تاریخ، تہذیب اور مذہبی روایت کی ایک زندہ یادگار
مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ اسلامی معاشرے کی تہذیبی، علمی، روحانی اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی رہی ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں مساجد میں نماز اور عبادت کے ساتھ ساتھ درس و تدریس، تبلیغِ دین، نکاح اور باہمی معاملات کے فیصلے بھی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے اہلِ اسلام مسجد کو اپنے اجتماعی اور روحانی وجود کا مرکز سمجھتے اور اس کی تعمیر، تزئین و آرائش اور نگہداشت کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔
بعد کے ادوار میں جب ملوکیت اور بادشاہت کا نظام مضبوط ہوا تو بہت سے اجتماعی اور ریاستی معاملات بتدریج شاہی درباروں تک محدود ہوتے گئے۔ یوں مسجد کا کردار بھی بڑی حد تک عبادت تک محدود ہوتا چلا گیا اور وہ علمی و اجتماعی سرگرمیاں، جو کبھی مسجد کے آنگن سے پروان چڑھتی تھیں، رفتہ رفتہ کم ہوتی گئیں۔ اس تبدیلی کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ عام مسلمان مسجد کے اُس وسیع علمی ماحول سے محروم ہونے لگے، جس نے صدیوں تک اسلامی معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیاد مضبوط کیے رکھی تھی۔
میانوالی کی تاریخی تحصیل عیسیٰ خیل کے محلہ عالم خان میں واقع جامع مسجد کُپ والی علاقے کی قدیم اور تاریخی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد طویل عرصے سے مقامی آبادی کے لیے نماز، عبادت اور دینی رہنمائی کا مرکز رہی ہے اور اس سے وابستہ مذہبی و تعلیمی روایات عیسیٰ خیل کی اجتماعی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
مسجد کی موجودہ شناخت اس کے مرکزی گنبد کی وجہ سے بھی ہے۔ مقامی زبان میں گنبد کے لیے “کُپ” کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اسی نسبت سے یہ مسجد جامع مسجد کُپ والی کے نام سے معروف ہوئی
مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مختلف روایات اور معلومات سامنے آتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق جامع مسجد کُپ والی کی تعمیر 1830ء میں خان احمد خان ولد عمر خان نے شروع کروائی۔
تاہم بعض دیگر ذرائع میں مسجد کے گنبد میں درج ایک فارسی شعر کی بنیاد پر اس کی تعمیر کا سال 1859ء بیان کیا جاتا ہے اور اس تعمیر کو نوابِ عیسیٰ خیل سردار محمد عالم خان صاحب سے منسوب کیا جاتا ہے۔
چونکہ ان دونوں روایات میں سنِ تعمیر اور بانی کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے، اس لیے اس معاملے پر مزید تاریخی تحقیق اور اصل کتبوں، فارسی شعر اور دیگر مستند تاریخی حوالوں کی جانچ ضروری ہے۔ بہرحال، دونوں روایات اس مسجد کی قدامت اور عیسیٰ خیل کی تاریخی اہمیت کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔
جامع مسجد کُپ والی کے در و دیوار نے نہ جانے کتنی نسلوں کو نماز کے لیے صف بستہ ہوتے دیکھا ہوگا، کتنی دعاؤں کی صدائیں اپنے اندر محفوظ کی ہوں گی اور کتنے لوگوں کو علم، دین اور اخلاق کی روشنی سے وابستہ ہوتے دیکھا ہوگا۔
وقت گزرتا رہا، نسلیں بدلتی رہیں، شہر پھیلتا گیا، مگر یہ مسجد آج بھی عیسیٰ خیل کے ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کیے ہوئے ہے۔یہ صرف اینٹوں، گارے، محرابوں اور گنبد سے بنی ہوئی ایک عمارت نہیں، بلکہ عیسیٰ خیل کی تاریخ، مذہبی روایت اور تہذیبی حافظے کا ایک زندہ ورق ہے۔
جامع مسجد کُپ والی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی تعمیر کے بعد سے لے کر آج تک امامت کے فرائض عیسیٰ خیل کے ہاشمی خاندان سے وابستہ علما انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اس طویل سلسلے نے مسجد کی مذہبی روایت کو نسل در نسل قائم رکھا۔
روایات کے مطابق مسجد کے اولین امام مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی نور زمان ہاشمی تھے، جو مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی شیخ احمد ہاشمی کے فرزند تھے۔
قاضی مفتی مولانا حمید اللہ ہاشمی
ان کے بعد 1898ء میں مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی حفیظ اللہ ہاشمی نے امامت کے فرائض سنبھالے۔ بعد ازاں 1938ء میں مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی حمید اللہ ہاشمی نے یہ ذمہ داری ادا کی۔
مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی محمد ابوبکر ہاشمی
اس کے بعد مولانا علامہ مفتی حافظ قاضی محمد ابوبکر ہاشمی اور ان کے بھائی بھی اس مسجد میں امامت کے منصب پر فائز رہے۔
بعد ازاں 1978ء میں علامہ مولانا مفتی حافظ قاضی محمد ہاشمی ولد علامہ مولانا مفتی حافظ قاضی حفیظ اللہ ہاشمی نے امامت کے فرائض انجام دیے۔
مولانا علامہ مفتی پروفیسر خلیل الرحمٰن ہاشمی
2005ء میں مولانا علامہ مفتی پروفیسر خلیل الرحمٰن ہاشمی مسجد کے امام رہے۔ پھر 2018ء کے بعد قاضی مجیب الرحمٰن ہاشمی اور ان کے صاحبزادے مولانا علامہ باقی الرحمٰن ہاشمی نے امامت کی ذمہ داری نبھائی۔اس وقت قاضی مجیب الرحمٰن ہاشمی صاحب امامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
یوں ہاشمی خاندان کی کئی نسلوں پر مشتمل یہ امامت کی روایت جامع مسجد کُپ والی کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور قابلِ ذکر باب ہے۔
آج سے تقریباً تیس تا پینتیس برس قبل جامع مسجد کُپ والی میں نماز اور عبادات کے ساتھ ساتھ محلے کے بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ امامِ مسجد بچوں کو درس دیتے اور مسجد ہی دینی تعلیم کا ایک اہم مرکز ہوا کرتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ سلسلہ مفقود ہوتا گیا۔ بعد ازاں علما نے اپنی الگ نجی درس گاہیں اور مدارس قائم کر لیے، جس کے نتیجے میں مسجد میں بچوں کو باقاعدہ دینی تعلیم دینے کی وہ قدیم روایت برقرار نہ رہ سکی۔
یہ پہلو بھی اس مسجد کی تاریخ کا اہم حصہ ہے، کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں مسجد صرف نماز کی ادائیگی کا مقام نہیں بلکہ نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا مرکز بھی ہوا کرتی تھی۔
جامع مسجد کُپ والی کے احاطے میں ایک زمانے میں محکمۂ اوقاف کی جانب سے ایک پرائمری اسکول بھی قائم تھا۔ ہماری یادداشت کے مطابق اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر امام دین صاحب تھے۔تقریباً پینتیس تا چالیس برس قبل نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ اسکول مسجد کے احاطے سے منتقل کرکے ایک کرائے کے مکان میں قائم کر دیا گیا۔ بعد کے حالات کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں، تاہم مقامی طور پر یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ غالباً یہ اسکول اب قائم نہیں رہا۔
جامع مسجد کُپ والی دراصل عیسیٰ خیل کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے گنبد، محرابیں، صحن اور در و دیوار اپنے اندر ایک طویل تاریخی سفر کی داستان سموئے ہوئے ہیں۔اس مسجد نے مختلف ادوار دیکھے، نسلوں کو بدلتے دیکھا، لوگوں کو آتے اور رخصت ہوتے دیکھا، مگر اس کی حیثیت آج بھی قائم ہے۔ یہ مسجد ماضی کے ان بزرگوں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین، علم، عبادت اور معاشرتی خدمت کے لیے وقف کیں۔
ایسی تاریخی عمارتیں دراصل ہمارے آباؤ اجداد کی وہ امانت ہیں جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتی اور آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت سے روشناس کراتی ہیں۔ جامع مسجد کُپ والی بھی اسی امانت کا ایک قیمتی حصہ ہے۔
اس کی حفاظت صرف ایک قدیم عمارت کی حفاظت نہیں، بلکہ عیسیٰ خیل کی تاریخ، مذہبی روایت، تہذیب، علمی ورثے اور بزرگوں کی یاد کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری مساجد کو ہمیشہ نمازیوں، ذکر و اذکار اور عبادت سے آباد رکھے۔ ہماری تاریخی مساجد، دینی مراکز اور تہذیبی ورثے کی حفاظت فرمائے، ان سے وابستہ بزرگوں اور علما کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں اپنی مساجد کی خدمت، آبادکاری اور حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
تحریر۔ حاجی محمّد رفیع اللّه خان عیسب خیل ۔عیسیٰ خیل
