عیسیٰ خیل اور گردونواح کے پیر فقیر، اولیائے کرام اور روحانی مراکز
علاقے کی مذہبی، روحانی اور تاریخی روایات کا ایک مختصر جائزہ
اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر خصوصی فضل و کرم فرماتا ہے جو اس کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں، رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت پر عمل پیرا رہتے ہیں، خود بھی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیکی، بھلائی، اصلاح اور دین کی تعلیم کی دعوت دیتے ہیں۔ ایسے متقی، پرہیزگار اور عبادت گزار لوگوں کی زندگی دوسروں کے لیے رہنمائی اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ علمائے کرام، مشائخ اور اہلِ اللہ کی دینی و اصلاحی خدمات ہی کے ذریعے معاشرے میں دینی شعور پروان چڑھتا اور اسلام کی روشنی پھیلتی ہے۔
تحصیل عیسیٰ خیل اور اس کے گردونواح کی سرزمین بھی ایسی متعدد روحانی شخصیات، خانقاہوں اور مزارات کی امین رہی ہے جن سے مقامی آبادی کی ایک طویل مذہبی، روحانی اور ثقافتی وابستگی چلی آ رہی ہے۔ ان میں سے بعض شخصیات اپنی زندگی میں عبادت و پرہیزگاری کے باعث معروف ہوئیں، جبکہ بعض کے مزارات آج بھی عوامی عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان شخصیات اور مقامات کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔
1۔ پیر عادل شاہؒ
پیر عادل شاہؒ کا مزار عیسیٰ خیل شہر کے محلہ بمران والا میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق سادات گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق آپ ایک متقی، پرہیزگار اور دین دار شخصیت تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علاقہ آپ سے آپ کی زندگی میں بھی گہری عقیدت رکھتے تھے اور وفات کے بعد بھی یہ وابستگی برقرار ہے۔
آپ کے مزار پر آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے، دعائیں کرتے اور اپنی روایتی منتیں پیش کرتے ہیں۔ بالخصوص خواتین کی بڑی تعداد مزار پر آتی ہے، میٹھے روٹے اور شیرینی تقسیم کرتی ہے اور دھاگے باندھنے کی مقامی رسم بھی ادا کرتی ہے۔
پیر عادل شاہؒ کی نسبت سے عیسیٰ خیل میں ہر سال دیسی مہینے چیت، یعنی مارچ اور اپریل کے دوران چار جمعراتوں کو میلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان میلوں میں کبڈی، نیزہ بازی اور دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں، جن میں ضلع بھر سے کھلاڑی اور شائقین شرکت کرتے ہیں۔ ہزاروں افراد ان میلوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان میلوں کو ’’جشنِ بہاراں‘‘ کا نام دیا گیا، تاہم مقامی لوگ آج بھی انہیں پیر عادل شاہؒ کے میلے ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ میلہ علاقے کی قدیم ثقافتی روایات کا ایک نمایاں حصہ ہے۔
2۔ پیر اللہ ہوؒ
پیر اللہ ہوؒ کا مزار عیسیٰ خیل کی موجودہ میونسپل کمیٹی کے ساتھ واقع قبرستان میں ہے۔ آپ کو عام طور پر پیر اللہ ہو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ آپ کی زندگی، خاندانی پس منظر اور دینی خدمات کے بارے میں مقامی سطح پر زیادہ مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم اہلِ علاقہ کی ایک تعداد آپ سے عقیدت رکھتی ہے اور آپ کے مزار پر حاضری دیتی ہے۔
3۔ گل فقیرؒ
گل فقیرؒ کا مزار عیسیٰ خیل کے محلہ مموں خیل میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ آپ کے ساتھ بھی اہلِ علاقہ کی گہری عقیدت وابستہ ہے، بالخصوص خواتین آپ کے مزار پر حاضری دیتی ہیں، منتیں مانتی ہیں اور میٹھے روٹے و شیرینی تقسیم کرتی ہیں۔ گل فقیر المعروف ڈاڈا گُلنڑ کا تعلق قریش خاندان سے تھا اور ان کی گدی اس وقت فصیح الرحمن ہاشمی نے سنبھال رکھی ہے
گل فقیرؒ کے مزار کے حوالے سے ایک دلچسپ مقامی روایت بھی مشہور ہے۔ بزرگوں سے منقول ہے کہ جب دریائے سندھ نے اس علاقے میں کٹاؤ شروع کیا تو دریا کا رخ بڑھتے بڑھتے مزار کے قریب پہنچ گیا، لیکن مزار تک پہنچنے سے پہلے ہی کٹاؤ رک گیا۔ آج بھی مزار اپنی اصل جگہ پر موجود ہے، جبکہ دریا کا بہاؤ اس مقام سے خاصا دور ہو چکا ہے۔ مقامی لوگ اس واقعے کو گل فقیرؒ سے منسوب ایک غیر معمولی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
4۔ پیر ناگ شاہؒ
پیر ناگ شاہؒ کی زیارت عیسیٰ خیل کے نواحی علاقے بہو بیرم خیل کے قبرستان میں واقع ہے۔ آپ کی قبر کے اردگرد جھال کے گھنے درخت موجود ہیں، جو اس مقام کو ایک منفرد قدرتی منظر عطا کرتے ہیں۔
مقامی روایات کے مطابق خواتین آپ کے مزار پر حاضری دیتی، منتیں مانگتی اور میٹھے روٹے تقسیم کرتی تھیں۔ یہاں ایک قدیم روایتی کھانے ’’بھت‘‘ کا بھی خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔ بھت باجرے یا گندم کے موٹے آٹے کو پانی میں ابال کر تیار کیا جاتا تھا، جس میں بعد ازاں گڑ کا شیرہ شامل کیا جاتا تھا۔ یہ سادہ مگر ذائقے دار دیسی پکوان علاقے کے لوگوں میں بہت پسند کیا جاتا تھا اور بڑی رغبت سے کھایا جاتا تھا۔ یوں یہ مقام صرف مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ مقامی کھانوں اور قدیم معاشرتی روایات کی یادوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
5۔ گدی بھور شریف
گدی بھور شریف کا سلسلہ فقیر فتح محمدؒ سے شروع ہوتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق آپ ایک متقی، پرہیزگار اور عبادت گزار بزرگ تھے۔ آپ کی دینی زندگی اور کردار کے باعث اہلِ علاقہ آپ سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ عیسیٰ خیل، بالخصوص کمر مشانی سے بڑی تعداد میں لوگ آپ کے مرید ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ سلسلہ مزید وسعت اختیار کرتا گیا۔
فقیر فتح محمدؒ کے بعد ان کے صاحبزادے محمد صدیق گدی نشین ہوئے۔ انہوں نے سالانہ عرس کی روایت کو باقاعدہ طور پر جاری رکھا، جس میں مریدین کے علاوہ دیگر عقیدت مند بھی شرکت کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر مریدین اور زائرین جمع ہوتے، انتظامات میں حصہ لیتے اور اپنے اپنے انداز میں نذرانے پیش کرتے ہیں۔
محمد صدیق کی وفات کے بعد اب ان کے صاحبزادے خیر محمد گدی نشین ہیں، جبکہ ان کے پوتے ضیاء اللہ جانشین ہیں۔ مریدین کی بڑی تعداد کے اعتبار سے گدی بھور شریف کا شمار ضلع میانوالی کی نمایاں خانقاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ گدی نسل در نسل چلے آنے والے ایک روحانی سلسلے اور علاقے کی قدیم مذہبی وابستگی کی نمائندگی کرتی ہے۔
6۔ فقیر شیخ حمید اللہ خانؒ
فقیر شیخ حمید اللہ خانؒ کا مزار عیسیٰ خیل کے نواحی علاقے وانڈہ شیخ محمود والا میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق پٹھان قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ مقامی معلومات کے مطابق آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے اس علاقے میں آباد ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں بھی آپ کے بڑی تعداد میں مرید موجود تھے، جن میں سے بعض خاندان تقسیمِ ہند کے بعد ضلع فیصل آباد منتقل ہوگئے۔
ان مریدین نے ہی بعد میں آپ کے سالانہ عرس کا سلسلہ شروع کیا۔ آج بھی عرس کے تمام انتظامات اور اخراجات بڑی حد تک وہی مریدین برداشت کرتے ہیں۔ اس موقع پر قوالی کی محفل بھی منعقد ہوتی ہے اور دور دراز سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
اس وقت آپ کے پوتے نصر اللہ خان اور انعام اللہ خان گدی نشین ہیں۔ آپ کی باقی اولاد اور رشتہ دار شیخ پٹھان کے نام سے معروف ہیں۔ واضح رہے کہ مقامی معلومات کے مطابق ان کا تعلق نیازی قبیلے سے نہیں ہے۔ اس طرح فقیر شیخ حمید اللہ خانؒ کی نسبت سے یہ خاندان اور روحانی سلسلہ علاقے کی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔
7۔ شیخ موسیٰؒ
شیخ موسیٰؒ کا مزار درہ تنگ کے قبرستان میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق نیازی قبیلے سے تھا، تاہم اپنی پرہیزگاری، دین سے گہری وابستگی اور نیک نامی کے باعث شیخ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آپ کی نسبت سے درہ تنگ کے قریب ایک گاؤں بھی آباد ہے جسے شیخ آباد کہا جاتا ہے۔ یوں آپ کا نام نہ صرف مقامی مذہبی روایت بلکہ علاقے کی جغرافیائی اور آبادیاتی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
8۔ پیر عبدالستار شاہؒ
پیر عبدالستار شاہؒ کا مزار کلونوالا اور کلور کے درمیان واقع قبرستان میں ہے۔ آپ کا تعلق سادات گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ علاقے کے لوگوں میں آپ کے ساتھ عقیدت پائی جاتی ہے اور آج بھی متعدد افراد آپ کے مزار پر حاضری دیتے، دعائیں کرتے اور اپنی روایتی منتیں پیش کرتے ہیں۔
اگرچہ آپ کی زندگی اور خدمات کے بارے میں تفصیلی معلومات عام طور پر دستیاب نہیں، تاہم آپ کا مزار مقامی آبادی کی دیرینہ عقیدت کا مرکز ہے۔
9۔ پیر میاں عبدالغفورؒ
پیر میاں عبدالغفورؒ کا مزار مٹھا خٹک کے قریب پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق بھی پٹھان قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ عیسیٰ خیل اور گردونواح کے متعدد خاندان آپ سے عقیدت رکھتے ہیں اور آپ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
اس مزار کے قریب قدرتی طور پر ایک گندھک کا چشمہ بہتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جلدی امراض میں مبتلا افراد اس چشمے میں غسل کرتے ہیں اور انہیں افاقہ ہوتا ہے۔ عوامی روایت میں اس چشمے کو میاں عبدالغفورؒ کی کرامت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم اس پانی کے طبی فوائد اور جلدی بیماریوں کے علاج کی سائنسی تصدیق الگ معاملہ ہے۔
یہ مقام اپنی روحانی نسبت کے ساتھ ساتھ قدرتی گندھک کے چشمے کی وجہ سے بھی علاقے میں پہچانا جاتا ہے۔
10۔ میاں ملوک علی خان المعروف میاں صاحبؒ
میاں ملوک علی خان المعروف میاں صاحبؒ کا مزار کنڈل کے جنوب میں تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ مزار کے ساتھ ایک وسیع قبرستان بھی موجود ہے۔ مقامی تاریخی روایات کے مطابق جب نیازی قبائل پہلی مرتبہ موجودہ گاؤں گل امام میں آباد ہوئے تو یہ قبرستان انہی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا تھا۔
میاں صاحب کا تعلق نیازی قبیلے کی ذیلی شاخ نورنگ خیل سے تھا۔ ان کے خاندان کے چند گھرانے آج بھی کنڈل، چھرہ اور عیسیٰ خیل میں آباد ہیں۔ کنڈل کے بعض خاندان انہیں اپنا بزرگ اور رشتہ دار قرار دیتے ہیں اور مزار کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری بھی انہی کے پاس ہے۔
میاں صاحبؒ کے عقیدت مند صرف عیسیٰ خیل تک محدود نہیں بلکہ ضلع لکی مروت میں بھی ان کے مزار سے وابستہ بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔ عقیدت مند یہاں بکروں اور مرغوں کی منتیں مانتے ہیں۔ بعض زائرین مزار پر جانور ذبح کرکے وہیں کھانا تیار کرتے اور کھاتے ہیں۔ کئی افراد اپنے ساتھ ڈھولچی بھی لاتے ہیں اور دھمال ڈالتے ہیں۔
مزار پر کھانا پکانے کے لیے برتن موجود ہیں، جبکہ روٹی وغیرہ پکانے کے لیے اجرت پر سہولت بھی مل جاتی ہے۔ مزار کے متولی نے وہاں ایک صندوق رکھا ہوا ہے جس میں زائرین نذرانے کی رقم ڈالتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق قربانی کے لیے لائے گئے بکرے یا مرغے میں سے ایک ٹانگ متولی کو دی جاتی ہے۔
ماضی میں عیسیٰ خیل کے لوگ دریائے کرم کو پیدل عبور کرکے میاں صاحبؒ کے مزار پر حاضری دینے جاتے تھے۔ خواتین اونٹوں پر سوار ہوکر سفر کرتی تھیں، جن پر بیٹھنے کے لیے مقامی زبان میں کچاوا استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ قدیم طریقۂ سفر ختم ہوگیا۔ اب درہ تنگ اور سی پیک کی تعمیر کے بعد زائرین ڈاٹسن، ویگنوں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے آسانی سے مزار تک پہنچ جاتے ہیں۔
مقامی طور پر یہ بات بھی مشہور ہے کہ کمر مشانی کا بدنام زمانہ مفرور میرا نے میاں صاحبؒ کے لیے ایک شاندار مقبرہ تعمیر کروایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ میرا اس مقبرے کی تعمیر کے دوران پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ یہ واقعہ بھی علاقے کی زبانی تاریخ اور مقامی روایات کا حصہ ہے۔
ایک تاریخی اور روحانی ورثہ
عیسیٰ خیل اور اس کے گردونواح میں موجود یہ مزارات، خانقاہیں اور روحانی مراکز محض چند عمارتوں یا قبروں کے نام نہیں، بلکہ علاقے کی صدیوں پر محیط معاشرتی، مذہبی اور ثقافتی تاریخ کی نشانیاں ہیں۔ ان کے ساتھ وابستہ روایات میں کہیں خانقاہی نظام کی جھلک ملتی ہے، کہیں مریدی اور عرس کی روایت دکھائی دیتی ہے، کہیں قدیم دیسی کھانوں اور میلوں کی یادیں محفوظ ہیں اور کہیں دریاؤں، پہاڑوں اور صحرائی راستوں سے جڑی مقامی تاریخ سامنے آتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام شخصیات کے حالاتِ زندگی، نسب، دینی خدمات، ہجرت، خانقاہی سلسلوں اور تاریخی واقعات کے بارے میں بزرگوں سے معلومات اکٹھی کی جائیں اور انہیں تحریری صورت میں محفوظ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے علاقے کے اس اہم تاریخی اور ثقافتی ورثے سے آگاہ رہ سکیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بزرگانِ دین کا اصل پیغام اللہ تعالیٰ کی بندگی، رسول اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی، نیکی، تقویٰ، خدمتِ خلق اور انسانیت سے محبت ہے۔ ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا اور ان کے نیک اعمال کو آگے بڑھانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
