MERA MIANWALI NOVEMBER  2018

MERA MIANWALI NOVEMBER 2018

MERA MIANWALI NOVEMBER  2018

میرا میانوالی

منورعلی ملک کے نومبر 2018 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی—————-

بی ایڈ کا امتحان دے کر لاھور سے اپنے گھر داؤدخیل واپس آگیا – ریزلٹ دو تین ماہ بعد آنا تھا ، اس کے بعد بھی ملازمت خداجانے کب ملتی – تین بچوں کا باپ تھا ، اس لیے بے روزگاری بھی افورڈ نہیں کر سکتا تھا –

اللہ کا شکرکہ دوتین دن بعد میرے ایک محترم دوست محمد سعید شاہ یہ خبر لے کر آئے کہ مکڑوال سکول میں انگلش ٹیچر کی ایک پوسٹ خالی ھے- مکڑوال سکول کے ھیڈماسٹر جناب شفیق الرحمن منہاس ، محمد سعید شاہ کے دوست تھے – شاہ صاحب خود میرے ھمراہ مکڑوال گئے – ھیڈماسٹر صاحب نے ایڈمنسٹریٹو آفیسر سے بات کر کے فورا مییرے تقرر کا حکمنامہ جاری کروا دیا –

No photo description available.

مکڑوال سکول کول مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن نے کو ئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کے لیے قائم کر رکھا تھا- یہ سکول محکمہ تعلیم کے ماتحت نہ تھا – ان کا اپنا نظام تھا – تنخواہ دو قسطوں میں ھر پندرہ دن بعد ملتی تھی – پہلے تین ماہ کےلیے تقرر عارضی بنیاد (daily wages) پر ھوتا تھا -عارضی ملازمت والوں کو اتوار کی تنخواہ نہیں ملتی تھی – میری تنخواہ 150 روپے ماھانہ تھی ، چار اتوارں کے پیسے کاٹ کر مجھے 130 روپے 65, 65 روپے کی دو قسطوں میں ھر پندرہ دن بعد ملتے تھے- سفر خاصا مشکل تھا ، مگر بہر حال کرنا تھا –

تقرر کا حکمنامہ لے کر میں اپنا سامان لانے کے لیے داؤدخیل آگیا –
— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 1نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

اتوار کی سہ پہر گھر سے اپنی ضرورت کا سامان لے کر مکڑوال روانہ ھؤا – اس زمانے میں مکڑوال آنا جانا بھی خاصا مسئلہ تھا- میانوالی سے صرف ایک بس دوپہر کے بعد مکڑوال جاتی تھی ، اور رات وھاں بسر کرکے صبح واپس میانوالی جاتی تھی-
مجھے ھر سنیچر کی سہ پہر داؤدخیل جانا ھوتا تھا – بس تو اس وقت نہیں ملتی تھی – کوئلے کی ایک ٹرین مکڑوال سے کوئلہ لے کر بنوں جاتی تھی – ایک دوست نے اس ٹرین کے گارڈ سے میرا تعارف کرادیا – میں ھر ھفتے اس ٹرین پر گارڈ کے ڈبے میں ترگ تک سفر کرتا ، ترگ ریلوے سٹیشن سے ترگ بس سٹاپ پہنچتا ، اور وھاں عیسی خیل سے میانوالی جانے والی کسی بس پہ سوار ھو کر داؤدخیل جا اترتا -میں سامان لے کر مکڑوال پہنچا تو ھیڈماسٹر صاحب نے مجھے اپنے آفس کے ساتھ والا کمرہ رھائش کے لیے دے دیا – ھیڈماسٹر شفیق الرحمن منہاس کشمیری تھے – بہت دیندار اور مخلص انسان تھے – کچھ عرصہ بعد برطانیہ چلےگئے – ایک دفعہ واپس پاکستان آئے تو پتہ چلا کہ میں تو پروفیسر بن کر میانوالی چلا گیا تھا – سپیشل مجھ سے ملنے کے لیے میانوالی تشریف لائے – اللہ ان کو بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے ، ایسے مخلص لوگ اب کہاں

رھائش کے لیے تو سکول کا کمرہ مل گیا ، خدمت کے لیے ھیڈماسٹر صاحب نے سکول کے سیکیورٹی گارڈ چاچا عربستان خان کی ڈیوٹی لگا دی – عربستان خان سابق فوجی تھے – پنڈی کے رھنے والے تھے- فوج کی ملازمت نے انہیں ادب و احترام اور حکم ماننے کے سلیقے سکھا دیئے تھے – بہت زندہ دل اور اچھے انسان تھے — بہت اچھا وقت گذرا ان کے ساتھ – —- بہت عرصہ بعد سنا مکڑوال سکول سے ریٹائر ھو کر پنڈی میں اٹک آئل کمپنی مورگاہ کے سامنے چاچا عربستان اپنا ھوٹل چلا رھے ھیں –
— رھے نام اللہ کا- بشکریہ-منورعلی ملک– 2نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

مکڑوال میں اپنے کھانے پینے کا بندوبست قریبی مارکیٹ کے کسی ھوٹل پر کرنا چاھتا تھا – چاچا عربستان خان نے ایک ھوٹل کا نام بتایا – میں صبح ناشتہ کرنے کے لیے وھاں پہنچا – ناشتے کا آرڈر دیا اور انتظار کرنے لگا – اچانک ایک جانی پہچانی محبت بھری آواز سن کر چونک اٹھا –

“ منور، تم یہاں کیسے ؟ “ماموں امیرقلم خان نیازی سامنے کھڑے مسکرا رھے تھے – داؤدخیل کے قبیلہ امیرے خیل کے بزرگ امیر قلم خان اور ان کے خاندان کا مفصل ذکر پچھلے سال لکھ چکا ھوں – میرا بچپن انہی کے گھر میں گذرا- ان کی بہن محترمہ عالم خاتوں میری امی کی منہ بولی بہن تھیں ، سگی بہنوں سے بھی زیادہ وفاشعار اور جاں نثار – ان کے تین بھائیوں میں سے امیرقلم خان سب سے بڑے تھے – میں تینوں کو ماموں کہتا تھا – بہت پیار کرتے تھے مجھ سے اس خاندان کے لوگ — الحمدللہ پیار کا یہ رشتہ اب بھی برقرار ھے – ماموں امیر قلم خان اس وقت مکڑوال میں ملازم تھے-میں نے مکڑوال اور اس ھوٹل میں اپنی آمد کی وجہ بتائی تو ماموں کا چہرہ غصے سے سرخ ھو گیا – کہنے لگے – “شرم نہیں آتی تمہیں – ؟ یہاں اپنا گھر ھوتے ھوئے ھوٹلوں پہ دھکے کھاتے پھروگے —- ؟؟؟ — اٹھو، چلو میرے ساتھ “-

ماموًں کا گھر سکول کے قریب ھی تھا ، مجھے پتہ نہ تھا —
مجھے ساتھ لے کر ماموں گھر پہنچے تو گھر کے سب افراد نے یوں مسرت کا اظہار کیا جیسے گھر کا کوئی گم شدہ فرد واپس آگیاھو-

ماموں نے کہا “ آج سے تمہارا ناشتہ ، کھانا پینا سب کچھ اسی گھر میں ھوگا – اس کے علاوہ بھی جو چیز ضرورت ھو مجھے یا اپنی مامی کو بتا دینا “ –

اللہ اکبر -!!!
میں تو مکڑوال کو اجنبی سرزمین سمجھ کر افسردہ ھو رھا تھا – اللہ نے میرے لیے یہاں پہلے ھی ایک ھنستا بستا گھر آباد کر رکھا تھا –

بے مثال لوگ تھے – بزرگ تو دنیا سے رخصت ھو گئے – دعاؤں میں اب بھی روزانہ اپنے والدین کے ساتھ انہیں بھی یاد کر لیتا ھوں –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 3 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

مکڑوال سکول میں میں صرف چار ماہ رہ سکا ، کیونکہ محکمہ تعلیم میں ھیڈماسٹر کی حیثیت میں مستقل ملازمت مل گئی –

مکڑوال میں گذرا ھؤا یہ مختصر سا وقت بھی میری زندگی کا یادگار دور تھا —- اللہ کے فضل سے مجھے اپنے مضمون (انگلش) پر مکمل عبور تھا – اس لیے میں جہاں بھی رھا سٹوڈنٹس کی محبت اور احترام کا مرکز بنا رھا — میرے ساتھی ٹیچرز بھی بہت اچھے لوگ تھے- بہت عزت کرتے تھے —- چواسیدن شاہ کے اختر صاحب ، سلطان خیل کے ماسٹر عالم خان صاحب ، سلطان خیل ھی کے عجب شاہ صاحب اور ترگ کے سردار علی عباسی صاحب میرے بہت قریبی دوست تھے –
ماموں امیرقلم خان کےگھر میں اپنے گھر جیسا ماحول بھی مجھے مکڑوال میں نصیب رھا – اس لیے مکڑوال چھوڑنے پہ دکھ ضرور ھؤا ، مگر اپنے بہتر مستقبل کی خاطر وھاں سے آگے جانا ضروری تھا -دسمبر 1964 میں محمکہ تعلیم نے نئے اپ گریڈ ھونے والے چند سکولوں کے لیے ھیڈماسٹر کی اسامیاں مشتہر کیں – ان سکولوں میں ٹھٹھی سکول کا نام بھی شامل تھا — ٹھٹھی میرے گھر سے صرف تین چار کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ ملازمت بھی مستقل تھی ، اس لیے میں نے تقرر کے لیے درخواست دے دی ، اور اللہ کی مہربانی سے تقرر بھی ھو گیا

4 جنوری 1965 کو میں نے گورنمنٹ مڈل سکول ٹھٹھی میں ھیڈماسٹر کے عہدے کا چارج سنبھالا – یہی دن میری مستقل سرکاری ملازمت کا پہلا دن تھا — تقریبا 35 سال کا سفر ابھی باقی تھا –
————————————— رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 4 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

انسان کے مقدر کے فیصلے اللہ کرتا ھے – ان فیصلوں کی راہ میں رکاوٹوں کو وہ اس طرح ھٹاتا ھے کہ انسان حیران رہ جاتا ھے –

میں مکڑوال سکول سے استعفی دے کر ٹھٹھی سکول میں آگیا تو تقریبا دو ماہ بعد مجھے محکمہ کول مائینز لیبر ویلفیئر کا ایک حکم موصول ھؤا-

محکمہ کول مائینز لیبر ویلفیئر ایک سرکاری محکمہ تھا – مکڑوال سکول اسی محکمے نے قائم کیا تھا – حکم میں یہ لکھا تھا کہ قانون کے مطابق آپ کو مکڑوال سکول کی ملازمت چھوڑنے سے ایک ماہ پہلے اطلاع دینی چاھیے تھی – یا اگر فوری طور پر استعفی دینا ضروری تھا تو ایک ماہ کی تنخواہ محکمہ کے فنڈ میں جمع کرانی چاھیےتھی – آپ نے نہ اطلاع دی نہ تنخواہ جمع کرائی ، کیوں نہ اس جرم میں آپ کو سرکاری محکمے سے مفرور قرار دے دیا جائے –

معاملہ خاصا سنگین تھا – کیونکہ جسے مفرور قرار دے دیا جائے وہ عمر بھر کے لیے کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نااھل ھو جاتا ھے- کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کروں –

مکڑوال سکول جاکر اپنے تقرر کا حکمنامہ (Appointment Order) دیکھا —-
واہ میرے رب کی شان , کہ اس حکمنامے میں استعفی سے پہلے اطلاع یا تنخواہ جمع کرانے کا ذکر تک نہ تھا – حالانکہ مجھ سے پہلے متعین سب لوگوں کے آرڈرز میں یہ شرط موجود تھی – خدا جانے کیا وجہ تھی – شاید میری بار آرڈر ٹائیپ کرنے والا کلرک یہ شرط لکھنا بھول گیا – بہر حال میرا راستہ صاف تھا –

میں نے محکمہ کول مائینز ویلفیئر کے خط کے جواب میں لکھا کہ جناب میرے تقرر نامے میں تو کوئی ایسی شرط تھی ھی نہیں – آپ اگر میرے خلاف ایکشن لیں گے تو میں عدالت سے رجوع کروں گا –
میں نے یہ جواب لکھ کر بھیج دیا – اس کے بعد ادھر سے کوئی جواب نہ آیا –
—————————————— رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 5 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

ھماری بدقسمتی کہ تعلیم سے ھر حکومت سوتیلی اولاد کی طرح کا سلوک کرتی ھے- جس زمانےکی بات میں اب کررھاھوں ، اس وقت بھی یہی ھوتا تھا ، آج بھی وھی ھو رھا ھے –
4 جنوری 1965 کو میں نے ٹھٹھی سکول کا چارج سنبھالا تو اس وقت حالت یہ تھی کہ آٹھ کلاسز کے لیے صرف دوکمروں کی عمارت وہ بھی گاؤں سے تقریبا ایک کلومیٹر دور ویرانے میں – سرکار نے بس یہ کیا تھا کہ پرائمری سکول کو گورنمنٹ مڈل سکول کا نام دے کر مجھے بطور ھیڈماسٹر متعین کردیا – چند روز بعد مڈل کلاسز کو تعلیم دینے کے لیے دو ایس وی ٹیچرز اور ایک پی ٹی آئی بھی دے دیئے – (پی ٹی آئی کا نام سن کر آپ کے کان کیوں کھڑے ھوگئے ؟؟؟؟ بھائی صاحب ، اس زمانے میں سکول کے ڈرل ماسٹر کو پی ٹی آئی ھی کہتے تھے – پورانام فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر بہت کم لوگ بول سکتے تھے) -محکمہء تعلیم کا منصوبہ یہ تھا کہ فی الحال چھٹی ، ساتویں آٹھویں کلاسز میں داخلہ شروع نہ کیا جائے – اپریل میں چھٹی کلاس میں داخلہ شروع کیا جائے ، اس سے اگلے سال یہی ساتویں اور اس سے اگلے سال آٹھویں کلاس ھو جائے گی تو آٹھ کلاسز پوری ھو جائیں گی –

میں نے سرکار کی اس پالیسی سے اتفاق نہ کیا – میں نے کہا اپنے گاؤں میں مڈل سکول ھوتے ھوئے ٹھٹھی کے غریب بچے چار میل پیدل چل کر داؤدخیل کیوں جاتے رھیں-

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صاحب نے بھی مجھے سمجھانے کی پوری کوشش کی ، فرمایا دیکھیں آپ کے پاس فی الحال صرف دو کمرے ھیں ، پانچ ٹیچرز بھی چاھیئں ، مگر فی الحال ھم صرف دو ھی دے سکتے ھیں – ان حالات میں آپ آٹھ کلاسز کیسے چلا سکیں گے –
میں نے کہا سر ، میں یہ سب کچھ دیکھ رھا ھوں – مجھے صرف ان معصوم بچوں کی فکر ھے جو سخت سردی میں صبح سویرے چار کلومیٹر پیدل چل کر داؤدٰخیل سکول جاتے ھیں – ان میں سے کئی اتنے غریب ھیں ، جنھیں صبح ناشتہ بھی نصیب نہیں ھوتا – میں انشآءاللہ انہی تھوڑے سے وسائل کے ساتھ سکول چلا لوں گا –
ڈی ای او صاحب میری بات سن کر بہت خوش ھوئے – کہنے لگے اس جذبے کے ساتھ آپ کچھ بھی کر سکتے ھیں – اللہ آپ کی مدد کرے –

اگلے ھی دن میں نے اللہ کا نام لے کر چھٹی ، ساتویں ، آٹھویں ، تینوں کلاسز میں داخلہ شروع کر دیا – داؤدخیل سکول سے ٹھٹھی کے تمام بچے ھمارے ھاں آگئے –
– رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 6 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

عمارت کی کمی کا حل میں نے یہ نکالا کہ سکول کے پرائمری حصہ کی پانچ کلاسز گاؤں کے ایک خالی مکان میں منتقل کر دیں ، اور سکول کی اصل عمارت کے دو کمروں اور برآمدے میں حصہ مڈل کی تین کلاسز (چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں ) کو بٹھا دیا –
ان کلاسز کو پڑھانے کا بندوبست بھی اچھا خاصا مسئلہ تھا — مجھے جو دو ایس وی ٹیچرز دیئے گئے تھے ، انہوں نے آٹھویں کلاس کو ریاضی (میتھس) پڑھانے سے معذرت کر لی – یہ اچھی بات ھے کہ انہوں نے اپنی کمزوری کا اعتراف کر لیا ، ورنہ اگر وہ غلط سلط پڑھاتے رھتے تو سٹوڈنٹس کا نقصان ھوتا – میں نے آٹھویں کلاس کی انگلش کے علاوہ ریاضی پڑھانے کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ، اور ساتویں آٹھویں کلاسز کے بقیہ مضامین ان دو ٹیچر صاحبان کو دے دیے -حصہ پرائمری کی دوسری تیسری کلاس ملا کر ایک ٹیچر کو دے دی – اور تیسری کلاس کے ٹیچر اپنے چھوٹے بھائی ملک محمد سرور علی کو حصہ مڈل میں لاکر چھٹی کلاس کی انگلش اور کچھ دوسرے مضامین پڑھانے کی ذمہ داری سونپ دی –

(میرے چھوٹے بھائی محمد سرورعلی مجھ سے پہلے ھی ٹھٹھی سکول میں پی ٹی سی ٹیچر کی حیثیت میں کام کر رھے تھے – خاصے لائق ٹیچر تھے)-

چھٹی کلاس کے بقیہ دوتین مضامین پڑھانے کی ذمہ داری میں نے پی ٹی آئی ملک فتح محمد تلوکرکے سپرد کردی –

آج تو ٹھٹھی سکول ماشآءاللہ ھائی سکول ھے – اچھی خاصی عمارت بھی بن گئی ھے – ھم نے بہت مشکل وقت دیکھا ۔ مگر اللہ کا فضل شامل حال رھا , سکول بخیر و خوبی چلتا رھا –

جب کبھی ٹھٹھی کے قریب سے گذرتا ھوں , کسی شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا ھے —–

ھمارا خون بھی شامل ھے تزئین گلستاں میں
ھمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 7 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

فارسی کے ایک شاعر نے کہا تھا —————–

خدا شرے برانگیزد کہ خیر ما درآں باشد
( اللہ تعالی بعض اوقات ھمیں فائدہ پہنچانے کے لیے کوئی مصیبت کھڑی کردیتا ھے )

22 مئی 1965 کی 11 گھنٹے لگاتار موسلا دھار بارش طوفان نوح کی یاد تازہ کر گئی – میں داؤدخیل کے دوساتھی ٹیچرز کے ھمراہ ٹھٹھی پہنچا تو مغرب کی جانب سسے اٹھتا ھؤا گہرے نیلے رنگ کا ھولناک بادل علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا – بادل کا موڈ دیکھ کر صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ ھمیں سکول تک نہیں پہنچنے دے گا – بہت خوفناک بادل تھا – جوں ھی ھم نے گاؤں میں قدم رکھا ، موسلادھار بارش ھماری راہ کی دیوار بن گئی – ھم نے گلی میں ایک سٹوڈنٹ کے ماموں کی دکان میں پناہ لی – ھمارا خیال تھا کچھ دیر میں بارش رک جائے گی تو آگے چلیں گے –

مگر یہ بارش جلد رکنے والی نہ تھی – اللہ معاف کرے , صبح تقریبا 7 بجے شروع ھو کر شام 6 بجے تک بارش ایک ھی رفتار سے مسلسل برستی رھی – جدھر نظراٹھتی پانی ھی پانی ، پورا علاقہ جھیل بن گیا –
ان حالات میں داؤدخیل واپسی بھی ناممکن نظر آتی تھی – میں نے فیصلہ کیا کہ واپسی کی کوشش سے پہلے ایک نظر اپنے سکول پر بھی ڈال لی جائے – سکول گاؤں سے باھر ریلوے لائین کے پار خاصا دور واقع تھا – کچھ لوگوں نے کہا ان حالات میں وھاں نہ جائیں – مگر میں نے کہا ھیڈماسٹر کی حیثیت میں یہ میری ذمہ داری ھے –
تین چار فٹ پانی میں سے گذر کر ھم سکول پہنچے تو دیکھا کہ دونوں کمروں کی دیواریں بری طرح شق ( crack) ھو چکی ھیں – عمارت کی مرمت تو بعد کی بات ھے ، آسمان کے سائے تلے بیٹھنے کے لیے بھی زمین خشک ھونے تک (کم ازکم تین چار دن) انتظار کرنا تھا –
گاؤں کے لوگوں سے مشورہ کرکے میں نے پورا سکول گاؤں کے ایک بڑے سے خالی مکان میں منتقل کردیا –
داستان بہت دلچسپ مگر خاصی طویل ھے ، دوتین قسطیں بنیں گی – یہ دااستان ختم ھوگی تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ مصیبت ھمارے لیے راحت کاوسیلہ کیسے بنی – فی الحال تو ھمارا مسئلہ چار پانچ فٹ پانی میں چار کلو میٹر چل کر اپنے گھر داؤدخیل پہنچنا تھا –
-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 8 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

چار پانچ فٹ گہرے پانی میں چار کلومیٹر چل کر داؤدخیل جانا بہت سخت آزمائش تھا – ٹھٹھی کے لوگوں نے کہا آج رات یہیں رہ جائیں ، مگر موبائیل فون کا زمانہ تو تھا نہیں – گھر میں اپنی خیریت کی اطلاع نہ دیتے تو وہ رات گھر والوں کے لیے قیامت بن جاتی- اس لیے جانا بہر حال ضروری تھا – سائیکل ھم نے ادھر ھی چھوڑ دیئے –

اللہ مسبب الاسباب ھے —- تقریبا 6.30 بجےھم سکول سے گاؤں کی طرف آرھے تھے تو میانوالی کی جانب سے ایک ٹرین آتی دکھائی دی – خدا جانے یہ کون سی ٹریں تھی ، اس دن سارا نظام طوفانی بارش کی وجہ سے درھم برھم تھا – ریلوے لائین کی مخدوش حالت کی وجہ سے ٹرین بہت آھستہ رفتار سے چل رھی تھی -ٹرین اشارے پر نہیں رکا کرتی ، مگر ٹرین قریب آئی تو ھم نے ھاتھ اٹھا کر رکنے کا اشارہ دے دیا – نیک دل ڈرائیور جانتا تھا کہ ان حالات میں ٹرین روکنا کار ثواب ھے – ٹرین رک گئی – ھم سوار ھو گئے ، اور ٹرین چل پڑی

داؤدخیل تک چار کلومیٹر کا فاصلہ چارگھنٹے میں طے ھؤا – وجہ یہ تھی کہ راستے میں دوچار جگہ برساتی نالوں کا پانی ریلوے لائین (پٹڑی) کے نیچے سے مٹی بہا کر لے گیا تھا – ریلوے کا عملہ پٹڑی کی مرمت میں مصروف تھا – ریلوے کے مزدوروں کی ایک گینگ ٹرین کے ساتھ بھی آئی تھی – تین چار جگہ سے پٹڑی کی مرمت پر وقت تو لگنا تھا-

بالآخر ساڑھے دس بجے کے قریب ھم داؤدخیل ریلوے سٹیشن پہ جا اترے – سٹیشن سے گھر تک بھی پانی ھی پانی تھا – اس مشکل میں چاچا علی خان کا تانگہ کام آگیا – جو ھروقت سٹیشن کے پیچھے ایک ھوٹل پہ موجود رھتا تھا – تانگے میں بیٹھ کر ھم تقریبا گیارہ بجے بخیروعافیت گھر پہنچ گئے –

یہ مسئلہ تو حل ھو گیا ، اس سے بڑا مسئلہ سکول کی مرمت کا تھا – اس کام کے لیے اگلی صبح مجھے میانوالی جاکر ڈپٹی کمشنر سے ملنا تھا-
-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 9 نومبر 2018

یوم اقبال ———————

آج علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش ھے- اقبال کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو عشق رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا –Image may contain: 1 person, closeup

ایک دن علامہ کے ایک دوست ان سے ملنے کے لیے گئے تو دیکھا کہ علامہ رو رھے ھیں — رونے کی وجہ پوچھی تو کہا ، میری عمر اب 60 سال سے اوپر ھوگئی ھے – میرے آقا علیہ الصلوات والسلام 63 سال اس دنیا میں رھے – میں نہیں چاھتا کہ میری عمر ان سے ایک دن بھی زیادہ ھو- 
اللہ نے فقیر کی التجا سن لی – علامہ 21 اپریل 1938 کو 61 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے -احترام رسول علیہ الصلوات والسلام کا تقاضا اقبال کی نظر میں یہ تھا –
ایک فارسی شعر میں فرمایا ————— باخدا دیوانہ باش و با محمد ھوشیار
( خدا کے سامنے تو بے شک دیوانے بن جاؤ ، اپنے رب سے لڑجھگڑ بھی لو ۔ لیکن خبردار محمد سے ھوش سنبھال کر بات کرنا کہ ان سے گستاخی اللہ بالکل برداشت نہیں کرتا-

سب سے پیاری بات ایک فارسی قطعے میں کہی –
تو غنی از ھردوعالم من فقیر
روزمحشرعذر ھائے من پذیر
گر حسابم را تو دانی ناگذیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر

( اے میرے اللہ تو تو دونوں جہانوں سے بے نیاز ھے اور میں بہت غریب ھوں –
قیامت کے دن میری معذرت قبول فرما لینا
اور اگر مجھ سے حساب لینا ضروری ھوتو
میرے آقا کی نظر سے چھپا کر لینا ، مجھے ان کے سامنے شرمندہ نہ کرنا )

******* علامہ اقبال کے بارے میں بے شمار کتابیں شائع ھوچکی ھیں – سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والی کتاب فقیر سید وحیدالدین کی کتاب “روزگارفقیر“ ھے – یہ کتاب انٹرنیٹ پر PDF میں بھی دستیاب ھے –

بشکریہ-منورعلی ملک– 9 نومبر 2018

—اپنی نعت کا شعر —–
دل میں ھے یاد آپ کی ، لب پر ھے نام آپ کا
دامن پہ آنسوؤں سے ھے لکھا سلام آپ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 9 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

اگلی صبح میں میانوالی جا کر ڈپٹی کمشنر (قاضی احمد شفیع صاحب ) سے ملا ، اور انہیں بتایا کہ ھمارے سکول کی عمارت کل کی قیامت خیز بارش کی وجہ سے خطرناک حد تک ٹوٹ پھوٹ گئی ھے –
ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا آپ جانتے ھیں مالی سال ختم ھونے کو ھے – اس وقت ھمارے پاس سکولوں کی مرمت کے لیے صرف 2750 روپے ھیں – آپ ڈسٹرکٹ انجینیئر سے مرمت کا تخمیہ estimate لگوا لیں – اگر اس رقم میں مرمت ھو سکتی ھے تو میں ابھی آپ کو چیک دے دوں گا -میں ڈسٹرکٹ انجینیئر صاحب سے ملا اور انہیں اپنی آمد کا مقصد بتایا –

ڈسٹرکٹ انجینیئر صاحب نے بڑی بے نیازی سے ایک اوورسیئر کو بلایا “ اوئے ، ادھر آ — اینہاں دے سکول دی مرمت دا estimate بنا دے –
اوور سیئر صاحب مجھے ساتھ لے کر اپنے کمرے میں گئے – میں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کہتے ھیں مرمت کے لیے اس وقت فنڈ میں صرف 2750 روپے ھیں
کوئی جواب دینے کی بجائے اوورسیئر صاحب نے ایک سفید کاغذ نکالا اور estimate لکھنے لگے – اینٹیں ، سیمنٹ ، سریا ، مزدوری — مرمت کی بجائے نئی عمارت کا تخمینہ بن رھا تھا – صرف بنیادوں تک خرچ ساڑھے سات ھزار — !!!! میں نے کہا جناب ، آپ کو بتایا تو ھے کہ دستیاب رقم صرف 2750 روپے ھے –
اوورسیئر صاحب نے بڑے سکون سے فرمایا ، جی estimate تو ایسے ھی بنتا ھے —
میں نے کہا پھر رھنے دیں –

وھاں سے رخصت ھو کر میں اپنے ایجوکیشن آفیسر چوھدری محمد صدیق صآحب سے ملا اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا –

حسن اتفاق سے ان کے ساتھ والے کمرے میں دو امریکی انجینیئر بیٹھتے تھے- اس زمانے میں امریکہ نے پاکستان میں امریکی امداد سے ھونے والے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے ھر ضلع میں دو امریکی انجینیئر متعین کر رکھے تھے – ھمارا کام امریکی امداد والا نہیں تھا ، صرف مشورے کے لیے ایجوکیشن آفیسر صاحب نے ان سے میری ملاقات کروائی –

امریکی انجینیئروں نے پوری توجہ سے میری بات سنی – پاکستانی اوورسیئر بادشاہ کی طرح وھیں بیٹھے بیٹھے سادہ کاغذ پر تخمینہ بنانے کی بجائے انہوں نے اپنی جیپ نکالی ، پیمائش کے آلات جیپ میں رکھے اور مجھے ساتھ لے کر ٹھٹھی روانہ ھوگئے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–10 نومبر 2018

———-اپنی نعت کا شعر ———————
نادم ھوں بہت آقا کچھ اور نہیں لایا
آنسو ھیں ندامت کے ماتھے پہ پسینہ بھی

میرا میانوالی—————-

پہلی ھی ملاقات میں ان دو امریکی انجییئروں سے میرئ اچھی خاصی دوستی بن گئی – وہ اس بات پر خوش تھے کہ میں ان کی زبان (انگلش) روانی سے بول سکتا تھا –

ٹھٹھی سکول پہنچتے ھی وہ اپنے کام میں لگ گئے – عمارت کا غور سے معائنہ کیا – دیواروں کے cracks کی لمبائی اور گہرائی کی پیمائش کی ، سیڑھی منگوا کر چھت کا معائنہ کیا – سکول کی چاردیواری تو نہیں تھی کھلے میدان میں واقع تھا- میں نے بتایا کہ کل رقبہ چار کنال ھے – انہوں نے پہلے اس رقبے کی حدود کی نشان دہی کی – پھرسٹینڈ پر دوربین لگا کر مختلف زاویوں سے زمین کا لیول چیک کیا —- اس سارے کام میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ لگا –
معائنہ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ عمارت کی چھت اور بنیادیں محفوظ میں- اینٹیں تو وھی دوبارہ استعمال ھو سکتی ھیں – صرف سیمنٹ ، سریا اور مزدوری کا خرچ ھوگا –
میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ سرکار سے ھمیں اس کام کے لیے صرف 2750 روپے ملیں گے – انہوں نے عمارت کی مرمت کا مفصل تخمینہ تیار کیا – حیرانگی کی بات یہ تھی کہ انہیں سیمنٹ ، ریت ، مزدوری ، ھر چیز کا ریٹ معلوم تھا – عمارت کی مرمت کا کل estimate 2250 روپے بنا — پھر انہوں نے مجھ سے کہا مسٹرملک ، یہ جو اوپر کے پانچ سوروپے آپ کے پاس بچ جائیں گے ، ان سے سکول کی شمالی سرحد کے ساتھ 60 فٹ لمبا 5 فٹ چوڑا اور 5 فٹ اونچا مٹی اور پہاڑی پتھر کا بند بنوا دیں تو آپ کا سکول بارش کے سیلابی ریلوں سے ھمیشہ کے لیے محفوظ ھو جائے گا -ایک مقامی ٹھیکیدارمیاں فتح محمد کو بلا کر میں نے کام سمجھا دیا ، اور یوں چار پانچ دن میں سکول کی عمارت اپنی اصلی حالت میں ، بلکہ پہلے سے بھی بہتر بن گئی – انجییئرز کی ھدایات کے مطابق بند بھی بن گیا-

اگر یہی کام پاکستانی انجینیئرز سے کہتے تو وھیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے دستی جواب دے دیتے کہ 2750 روپے میں تو یہ کام قطعی ناممکن ھے –
فرق احساس فرض کا ھے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–11 نومبر 2018

اپنی نعت کا شعر ————————
سورج، زمیں، ھوا، فضا، پھولوں کے رنگ، خوشبوئیں
سب اھتمام آپ کا ، سارا نظام آپ کا

میرا میانوالی—————-

میرا تجربہ یہ ھے کہ پاکستان کے بارے میں امریکی حکومت کا رویہ تو ھمیشہ منافقانہ رھا ھے لیکن امریکی قوم ھماری طرح بہت کھلے ڈلے , زندہ دل لوگ ھیں – یاروں کے یار – دوستی کرنا اور دوستی نبھانا جانتے ھیں – میری یہ رائے گارڈن کالج راولپنڈی میں اپنے امریکی پروفیسرصاحبان اور میانوالی میں متعین ان دو امریکی انجینیئرز سے دوستانہ تعلق پر مبنی ھے جن کا ذکر پچھلی دو پوسٹس میں چلتا رھا ھے-

ان انجینیئرز میں سے ایک کا نام تھامس بائڈ Thomas Boyd ، دوسرے کا ایلن ڈیوش Allen Deutsch تھا — ان سے دوستی تو پہلی پلاقات ھی میں ھو گئی تھی – اس کے بعد میں جب کبھی میانوالی ایجوکیشن آفس آتا تو ان سے بھی ملتا رھا – خوب گپ شپ رھتی تھی -ایک دن میں آیا تو ایلن نے بتایا کہ پاکستان میں ان کے قیام کی مدت ختم ھو چکی ھے ، اگلے ھفتے وہ واپس امریکہ چلے جائیں گے – انہوں نے کہا ھمارے پاس بہت سے مشہورومعروف امریکی ناول اور افسانوں کے مجموعے ھیں – ھم تو وہ سب کتابیں پڑھ چکے ھیں اس لیے ساتھ نہیں لے جانا چاھتے ، میانوالی میونسپل کمیٹی کی لائبریری والے ھم سے وہ کتابیں مانگ رھے ھیں – مگر انگلش ناول وھاں کون پڑھے گا – آپ کو پڑھنے کا شوق ھے – اس لیے ھم چاھتے ھیں کہ وہ کتابیں آپ کو گفٹ کر دیں –
یہ کہہ کر وہ مجھے اپنے ساتھ اپنی رھائش گاہ پر لے گئے – وہ نہر کالونی کے ایک کوارٹر میں رھتے تھے – چائے پی کر میں کتابیں دیکھنے لگا – کتابوں سے لبالب بھری الماری میں امریکی ادب کے تمام شاھکار ناول اور افسانوں کے مجموعے موجود تھے –
میں نے ان سے کہا میرے پاس اپنی گاڑی تو ھے نہیں ، بس پہ آتا جاتا ھوں – اس لیے سب کتابیں تو نہیں لے جاسکتا – جتنی لے جا سکتا ھوں لے جاؤں گا ، باقی آپ میونسپل کمیٹی میانوالی کی لائبریری کو دے دیں — میانوالی بھی میرا اپنا شہر ھے ، جو کتاب ضرورت ھوگی وھاں سے لے لوں گا—- یہ کہہ کر میں نے اپنی پسند کے ناول نگاروں کی جتنی کتابیں اٹھا سکتا تھا، اٹھا لیں –

ایک بار پھر چائے چلی ، کچھ دیر گپ شپ رھی – الوداع کہتے ھوئے دونوں طرف آنکھیں بھیگ گئیں — ان دوستوں نے مجھے امریکہ کا اپنا اپنا پتہ دے کر کہا کبھی امریکہ آئیں تو ھم سے ضرور ملیں —

امریکہ تو میں کبھی نہ جا سکا – ایک دفعہ خط کے ذریعے بائڈ سے رابطہ ھؤا – یہ داستان انشآءاللہ کل –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 12 نومبر 2018

—–اپنی نعت کا شعر ———————
ھر دعا تیرے وسیلے سے سنی جاتی ھے
درد جو بھی ھو مدینے سے شفا آتی ھے

میرا میانوالی—————-

میرے امریکی دوستوں کو یہاں سے رخصت ھوئے تقریبا دوسال ھوئے تھے ، جب میرے میانوالی کے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ وہ امریکہ جاکر اعلی تعلیم حاصل کرنا چاھتا ھے– وہ اس سلسلے میں مجھ سے معلومات لینا چاھتا تھا — معلومات میرے پاس تو نہ تھیں ، میں نے اپنے امریکی دوست تھامس بائڈ Thomas Boyd کوخط لکھ دیا – سچی بات یہ ھے کہ مجھے اس خط کے جواب کی توقع بہت کم تھی –

تقریبا ایک ماہ بعد مجھے ایک بھاری بھرکم پارسل ڈاک سے موصول ھؤا ، یہ پارسل بائڈ نے بھیجا تھا – اس میں امریکہ کی چند اعلی ترین یونیورسٹیز کے مکمل سلیبس ، پراسپکٹس اور دوسری معلومات کے علاوہ بائڈ کا بہت پیارا مفصل خط بھی تھا – پاکستان ، بالخصوص میانوالی میں اپنے قیام کو اپنی زندگی کا حسین دور قرار دیتے ھوئے بائڈ نے کچھ خوبصورت یادوں کا ذکر کیا – میرے حوالے سے کہا آپ نے خط میں لکھا ھے کہ آپ ابھی تک ٹھٹھی سکول میں ھیں
But a person of your talents will not long remain headmaster of a Middle School. You’ll move on.
– (لیکن آپ جیسا لائق آدمی زیادہ عرصہ مڈل سکول کا ھیڈماسٹر نہیں رھے گا – آپ بہت آگے جائیں گے)-میرے دونوں امریکی دوست ( بائڈ اور ایلن) امریکی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے تھے – اس زمانے میں امریکہ نے ویت نام میں پنگا لے رکھا تھا – زورو شور سے جنگ جاری تھی – بائڈ نے اس حوالے سے اپنے خط میں لکھا کہ شکر ھے مجھے اور ایلن کو حکومت نے ویت نام نہیں بھیج دیا ۔ وھاں تو کتے کی موت مرنا تھا – ھمارے سیاسی رھنما دنیا بھر میں اپنی چودھراھٹ قائم رکھنے کے لیے ایسے مہنگے پنگے لیتے رھتے ھیں ، جنگ پر پیسہ غریب عوام کا خرچ ھوتا ھے ، محاذوں پر مرتے بھی غریب امریکی سپاھی ھیں – پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک چلتا رھے گا –
 رھے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک– 13 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

سکول کی عمارت کی مرمت اور حفاظتی بند کی تعمیر کے بعد 2750 روپے کی رقم میں سے کچھ پیسے بچ گئے تو ھمیں ایک اور کارخیر کرنے کی توفیق بھی نصیب ھوگئی- بچی ھوئی رقم میں سکول کے فنڈ سے 500 روپے ڈال کر ھم نے حفاظتی بند کے ساتھ 60 فٹ لمبا 15 فٹ چوڑا شٰیڈ (برآمدہ) سا بنوایا اور اس میں دیواریں کھڑی کر کے پانچ کلاس رومز بنوا دیئے- ان کلاس رومز کی سامنے والی دیوار یا دروازہ تو نہ تھا ، لیکن کلاسز کے سرچھپانے کی جگہ تو بن گئی – سستا دور تھا ، تقریبا 700 روپے میں اینٹوں اور سیمنٹ وغیرہ کا خرچ پورا ھو گیا – گاؤں کے دو مستریوں نے تعمیر کاکام مفت کردیا ، مزدوری کا کام بچوں اور ماسٹرملک جان محمد، ملک ولی محمد، سیدگل عباس شاہ اور ماسٹر غلام محمد صاحب نے مل جل کر سرانجام دیا -اللہ کی مہربانی سے یوں ایک بہت بڑا مسئلہ حل ھو گیا – سرکار نے تو ھمیں آٹھ کلاسز کے لیے صرف دو کمروں کی عمارت دی تھی – ھم نے اس میں پانچ کلاس رومز کا اضافہ کر کے سات کلاس رومز بنا لیے –

22 مئی 1965 کی طوفانی بارش کے نتائج سے نمٹتے ھوئےیہ کام بھی بہت آسانی سے ھو گیا – اگر وہ طوفانی بارش نہ ھوتی تو شاید ھمیں یہ کام کرنے کا خیال ھی نہ آتا ، بس عمارت کی کمی کارونا روتے اورحکومت کو کوستے رھتے-
اسی لیے چند روز پہلے اس داستان کے آغاز میں میں نے کہا تھا کہ بعض اوقات اللہ تعالی ھمیں فائدہ پہنچانے کے لیے بھی کوئی مصیبت بھیج دیتا ھے – رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک– 14 نومبر 2018

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی شان — اپناشعر
فرشتے ادب سے بچھے جارھے ھیں
محمد کا ادنی غلام آ رھا ھے

اپنی نعت کا شعر —————
سرپہ دنیا میں جوھو سایہ تری رحمت کا
قبر میں بھی ترے دامن کی ھوا آتی ھے

میرا میانوالی—————-

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

9 نومبر کو داؤدخیل سے ایک دوست نے یہ المناک اطلاع دی کہ غلام حسین خان المعروف غلام حسین رنگی آلا اس دنیا سے رخصت ھوگیا – میرے لیے یہ صدمہ بہت بڑا تھا – فوری طور پر اس کے بارے میں لکھنے کی ھمت نہ کر سکا – اس صدمے کی شدت تین چار دن برقرار رھی – ابھی بھی ایسا لگتا ھے کوئی بہت قیمتی چیز گم ھو گئی –


غلام حسین ولد رنگی خان شکورخیلن تو داؤدخیل کا حسن تھا – ھر ادا نرالی ، ھر انداز انوکھا – پہلے بھی اس کےبارے میں دو تین پوسٹس لکھ چکا ھوں ، خاص طور پر عیدالفطر کے حوالے سے غلام حسین خان کی یادیں ھمیشہ تازہ رھیں گی –

غلام حسین خان غریب مگر بہت خوددار اور غیرت مند انسان تھا – غریبی کے باوجود عیدالفطر پر غلام حسین کی شان دیکھنے کے لائق ھوتی تھی ، اعلی ترین جاپانی بوسکی کی قمیض ، قیمتی سفید لٹھے کی شلوار، مہنگی آرکنڈی وائل کی کلف لگی طرے دار پگڑی ، پاؤں میں سپیشل فرمے کی سفید یا زری والی (تلے دار) کھیڑی ، ھاتھ میں نفیس بید کی چھڑئ ، کالر میں سرخ یا نیلا رومال ، غلام حسین خان جدھر سے گذرتا، لوگ رک رک کر دیکھا کرتے تھے- اس شان و شوکت کے لیے غلام حسین خان رمضان المبارک کا پورا مہینہ مٹی کی کچی اینٹیں بناتا رھتا تھا – پورے مہینے کی مزدوری کی ساری رقم اپنے عید کے کپڑوں ، جوتوں وغیرہ پر خرچ کر دیتا تھا –

پچھلے سال میں نے اس کے بارے میں عید کے موقع پر پوسٹ لکھی تو میرے بٰیٹے رضوان علی ملک نے وہ پوسٹ غلام حسین خان کو پڑھ کر سنائی – غلام حسین کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، کہنے لگا “ ملک منور تو میرا بھائی جو ھے ، دیکھو وہ پڑھ لکھ کر اتنا بڑا افسر بن گیا ، پھر بھی مجھے یاد رکھتا ھے “-

ارادہ تھا کہ اگلی بار داؤدخیل جاؤں گا تو غلام حسین سے ضرور ملوں گا – مگر میرا بھائی بہت جلدی میں تھا – اس دنیا میں اس سے ملاقات اب ناممکن ھے-

میرے اس پیارے بھائی کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 15 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

کل کی پوسٹ تو ایک دوست کی تعزیت میں آپ کو شریک کرنے کے لیے لکھی تھی – اب واپس چلتے ھیں اس داستان کی طرف جو میں نے 21 اکتوبر سے شروع کی تھی – یہ داستان میری داستان حیات ھے —

ٹھٹھی سکول میں میں 11 سال رھا – الحمدللہ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت میں بھی میں خاصا کامیاب رھا، لیکن تمام تر مصروفیات کے باوجود میں نے اپنی کلاسز کو پڑھانا ترک نہ کیا – میں اپنے کام سے مطمئن تھا – کبھی آگے جانے کا سوچا ھی نہ تھا – پتہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اگلے گریڈ Grade میں ترقی ملتی رھے گی – اس سے زیادہ کا میں نے کبھی تصور ھی نہیں کیا تھا — مگر میری زندگی کا پلان میرے رب نے کچھ اور بنا رکھا تھا ، اس لیے ٹھٹھی سکول کے ھیڈماسٹر کی حیثیت میں میرے قیام کی مدت مقرر تھی – سب کچھ اچانک ھؤا –
میرے ایک سابق سٹوڈنٹ اللہ داد خان نیازی گرنمنٹ کالج اٹک سے بی اے کرنے کے بعد اپنے گھر ٹھٹھی واپس آئے تو اکثر مجھ سے ملنے کے لیے سکول آجاتے تھے – ایک دن ھم ان کے گھر بیٹھے چائے پی رھے تھے تو اللہ داد نیازی نے کہا “سر، آپ ناراض نہ ھوں تو ایک بات کہوں ؟
میں نے کہا بتائیں –
اللہ داد خان نے کہا “سر، میں اس سال ایم اے اردو کا امتحان دینے لگا ھوں – سر، آپ ایم اے انگلش کیوں نہیں کر لیتے – میں جانتا ھوں ایم اے انگلش کرنا آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ھوگا “
میں نے کہا ٹھیک ھے ، سوچوں گا –
اللہ داد خان نے کہا “ سر سوچنا کیا ھے — یہ کہہ کر وہ اندر گئے اور پنجاب یونیورسٹی کا ایم اے کا مکمل سلیبس اٹھا لائے –

میں انگلش کا سلیبس دیکھ کر بہت خوش ھؤا ، کیونکہ سلیبس میں شامل بہت سی کتابیں میں پہلے ھی شوقیہ پڑھ چکا تھا – ایم اے کے دو فارم داخلہ بھی اللہ داد خان کے پاس موجود تھے – اگلے ھی دن ھم دونوں نے داخلہ بھجوا دیا- اللہ داد خان نے ایم اے اردو کا ، میں نے ایم اے انگلش کا – جون / جولائی 1970 میں امتحان ھؤا – اللہ کے فضل سے ھم دونوں کامیاب ھو گئے –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 16 نومبر 2018

 

میرا میانوالی—————-

اللہ کے فضل سے ایم اے انگلش کی تیاری کرنا میرے لیئے کوئی مسئلہ نہ تھا – میں روانی سے انگلش لکھ سکتا تھا — صرف پڑھنا ھی تھا — امتحان کے دوران دو بہت سخت آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑا – اللہ نے انہیں بھی میری راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا –

ایک آزمائش کمر کا شدید درد تھا – ایسا شدید کہ آپ تصور ھی نہیں کر سکتے – ذرا زور سے سانس بھی لیتا تو ایسے لگتا کسی نے ریڑھ کی ھڈی میں چاقو گھونپ دیا – میں اس دن لاھور سے اپنے چچا ملک برکت علی کے ھاں جہلم آیا ھؤا تھا – عصر کا وقت تھا – صوفے سے اٹھنے لگا تو کمر میں درد کی ایسی شدید ٹیس اٹھی کہ میں چکرا کر گرپڑا اور بے ھوش ھو گیا- میرے ماموں زاد بھائی ملک سجاد حسین ڈاکٹر کو بلالائے – ڈاکٹر صاحب نے ایک انجیکشن لگا یا – درد کچھ کم تو ھو گیا ، ختم نہ ھؤا – مجھے یوں لگتا تھا آج کی رات میری آخری رات ھوگی – رات کو ڈاکٹر نے ایک اور انجیکشن بھی لگایا ، معمولی سا فرق پڑا – رات بھر جاگتا رھا ، صبح لاھور بھی جانا تھا – کیونکہ ایک دن بعد امتحان کا پیپر تھا -صبح بھائی جان سجاد نے مجھے سٹریچر پر ڈال کر جہلم ریلوے سٹیشن پہنچایا – درد باربار اٹھ رھا تھا – نہیں لگتا تھا کہ زندہ لاھور پہنچ سکوں گا – گھر داؤدخیل جانا اور بھی مشکل تھا – ٹرین میں بھائی جان سجاد نے مجھے ایک خالی سیٹ پر لٹا دیا ، اور خود سامنے کی سیٹ پر بیٹھ گئے- میں نے سوچا ٹرین میں تو نہ کوئی ھسپتال ھے نہ ڈاکٹر ، اب کیا ھوگا – اس پریشانی کے عالم میں اور تو کچھ یاد نہ رھا درودابراھیمی (جو نماز میں پڑھتے ھیں) زبان پر آگیا – اللہ کی شان , درد غائب ھو گیا – جہلم سے لاھور تک میں یہی درودپاک پڑھتا ھؤا بخیریت لاھور پہنچ گیا – اب حالت یہ تھی کہ جونہی درودپاک پڑھنا بند کرتا ، درد پھر لوٹ آتا – کم ازکم اتنا یقین آگیا کہ میرا رب مجھے اس حال میں مرنے نہیں دے گا-رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک 17 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

حامد ناصر چٹھہ جب قومی اسمبلی کے سپیکر تھے تو میانوالی کے دورے پر آئے – ھمارے کالج آکر انہوں نے کہا تھا میں نے سارے پنجاب کے کالج دیکھے ھیں – سب سے خوبصورت آپ کا کالج ھے-

بشکریہ-منورعلی ملک– 17 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

ایم اے کے امتحان کے دوران میں اپنے ماموں زاد بھائی ملک اعجازحسین اختر کے ھاں بلال گنج میں مقیم تھا- بھائی جان سپریم کورٹ میں جوڈیشیئل اسسٹنٹ تھے – اس زمانے میں سپریم کورٹ کا ھیڈآفس لاھور تھا – صرف 6 جج ھؤا کرتے تھے –

جہلم سے لاھور پہنچا ، کمر کا درد بدستور موجود تھا – اگلی صبح پیپر بھی دینا تھا – اپنی ایک اچھی یا بری عادت یہ تھی کہ کوئی تکلیف ھوتی تو شور نہیں مچاتا تھا ، نہ ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگتا تھا – لاھور میں علاج کی ھر سہولت موجود تھی مگر مجھے اللہ پہ بھروسا تھا – کسی کو بتایا بھی نہیں کہ مجھ پہ کیا گذررھی ھے-

صبح ھم یونیورسٹی پہنچے – میرا امتحان کا سنٹر پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) تھا – میں صرف دوگھنٹے بیٹھ سکا – پانچ میں سے چار سوال حل کیے – درد کی شدت ناقابل برداشت ھو گئی تو میں اٹھ کر باھر آگیا – ملک عبدالغفار سامنے لان میں موجود تھے – ھم تانگے پر بیٹھ کر گھر واپس آگئے –
اللہ کی شان دیکھیے, مجھے سب سے زیادہ نمبر اسی پیپر میں ملے –
————————————- رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک– 18 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-نعت میری


آرائش شاھدانورخان نیازی ، داؤدخیل

بشکریہ-منورعلی ملک– 18 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

ایم اے کے امتحان کے دوران دوسری آزمائش یہ تھی کہ چوتھا پیپر دے کر واپس آیا تو بھائی جان اعجاز نے کہا ، مجھے چھٹی نہیں مل سکتی ، تم ایسے کرو، جہلم جا کر میری فیملی کو داؤدخیل پہنچا آؤ – کام ضروری تھا، اس لیے کرنا پڑا –

اگلا پیپر دو دن بعد تھا – یہ دو دن آنے جانے میں لگ گئے – اس پیپر کی آٹھ کتابیں تھیں ۔ وہ پہلے پڑھ تو لی تھیں ، لیکن وقت مل جاتا تو ایک بار پھر دیکھ لیتا – ان حالات میں یہ تو نہیں ھو سکتا تھا — میں نے صرف ایک کتاب اٹھائی اوراللہ کا نام لے کر سفر پر روانہ ھو گیا – رات جہلم میں بسر کی , اگلی صبح بھائی جان کی فیملی کو ساتھ لے کر داؤدخیل روانہ ھو گیا – ٹرین پر پہلے جہلم سے پنڈی جانا تھا ، وھاں سے دوسری ٹرین پہ داؤدخیل -پشاور سے کراچی آنے جانے والی ٹرینوں میں ڈائیننگ کار ایک بہت اچھی سہولت ھے – ڈائیننگ کار ٹرین کا ایک ڈبہ ھوتا ھے ، جس میں کھانا ، چائے وغیرہ ملتی ھے- یوں سمجھیے ٹرین میں یہ ایک ھوٹل ھوتا ھے –
جہلم سٹیشن پہ فیملی کو ٹرین میں بٹھا کر میں ڈائیننگ کار میں جابیٹھا – وھاں ھوٹل کی طرح کرسیاں میزیں لگی ھوئی تھیں – میں کونے میں ایک کرسی پہ جا بیٹھا ، چائے کا آرڈر دیا اور کتاب کھول کر پڑھنے لگا – جہلم سے پنڈی تک تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے سفر میں دوتین بار چائے پی ، اور کتاب پڑھتا رھا – دودن میں پڑھنے کا بس یہی ایک موقع مل سکا –
پنڈی سے داؤدخٰیل کے لیے کندیاں کی ریل کار پکڑی – رش بہت زیادہ تھا – وھاں کتاب کھولنا ممکن نہ تھا – رات آٹھ بجے داؤدخیل پہنچے – وھاں سے میں صبح لاھور واپس روانہ ھؤا – موٹروے نہ تھی – بلکہ میانوالی سے لاھور کوئی ڈائریکٹ بس بھی نہ جاتی تھی – سرگودھا سے لاھور کی بس پکڑ کر چنیوٹ کے راستے جانا پڑتا تھا – یوں میانوالی سے لاھور تقریبا آٹھ گھنٹے کا سفر بنتا تھا –

ایم اے انگلش کی تیاری مذاق نہیں ھوتی – ایک ایک منٹ قیمتی ھوتا ھے – لیکن اگر اللہ نے آپ کے مقدر میں یہ اعزاز لکھ دیا , تو حالات کچھ بھی ھوں ، کام ھو جاتا ھے –
———————————- رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 19 نومبر 2018

اپنی نعت کا شعر ——————
یہ جائےادب ھے یہاں آنکھ اور سرجھکاناپڑے گا
یہ آقا کادرھے ، اسی در پہ جبریل آیا گیاھے

میرا میانوالی—————-

میں نے 1970 میں ایم اے تو کرلیا ، مگر ملکی حالات ایسے تھے کہ پانچ سال پبلک سروس کمیشن کا کاروبار ٹھپ رھا– (1970الیکشن کا سال بھی تھا) ، لیکچررز کی اسامیوں پہ تقررکے لیے درخواستیں بھی طلب نہ کی گئیں —

1971 میں خونریز جنگ کے بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے الگ ملک بن گیا – یحٰٰیی خان کی جگہ بھٹوصاحب نے اقتدار سنبھالا – حالات کو درست کرنے میں چار پانچ سال لگ گئے — 
1975 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن نے لیکچررز کی بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کیں — اپنا مسئلہ یہ تھا کہ عمر مقررہ حد سے ایک آدھ سال زائد ھو گئی تھی ایک دن میرے ایک سابق سٹوڈنٹ مرحوم ضیآءاللہ خان لمے خیل نے مجھ سے کہا “سر، لیکچررز کی پوسٹیں آئی ھیں ، آپ نے apply کیا ھے ؟“

میں نے کہا میںapply نہیں کر سکتا کیونکہ میری عمر مقررہ حد سے ایک آدھ سال زائد ھے-

ضیآءاللہ خان ھنس کر کہنے لگے “ سر اشتہار تو دیکھ لیں ، سرکار نے پانچ سال تک عمر کی رعایت دے دی ھے “-

یہ بھٹوصآحب کی مہربانی تھی – جنگ اور ملکی حالات کی وجہ سے چونکہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی پر پابندی رھی اس لیے کئی نوجوان زائدالعمر (overage) ھوگئے تھے – بھٹو صاحب نے سب کے لیے پانچ سال کی رعایت عام کردی-

ضیآءاللہ خان نے مجھے اخبار لاکر دیا – میں نے دی ھوئی شرائط کے مطابق درخواست دے دی اور انٹرویو کے لیے کال کا انتظار کرنے لگا – اس زمانے میں پبلک سروس کمیشن تحریری امتحان نہیں لیتا تھا ، صرف اچھا خاصا تگڑا انٹرویو ھوتا تھا –

 رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 20 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

لیکچرر کی پوسٹ کے انٹرویو کے لیے پبلک سروس کمیشن کے کال لیٹر میں ایک شرط یہ تھی کہ ایم اے کی اصل ڈگری (سند) ساتھ لے کر آئیں —
اپنی لاپرواھی یا نالائقی کہ 1970 میں ایم اے کیا تھا 1975 تک یونیورسٹی سے ڈگری ھی نہیں لی –
میرے پاس صرف ریزلٹ کارڈ تھا – دودن بعد انٹرویو ھونا تھا – ایک دن تو لاھور جانے میں لگتا ، صرف ایک دن میں یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنا سراسر ناممکن سی بات تھی – کیونکہ قانون یہ تھا کہ درخواست دینے کے دوھفتے بعد ڈگری م
ل سکتی تھی -میں صرف اس امید پر گھر سے لاھور روانہ ھو گیا کہ یونیورسٹی والوں کی منت سماجت کروں گا، ڈگری مل گئی تو انٹرویو میں شامل ھو جاؤں گا ، ورنہ واپس –

صبح سویرے یونیورسٹی جا کر درخواست کا فارم لیا – فارم پر کرکے گورنمنٹ کالج لاھور کے ایک پروفیسر صاحب سے فارم کی تصدیق کرائی – فیس فی الحال یہ سوچ کر جمع نہ کرائی کہ اگر آج ھی ڈگری مل سکی تو فیس جمع کرادوں گا ، ورنہ نہیں –

ڈگری آفس پہنچا ، متعلقہ کلرک کو بتایا کہ ڈگری لینی ھے – انہوں نے کہا “فیس تو جمع نہیں کرائی؟“
میں نے کہا، نہیں –

انہوں نے کہا “اچھا کیا ، کیونکہ 1969 کے بعد امتحان پاس کرنے والوں کے لیے فیس جمع کرانے کی شرط ختم کردی گئی ھے — آپ یونیورسٹی کے کسی آدمی کو ساتھ لے آئیں ، جو یہ تصدیق کر دے کہ منورعلی ملک آپ ھی ھیں ، تو میں آپ کو ڈگری دے دوں گا –

یونیورسٹی میں میرے ایک عیسی خیل کے دوست ملازم تھے – میں انہیں لے آیا – اور دومنٹ بعد مجھے ڈگری مل گئی –

واہ میرے مالک ، تو نے یہ ناممکن کام کتنی آسانی سے ممکن بنا دیا ——-
مجھے تو سو فیصد یقین تھا کہ خالی ھاتھ واپس جانا پڑے گا —
لیکن تری رحمت نے گوارا نہ کیا –

کچھ دیر بعد میں انٹرویو دینے کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے آفس پہنچ گیا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 22 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

ھوتا تو وھی ھے جو اللہ چاھتا ھے، تاھم والدین بھی اپنی توفیق کے مطابق بچوں کی بہتری کے لیے سب کچھ ضرور کرتے ھیں –

رسم دنیا کے مطابق میرے والدمحترم نے میرا لیکچرر کی حیثیت میں انتخاب یقینی بنانے کے لیے مجھے دو سفارشی رقعے (خط) بھی دیئے تھے- بہت بمب سفارشی خط تھے دونوں -“>ایک خط سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس ایس اے رحمن صاحب کے نام تھا ، جو گورنمنٹ کالج لاھور میں تعلیم کے دوران میرے والد صاحب کے کلاس فیلو اور بہترین دوست رھے – دوسرا خط وزیراعلی کے پرسنل سیکریٹری کے نام ان کے والد کا تھا ،جو میرے والد کے ماتحت کام کرتے رھے – دونوں خطوں میں یہ لکھا تھا کہ اس نوجوان کو لیکچررمنتخب کروانا ھے-

مگر جب یونیورسٹی سے ڈگری لینے کا بظاھر ناممکن کام اللہ نے آسان کر دیا تو میری غیرت ایمانی نے سیلیکشن کے لیے کسی انسان کے آگے ھاتھ پھیلانا گوارا نہ کیا — میں وہ دونوں سفارشی خط واپس لے آیا ، پھر بھی اللہ کے فضل سے سیلیکٹ ھو گیا –

لیکچررز کا انٹرویو بچوں کا کھیل نہیں ھوتا – ایم اے کی تقریبا 60 کتابوں اور اتنے ھی شاعروں ادیبوں میں سے کسی کے بارے میں کچھ بھی پوچھا جاسکتا ھے — میں نے دیکھا کہ انٹرویو کے انتظار میں بیٹھے ھوئے اکثر نوجوان برآمدوں اور لان میں کتابیں کھولے مطالعے میں مشغول تھے — میں آوارہ مزاج سا آدمی تھا – کتابیں تو اپنے گھر داؤدخیل ھی میں چھوڑ آیا تھا — انٹرویو کے انتظار میں پبلک سروس کمیشن کی کینٹین میں بیٹھ کر چائے پیتارھا-
انٹرویو کی مفصل داستان انشآءاللہ کل لکھوں گا – آج کچھ اور کام کرنے ھیں —- رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 23 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

پنجاب پبلک سروس کمیشن کا انٹرویو بورڈ انگلش کے سینیئر پروفیسرز پر مشتمل تھا – پروفیسر مسز سلہری بورڈ کی سربراہ تھیں – مسز سلہری برطانوی خاتون تھیں- نامور پاکستانی صحافی زیڈ اے سلہری سے شادی کے بعد مستقل طور پر لاھورمیں مقیم ھو گئیں — پنجاب یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کی وزیٹنگ پروفیسر تھیں — بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں – انگریزی ادب تو ان کے لیے گھر کی بات تھا-

میرے انٹرویو کا آغاز کرتے ھوئے انہوں نے پوچھا آپ کو ادب کی کون سی صنف سب سےاچھی لگتی ھے -میں نے کہا “جی ناول“
میڈم نے کہا ” آپ نے ایم اے کے کورس کے علاوہ بھی کوئی ناول پڑھا ھے -؟

میں نے بہت سے نئے پرانے ناولوں کے نام بتادیئے ، جو میں پڑھ چکا تھا-

میڈم نے ھنس کر کہا “ خوب ، آپ نے تو میرا پسندیدہ ناول Pickwick Papers بھی پڑھ رکھا ھے — !!!!! “

میں نے کہا ” چارلس ڈکنس کے ناولوں میں مجھے بھی یہی ناول سب سے اچھا لگتا ھے – دوتین بار پڑھا ھے“-

بس پھر میرا سارا انٹرویو اس ناول کے گرد گھومتا رھا —
یہ ناول چارلس ڈکنس کے 15 ناولوں میں سب سے منفرد ھے – ویسے تو ڈکنس رونے رلانے والا ناول نگار تھا – مگر اس کا یہ ناول بے حد مزاحیہ ناول ھے – ھم اس ناول کے واقعات اورکرداروں کی باتیں کرکے ھنستے ھنساتے رھے- میڈم بہت خوش تھیں —

ھماری بیس پچیس منٹ کی گفتگو کے بعد پروفیسر رؤف انجم صاحب نے مجھ سے ایک رومانوی شاعر کے بارے میں پوچھا تو میڈم نے کہا –

” No, that’s enough. He can teach English literature “.

میڈم سلہری جیسی بلند پایہ ادبی شخصیت کے یہ الفاظ میرے لیے ایم اے کی سند سے بھی بڑا اعزاز تھے –

اللہ کے فضل سے مجھےاپنی کامیابی کا اسی وقت یقین ھو گیا —— جب ریزلٹ آیا تو ثابت ھؤا کہ میرا یقین غلط نہ تھا –

میڈم سلہری تو اب اس دنیا میں موجود نہیں – ان کی صآحبزادی سارہ سلہری امریکہ میں مقیم ھیں ، اور آج کے چوٹی کے ناول نگاروں میں شمار ھوتی ھیں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 24 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

پبلک سروس کمیشن نے نتیجہ کا اعلان کردیا تو اس سے کچھ دن بعد محکمہءتعلیم کی طرف سے ایک لیٹر موصول ھؤا ، جس میں لکھا تھا کہ آپ بطور لیکچرر تعیناتی (posting) کے لیے اپنے ڈویژن کے ڈائریکٹر کالجز سے رابطہ کریں –

میں ڈائریکٹر صاحب کے دفتر سرگودھا پہنچا — وہ تو کہیں دورے پر گئے ھوئے تھے – ان کے اسسٹنٹ سے بات ھوئی – کہنے لگے گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کے لیکچررز کی دو پوسٹیں خالی تھیں – ھم نے تو آپ کے میانوالی کے آرڈرز جاری کر دیئے تھے ، مگر اچانک کمشنر صاحب کا حکم آگیا کہ عیسی خیل کالج میں فورا انگلش کا لیکچرر بھیجو ، کیونکہ وھاں انگلش کا لیکچرر نہ ھونے کی وجہ سے لڑکوں نے ھڑتال کر رکھی ھے- عیسی خیل چونکہ آپ کے گھرداؤدخیل کے قریب ھے ، اس لیے ھم نے گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں آپ کے تقرر کے آرڈر جاری کر دیئے ھیں “-
یہ کہہ کر انہوں نے تقرر نامہ (Appointment Orders) مجھے دے دیا -ٹھٹھی سے نکل کر عیسی خیل —!!! —— آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والی بات لگتی تھی — مگر یہ سوچ کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ میری زندگی کا جوراستہ میرے رب نے مقرر کردیا ، میرے لیے وھی بہتر ھے –

گورنمنٹ کالج میانوالی میں دوسری خالی پوسٹ پر میرے محترم بھائی غلام سرور خان نیازی کا تقرر ھؤا ، وہ بھی اسی سال سیلکٹ ھوئے تھے ، مگر ان کا انٹرویو مجھ سے ایک دودن آگے پیچھے تھا، اس لیے لاھور میں ان سے ملاقات نہ ھو سکی — رھے نام اللہ کا-

بشکریہ-منورعلی ملک– 25 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

انٹرویو کےبارے میں میری پوسٹ کے حوالے سے ضیآءالرحمن صاحب اور شاھد اشرف کلیار صاحب نے پوچھا ھے کہ میں نے انگریزی پر عبور کیسے حاصل کیا – چونکہ یہ سوال کئی اور لوگوں کے ذھن میں بھی ھوگا، اس لیے آج اسی سوال کا جواب سنیئے –

عشق کہہ لیجیے یا جنون، مجھے بچپن ھی سے انگلش اچھی لگتی تھی – میٹرک تک گرامر کا سب کچھ سیکھ لیا- گارڈن کالج راولپنڈی پہنچا تو افسانے اور ناول پڑھنے کا شوق سر میں سما گیا – گھر میں بھی والد صاحب کے پاس وکٹورین دور (انیسویں صدی) کے بہترین ناول موجود تھے- ڈکنس ، تھیکرے، ھارڈی، جارج ایلئٹ ، سٹیونسن وغیرہ کے شاھکار ناول گھر ھی میں مل گئے -“>میرا کوئی اور مشغلہ نہ تھا – نہ کسی کھیل سے دلچسپی تھی ، نہ لمبی چوڑی یاریوں کا شوق ، تنہائی پسند انسان تھا – میرے لیے تو یہ دلچسپ قصے کہانیاں ایک نعمت ثابت ھوئیں – ھروقت پڑھتا ھی رھتا تھا – یہاں تک کہ کھانا کھاتے ھوئے بھی کتاب کھول کر سامنے رکھی ھوتی تھی – اس بات پر والدہ ڈانٹتی بھی رھتی تھیں ، مگر میں نے یہ عادت ترک نہ کی –
کہتے ھیں اللہ شکر خورے کو شکر دے ھی دیتا ھے – میں جہاں بھی رھا انگلش ناول مجھے کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تھے – داؤدخیل سکول میں انگلش ٹیچر تھا تو امریکن ٹریولنگ لائبریری سے امریکی ادب کے شاھکار ناول لے کر پڑھتا رھا –

امریکن لائبریری ، امریکی محکمہ اطلاعات کی ایک بہت مفید سروس تھی – یہ ایک بہت بڑی بس تھی جس میں سیٹوں کی بجائے کتابوں سے لبریز شیلف لگے ھوتے تھے- سائنس، انجییئرنگ ، ادب ھر موضوع پر بہترین امریکی کتابیں اس لائبریری میں ملتی تھیں ، یہ بس ھر ماہ ایک مقررہ تاریخ کو سکندرآباد ھاؤسنگ کالونی آتی تھی – ممبر شپ کی سالانہ فیس صرف دس روپے تھی – یوں سمجھیے مفت کا خزانہ ھاتھ آگیا –

مکڑوال سکول میں تھا تو وھاں ایک ساتھی کے پاس دوانگلش ناول دیکھے ، ان سے لے کر وہ بھی پڑھ ڈالے – ٹھٹھی سکول میں رھا تو گورنمنٹ کالج میانوالی کی لائبریری سے انگلش ناول لے کر پڑھتا رھا – لائبریرین حاجی محمداسلم خان غلبلی میرے بہت مہربان دوست ھیں ، جب بھی میں میانوالی آتا ان سے مل کر لائبریری سے کچھ کتابٰیں لے لیتا – گورنمنٹ کالج عیسی خیل کی لائبریری تو بنائی ھی میں نے – انگریری ادب کی بہت نمائندہ کتابیں اس چھوٹی سی لائبریری کی زینت ھیں –

اب آپ ھی بتا ئیں اتنے بے تحاشا پڑھنے والے آدمی کے لیے زبان پر عبور کون سا مشکل کام ھے – اگر عشق سچا ھو، اور اللہ کا فضل شامل حال رھے تو ھرکام آسان ھو جاتا ھے-
—————————————- رھے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک– 26 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں تقررکاحکم نامہ لے کر میں اپنے گھر داؤدخیل واپس آگیا –
عیسی خیل میرا دیکھا بھالا ھؤا شہر تھا – بلکہ اس شہر سے میرا تعلق تین نسلوں پر محیط تھا – دادا جی وھاں ٹیچر رھے – والد صاحب ھیڈماسٹر اور بھائی جان ملک محمد انور علی وھاں انگلش ٹیچر بھی رھے – جب والد صاحب وھاں ھیڈماسٹر تھے اس وقت میں گورنمنٹ ھائی سکول عیسی خیل کا سٹوڈنٹ بھی رھا – اس وقت میں ساتویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا –
جب میں لیکچرر کی حیثیت میں عیسی خیل آیا تو میرے اکثر اساتذہء کرام بھی وھاں موجود تھے – ماسٹر نورمحمد صاحب ، ماسٹر عبدالرحیم صاحب ، ماسٹر غلام حسین شاہ صاحب ، قاضی محمد ابو بکر صاحب ، پی ٹی آئی غلام رسول صاحب ، فیض محمد خان نیازی صاحب ، سب میرے بہت مہربان ٹیچر تھے – مجھ سے مل کر بہت خوش ھوئے –
میرے ساتویں کلاس کے دوستوں میں سے عبدالرزاق خان نیازی عرف کالاخان اور سید امداد حسین شاہ بخاری تو عیسی خیل ھی میں موجود تھے – نجیب اللہ ھاشمی سرگودھا بورڈ کے کنٹرولر امتحانات تھے ، عطا محمد ھرایا شیخوپورہ میں محکمہ پولیس کے ڈی ایس پی تھے – عیسی خیل شہر 25 سال بعد بھی ویسے کا ویسا ھی تھا ، ویران ، اداس ، سوگوار سا – صرف لاری اڈہ پر دوچار سادہ سے ھوٹلوں کے ارد گرد کچھ رونق رھتی تھی -منگل کا یتیم مسکین سا میلہ بھی اسی طرح یتیم مسکین تھا —- میلہ کیا تھا ، بازار کے دکان دار منگل کے دن سامان اٹھا کر سڑک کے کنارے رکھ دیتے تھے- سبزی کی ایک دو ریہڑیاں قریبی دیہات سے آجاتی تھیں – بس یہ تھا عیسی خیل کا میلہ – اللہ اللہ خیر صلا –
عیسی خیل میں میرے لیے نئی چیز صرف لالا عیسی خیلوی تھا – چند ماہ پہلے لالا سے سرسری سا تعارف ھؤا تھا – اس وقت لالا کی شہرت عیسی خٰیل سے کندیاں تک محدود تھی –
رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک– 27 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

ایک دلچسپ واردات —————-?

اس پوسٹ میں جو پکچر آپ دیکھ رھے ھیں ، میری 24 نومبر کی پوسٹ پر کمنٹ دیتے ھوئے ھمارے ایک عزیز ساتھی جاوید خان صحب نے بھیجی ھے – اورمجھ سے پوچھا ھے یہ ارشد محمود صاحب کون ھیں ؟ میں نے کہا میں تو انہیں نہیں جانتا – بہر حال جو بھی ھیں اللہ انہیں ھدایت دے اور انہیں عزت اور شہرت کے جائز وسائل عطا فرمائے –


آج جاوید خان صاحب نے میری کل کی پوسٹ کی کاپی بھیجی ھے – کل کی پوسٹ کے آغاز میں میں نے ضیاءالرحمن اور شاھد اشرف کلیار صآحب کا ذکر کیا تھا – ارشد صاحب نے وہ پوسٹ اپنے نام سے اپنی فیس بک پر لگاتے ھوئے ضیاء اور شاھد اشرف کی جگہ اپنے دو دوستوں کے نام لکھ دیئے-
میں ان صاحب کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لوں گا- کیونکہ میرے رب نے مجھے جو عزت عطا فرمائی ھے ، اس سے کوئی انسان مجھے محروم نہیں کر سکتا –
ارشد محمود صاحب سے گذارش ھے کہ یہ کام جاری رکھیں ، اس کے علاوہ اصل شہرت اور عزت حاصل کرنے کے لیے محنت بھی کرتے رھیں – اچھے ٹیچر بن جائیں تو آپ کو اتنی محبت اور عزت ملے گی کہ آپ کو جوری اور سینہ زوری کی ضرورت نہیں پڑے گی-
رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک– 27 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

31 دسمبر 1975 کو میں نے گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کے پہلے لیکچرر کی حیثیت میں چارج سنبھالا — میں اکیلا نہیں تھا – میرے ساتھ عربی کے لیکچرر اشرف علی کلیار صاحب ، اسلامیات کے منیر حسین بھٹی صاحب ، معاشیات کے ملک محمد یوسف چھینہ صاحب ، نفسیات کے حسین احمد ملک صاحب ، فزکس کے اکبرعلی رندھاوا صاحب ، کمیسٹری کے محمد اکبر خان صاحب اور ریاضی کے ملک عبدالستار جوئیہ صاحب بھی اس نوزائیدہ کالج کی قسمت سنوارنے کے لیے وارد ھوئے –

ھماری نوجوان ٹیم کی ایک خوبی یہ تھی کہ ھرآدمی اپنے مضمون کا ماھر تھا – سب لوگوں نے بہت دل لگا کر کام کیا – ان سب دوستوں کے بارے میں دو ڈھائی سال پہلے الگ الگ پوسٹس لکھ چکا ھوں – بہت پیارے لوگ تھے ، اللہ سب کو سلامت رکھے- وہ دن اور وہ ساتھی بہت یاد آتے ھیں ، سیاسیات کے محمد سلیم احسن صاحب ، اسلامیات کے علامہ طاھر القادری صاحب ( جی ھاں ، وھی والے طاھر القادری صاحب – کچھ دن بعد ان کا تقرر پنجاب یونیورسٹی میں ھوگیا ) اور تاریخ کے لیکچرر چوھدری محمد رمضان صاحب – چوھدری صاحب آج سے کچھ عرصہ قبل اللہ کو پیارے ھو گئے – اللہ انہیں اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے – بہت پیارے انسان تھے-

ھماری رھائش کا بندوبست یوں ھؤا کہ دوتین دوستوں کو شہر کے جنوبی حصے میں کرائے کا مکان مل گیا — میں ، کیمسٹری کے محمد اکبر خان اور ریاضی کے ملک عبدالستار جوئیہ صاحب شہر کے شمالی محلہ بمبرانوالہ میں بیگم نورجہان صاحبہ کے کرائے کے مکان میں مقیم ھوگئے- کالج کے ایک ملازم طالب حسین شاہ صاحب ھمارا کھانا بناتے تھے- یہ صاحب سکول میں میرے کلاس فیلو رہ چکے تھے – غریبی بری چیز ھے – ھم لوگ پڑھ لکھ کر پروفیسر بن گئے اور یہ بچارے معمولی درجے کے ملازم ھی بن سکے- میں ان کا بہت احترام کرتا تھا –
——————————— رھے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک–28 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج عیسی خیل اس زمانے میں گورنمنٹ ھائی سکول عیسی خیل کی بالائی منزل پر مقیم تھا – کالج کی اپنی عمارت پانچ سات سال بعد بنی-

پہلے دن کالج میں حاضری دینے کے بعد میں کچھ چیزیں خریدنے کے لیے دوتین دوستوں کے ھمراہ بازار گیا — بازار میں دائیں ھاتھ “الصدف“ نام کے جنرل سٹور میں لالاعیسی خیلوی کو کھڑے دیکھ کر ھم اس جنرل سٹور میں داخل ھوئے – لالا نے بہت تپاک سے ھمارا استقبال کیا – اس وقت معلوم ھؤا کہ یہ جنرل سٹور لالا ھی کا ھے- اس زمانےمیں  لالا کا اکلوتا ذریعہ ء معاش یہی چھوٹا سا جنرل سٹور تھا لالا نے مجھ سے پوچھا کیسے آنا ھؤا –
میں نے بتایا کہ میں یہاں کالج میں انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں آیا ھوں –
لالا بہت خوش ھوئے ، کہنے لگے رھائش کہاں ھوگی –

میں نے اپنی رھائش گاہ کا پتہ بتایا تو لالا نے کہا ” یہ تو اور اچھی بات ھے- اس سے اگلی گلی میں میرا گھر ھے– ویسے رھائش کے لیے بھی میرا غریب خانہ حاضر ھے ” –
میں نے کہا ” میرے دو اور ساتھی بھی ھیں – اب تو ھم مکان کا اٰیڈوانس کرایہ بھی دے چکے ” –

لالا نے کہا “ میرے ھاں ھر شام کچھ مقامی دوست آتے ھیں – میں حسب توفیق تھوڑا بہت گا لیتا ھوں – آپ بھی اس محفل میں آسکیں تو ھمیں بہت خوشی ھوگی “

میں نے وعدہ کرلیا تو لالا نے مسکرا کر کہا “ شکر ھے ھماری محفل میں ایک پڑھا لکھا آدمی بھی آگیا“-

ھماری یہ محفل تین چار سال ھررات چلتی رھی – پھر لالا اسلام آباد منتقل ھو گئے – میں گورنمنٹ کالج میانوالی آگیا –

اس روزانہ محفل کی مفصل داستان اپنی کتاب “درد کا سفیر“ میں لکھ چکا ھوں – یہاں دہرانا ضروری نہیں – لالا کا ذکر جب کبھی ضروری ھؤا ، کرتا رھوں گا – فی الحال عیسی خیل میں اپنے قیام کے حوالے سے مزید تفصیلات لکھنا چاھتا ھوں —- رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک–29 نومبر 2018

میرا میانوالی—————-

کل ٹویٹر پر ایک ویڈیو کلپ video clip دیکھ کر آنکھیں بھیگ گئیں –

ترکش ائیر لائینز کا ایک طیارہ فضا میں محو پرواز تھا کہ اچانک پائلٹ کی نظر اپنے ایک بزرگ ٹیچر پرپڑی جو اس طیارے میں سفر کر رھے تھے – پائلٹ نے طیارے کے ساؤنڈ سسٹم سے بڑے پیار سے استاد محترم کو سلام کیا اور جہاز کے عملے کو ھدایت کی کہ میرے سر کو گفٹ پیش کریں – پائلٹ کا سلام سن کر بزرگ ٹیچر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے – کئی دوسرے مسافروں کو بھی آنسو بہاتے دیکھا -جہازکے عملے کے لوگ جہاز کے کچن میں سے کھانے پینے کی چیزیں استاد محترم کے لیے لے آئے – باری باری سب نے استاد محترم کے ھاتھ چومے – تمام مسافروں نے کھڑے ھو کر انہیں سلام کیا – پھر پائلٹ طیارے کا کنٹرول اپنے معاون (co-pilot) کے سپرد کر کے اپنے بزرگ ٹیچر کے پاس آئے , ان سے گلے ملے ، باربار ان کے ھاتھ چومے – استاد شاگرد دونوں کی انکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں برستی رھیں
کدھر ھیں وہ لوگ جو یہ کہتے ھیں کہ آج کی اکیسویں صدی میں ٹیچر کی کوئی عزت نہیں رھی ؟؟؟ —————— میں نہیں مانتا — بحمداللہ , میں خود بھی چالیس سال ٹیچر رھا ھوں —

اگر کسی ٹیچر کو یہ شکوہ ھے کہ ان کے سٹوڈنٹ یا معاشرہ ان کی عزت نہیں کرتا ، تو اس کی وجہ باھر نہیں، اپنے اندر تلاش کریں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 30 نومبر 2018

Your words for Mianwali and Mianwalians