عیسیٰ خیل شہر اور مضافات کے شعرا کرام۔
آج آپکو عیسیٰ خیل شہر اور مضافات کے شعرا کے بارے مختصر تعارف کروایا جائیگا۔ جیسا کہ عیسیٰ خیل کے لوگ زندگی کے دوسرے ہر شعبے افواج پاکستان۔تعلیم و دیگر میدانوں اپنا کردار کرکے شہر کا نام روشن کر رہے ہیں اسی طرح شعرا کرام بھی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مختلف اصناف میں شاعری کر رہے ہیں ان میں سے چند اس دنیا فانی سے رحلت فرما گئے اور خاصی تعداد میں نوجوان شعرا میں کافی جذبہ اور لگن پایا جاتا ہے جو گاہے بہ گا ہے مشاعرہے کا اہتمام کرکے شوقین حضرات کو اپنے اپنے کلام سے محظوظ کرتے رہتے ہیں۔
محمد یونس ماہی مرحوم۔۔ ان کا تعلق عیسیٰ خیل کے قبیلہ خانی خیل سے تھا بتایا جاتا ہے کہ اچھی درد بھری شاعری کرتا تھا شریف اور نیک انسان تھا ان سے کسی کا قتل ہو گیا تھا اور اسے پھانسی ہوئی تھی وہ جیل جانے سے پہلے بھی اور جیل میں بھی شاعری کرتا رہا ہے اسکا کچھ کلام عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے بھی گایا ہے میں نے کافی کوشش کی ہے کہ ان کی زندگی کے حالات اور مجموعہ کلام کہیں سے مل جائے لیکن انکی قوم اور رشتےداروں نے تعاون نھی کیا۔
غلام حسین مجبور مرحوم۔ یہ شیخ محمود کے رہنے والے تھے اور ریلوے میں ریل گارڈ تھی ایک سنجیدہ اور پائے کے شاعر تھے نہایت شریف اور خاموش طبیعت تھے۔ اردو اور سرائیکی میں عمدہ شاعری کرتے۔ پسماندہ علاقہ اور سہولیات نہ ہونے کے باوجود انھوں اپنی اولاد کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔انکا ایک بیٹا ڈاکٹر ظفر کمال جو تحصیل ہیکوارٹر ہسپتال عیسیٰ خیل میں کافی عرصہ ڈاکٹر اور ایم ایس رہے ہے دوسرے بچوں نے بھی اعلیٰ تعلیم کی ہے آپ نے دوران ملازمت کالاباغ میں رہائش اختیار کر لی تھی اب اسکے بچے بھی کالا باغ اور دوسرے شہروں میں آباد ہو گئے ہیں انکا کلام بھی عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی گائیکی میں گایا ہے
محمد اکرم عتیل مرحوم۔ آپ محلہ بمبرانوالا عیسیٰ خیل کے رھاشی تھے بھٹی خاندان سے تعلق ہے آپ اردو کے بھترین شائر کے ساتھ مصنف بھی تھے آپکے شاعری کے دو مجموعہ کلام ایام گردش وغیرہ شائع ہو چکے ہیں آپ ایک بہترین اور اعلیٰ قسم کے خوشخط اور کا تب بھی تھے۔ آپ نے عیسیٰ خیل کے کئی بچوں کو خوشخطی کا ہنر سیکھا یا۔ آپ کتبے ۔بینر اور اشتہار وغیرہ بھی لکھتے
آپ خوش اخلاق۔ملنسار اور نفیس انسان تھے جس کی وجہ سے لوگ اسکے عزت احترام کرتے ۔ان کے بارے میں مکمل کالم لکھ چکا ہوں۔ جو mianwali.org ویب سائٹ پر شائع ہو گیا ہے۔
محمد خان۔ خان غریب مرحوم۔
آپکی تعلق عیسیٰ خیل کے مموں خیل قبیلہ سے ہیں آپ نہایت خوش اخلاق اور ہنس مہک تھے ملی حالت کمزور ہونے کیوجہ سے خان غریب کہلاتے اور شاعری میں تخلص بھی خان غریب لکھتے۔ آپ اتنے پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اچھی شاعری کی ہے۔خاصکر دوروں پر توجہ دی۔لیکن انکا کلام شائع نہیں ہو اسکا انکی اولاد ان پڑھ ہونے کی وجہ سے توجہ نہیں دی۔
خالق داد خان ناطق مرحوم۔۔ آپ کا تعلق عیسیٰ خیل کے قبیلہ نورنگ خیل ہے۔ سرور خیل کے رھاشی تھے آپکی عیسیٰ خیل شہر میں بک ڈپو ہے جو آپ اسکے اولاد چلا رہے ہیں اور عیسیٰ خیل میں سکونت اختیار کر لی ہے۔ آپ بھی شاعری کرتے تھے مصروفیات کی وجہ سے اپنا کلام شائع نہیں کروا سکے۔انکے کلام سے بھی عطا ایسا خیلوی نے اپنی گائیکی میں شامل کیا تھا۔آپ ایک دیندار سخی اور مخلص اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے دینی مجلس اور لنگر کا اہتمام کرتے ۔
محمد ارشد ہاشمی۔۔ان کا تعلق قریش خاندان ہے شریف النفس اور تعلیم یافتہ ہیں محکمہ تعلیم میں ملازم اور ہیڈ ماسٹر رہے شوقیہ شاعری کرتے ہیں مشا عروں میں اپنا کلام پڑتھے ہیں انکا کلام شائع نہیں ہوا ہے۔
ممتاز عیسیٰ خیلوی۔۔ ان کا گھلو فیملی سے تعلق ہے اتنے پڑھے لکھے نہیں لیکن سرائیکی میں زبردست مزاحیہ شاعری کرتے ہیں دیندار اور مسجد امام بھی ہیں
کلیم اللہ خان جاذب۔۔۔ آپکی عیسیٰ خیل کے عیسب خیل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ کی مزاحیہ سرائیکی شاعری زبر دست ہے لوگ انکی شاعری کو بہت پسند کرتے ہیں اور دوبارہ سننے کی فرمائش کرکے لُطف اندوز ہوتے ہیں اردو میں بھی اچھی شاعری کر لیتا ہے۔سنجیدہ طبیعت ہے اس نے اپنا کلام یکجا کیا ہوا ہے اور شائع کروانے کا ارادہ رکھتا ہے ہو ۔اٹامک انرجی میں ملازم ہے
ان کے علاوہ محمد اسلم منہاس۔توقیر مخلص۔حافظ منظور تائب۔درویش نیازی بھی ا مشاعروں میں اپنا اپنا کلام پیش کرکے طبع آزمائی کر رہے ہیں
ذرا نم ہو تو یہ مٹی زرخیز ہے ساقی۔ اللہ تعالیٰ اس علاقہ کے لوگوں کی ترقی اور خوش حالی میں اضافہ فرمائے۔
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
