عیسیٰ خیل دھرتی کے شہیدا
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب کفار اسلامی ریاست پر حملہ کرے یا مسلمانوں پر ظلم کرے تو مسلمانوں پر جہاد فرض ہے۔ چنانچہ ریاست اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے۔ اسلام میں شہید کا درجہ سب سے بلند رکھا گیا ہے کیونکہ شہید اللہ کی رضا کیلئے دین اور قوم و ملک کی حفاظت اپنی سب سے افضل جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے شہید زندہ ہوتا ہے جیسے جنت میں اعلیٰ مقام ملتا ہے اور رزق ملتا ہے مگر تمہیں شعور نہیں۔
عیسیٰ خیل دھرتی کے چند شہیدا درج ذیل ہیں۔ ان شہداء کے بارے میں نے تفصیلی معلومات حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے مگر انکے علاقہ کے لوگوں اور ورثاء نے تعاون نہیں کیا۔ بہر حال جو حاصل شدہ معلومات ہیں وہ حاضر ہے۔
۱. شہید غلام رسول
ولد غلام خواجہ، قوم ٹھیٹھی، محلہ خانی خیل، عیسیٰ خیل کے رہائشی تھے۔ تعلیم کے بعد پاک فوج میں بھرتی ہوئے۔ دوسرے پیشہ ورانہ امور دینے کے ساتھ ۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں بھی حصہ لیا اور قوم و ملک کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ عیسیٰ خیل کے پہلے شہید تھے۔ پاک فوج میں شامل ہونے سے پہلے اپنے والد کے ساتھ کپڑے کی دکان پر کام کرتے تھے۔ انکے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انکے بھتیجے ہونے کے باوجود انکو بھی ان کے بارے کچھ معلومات نہیں ہیں۔
۲. شہید لانس نائیک وقاص احمد
ولد سعید احمد، قوم ہیلر، محلہ لنگر خیل، عیسیٰ خیل۔ آپ قوم و ملک کی حفاظت کیلئے پاک فوج میں شامل ہوئے اور بلوچستان میں ملک دشمن عناصر کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
۳. شہید سپاہی محمد رضوان
ولد فضل الرحمن، قوم چنگر، محلہ غریب آباد، عیسیٰ خیل۔ آپ قوم و ملک کی حفاظت اور حصول روزگار کیلئے فرنٹیئر کانسٹیبلری میں ملازمت اختیار کی اور پیشہ ورانہ خدمات دیتے ہوئے فتنہ خوارج کے خلاف آپریشن میں مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
۴. شہید سپاہی محمد سجاول
ولد محمد رمضان، قوم ہورا، سکنہ سندانا والا کلور، عیسیٰ خیل۔ فرنٹیئر کور بلوچستان میں شامل ہوئے۔ آپ ۱۳۴ ونگ میں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے رہے تھے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کے دوران لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
۵. شہید ظفر اقبال، شہید محمد واجد اور شہید نیک محمد ریاض
ولد صوبیدار نور فضل، سکنہ ٹولہ منگلی، عیسیٰ خیل رہائشی ہیں۔ تینوں بھائیوں نے وطن اور قوم کی حفاظت کیلئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا ہے۔ شہید ظفر اقبال نے ۲۰۰۶ میں، شہید محمد واجد نے ۲۰۰۹ میں اور شہید محمد ریاض نے ۲۰۲۴ میں ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کے دوران فرنٹیئر کور بلوچستان میں جام شہادت نوش کیا۔ انکے والد نور فضل بھی پاک فوج میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں، ۱۹۷۱ کی پاک بھارت جنگ میں لیپا سیکٹر پر دشمن کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا اور صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے۔ انکے والد کا کہنا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں کی شہادت سے نوازا، یہ میرے، میرے خاندان اور افواج پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ٹولہ منگلی اور خٹک بیلٹ کی اکثریت قوم و ملک کی حفاظت کیلئے خدمات سر انجام دے رہی ہے اور سینکڑوں جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس علاقہ میں لوگوں کو بنیادی سہولیات پینے کے پانی، علاج معالجہ، تعلیم، بجلی وغیرہ میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف، سیاستدانوں اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس علاقہ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ہمارے بچوں کو کیڈٹ کالج عیسیٰ خیل میں مفت تعلیم دی جائے۔
۶. شہید پولیس کانسٹیبل نیاز احمد خان
بکا خیل، عیسیٰ خیل۔ لاہور میں بینک سے ڈیوٹی پر مامور تھے کہ بینک ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں سے مقابلہ میں شہید ہو گئے لیکن بینک کی رقم بچانے میں کامیاب ہوئے۔ اس بہادری اور فرض شناسی کی بنا پر محکمہ کی طرف سے پورے اعزاز کے ساتھ اپنے آبائی شہر کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا اور مراعات سے نوازا گیا۔ ہر سال انکی قبر پر پولیس کی طرف سے سلامی دی جاتی ہے اور انکے بیٹے کو محکمہ میں ملازمت دی گئی ہے۔
۷. پولیس کانسٹیبل محمد علی
ولد حق نواز، سکنہ بہیو، عیسیٰ خیل۔ آپ تھانہ مکروال، عیسیٰ خیل میں ڈیوٹی پر مامور تھے کہ علاقہ میں منشیات کی روک تھام کے دوران اسمگلروں سے مقابلہ میں شہید ہو گئے۔ انہیں پورے اعزاز کے ساتھ آبائی گاؤں کے قبرستان میں سپرد کیا گیا اور لواحقین کو مراعات سے نوازا گیا۔
اللہ تعالیٰ شہیدا کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو نیک اجر دے اور انکی بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
میری پوری کوشش ہو گی کہ عیسیٰ خیل دھرتی کے دوسرے شہیدا کے بارے معلومات حاصل کر کے آپکی خدمت میں پیش کروں۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا۔
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
