Asim Bukhari ki shayari mein Mianwali ka fitri husn

عاصم بخاری کی شاعری میں میانوالی کا فطری حُسن-تبصرہ-راحت امیر نیازی میانوالی
 

آپ  اپنی  مثال ، ہے  عاصم
فطرتی حسن میں میانوالی
 
عاصم بخاری کو قدرت نے فطری حسن سے لطف اندوز ہونے والی آنکھ
عطا کی ہے۔حسین سوچ اور فکر کے مالک شاعر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر منظر سے خوب صورتی
اور حسن کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔
شعر دیکھیں
 جھیل دریاپہاڑ ہیں کیا کیا
ارضی جنت ہے یہ میاں والی

یہ بات درست ہے کہ حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے لیکن
یہ بھی حقیقت ہے میانوالی کو قدرت نے فطری مناظر سے مالا مال کیا ہے۔کندیاں میانوالی
کا منظر واقعی دلربا اور دلکش ہے
شعر ملاحظہ ہو۔
 حُسن ِ فطرت دکھاؤں آ تجھ کو
چشمہ کندیاں ہے یہ میاں والی

عاصم بخاری کا مشاہدہء فطرت وسیع ہے محدود نہیں ۔ چاہے نمل جھیل تحصیل میانوالی کی ہویا  دیگر علاقے کی یہ اپنی دھرتی کے کونے کونے سے اس نے نہ صرف فطری حسن تلاشا بل کہ اسے لفظی اور شعری تصویر بھی  عطا کی۔تحصیل عیسیٰ خیل کے مضافاتی دور دراز پہاڑوں میں چھپے گاؤں میں جھیل کی منظر کشی یوں کرتے ہیں۔ میانوالی کی تینوں خوب صورت اور پیاری جھیلوں کی تصویر کشی کازاویہ شعری روپ میں دیکھیں۔
شعر
چاپری چشمہ یا نمل عاصم
جھیلوں کاحسن میاں والی میں

کالاباغ فطری و قدرتی حسنکی دولت سے مالامال ہے۔اور کالاباغ کے ساتھ بخاری کی وابستگی بھی زیادہ ہے۔لہذا یہاں انہیں فطرت کو قریب سے دیکھنے کا روز موقع ملتا ہے اور روزانہ وہ اس پر شعری اظہار بھی کرتے ہیں۔ کالاباغ لگوں کی آمد  ورفق اور چہل پہل کی تصویر یوں پیش کرتے ہیں
شعر
تیری چاہت ہے کیسی کالا باغ
کھینچ لاتی ہے روز ، دنیا  کو

بخاری انمناظر میں کھوجاتے ہیں اور وجدانی کیفیت میں کہتے    ہیں
شعر
مناظر نہیں اور عاصم کہیں کے
میانوالی یہ  اپنے
خوابوں کی دھرتی
میانوالی کاایک اور خوب صورت اور فورٹ منرو کی طرح کا صحت  افزا علاقہ کمر سر ہے۔جس کے نامسے بھی کم لوگ آشنا ہیں۔مگر بخاری کی متلاشی آنکھ نے  کھوج ڈالا ہے۔اور زمانے کے سامنے دعوت ِ دید دیتے ہوئے رکھ دیا ہے۔ بڑے ہی پیارے زاویے  سے انوں نے اس کے حسن کا تذکرہ کیا ہے
ایک شعر

میانوالی   کے ایک پہاڑی گاؤں۔۔۔۔ کے نام   
 دُور ہے گر” مری” ، تو کیا عاصم
چل” کمر سر” ہی یار، چلتے ہیں
میانوالی کے پہاڑی گاؤں” کمرسر”۔۔۔۔۔۔ کے نام
ایک شعر جس نے بخاری کی بصارتوں کو بہت متاثر کیا ہےتبھی  تووہ ایسا پیارا شعر کہنے کی طرف راغب ہوئے۔
شعر
صحت  افزا  مقام   ،  ہے  عاصم
تم “کمر سر” کو جا، کے دیکھو تو
 
وسائل اور  سیاحتی  اداروں کی توجہ اگرکوئی اس کی طرف مرکوز کرے تو علاقہ حسیں تریں ہوسکتا ہے۔  
پہاڑی گاؤں کمر سر۔۔۔ میانوالی کے نام
        ” توجہ” اگر  اس  پہ ، “مرکوز” ہو
“کمر سر”میانوالی کا ہے “مری”

پھر سے بخاری کے کالاباغ کاذکر آ گیا۔بخاری فلسفیانہ انداز  میں غور کرتے ہوئے لکھتے ہیں آخر وہ کون سی کشش ہے جو روزانہ ایک دنیا کو  غیر محسوس طور پر کالاباغ کھینچ لاتی ہے۔وہسب یہی   قدرتی مناظر ہیں
تیری چاہت ہی کالا باغ ایسی
کھینچ لاتی ہے روز ، اک دنیا

کالاباغ کے فطری و قدرتی حسن کے طرف شعری علت کے ذریعے بتاتے  ہیں کہ نفسیاتی آسودگی ہی اس کے لاشعور اورپس منظر میں کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

کھینچ  لاتے  پہاڑ ، اور دریا
سچ تو یہ کالا باغ ، اک دنیا

بخاری غور خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ سارا  اعجاز پہاڑ اور دریا کے حسین امتزاج کا ہے۔

ساری دریا  پہاڑ سے
ہی تو
دل کشی کالا باغ ہے تیری

پھر بخاری غور کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پہاڑ  تو ہر کہیں موجود ہیں مگر یہاں دریا اور وہ بھی شیر دریا ، دریائے کالاباغ کے قدرتی  حسن کے اضافے کا سبب ہے۔

 تُو حسیں  کالا باغ
، دریا سے
جا بجا  ہیں  پہاڑ ، نمکیں تو
 
بالآخر عاصم بخاری اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قدرت کی اس
حوالے سے یہاں پرخاص دَین اور عطاہے۔

 قدرت ہے مہربان ، حسیں امتزاج ہے
فطرت عروج پر ہے ترے کالا باغ میں

یہی توایک  وجہ  ہے کہ

 ایک دنیا بخاری آتی ہے
دیکھنے کالاباغ تیرے کو
کالا باغ کے فطری حسن کا ترجمان ایک اور شعر
ہے قابل دید کے عاصم بخاری
میاں والی ہے کالا باغ ہے یہ
عاصم بخاری کی شاعری یہ ظاہر اور ثابت کرتی ہے کہ انہیں فطرت
اور مٹی سے پیار ہے۔ان کی یہ رغبت حُب الوطنی کے جذبے کی بھی غماز ہے۔وہ مادہ پرستی
اور سرمایہ داری وغیرہ سے دور فطری ماحول دیہات اور گاوں کی زندگی کوپسند کرتے اور
ترجیح دیتے ہیں۔موسموں کا ذکر اور پرندوں کی بولیاں چہچہاہٹ انہیں بھاتی بھی ہے اور
مزے کی بات یہ کہ ابھی میسر بھی ایک قطعہ ملاحظہ ہو۔
ہار ملتے ہیں موتیےکے بھی
رسم باقی ابھی ہے چیتر کی
رہتا ہوں پر سکوں فضاؤں میں
سنتا ہوں بولیاں میں تیتر کی 

راحت امیر خان تری خیلوی: صحافی اور کالم نگار     

Asim Bukhari ki shayari mein Mianwali ka fitri husn

Asim Bukhari ki shayari mein Mianwali ka fitri husn

Asim Bukhari Ki Shairi Mein Tanz Ki Kaat

Asim Bukhari Ki Shairi Mein Tanz Ki Kaat

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Rahat Ameer Khan Trikhelvi: Biography, Cultural Impact, and Life History

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top