر ہی کیا سکتا تھا ۔میں نے لمحوں میں ہزار سوچیں سوچیں مگر میری ہر سوچ ناکام ہوئی اور میں عالم مدہوشی میں چلتا رہا ۔مجھے علم نہ تھا کہ میں کہاں ہوں کہاں جا رہا ہوں کیوں جا رہا ہوں اور وہاں جا کر کیا کہوں گا کہ میں اتنا بے غیرت ہوں کہ اپنی بہن کو خود لے جا کر اس کی عزت لٹواؤں گا اور خود زندہ رہوں گا میرا ضمیر مجھے زندہ رہنے کی قطعی اجازت نہیں دے رہا تھا ۔میں نے پھر سوچا بے غیرت انسان اگر تو اور کچھ نہیں کر سکتا تو کم از کم خودکشی تو کر سکتا ہے۔ تمہاری غیرت کہاں مر گئی کہ تو خود جا کر اپنی بہن کو کہے گا کہ اٹھوشائلہ نواب صاحب تمہارے منتظر ہیں اور تم اسے اپنے جسم سے نوازو اور تمہارا بھائی تمہارے تماشے دیکھے گا ۔مجھے لا تعداد دفعہ خیال ایا کہ خودکشی کر لوں مگر ایک سوچ نے مجھے زندہ رہنے پر مجبور یا میں کمزور تھا اور خود کو بہلاوے اور دھوکے دے رہا تھا۔ انسان خود کو بچانے کے لیے بہت سارے بہانے تلاش کر لیتا ہے کہ میں اس لیے زندہ رہنا چاہتا ہوں کہ میری یہ مجبوری ہے۔ بہرحال حقیقت جو تھی میں خودکشی نہ کر سکا اور اپنی بہن کی عزت لٹوانے پر امادہ ہو گیا حالانکہ اصولی طور پر مجھے وہاں مرجانا چاہیے تھا یا کم از کم اپنی بہن اور گھر والوں کو لے کر بھاگ جانا چاہیے تھا۔ بے شک ہم کو پکڑ لیا جاتا چونکہ ان کے لیے یہ لمحوں کا کام تھا ۔اس کے باؤلے کتے جو انسانی روپ میں بندوقیں اٹھائے ہماری نگرانی کرتے اور ہماری عزتیں لوٹتے تھے مگر غیرت مند انسان کو مرنا تو انا چاہیے۔ بہرحال میں ہار کر اپنے چچا غلام محمد جن کو نواب صاحب غلہ کہتے تھے ان کے ویران سے گھر میں جا پہنچا۔ میں نے دیکھا وہاں ہر محرومی ہر ذلت طاقتور غربت ہر دکھ موجود تھا اور طاقت اس کی مظلومیت پر جشن منا رہی تھی۔ وہ اپنے صحن میں غربت کی چادر ڈھانپے مظلومیت کی نیند سو رہے تھے ۔میری نیند تم کتنی عظیم ہو کہ تم میری دھرتی کی مظلوموں کو بھی اغوش میں لے لیتی ہو صد سلام اور میرے ظالم نظام تم کو تو لاکھوں سلام تم نے انسانیت کی غیرت کو ذبح کر دیا اور طاقتور کے سامنے بھیگی بلی کا کردار ادا کیا۔ تم نے اس دھرتی کے مظلوموں کا کیا تحفظ کرنا ہے۔ وہ ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں پر پڑے نیند کی اغوش میں تھے۔ جب میں نے اس منظر کو دیکھا تو میری انکھوں سے انسو چھلک پڑے اور سوچا کہ اوئے عابد بے غیرت تمہاری غیرت کہاں مر گئی اور تم خودکشی کیوں نہیں کر لیتے۔ میں ایک دفعہ مکمل طور پر خودکشی پر امادہ ہو گیا تھا مگر ایک سوچ میرے اڑے اگئ اور سوچا کہ گر تم نے بھی پہلے چند نوجوانوں کی طرح جذبات سے کام لیا تو پھر سسٹم کیسے چینج ہوگا۔ انقلاب کیسے ائے گا اور تمہاری بہنیں بیٹیاں یوں ہی نواب صاحب کی سیج کی زینت نسل در نسل تباہ اور میری ہر شائلہ ظلمت کی بھینٹ چڑھتی رہے گی اور میری بہنوں کی عزت کیسے محفوظ ہوگی لہذا ان سوچوں نے مجھے خودکشی سے باز رکھا یا موت کے خوف نے ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک ضرورت تھی۔ میں صحن کے قریب کھڑا ہوا اور چچا غلام محمد کو اواز دی ہم غریب لوگ سویا نہیں کرتے صرف انکھیں بند کر کے لیٹ جاتے ہیں۔ اس لیے وہ میری پہلی اواز پر جاگ اٹھے اور کہاں کون ہو۔ میں نے کہا چچا جی میں عابد ہوں۔ کہا خیر تو ہے ا جاؤ بیٹا اجاؤ اور پھرکہا خیریت تو ہے۔ میں نے کہا خیریت ہی ہے اور میں ان کے پاس چلا گیا اور اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا۔ انہوں نے میرے بیٹھتے ہی کہا بتاؤ نہ بیٹے کیسے انا ہوا اور میرے انسو چھلک پڑے اور میں اس قدر رویا کہ میری مظلومیت پر اسمان بھی رو پڑا ہوگا مگر افسوس کہ میرے ملک کے سسٹم کو احساس تک نہ ہوا۔ طاقتور ظلم انجوائے اور اور مظلوم برداشت کرتا رہا اور اسے رونے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ انہوں نے مجھے بازوں میں سمیٹا پیار دیا میرے انسو خشک کیے اور کہا بیٹا بتاؤ تو سہی کیا مسئلہ ہے اور تم اس قدر پریشان کیوں اور رو کیوں رہے ہو۔ اخر ان کے اصرار پر میں نے ان کو نواب صاحب کا حکم سنا دیا۔ سب گھر والے رونے لگے بالاخر چچا نے کہا رونا دھونا چھوڑو یہ موت کی طرح اٹل ہر جوان بیٹی کو وہاں جانا ہے اور ہر گھر نے اس ظلم کا مزہ چکھنا ہے اور موت کی طرح اٹل حقیقت ہے۔ اخر پھپو نے میری مراد چچی سےہے نےشائلہ کو تیار ہونے کے لیے کہا مگر اس نے پورے عزم پوری جرات اور دو ٹوک کہا میں مر سکتی ہوں وہاں نہیں جا سکتی۔ میں وہاں جا کر بھی اس نواب کا منہ نوچ لوں گی انشاءاللہ میری عزت کی طرف کوئی ہاتھ نہیں اٹھے گا۔ اس کو گھر والوں نے بہت سمجھایا کہ اپ کا انکار کوئی معنی نہیں رکھتا ابھی اس کے کتے ائیں گے اور اپ کو چیختا چلاتا اٹھا کر لے جائیں گے اور ساتھ پورے خاندان کو نست و نابود کر دیں گے ۔یہاں کے سسٹم میں حکم عدولی کا تصور ہی نہیں ہے اپ سے پہلے بھی کتنی لڑکیوں نے انکار کیا اور ان کے بھائیوں نے ان کا ساتھ دیا پھر انہیں جو سزائیں دی گئیں ان سزاؤں پر فرشتے رو پڑے ہوں گے. اسمان برس پڑا ہوگا ۔وہ ظلمت کی ایسی تاریخ رقم ہوئی کہ پھر انکار کی جرات دم توڑ گئی بلکہ ہمیشہ کی موت مر گئی ۔کالو اور کالو کی بہن کی حالت سرعام لوگوں نے دیکھی کہ کالو اور لوگوں کو اکٹھا کر کےاسے سامنے کھڑا کیا گیا اور نواب صاحب نے سرعام اس کی عزت لوٹی اور پھر ان کو گھوڑوں کے پیروں تلے روند کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔عزت بھی گئی اور جان بھی۔ یہ ظالم درندہ عزت لوٹ کر ہی رہے گا ہم سب ادمیوں کے اصرار پر وہ اندر تیار ہونے کے لیے چلی گئی اور ہم سمجھے کہ وہ مان گئی ہے اور ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ کافی ٹائم گزر گیا مگر شائلہ تیار ہو کر واپس نہ لوٹی تو اکتا کر پھپھو اس کا پتہ کرنے اندر گئ مگر اندر داخل ہوتے ہی اس کی چیخ نکل گئی۔ ہم نے بھی کان کھڑے کیا اور دوڑ کر اندر گئے ۔جب ہم اندر پہنچے تو ہمارے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ شائلہ بے جان پڑی تھی اور چھری عین اس کے دل میں لگی ہوئی تھی۔ ہم نےشائلہ کو اٹھایا چارپائی پر ڈالا اور پورے گھر میں صف ماتم بچھ گیا۔ سب گھر والے چیخ چیخ کر رو رہے تھے لیکن طاقتور کے ڈر نے ہمیں فورا احساس دلایا کہ فورا نواب صاحب کو اگاہ کرو وگرنہ تم سب لوگ نست و نابود کر دیے جاؤ گے۔ ہم نے فورا اس سوچ پر عمل کیا گھر میں بچھا ماتم چھوڑ کر ہم نواب صاحب کے بنگلے پر پہنچے۔ پہرے دار موجود تھے اور ماحول پر رات کی خامشی اور سکون چھایا ہوا تھا ۔میں نے پہرے دار سے اجازت لی اور اندر چلا گیا پھر اس کے ذاتی غلام کو کہا کہ میں نے نواب صاحب کے حضور سلام کرنا ہے۔ اس نے مجھے دو چار گالی دیں کہ پاگل کتے یہ کوئی ملنے کا ٹائم ہے۔ میں نے بتایا کہ نواب صاحب نے مجھے خود بھیجا تھا اور میں جس لڑکی کو لینے گیا تھا وہ خود کشی کر گئی ہے اس لیے نواب صاحب کو اطلاع کرنی ہے ۔تب اس کی زبان رکی اور وہ اٹھ کر نواب صاحب کے کمرے میں چلا گیا حالانکہ اس کو ساری حقیقت کا علم تھا ۔وہ میری انتظار میں ڈیوٹی پر تھا مگر وہ خواہ مخواہ گالی دے کر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا تھا۔میں باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا ایک ایک لمحہ قیامت خیز تھا ۔
