عیسیٰ خیل شہر اور مضافات کی منفرد شخصیت
عیسیٰ خیل اور مضافات کی ایسی شخصیات کے بارے مختصر تعارف کرونگا جنہوں نے اپنی زندگی دوسرے لوگوں سے منفرد گزاری ہے انہوں نر زیادہ تر اپنے حقوق حاصل کرنے اور عوامی مسایل حل کرنے اور فلاح و بہبود کے لیے کوشش کی۔ ان میں سے کچھ تو بلا ناغہ روزانہ کو بنیاد پر چاہئے موسم اور حالات جیسے ہوں وہ تحصیل کہچری ضرور آتے۔اور یہاں پر حکومت اور دیگر معاملات کی معلومات حاصل کرکے اس کے مطابق لوگوں اور سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی اور darkhsat درخواست بازی کرتے۔اسی ترہ کھولی کھچروں میں بھی اپنے اور عوامی مسایل کیلئے کھل کر اظہار کرتے۔جن کی بات غور سے سنی جاتی اور اس پر عمل بھی ہوتا ۔کیونکہ سرکاری ملازمین اور افسران کو علم تھا اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی یا لیت و لعل سے کام لیا تو یہ بلا حکام کو شکایات کر دیں گےاگر وں سے کوئی افسر اپنی افسری دکھانے یا ر عب جمانے کی کوشش کرتا تو یہ ان سے بھی الجھ پڑتے۔لیکن عوام کے لیے بے ضرر اور اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ اسلئے اپنے ذاتی حقوق حاصل کرنے۔ درخواست بازی کرنے۔ احتجاج کرنے جلسے جلوس نکلانے اور ایمی مسایل ھل کروانے کے باوجود ان میں سے کسی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوا ہے ۔
یہ شخصیات درج زیل ہیں۔
1۔غلام محمّد خان المعروف لومڑ مرحوم ۔انکا تعلق سیدو خیل (مہموں خیل) فمیلی سے ہے ان کے کارناموں کا مجھے مشاہدہ تو نہیں لیکن ان کو میں دیکھا ہوا تھا۔آئ۔ کے بارے مہشور ہے کہ وہ ایک سخت آدمی تھا اپنے حقوق کے بارے قانونی طور آخری حد تک جاتا اور اکثر زیادہ وقت کہچری میں گوذارتا تھا علاقہ میں نامی گرامی شخصیت تھے
2۔غلام محمّد شیخ مرحوم ۔ ان کا تعلق شیخ پٹھان فمیلی سے تھا شیخ موسیٰ خیل کے رہا شی تھے اپنی ذاتی عارضی کر مالک تھے ان کا بلا ناغہ زیادہ وقت کہچری میں گزرتا اور اپنے رقبہ کے متعلق سرکاری ملازمین سے ان بن رہتی جب تک ان کا مسلہ حل نہ ہوتا یہ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا یہ خود تو معمولی پڑھے لکھے تھے لیکن ان کے دو بیٹے ظفر اللّه خان اور حبیب اللہ خان تعیلم یافتہ ہیں جو گورنمنٹ ہائی اسکول سے ہیڈ ماسٹر رٹائرڈ ہوئے ہیں اور اچھے با اخلاق اور سلجھے ہے ہیں ۔
3۔ حبیب اللّه خان مرزو خیل مرحوم ۔ موھلا روشن خیل۔ ان کا بھی سارا دن کہچری میں گزرتا اکثر ملازمین کے خلاف درخوا ست بازی کرتا رہتا اور گم نام درخواسٹن دیتا رہتا۔
4۔امان اللّه خان خانی خیل مرحوم ۔یہ ریلوے پولیس رٹائرڈ تھےاور سارا دن کھچڑی میں رہتا اس کا کم بھی درخو ا ست بازی تھا اور لوگوں کو مفت مشورے بھی دیتا
5۔ غلام مصطفیٰ خان مرہوم ۔ان کا تعلق عیسیٰ خیل جاگیر فیملی سے تھا۔ یہ پڑھے لکھے تھے خود زنیندار تھے زیادہ تر زمینداروں کے حقوق کے بارے جد و جحد کرتے رہتے اچھے لکھاری اور بولنے والے تھے بذریہ درخواست اور کھولی کہچری میں مطالبات موثر انداز میں پیش کرتے ۔اسلئے زمیندار انکی عزت کرتے تھے اور افسران بھی انکے موقف کو اہمیت دیتے ۔
6۔ محمّد رفیق خان احمد خیل کھگلانوالا۔مرہوم ۔ یہ ایئر فورس سے ریٹائر تھے بیرون ملک بھی رہے دینی سے لگاؤ تھے جماعت اسلامی کی رکن تھے اپ نےدین کیلئے بھر پور خدمات سر انجام دیں کافی دینی علم رکھتے اور اچھے مقرر تھے فلاحی کاموں بھی دلچسپی رکھتے تھے عوامی مسایل موتعلقہ افسران سے حل کروانے میں مدد کرتے۔ وہ تحصیل نائب نظام اور یو سی ناظم بھی تھے ہیں
7۔ سنااللّه شاہ ۔ یہ سنی سید ہیں معموں خیل پٹھان فیملی میں شادی کی ہوئی ہے عبدلخالق عرف دادو گویا کا بھانجا ہے وفاقی محتسب ادارے کے اسسٹنٹ رٹائرڈ ہے۔ نہیات شریف۔ملنسار با اخلاق ہیں جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں نہیات ہمدرد اور ایمان دار ہیں دین اسلام کی ترویج اور نفاذ شریعت انکا مشن ہے ناگہانی حالات۔سیلاب وغیرہ میں جماعت کی طرف سے اور لوگوں سے چندہ اکٹھا کرکے متاثرین کی مدد کرنا اولین ترجیح ہوتی۔ہے ۔ہمشہ دین اسلام کے فروغ اور انسانیت کی خدمات کرنا کو فرض سمجھا ۔اپ نرم مزاج اور ہمدرد انسان ہیں
8۔صوفی محمّد اقبال خان بمبرا مرہوم ۔ان کے شخصیت کے بارے پہلے میری طرف سے ایک مکمل کالم لکھا گیا ہے لیکن یہاں ذکر کرنا منا سب سمجھتا ہوں اپ کا ایک کھاتے پتے۔زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اپ نے پوری عمر دین کے فروغ کیلئے خدمات کی ہے۔ اپ اہل سنت سے وابستہ تھے اپ تحصیل اور ضلع سطح پر اہل سنت کے عحدوں پر کیا ہے اپ ایک دلیر مگر ہمدرد انسان سچے اور کہرے تھے شہر کے فلاحی کاموں دلچسپی لیتے اور ھل کرانے میں بالا اور متعلقہ افسران سے ملاقات کرتے۔ اگر افسران مسلہ حل نہ کرتے تو انکے خلاف احتجاج کرتے اور جلسے جلوس نکالتے جس کی وہ خود قیادت کرتے۔ اپ نورانی مسجد ادا والی اور بازار والی کے متولی تھے۔ ہر قسم مذھبی تہوار پر جلسے جلوس اور علما کرام کا بندوبست انہی ذمہ تھا۔ علما اور پیر فقیروں اور نیک لوگوں سے عقیدت تھی اور انکی عزت کرتے۔ شہر اور دین کے مسایل ھل کروانا انکی پہلی ترجی تھی۔ اپکی وفات کے بعد شہر عیسیٰ خیل کو ان جیسا ہمدرد انسان نہیں ملا ہے۔ اللّه تعالیٰ انہیں جنتلفردوس میں اعلی مقام عطاء کرے
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
