عیسیٰ خیل کے پیر اور حکیم۔
عیسیٰ خیل اور اسکے مضافات میں اس سے پہلے محترم استاذہ۔ منفرد شخصیت ۔شعرا وغیرہ کا تذکرہ کیا جا چکا ہے آج آپکو 55/60 سال قبل عیسیٰ خیل مسیحا کے متعلق چند معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔
پیر اور حکیم میر حاجی شاہ ہمدانی۔۔۔آپکا تعلق ہمدان سید خاندان سے تھا آپ قیام پاکستان کے بعد برزی سیدان سے عیسیٰ خیل آ کر سکونت اختیار کی۔آپ نیک بزرگ دیندار تھے لوگوں سے محبت اور مدد کا جذبہ رکھتے تھے۔آپ حکمت کے ساتھ دم درود بھی کرتے خاصکر ٹائیفائیڈ کا علاج کرتے۔دم۔تعویذ کے ساتھ دوائی بھی دیتے تھے جس سے مریض کو اللہ شفا عطا کرتا۔ہدیہ یا پیسوں کا لالچ نھی کرتے۔کوئی کچھ دے دیتا تو ٹھیک ورنہ مطا لبہ نھی کرتے۔انکے دو بیٹے محمد اکرم شاہ ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن اسکول کے پرنسپل ریٹائر ہوئی۔دوسرے سعادت شاہ اپنے والد کی جانشین دن درود کرتے اور کاروبار بھی کرتے دونوں وفات پا چکے ہیں سعادت شاہ کا ایک بیٹا فوج سے کرنل ریٹائرڈ ہے جس نے عیس خیل میں گیس پلانٹ لگیا ہوا ہے۔انکے خاندان کے بہت سارے لوگ رحیم یار خان میں رہائش پزیر ہیں۔
پیر وارث شاہ۔۔۔انکا تعلق گیلانی سید ہے جو کہ وانڈھی پیران والی عیسیٰ خیل فیملی سے ہیں بعد ازاں محلہ عیسب خیل میں سکونت اختیار کر لی آپ ایک جید عالم ۔عبادت گزار اور پرہیز گار تھے علاقہ کا ہر طبقہ آپکی عزت و تکریم کرتا تھا لوگ آپ سے ہر قسم کے شرعی فتویٰ بھی لیتے۔آپ عیسیٰ خیل کی عید گاہ کے امام بھی تھے ہر سال دونوں عید پڑھا تے۔ نہایت نفیس اور دھیمے لہجے کے مالک تھے لوگوں کی فی سبلیلالہ مدد اور دم درود کرتے جس سے لوگ کوشفا یابی ہوتی۔ انکا ایک پوتا حفیظ اللہ شاہ انکا جانشین ہے۔جو پیری مریدی کے علاوہ عید گاہ کا امام بھی ہے اور اہلسنت الجماعت کے سفر بھی ہیں۔
حکیم محمد رفیق شیخ مرحوم۔۔۔ آپ ایک شریف انفس اور حاجب حکیم تھے ان کے ہاتھ میں اللہ نے شفا رکھی تھی وہ مریض کو چیک کرنے اور دوائی دیتے وقت درود اور قرآنی آیات کا وِرد کرتے رہتے۔ہے بھی شیخ آباد سے عیسیٰ خیل رہائش پزیر ہوئے۔اسکے ساتھ دو بھائی غلام حسن اور محمد موسیٰ تھے جو رحیم یار خان سکونت اختیار کر لی۔انکے دو بیٹے وہ بھی رحیم یار خان پولس ملازم ہوئے اور وہیں رہاش اختیار کر لی۔
محبوب الٰہی المعروف ڈاکٹر محبوب مرحوم۔۔۔۔یہ ڈسپنسر تھے لیکن اپنے شعبہ میں سمجھدار اور مہارت رکھتے تھے انھوں نے اپنا میڈیکل سٹور بنایا ہوا تھا ساتھ ڈاکٹری بھی کرتا تھا ان کے پاس مریضوں کا کافی رش ہوتا تھا۔ عیسیٰ خیل سے باہر لکی مروت سے بھی مریض آتے۔انکے ہاتھ میں شفا تھی اچھے خوش اخلاق خوش گپی انسان تھے۔انکے ساتھ ایک بھائی منظور الٰہی بھی کام کرتے وہ صرف سٹور چلا تے۔انکے والد کی پنسار کی دوکان تھی۔ انکا بیٹا محب رحمان ڈاکٹر ہے اچھا قابل خوش اخلاق اور ذہین ڈاکٹر ہے اپنا پرائیویٹ کلینک کھولا ہوا ہے انکے پاس بھی کافی رش لگا رہتا ہے اب ڈاکٹر محب کا بیٹا اور بیٹی بھی ڈاکٹر ہیں انہوں نے اپنے کلینک کھولے ہوئے ہیں کیاسلئے ہاتھ کڑاھی اور سر گھی ہے۔
کمبوڈر عطا اللہ مرحوم۔۔۔ ہے ترگ کا راهاشی تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد عیسیٰ خیل سکونت اختیار کر لی۔اس نے اپنی ایک عام سی دوکان بنائی ہوئی تھی۔ یہ بھی لوگوں کا علاج کرتے تھے اچھی شہرت رکھتے تھے۔ نھی انکی وفات کے انکی فیملی اپنے آبائی گاؤں ترگ واپس چلی گئی۔
عمر خان المعروف ڈاکٹر عمر مرحوم۔۔یہ کنڈل کے راهاشی اور بہادر خیل قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ہے بھی قیام پاکستان کے بعد عیسیٰ خیل آ کر سکونت پذیر ہوئے۔ہے ڈسپنسر تھے لیکن ڈاکٹر سے مشہور تھے انکی اتنی پریکسٹس نھی تھی انہوں نے نازو خان کے ساتھ مشتر کہ میڈیکل سٹور بنایا ہوا تھا یہ مولانا نیازی کے چچا زاد بھائی تھے انکی وفات کے بعد انکا ایک بیٹا کروڑ لال عیسن اور دو بیٹے لاہور جا کر سکونت پذیر ہوگئے ہیں۔
فیض اللہ پنسار۔مرحوم۔۔۔۔ انکا عیسیٰ خیل کے قبیلہ خانی خیل سے تھا۔ انکی عیسیٰ خیل میں پنسار کی دوکان تھی جہاں پر ہر قسم کی جری بوٹی دستیاب تھی۔ علاوہ لوگوں چھوٹی موٹی بیماری کی دوائی اور نسخے بھی دیتے۔انکے کے ساتھ ایک بھائی بردا بھی کام کرتا تھا انکی وفات کے انکے بیٹے امان اللہ اور ثنا اللہ نے کام سنبھالا اور ساتھ دو خانہ بنایا۔ جس میں مختتلف کمپنی کی ادویات ہوتی ہیں اب یہ دونوں بھائی بھی فوت ہو چکے ہیں انکے بیٹوں نے الگ الگ پنسار کی دوکانیں کھول رکھی ہیں عیسی خیل میں پنسار اور دیسی ادویات کا صرف انہی کا کاروبار ہے۔
اسکے علاوہ پرانے وقت میں لوگ مریضوں کو قبروں سے دھاگے ناپ کر اور پتھر جسم پر پھرتے اب یہ رواج تقریباً ختم ہو چکا ہے
اللہ ہم سب کو صحت کے ساتھ زندگی عطافرمائے اور مصیبتوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے آمین
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
